Explained with ayahs 21–30
سجدوں کی برکتیں :
قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائیگی اونچی نیچی زمین بربار کردی جائیگی اور بالکل صاف ہموار ہو جایئگی پہاڑ زمین کے بربار کر دئیے جائیں گے تمام مخلوق قبر سے نکل آئیگی خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آجائیگا یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوگی اور یہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر ﷺ کے پاس ہو آئیگی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں پھر سب کے سب حضور ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں پھر آپ جائیں گے اور اللہ کے سامنے…
Read the full tafseer →سورة الْفَجْر 15
یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم دنیا میں جیتے جی یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی باز پرس کا وقت کبھی نہ آئے۔ جس جزا و سزا کا انکار کر کے تم نے زندگی کا یہ ہنجار اختیار کر رکھا ہے وہ کوئی انہونی اور خیالی بات نہیں ہے بلکہ وہ پیش آنی ہے اور اس وقت آنی ہے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
چوتھی بڑی خصلت یہ بتلائی وتحبون المال حبا جما، جم کے معنے کثیر کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم مال کی محبت بہت کرتے ہو، بہت کے لفظ سے اسطرف اشارہ ہوگیا کہ مال کی ایک درجہ میں محبت تو انسان کی فطری تقاضا ہے وہ سبب مذمت نہیں بلکہ اس کی محبت میں حد سے بڑھنا اور انہماک کرنا یہ سبب مذمت ہے۔ کفار کی ان بڑی خصلتوں کے بیان کے بعد پھر اصل مضمون کی طرف عود کیا گیا جو شروع سورت میں پانچ قسموں کے ساتھ موکد کیا گیا ہے یعنی آخرت کی جزا وسزا، اس سلسلہ میں اول قیامت کے آنیکا ذکر فرمایا۔
اذا دکت الارض دکا دکا، لفظ دک کے لفظی معنے کسی چیز کو ضرب مار کر توڑنے کے ہیں مراد قیامت کا زلزلہ ہے جو پہاڑوں کو باہم ٹکرا کر ریزہ…
Read the full tafseer →مال کے پرستاروں کو تنبیہ:
یہ مال کے پرستاروں کو اس دن کی یاددہانی کی گئی ہے جب وہ چیتیں گے اور حسرت کریں گے کہ کاش، انھوں نے اپنے مال کو اس دن کی تیاریوں میں صرف کیا ہوتا لیکن اس وقت کا چیتنا بالکل بے سود ہو گا۔ وہ وقت چیتنے کا نہیں بلکہ نتائج اعمال کے بھگتنے کا ہو گا۔
’کَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا‘۔ ’کَلَّا‘ یہاں ان کے اس زعم کی تردید کے لیے ہے جو اوپر مذکور ہوا کہ جس کو مال ملتا ہے وہ اس خبط میں پڑ جاتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی سرفرازی اور عزت افزائی ہوئی ہے حالانکہ اس دنیا کی کوئی چیز بھی کسی کو ملتی ہے تو سرفرازی کے لیے نہیں بلکہ صرف امتحان کے لیے ملتی ہے۔ ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 1 یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے حرام طریقے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
7: اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
کلااذا ................................ وثاقہ احد
دکت الارض (21:89) زمین کو کاٹا جائے گا “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نشانات مٹا کر اسے برابر کردیاجائے گا۔ یہ ان انقلابات میں سے ایک ہے جو قیامت کے وقوع کے وقت اس کائنات میں برپا ہوں گے رہی یہ بات کہ رب تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے تو یہ ایک غیبی معاملہ ہے۔ اس کی حقیقت کو اس وقت تک ہم سمجھ نہیں سکتے ، کیونکہ ابھی ہم اس دنیا میں ہیں اور ہماری قوت ادراک محدود ہے۔ البتہ اس انداز تعبیر سے یہ بات ذہن میں آتی ہے کہ بہت ہی ہیبت ناک اور خوفناک صورت حال ہوگی۔ اسی طرح جہنم کو لایا جانا پوری طرح ہماری فہم سے دور ہے۔ البتہ یہ…
Read the full tafseer →15 یعنی سب ٹیلے اور پہاڑ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیے جائیں اور زمین صاف چٹیل میدان ہوجائے۔
Read the full tafseer →آیت 21{ کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا۔ } ”ہرگز نہیں ! جب زمین کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا۔“
اس آیت کا یہ ترجمہ شاہ ولی اللہ - کے فرزند ارجمند شاہ عبدالقادر - کے ترجمہ کے مطابق ہے ‘ جبکہ ان کے بھائی شاہ رفیع الدین - نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ جب زمین کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →14 یعنی ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا کہ تمہاری ایسی کرتوتوں کی تم سے باز پرس نہ کی جائے اور ایسا وقت یقیناً آنے والا ہے۔
15 یعنی زمین پر متواتر زلزلوں اور ضربوں سے اس کے پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور سب نشیب و فراز برابر کردیے جائیں گے اور زمین ایک چٹیل میدان بنادی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
12۔ یعنی اب شہود حقائق کے وقت سمجھ آئی بھی تو کیا، اس کا کچھ حاصل نہ ہوگا، کام کی بات تو جب تھی، جب اس دارالجزاء میں نہیں، اسی دار العمل میں سمجھ درست ہوگئی ہوتی ! (آیت) ” اذا ....... دکا “۔ یعنی زمین کی بلندیوں کو توڑپھوڑکرساری سطح ایک کردی جائے گی، (آیت) ” وجآء رکب “۔ حق تعالیٰ کے تشریف لے آنے سے مراد حشر میں کسی ایسی تجلی کا ظہور ہے، جو اس وقت ناقابل فہم ہے اور اسی لئے آیت کا شمار متشابہات میں ہے، بعض اکابر سے یہ بھی نقل ہوا ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے اور تقدیر ہے، کلام یوں ہے (آیت) ” وجآء امر ربک “۔ یعنی حق تعالیٰ کے احکام یا فیصلوں کا ظہور وہونے لگے گا۔ قال الحسن جاء امرہ وقضاء وقال الکلبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →کلا . ہرگز نہیں۔ یہ مذکورہ حرکتوں سے بازداشت ہے۔ مقاتل نے کہا (یہ نفی ہے یعنی) جو حکم ان کو دیا گیا ہے ‘ اس کی تعمیل نہیں کریں گے۔ یا بعد والے کلام کی تحقیق کے لیے ہے یعنی جس وعید عذاب اور ان کے حسرت و افسوس کا بیان بعد والی آیات میں کیا گیا ہے اس سے شک کو دور کرنے کے لیے لفظ کلاَّ کا استعمال کیا گیا۔
اذا دکت الارض دکا دکا . یعنی زمین کو پیہم جھنجھوڑا جائیگا۔ یہاں تک کہ پہاڑ درخت ‘ عمارتیں جو کچھ رُوئے زمین پر ہوگا ‘ ٹوٹ پھوٹ کر خاک پراں بن جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(2321) ہرگز ایسا نہیں بلکہ جب زمین میں یکے بعد دیگرے زلزلے آئیں گے اور صف بہ صف فرشتے آئیں گے جیسا کہ دنیا میں نمازیوں کی صف ہوتی ہے اس روز جہنم کو محشر کی طرف ستر ہزار لگاموں سے گھسیٹ کر لایا جائے گا اور ہر ایک لگام کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوئے ہوں گے اور اس روز کافر کو یعنی ابی بن خلف یا امیہ بن خلف کو سمجھ آئے گی اس وقت سمجھ اور نصیحت آنے کا موقع کہاں رہے گا۔
Read the full tafseer →(کلا اذا دکت الارض دکا دکا :”کلا“ ہرگز نہیں، یعنی تمہیں ہرگز ایسے نہیں کرنا چاہیے، بلکہ وہ وقت سامنے رکھنا چاہیے جب قیامت کے پہلے نفخہ کے ساتھ زمین ریزہ ریزہ کر کے ہموار چٹیل میدان بنادی جائے گی۔
Read the full tafseer →کلا اذا دکت الارض دکا دکا۔
یہ مناسب نہیں کہ معاملہ اسی طرح ہو یہ ان لوگوں کا رد کیا جارہا ہے جو دنیا پر منہ کے بل گرے ہوتے ہیں اور اس پر جمع ہیں کیونکہ جس نے اس طرح کیا جس دن زمین ریزہ ریزہ ہوگی وہ اس روز شرمندہ ہوں گے جب کہ شرمندگی کچھ نفع نہ دے گی، دک بمعنی توڑنا اور باریک کرنا ہے یہ بحث پہلے گزرچکی ہے یعنی زمین پر زلزلہ برپا ہوگاتو وہ ایک دوسرے کو ریزہ ریزہ کردے گی، مبرد نے کہا، معنی ہے وہ پست ہوجائے گی اور اس کی بلندی ختم ہوجائے گی جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، ناقہ دکائ، جس کی کہ ان نہ ہو اس کی جمع دک آتی ہے اس بارے میں گفتگو سورة الاعراف میں اور سورة الحاقہ میں گزرچکی ہے لوگ کہتے ہیں، دک…
Read the full tafseer →26۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت کلا بل لا تکرمون الیتیم یعنی تکرمون کو تاء مرفوع کے ساتھ پڑھا ہے آیت ولا تحضون کو مد کے ساتھ اور تاء منصوبہ کے ساتھ پڑھا ہے اور بغیر ہمزہ کے الف کے ساتھ آیت وتاکلون التراث تاء کے ساتھ اکلا لما میں لما کو تشدید کے ساتھ پڑھا۔
27۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ رضی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا آیت کلا بل لا تکرمون الیتیم ولا تحضون علی طعام المسکین وتاکلون التراث اکلا لما وتحبون المال حبا جما۔ ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو اور میت کا ترکہ سب سمیٹ کر…
Read the full tafseer →[كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ : ہرگز نہیں، جب ہموار کی جائے گی زمین ][ دَكًّا دَكًّا : کوٹ کوٹ کر ]
Read the full tafseer →كَلَّاۤ ہرگز ! ایسا نہیں ہے جیسا تم سمجھتے ہو کہ میراث کا مال سمیٹنا اور مال سے محبت کرنا تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور اس پر مواخذہ نہیں ہوگا بلکہ یہ چیزیں تمہارے حق میں مضر ہیں اور باعث عذاب ہیں۔
اس کے بعد قیامت کے ہولناک مناظر کا تذکرہ فرمایا ﴿ كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ0021﴾ (جب زمین کو توڑ پھوڑ کر چورا چورا کردیا جائے گا) اور اس پر کوئی پہاڑ اور عمارت اور درخت باقی نہیں رہے گا اور برابر ہموار میدان ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت :
قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
10:۔ ” کلا اذا “ یہ تخویف اخروی ہے۔ کلا ردعیہ ہے۔ یعنی یوں تو نہیں کرنا چاہیے ورنہ ان کو ان کاموں پر قیامت کے دن سخت حسرت ہوگی مگر اس دن تحیر و تاسف کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ” دکت الارض دکا دکا “ زمین کو بار بار ہلایا اور توڑا جائے گا یہاں کہ زمین بالکل ہموار ہوجائے گی، نہ پہاڑ نظر آئیں گے نہ دریا اور سمندر۔ پھر اللہ تعالیٰ فصل قضاء کے لیے اپنی خاص شان کے ساتھ نزول اجلال فرمائیگا۔ فیجیئ الرب تبارک وتعالیٰ لفصل القضاء کما یشاء والملائکۃ یحیثون بین یدیہ صفوفا صفوفا (ابن کثیر ج 4 ص 510) ۔ فرشتے صفوں میں دست بستہ کھڑے ہوں گے اور قید خانہ (جہنم) سامنے موجود ہوگا جس میں کفار و مشرکین کو ہمیشہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار…
Read the full tafseer →كَلَّآ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّا 21 ۙ
كلا
كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] .
کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
کَلَّآ اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا۔ وَّجَآئَ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا۔ وَّجِایْٓ ئَ یَوْمَئِذٍ م بِجَھَنَّمَ 5 لا یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُالْاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَـہُ الذِّکْرٰی۔ یَقُوْلُ یٰـلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ ۔ (الفجر : 21 تا 24)
(ہرگز نہیں ! جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی۔ اور آپ کا رب جلوہ فرما ہوگا اس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے۔ اور جہنم اس روز سامنے لے آئی جائے گی، اس دن انسان سوچے گا مگر اس وقت اس کے سوچنے کا کیا حاصل ؟ وہ کہے گا کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا۔ )
مال کے پرستاروں کو تنبیہ
مال ہی کو سب کچھ سمجھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
فہم القرآن
ربط کلام : جس مال پر انسان اترتا اور اسے جمع کر کے رکھتا ہے اس مال اور پوری دنیا کا انجام۔
دنیا دار انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا حالانکہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے، ایک وقت آنے والا ہے جب اس زمین پر زلزلے واقع ہوں گے اور ہر چیز تہس نہس کردی جائے گی زمین و آسمان بدل دیئے جائیں گے اور لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرلیا جائے گا۔ جب لوگ محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے تو جبریل امین اور تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ (النبا : 38)
ملائکہ، انسان اور جنات رب ذوالجلال کی تشریف آوری کا انتظار کررہے ہوں گے تو اچانک زمین و آسمان…
Read the full tafseer →قیامت کا حال :
21 : کَـلَّآ (ہرگز نہیں) اس میں ان کو سابقہ بات پر ڈانٹ پلائی۔ اور ان کے فعل کا انکار کیا گیا ہے۔ پھر وعید کا ذکر کر کے ان کی اس حسرت کو بیان کیا جو اس وقت ہوگی جب حسرت کا فائدہ نہ ہوگا فرمایا اِذَا دُکَّتِ الْاَرْضُ دَکًّا دَکًّا (جس وقت زمین کو توڑ توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا جائے گا) دُکت : زمین کو ہلا یا جائے گا۔ دکا : ریزہ ریزہ یعنی بار بار اس کو ریزہ ریزہ کریں گے۔ یہاں تک کہ ذرات بنکر بکھر جائے گی۔
Read the full tafseer →21 ۔” کلا “ اس طرح مناسب نہیں ہے کہ معاملہ ہو اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں یعنی وہ نہیں کرتے جس کا ان کو حکم دیا گیا ہے یتیم کا اکرام کرنے اور مسکین کو کھانا کھلانے کا۔ پھر خبر دی کہ جو ان سے ہوچکا جب یہ ان کو نفع نہ دے تو وہ افسوس کریں گے تو فرمایا ” اذادکت الارض دکا دکا “ ایک مرتبہ کے بعد مرتبہ اور ہر چیز جو اس کے اوپر ہے ٹوٹ جائے گی، پہاڑوں ، عمارتوں اور درختوں میں سے۔ پس اس کے اوپر کوئی چیز باقی نہ رہے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
21۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(كَلَّآ) یعنی ہرگز ایسا نہیں۔ تم جس مال سے محبت کرتے ہو اور اس کی لذتوں میں ایک دوسرے سے بڑھ کر رغبت رکھتے ہو تمہارے پاس باقی رہنے والی نہیں ہیں بلکہ تمہارے سامنے ایک بہت بڑا دن اور ایک بہت بڑا خوف ہے اس دن زمین، پہاڑوں اور اس پر موجود ہر چیز کو کوٹ کوٹ کر ہموار کردیا جائے گا حتی کہ اسے ہموار چٹیل میدان بنادیا جائے گا اس میں کوئی نشیب و فراز نہیں ہوگا۔ اللہ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بادلوں کے سائے میں آئے گا تمام اہل آسمان مکرم فرشتے (صفا صفا) صف درصف آئیں گے ہر آسمان کے فرشتے ایک صف میں آئیں گے اور اپنے سے کم تر مخلوق کو گھیر لیں گے یہ صفیں بادشاہ جبار کے حضور خشوع اور عاجزی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(22) بیماری کی اصل جڑ کی نشاندہی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایسے ظالم اور اس گھناؤنے کردار کے اصل باعث اور سبب اور بیماری کی جڑ کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تم جکڑے ہوئے ہو مال دنیا کی محبت میں "۔ اور یہی جڑ بنیاد ہے ہر فتنے و فساد اور خرابی کی، کہ اس کے بعد انسان حلال و حرام کی حدود وقیود کی پر او کیے بغیر دنیا کے پیچھے لگ جاتا ہے، اسی دنیاوی مال و دولت ہی کی رہ گئی اور بس، اور مال کی محبت تمہارے دلوں پر اس طرح چھا گئی کہ تم لوگ اس کے علاوہ انسانیت و شرافت، عدل و انصاف اور رحم و کرم جیسے تمام اہم اور بنیادی مکارم کو بھول گئے ہو، اور صرف بطن و فرج کی خواہشات کے بندے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر
تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →ف 5 یا مطلب یہ ہے کہ اس کے تمام پہاڑ اور ٹیلے کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردیئے جائیں اور وہ چٹیل میدان ہوجائے۔
Read the full tafseer →(89:21) کلا اذا دکت الارض دکا دکا : کلا حرف ردع اور زجر ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ مذکورہ حرکتوں سے باز داشت ہے۔
مقاتل نے کہا (یہ نفی ہے یعنی) جو حکم ان کو دیا گیا ہے یہ اس کی تعمیل نہیں کریں گے یا بعد والے کلام کی تحقیق کیلئے ہے۔ یعنی جس وعید عذاب اور ان کے حسرت و افسوس کا بیان بعد والی آیات میں کیا گیا ہے اس سے شک کو دور کرنے کیلئے لفظ کلا استعمال کیا گیا ہے۔
اذا۔ ظرف امزن۔ جب۔ دکت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب۔ دک (باب نصر) مصدر سے۔ دک بمعنی ریزہ ریزہ کرنا۔ ڈھا کر برابر کرنا۔ کوٹ کوٹ کر برابر کرنا۔
دک اصل میں نرم اور ہموار زمین کو کہتے ہیں اور چونکہ نرم اور ہموار زمین ریزہ ریزہ ہوتی ہے۔ اسی لئے اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔
لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔
تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔
(ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
[10] یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی بازپرس تم سے نہ کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
انسانی تنگ ظرفی
1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…
Read the full tafseer →(21) ہرگز ایسا نہیں سمجھنا چاہیے جب زمین خوب کوٹ کوٹ کر برابر کردی جائے گی۔ یعنی ہرگز ایسا نہ سمجھو کہ اعمال موجبہ للعذاب نہ ہوگا یا ناجائز مال اڑانے پر کوئی حساب نہیں لیا جائے گا بلکہ ایک ایسا دن آنے والا ہے جس دن سب چیزوں کا حساب ہوگا۔ جب زمین کو خوب کوٹ کوٹ کر برابر کردیا جائے گا … اور تمام ٹیلوں اور پہاڑوں کو ریزہ ریزہ کرکے زمین کو بالکل ہموار کردیا جائے گا۔ لاتری فیھا عوجاولا امتا، یہ حالت نفخہ صور کے وقت ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 4۔ یعنی دوسروں کے حقوق واجبہ نہ خود ادا کرتے ہو اور نہ اوروں کو حقوق واجبہ ادا کرنے کو کہتے ہو اور عملا اس کے تارک اور اعتقادا اس کے منکر ہو، اور ترک واجب کافر کے لئے موجب زیادت تعذیب اور فساد اعتقاد موجب نفس تعذیب ہے۔
Read the full tafseer →ہرگز نہیں جب زمین کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا
21 ؎ (دکت) وہ توڑ دی جائے گی ، وہ ریزہ ریزہ کردی جائے گی د ک سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ( دکا) ریزہ ریزہ کرنا ، ڈھا کر برابر کردینا ، کوٹ کر ہموار کرنا (دک) یدک کا مصدر ہے اصل میں ( دک) نرم اور ہموار زمین کو کہتے ہیں اور چونکہ نرم اور ہموار زمین ریزہ ریزہ ہوتی ہے اس لیے اسی مناسبت سے اس کے مصدر کے معنی مقرر ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دن یقینا آنے والا ہے کہ یہ زمین ریزہ ریزہ کر کے رکھ دی جائے گی اور اس کے نشیب و فراز ختم کردیئے جائیں گے اور اس کو کف دست کی طرح صاف اور ستھرا کردیا جائیگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا (and love wealth, with an excessive love 89:20). The
word jamm means 'excessive'. This verse refers to the fourth evil trait of the unbelievers. They have an insatiable love for wealth. The word 'excessive' indicates that love of wealth in itself, in a sober sense, is a natural instinct of man. That has not been condemned here. What is denounced is the excessive or insatiable love of wealth. After describing the evil traits of the unbelievers, the passage reverts to the main theme that was emphasised in the earlier part of the Surah with five oaths, that…
Read the full tafseer →15 That is, "You are wrong in thinking that you may do whatever you like in your life of the world, but you will never be called to account for it. The meting out of rewards and punishment denying which you have adopted this mode of life, is not anything impossible and fictitious, but it has to come to pass and it will certainly come to pass at the time being mentioned below."
Read the full tafseer →