Al-Fajr 89:19

Al-Fajr · from ayah 19

89:19

وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا ۟ۙوَتَاۡكُلُوۡنَ التُّرَاثَ اَكۡلًا لَّـمًّا ۙ‏

اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you consume inheritance, devouring [it] altogether,

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:19

اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میراث کے مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور (مردوں کی) میراث سمیٹ سمیٹ کر کھاتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میراث کا مال سمیٹ سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وراثت کا سارا مال سمیٹ کر (خود ہی) کھا جاتے ہو (اس میں سے افلاس زدہ لوگوں کا حق نہیں نکالتے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تم میراث کھا جاتے ہو، سب سمیٹ کے کھا جانا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وراثت کو سمیٹ کر ہڑپ کرتے ہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم میراث (کا مال) کھاتے ہو سمیٹ سمیٹ کر

— مولانا اسحاق مدنی

اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم ساری کی ساری میراث سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میراث کے مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

and greedily devour the entire inheritance,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And you devour the inheritance with a sweeping gulp,

— Muhammad Taqi Usmani

And you devour the inheritance with a sweeping gulp,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And you devour the Turath -- devouring with greed.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And ye devour heritages with devouring greed.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you consume inheritance, devouring [it] altogether,

— Saheeh International

Why do you take away the inheritance of others indiscriminately

— Muhammad Sarwar

And you eat away the heritage, devouring (everything) indiscriminately,

— Muhammad Habib Shakir

And devour the inheritance devouring greedily,

— Abdul Majid Daryabadi

And ye devour inheritance - all with greed,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 89:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے ایحسبون انما نمدھم الخ یعنی مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں " کلا " کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس پر تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَجْر 13 عرب میں عورتوں اور بچوں کو تو میراث سے ویسے ہی محروم رکھا جاتا تھا اور لوگوں کا نظریہ اس باب میں یہ تھا کہ میراث کا حق صرف ان مردوں کو پہنچتا ہے جو لڑنے اور کنبے کی حفاظت کرنے کے قابل ہوں۔ اس کے علاوہ مرنے والے کے وارثوں میں جو زیادہ طاقتور اور با اثر ہوتا تھا وہ بلا تامل ساری میراث سمیٹ لیتا تھا اور ان سب لوگوں کا حصہ مار کھاتا تھا جو اپنا حصہ حاصل کرنے کا بل بوتا نہ رکھتے ہوں۔ حق اور فرض کی کوئی اہمیت ان کی نگاہ میں نہ تھی کہ ایمانداری کے ساتھ اپنا فرض سمجھ کر حق دار کو اس کا حق دیں خواہ وہ اسے حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری بری خصلت یہ بیان فرمائی وتاکلون التراث اکلا لما، لم کے معنے جمع کرنیکے ہیں، مطلب یہ ہے کہ تم میراث کا مال حلال و حرام سب کو جمع کرکے کھا جاتے ہو اپنے حصے کے ساتھ دوسوں کا حصہ بھی غصب کرلیتے ہو۔ یہاں خصوصیت سے میراث کے مال کا ذکر کیا گیا حالانکہ ہر ایک مال جس میں حلال و حرام کو جمع کیا گیا ہونا جائز ہی ہے۔ وجہ خصوصیت کی شاید یہ ہو کہ میراث کے مال پر زیادہ نظر رکھنا اور اسکے درپے ہونا بڑی کم ہمتی اور کم حوصلہ ہونے کی دلیل ہے کہ مردار خور جانوروں کی طرح تکئے رہیں کہ کب ہمارا مورث مرے اور کب ہمیں یہ مال تقسیم کرنے کا موقع ہاتھ آئے۔ اولو العزم اور باہمت لوگ اپنی کمائی پر خوش ہوتے ہیں۔ مردوں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

عرب جاہلیت میں زور آور عصبات کا کردار: ’وَتَأْکُلُوۡنَ التُّرَاثَ أَکْلاً لَّمًّا‘۔ ’لَمٌّ‘ کے معنی جمع کرنے اور سمیٹنے کے ہیں اور ’تَأْکُلُوۡنَ‘ یہاں ہڑپ کر جانے کے معنی میں ہے۔ یعنی مال کی محبت میں تم اس قدر اندھے ہو گئے ہو کہ تمہارے اندر جو زور آور عصبات ہیں ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مورث کی چھوڑی ہوئی املاک و جائداد سب سمیٹ کر وہ تنہا ہڑپ کر جائیں، دوسرے کمزور وارثوں، یہاں تک کہ مورث کے یتیم بیٹوں بیٹیوں کو بھی اس میں سے حصہ نہ ملے۔ عرب جاہلیت میں بھی اگرچہ تقسیم وراثت کا ایک ضابطہ تھا لیکن جس طرح اس زمانے میں اسلام کے نہایت واضح ضابطہ کے باوجود زور و اثر رکھنے والے افراد دھاندلی سے باز…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 19–21

19۔ 1 یعنی جس طریقے سے بھی حاصل ہو، حلال طریقے سے حرام طریقے سے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–22

7: اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 19–20

وتاکلون ............................ حبا جما (20:89) ” اور میراث کا سرا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو ، اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو “۔ یہاں تک کہ ان کی ناپسندیدہ حالات کی تصویر کشی کردی گئی اور امارت اور غربت کے بارے میں ان کے غلط تصور کی تردید کردی گئی۔ اب ان کو قیامت کی حقیقت اور اس کے مرعوب کن حالات اور آزمائش کے نتائج اور جزاء وسزا اور حساب و کتاب کے مناظر کو نہایت ہی زور دار الفاظ میں لایا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

13 یعنی مردے کی میراث لینے میں حلال حرام اور حق ناحق کی کچھ تمیز نہیں، جو قابو چڑھا ہضم کیا، یتیموں اور مسکینوں کے حقوق تلف ہوں، ہونے دو ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19{ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا۔ } ”اور تم ساری کی ساری میراث سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔“ اس آیت میں انسانوں کے بنائے ہوئے غیر متوازن اور ظالمانہ قوانین وراثت کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس سے یہ بھی مراد ہے کہ تم میں سے جو طاقتور ہے وہ مختلف حیلوں بہانوں سے تمام وراثت پر قبضہ کرلینا چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ قرآن مجید نے دنیا کو مفصل ‘ جامع اور متوازن قوانین وراثت عطا کیے ہیں - اسلام سے قبل عرب معاشرے میں باپ کی پوری وراثت بڑے بیٹے کو منتقل ہوجاتی تھی اور چھوٹے تمام بہن بھائیوں کو اس میں سے کچھ بھی نہیں ملتا تھا۔ دنیا کے بعض ممالک میں ایسے ظالمانہ قوانین آج بھی نافذ العمل ہیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–19

12 رزق کی کمی بیشی دونوں میں انسان کی آزمائش :۔ اللہ تعالیٰ انسان کی دونوں طرح سے آزمائش کرتا ہے۔ نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی سے بھی کہ آیا انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے ؟ اور رزق کی تنگی سے بھی کہ آیا انسان ایسے اوقات میں صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی و مطمئن رہتا ہے ؟ مگر مال و دولت کے معاملہ میں انسان کی قدریں ہی عجیب اور غلط قسم کی ہیں۔ جب اس پر انعامات کی بارش ہو رہی ہوتی ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میں آزمائش میں پڑا ہوا ہوں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ آج کل مجھ پر بڑا مہربان ہے اور جب تنگی کا دور آتا ہے۔ اس وقت بھی وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میری آزمائش کی جارہی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–20

11۔ (اور حب مال کے اسی غلو سے مغلوب ہوکرخالق و مخلوق کے حقوق اور شریعت کے قائم کئے ہوئے حدود، سب بھول جاتے ہو) (آیت) ” لا تکرمون الیتیم “۔ یتیم بیچارہ تو اس کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کا اعزاز واکرام کیا جائے، تم الٹا اسے حقیر و ذلیل سمجھتے ہو، اس کے حقوق غصب کرتے ہو، اس کا مال تک کھاجاتے ہو، (آیت) ” ولا ..... المسکین “۔ مفلسوں کے حقوق تو شریعت الہی نے یہ قائم کردیئے ہیں کہ انہیں خود کھلاو اور دوسروں کو ان کے کھلانے پلانے پر آمادہ کرتے رہو، تم خود تو کیا کھلاتے پلاتے، دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتے (آیت) ” وتاکلون .... لما “۔ یعنی دوسروں کے حقوق تلف وغصب کرلینے میں کیسے دلیر وبیباک ہو۔ (آیت)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و تاکلون التراث اکلا لما . اور میراث کو سب سمیٹ کر کھا جاتے ہو۔ حلال ہو یا حرام۔ وہ لوگ اپنے میراثی حصے کے ساتھ کمزور عورتوں اور بچوں کے بھی میراثی حصے کھا جاتے تھے۔ ابن زید نے کہا : اکل لم کا یہ معنی ہے کہ جو کچھ ہاتھ لگے کھاجائے ‘ حلال و حرام کا امتیاز نہ کرے۔ یہ بھی کلاً لَّمًّا کی تشریح آئی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مورث نے حلال اور حرام ہر طریقے سے مال جمع کیا تھا۔ جب وہی مال ان کی میراث میں آتا ہے تو سب کھا جاتے ہیں

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(2017) ہرگز ایسا نہیں، نہ میں مال و دولت سے قدر بڑھاتا ہوں اور نہ ان چیزوں کی کمی سے گھٹاتا ہوں، میں تو معرفت و توفیق سے قدر بڑھاتا ہوں اور انکار و ذلت سے گھٹاتا ہوں بلکہ تمہارے زیر پرورش جو یتیم ہیں تم ان کی کچھ قدر اور خاطر نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے پر آمادہ نہیں کرتے تم میراث کا سارا مال کھا جاتے ہو اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–20

(فاما الانسان اذا ماا بتلہ…:) قیامت کے منکرین کے نزدیک چونکہ سبھی کچھ دنیا ہے اس لئے ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں جو آسودہ حال ہے اللہ تعالیٰ اس سے رضای ہے اور جو تنگ حال ہے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ فرمایا یہ بات ہرگز درست نہیں، فرعون اور دوسرے لوگوں کے واقعات ابھی تم نے سنے، ان کی خوشحالی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کوی اد کرو تو سمجھ لو گے کہ دنیا کی آسودہ حلای یا بدحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کافر خوش حالی میں سرکشی اور تنگی میں شکوہ و ناشکری کر کے ناکام ہو اتے ہیں اور مومن نعمت پر شکر کے ساتھ اور مصیبت میں صبر کیساتھ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تمہارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خوش…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وتاکلون التراث اکلالما۔ تراث سے مراد یتیموں کی میراث ہے اس کی اصل وارث ہے یہ وراثت سے مشتق ہے جس طرح تجاہ، تخمہ، تکاہ، اور تودہ ہے، یہ بحث پہلے گزرچکی ہے لما کا معنی ہے شدیدا، یہ سدی کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے لما کا معنی ہے سب کا سب، یہ عربوں کے اس قول سے لیا گیا ہے، لممت الطعام، جب تو سب کا سب کھاجائے یہ حضرت حسن بصری اور ابوعبیدہ کا نقطہ نظر ہے کلام عرب میں لم کا معنی جمع کرنا ہے، یہ جملہ بوجالاتا ہے، لممت الشئی المتہ لما، جب تو اسے جمع کرے اس معنی میں کہا جاتا ہے لم اللہ شعثہ، اس کے جو امور متفرق تھے ان کو جمع کرلیا نابغہ نے کہا، ولست بمستحق اخا لاتلمہ، علی شعث ای الرجلا المھذب۔ تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

14۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت وتاکلون التراث اور تم میراث کو کھاجاتے ہو یعنی میراث اکلا لما سب سمیٹ کر یعنی اپنا حصہ بھی اور دوسرے شریک کا حصہ بھی۔ 15۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت اکلا لما پھانکنا یعنی چٹ کر جانا اور فرمایا آیت حبا جما بہت زیادہ محبت یعنی شدید محبت 16۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اکلا لما یعنی چٹ کر جانا۔ 17۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت حبا جما کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس کا معنی ہے بہت زیادہ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ : اور تم لوگ کھاتے ہو میت کا مال ][ اَكْلًا : جیسے کھاتے ہیں ] لَّمًّا : سمیٹتے ہوئے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 19–20

﴿ وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ0019﴾ (اور تم میراث کو سمیٹ کر کھا جاتے ہو) ۔ جب کوئی مرنے والا مرجاتا ہے تو مال کی محبت کی وجہ سے دوسروں کے حصوں کا مال بھی کھا جاتے ہو چھوٹے بچے جو یتیم ہوتے ہیں اور مرنے والوں کی بیویاں جو بیوہ ہوجاتی ہیں اور جو وارث غائب ہوتے ہیں ان سب کا مال جس کے ہاتھ لگ جاتا ہے لے اڑتا ہے اور اصحاب حقوق کو نہیں دیتا۔ ﴿ وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ0020﴾ (اور تم مال سے بہت محبت رکھتے ہو) اس آخری جملہ میں جب مال کی مذمت فرما دی، جتنے طریقوں سے بھی مال حاصل کیا جاتا ہے ان سب طریقوں میں لگ کر جو لوگ مال کے کمانے میں منہمک ہوجاتے ہیں اور آخرت کو بھول…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

9:۔ ” کلا بل لا تکرمون “۔ کلا ردعیہ ہے۔ یہ انسان کے مذکورہ بالا رویہ پر شکوی ہے علی سبیل الترقی۔ دنیا دار لوگو ! تم ہر وقت دنیا میں اپنی ہی عزت و ذلت کی فکر میں مست رہتے ہو۔ مگر یتیموں کا خیال نہیں کرتے ہو اور نہ ان کا اکرام کرتے ہو مراد یہ ہے کہ ان کا حق نہیں ادا کرتے ہو۔ ” ولا تحاضون علی طعام المسکین “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یتیموں کا اکرام تو ایک طرف رہا تم تو مسکینوں کو کھانا بھی نہیں کھلاتے ہو۔ اور نہ ایک دوسرے کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب ہی دیتے ہو۔ لا تحاضون اصل میں لا تتحاضون تھا۔ ایک تاء بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے۔ ” وتاکلون التراث اکلا لما “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی کہ دنیا میں تکبر کرنے والوں کو آخرت میں ضرور سزا ملے گی۔ پھر مثال کے طور پر عاد ، ثمود اور فرعون کا ذکر فرمایا ” کیف فعل ربک بعاد “ یہ تمام لوگ وہ تھے جنہوں نے شہروں میں سرکشی اختیار کی ، فساد برپا کیا ، تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ کیونکہ تیرا پروردگار نگرانی کر رہا ہے ۔ وہ گھات میں ہے اور دیکھ رہا ہے۔ یہ لوگ خود بادشاہ تھے یا بادشاہ پرست تھے۔ انسانوں کی چار قسمیں کل چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن میں سے تین قسم کے لوگ ناکام ہوتے ہیں اور چوتھا گروہ کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر صرف دو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا۝ 19 ۙ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ ورث الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–20

کَلاَّ بَلْ لاَّتُـکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ۔ وَلاَ تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلاً لَّمًّا۔ وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔ (الفجر : 17 تا 20) (ہرگز نہیں ! بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے۔ اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو اکساتے ہو۔ اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر ہڑپ کر جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔ ) فکری کجی کا ازالہ کَلاَّ … ہرگز نہیں۔ یہ دراصل کفار کے ان خیالات کی تردید ہے جس کا ذکر سابقہ دو آیتوں میں گزرا۔ وہ مال و دولت کو عزت اور ذلت کا معیار سمجھتے تھے۔ انھیں کسی کے سیرت و کردار سے کوئی غرض نہ تھی۔ جس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–20

فہم القرآن ربط کلام : عاد، ثمود اور فرعون ہی نہیں ” رب ذوالجلال “ جب چاہے کسی باغی انسان کو پکڑ لے اور اسے آزمائش میں مبتلا کردے کیونکہ ہر وقت انسان اپنے رب کی نگرانی میں ہے۔ انسان کی عادت ہے کہ جب اسے اس کا رب مال اور تکریم عطا کرتا ہے تو وہ سوچتا اور کہتا ہے کہ مجھے میرے رب نے عزت عطا فرمائی ہے ا ورجب اس کا رب اسے رزق کی تنگی کے ساتھ آزماتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا ہے حالانکہ اکثر مال داروں کی حالت یہ ہے کہ وہ یتیم کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور مسکینوں کو نہ کھانا کھلاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں بلکہ یتیموں اور مسکینوں کا مال ہڑپ کرجاتے ہیں اور مال کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19 : وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًالَّمًّا (اور میراث کا مال سارا سمیٹ کر کھا جاتے ہو) التراثؔ میراث کو کہتے ہیں۔ اکـلًا لمًّا اے ذالم۔ حلال و حرام کے جمع کرنے کو کہتے ہیں۔ اہل عرب عورتوں اور بچوں کو وارث نہ بناتے تھے۔ اور ان کا حصہ میراث اپنے حصہ میراث کے ساتھ ملاکرکھا جاتے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19 ۔” وتاکلون التراث “ یعنی میراث۔ ” اکلالما “ سخت اپنا اور اپنے غیر کا حصہ کھاجاتے ہو کیونکہ وہ لوگ عورتوں اور بچوں کو وراثت نہ دیتے تھے اور ان کا حصہ کھا جاتے تھے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں ” الا کل اللم “ ایسا جو ہر چیز کھاجائے جو پائے اس کے بارے میں پوچھے نہ کہ کیا حلال ہے یا حرام ؟ اور جو اس کے لئے اور اس کے غیر کے لئے ہے وہ کھاجائے۔ کہا جاتا ہے ” لممت علی الخوان “ جب تو آے جو اس پر ہے پھر اس کو کھاجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–20

15۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں قریش کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے عاد وثمود فرعون کی ہلاکت کا قصہ ان کے راہ راست پر آنے کے لئے ذکر فرمایا تھا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کو قیامت کا انکار ہے اس لئے عقبیٰ کی بھلائی برائی کو تو یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں فقط دنیا کی زیست پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بات یوں نہیں جیسے ان خیال ہے یہ اس لئے فرمایا کہ ابھی فرعون کا قصہ جو ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–19

(وَلَا تَحٰۗـضُّوْنَ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ ) یعنی تم حاجت مندوں، فقرا اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کی ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا کے مال و دولت پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمہارے دلوں میں سما گئی ہے اس لیے فرمایا (وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ ) اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔ یعنی چھوڑا ہوا مال۔ (اَكْلًا لَّمًّا) سمیٹ کر۔ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(21) ایک معاشرتی ظلم کی نشاندہی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور مکارم اخلاق کے برعکس مساوی یعنی برے اخلاق کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور ایک معاشرتی ظلم و زیادتی کی نشاندہی کے طور پر مادہ پرستانہ ذہنیت رکھنے والے ایسے لوگوں سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا " اور تم لوگ میراث کا مال کھاتے ہو سمیٹ سمیٹ کر " اور اس سلسلے میں تم لوگوں کو حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی پرواہ تک نہیں ہوتی، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تم لوگ دنیاوی مال و دولت کی محبت میں ایسے اندھے اور اس قدر اوندھے ہوگئے کہ تم لوگ یتیموں کی مدد اور ان کا اکرام کرنے کی بجائے الٹا انکا مال میراث کو خود ہڑپ کر جاتے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 18–19

ف 3 یعنی اس کے ترکہ میں سے یتیموں کا حصہ بھی اڑا لیتے ہو اور عورتوں کا حصہ بھی ادا نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:19) التراث۔ میراث، مردے کا مال۔ اصل میں وراث تھا۔ واؤ کو ت سے بدل لیا گیا ہے۔ اکلا مفعول مطلق تاکید کے لئے لایا گیا ہے یہ موصوف ہے اور لما اس کی صفت ہے اور میراث کا سارا مال چٹم کر جاتے ہو۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں :۔ وکان اہل الشرک لا یورثون النساء ولا الصبیان بل یاکلون میراثہم مع میراثھم۔ یعنی مشرکین بچوں اور عورتوں کو ورثہ میں سے کچھ نہ دیتے تھے بلکہ ان کے حصے کو بھی اپنے حصہ کے ساتھ ملا کر ہڑپ کر جاتے تھے۔ لما۔ جمعا۔ اصل اللمم فی کلام العرب الجمع ۔ یقال لممت الشیء المہ لما اذا جمعتہ۔ ترجمہ : لما کا معنی ہے جمع کرنا۔ کلام عرب میں لمم کا مادہ اسی مفہوم پر دلالت کرتا ہے ۔ جب تو کسی چیز کو…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–20

(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کو فقط دنیا کی زندگی پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے، بس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت ذلت کا معیار سمجھتے ہیں نہیں جانتے کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے، نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر ورضا کو جانچا جارہا ہے نہ یہاں کا عارضی عیش و آرام اللہ کے ہاں مقبول معزز ہونے کی دلیل ہے نہ محض تنگی اور سختی ذلیل ہونے کی علامت ہے مگر انسان اپنے افعال و اعمال…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–29

انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–21

ف 4۔ یعنی دوسروں کے حقوق واجبہ نہ خود ادا کرتے ہو اور نہ اوروں کو حقوق واجبہ ادا کرنے کو کہتے ہو اور عملا اس کے تارک اور اعتقادا اس کے منکر ہو، اور ترک واجب کافر کے لئے موجب زیادت تعذیب اور فساد اعتقاد موجب نفس تعذیب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور تم میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو 19 ؎ مال کی محبت تمہارے دلوں میں اس طرح گھر کرگئی ہے کہ تم حلال و حرام کی تمیز بھی نہیں کرتے اور حق و ناحق بھی نہیں دیکھتے جس طرح بن پڑے بس اس کو ہڑپ کرنے کی کوشش کرتے ہو اور دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے میں مصروف رہتے ہو اگر تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کی پوری میراث کو کھا جانے کی تدبیریں کرتے ہو نہ اس کی کمزور اولاد کو کچھ دینے کے لیے تیار ہوتے ہو اور نہ اس کے بوڑھے والدین کا اس میں کچھ حق مانتے اور تسلیم کرتے ہو ۔ مشرکین مکہ کے ہاں رواج تھا کہ جب کوئی آدمی مر جاتا تو اس کی نرینہ اولاد میں سے وہ جو جنگجو ہوتا اور طاقتور ہوتا وہ سارے مال پر قبضہ جما لیتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا (And you devour the inheritance with a sweeping gulp...89:19). The word lamm means to 'gather, amass, concentrate the thing'. This is the third evil trait of the unbelievers, and the verse signifies that they devour inheritance with voracious appetites however they can get it, whether by lawful means or unlawful means. They gather them all together to make a sweeping gulp. When someone passes away, they take their own shares, together with the shares of others, regardless of whether the shares belong to orphans, widows or people who are absent. [ As a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 In Arabia, the women and children were as a rule deprived of inheritance and the people's idea in this regard was that the right to inheritance belonged only to those male members who were fit to fight and safeguard the family. Besides, the one who was more powerful and influential among the heirs of the deceased, would annex the whole inheritance without qualms, and usurp the shares of all those who did not have the power to secure their shares. They did not give any importance to the right and duty so that they should honestly render the right to whom it was due as a duty whether he had…

Read the full tafseer →