Al-Fajr 89:18

Al-Fajr · from ayah 18

89:18

وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْكِیْنِ ۟ۙوَلَا تَحٰٓضُّوۡنَ عَلٰى طَعَامِ الۡمِسۡكِيۡنِۙ‏

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you do not encourage one another to feed the poor.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:18

اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور مسکینوں کے کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھلانے کی رغبت نہیں دیتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور نہ ہی تم مسکینوں (یعنی غریبوں اور محتاجوں) کو کھانا کھلانے کی (معاشرے میں) ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ تم آپس میں مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور نہ مسکینوں کو کھلانے پر ایک دوسرے کو ابھارتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نہ ہی مسکین کو کھانا کھلانے کے ترغیب دیتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور دوسروں کو بھی مسکین کے کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ ہی تم لوگ آپس میں مسکینوں کو کھلانے کی ترغیب دیتے ہو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

and do not urge one another to feed the poor,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and do not encourage one another to feed the needy.

— Muhammad Taqi Usmani

and do not encourage one another to feed the needy.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And urge not one another on the feeding of the Miskin!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And urge not on the feeding of the poor.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you do not encourage one another to feed the poor.

— Saheeh International

or urge one another to feed the destitute?

— Muhammad Sarwar

Nor do you urge one another to feed the poor,

— Muhammad Habib Shakir

Nor urge upon each other the feeding of the poor,

— Abdul Majid Daryabadi

Nor do ye encourage one another to feed the poor!-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 89:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے ایحسبون انما نمدھم الخ یعنی مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں " کلا " کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس پر تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَجْر 12 یعنی تمہارے معاشرے میں غریبوں کو کھانا کھلانے کا کوئی چرچا نہیں ہے۔ نہ کوئی خود کسی بھوکے کو کھانا کھلانے پر آمادہ ہوتا ہے، نہ لوگوں میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ بھوکوں کی بھوک مٹانے کے لیے کوئی فکر کریں اور ایک دوسرے کو اس کا انتظام کرنے پر اکسائیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–18

یتیم پر صرف خرچ کرنا کافی نہیں اس کا احترام بھی ضروری ہے اس کے بعد کفار کو ان کی چند بری خصلتوں پر تنبیہ ہے اول لاتکرمون الیتیم یعنی تم یتیم بچے کا اکرام نہیں کرتے اس میں اصل بتلانا تو یہ ہے کہ یتیم کے حقوق ادا نہیں کرتے اس پر ضروری خرچ نہیں کرتے لیکن اس کی تعبیر اکرام کے عنوان سے کی گئی جس میں اشارہ ہے کہ عقل و انسانیت کا اور اللہ نے جو مال تمہیں دیا ہے اسکے شکر کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم یتیم کو فقط یہی نہیں کہ اس کا حق دو اور اس پر خرچ کرو بلکہ واجب ہے کہ اس کا اکرام بھی کرو اپنے بچوں کے مقابلے میں اس کو ذلیل وخقیر نہ جانو۔ یہ بظاہر کفار کے اس قول کا جواب ہے کہ دنیا کی فراخی کو اکرام اور تنگی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’تَحٰٓضُّوْنَ‘ کے معنی ایک دوسرے کو کسی کام پر ابھارنے اور اکسانے کے ہیں۔ یعنی مسکینوں کے معاملے میں عنداللہ مطلوب صرف یہ نہیں ہے کہ لوگ ان کے آگے کچھ نوالے پھینک دیں بلکہ سوسائٹی کے اندر ان کی خدمت کے لیے یہ سرگرمی ہونی چاہیے کہ ہر صاحب مقتدر خود بھی ان کی خدمت کرے اور دوسروں کو بھی ابھارے۔ یہ نہ ہو کہ خود دے اور نہ دوسروں کو کچھ دینے دے تاکہ اس کی بخیلی پر پردہ پڑا رہے۔ لفظ ’طعام‘ یہاں محدود معنوں میں نہیں بلکہ وسیع معنوں میں استعمال ہوا ہے اور اس معنی میں اس کا استعمال معروف ہے۔ مقصود ان کی ضروریات کا اہتمام ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 یعنی بات اس طرح نہیں جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی اور وہ اپنے اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔ 17۔ 2 نبی ﷺ کا فرمان ہے وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر کے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں (ابو داؤد)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–22

7: اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

کلا بل ........................................ حباجما بات یوں نہیں جس طرح ایمان سے خالی انسان سوچتا ہے۔ محض یہ کہ کسی کو کشادہ رزق دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک کرامت والی بات نہیں ہے ، اور نہ تنگی رزق اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں ہے اور اسے اللہ نے چھوڑ دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم دولت کا حق ادا نہیں کرتے اور مال سے حقوق نہیں نکالتے۔ تم لوگ یتیم کی کفالت بھی نہیں کرتے ، جو اپنے والدین اور اولیاء اور سرپرستوں سے محروم ہوگیا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے اندر موجود ناداروں کی معاشی کفالت کے لئے کوئی بندوبست نہیں کرتے۔ مسکین کے معنی ہیں وہ شخص جو ساکن ہے ، سکون سے بیٹھا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

12 یعنی خود اپنے مال سے مسکینوں کی خبر گیری کرنا تو کجا دوسروں کو بھی اس طرف نہیں ابھارتے کہ بھوکے محتاجوں کی خبر لے لیا کریں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18{ وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ۔ } ”اور نہ ہی تم لوگ آپس میں مسکینوں کو کھلانے کی ترغیب دیتے ہو۔“ کسی دوسرے شخص کو کسی نیکی کی ترغیب دینا اس لیے بھی مشکل ہے کہ اس کے لیے انسان کو پہلے خود اس نیکی پر کاربند ہونا پڑتا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل اسی انسانی کمزوری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ نہ تم خود بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہو اور نہ ہی دوسروں کو اس نیک کام کی ترغیب دیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–19

12 رزق کی کمی بیشی دونوں میں انسان کی آزمائش :۔ اللہ تعالیٰ انسان کی دونوں طرح سے آزمائش کرتا ہے۔ نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی سے بھی کہ آیا انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے ؟ اور رزق کی تنگی سے بھی کہ آیا انسان ایسے اوقات میں صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی و مطمئن رہتا ہے ؟ مگر مال و دولت کے معاملہ میں انسان کی قدریں ہی عجیب اور غلط قسم کی ہیں۔ جب اس پر انعامات کی بارش ہو رہی ہوتی ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میں آزمائش میں پڑا ہوا ہوں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ آج کل مجھ پر بڑا مہربان ہے اور جب تنگی کا دور آتا ہے۔ اس وقت بھی وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میری آزمائش کی جارہی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 18–20

11۔ (اور حب مال کے اسی غلو سے مغلوب ہوکرخالق و مخلوق کے حقوق اور شریعت کے قائم کئے ہوئے حدود، سب بھول جاتے ہو) (آیت) ” لا تکرمون الیتیم “۔ یتیم بیچارہ تو اس کا مستحق ہوتا ہے کہ اس کا اعزاز واکرام کیا جائے، تم الٹا اسے حقیر و ذلیل سمجھتے ہو، اس کے حقوق غصب کرتے ہو، اس کا مال تک کھاجاتے ہو، (آیت) ” ولا ..... المسکین “۔ مفلسوں کے حقوق تو شریعت الہی نے یہ قائم کردیئے ہیں کہ انہیں خود کھلاو اور دوسروں کو ان کے کھلانے پلانے پر آمادہ کرتے رہو، تم خود تو کیا کھلاتے پلاتے، دوسروں کو بھی اس پر آمادہ نہیں کرتے (آیت) ” وتاکلون .... لما “۔ یعنی دوسروں کے حقوق تلف وغصب کرلینے میں کیسے دلیر وبیباک ہو۔ (آیت)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولا تحاضون . اور آپس میں ایک دوسرے کو آمادہ نہیں کرتے۔ یہ قراءت اہل کوفہ کی ہے۔ باقی اہل قراءت کے نزدیک ولا تَحُضُّوْنَ ہے یعنی تم دوسروں کو آمادہ نہیں کرتے۔ علی طعام المسکین . مسکین کو کھانا دینے پر دوسروں کو ترغیب بھی نہیں دیتے۔ چہ جائیکہ خود اپنے مال سے کھلاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(2017) ہرگز ایسا نہیں، نہ میں مال و دولت سے قدر بڑھاتا ہوں اور نہ ان چیزوں کی کمی سے گھٹاتا ہوں، میں تو معرفت و توفیق سے قدر بڑھاتا ہوں اور انکار و ذلت سے گھٹاتا ہوں بلکہ تمہارے زیر پرورش جو یتیم ہیں تم ان کی کچھ قدر اور خاطر نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے پر آمادہ نہیں کرتے تم میراث کا سارا مال کھا جاتے ہو اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–20

(فاما الانسان اذا ماا بتلہ…:) قیامت کے منکرین کے نزدیک چونکہ سبھی کچھ دنیا ہے اس لئے ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں جو آسودہ حال ہے اللہ تعالیٰ اس سے رضای ہے اور جو تنگ حال ہے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ فرمایا یہ بات ہرگز درست نہیں، فرعون اور دوسرے لوگوں کے واقعات ابھی تم نے سنے، ان کی خوشحالی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کوی اد کرو تو سمجھ لو گے کہ دنیا کی آسودہ حلای یا بدحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کافر خوش حالی میں سرکشی اور تنگی میں شکوہ و ناشکری کر کے ناکام ہو اتے ہیں اور مومن نعمت پر شکر کے ساتھ اور مصیبت میں صبر کیساتھ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تمہارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خوش…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

ولاتحضون علی طعام المسکین۔ وہ اپنے گھروالوں کو حکم نہیں دیتے کہ جو یتیم ان کے پاس آئے وہ اسے کھلادیاکریں کو فیوں نے اسے ولاتخاضون پڑھا ہے، یعنی تاء مفتوحہ، حاء اور الف کیساتھ پڑھا ہے یعنی وہ ایک دوسرے کو برانگیختہ نہیں کرتے اصل میں یہ تتحاضون تھا ایک تاء کو حذف کردیا گیا کیونکہ کلام اس پر دلالت کرتی ہے یہ ابوعبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے ابراہیم اور شیزری نے کسائی اور سلمی سے روایت نقل کی ہے کہ تخاضون تاء کے ضمہ کے ساتھ ہے یہ حض سے تفاعلون کے وزن پر ہے اس کا معنی برانگیختہ کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–18

12۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا آیت فقدر علیہ رزقہ اس پر اس کی روزی تنگ کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس پر اس کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ 13۔ ابن مردویہ والحاکم وصححہ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بل لا تکرمون الیتیم ولا یحضون یاء کے ساتھ ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلَا تَحٰۗـضُّوْنَ : اور تم لوگ ایک دوسرے کو ترغیب نہیں دیتے ][ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ : مسکین کے کھانا (کھلانے) پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

ان آیات میں اول تو انسان کے اس خیال کی تردید فرمائی کہ مالدار ہونا اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہونے کی اور تنگدست ہونا اللہ تعالیٰ کا مردود بندہ ہونے کی دلیل ہے اور اس کو ﴿كَلَّا ﴾ فرما کر بیان فرمایا یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا تم سمجھتے ہو۔ اس کے بعد انسانوں کی دنیاداری اور حب مال کا مزاج بیان فرمایا ﴿ بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَۙ0017 وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِۙ0018﴾ (بلکہ تم لوگ یتیم کا اکرام نہیں کرتے (جو مدد کا مستحق ہے) اور نہ صرف یہ کہ یتیم کا اکرام نہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کا کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

9:۔ ” کلا بل لا تکرمون “۔ کلا ردعیہ ہے۔ یہ انسان کے مذکورہ بالا رویہ پر شکوی ہے علی سبیل الترقی۔ دنیا دار لوگو ! تم ہر وقت دنیا میں اپنی ہی عزت و ذلت کی فکر میں مست رہتے ہو۔ مگر یتیموں کا خیال نہیں کرتے ہو اور نہ ان کا اکرام کرتے ہو مراد یہ ہے کہ ان کا حق نہیں ادا کرتے ہو۔ ” ولا تحاضون علی طعام المسکین “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یتیموں کا اکرام تو ایک طرف رہا تم تو مسکینوں کو کھانا بھی نہیں کھلاتے ہو۔ اور نہ ایک دوسرے کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب ہی دیتے ہو۔ لا تحاضون اصل میں لا تتحاضون تھا۔ ایک تاء بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے۔ ” وتاکلون التراث اکلا لما “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی کہ دنیا میں تکبر کرنے والوں کو آخرت میں ضرور سزا ملے گی۔ پھر مثال کے طور پر عاد ، ثمود اور فرعون کا ذکر فرمایا ” کیف فعل ربک بعاد “ یہ تمام لوگ وہ تھے جنہوں نے شہروں میں سرکشی اختیار کی ، فساد برپا کیا ، تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ کیونکہ تیرا پروردگار نگرانی کر رہا ہے ۔ وہ گھات میں ہے اور دیکھ رہا ہے۔ یہ لوگ خود بادشاہ تھے یا بادشاہ پرست تھے۔ انسانوں کی چار قسمیں کل چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن میں سے تین قسم کے لوگ ناکام ہوتے ہیں اور چوتھا گروہ کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر صرف دو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَا تَحٰۗضُّوْنَ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۝ 18 ۙ تحاضّون : فيه حذف إحدی التاء ین، أصله تتحاضّون . طعم الطَّعْمُ : تناول الغذاء، ويسمّى ما يتناول منه طَعْمٌ وطَعَامٌ. قال تعالی: وَطَعامُهُ مَتاعاً لَكُمْ [ المائدة/ 96] ، قال : وقد اختصّ بالبرّ فيما روی أبو سعید «أنّ النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمر بصدقة الفطر صاعا من طَعَامٍ أو صاعا من شعیر» «2» . قال تعالی: وَلا طَعامٌ إِلَّا مِنْ غِسْلِينٍ [ الحاقة/ 36] ، طَعاماً ذا غُصَّةٍ [ المزمل/ 13] ، طَعامُ الْأَثِيمِ [ الدخان/ 44] ، وَلا يَحُضُّ عَلى طَعامِ الْمِسْكِينِ [ الماعون/ 3] ، أي : إِطْعَامِهِ الطَّعَامَ ، فَإِذا طَعِمْتُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–20

کَلاَّ بَلْ لاَّتُـکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ۔ وَلاَ تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلاً لَّمًّا۔ وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔ (الفجر : 17 تا 20) (ہرگز نہیں ! بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے۔ اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو اکساتے ہو۔ اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر ہڑپ کر جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔ ) فکری کجی کا ازالہ کَلاَّ … ہرگز نہیں۔ یہ دراصل کفار کے ان خیالات کی تردید ہے جس کا ذکر سابقہ دو آیتوں میں گزرا۔ وہ مال و دولت کو عزت اور ذلت کا معیار سمجھتے تھے۔ انھیں کسی کے سیرت و کردار سے کوئی غرض نہ تھی۔ جس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–20

فہم القرآن ربط کلام : عاد، ثمود اور فرعون ہی نہیں ” رب ذوالجلال “ جب چاہے کسی باغی انسان کو پکڑ لے اور اسے آزمائش میں مبتلا کردے کیونکہ ہر وقت انسان اپنے رب کی نگرانی میں ہے۔ انسان کی عادت ہے کہ جب اسے اس کا رب مال اور تکریم عطا کرتا ہے تو وہ سوچتا اور کہتا ہے کہ مجھے میرے رب نے عزت عطا فرمائی ہے ا ورجب اس کا رب اسے رزق کی تنگی کے ساتھ آزماتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا ہے حالانکہ اکثر مال داروں کی حالت یہ ہے کہ وہ یتیم کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور مسکینوں کو نہ کھانا کھلاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں بلکہ یتیموں اور مسکینوں کا مال ہڑپ کرجاتے ہیں اور مال کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18 : وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ (اور دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے) مطلب یہ ہے بلکہ یہاں تو اس بات سے بھی زیادہ بری حرکت موجود ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مال عنایت فرمایا ہے وہ اس مال میں سے یتیم کا جو حق بنتا ہے۔ اور انہیں بطور اکرام دینا چاہیے تھا۔ وہ نہیں دیتے اور مسکین کو خود کھانا دینا تو بجائے خود رہا دوسروں کو اسے کھانا دینے پر آمادہ تک نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18 ۔” ولا تحاضون علی طعام المسکین “ یعنی تم اس کے کھلانے کا حکم نہیں کرتے اور ابوجعفر اور اہل کوفہ نے ” تحاضون “ حاء کے زبر کے ساتھ اور اس کے بعد الف کے ساتھ پڑھا ہے یعنی تم ایک دوسرے کو اس پر نہیں ابھارتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–20

15۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں قریش کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے عاد وثمود فرعون کی ہلاکت کا قصہ ان کے راہ راست پر آنے کے لئے ذکر فرمایا تھا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کو قیامت کا انکار ہے اس لئے عقبیٰ کی بھلائی برائی کو تو یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں فقط دنیا کی زیست پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بات یوں نہیں جیسے ان خیال ہے یہ اس لئے فرمایا کہ ابھی فرعون کا قصہ جو ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 18–19

(وَلَا تَحٰۗـضُّوْنَ عَلٰي طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ ) یعنی تم حاجت مندوں، فقرا اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کی ترغیب نہیں دیتے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ تم دنیا کے مال و دولت پر بہت بخیل ہو۔ تم دنیا سے بہت محبت کرتے ہو اور اس کی شدید محبت تمہارے دلوں میں سما گئی ہے اس لیے فرمایا (وَتَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ ) اور تم کھا جاتے ہو وراثت۔ یعنی چھوڑا ہوا مال۔ (اَكْلًا لَّمًّا) سمیٹ کر۔ اور اس میں سے کچھ باقی نہیں چھوڑتے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(20) مسکینوں کو کھلانے کی عظمت و اہمیت کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ان مادہ پرست منکرین کی مادہ پرستانہ ذہنیت کی تردید اور مکارم اخلاق کی تعلیم و تلقین کے لیے مزید ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی تم لوگ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے اور تلقین کرتے ہو "۔ یعنی خود بنا اور کھلانا تو درکنار تم دوروں کو بھی اس کی تعلیم و ترغیب دینے کے روادار نہیں ہو، حالانکہ تمہاری ذمہ داری یہ تھی اور یہ ہے کہ تم مسکین کو خود بھی بھلاؤ اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔ سو یہاں پر " تحاضون " کے اس لفظ میں یہ درس عظیم بھی ہے کہ مسکینوں کے معاملے میں صرف اتنا ہی کافی اور اسی قدر مطلوب نہیں کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 18–19

ف 3 یعنی اس کے ترکہ میں سے یتیموں کا حصہ بھی اڑا لیتے ہو اور عورتوں کا حصہ بھی ادا نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:18) ولا تحضون علی طعام المسکین۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے لا تحضون مضارع منفی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ محاضۃ (مفاعلۃ) مصدر سے تم باہم ایک دوسرے کو رغبت نہیں دلاتے ہو۔ (اس کا مفعول محذوف ہے) ۔ علی طعام المسکین : مسکین کو کھانا کھلانے کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–20

(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کو فقط دنیا کی زندگی پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے، بس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت ذلت کا معیار سمجھتے ہیں نہیں جانتے کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے، نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر ورضا کو جانچا جارہا ہے نہ یہاں کا عارضی عیش و آرام اللہ کے ہاں مقبول معزز ہونے کی دلیل ہے نہ محض تنگی اور سختی ذلیل ہونے کی علامت ہے مگر انسان اپنے افعال و اعمال…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–29

انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کے کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو اور ابھارتے ہو یعنی تم میں صرف اعتقاد کی خرابی اور برائی نہیں ہے بلکہ تم اعمال کے اعتبار سے نہایت بخیل اور جب مال میں ڈوبے ہوئے ہو، چناچہ تم کو نہ تو یتیم پر ہی ترس آتا ہے اور نہ اس کی عزت کرتے ہو اور نہ تم میں مسکین کو کھانا کھلانے ہی کا چرچا ہے کہ ایک دوسرے کو مسکین کے کھانا کھلانے پر ابھارو اور برانگیختہ کرو اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو ترغیب دیتے ہو کہ مسکین کو کھانا کھلائو اور اس سے بڑھ کر یہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–21

ف 4۔ یعنی دوسروں کے حقوق واجبہ نہ خود ادا کرتے ہو اور نہ اوروں کو حقوق واجبہ ادا کرنے کو کہتے ہو اور عملا اس کے تارک اور اعتقادا اس کے منکر ہو، اور ترک واجب کافر کے لئے موجب زیادت تعذیب اور فساد اعتقاد موجب نفس تعذیب ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور نہ تم مساکین کو کھاناکھلانے کی ترغیب دیتے ہو 18 ؎ یتیموں ، مسکینوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کا حکم اگر قرآن کریم میں دیکھناچا ہیں تو عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 177 کی تفسیر دیکھیں اور اسی طرح سورة البقرہ کی آیت 273 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ ان کا حق مال غنیمت اور مال فے میں بھی مقرر ہے جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 41 کی تفسیر دیکھیں پھر جلد نہم سورة الحشر کی آیت 7 ، قربانی کے گوشت میں بھی ان کا حصہ مقرر ہے جلد ششم سورة الحج کی آیت 28 ، 36 میں مساکین کو کھانا کھلانے کی تاکید کی گئی ہے۔ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 184 ، جلد سوم سورة المائدہ 89 ، جلد نہم سورة المجادلہ کی آیت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

Spending on the Orphan is not Sufficient. Their respect is also necessary لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيم (No! But you do not honour the orphan....89:17). The unbelievers are warned, in these verses, against some of their evil character traits. First, as is mentioned in this verse, they do not honour and treat the orphans kindly. The basic objective of the verse is that they deprive them of their rights, and do not spend on them what is due to them, but the expression used is that they do not honour them, probably to indicate that the requirement of Allah's gratitude, and also of humanitarian…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 That is, "Nobody in your society feels any urge to feed the poor. Neither a tnan himself feels inclined to feed a hungry person, nor is there among the people any urge to do something to satisfy the hunger of the hungry, nor do they exhort one another to do so" .

Read the full tafseer →