Al-Fajr 89:22

Al-Fajr · from ayah 22

89:22

وَّجَآءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا ۟ۚوَّجَآءَ رَبُّكَ وَالۡمَلَكُ صَفًّا صَفًّا

اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And your Lord has come and the angels, rank upon rank,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:22

اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تمہارا پروردگار (جلوہ فرما ہو گا) اور فرشتے قطار باندھ باندھ کر آ موجود ہوں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور تیرا رب (خود) آجائے گا اور فرشتے صفیں باندھ کر (آ جائیں گے)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہارا پروردگار اور قطاریں باندھے ہوئے فرشتے (میدان حشر میں) آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے قطار در قطار (اس کے حضور) حاضر ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے جو صف در صف ہوں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کا پروردگار آئے گا اس حال میں کہ فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تیرا خداوند صف در صف فرشتوں کے جلو میں نمودار ہو گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جلوہ فرما ہوگا تمہارا رب اس حال میں کہ فرشتے کھڑے ہوں گے صف در صف

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ کا پروردگار اور فرشتے آئیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا جب کہ فرشتے قطار در قطار حاضر ہوں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تمہارا رب جلوہ افروز ہوگا اور فرشتے قطار در قطار موجود ہوں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

and when your Lord appears with rows upon rows of angels,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and your Lord will come, and the angels as well, lined up in rows,

— Muhammad Taqi Usmani

and your Lord will come, and the angels as well, lined up in rows,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And your Lord comes with the angels in rows.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And thy Lord shall come with angels, rank on rank,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And your Lord has come and the angels, rank upon rank,

— Saheeh International

and (when you find yourself) in the presence of your Lord and the rows and rows of angels, your greed for riches will certainly be of no avail to you.

— Muhammad Sarwar

And your Lord comes and (also) the angels in ranks,

— Muhammad Habib Shakir

And thy Lord shall come and the angels, rank on rank.

— Abdul Majid Daryabadi

And thy Lord cometh, and His angels, rank upon rank,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 89:22

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–30

سجدوں کی برکتیں : قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائیگی اونچی نیچی زمین بربار کردی جائیگی اور بالکل صاف ہموار ہو جایئگی پہاڑ زمین کے بربار کر دئیے جائیں گے تمام مخلوق قبر سے نکل آئیگی خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آجائیگا یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوگی اور یہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر ﷺ کے پاس ہو آئیگی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں پھر سب کے سب حضور ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں پھر آپ جائیں گے اور اللہ کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَجْر 16 اصل الفاظ ہیں جاء ربک جن کا لفظی ترجمہ ہے " تیرا رب آئے گا "۔ لیکن ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا، اس لیے لامحالہ اس کو ایک تمثیلی انداز بیان ہی سمجھنا ہوگا جس سے یہ تصور دلانا مقصود ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے اقتدار اور اس کی سلطانی و قہاری کے آثار اس طرح ظاہر ہوں گے جیسے دنیا میں کسی بادشاہ کے تمام لشکروں اور راعیان سلطنت کی مدد سے وہ رعب طاری نہیں ہوتا جو بادشاہ کے بنفس نفیس خود دربار میں آجانے سے طاری ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وجاء ربک والملک صفا صفا، یعنی آئے گا آپ کا رب اور فرشتے صف بصف مراد میدان حشر میں آنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے آنے کی کیا شان ہوگی اس کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، یہ متشا بہات میں سے ہے اور فرشتوں کا صف بصف آنا بظاہر ہے وجای یومذ بجھنم، یعنی لاجائیگا اس روز جہنم کو، جہنم کو لائے جانے کا کیا مطلب ہے اور کس طرح میدان حشر میں لائی جائے گی اس کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ظاہر یہ ہے کہ جہنم جو اب ساتویں زمین کی تہ میں ہے اس وقت وہ بھڑک اٹھے گی اور سمندر سب آگ ہو کر اس میں شامل ہوجائیں گے اس طرح جہنم عرصہ حشر میں سب کے سامنے آجائے گی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَجَآءَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا‘۔ یعنی آج تو اللہ تعالیٰ پس پردہ بیٹھا ہوا لوگوں کا امتحان کر رہا ہے لیکن اس دن یہ پردہ اٹھا دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے کروبیوں کے جلو میں نمودار ہو گا۔ اس وقت اصل حقیقت بالکل بے نقاب ہو کر اس طرح لوگوں کے سامنے آ جائے گی کہ کسی کے لیے بھی اس میں کسی شک کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ رہا یہ سوال کہ اللہ تعالیٰ کا نمودار ہونا کس طرح ہو گا تو اس کا تعلق احوال آخرت سے ہے جس کی تفصیلات متشابہات میں داخل ہیں، ان پر اجمالی ایمان ہی کافی ہے۔ ان کی زیادہ کھوج کرید کی جائے تو اندیشہ فتنہ میں پڑ جانے کا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

22۔ 1 کہا جاتا ہے کہ جب فرشتے، قیامت والے دن آسمان سے نیچے اتریں گے تو ہر آسمان کے فرشتوں کی الگ صف ہوگی اس طرح سات صفیں ہونگیں۔ جو زمین کو گھیر لیں گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–22

7: اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 21–23

کلااذا ................................ وثاقہ احد دکت الارض (21:89) زمین کو کاٹا جائے گا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نشانات مٹا کر اسے برابر کردیاجائے گا۔ یہ ان انقلابات میں سے ایک ہے جو قیامت کے وقوع کے وقت اس کائنات میں برپا ہوں گے رہی یہ بات کہ رب تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے تو یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کو اس وقت تک ہم سمجھ نہیں سکتے ، کیونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اور ہماری قوت ادراک محدود ہے۔ البتہ اس انداز تعبیر سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ بہت ہی ہیبت ناک اور خوفناک صورت حال ہوگی۔ اسی طرح جہنم کو لایا جانا پوری طرح ہماری فہم سے دور ہے۔ البتہ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

16 یعنی اپنی قہری تجلی کے ساتھ جیسا اس کی شان کے لائق ہے۔ 17 یعنی میدان محشر میں آئیں گے وہاں انتظامات کے لئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 22{ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا۔ } ”اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا جب کہ فرشتے قطار در قطار حاضر ہوں گے۔“ سورة الحاقہ میں قیامت کے دن کا ایک منظر اس طرح بیان کیا گیا ہے : { وَالْمَلَکُ عَلٰٓی اَرْجَآئِہَاط وَیَحْمِلُ عَرْشَ رَبِّکَ فَوْقَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَمٰنِیَۃٌ۔ } ”اور فرشتے ہوں گے اس کے کناروں پر ‘ اور اس دن آپ کے ربّ کے عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے آٹھ فرشتے“۔ سورة الرحمن میں اس دن کے آسمان کی کیفیت کا ذکر یوں آیا ہے : { فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ۔ } ”پھر جب آسمان پھٹ جائے گا اور ہوجائے گا گلابی ‘ تیل کی تلچھٹ جیسا۔“ قرآن مجید میں قیامت کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 یہ آیت بھی عقل پرستوں کے لیے آزمائش ہے اور وہ طرح طرح سے اس کی تاویل کرتے ہیں۔ انہیں مشکل یہ پیش آتی ہے کہ اللہ تو ہر جگہ موجود ہے وہ آئے گا کہاں سے ؟ حالانکہ آیت کے الفاظ اتنے واضح ہیں کہ ان میں تاویل کی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی۔ ہمارا کام صرف یہ ہونا چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ فرمائے اسے من و عن تسلیم کرلینا چاہیے۔ یہ بھی ہمیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات سات آسمانوں کے اوپر عرش پر ہے۔ وہاں سے وہ کیسے آئے گا یہ جاننے کے ہم مکلف نہیں جیسے اس کی شان ہے ویسے ہی آئے گا۔ اور اس حال میں آئے گا کہ فرشتے صفیں باندھے قطار در قطار اس کے ساتھ ہوں گے۔ یہی وہ دن ہوگا جب تم لوگوں سے تمارے اعمال کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 21–23

12۔ یعنی اب شہود حقائق کے وقت سمجھ آئی بھی تو کیا، اس کا کچھ حاصل نہ ہوگا، کام کی بات تو جب تھی، جب اس دارالجزاء میں نہیں، اسی دار العمل میں سمجھ درست ہوگئی ہوتی ! (آیت) ” اذا ....... دکا “۔ یعنی زمین کی بلندیوں کو توڑپھوڑکرساری سطح ایک کردی جائے گی، (آیت) ” وجآء رکب “۔ حق تعالیٰ کے تشریف لے آنے سے مراد حشر میں کسی ایسی تجلی کا ظہور ہے، جو اس وقت ناقابل فہم ہے اور اسی لئے آیت کا شمار متشابہات میں ہے، بعض اکابر سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے اور تقدیر ہے، کلام یوں ہے (آیت) ” وجآء امر ربک “۔ یعنی حق تعالیٰ کے احکام یا فیصلوں کا ظہور وہونے لگے گا۔ قال الحسن جاء امرہ وقضاء وقال الکلبی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وجاء ربک . اس کا عطف دکّت پر ہے۔ اللہ کا آنا متشابہات میں سے ہے۔ متشابہات کے متعلق سلف و خلف اور اہل تصوّف کے اقوال ہم آیت : ان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام کی تشریح میں ذکر کرچکے ہیں۔ والملک . الف لام جنسی ہے یعنی ملائکہ۔ صفا صفا . یہ الملک سے حال ہے۔ یعنی ملائکہ قطار در قطار بنائے ہوں گے۔ ابن جریر اور ابن مبارک نے ضحاک کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کا دن ہوگا تو اللہ کے حکم سے دنیوی آسمان پھٹ جائے گا اور ملائکہ اس کے کناروں پر رہ جائیں گے۔ پھر بحکم رب اتریں گے اور زمین کو اس کی موجودات سمیت گھیر لیں گے۔ پھر دوسرا ‘ پھر تیسرا ‘ چوتھا پھر پانچواں پھر چھٹا پھر ساتواں آسمان پھٹے گا اور ملائکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 21–22

(2321) ہرگز ایسا نہیں بلکہ جب زمین میں یکے بعد دیگرے زلزلے آئیں گے اور صف بہ صف فرشتے آئیں گے جیسا کہ دنیا میں نمازیوں کی صف ہوتی ہے اس روز جہنم کو محشر کی طرف ستر ہزار لگاموں سے گھسیٹ کر لایا جائے گا اور ہر ایک لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوئے ہوں گے اور اس روز کافر کو یعنی ابی بن خلف یا امیہ بن خلف کو سمجھ آئے گی اس وقت سمجھ اور نصیحت آنے کا موقع کہاں رہے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(1) وجآء ربک والملک صفاً صفاً : اور دوسرے نفخہ کے ساتھ تمام لوگ زندہ ہو کر اس چٹیل میدان میں کھڑے ہو کر اتنظار کر رہے ہوں گے، اس وقت رب تعالیٰ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے نزول فرمائے گا۔ ساتھ ہی فرشتے صف در صف آئیں گے، زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی اور اعمال نامے پیش کئے جائیں گے۔ انبیاء اور گواہوں کو لایا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کئے جائیں گے اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ دیکھیے سورة زمر (69) کی تفسیر۔ (2) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے خود صاف الفاظ میں اس دن اپنے آنے کا ذکر فرمایا ہے۔ بعض لوگوں نے اس کا انکار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے آنے کے عجیب عجیب مطلب نکالے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 22–23

وجاء ربک والملک۔۔۔ تا۔۔۔ لہ الذکری۔ یہاں ربک سے مراد تیرے رب کا امر اور اس کا فیصلہ ہے یہی حضرت حسن بصری کا قول ہے، یہ کلام اس اسلوب سے تعلق رکھتی ہے جس میں مضاف حذف ہوتا ہے، ایک قول یہ کیا گیا ہے ان کے پاس ان کا رب عظیم آیات لایا وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے، الاان یاتیھم اللہ فی ظلل من الغمام۔ البقرہ 210) کہ آئیے ان کے پاس اللہ کا عذاب چھائے ہوئے بادلوں کی صورت میں اس آیت میں فی ظلل، بظلل کے معنی میں ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے آیات کے آنے کو اس کا آنا بنادیا گیا ہے مقصود ان آیات کی عظمت شان بیان کرنا ہے، اس معنی میں حدیث میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، یا بن آدم مرضت فلم تعدنی واستسقیتک…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

30۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ زمین اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا پھر ان کو آپس میں ایکد وسرے کے ساتھ ٹکرا دیا جائے گا۔ 31۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجاء ربک والملک صفا صفا۔ اور آپ کے رب کا تخت آجائے گا اور فرشتے بھی صف بستہ چلے آئیں گے آیت والملک صفا صفا سے مراد ہے فرشتوں کی صفیں۔ 32۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت والملک صفا صفا یعنی آسمان کے رہنے والے آئیں گے اور ہر آسمان پر صف ہوگی۔ 33۔ ابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ کے چہرہ مبارک سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَّجَاۗءَ رَبُّكَ : اور آئے گا آپ ﷺ کا رب ][ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا : اور سارے فرشتے قطار در قطار ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿ وَّ جَآءَ رَبُّكَ﴾ اور آپ کا پروردگار آجائے گا یعنی اس کا حکم پہنچ جائے گا اور اس کے فیصلوں کا وقت آجائے گا ﴿ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ0022﴾ معالم التنزیل میں حضرت عطا کا قول نقل کیا ہے کہ ہر آسمان کے فرشتے الگ الگ صف بنا لیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 21–22

10:۔ ” کلا اذا “ یہ تخویف اخروی ہے۔ کلا ردعیہ ہے۔ یعنی یوں تو نہیں کرنا چاہیے ورنہ ان کو ان کاموں پر قیامت کے دن سخت حسرت ہوگی مگر اس دن تحیر و تاسف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ” دکت الارض دکا دکا “ زمین کو بار بار ہلایا اور توڑا جائے گا یہاں کہ زمین بالکل ہموار ہوجائے گی، نہ پہاڑ نظر آئیں گے نہ دریا اور سمندر۔ پھر اللہ تعالیٰ فصل قضاء کے لیے اپنی خاص شان کے ساتھ نزول اجلال فرمائیگا۔ فیجیئ الرب تبارک وتعالیٰ لفصل القضاء کما یشاء والملائکۃ یحیثون بین یدیہ صفوفا صفوفا (ابن کثیر ج 4 ص 510) ۔ فرشتے صفوں میں دست بستہ کھڑے ہوں گے اور قید خانہ (جہنم) سامنے موجود ہوگا جس میں کفار و مشرکین کو ہمیشہ ہمیشہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–30

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّجَاۗءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا۝ 22 ۚ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 21–24

کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا۔ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا۔ وَّجِایْٓ ئَ یَوْمَئِذٍ م بِجَھَنَّمَ 5 لا یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُالْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَـہُ الذِّکْرٰی۔ یَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ ۔ (الفجر : 21 تا 24) (ہرگز نہیں ! جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی، اس دن انسان سوچے گا مگر اس وقت اس کے سوچنے کا کیا حاصل ؟ وہ کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔ ) مال کے پرستاروں کو تنبیہ مال ہی کو سب کچھ سمجھنے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 21–26

فہم القرآن ربط کلام : جس مال پر انسان اترتا اور اسے جمع کر کے رکھتا ہے اس مال اور پوری دنیا کا انجام۔ دنیا دار انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا حالانکہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے، ایک وقت آنے والا ہے جب اس زمین پر زلزلے واقع ہوں گے اور ہر چیز تہس نہس کردی جائے گی زمین و آسمان بدل دیئے جائیں گے اور لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرلیا جائے گا۔ جب لوگ محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے تو جبریل امین اور تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ (النبا : 38) ملائکہ، انسان اور جنات رب ذوالجلال کی تشریف آوری کا انتظار کررہے ہوں گے تو اچانک زمین و آسمان…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

22 : وَّجَآ ئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا (اور آپ کا پروردگار اور جوق در جوق فرشتے آئیں گے) یعنی ہر آسمان کے فرشتے اتر پڑیں گے۔ وہ ایک دوسرے کے پیچھے صف بستہ ہوجائیں گے۔ جس سے جن و انس گھیرے میں آجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

22 ۔” وجاء ربک “ حسن (رح) فرماتے ہیں آگیا اس کا امر اور فیصلہ اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اترے گا اس کا حکم۔” والملک صفا صفا “ عطاء (رح) فرماتے ہیں فرشتوں کی صفیں مراد ہیں اور ہر آسمان والوں کی علیحدہ صف ہوگی۔ ضحاک (رح) فرماتے ہیں ہر آسمان والے جب قیامت کے دن اتریں گے تو صف باندھے ہوں گے، زمین اور جوان میں ہیں ان سے ملے ہوں گے تو سات صفیں ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–30

21۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–22

(كَلَّآ) یعنی ہرگز ایسا نہیں۔ تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو تمہارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں بلکہ تمہارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا حتی کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنادیا جائے گا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہوگا۔ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا تمام اہل آسمان مکرم فرشتے (صفا صفا) صف درصف آئیں گے ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(25) قیامت کے روز بعض اہم غیبی حقائق کے کشف و ظہور کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کے اس روز حساب میں غیبی حقائق کے کشف و ظہور کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور اس روز جلوہ فرما ہوگا تمہارا رب جبکہ فرشتے کھڑے ہو گے صف در صف "۔ سو رب تعالیٰ جل جلالہ اس روز ایسے جلوہ افروز ہوگا اور اس طرح تشریف لائے گا جیسا کہ اس کی شان اقدس و اعلی کے لائق و مناسب ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کی پوری کیفیت اور اصل حقیقت کو جاننا نہ ہمارے بس میں ہے اور نہ ہی اس کے مکلف ہیں۔ البتہ ہم صرف اس بات کے مکلف ہیں کہ اس طرح کے غیبی حقائق سے متعلق نصوص میں وارد ہے اسی پر ایمان رکھیں بغیر کسی تشبیہ و تکہیف اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 22–23

ف 6 حضرت عبداللہ بن معسود سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا : اس روز دوزخ کو ستر ہزار باگیں لگا دی جائیں گی اور ہر باگ کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے۔ (شوکانی بحود مسلم ترمذی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:22) وجاء ربک والملک صفا صفا : واؤ عاطفہ جاء کا عطف دکت پر ہے۔ صفا صفا الملک سے حال ہے۔ الملک میں الف لام جنسی ہے یعنی ملائکہ۔ ترجمہ :۔ اور جب تیرا پروردگار جلوہ افروز ہوگا اور فرشتے قطار اندر قطار حاضر ہوں گے۔ صفا یہ اصل میں صف یصف (باب نصر) کا مصدر ہے جس کے معنی قطار باندھنے کے آتے ہیں۔ اور خود قطار کے معنی میں بھی بطور اسم مستعمل ہے صف بمعنی اسم فاعل صاف (قطار باندھنے والا) بھی آتا ہے۔ جیسے وانا لنحن الصافون (37:165) اور ہم جو ہیں سو ہم ہی ہیں قطار باندھنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔ (ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 21–26

[10] یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی بازپرس تم سے نہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–29

انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(22) اور آپ کا پروردگار پر تو فگن ہوگا اور فرشتے صفیں باندھ باندھ کر حاضر ہوں گے - یعنی حضرت حق تعالیٰ کا حکم آئے گا یا اس کی صفت قہر کی تجلی ظاہر ہوگا اور فرشتے قطار درقطار حاضر ہوں گے یعنی صفیں باندھے ہوئے کھڑے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تیرا رب تجلی فرمائے گا اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے 22 ؎ ہم نے اس تفسیر میں جگہ جگہ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ قرآن کریم ہماری زبان میں نازل ہوا ہے اور جس طرح یہ ایک دوسرے کا ذکر کرتے ہیں اس طرح اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ بات الگ سمجھا دی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی ضد ہے اور نہ اس کا کوئی ند ہے اور نہ اس کی مثال کسی کے ساتھ دی جاسکتی ہے کیونکہ وہ کسی کی مثل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کی مثل ہے لہٰذا جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر اس طرح کیا جائے گا تو اس سے خود بخود یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس سے مراد محض تفہیم ہے نہ کہ حقیقت دراصل جو چیز نہ دکھائی دے اور نہ ہی وہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا (and your Lord will come, and the angels as well, lined up in rows....89:22) They will arrive in the Plain of Gathering. The words 'your Lord will come' is an allegorical expression. No one, besides Allah, knows the nature of His coming. The words 'and the angels [ will arrive ] as well, lined up in rows' are clear in meaning. وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ (and Jahannam [ Hell ], on that day, will be brought forward, it will be the day when man will realise the truth, but from where…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

16 Although literally the words jaa Rabbuka mean "your Lord will come", obviously there cannot be any question of Allah Almighty's moving from one place to another; therefore, this will inevitably have to be understood as au allegoric expression, which is meant to give an idea that at that time the manifestations of Allah Almighty's power and His majesty and sovereignty will appear fully, as, for example, in the world the arrival of a king in person in the court is more awe-inspiring than the mere array of his forces and chiefs and nobles.

Read the full tafseer →