Al-Fajr 89:17

Al-Fajr · from ayah 17

89:17

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ۟ۙكَلَّا‌ بَلۡ لَّا تُكۡرِمُوۡنَ الۡيَتِيۡمَۙ

نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

No! But you do not honor the orphan

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:17

ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ایسا ہرگز نہیں بلکہ (بات یہ ہے) کہ تم (ہی) لوگ یتیموں کی عزت نہیں کرتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہرگز ایسا نہیں چاہیے۔ صرف یہی نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یوں نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہ بات نہیں بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ عزت اور مال و دولت کے ملنے پر) تم یتیموں کی قدر و اِکرام نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہرگز ایسا نہیں، بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(یہ معیار) ہرگز (درست) نہیں بلکہ تم لوگ یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ہرگز نہیں بلکہ تم لوگ نہ تو یتیم کے ساتھ عزت کا سلوک کرتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

یہ بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ تم لوگ یتیم کی قدر نہیں کرتے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ایسا ہرگز نہیں ہے ! ایسا ہرگز نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی عزت نہیں کرتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

— محترمہ رفعت اعجاز

But no; you do not treat the orphan honourably,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

No! But you do not honour the orphan,

— Muhammad Taqi Usmani

No! But you do not honour the orphan,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But no! But you treat not the orphans with kindness and generosity!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Nay, but ye (for your part) honour not the orphan

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

No! But you do not honor the orphan

— Saheeh International

(Since wealth does not necessarily guarantee everlasting happiness) then why do you not show kindness to the orphans,

— Muhammad Sarwar

Nay! but you do not honor the orphan,

— Muhammad Habib Shakir

By no means! But ye honour not the orphan,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 89:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 15–20

وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے ایحسبون انما نمدھم الخ یعنی مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں " کلا " کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس پر تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْفَجْر 10 یعنی عزت اور ذلت کا معیار ہرگز نہیں ہے۔ تم سخت غلط فہمی میں مبتلا ہو کہ اخلاق کی بھلائی اور برائی کے بجائے تم نے اسے معیار عزت و ذلت بنا رکھا ہے۔ سورة الْفَجْر 11 یعنی جب تک اس کا باپ زندہ رہتا ہے، اس کے ساتھ تمہارا برتاؤ کچھ اور ہوتا ہے اور جب اس کا باپ مرجاتا ہے تو ہمساٍئے اور دور کے رشتہ دار تو درکنار چچا ماموں اور بڑے بھائی تک اس سے آنکھیں پھیر لیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–18

یتیم پر صرف خرچ کرنا کافی نہیں اس کا احترام بھی ضروری ہے اس کے بعد کفار کو ان کی چند بری خصلتوں پر تنبیہ ہے اول لاتکرمون الیتیم یعنی تم یتیم بچے کا اکرام نہیں کرتے اس میں اصل بتلانا تو یہ ہے کہ یتیم کے حقوق ادا نہیں کرتے اس پر ضروری خرچ نہیں کرتے لیکن اس کی تعبیر اکرام کے عنوان سے کی گئی جس میں اشارہ ہے کہ عقل و انسانیت کا اور اللہ نے جو مال تمہیں دیا ہے اسکے شکر کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم یتیم کو فقط یہی نہیں کہ اس کا حق دو اور اس پر خرچ کرو بلکہ واجب ہے کہ اس کا اکرام بھی کرو اپنے بچوں کے مقابلے میں اس کو ذلیل وخقیر نہ جانو۔ یہ بظاہر کفار کے اس قول کا جواب ہے کہ دنیا کی فراخی کو اکرام اور تنگی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مغالطہ کا ازالہ: اوپر بات اصولی رنگ میں فرمائی ہے لیکن ان آیات میں مکہ اور طائف کے مال داروں کو براہ راست خطاب کر کے تنبیہ کی گئی ہے کہ تمہارا یہ گمان بالکل بے بنیاد ہے کہ جس کو مال کی فراوانی حاصل ہوتی ہے یہ اس کی عزت افزائی کی دلیل ہے۔ یہ عزت افزائی کے لیے نہیں بلکہ امتحان کے لیے ہوتی ہے کہ وہ خدا کی بخشی ہوئی نعمت پا کر اپنی عزت کے پندار میں مبتلا ہو جاتا ہے یا اس کو یتیموں، مسکینوں کی خدمت اور ان کے اکرام و تواضع کا ذریعہ بناتا ہے۔ یہ محض تمہاری سفاہت ہے کہ تم خدا کے فضل و احسان کا بالکل الٹا مفہوم لیتے ہو۔ ہونا تو یہ تھا کہ تم اپنے رب کے شکر گزار بنتے، یتیموں اور مسکینوں کی خدمت خود بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–18

17۔ 1 یعنی بات اس طرح نہیں جیسے لوگ سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مال اپنے محبوب بندوں کو بھی دیتا ہے اور ناپسندیدہ افراد کو بھی اور وہ اپنے اور بیگانوں دونوں کو مبتلا کرتا ہے۔ اصل مدار دونوں حالتوں میں اللہ کی اطاعت پر ہے جب اللہ مال دے تو اللہ کا شکر کرے، تنگی آئے تو صبر کرے۔ 17۔ 2 نبی ﷺ کا فرمان ہے وہ گھر سب سے بہتر ہے جس میں یتیم کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا جائے اور وہ گھر بدترین ہے جس میں اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔ پھر اپنی انگلی کے ساتھ اشارہ کر کے فرمایا، میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ساتھ ساتھ ہوں گے جیسے یہ دو انگلیاں ساتھ ملی ہوئی ہیں (ابو داؤد)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 17–22

7: اللہ تعالیٰ نے رزق کی تقسیم اپنی حکمت کے مطابق فرمائی ہے، لہٰذا رزق میں تنگی ہو تو اسے اپنی توہین سمجھنا بھی غلط ہے، اور رزق میں زیادتی ہو تو اسے اپنی عزت سے تعبیر کرنا بھی غلط ہے، کیونکہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ایسے لوگوں کو مال و دولت سے نوازا ہے جو نیک نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 17–18

کلا بل ........................................ حباجما بات یوں نہیں جس طرح ایمان سے خالی انسان سوچتا ہے۔ محض یہ کہ کسی کو کشادہ رزق دیا گیا ہے۔ یہ اللہ کے نزدیک کرامت والی بات نہیں ہے ، اور نہ تنگی رزق اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے شخص کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہیں ہے اور اسے اللہ نے چھوڑ دیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم دولت کا حق ادا نہیں کرتے اور مال سے حقوق نہیں نکالتے۔ تم لوگ یتیم کی کفالت بھی نہیں کرتے ، جو اپنے والدین اور اولیاء اور سرپرستوں سے محروم ہوگیا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے اندر موجود ناداروں کی معاشی کفالت کے لئے کوئی بندوبست نہیں کرتے۔ مسکین کے معنی ہیں وہ شخص جو ساکن ہے ، سکون سے بیٹھا ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی خدا کے ہاں تمہاری عزت کیوں ہو، جب تم بےکس یتیموں کی عزت اور خاطر مدارت نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17{ کَلَّا } ”ایسا ہرگز نہیں ہے !“ یہ مقام اپنے مضمون کے اعتبار سے پورے قرآن مجید میں منفرد و ممتاز ہے۔ مذکورہ دونوں کیفیات کے حوالے سے انسان کے جن مکالمات کا یہاں ذکر ہوا ہے بظاہر ان میں کوئی خرابی یا شرک کی آلودگی نظر نہیں آتی۔ دونوں کلمات توحید کے عین مطابق ہیں۔ رزق کی فراخی اور تنگی کے حوالے سے عزت اور ذلت کو کسی دیوی یا دیوتا سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے منسوب کیا گیا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی ہے اور یہ کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کیا ہے۔ بظاہر تو یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان { وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآئُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآئُط } آلِ عمران : 26 ہی کا اقرار ہے ‘ کہ اے اللہ تو ُ جس کو چاہتا ہے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–19

12 رزق کی کمی بیشی دونوں میں انسان کی آزمائش :۔ اللہ تعالیٰ انسان کی دونوں طرح سے آزمائش کرتا ہے۔ نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی سے بھی کہ آیا انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے ؟ اور رزق کی تنگی سے بھی کہ آیا انسان ایسے اوقات میں صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی و مطمئن رہتا ہے ؟ مگر مال و دولت کے معاملہ میں انسان کی قدریں ہی عجیب اور غلط قسم کی ہیں۔ جب اس پر انعامات کی بارش ہو رہی ہوتی ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میں آزمائش میں پڑا ہوا ہوں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ آج کل مجھ پر بڑا مہربان ہے اور جب تنگی کا دور آتا ہے۔ اس وقت بھی وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میری آزمائش کی جارہی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ کافر انسان کے یہ سارے خیالات موہوم اور مزعومات باطل ہیں، نہ دنیا مقصود بالذات ہے، نہ خوشحالی اترانے کی چیز اور نہ بدحالی دلیل بدنصیبی ہے۔ مقصود تو ہر حال میں انسان کے ظرف کا امتحان ہی رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

کلا . ہرگز نہیں۔ یعنی جیسا وہ کہتا ہے واقعہ ایسا ہرگز نہیں۔ دنیوی نعمت و دولت تو اللہ کی طرف سے ایک ڈھیل ہوتی ہے۔ بشرطیکہ مالدار نعمت کا استقبال شکر سے نہ کرے اور شکر کے ہاتھوں سے نہ لے۔ نعمت کی شکر گزاری کے بعد بھی فقیر صابر پر غنی شاکر کو برتری حاصل نہیں۔ حضرت مصعب بن سعد کی روایت ہے کہ حضرت سعد دوسروں سے اپنے کو بڑھا چڑھا کر خیال کرتے تھے اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں کو صرف ضعفاء (اہل افلاس) کے سبب سے ہی رزق دیا جاتا ہے۔ (بخاری) حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فقراء مہاجرین قیامت کے دن دولت مندوں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔ (مسلم) حضرت ابوہریرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–20

(2017) ہرگز ایسا نہیں، نہ میں مال و دولت سے قدر بڑھاتا ہوں اور نہ ان چیزوں کی کمی سے گھٹاتا ہوں، میں تو معرفت و توفیق سے قدر بڑھاتا ہوں اور انکار و ذلت سے گھٹاتا ہوں بلکہ تمہارے زیر پرورش جو یتیم ہیں تم ان کی کچھ قدر اور خاطر نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی مسکین کو کھانا کھلانے پر آمادہ نہیں کرتے تم میراث کا سارا مال کھا جاتے ہو اور مال سے بہت ہی محبت رکھتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–20

(فاما الانسان اذا ماا بتلہ…:) قیامت کے منکرین کے نزدیک چونکہ سبھی کچھ دنیا ہے اس لئے ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں جو آسودہ حال ہے اللہ تعالیٰ اس سے رضای ہے اور جو تنگ حال ہے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ فرمایا یہ بات ہرگز درست نہیں، فرعون اور دوسرے لوگوں کے واقعات ابھی تم نے سنے، ان کی خوشحالی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کوی اد کرو تو سمجھ لو گے کہ دنیا کی آسودہ حلای یا بدحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کافر خوش حالی میں سرکشی اور تنگی میں شکوہ و ناشکری کر کے ناکام ہو اتے ہیں اور مومن نعمت پر شکر کے ساتھ اور مصیبت میں صبر کیساتھ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تمہارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خوش…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

کلابل تکرمون الیتیم۔۔۔۔ تا۔۔۔ حباجما۔ کلا یہ رد کرنے کے لیے ہے یعنی معاملہ ایسا نہیں جیسا گمان کیا جارہا ہے اور مال دولت کی کثرت اس کے فضل کی علامت نہیں اور نہ ہی فقر وتنگ دستی اس کی طرف سے ذلت ورسوائی ہے بیشک فقر وغنا تو میری تقدیر ہے فراء نے کہا، یہاں کلا اس معنی میں ہے کہ بندہ کے لیے نہیں چاہیے کہ وہ اس طرح ہو بلکہ غنا اور فقر دونوں صورتوں میں وہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، کلا انی لا اکرم، من اکرمت بکثرۃ الدنیا ولا اھین من اھنت بقل تھا انما اکرم من اکرمت بطاعتی، واھین من اھنت بمعصیتی۔ ہرگز نہیں جسے میں عزت دیتا ہوں میں اسے مال کی کثرت کے ذریعے عزت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 16–18

12۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا آیت فقدر علیہ رزقہ اس پر اس کی روزی تنگ کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس پر اس کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ 13۔ ابن مردویہ والحاکم وصححہ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بل لا تکرمون الیتیم ولا یحضون یاء کے ساتھ ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[كَلَّا بَلْ : ہرگز نہیں، بلکہ (بات یہ ہے کہ)][ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ : تم لوگ مہربانی نہیں کرتے یتیم پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–18

ان آیات میں اول تو انسان کے اس خیال کی تردید فرمائی کہ مالدار ہونا اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ ہونے کی اور تنگدست ہونا اللہ تعالیٰ کا مردود بندہ ہونے کی دلیل ہے اور اس کو ﴿كَلَّا ﴾ فرما کر بیان فرمایا یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا تم سمجھتے ہو۔ اس کے بعد انسانوں کی دنیاداری اور حب مال کا مزاج بیان فرمایا ﴿ بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَۙ0017 وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِۙ0018﴾ (بلکہ تم لوگ یتیم کا اکرام نہیں کرتے (جو مدد کا مستحق ہے) اور نہ صرف یہ کہ یتیم کا اکرام نہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے کو مسکین کا کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 17–20

9:۔ ” کلا بل لا تکرمون “۔ کلا ردعیہ ہے۔ یہ انسان کے مذکورہ بالا رویہ پر شکوی ہے علی سبیل الترقی۔ دنیا دار لوگو ! تم ہر وقت دنیا میں اپنی ہی عزت و ذلت کی فکر میں مست رہتے ہو۔ مگر یتیموں کا خیال نہیں کرتے ہو اور نہ ان کا اکرام کرتے ہو مراد یہ ہے کہ ان کا حق نہیں ادا کرتے ہو۔ ” ولا تحاضون علی طعام المسکین “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔ یتیموں کا اکرام تو ایک طرف رہا تم تو مسکینوں کو کھانا بھی نہیں کھلاتے ہو۔ اور نہ ایک دوسرے کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کی ترغیب ہی دیتے ہو۔ لا تحاضون اصل میں لا تتحاضون تھا۔ ایک تاء بغرض تخفیف حذف کردی گئی ہے۔ ” وتاکلون التراث اکلا لما “ یہ ماقبل سے بطور ترقی ہے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 15–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی کہ دنیا میں تکبر کرنے والوں کو آخرت میں ضرور سزا ملے گی۔ پھر مثال کے طور پر عاد ، ثمود اور فرعون کا ذکر فرمایا ” کیف فعل ربک بعاد “ یہ تمام لوگ وہ تھے جنہوں نے شہروں میں سرکشی اختیار کی ، فساد برپا کیا ، تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ کیونکہ تیرا پروردگار نگرانی کر رہا ہے ۔ وہ گھات میں ہے اور دیکھ رہا ہے۔ یہ لوگ خود بادشاہ تھے یا بادشاہ پرست تھے۔ انسانوں کی چار قسمیں کل چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن میں سے تین قسم کے لوگ ناکام ہوتے ہیں اور چوتھا گروہ کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر صرف دو…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ۝ 17 ۙ كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر میں ازسر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 17–20

کَلاَّ بَلْ لاَّتُـکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ۔ وَلاَ تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ ۔ وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلاً لَّمًّا۔ وَّتُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا۔ (الفجر : 17 تا 20) (ہرگز نہیں ! بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے۔ اور نہ مسکینوں کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو اکساتے ہو۔ اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر ہڑپ کر جاتے ہو۔ اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔ ) فکری کجی کا ازالہ کَلاَّ … ہرگز نہیں۔ یہ دراصل کفار کے ان خیالات کی تردید ہے جس کا ذکر سابقہ دو آیتوں میں گزرا۔ وہ مال و دولت کو عزت اور ذلت کا معیار سمجھتے تھے۔ انھیں کسی کے سیرت و کردار سے کوئی غرض نہ تھی۔ جس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 15–20

فہم القرآن ربط کلام : عاد، ثمود اور فرعون ہی نہیں ” رب ذوالجلال “ جب چاہے کسی باغی انسان کو پکڑ لے اور اسے آزمائش میں مبتلا کردے کیونکہ ہر وقت انسان اپنے رب کی نگرانی میں ہے۔ انسان کی عادت ہے کہ جب اسے اس کا رب مال اور تکریم عطا کرتا ہے تو وہ سوچتا اور کہتا ہے کہ مجھے میرے رب نے عزت عطا فرمائی ہے ا ورجب اس کا رب اسے رزق کی تنگی کے ساتھ آزماتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا ہے حالانکہ اکثر مال داروں کی حالت یہ ہے کہ وہ یتیم کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور مسکینوں کو نہ کھانا کھلاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں بلکہ یتیموں اور مسکینوں کا مال ہڑپ کرجاتے ہیں اور مال کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بری حصاتین : 17 : کَلَّا بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ ( ہرگز ایسا نہیں بلکہ تم لوگ یتیم کی قدر نہیں کرتے ہو ) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔ پس فرمایا ” کلا “ میں نے اس کو مال داری کے ساتھ اس کے اعزاز کی وجہ سے نہیں آزمایا اور میں نے اس کو فقر کے ساتھ اس کے ذلیل ہونے کی وجہ سے آزمایا۔ پھر خبر دی کہ اکرام اور اہانت کا مدار مال اور وسعت رزق پر نہیں ہے لیکن فقر وغنی تو اس کی تقدیر کی وجہ سے ہے۔ پس وہ کافر پر وسعت کردیتا ہے اس کی کرامت کی وجہ سے نہیں اور مومن پر تنگی کردیتا ہے اس کے ذلیل ہونے کی وجہ سے نہیں۔ آدمی کا اکرام و اعزاز تو اس کی طاعت کی وجہ سے کرتے ہیں اور اس کو ذلیل اس کی معصیت کی وجہ سے کرتے ہیں۔ اہل حجاز اور اہل بصرہ نے ” اکرمن اور اھانن “ کو وصل کی صورت میں یاء کو ثابت رکھنے کے ساتھ پڑھا ہے اور ابن کثیر اور یعقوب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 15–20

15۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں قریش کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے عاد وثمود فرعون کی ہلاکت کا قصہ ان کے راہ راست پر آنے کے لئے ذکر فرمایا تھا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کو قیامت کا انکار ہے اس لئے عقبیٰ کی بھلائی برائی کو تو یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں فقط دنیا کی زیست پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بات یوں نہیں جیسے ان خیال ہے یہ اس لئے فرمایا کہ ابھی فرعون کا قصہ جو ان کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(كَلَّا) یعنی ضروری نہیں کہ ہر وہ شخص جس کو میں نے نعمتوں سے نوازا ہے میرے ہاں قابل اکرام و تکریم ہے اور جس کا رزق میں نے تنگ کردیا ہے وہ میرے ہاں حقیر ہے۔ دولت مندی اور محتاجی، رزق کی کشادگی اور تنگی تو اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے جس کے ذریعے سے وہ بندوں کا امتحان لیتا ہے تاکہ وہ دیکھے کہ کون اس پر شکر اور صبر کرتا ہے تاکہ وہ اپنے اس ثواب جزیل سے نوازے۔ جو ایسا نہ کرے اس کو سخت عذاب میں ڈال دے نیز بندے کے ارادے کا فقط اپنے نفس کی مراد پر ٹھہرنا ارادے کی کمزوری ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے محتاج مخلوق کے بارے میں ان کے عدم اہتمام پر ان کو ملامت کی ہے چناچہ فرمایا (كَلَّا بَلْ لَّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(18) منکرین کی اس مادہ پرستانہ ذہنیت کی تردید : سو منکرین کی اس مادہ پرستانہ ذہنیت کی تردید کے لیے " کلا " کے حرف زجرو تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز نہیں "۔ یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ عزت و ذلت کا معیار تم لوگوں نے اخلاق و کردار کی بجائے دنیاوی مال و متاع کو قرار دے رکھا ہے۔ حالانکہ عزت عظمت کا اصل اور حقیقی مدارو معیار انسان کا اپنا ایمان و یقین اور اس کا عمل و کردار ہے، نہ کہ وہ خارجی امور جن کو تم لوگوں نے اصل سمجھ رکھا ہے۔ پس نہ دنیاوی مال و دولت کی فراوانی عزت افزائی اللہ کے یہاں مقبولیت کی دلیل ہے، اور نہ رزق کی تنگی کسی کے لیے اس کے یہاں حقیر اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی تمہارا یہ خیال درست نہیں کہ جس پر وہ روزی تنگ ہے وہ اس کی نظر میں ذلیل ہے اور جس کو وہ بھرپور دولت دیتا ہے وہ اس کے نزدیک پسندیدہ ہے بلکہ بسا اوقات کفار کو دنیاوی مال و متاع سے نوازا جاتا ہے تاکہ اپنی سرکشی میں مزید ترقی کرتے رہیں۔ اسی کا نام اسد درج ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:17) کلا۔ حرف ردع وزجر (ذانٹ ، جھڑک) اور کسی کام سے روکنے کے لئے آتا ہے) ہرگز نہیں َ یعنی جیسا کہ انسان نعمت و راحت اور تنگ دستی و تکلیف کا معیار عزت افزائی و توہین خیال کرتا ہے ایسا نہیں ہے۔ بل لا تکرمون الیتیم : بل حرف اضراب ہے ماقبل کے ابطال اور مابعد کی تصحیح کے لئے آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بات یوں نہیں کہ فقیر رکھ کر اللہ تمہاری بےعزتی کرتا ہے بلکہ اس نے تو تم کو مال عطا فرما کر تم کو نوازا ہے مگر تم یتیم کو نہیں نوازتے اس کی پاسداری نہیں کرتے نہ اس سے محبت کرتے ہو نہ اس پر خرچ کرتے ہو۔ ترجمہ :۔ بلکہ (بات یہ ہے کہ) تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔ فائدہ : تکرمون (آیۃ 17) تحاضون (آیۃ 18) تاکلون…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 15–20

(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کو فقط دنیا کی زندگی پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے، بس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت ذلت کا معیار سمجھتے ہیں نہیں جانتے کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے، نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر ورضا کو جانچا جارہا ہے نہ یہاں کا عارضی عیش و آرام اللہ کے ہاں مقبول معزز ہونے کی دلیل ہے نہ محض تنگی اور سختی ذلیل ہونے کی علامت ہے مگر انسان اپنے افعال و اعمال…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–29

انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

ف 3۔ یعنی مجھ کو باوجود استحقاق اکرام کے اپنی نظر سے آج کل گرا رکھا ہے کہ دنیوی نعمتیں کم ہوگئیں، مطلب یہ کہ کافر دنیا ہی کو مقصود بالذات سمجھتا ہے کہ اس کی فراخی کو دلیل مقبولیت اور اپنے کو اس کا مستحق اور تنگی کو دلیل مطرودیت اور اپنے کو اس کا غیر مستحق سمجھتا ہے، پس اس میں دو محذور ہیں، ایک دنیا کو مقصود بالذات سمجھنا، جس سے ترک و انکار آخرت ناشیے ہوا، دوسرے دعوائے استحقاق جس سے نعمت پر افتخار و ترک شکر اور بلا پر شکوہ و ترک صبر ناشے ہوا اور یہ سب اعمال موجبہ للعذاب ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز نہیں بلکہ تم وہ لوگ ہو کہ یتیم کی تم عزت نہیں کرتے 17 ؎ گزشتہ دو آیتوں میں یہ فرمایا گیا تھا کہ نادانو ! کس طرح کی باتیں کرتے ہو خوب سن لو اور یاد رکھو کہ دولت اس کے فضل کی نشانی نہیں ہے اور افلاس اللہ تعالیٰ کے کسی کو حقیر سمجھنے کی نشانی نہیں تم اس غلط فہمی میں کیسے مبتلا ہوگئے ہو یہ تو میری طرف سے انسانوں کی آزمائش ہے کبھی اس طریقہ سے اور کبھی اس طریقہ سے ۔ ہاں ! تم ذرا اپنا تجزیہ کر کے دیکھو کہ تمہاری مادہ پرستانہ ذہنیت نے تم کو یتیم پر رحمت و شفقت کے جذبے سے کس طرح محروم کردیا ہے کہ تم لوگ یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ بھی نہیں رکھتے بلکہ ان کی نحوست کی علامت سمجھتے ہو اور ان کے سائے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

Spending on the Orphan is not Sufficient. Their respect is also necessary لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيم (No! But you do not honour the orphan....89:17). The unbelievers are warned, in these verses, against some of their evil character traits. First, as is mentioned in this verse, they do not honour and treat the orphans kindly. The basic objective of the verse is that they deprive them of their rights, and do not spend on them what is due to them, but the expression used is that they do not honour them, probably to indicate that the requirement of Allah's gratitude, and also of humanitarian…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10 That is, this is not all the criterion of honour and disgrace, for the real criterion is the moral good and evil. 11 That is, "As long as his father is alive, your treatment of him is attentive and when his rather dies, even the paternal and maternal uncles and the elder brothers, to say nothing of the neighbours and distant relatives, neglect him."

Read the full tafseer →