Explained with ayahs 21–30
سجدوں کی برکتیں :
قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائیگی اونچی نیچی زمین بربار کردی جائیگی اور بالکل صاف ہموار ہو جایئگی پہاڑ زمین کے بربار کر دئیے جائیں گے تمام مخلوق قبر سے نکل آئیگی خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آجائیگا یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوگی اور یہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر ﷺ کے پاس ہو آئیگی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں پھر سب کے سب حضور ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں پھر آپ جائیں گے اور اللہ کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
سورة الْفَجْر 17
اصل الفاظ ہیں یومیذ یتذکر الانسان و انی لہ الذکری۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس روز انسان یاد کرے گا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کر کے آیا ہے اور اس پر نادم ہوگا، مگر اس وقت یاد کرنے اور نادم ہونے کا کیا فائدہ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس روز انسان کو ہوش آئے گا، اسے نصیحت حاصل ہوگی، اس کی سمجھ میں یہ بات آئے گی کہ جو کچھ اسے انبیاء نے بتایا تھا وہی صحیح تھا اور ان کی بات نہ مان کر اس نے حماقت کی، مگر اس وقت ہوش میں آنے اور نصیحت پکڑنے اور اپنی غلطی کو سمجھنے کا کیا فائدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری، اس جگہ تذکر سے مراد سمجھ میں آجاتا ہے یعنی کافر کو اس روز سمجھ آئے گی کہ مجھے دنیا میں کیا کرنا چاہئے تھا اور میں نے کیا کیا مگر اس وقت یہ سمجھ میں آنا بےسود ہوگا کہ عمل اور اصلاح حال کا زمانہ گزرچکا آخرت دارالعمل نہیں دارالجزا ہے آگے اس تذکر کا بیان ہے کہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش میں دنیا میں کچھ نیک عمل کرلیتا۔ یلیتنی قدمت لحیاتی، پھر اس میں تمنا کا باطل اور غیر مفید ہونا بتلایا کہ اب جبکہ کفر و شرک کی سزا سامنے آگئی اب اس تمنا سے کچھ فائدہ نہیں اب تو عذاب اور پکڑ کا وقت ہے اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی برابر کوئی پکڑ نہیں ہوسکتی۔ کفار کے عذاب بیان کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →’وَجِایْٓءَ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنۡسَانُ وَأَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ظہور کے ساتھ وہ جنت اور دوزخ بھی بے نقاب کر دی جائیں گی جو جزا اور سزا کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔ سورہ میں اصل خطاب چونکہ معاندین سے ہے اس وجہ سے پہلے جہنم کا ذکر فرمایا کہ وہ لائی جائے گی۔ اس کو دیکھتے ہی وہ سارے لوگ، جو آخرت سے بے پروا رہے اپنی محرومی پر سر پیٹ لیں گے اور حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ کر لیا ہوتا۔ فرمایا کہ یہ چیز پہلے ہی سونچنے اور کرنے کی تھی۔ جب وہ یہاں اس کو نہ چیت سکیں گے تو اتنی دور جا کر وہ اس کو چیتیں گے تو اس سے حسرت کے سوا اور…
Read the full tafseer →23۔ 1 ستر ہزار لگاموں کے ساتھ جہنم جکڑی ہوئی ہوگی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہونگے جو اسے کھینچ رہے ہونگے (صحیح مسلم) اسے عرش کے بائیں جانب کھڑا کردیا جائے گا پس اسے دیکھ کر تمام مقرب اور انبیاء گھٹنوں کے بل گرپڑیں گے اور یارب نفسی نفسی پکاریں گے۔ (فتح القدیر)
23۔ 2 یعنی یہ ہولناک منظر دیکھ کر انسان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کفر و معاصی پر نادم ہوگا، لیکن اس روز ندامت اور نصیحت کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
8: اس وقت اگر کوئی شخص ایمان لانا بھی چاہے تو ایمان اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا، ایمان تو وہی معتبر ہے جو قیامت اور موت کے آنے سے پہلے پہلے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
کلااذا ................................ وثاقہ احد
دکت الارض (21:89) زمین کو کاٹا جائے گا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نشانات مٹا کر اسے برابر کردیاجائے گا۔ یہ ان انقلابات میں سے ایک ہے جو قیامت کے وقوع کے وقت اس کائنات میں برپا ہوں گے رہی یہ بات کہ رب تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے تو یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کو اس وقت تک ہم سمجھ نہیں سکتے ، کیونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اور ہماری قوت ادراک محدود ہے۔ البتہ اس انداز تعبیر سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ بہت ہی ہیبت ناک اور خوفناک صورت حال ہوگی۔ اسی طرح جہنم کو لایا جانا پوری طرح ہماری فہم سے دور ہے۔ البتہ یہ…
Read the full tafseer →1 یعنی لاکھوں فرشتے اس کی جگہ سے کھینچ کر محشر والوں کے سامنے لائیں گے۔
2 یعنی اس وقت سمجھے گا کہ میں سخت غلطی اور غفلت میں تھا۔ مگر اس وقت کا سمجھنا کس کام کا۔ سوچنے سمجھنے کا موقع ہاتھ سے نکل چکا۔ دارالعمل میں جو کام کرنا چاہیے تھا وہ دارالجزاء میں نہیں ہوسکتا۔
Read the full tafseer →آیت 23{ وَجِایْٓئَ یَوْمَئِذٍم بِجَہَنَّمَ لا } ”اور لے آئی جائے گی اس روز جہنم بھی“
جہنم کا ظہور بھی شاید زمین کے اندر سے ہی ہوگا۔ یعنی جب زمین کو کھینچ کر چپٹا کیا جائے گا تو اس کے اندر کا کھولتا ہوا لاوا باہر نکل آئے گا ‘ جو جہنم کا سماں پیدا کر دے گا۔ واللہ اعلم !
{ یَوْمَئِذٍ یَّـتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَـہُ الذِّکْرٰی۔ } ”اس دن انسان کو سمجھ آئے گی ‘ لیکن اب سمجھنے کا کیا فائدہ !“
شاہ عبدالقادر رح صاحب نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ”اس دن انسان چیتے گا“ یعنی اس دن انسان کو بہت کچھ یاد آجائے گا کہ وہ دنیا سے اپنے ساتھ کیا لے کر آیا تھا اور اسے نصیحت بھی حاصل ہوجائے گی۔ لیکن اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
17 یعنی جب آخرت اور جنت و دوزخ کے منکرین جہنم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ آج ہمیں جو بھی نصیحت کی جائے اور حکم دیا جائے ہم اسے ماننے کو تیار ہیں۔ مگر اس وقت چونکہ ان کی فرمانبرداری اختیاری نہیں اضطراری ہوگی۔ ان کا ایمان لانا بالغیب نہیں بلکہ بالشہادت ہوگا لہذا اس کی کچھ قدر و قیمت نہ ہوگی۔ کسی چیز کو دیکھ کر تو ہر کوئی یقین کر ہی لیتا ہے۔ اس دن ایسے لوگ بڑی حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں یہ نصیحت قبول کرلی ہوتی۔ اور آج کے دن کے لیے ہم نے بھی کچھ اچھے کام کیے ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
12۔ یعنی اب شہود حقائق کے وقت سمجھ آئی بھی تو کیا، اس کا کچھ حاصل نہ ہوگا، کام کی بات تو جب تھی، جب اس دارالجزاء میں نہیں، اسی دار العمل میں سمجھ درست ہوگئی ہوتی ! (آیت) ” اذا ....... دکا “۔ یعنی زمین کی بلندیوں کو توڑپھوڑکرساری سطح ایک کردی جائے گی، (آیت) ” وجآء رکب “۔ حق تعالیٰ کے تشریف لے آنے سے مراد حشر میں کسی ایسی تجلی کا ظہور ہے، جو اس وقت ناقابل فہم ہے اور اسی لئے آیت کا شمار متشابہات میں ہے، بعض اکابر سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے اور تقدیر ہے، کلام یوں ہے (آیت) ” وجآء امر ربک “۔ یعنی حق تعالیٰ کے احکام یا فیصلوں کا ظہور وہونے لگے گا۔ قال الحسن جاء امرہ وقضاء وقال الکلبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →و جای یومئذ بجھنم . اور اس روز جہنم کو لایا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے
ارشاد فرمایا : اس روز جہنم کو اس طرح لایا جائے گا کہ اس کی ستّر ہزار لگامیں ہونگی اور ہر لگام کو ستّر ہزار فرشتے کھینچتے ہونگے۔ (مسلم و ترمذی)
ابن وہب نے کتاب الاہوال میں زید بن اسلم کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبرئیل آئے۔ حضرت علی ؓ نے جبرئیل کے آنے کی وجہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا : جبرئیل نے آکر مجھ سے کہا : کلا اذا دکت الارض دکا دکا وجاء ربک والملک صفا صفا وجایْ ءَ یومئذ بجھنم۔ جہنم کو ستّر ہزار لگاموں سے کھینچ لایا جائے گا۔ ستّر ہزار فرشتے لگام کھینچتے ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(2426) اور تمنا کرے گا کہ کاش میں اس ابدی حیات کے لیے حیات فانیہ میں کچھ کرلیتا اور اس زندگی کے لیے کچھ نیک اعمال بھیج دیتا، سو قیامت کے دن نہ تو اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا نکلے گا اور نہ جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا ہوگا، یا یہ مطلب ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کو عذاب دینے پر غلبہ اور قدرت حاصل ہے کسی کو نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(وجای یومئذ بجھنم : عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یوتی بجھنم یومئذ لھا سبعون الف زمام، مع کل زمام سبعون الف ملک یجزونھا) (مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جھنم اعادنا اللہم نھا : 2832)”اس دن جہنم اس حال میں لائیج ائیگ ی کہ اس کی ستر ہزار لگا میں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
وجاء ربک والملک۔۔۔ تا۔۔۔ لہ الذکری۔
یہاں ربک سے مراد تیرے رب کا امر اور اس کا فیصلہ ہے یہی حضرت حسن بصری کا قول ہے، یہ کلام اس اسلوب سے تعلق رکھتی ہے جس میں مضاف حذف ہوتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ان کے پاس ان کا رب عظیم آیات لایا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، الاان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام۔ البقرہ 210) کہ آئیے ان کے پاس اللہ کا عذاب چھائے ہوئے بادلوں کی صورت میں اس آیت میں فی ظلل، بظلل کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے آیات کے آنے کو اس کا آنا بنادیا گیا ہے مقصود ان آیات کی عظمت شان بیان کرنا ہے، اس معنی میں حدیث میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یا بن آدم مرضت فلم تعدنی واستسقیتک…
Read the full tafseer →36۔ مسلم والترمیذ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم کو اس دن لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ جو اس کو آگے سے کھینچ رہے ہوں گے۔
37۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید والترمذی نے ابن مسعود ؓ سے آیت وجیء یومئذ بجہنم کے بارے میں روایت کیا کہ اس کو اس حال میں لایا جائے گا کہ جہنم کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ کھینچ کر لایا جائے گا اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ جو اس کو آگے سے کھینچ رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →[وَجِايْۗءَ يَوْمَىِٕذٍۢ بِجَهَنَّمَ : اور (نزدیک) لائی جائے گی اس دن جہنم ][ ڏ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْانسَان : (تب) اس دن یاد کرے گا انسان ][ وَ : اس حال میں (کہ)][انٰى لَهُ : کہاں ہوگی اس کے لیے ][ الذِّكْرٰى: وہ بڑی نصیحت ]
Read the full tafseer →﴿وَ جِايْٓءَ يَوْمَىِٕذٍۭ بِجَهَنَّمَ 1ۙ۬﴾ (اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا) حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس دن جہنم کو لایا جائے گا جس کی ستر ہزار باگیں ہوں گی اور ہر باگ کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لا رہے ہوں گے۔
﴿ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ ﴾ اس دن انسان کی سمجھ میں آجائے گا۔ ﴿ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى ؕ0023﴾ (اور سمجھنے کا موقع کہاں رہا) یعنی سمجھنے کا وقت تو دنیا میں تھا جہاں ایمان لانے اور عمل صالح کرنے کا موقع تھا اب تو دار الجزا میں پہنچ گئے۔ اب نہ سمجھنے کا موقع رہا نہ عمل کا، نہ توبہ کا۔ جب انسان اپنی محرومی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت :
قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →11:۔ ” یومئذ “ قیامت کے دن عبرت و نصیحت حاصل کرنے پر آمادہ ہوگا یا مطلب یہ ہے کہ اس دن انسان اپنی تمام کوتاہیوں اور غلطیوں کو یاد کرے گا اور ان پر حسرت و ندامت کا اظہار کرے گا مگر اس وقت اس کا اسے کوئی فائدہ نہ ہوگا یہ حسرت وندامت بےوقت ہوگی۔ ومن این الہ الذکری وقد فات او انہا (روح ج 30 ص 129) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار…
Read the full tafseer →وَجِايْۗءَ يَوْمَىِٕذٍؚبِجَہَنَّمَ 0ۥۙ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَہُ الذِّكْرٰى 23 ۭ
يَوْمَئِذٍ
ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ .
اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا۔ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا۔ وَّجِایْٓ ئَ یَوْمَئِذٍ م بِجَھَنَّمَ 5 لا یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُالْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَـہُ الذِّکْرٰی۔ یَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ ۔ (الفجر : 21 تا 24)
(ہرگز نہیں ! جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی، اس دن انسان سوچے گا مگر اس وقت اس کے سوچنے کا کیا حاصل ؟ وہ کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔ )
مال کے پرستاروں کو تنبیہ
مال ہی کو سب کچھ سمجھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
فہم القرآن
ربط کلام : جس مال پر انسان اترتا اور اسے جمع کر کے رکھتا ہے اس مال اور پوری دنیا کا انجام۔
دنیا دار انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا حالانکہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے، ایک وقت آنے والا ہے جب اس زمین پر زلزلے واقع ہوں گے اور ہر چیز تہس نہس کردی جائے گی زمین و آسمان بدل دیئے جائیں گے اور لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرلیا جائے گا۔ جب لوگ محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے تو جبریل امین اور تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ (النبا : 38)
ملائکہ، انسان اور جنات رب ذوالجلال کی تشریف آوری کا انتظار کررہے ہوں گے تو اچانک زمین و آسمان…
Read the full tafseer →23 : وَجِایْٓئَ یَوْمَئِذٍم بِجَھَنَّمَ (اور اس روز جہنم کو لایا جائے گا) ایک قول یہ ہے کہ یہ اہل جہنم کے سامنے کردی جائے گی جیسا دوسرے مقام پر فرمایا۔ وَبُرِّزَتِ الجحیم للغاوین ] الشعراء : 91[ دوسرا قول یہ ہے کہ جہنم کو چلا کر لایا جائے گا۔ حدیث صحیح میں وارد ہے۔ یوتی بجھنم یومئذ لھا سبعون الف زمامٍ مع کل زمام سبعون الف ملک یجرونھا۔ ] رواہ مسلم : 2842، والترمذی : 2587[ اس دن جہنم کو ستر ہزار لگاموں سے کھینچ کر لایا جائے گا۔ ہر لگام پر ستر ستر ہزار فرشتے مقرر ہونگے۔ یَوْمَپذٍ یَّتَذَکَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی (اس روزانسان کو سمجھ آوے گی اور اب سمجھ آنے کا موقع کب رہا) یتذکرؔ…
Read the full tafseer →23 ۔” وجئی یومئذ بجھنم “ عبداللہ بن مسعود ؓ اور مقاتل (رح) اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جہنم ستر لگاموں کے ذریعے کھینچی جائے گی ہر لگام پر ستر ہزار فرشتے ہوں گے ، اس کے لئے سخت غیظ وغضب اور گدھے کی سی آوازیں ہوں گی حتیٰ کہ عرش کے بائیں جانب ٹھہرائی جائے گی۔ ” یومئذ “ یعنی جس دن جہنم کو لایا جائے گا۔ ” یتذکر الانسان “ نصیحت حاصل کرے گا اور کافر توبہ کرے گا۔ ” وانی لہ الذکری “ زجاج (رح) فرماتے ہیں توبہ ظاہر کرے گا اور اس کے لئے توبہ کہاں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
21۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ…
Read the full tafseer →(وَجِايْۗءَ يَوْمَىِٕذٍۢ بِجَهَنَّمَ ) اور دوزخ اس دن حاضر کی جائے گی۔ فرشتے اسے زنجیروں میں جکر کر لائیں گے پس جب یہ تمام امور وقوع پذیر ہوں گے۔ (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ ) اس روز انسان یاد کرے گا کہ اس نے کیا بھلائی یا برائی آگے بھیجی ہے ؟ ( وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى) مگر اس تنبیہ سے اسے فائدہ کہاں مل سکے گا ؟ اس کا وقت گزر چکا اور اس کا زمانہ بیت گیا۔
Read the full tafseer →(26) دوزخ کی نقاب کشائی اور منکرین کی یاس و حسرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز دوزخ کو لایا جائے گا، اور اس روز انسان پوری طرح سمجھ اور جان لے گا حق اور حقیقت کو "۔ کہ اس روز سب کچھ اس کے سامنے آشکار ہوچکا ہوگا، اور تمام غیبی حقائق پردہ خفا سے نکل کر پوری طرح واضح اور سب پر عیاں ہوچکے ہوں گے، اور اس طور پر کہ ہر کوئی ان کے ماننے اور تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا اور غفلت کے سب پردے اس سے ہٹ اور چھٹ چکے ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، مریم 38 پ 16) یعنی " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ لوگ اس دن لیکن آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں ڈوبے پڑے ہیں "۔ مگر اس روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر
تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ف 6 حضرت عبداللہ بن معسود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : اس روز دوزخ کو ستر ہزار باگیں لگا دی جائیں گی اور ہر باگ کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے۔ (شوکانی بحود مسلم ترمذی)
Read the full tafseer →(89:23) وجاء یومئذ بجھنم : واؤ عاطفہ، جای ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ مجیء (باب ضرب) مصدر سے۔ اذ مضاف الیہ۔ اس دن۔ اس جملہ کا عطف بھی دکت پر ہے۔ اور اس دن جہنم کو سامنے لایا جائے گا۔
یومئذ اس دن ۔ یہ ما قبل کے یومئذ سے بدل ہے۔
یتذکر الانسان : یتذکر مضارع واحد مذکر غائب تذکر (تفعل) مصدر وہ نصیحت پکڑتا ہے۔ اس کے چند ایک تراجم حسن ذیل ہیں :۔
(1) اس دن انسان سمجھے گا۔ (تفسیر حقانی)
(2) اس دن انسان کو سمجھ آئے گا۔ (ضیاء القرآن)
(3) اس روز انسان کو مسجھ آوے گی۔ (بیان القرآن)
(4) اس روز انسان کو سمجھ آئے گی۔ (تفہیم القرآن)
(5) ای یتذکر معاصیہ او یتعظ لانہ یعلم قبحھا فیندم علیہا یعنی اسنان اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔
لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔
تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔
(ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
[10] یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی بازپرس تم سے نہ کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
انسانی تنگ ظرفی
1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…
Read the full tafseer →(23) اور اس دن جہنم لائے جائے گی اس دن انسان نصیحت پکڑے گا اور اس کو سمجھ آئے گی۔ مگر اس وقت نصیحت پکڑنا اور سمجھ آنے کا موقع کہا۔ یعنی اس دن جب ایسا ہوگاتو جہنم لائی جائے گی یعنی ظاہر کی جائے گی اس وقت آدمی کو ہوش آئے گا اور اس دن سوچے گا لیکن اس دن سوچنا اس کو کیا مفید ہوسکتا ہے اور اب سوچنے کا وقت کہاں، یعنی اگر اس وقت ایمان لائے تو غیر مفید وانی لھم التنارش من مکان بعید ، کیونکہ وہ دارالجزا ہے دارالعمل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ف 6۔ کیونکہ آخرت دار الجزاء ہے دار العمل نہیں۔
Read the full tafseer →اس روز دوزخ بھی حاضر کی جائے گی اور انسان پچھتائے گا
23 ؎ گزشتہ آیات میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ صرف زمانہ ٔ جاہلیت ہی کے ساتھ خاص نہ تھا آج بھی اکثر لوگ جن کو اسلام کے بتائے ہوئے نظریات و عقائد پر پورا یقین نہیں ہے وہ سب کے سب اس جگہ ہی سرگرداں ہیں اس لیے ان کے سامنے اسی طرح بیان کرنا چاہیے کہ ان کے کانوں کی کھڑکیاں دی جائیں اور ان کو باور کرادیا جائے کہ جب قیامت بپا ہوگی تو یہ سارا نظام عالم درہم برہم کردیا جائے گا اس وقت ان غافل انسانوں کی غفلت کے پردے ہٹیں گے اور ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے جو بتایا تھا وہی حق تھا ، جو قرآن کریم نے دعوت دی ہے اس میں ان کی اصلاح مضمر تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ (it will be the day when man will realise the truth, but from where will he take advantage of such realisation? - 89-23). The word tadhakkur in this context means 'to realise'. The unbelievers will realise the errors of their ways in the Hereafter, but it will be too late, because it is this present world where 'Imn and good deeds benefit the people. The Hereafter is the place only for reckoning and retribution. Man will express his remorse thus:
يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي (He will say, "0 Would that I had sent…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
17 The words in the original can have two meanings:
(1) That on that Day man will remember whatever he had done in the world and will regret, but what will remembrance and regretting avail him then?
(2) That on that Day man will take heed and accept admonition: he will realize that whatever he had been told by the Prophets was true and he committed a folly when he did not listen to them; but what will taking heed and accepting the admonition and realizing one's errors avail one then ?
Read the full tafseer →