Al-Fajr 89:24

Al-Fajr · from ayah 24

89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ ۟ۚيَقُوۡلُ يٰلَيۡتَنِىۡ قَدَّمۡتُ لِحَـيَاتِى‌ۚ

کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا

— Fateh Muhammad Jalandhari

He will say, "Oh, I wish I had sent ahead [some good] for my life."

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:24

وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا!

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی (جاودانی کے لیے) کچھ آگے بھیجا ہوتا

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کہے گا کہ کاش کہ میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ کہے گا کہ : کاش ! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیج دیا ہوتا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آگے بھیجی ہوتی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ کہے گا: اے کاش! میں نے اپنی (اس اصل) زندگی کے لئے (کچھ) آگے بھیج دیا ہوتا (جو آج میرے کام آتا)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہے گا اے کاش ! میں نے اپنی زندگی کے لیے آگے بھیجا ہوتا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کہے گا : کاش ! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کہے گا، کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ رکھا ہوتا ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس روز وہ مارے حسرت و افسوس کے) کہے گا اے کاش میں نے آگے بھیجا ہوتا (کچھ سامان) اپنی زندگی کے لئے

— مولانا اسحاق مدنی

اور کہے گا کہ کاش ! میں اپنے زندگی کے لئے کوئی عمل پہلے بھیج چکا ہوتا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ کہے گا : اے کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا !

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہے گا کاش میں نے اپنی ہمیشہ والی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا

— محترمہ رفعت اعجاز

He will say: “Would that I had sent ahead what would be of avail for this life of mine!”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He will say, :O Would that I had sent ahead (some good deeds) for (this) my life!

— Muhammad Taqi Usmani

He will say, :O Would that I had sent ahead (some good deeds) for (this) my life!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He will say: "Alas! Would that I had sent forth for my life!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He will say: Ah, would that I had sent before me (some provision) for my life!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

He will say, "Oh, I wish I had sent ahead [some good] for my life."

— Saheeh International

He will say, "Would that I had done some good deeds for this life".

— Muhammad Sarwar

He shall say: O! would that I had sent before for (this) my life!

— Muhammad Habib Shakir

He will say. 'would that I had sent before for this life of mine!

— Abdul Majid Daryabadi

He will say: "Ah! Would that I had sent forth (good deeds) for (this) my (Future) Life!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 89:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–30

سجدوں کی برکتیں : قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائیگی اونچی نیچی زمین بربار کردی جائیگی اور بالکل صاف ہموار ہو جایئگی پہاڑ زمین کے بربار کر دئیے جائیں گے تمام مخلوق قبر سے نکل آئیگی خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آجائیگا یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوگی اور یہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر ﷺ کے پاس ہو آئیگی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں پھر سب کے سب حضور ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں پھر آپ جائیں گے اور اللہ کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 23–26

سورة الْفَجْر 17 اصل الفاظ ہیں یومیذ یتذکر الانسان و انی لہ الذکری۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس روز انسان یاد کرے گا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کر کے آیا ہے اور اس پر نادم ہوگا، مگر اس وقت یاد کرنے اور نادم ہونے کا کیا فائدہ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس روز انسان کو ہوش آئے گا، اسے نصیحت حاصل ہوگی، اس کی سمجھ میں یہ بات آئے گی کہ جو کچھ اسے انبیاء نے بتایا تھا وہی صحیح تھا اور ان کی بات نہ مان کر اس نے حماقت کی، مگر اس وقت ہوش میں آنے اور نصیحت پکڑنے اور اپنی غلطی کو سمجھنے کا کیا فائدہ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–26

یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری، اس جگہ تذکر سے مراد سمجھ میں آجاتا ہے یعنی کافر کو اس روز سمجھ آئے گی کہ مجھے دنیا میں کیا کرنا چاہئے تھا اور میں نے کیا کیا مگر اس وقت یہ سمجھ میں آنا بےسود ہوگا کہ عمل اور اصلاح حال کا زمانہ گزرچکا آخرت دارالعمل نہیں دارالجزا ہے آگے اس تذکر کا بیان ہے کہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش میں دنیا میں کچھ نیک عمل کرلیتا۔ یلیتنی قدمت لحیاتی، پھر اس میں تمنا کا باطل اور غیر مفید ہونا بتلایا کہ اب جبکہ کفر و شرک کی سزا سامنے آگئی اب اس تمنا سے کچھ فائدہ نہیں اب تو عذاب اور پکڑ کا وقت ہے اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی برابر کوئی پکڑ نہیں ہوسکتی۔ کفار کے عذاب بیان کرنے کے بعد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنۡسَانُ وَأَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ظہور کے ساتھ وہ جنت اور دوزخ بھی بے نقاب کر دی جائیں گی جو جزا اور سزا کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔ سورہ میں اصل خطاب چونکہ معاندین سے ہے اس وجہ سے پہلے جہنم کا ذکر فرمایا کہ وہ لائی جائے گی۔ اس کو دیکھتے ہی وہ سارے لوگ، جو آخرت سے بے پروا رہے اپنی محرومی پر سر پیٹ لیں گے اور حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ کر لیا ہوتا۔ فرمایا کہ یہ چیز پہلے ہی سونچنے اور کرنے کی تھی۔ جب وہ یہاں اس کو نہ چیت سکیں گے تو اتنی دور جا کر وہ اس کو چیتیں گے تو اس سے حسرت کے سوا اور کیا حاصل ہو گا! ’یَقُوْلُ یَا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–25

24۔ 1 یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 23–26

8: اس وقت اگر کوئی شخص ایمان لانا بھی چاہے تو ایمان اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا، ایمان تو وہی معتبر ہے جو قیامت اور موت کے آنے سے پہلے پہلے ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یقول .................... لحیاتی (24:89) ” وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لئے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا “۔ کچھ کمائی کرکے اس جہاں کے لئے جمع کی ہوتی ، حقیقی زندگی تو یہ ہے جسے زندگی کہا جاسکتا ہے۔ تیاریاں اور کمائی اور ذخیرہ تو اس زندگی کے لئے ضروری تھا ، اے کاش کہ میں نے کچھ کیا ہوتا ! یہ ہوگی حسرت ناک تمنا۔ اور وہاں انسان ان حسرتناک تمناﺅں کے سوا اور کر کیا سکے گا۔ ان دل دوز حسرتوں اور بےکار تمناﺅں کے بعد اب اس کا انجام مختصراً یہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی افسوس دنیا کی زندگی میں کچھ نیکی کر کے آگے نہ بھیجی۔ جو آج اس زندگی میں کام آتی۔ یونہی خالی ہاتھ چلا آیا۔ کاش حسنات کا کوئی ذخیرہ آگے روانہ کردیتا جو یہاں کے لئے توشہ بنتا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 24{ یَـقُوْلُ یٰــلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ۔ } ”وہ کہے گا : اے کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا !“ یہاں لفظ حَیَاتِیْ میری زندگی خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ یعنی اس وقت انسان کو معلوم ہوجائے گا کہ میری اصل زندگی تو یہ ہے جواَب شروع ہوئی ہے۔ میں خواہ مخواہ دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھتا رہا جو اس اصل زندگی کی تمہید تھی۔ دراصل انسانی زندگی عالم ارواح سے شروع ہوتی ہے اور دنیا سے ہوتی ہوئی ابد الاباد تک جاتی ہے۔ دنیا کے ماہ و سال اور شب و روز کی گنتی سے زندگی کے اس طویل سفر کا حساب ممکن نہیں۔ علامہ اقبال نے اس فلسفے کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎ تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 23–25

17 یعنی جب آخرت اور جنت و دوزخ کے منکرین جہنم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ آج ہمیں جو بھی نصیحت کی جائے اور حکم دیا جائے ہم اسے ماننے کو تیار ہیں۔ مگر اس وقت چونکہ ان کی فرمانبرداری اختیاری نہیں اضطراری ہوگی۔ ان کا ایمان لانا بالغیب نہیں بلکہ بالشہادت ہوگا لہذا اس کی کچھ قدر و قیمت نہ ہوگی۔ کسی چیز کو دیکھ کر تو ہر کوئی یقین کر ہی لیتا ہے۔ اس دن ایسے لوگ بڑی حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں یہ نصیحت قبول کرلی ہوتی۔ اور آج کے دن کے لیے ہم نے بھی کچھ اچھے کام کیے ہوتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ یہ الفاظ زبان پر کمال حسرت ویاس کے عالم میں آئیں گے، (آیت) ” لحیاتی “ خوب خیال کرلیاجائے، یہاں حیات اخروی کو مطلق حیات سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور ہے بھی یہی واقعہ۔ حیات کا اطلاق تو بس اسی حیات پر صحیح ہوسکتا ہے، جس کے بعد موت کی کوئی صورت ہی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یقول یلیتنی قدمت لحیوتی . یہ ایک فرضی سوال کا جواب ہے۔ سوال کیا جاسکتا تھا کہ ایسی حالت میں کافر کیا کرے گا ؟ اس کے جواب میں فرمایا : اس وقت کہے گا ‘ اے کاش ! میں دنیا میں اعمال صالحہ اپنی لازوال زندگی کے لیے پہلے سے بھیج دیتا ‘ یا لحیٰوتی میں لام بمعنی وقت ہے۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ کاش میں اپنی دنیوی زندگی کے زمانہ میں اعمال صالحہ پہلے ہی کرلیتا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–26

(2426) اور تمنا کرے گا کہ کاش میں اس ابدی حیات کے لیے حیات فانیہ میں کچھ کرلیتا اور اس زندگی کے لیے کچھ نیک اعمال بھیج دیتا، سو قیامت کے دن نہ تو اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا نکلے گا اور نہ جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا ہوگا، یا یہ مطلب ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کو عذاب دینے پر غلبہ اور قدرت حاصل ہے کسی کو نہیں ہوسکتی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 23–26

(وجای یومئذ بجھنم : عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یوتی بجھنم یومئذ لھا سبعون الف زمام، مع کل زمام سبعون الف ملک یجزونھا) (مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جھنم اعادنا اللہم نھا : 2832)”اس دن جہنم اس حال میں لائیج ائیگ ی کہ اس کی ستر ہزار لگا میں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

یقول یلیتنی قدمت لحیاتی۔ لحیاتی، میں لام فی کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے میں نے اپنی زندگی کے لیے اچھاعمل بھیجا ہوتا یعنی ایسی زندگی کے لیے جس میں موت نہ ہو ایک قول یہ کیا گیا ہے اہل نار کی زندگی کوئی مبارک نہ ہوگی گویا ان کے لیے کوئی زندگی نہیں معنی اس کا یہ ہے کہ ہائے کاش، میں نے اس آگ سے بچاؤ کے لیے کوئی بھلائی بھیجی ہوتی تو میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جن کے لیے مبارک زندگی ہوتی۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

38۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یتذکر الانسان۔ انسان سمجھے گا یعنی توبہ کا ارادہ کرے گا۔ اور فرمایا آیت یلیتنی قدمت لحیاتی اے کاش میں اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجتا یعنی میں دنیا میں عمل کرلیتا اپنی آخرت کی زندگی کے لیے۔ 39۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری یقول یلیتنی قدت لحیاتی سے مراد ہے یعنی وہ جان لے گا اور کہے گا اللہ کی قسم وہ سچا ہے وہاں ایک لمبی زندگی ہے جس میں موت نہیں ہے اور وہ اس زندگی سے اچھی اور بہتر ہے جو زندگی وہ اب گزار رہا ہے۔ 40۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یقول یلیتنی قدمت لحیاتی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ : (پھر) وہ کہے گا اے کاش میں نے آگے بھیجا ہوتا ][ لِحَيَاتِيْ : اپنی زندگی کے لیے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 24 ۔ میں الفاظ ہیں جَائَ رَبُّکَ ۔ ان کا لفظی ترجمہ ہے ” تیرا رب آئے گا۔ “ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کو ایک تمثیلی انداز بیان ہی سمجھنا ہوگا۔ جس سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اس کی سلطانی کے آثار اس طرح ظاہر ہوں گے جیسے دنیا میں کسی بادشاہ کے تمام لشکروں کی آمد سے وہ رعب طاری نہیں ہوتا جو بادشاہ کے خود دربار میں آجانے سے طاری ہوتا ہے۔ (تفہیم القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيْۚ0024﴾ (حسرت اور افسوس کے ساتھ یوں کہے گا ہائے كاش میں اپنی زندگی کے لیے خیر اور عمل صالح آگے بھیج دیتا) وہاں پہنچ کر احساس ہوگا کہ دنیا میں نیک بندہ بن جاتا اور گناہوں سے بچ جاتا اور ایمان اور اعمال صالحہ آگے بھیج دیتا تو آج کے دن مصیبت سے چھٹکارا پائے ہوئے ہوتا اس دن کی زندگی کو زندگی سے تعبیر کرے گا کیونکہ وہ ایسی زندگی ہے کہ ختم نہ ہوگی اور اس کے بعد موت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–26

12:۔ ” یقول “ اس دن انسان انتہائی حسرت و ندامت سے تمنا کرے گا ہائے کاش ! میں نے دنیا میں آخرت کی زندگی کے لیے کچھ کما لیا ہوتا۔ مگر یہ سب کچھ بےسود ہوگا۔ ” فیومئذ ولا یعذب عذابہ احد “ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجرموں کو ایسا سخت عذاب دے گا کہ کوئی ایسا عذاب نہیں دے سکتا اور وہ مجرموں کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں اس طرح جکڑ دے گا کہ اس طرح کوئی بھی نہ جکڑ سکے۔ ای لایعذب کعذاب اللہ احد ولا یوثق کو ثاقہ احد (قرطبی ج 20 ص 56) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن مجرموں کی تعذیب و ایثاق کا متولی خود اللہ تعالیٰ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–30

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَقُوْلُ يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيْ۝ 24 ۚ ليت يقال : لَاتَهُ عن کذا يَلِيتُهُ : صرفه عنه، ونقصه حقّا له، لَيْتاً. قال تعالی: لا يَلِتْكُمْ مِنْ أَعْمالِكُمْ شَيْئاً [ الحجرات/ 14] أي : لا ينقصکم من أعمالکم، لات وأَلَاتَ بمعنی نقص، وأصله : ردّ اللَّيْتِ ، أي : صفحة العنق . ولَيْتَ : طمع وتمنٍّ. قال تعالی: لَيْتَنِي لَمْ أَتَّخِذْ فُلاناً خَلِيلًا [ الفرقان/ 28] ، يَقُولُ الْكافِرُ يا لَيْتَنِي كُنْتُ تُراباً [ النبأ/ 40] ، يا لَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا [ الفرقان/ 27] ، وقول الشاعر : ولیلة ذات دجی سریت ... ولم يلتني عن سراها ليت «1» معناه : لم يصرفني عنه قولي : ليته…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 21–24

کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا۔ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا۔ وَّجِایْٓ ئَ یَوْمَئِذٍ م بِجَھَنَّمَ 5 لا یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُالْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَـہُ الذِّکْرٰی۔ یَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ ۔ (الفجر : 21 تا 24) (ہرگز نہیں ! جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی، اس دن انسان سوچے گا مگر اس وقت اس کے سوچنے کا کیا حاصل ؟ وہ کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔ ) مال کے پرستاروں کو تنبیہ مال ہی کو سب کچھ سمجھنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–26

فہم القرآن ربط کلام : جس مال پر انسان اترتا اور اسے جمع کر کے رکھتا ہے اس مال اور پوری دنیا کا انجام۔ دنیا دار انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا حالانکہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے، ایک وقت آنے والا ہے جب اس زمین پر زلزلے واقع ہوں گے اور ہر چیز تہس نہس کردی جائے گی زمین و آسمان بدل دیئے جائیں گے اور لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرلیا جائے گا۔ جب لوگ محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے تو جبریل امین اور تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ (النبا : 38) ملائکہ، انسان اور جنات رب ذوالجلال کی تشریف آوری کا انتظار کررہے ہوں گے تو اچانک زمین و آسمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

24 : یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ (کہے گا کاش میں اس زندگی کیلئے کوئی عمل آگے بھیج لیتا ) ۔ حیاتی سے یہ آخرت کی زندگی مراد ہے۔ یعنی وہ کہے گا کاش میں نے اپنی فانی زندگی میں کچھ اعمال اپنی باقیہ زندگی کیلئے کئے ہوتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24 ۔” یقول یالیتنی قدمت لحیاتی “ یعنی میں نے خیر اور نیک عمل کو آگے بھیجا، میری آخرت کی زندگی کے لئے ۔ یعنی اپنی آخرت کے لئے جس میں کوئی موت نہ ہوگی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–30

21۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(يَقُوْلُ ) اس نے اللہ کی جناب میں جو کوتاہی کی، اس پر حسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ( يٰلَيْتَنِيْ قَدَّمْتُ لِحَيَاتِيْ ) کاش میں نے اپنی دائمی اور ہمیشہ باقی رہنے والی زندگی کے لیے کچھ نیک عمل آگے بھیجا ہوتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (یقول یلتینی اتخذت مع الرسول سبیلا۔ یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا۔ الفرقان 27، 28) کہے گا کاش میں نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا ہائے میری شامت کاش میں نے فلاں کو کو دوست بنایا ہوتا، ان آیات کریمہ میں دلیل ہے کہ وہ زندگی جس کے کمال کے حصول اور اس کی لذت کی تکمیل کی کوشش کرنی چاہیے وہ آخرت کے گھر کی زندگی ہے کیونکہ آخرت کا گھر دارالخلد اور دارالبقا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 24–25

(28) زندگی اصل میں آخرت ہی کی زندگی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور محروم و منکر انسان کی اس روز کی یاس و حسرت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز انسان کہے گا کہ کاش میں اپنی زندگی کے لیے سامان کرلیتا "۔ یعنی اس زندگی کے لیے جو کہ اب شروع ہورہی ہے، اور جو کہ اصل حقیقی اور ابدی زندگی ہے، دنیوی زندگی تو سفر انسانی کے لیے ایک پڑاؤ جو کہ انسان کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے دراصل آخرت کی اس اصل اور حقیقی زندگی کی کمائی اور تیاری ہی کے لیے بخشا گیا تھا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، العنکبوت 64 پ 21) یعنی یقینا آخرت کا وہی گھر ہی حقیقی زندگی کا گھر ہوگا، کاش یہ لوگ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:24) یقول یلیتنی قد مت لحیاتی۔ یہ یتذکر کی تفسیر ہے۔ کافر انسان دنیا میں اپنے کفر اور سرکشی پر قیامت کے روز ندامت اور حسرت محسوس کرتے ہوئے کیا کہے گا۔ یلیتنی ۔۔ لحیاتی مقولہ مفعول ہے یقول کا۔ یعنی وہ یہ کہے گا۔ یاء حرف ندا ہے۔ اے۔ لیت حرف مشبہ بالفعل ہے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ تمنا کے لئے مستعمل ہے کاش ! نی اسم۔ اے کاش ! میں ۔۔ قدمت۔ ماضی واحد متکلم تقدیم (تفعیل) مصدر سے۔ میں نے آگے بھیجا۔ میں آگے بھیجتا۔ حیاتی : مضاف مضاف الیہ۔ میری زندگی۔ میری حیات۔ ترجمہ ہوگا :۔ اے کاش ! میں اپنی اس زندگی کے لئے (کچھ) آگے بھیجتا۔ بعض نے لام کو بمعنی فی لیا ہے۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اے کاش…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔ (ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–26

[10] یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی بازپرس تم سے نہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–29

انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) انسان کہے گا اے کاش میں اپنی اس زندگی کے لئے کوئی نیک عمل آگے بھیج دیتا - یعنی اخروی زندگی کے لئے کچھ آگے بھیج دیتا یا یہ کہ میں اپنی اس دنیوی زندگی میں کچھ نیک اعمال آگے بھیج دیتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ کہے گا کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا ؟ 24 ؎ قیامت کے روزانسان جس طرح کف افسوس ملے گا اس کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ پچھتائے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے آج کے دن کے لیے اور اس نے ختم ہونے والی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا اور کاش ! آج میں تہی دست نہ ہوتا ۔ اس آیت نے صاف کردیا کہ مرنے والے کے مرنے کے بعد جو اسکے لواحقین رسومات دنیوی ادا کرتے ہیں ان کا آخت کے ساتھ دو کا بھی واسطہ نہیں اور نہ ہی مرنے والے کو کچھ اس کا اجر ملے گا اگر اس طرح کے قرآن کریم پڑھانے اور کلمہ طیبہ کے ورد کرانے اور ایسی تسبیح خوانی کرانے اور ملائوں کے پیٹ بھرنے سے کچھ ملتا ہوتا تو قرآن کریم مرنے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–26

يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ (it will be the day when man will realise the truth, but from where will he take advantage of such realisation? - 89-23). The word tadhakkur in this context means 'to realise'. The unbelievers will realise the errors of their ways in the Hereafter, but it will be too late, because it is this present world where 'Imn and good deeds benefit the people. The Hereafter is the place only for reckoning and retribution. Man will express his remorse thus: يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي (He will say, "0 Would that I had sent…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 23–26

17 The words in the original can have two meanings: (1) That on that Day man will remember whatever he had done in the world and will regret, but what will remembrance and regretting avail him then? (2) That on that Day man will take heed and accept admonition: he will realize that whatever he had been told by the Prophets was true and he committed a folly when he did not listen to them; but what will taking heed and accepting the admonition and realizing one's errors avail one then ?

Read the full tafseer →