Explained with ayahs 15–20
وسعت رزق کو اکرام نہ سمجھو بلکہ امتحان سمجھو
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ وسعت اور کشادگی پا کر یوں سمجھ بیٹھتے ہیں کہ اللہ نے ان کا اکرام کیا یہ غلط ہے بلکہ دراصل یہ امتحان ہے جیسے اور جگہ ہے ایحسبون انما نمدھم الخ یعنی مال و اولاد کے بڑھ جانے کو یہ لوگ نیکیوں کی زیادتی سمجھتے ہیں دراصل یہ ان کی بےسمجھی ہے اسی طرح اس کے برعکس بھی یعنی تنگ ترشی کو انسان اپنی اہانت سمجھ بیٹھتا ہے حالانکہ دراصل یہ بھی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے اسی لیے یہاں " کلا " کہہ کر ان دونوں خیالات کی تردید کی کہ یہ واقعہ نہیں جسے اللہ مال کی وسعت دے اس سے وہ خوش ہے اور جس پر تنگی کرے اس سے ناخوش ہے بلکہ خوشی اور ناخوشی کا مدار ان…
Read the full tafseer →سورة الْفَجْر 9
یعنی یہ ہے انسان کا مادہ پرستانہ نظریہ حیات۔ اسی دنیا کے مال و دولت اور جاہ و اقتدار کو وہ سب کچھ سمجھتا ہے۔ یہ چیز ملے تو پھول جاتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا نے مجھے عزت دار بنادیا، اور یہ نہ ملے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھے ذلیل کردیا۔ گویا عزت اور ذلت کا معیار اس کے نزدیک مال و دولت اور جاہ اقتدار کا ملنا یا نہ ملنا ہے۔ حالانکہ اصل حقیقت جسے وہ نہیں سمجھتا یہ ہے کہ اللہ نے جس کو دنیا میں جو کچھ بھی دیا ہے آزمائش کے لیے دیا ہے۔ دولت اور طاقت دی ہے تو امتحان کے لیے دی ہے کہ وہ اسے پا کر شکر گزار بنتا ہے یا ناشکری کرتا ہے۔ مفلس اور تنگ حال بنایا ہے تو اس میں بھی اس کا امتحان ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
دنیا میں رزق کی فراخی اور تنگی اللہ کے نزدیک مقبول یا مردود ہونے کی علامت نہیں
فاما الانسان الایتہ، یہاں انسان سے مراد اصل میں تو کافر انسان ہے جو اللہ تعالیٰ کے متعلق جو چاہے خیال باندھ لے مگر مفہوم عام کے اعتبار سے وہ مسلمان بھی اس خطاب میں شریک ہے جو اس جیسے خیال میں مبتلا ہو اور وہ خیال یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو اپنے رزق میں وسعت اور مال و دولت صحت و تندرستی سے نوازے تو شیطان اس کو دو باطل خیالات میں مبتلا کرتا ہے اول یہ کہ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ یہ میری ذاتی صلاحیت اور عقل وفہم اور سعی وعمل کا لازمی نتیجہ ہے جو مجھے ملنا ہی چاہئے میں اس کا مستحق ہوں دوسرے یہ کہ ان چیزوں کے حاصل ہونے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
انسان کا ایک مغالطہ:
یہ اس مغالطہ سے پردہ اٹھایا جس میں مبتلا ہونے والے نعمت پا کر طغیان و فساد کی راہ اختیار کر لیتے ہیں اور جو نعمت سے محروم رہتے ہیں وہ یاس و نا امیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ مغالطہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جس کو نعمت کی فراخی حاصل ہوتی ہے وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بڑی قدر و قیمت والا ہے اس وجہ سے اس نے اس کی شان بڑھا رکھی ہے۔ اس کے برعکس جو تنگئ رزق میں مبتلا ہوتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ خدا کی نظروں میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اس وجہ سے اس نے اس کو ذلتیں جھیلنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اس مغالطہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پہلا فخر و غرور میں مبتلا ہو کر…
Read the full tafseer →16۔ 1 یعنی وہ تنگی میں مبتلا کر کے آزماتا ہے تو اللہ کے بارے میں بدگمانی کا اظہار کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
6: فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو سزا دینے کے لئے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیا کرتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فاما الاانسان ............................ اھانن
یہ تو ہے ، انسان کی سوچ ، ان حالات کے بارے میں جن سے وہ گزرتا ہے۔ کبھی وہ امیر ہوتا ہے ، کبھی غریب ہوتا ہے ، کبھی فراخی نصیب ہوتی ہے اور کبھی تنگی۔ کبھی اللہ اسے نعمتوں اور عزتوں سے آزماتا ہے کبھی جاہ مال سے اس کی آزمائش ہوتی ہے لیکن وہ سمجھ نہیں پاتا کہ یہ تو آزمائش ہورہی ہے کہ اگر وہ کامیاب ہوا تو اسے جزاء ملے۔ لیکن اس کی سوچ یہ ہے کہ وہ مال ومتال کی فراخی اور عزت وجاہ سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک اس مقام و مرتبہ کا مستحق ہے اور یہ دولت اور یہ عزت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہے۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے وہ آزمائش…
Read the full tafseer →10 یعنی میری قدر نہ کی۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کی نظر صرف دنیا کی زندگی اور حالت حاضرہ پر ہے پس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت و ذلت کا معیار سمجھتا ہے۔ نہیں جانتا کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے۔ نعمت دے کر اس کی شکر گذاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر و رضا کو جانچا جارہا ہے۔ نہ یہاں کا عارضی عیش وآرام اللہ کے ہاں مقبول و معزز ہونے کی دلیل ہے۔ نہ محض تنگی اور سختی مردود ہونے کی علامت ہے۔ مگر انسان اپنے افعال واعمال پر نظر نہیں کرتا۔ اپنی بےعقلی یا بےحیائی سے رب پر الزام رکھتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
آیت 14{ اِنَّ رَبَّکَ لَبِالْمِرْصَادِ۔ } ”بیشک آپ کا رب تو سرکشوں اور مفسدوں کی تاک میں ہے۔“
یعنی کوئی فرد ہو یا کوئی قوم ‘ جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ سے سرکشی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے اس جرم کی سزا ضرور دے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–19
12 رزق کی کمی بیشی دونوں میں انسان کی آزمائش :۔ اللہ تعالیٰ انسان کی دونوں طرح سے آزمائش کرتا ہے۔ نعمتوں اور مال و دولت کی فراوانی سے بھی کہ آیا انسان اللہ کی نعمتوں کا شکر بجا لاتا ہے ؟ اور رزق کی تنگی سے بھی کہ آیا انسان ایسے اوقات میں صبر سے کام لیتا ہے اور اللہ کی رضا پر راضی و مطمئن رہتا ہے ؟ مگر مال و دولت کے معاملہ میں انسان کی قدریں ہی عجیب اور غلط قسم کی ہیں۔ جب اس پر انعامات کی بارش ہو رہی ہوتی ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میں آزمائش میں پڑا ہوا ہوں بلکہ یہ سمجھتا ہے کہ اللہ آج کل مجھ پر بڑا مہربان ہے اور جب تنگی کا دور آتا ہے۔ اس وقت بھی وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میری آزمائش کی جارہی ہے…
Read the full tafseer →9۔ ناشکرے انسان پر جب مال کی تنگی کردی جاتی ہے تو مقصود اس سے اس کے صبر و تسلیم کا امتحان ہوتا ہے، لیکن وہ ہر طرف شکایت وحکایت کا دفتر کھولے پھرتا ہے، اور دنیا کی کمی کو اپنی محرومی اور بدنصیبی پر محمول کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →واما اذا ما ابتلہ . لیکن جب افلاس میں مبتلا کر کے اللہ بندہ کی جانچ کرتا ہے تاکہ (افلاس کے بعد)
انکشاف ہوجائے کہ بندہ صبر کرتا اور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے یا بےصبر ہو کر کفر کرنے لگتا ہے اور اللہ کی طرف نہیں لوٹتا۔
فقدر علیہ رزقہ . ابن عامر اور ابو جعفر کی قراءت میں فَقَدَّرَ تشدید کے ساتھ آیا ہے اور عام طور پر مشہور
قراءت فَقَدَرَ بغیر تشدید کے ہے۔ بعض کا قول ہے کہ بر صورت تشدید ترجمہ ہوگا : مفلس کردیا اور بغیر تشدید کے ترجمہ ہوگا : بقدر کفایت دیا۔ بعض علماء نے کہا : دونوں ہم معنی ہیں ‘ یعنی رزق تنگ کردیا۔ سابق آیت میں : اَکْرَمَہٗ وَ نَعَّمَہٗ فرمایا تھا ‘ یہاں نعمہ کی جگہ قدر علیہ رزقہ تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
(1613) سو آپ کے رب نے ان پر سخت عذاب نازل کیا، اللہ تعالیٰ ان کی گزر گاہ اور تمام مخلوق کی گزر گاہ پر بڑی گھات میں ہے، یا یہ کہ فرشتے راستوں پر بندوں کو سات مقامات پر روکتے ہیں اور سات خصلتوں کے بارے میں باز پرس کرتے ہیں لیکن کافر یعنی ابی بن خلف یا امیہ بن خلف، جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت بکثرت دے کر اور عیش و شرت عطا کر کے آزماتا ہے تو وہ بولتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی اور جب تنگی اور فاقہ کے ذریعے اس کو آزماتا ہے تو وہ بولتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر بڑھا دی اور جب تنگی اور فاقہ کے ذریعے اس کو آزماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ اس سے میرے رب نے میری قدر گھٹا دی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
(فاما الانسان اذا ماا بتلہ…:) قیامت کے منکرین کے نزدیک چونکہ سبھی کچھ دنیا ہے اس لئے ان کا خیال یہ ہے کہ دنیا میں جو آسودہ حال ہے اللہ تعالیٰ اس سے رضای ہے اور جو تنگ حال ہے اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے۔ فرمایا یہ بات ہرگز درست نہیں، فرعون اور دوسرے لوگوں کے واقعات ابھی تم نے سنے، ان کی خوشحالی اور پھر ان پر آنے والے عذاب کوی اد کرو تو سمجھ لو گے کہ دنیا کی آسودہ حلای یا بدحالی اللہ کی طرف سے آزمائش ہے کہ کافر خوش حالی میں سرکشی اور تنگی میں شکوہ و ناشکری کر کے ناکام ہو اتے ہیں اور مومن نعمت پر شکر کے ساتھ اور مصیبت میں صبر کیساتھ کامیاب ہوجاتے ہیں۔ تمہارا حال تو یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ خوش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فاما الانسان اذا۔۔۔ تا۔۔۔ اھانن۔
الانسان سے مراد کافر ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا، اس سے مراد عتبہ بن ربیعہ اور ابوحذیفہ بن مغیرہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد امیہ بن خلف ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس سے مراد ابی بن خلف ہے۔ جب اسے نعمت دی تو آزمائش میں ڈالا اور امتحان لیا، اذا ما میں ما زائدہ ہے مال دے کر اسے عزت دی اور وسعتیں بخش کر اسے نعمتوں سے نوازا اور وہ اس کے ساتھ خوش ہوتا ہے مگر اس کی حمد نہیں کرتا اور جب اسے فقر کے ساتھ آزماتا ہے اور اسپررزق کو تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلت عطا کی ہے یہ کافر کی صفت ہے جو قیامت پر ایمان نہیں لاتے اس کے نزدیک کرامت اور ذلت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
12۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا آیت فقدر علیہ رزقہ اس پر اس کی روزی تنگ کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس پر اس کا رزق تنگ کردیتا ہے۔
13۔ ابن مردویہ والحاکم وصححہ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بل لا تکرمون الیتیم ولا یحضون یاء کے ساتھ ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →[وَاَمَآ : اور وہ جو ہے ][ اِذَا مَا : (کہ) جب کبھی بھی ][ ابْتَلٰىهُ : وہ آزمائش میں ڈالتا ہے اس کو ][ فَقَدَرَ عَلَيْهِ : تو وہ اندازہ (تنگی) کرتا ہے اس پر ][ رِزْقَهٗ : اس کے رزق کا ][ ڏ فَيَقُوْلُ رَبِيْٓ: تو وہ کہتا ہے میرے رب نے ][ اَهَاننِ : اہانت کی میری ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ان دونوں آیتوں میں اللہ تعالیٰ شانہ نے ابتلاء اور امتحان کا تذکرہ فرمایا ہے اور ساتھ ہی انسان کا مزاج بھی بتادیا۔ اللہ تعالیٰ شانہ اپنے بندوں کا کبھی انعام و اکرام کے ذریعہ امتحان لیتا ہے اور کبھی ان کے رزق میں تنگی فرما کر آزمائش میں ڈال دیتا ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ مضمون، مضمون سابق سے متصل ہے اسی لیے مضمون کے شروع میں ”“ لائی گئی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے مخاطبین ہیں انہیں چاہیے تھا کہ سابقہ اقوام کے احوال سے عبرت لیتے اور نصیحت پکڑتے اور کفر و شرک اور نافرمانی سے توبہ کرتے لیکن انسانی مزاج کے مطابق انہوں نے اپنا وہی دنیاداری کا مزاج بنا رکھا ہے اور یہ دنیاداری کا مزاج اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت :
قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
8:۔ ” فاما الانسان “ یہ شکوی ہے۔ انسان اپنی عزت و ذلت کا مدار دنیوی دولت کی کثرت و قلت کو قرار دیتا ہے حالانکہ دولت کی کمی بیشی انسانوں کے لیے ابتلاء و امتحان ہے وہ کسی کو وافر دولت دے کر اس کا امتحان لیتا ہے کہ وہ دولت اللہ کی مرضی کے مطابق خرچ کرتا ہے یا نہیں اور کسی کا تندستی سے امتحان لیتا ہے کہ وہ اس حال میں صبر و شکر سے کام لیتا ہے یا شکوہ شکایت کرتا ہے لیکن انسان کا یہ حال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ بطور ابتلا اس کو دنیا میں عزت و دولت عطا کردے تو وہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے میری عزت کی ہے اور اگر اپنی حکمت بالغہ کے تحت اس کی روزی تنگ کردے تو وہ کہنے لگتا ہے خدا نے مجھے رسوا کردیا ہے حالانکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
گزشتہ سے پیوستہ
ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بعض چیزوں کی قسم اٹھا کر یہ بات سمجھائی کہ دنیا میں تکبر کرنے والوں کو آخرت میں ضرور سزا ملے گی۔ پھر مثال کے طور پر عاد ، ثمود اور فرعون کا ذکر فرمایا ” کیف فعل ربک بعاد “ یہ تمام لوگ وہ تھے جنہوں نے شہروں میں سرکشی اختیار کی ، فساد برپا کیا ، تو تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔ کیونکہ تیرا پروردگار نگرانی کر رہا ہے ۔ وہ گھات میں ہے اور دیکھ رہا ہے۔ یہ لوگ خود بادشاہ تھے یا بادشاہ پرست تھے۔
انسانوں کی چار قسمیں
کل چار قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ جن میں سے تین قسم کے لوگ ناکام ہوتے ہیں اور چوتھا گروہ کامیاب ہوتا ہے۔ قرآن پاک کے اس مقام پر صرف دو…
Read the full tafseer →وَاَمَّآ اِذَا مَا ابْتَلٰىہُ فَقَدَرَ عَلَيْہِ رِزْقَہٗ 0ۥۙ فَيَقُوْلُ رَبِّيْٓ اَہَانَنِ 16 ۚ
قدر ( تنگي)
وقَدَرْتُ عليه الشیء : ضيّقته، كأنما جعلته بقدر بخلاف ما وصف بغیر حساب . قال تعالی:
وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] ، أي : ضيّق عليه، وقال : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ
[ الروم/ 37] ، وقال : فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] ، أي : لن نضيّق عليه، وقرئ : ( لن نُقَدِّرَ عليه) «3» ، ومن هذا المعنی اشتقّ الْأَقْدَرُ ، أي : القصیرُ العنق . وفرس أَقْدَرُ : يضع حافر رجله موضع حافر يده، وقوله : وَما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ [ الأنعام/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
ترکیب ¦ فاما بھنا لمجر والتاکید لالتفصیل المجمل اذا شرطیۃ مازائدۃ فاکرمہ ونعمہ تفسیر للابتلا فیقول الخ جواب الشرط وقیل اذا ظریفۃ ودخلت الفاء فی فیقول لتضمن اما معنی الشرط ای فاما الانسان فیقول ربی اکرمنی وقت ابتلانہ بالنعماء۔ اکرمن اصلہ اکرمنی حذفت الیاء اتباعاً لرسم المصحف وبقیت الکسرۃ دلیلاً علیھا وقس علیہ واما اذا اما ابتلاہ فقدر الخ کلار وع للانسان عن قولہ ولا تحاضون والمفعول محذوف ای احدا او انفسکم قرء الجمہور تحضون من حضہ علی کذا ای اغرہ بہ وقریٔ تحاضون بفتح التا واصلہ تتحاضون ای لا یحض بعضکم بعضا وقری بضم التاء من الحض وھوالحث۔ طعام المسکین والطعام اما اسم مصدر ای اطعام المسکین اوا سم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰـہُ رَبُّـہٗ فَاَکْرَمَہٗ وَنَعَّمَہٗ 5 لا فَیَقُوْلُ رَبِّــٓیْ اَکْرَمَن۔ وَاَمَّـآ اِذَا مَاابْتَلٰـہُ فَقَدَ رَعَلَیْہِ رِزْقَـہٗ 5 لا فَیَقُوْلُ رَبِّــٓیْ اَھَانَنِ ۔ (الفجر : 15، 16)
(لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا پروردگار اسے آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کو عزت و نعمت بخشتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے میری شان بڑھائی ہے۔ اور جب وہ اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر ڈالا۔ )
انسان کی فکری کجی
گزشتہ آیات میں قوم عاد، قوم ثمود اور فرعون کی سرکشی اور فساد اور پھر ان کے انجام کے ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
فہم القرآن
ربط کلام : عاد، ثمود اور فرعون ہی نہیں ” رب ذوالجلال “ جب چاہے کسی باغی انسان کو پکڑ لے اور اسے آزمائش میں مبتلا کردے کیونکہ ہر وقت انسان اپنے رب کی نگرانی میں ہے۔
انسان کی عادت ہے کہ جب اسے اس کا رب مال اور تکریم عطا کرتا ہے تو وہ سوچتا اور کہتا ہے کہ مجھے میرے رب نے عزت عطا فرمائی ہے ا ورجب اس کا رب اسے رزق کی تنگی کے ساتھ آزماتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا ہے حالانکہ اکثر مال داروں کی حالت یہ ہے کہ وہ یتیم کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے اور مسکینوں کو نہ کھانا کھلاتے ہیں اور نہ دوسروں کو ترغیب دیتے ہیں بلکہ یتیموں اور مسکینوں کا مال ہڑپ کرجاتے ہیں اور مال کے ساتھ…
Read the full tafseer →16 : وَاَمَّآ اِذَا مَا ابْتَلٰہُ فَقَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗ فَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَھَانَنِ (اور جب اس کو آزماتا ہے یعنی اس کی روزی اسپر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میری قدر گھٹا دی) قَدَرَ عَلَیْہِ رِزْقَہٗ رزق کو تنگ کر کے جان بچانے والے لقمے کی مقدار رہنے دیتا ہے۔
قراءت : شامی، یزید نے قدّر پڑھا ہے۔
فَیَقُوْلُ رَبِّیْ اَھَانَنِ مطلب یہ ہے اس شخص کیلئے ضروری ہے کہ جس کا رب اس کو دیکھ رہا ہو۔ کہ وہ آخرت کی فکر کرے اور جلد آنے والی کو مقصود نہ بنائے۔ حالانکہ اس نے تو اس کا الٹ کیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے نعمت و وسعت رزق سے اس کا امتحان کیا تاکہ یہ شکر گزار ہو۔ تو یہ کہنے لگا میرے رب نے…
Read the full tafseer →16 ۔” واما اذاما ابتلاہ “ فقر کے ساتھ۔ ” فقدر علیہ رزقہ “ ابو جعفر اور ابن عامر (رح) نے ” فقدر “ دال کی تشدید کے ساتھ پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے تخفیف کے ساتھ اور یہ دو لغتیں ہیں۔ یعنی اس پر اس کے رزق کو تنگ کردیا اور کہا گیا ہے ” قدر “ بمعنی کم کردیا اور اتنا دیا جو اس کا کافی ہو۔ ” فیقول ربی اھانن “ مجھے فقر کی وجہ سے ذلیل کردیا اور اس سے کافر مراد لیا گیا ہے کہ اس کے نزدیک عزت اور ذلت مال کی کثرت اور دنیا میں حصہ اور اس کے کم ہونے سے ہوتی ہے۔ کلبی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یہ امیہ بن خلف جمحی کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید کی جس نے گمان کیا کہ رزق کی وسعت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
15۔ 20۔ اوپر کی آیتوں میں قریش کی طرح طرح کی سرکشی کے سبب سے عاد وثمود فرعون کی ہلاکت کا قصہ ان کے راہ راست پر آنے کے لئے ذکر فرمایا تھا ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ان لوگوں کو قیامت کا انکار ہے اس لئے عقبیٰ کی بھلائی برائی کو تو یہ لوگ سمجھتے ہی نہیں فقط دنیا کی زیست پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ کے نزدیک بات یوں نہیں جیسے ان خیال ہے یہ اس لئے فرمایا کہ ابھی فرعون کا قصہ جو ان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
اللہ تعالیٰ انسان کی فطرت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے جیسا کہ وہ ہے نیز یہ کہ وہ جاہل اور ظالم ہے اسے اپنے انجام کا کوئی علم نہیں وہ جس حالت میں ہوتا ہے اس کے بارے میں سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ رہے گی اور کبھی زائل نہ ہوگی۔ وہ سمجھتا ہے کہ دنیا کے اندر اللہ کا اس کو اکرام بخشنا اور اسے نعمتوں سے نوازنا (آخرت میں) اس کی تکریم اور اس کے قرب پر دلالت کرتا ہے جب للہ تعالیٰ (فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ ) اس کا رزق تنگ کردے اور اس کا رزق نپا تلا ہوجائے اور وافر نہ ہو تو وہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف اس کی اہانت ہے پس اللہ نے اس کے اس خیال کا رد فرمایا۔
Read the full tafseer →(17) مادہ پر سات انسان کا حال اس کی تنگ دستی میں : سو اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جب اللہ اس کی روزی تنگ کردیتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے خوار کردیا "۔ کہ میری روزی تنگ کردی، یا مجھے فلاں تکلیف اور مصیبت میں مبتلا کردیا، وغیرہ۔ سو یہ طریقہ و وطیرہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم اس انسان کا ہوتا ہے جس کے نزدیک دنیا اور اس کے عارضی اور مادی فوائد اور منافع ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ بخلاف مومن صادق کے کہ اس کے نزدیک اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، جو کہ حقیقی اور ابدی زندگی ہے، اور اصل حقیقی کامیابی وہاں کی کامیابی ہے۔ اور اس دنیا کی ہر حالت ابتلاء و آزمائش ہی کے لیے ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر
تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →ف 1 میری قدر نہ کی … کافر یہ بات اس لئے کہتا ہے کہ وہ آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔ وہ ددنیا کے مال و متاع کو عزت اور افلاس کو ذلت سمجھتا ہے۔
Read the full tafseer →(89:16) واما اذا ما ابتلہ۔ اور جب وہ اس کو (اور طرح) آزماتا ہے۔
فقدر علیہ رزقہ۔ اور اس پر روزی تنگ کردیتا ہے قدر ماضی واحد مذکر غائب قدر (باب نصر، ضرب) مصدر سے ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم (محذوف) اس نے میری اہانت کی۔ اس نے مجھے ذلیل کیا۔
فائدہ : انسان کا یہ حال ہے کہ وہ رات دن حصول دنیا اور اس کی لذات و شہوات میں مشغول ہے۔ اگر دنیا میں دولت و راحت مل گئی تو کہنے لگا میرا خدا مجھ سے خوش ہے جب ہی تو اس نے مجھے عزت دی ہے اور جو تنگ دستی یا تکلیف پیش آگئی تو کہنے لگا کہ خدا ناراض ہے جبھی تو اس نے مجھے ذلیل کر رکھا ہے۔
گویا خادند تعالیٰ کی رضا مندی اور اس کا عزت و اکرام حصول دولت اور راحت دنیا پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔
لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔
تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
(ف 1) فرمایا کہ ان لوگوں کو فقط دنیا کی زندگی پر ان کے سب کاموں کا مدار ہے جس کے سبب سے ان کا یہ خیال ہے کہ دنیا میں جو کوئی آسودہ حال ہے اس پر خدا مہربان ہے اور اس کی عزت خدا کو منظور ہے اور جو کوئی دنیا میں تنگ حال ہے اس سے خدا ناخوش ہے اور اس کی ذلت خدا کو منظور ہے، بس دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت ذلت کا معیار سمجھتے ہیں نہیں جانتے کہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے، نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی بھیج کر اس کے صبر ورضا کو جانچا جارہا ہے نہ یہاں کا عارضی عیش و آرام اللہ کے ہاں مقبول معزز ہونے کی دلیل ہے نہ محض تنگی اور سختی ذلیل ہونے کی علامت ہے مگر انسان اپنے افعال و اعمال…
Read the full tafseer →[8] مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا کی موجودہ راحت و تکلیف ہی کو عزت و ذلت کا معیار سمجھتا ہے حالانکہ دونوں حالتوں میں اس کی آزمائش ہے۔ نعمت دے کر اس کی شکرگزاری اور سختی دے کر اس کے صبر و رضا کو جانچا جا رہا ہے۔ نہ یہاں کا عیش و آرام اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول و معزز ہونے کی دلیل ہے، نہ محض تنگی اور سختی مردود ہونے کی علامت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
انسانی تنگ ظرفی
1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…
Read the full tafseer →(16) اور جب اس کا پروردگار اس کو اس طرح آزماتا ہے کہ اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا تھا تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میرے پروردگار نے میری توہین کی اور میری قدر گھٹا دی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی رب پر الزام رکھے اپنی فعل کی طرف نہ دیکھے۔ یعنی کافر کی حالت یہ ہے کہ اس کا مقصد صرف دنیا کا عیش اور تکلیف ہے دنیا کی آبرو عزت اور مال وجاہ کو اپنے اعمال کا بدلا سمجھتا ہے اور اس اعزاز کو اپنا استحقاق سمجھتا ہے اور بلا پر شکوہ کرتا ہے اور اپنے کو غیر مستحق سمجھتا ہے ۔
خلاصہ : یہ کہ یہاں کہ فراخی کو اپنی مقبولیت کی دلیل سمجھتا ہے اور یہاں کی تنگی کو غیر مقبولیت اور مطرودیت سمجھتا ہے پہلی حالت کو اپنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 3۔ یعنی مجھ کو باوجود استحقاق اکرام کے اپنی نظر سے آج کل گرا رکھا ہے کہ دنیوی نعمتیں کم ہوگئیں، مطلب یہ کہ کافر دنیا ہی کو مقصود بالذات سمجھتا ہے کہ اس کی فراخی کو دلیل مقبولیت اور اپنے کو اس کا مستحق اور تنگی کو دلیل مطرودیت اور اپنے کو اس کا غیر مستحق سمجھتا ہے، پس اس میں دو محذور ہیں، ایک دنیا کو مقصود بالذات سمجھنا، جس سے ترک و انکار آخرت ناشیے ہوا، دوسرے دعوائے استحقاق جس سے نعمت پر افتخار و ترک شکر اور بلا پر شکوہ و ترک صبر ناشے ہوا اور یہ سب اعمال موجبہ للعذاب ہیں۔
Read the full tafseer →انسان کے رزق کو تنگ کر کے اس کی آزمائش کرنا
16 ؎ انسان کی ایک حالت وہ تھی جس کا اوپر ذکر کیا گیا اور دوسری حالت یہ ہوتی ہے کہ کبھی اس کا رزق تنگ کر کے اس کی آزمائش کی جاتی ہے تو اللہ کے نیک بندے ہر حال میں اللہ پر راضی رہتے ہیں اور ان پر اس بات کا قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا ہے اگر ان کو فروانی ملتی ہے تو اللہ کے شکر گزار بندے بنتے ہیں اور اگر حالت دوسری پیش آجاتی ہے تو بھی وہ صبر و شکر سے اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں لیکن اس جگہ ان لوگوں کا ذکر جن کو دولت ملتی ہے تو وہ ہر طرح کی بد اعتدالیاں کرتے ہیں اور پھر کرتے ہی چلے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری بد اعتدالیاں بھی ہمارے رب کو بہت پسند ہیں تب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–16
Wealth and Poverty are no Signs of One's Acceptance or Rejection
فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ ۔ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ (As for man, when his Lord tests him, and thus gives him honour and bounties, he says, "My Lord has honoured me. But when he tests him, and thus straitens his provision for him, he says, "My Lord has disgraced me...89:15-16). The word 'man' here primarily refers to an 'unbelieving man' who may form any thought about Allah as he feels like, but…
Read the full tafseer →9 This then is man's materialistic view of life. He regards the wealth and position and power of this world alone as everything. When he has it, he is filled with pride and says God has honoured me; and when he fails to obtain it, he says: God has humiliated me. Thus, the criterion of honour and humiliation in his sight is the possession of wealth and position and power, or the absence of it, whereas the actual truth which he does not understand is that whatever Allah has given anybody in the world has been given for the sake of a trial. If he has given him wealth and power, it has been given…
Read the full tafseer →