وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ۟ؕوَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا ؕ
اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And you love wealth with immense love.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا ۟ؕوَّتُحِبُّوۡنَ الۡمَالَ حُبًّا جَمًّا ؕ
اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو
— Fateh Muhammad Jalandhari
And you love wealth with immense love.
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Fajr
اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو
اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو
اور مال کو جی بھر کر عزیز رکھتے ہو
اور مال سے بےحد محبت کرتے ہو۔
اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو
اور تم مال و دولت سے حد درجہ محبت رکھتے ہو،
اور مال سے محبت کرتے ہو، بہت زیادہ محبت کرنا۔
اور مال سے بہت زیادہ محبت کرتے ہو
اور مال کے عشق میں متوالے ہو۔
اور تم لوگ بری طرح جکڑے ہوئے ہو مال دنیا کی محبت میں
اور مال سے بہت ہی زیادہ محبت رکھتے ہو۔
اور تم مال سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہو۔
اور مال کو بہت زیادہ عزیز رکھتے ہو
and love the riches, loving them ardently.
and love wealth, an excessive love.
and love wealth, an excessive love.
And you love wealth with love Jamma.
And love wealth with abounding love.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And you love wealth with immense love.
and why do you have an excessive love of riches?
And you love wealth with exceeding love.
And ye love riches with exceeding love.
And ye love wealth with inordinate love!
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 15–20
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے ایحسبون انما نمدھم الخ یعنی مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں " کلا " کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس پر تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان…
Read the full tafseer →سورة الْفَجْر 14 یعنی جائز و ناجائز اور حلال و حرام کی تمہیں کوئی فکر نہیں۔ جس طریقے سے بھی مال حاصل کیا جاسکتا ہو اسے حاصل کرنے میں تمہیں کوئی تامل نہیں ہوتا۔ اور خواہ کتنا ہی مال مل جائے تمہاری حرص و طمع کی آگ کبھی نہیں بجھتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
چوتھی بڑی خصلت یہ بتلائی وتحبون المال حبا جما، جم کے معنے کثیر کے ہیں مطلب یہ ہے کہ تم مال کی محبت بہت کرتے ہو، بہت کے لفظ سے اسطرف اشارہ ہوگیا کہ مال کی ایک درجہ میں محبت تو انسان کی فطری تقاضا ہے وہ سبب مذمت نہیں بلکہ اس کی محبت میں حد سے بڑھنا اور انہماک کرنا یہ سبب مذمت ہے۔ کفار کی ان بڑی خصلتوں کے بیان کے بعد پھر اصل مضمون کی طرف عود کیا گیا جو شروع سورت میں پانچ قسموں کے ساتھ موکد کیا گیا ہے یعنی آخرت کی جزا وسزا، اس سلسلہ میں اول قیامت کے آنیکا ذکر فرمایا۔ اذا دکت الارض دکا دکا، لفظ دک کے لفظی معنے کسی چیز کو ضرب مار کر توڑنے کے ہیں مراد قیامت کا زلزلہ ہے جو پہاڑوں کو باہم ٹکرا کر ریزہ…
Read the full tafseer →’وَتُحِبُّوۡنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا‘۔ اس گھنونے کردار کی تہہ میں جو چیز چھپی ہوئی ہے یہ اس کا سراغ دیا ہے۔ فرمایا کہ تمہارے اندر ساری قدر و قیمت بس مال کی رہ گئی ہے۔ اس کے علاوہ انسانیت، شرافت، عدل اور رحم کے جتنے اقدار بھی ہیں وہ سب اس کے نیچے دب کر دم توڑ چکے ہیں۔ مال کی محبت تمہارے دلوں پر اس طرح چھا گئی ہے کہ اب کسی اور اعلیٰ قدر کی اس کے اندر راہ پانے کی کوئی گنجائش باقی ہی نہیں رہ گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
19۔ 1 یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے حرام طریقے سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–22
7: اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
وتاکلون ............................ حبا جما (20:89) ” اور میراث کا سرا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو ، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو “۔ یہاں تک کہ ان کی ناپسندیدہ حالات کی تصویر کشی کردی گئی اور امارت اور غربت کے بارے میں ان کے غلط تصور کی تردید کردی گئی۔ اب ان کو قیامت کی حقیقت اور اس کے مرعوب کن حالات اور آزمائش کے نتائج اور جزاء وسزا اور حساب و کتاب کے مناظر کو نہایت ہی زور دار الفاظ میں لایا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →14 یعنی جڑ کی بات یہ ہے کہ تمہارا دل مال کی حرص اور محبت سے بھرا ہوا ہے۔ بس کسی طرح مال ہاتھ آئے اور ایک پیسہ کسی نیک کام میں ہاتھ سے نہ نکلے خواہ آگے چل کر نتیجہ کچھ ہی کیوں نہ ہو۔ مال کی اس قدر محبت اور پرستش کہ آدمی اسی کو کعبہ مقصود ٹھہرا لے، صرف کافر کا شیوہ ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 20{ وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔ } ”اور تم مال سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہو۔“ دنیوی مال و دولت کی محبت تمہارے دلوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ سورتوں کے اس جوڑے یعنی سورة الفجر اور سورة البلد میں نزول قرآن سے قبل کے عرب معاشرے کے تمدن اور رسم و رواج کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ مثلاً طاقتوروں کے میراث کو زبردستی ہڑپ کر جانے ‘ مال و دولت کی غیر معمولی محبت اور اسی محبت کی وجہ سے خدمت خلق کے کاموں سے پہلوتہی کرنے کی مثالیں اس معاشرے میں عام تھیں۔
Read the full tafseer →13 یعنی کسی کی عزت و ذلت کو ماپنے والی تمہاری قدر ہی سراسرا غلط ہے۔ عزت و ذلت کا اصل معیار پیسہ اور مال و دولت نہیں بلکہ اس کا اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار ہوتا ہے۔ مگر تمہارا یہ حال ہے کہ مال و دولت کو ہی اپنا معبود سمجھے بیٹھے ہو اور اسی پر مر مٹتے ہو۔ یتیموں اور بیواؤں کی عزت کرنا تو درکنار ان کے پاس اگر کوئی چیز موجود ہو تو اسے بھی اڑا لینے کی کوشش کرتے ہو۔ تمہاری پیسہ سے محبت اور بخل کا یہ حال ہے کہ کسی مسکین کی احتیاج دور کرنے کے لیے اسے کچھ دینا یا کھانا کھلانا تو درکنار دوسروں کو ترغیب بھی نہیں دیتے۔ میت کی وراثت سے بیوہ کو لڑکیوں کو اور بچوں سب کو محروم کردیتے ہو۔ اور جس کا زور چلتا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
11۔ (اور حب مال کے اسی غلو سے مغلوب ہوکرخالق و مخلوق کے حقوق اور شریعت کے قائم کئے ہوئے حدود، سب بھول جاتے ہو) (آیت) ” لا تکرمون الیتیم “۔ یتیم بیچارہ تو اس کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کا اعزاز واکرام کیا جائے، تم الٹا اسے حقیر و ذلیل سمجھتے ہو، اس کے حقوق غصب کرتے ہو، اس کا مال تک کھاجاتے ہو، (آیت) ” ولا ..... المسکین “۔ مفلسوں کے حقوق تو شریعت الہی نے یہ قائم کردیئے ہیں کہ انہیں خود کھلاو اور دوسروں کو ان کے کھلانے پلانے پر آمادہ کرتے رہو، تم خود تو کیا کھلاتے پلاتے، دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتے (آیت) ” وتاکلون .... لما “۔ یعنی دوسروں کے حقوق تلف وغصب کرلینے میں کیسے دلیر وبیباک ہو۔ (آیت)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →و تحبون المال حبا جما . اور بڑی حرص و خواہش کے ساتھ مال سے بہت محبت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(2017) ہرگز ایسا نہیں، نہ میں مال و دولت سے قدر بڑھاتا ہوں اور نہ ان چیزوں کی کمی سے گھٹاتا ہوں، میں تو معرفت و توفیق سے قدر بڑھاتا ہوں اور انکار و ذلت سے گھٹاتا ہوں بلکہ تمہارے زیر پرورش جو یتیم ہیں تم ان کی کچھ قدر اور خاطر نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے پر آمادہ نہیں کرتے تم میراث کا سارا مال کھا جاتے ہو اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
(فاما الانسان اذا ماا بتلہ…:) قیامت کے منکرین کے نزدیک چونکہ سبھی کچھ دنیا ہے اس لئے ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں جو آسودہ حال ہے اللہ تعالیٰ اس سے رضای ہے اور جو تنگ حال ہے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ فرمایا یہ بات ہرگز درست نہیں، فرعون اور دوسرے لوگوں کے واقعات ابھی تم نے سنے، ان کی خوشحالی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کوی اد کرو تو سمجھ لو گے کہ دنیا کی آسودہ حلای یا بدحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کافر خوش حالی میں سرکشی اور تنگی میں شکوہ و ناشکری کر کے ناکام ہو اتے ہیں اور مومن نعمت پر شکر کے ساتھ اور مصیبت میں صبر کیساتھ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تمہارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خوش…
Read the full tafseer →وتحبون المال حباجما۔ جما سے مراد ہے کثیر، یعنی حلال و حرام، جم کا معنی ہے کثیر جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے، جم الشئی یجم جموما فھو جم، جام۔ اس معنی میں جم الماء فی الحوض ہے، جب پانی جمع ہوجائے اور کثیر ہوجائے شاعر نے کہا : ان تغفراللھم تغفر جما، وای عبدلک لا الما۔ اے اللہ اگر بخشنا ہے تو سب کو بخش دے اور تیرا کون سابندہ ہے جس نے غلطی نہ کی ہو۔ جمہ ایسی جگہ کو کہتے ہیں جس میں پانی جمع ہوجاتا ہے، جموم ایسے کنویں کو کہتے ہیں جہاں بہت زیادہ پانی جمع ہو، جموم مصدر ہے یوں باب ذکر کیا جاتا ہے جم الماء یجم جموما، جب وہ کنویں میں بہت زیادہ ہوجاتے جبکہ اسمیں جو کچھ پانی تھا نکال لیا گیا تھا۔
Read the full tafseer →مال بےوفا ساتھی ہے 25۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وتحبون المال حبا جما کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کو اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ اپنے وارث کے مال سے آپ نے فرمایا تیرے لیے کوئی مال نہیں سوائے اس کے جو تو نے کھالیا اور ختم کردیا یا تو نے پہن لیا اور بوسیدہ کردیا یا کسی کو دے دیا اور اسے ختم کردیا۔
Read the full tafseer →[وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ : اور تم لوگ محبت کرتے ہو مال سے ][ حُبًّا : جیسا محبت کرنے کا حق ہے ][ جَمًّا : کثرت سے جمع کرتے ہوئے ] ج م م [جَمُوْمًا : (ن۔ ض) کسی چیز کا کثرت سے جمع ہونا۔ (لازم)] [جَمًّا : کسی چیز کو کثرت سے جمع کرنا۔ (متعدی) ، زیر مطالعہ آیت۔ 20 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
﴿ وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ0019﴾ (اور تم میراث کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو) ۔ جب کوئی مرنے والا مرجاتا ہے تو مال کی محبت کی وجہ سے دوسروں کے حصوں کا مال بھی کھا جاتے ہو چھوٹے بچے جو یتیم ہوتے ہیں اور مرنے والوں کی بیویاں جو بیوہ ہوجاتی ہیں اور جو وارث غائب ہوتے ہیں ان سب کا مال جس کے ہاتھ لگ جاتا ہے لے اڑتا ہے اور اصحاب حقوق کو نہیں دیتا۔ ﴿ وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ0020﴾ (اور تم مال سے بہت محبت رکھتے ہو) اس آخری جملہ میں جب مال کی مذمت فرما دی، جتنے طریقوں سے بھی مال حاصل کیا جاتا ہے ان سب طریقوں میں لگ کر جو لوگ مال کے کمانے میں منہمک ہوجاتے ہیں اور آخرت کو بھول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
9:۔ ” کلا بل لا تکرمون “۔ کلا ردعیہ ہے۔ یہ انسان کے مذکورہ بالا رویہ پر شکوی ہے علی سبیل الترقی۔ دنیا دار لوگو ! تم ہر وقت دنیا میں اپنی ہی عزت و ذلت کی فکر میں مست رہتے ہو۔ مگر یتیموں کا خیال نہیں کرتے ہو اور نہ ان کا اکرام کرتے ہو مراد یہ ہے کہ ان کا حق نہیں ادا کرتے ہو۔ ” ولا تحاضون علی طعام المسکین “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یتیموں کا اکرام تو ایک طرف رہا تم تو مسکینوں کو کھانا بھی نہیں کھلاتے ہو۔ اور نہ ایک دوسرے کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب ہی دیتے ہو۔ لا تحاضون اصل میں لا تتحاضون تھا۔ ایک تاء بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے۔ ” وتاکلون التراث اکلا لما “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی کہ دنیا میں تکبر کرنے والوں کو آخرت میں ضرور سزا ملے گی۔ پھر مثال کے طور پر عاد ، ثمود اور فرعون کا ذکر فرمایا ” کیف فعل ربک بعاد “ یہ تمام لوگ وہ تھے جنہوں نے شہروں میں سرکشی اختیار کی ، فساد برپا کیا ، تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ کیونکہ تیرا پروردگار نگرانی کر رہا ہے ۔ وہ گھات میں ہے اور دیکھ رہا ہے۔ یہ لوگ خود بادشاہ تھے یا بادشاہ پرست تھے۔ انسانوں کی چار قسمیں کل چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن میں سے تین قسم کے لوگ ناکام ہوتے ہیں اور چوتھا گروہ کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر صرف دو…
Read the full tafseer →وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا 20 ۭ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
کَلاَّ بَلْ لاَّتُـکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ۔ وَلاَ تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلاً لَّمًّا۔ وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔ (الفجر : 17 تا 20) (ہرگز نہیں ! بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے۔ اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو اکساتے ہو۔ اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر ہڑپ کر جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔ ) فکری کجی کا ازالہ کَلاَّ … ہرگز نہیں۔ یہ دراصل کفار کے ان خیالات کی تردید ہے جس کا ذکر سابقہ دو آیتوں میں گزرا۔ وہ مال و دولت کو عزت اور ذلت کا معیار سمجھتے تھے۔ انھیں کسی کے سیرت و کردار سے کوئی غرض نہ تھی۔ جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
فہم القرآن ربط کلام : عاد، ثمود اور فرعون ہی نہیں ” رب ذوالجلال “ جب چاہے کسی باغی انسان کو پکڑ لے اور اسے آزمائش میں مبتلا کردے کیونکہ ہر وقت انسان اپنے رب کی نگرانی میں ہے۔ انسان کی عادت ہے کہ جب اسے اس کا رب مال اور تکریم عطا کرتا ہے تو وہ سوچتا اور کہتا ہے کہ مجھے میرے رب نے عزت عطا فرمائی ہے ا ورجب اس کا رب اسے رزق کی تنگی کے ساتھ آزماتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا ہے حالانکہ اکثر مال داروں کی حالت یہ ہے کہ وہ یتیم کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور مسکینوں کو نہ کھانا کھلاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں بلکہ یتیموں اور مسکینوں کا مال ہڑپ کرجاتے ہیں اور مال کے ساتھ…
Read the full tafseer →20 : وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا (اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو) عرب کے لوگ حبہ، احبہ، ایک ہی معنی میں استعمال کرتے ہیں۔ حباجمًا بہت زیادہ کہ جس کے ساتھ حرص اور حقوق کی ڈاکہ زنی بھی شامل ہو۔ قراءت : رَبِّیَ ، حجازی اور ابو عمرو نے پڑھا ہے۔ اور بصری نے یکرمون، ولا یحضّون و یاکلون ویحبون پڑھا ہے۔
Read the full tafseer →20 ۔” وتحبون المال حبا جما “ یعنی بہت زیادہ یعنی وہ مال کے جمع کرنے کو پسند کرتے ہیں اور اس پر حریص ہیں۔ کہا جاتا ہے ” جم الماء فی الحوض “ جب پانی حوض میں بہت زیادہ جمع ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
15۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں قریش کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے عاد وثمود فرعون کی ہلاکت کا قصہ ان کے راہ راست پر آنے کے لئے ذکر فرمایا تھا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کو قیامت کا انکار ہے اس لئے عقبیٰ کی بھلائی برائی کو تو یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں فقط دنیا کی زیست پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بات یوں نہیں جیسے ان خیال ہے یہ اس لئے فرمایا کہ ابھی فرعون کا قصہ جو ان کو…
Read the full tafseer →(وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا) یعنی تم مال سے سخت محبت کرتے ہو اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے (بل توثرون الحیوۃ الدنیا، والاخرۃ خیر وابقی۔ الاعلی۔ 16، 17) بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، حالانکہ آخرت کی زندگی بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے (کلا بل تحبون العاجلۃ، وتذرون الاخرۃ۔ القیامہ۔ 20، 21) ہرگز نہیں بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو ترک کیے دیتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(22) بیماری کی اصل جڑ کی نشاندہی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایسے ظالم اور اس گھناؤنے کردار کے اصل باعث اور سبب اور بیماری کی جڑ کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تم جکڑے ہوئے ہو مال دنیا کی محبت میں "۔ اور یہی جڑ بنیاد ہے ہر فتنے و فساد اور خرابی کی، کہ اس کے بعد انسان حلال و حرام کی حدود وقیود کی پر او کیے بغیر دنیا کے پیچھے لگ جاتا ہے، اسی دنیاوی مال و دولت ہی کی رہ گئی اور بس، اور مال کی محبت تمہارے دلوں پر اس طرح چھا گئی کہ تم لوگ اس کے علاوہ انسانیت و شرافت، عدل و انصاف اور رحم و کرم جیسے تمام اہم اور بنیادی مکارم کو بھول گئے ہو، اور صرف بطن و فرج کی خواہشات کے بندے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی تمہارا نقطہ نظر خالص مادی ہے اور اخلاقیات کی تمہاری نظر میں کوئی قیمت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →(89:20) وتحبون المال حبا جما۔ اس کا عطف بھی جملہ مذکورہ بالا پر ہے۔ حبا۔ مفعول مطلق۔ فعل کی تاکید میں لایا گیا ہے۔ موصوف۔ جما اس کی صفت بیحد۔ بہت جی بھر کر۔ مصدر ہے۔ ہر شے کی کثرت اور زیادتی کے لئے آتا ہے۔ اور تم دولت سے بیحد محبت کرتے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کو فقط دنیا کی زندگی پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے، بس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت ذلت کا معیار سمجھتے ہیں نہیں جانتے کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے، نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر ورضا کو جانچا جارہا ہے نہ یہاں کا عارضی عیش و آرام اللہ کے ہاں مقبول معزز ہونے کی دلیل ہے نہ محض تنگی اور سختی ذلیل ہونے کی علامت ہے مگر انسان اپنے افعال و اعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
[9] یعنی یہ عزت و ذلت کا معیار ہرگز نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…
Read the full tafseer →(20) اور تم لو گ مال سے بہت ہی محبت کرتے ہو - میراث جو ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کی شریعت میں چلی آتی تھی اس میں تم نے تحریف کردی ہے لڑکیوں کو ترکے سے محروم کردیا ہے اور لڑکوں کو بھی کچھ نہیں دیتے ہو۔ اس طرح مرنے والے کے مال کو ہڑپ کرجاتے ہو اور تم مال کو اس قدر دوست رکھتے ہو کہ نہ حرام کو دیکھتے ہو نہ حلال کو بلکہ ہر قسم کا مال جمع کرنے سے مطلب رکھتے ہو پھر نہ یتیم کو کھلاتے ہو نہ مسکین کو تم نے مال کو منتہائے مقصود سمجھ رکھا ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ تم مال سے بہت ہی محبت کرتے ہو یہاں تک کہ مردوں کا مال بھی کھاجاتے ہو، اور میراث بھی مستحقین کو نہیں پہنچاتے بلکہ جس کا موقع لگتا ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 4۔ یعنی دوسروں کے حقوق واجبہ نہ خود ادا کرتے ہو اور نہ اوروں کو حقوق واجبہ ادا کرنے کو کہتے ہو اور عملا اس کے تارک اور اعتقادا اس کے منکر ہو، اور ترک واجب کافر کے لئے موجب زیادت تعذیب اور فساد اعتقاد موجب نفس تعذیب ہے۔
Read the full tafseer →اور تم مال سے بہت زیادہ محبت کرنے والے ہو 20 ؎ دولت کے جمع کرنے سے تم کو اتنی محبت ہے کہ تمہاری حرص ہے کہ وہ ختم ہونے ہی کو نہیں آتی ۔ تم چاہتے ہو کہ جتنا مال ہے یہ ہمارے پاس جمع ہوجائے گویا مال گن گن کر رکھنے کی تم کو عادت پڑی ہے کہ تم پہلے رکھی ہوئی دولت میں جب حرام و حلال اکٹھا کر کے رکھنا چاہتے ہو تو پہلی کو بھی اس کے ساتھ ملا کر شمار کرنا شروع کردیتے ہو اور اس دولت کا تم کو اتنا نشہ ہے کہ صرف گن گن کر رکھنے اور اس کو زیادہ سے زیادہ بنانے کے چکر میں نہ تو خود استعمال کرتے ہو اور نہ ہی کسی دوسرے کو استعمال کرتے دیکھنا چاہتے ہو ۔ تمہاری زندگی گزر جاتی ہے کہ گرمیاں سردیوں میں کپڑے استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا (and love wealth, with an excessive love 89:20). The word jamm means 'excessive'. This verse refers to the fourth evil trait of the unbelievers. They have an insatiable love for wealth. The word 'excessive' indicates that love of wealth in itself, in a sober sense, is a natural instinct of man. That has not been condemned here. What is denounced is the excessive or insatiable love of wealth. After describing the evil traits of the unbelievers, the passage reverts to the main theme that was emphasised in the earlier part of the Surah with five oaths, that…
Read the full tafseer →14 That is, "You have no regard for the permissible or the forbidden, the lawful or the unlawful. You feel no qualms about acquiring wealth in any way or by any means, fair or foul, and your greed is never satisfied however much you may have acquired and amassed. "
Read the full tafseer →