Explained with ayahs 21–30
سجدوں کی برکتیں :
قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائیگی اونچی نیچی زمین بربار کردی جائیگی اور بالکل صاف ہموار ہو جایئگی پہاڑ زمین کے بربار کر دئیے جائیں گے تمام مخلوق قبر سے نکل آئیگی خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آجائیگا یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوگی اور یہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر ﷺ کے پاس ہو آئیگی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں پھر سب کے سب حضور ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں پھر آپ جائیں گے اور اللہ کے سامنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
سورة الْفَجْر 17
اصل الفاظ ہیں یومیذ یتذکر الانسان و انی لہ الذکری۔ اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس روز انسان یاد کرے گا کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کر کے آیا ہے اور اس پر نادم ہوگا، مگر اس وقت یاد کرنے اور نادم ہونے کا کیا فائدہ۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس روز انسان کو ہوش آئے گا، اسے نصیحت حاصل ہوگی، اس کی سمجھ میں یہ بات آئے گی کہ جو کچھ اسے انبیاء نے بتایا تھا وہی صحیح تھا اور ان کی بات نہ مان کر اس نے حماقت کی، مگر اس وقت ہوش میں آنے اور نصیحت پکڑنے اور اپنی غلطی کو سمجھنے کا کیا فائدہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری، اس جگہ تذکر سے مراد سمجھ میں آجاتا ہے یعنی کافر کو اس روز سمجھ آئے گی کہ مجھے دنیا میں کیا کرنا چاہئے تھا اور میں نے کیا کیا مگر اس وقت یہ سمجھ میں آنا بےسود ہوگا کہ عمل اور اصلاح حال کا زمانہ گزرچکا آخرت دارالعمل نہیں دارالجزا ہے آگے اس تذکر کا بیان ہے کہ وہ تمنا کرے گا کہ کاش میں دنیا میں کچھ نیک عمل کرلیتا۔ یلیتنی قدمت لحیاتی، پھر اس میں تمنا کا باطل اور غیر مفید ہونا بتلایا کہ اب جبکہ کفر و شرک کی سزا سامنے آگئی اب اس تمنا سے کچھ فائدہ نہیں اب تو عذاب اور پکڑ کا وقت ہے اور اللہ تعالیٰ کی پکڑ کی برابر کوئی پکڑ نہیں ہوسکتی۔ کفار کے عذاب بیان کرنے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
یہ اس دن کے عذاب کی شدت اور بے پناہی کا بیان ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ جو عذاب دے گا اس طرح کا عذاب کوئی نہیں دے سکتا اور جس طرح کا باندھنا وہ باندھے گا اس طرح کا باندھنا کوئی نہیں باندھ سکتا۔۔۔ یہ حقیقت نفس الامری کا بیان ہے۔ اس لیے کہ اس دنیا کی نعمتوں اور لذتوں کی طرح اس کی تکلیفیں اور اذیتیں بھی فانی اور وقتی ہیں۔ بڑی سے بڑی تکلیف بھی کوئی دے گا تو موت بہرحال اس کو ختم کر سکتی ہے اسی طرح طویل سے طویل قید میں بھی کوئی ڈالے گا تو موت کا فرشتہ اس سے بھی رہائی دلوا سکتا ہے لیکن آخرت کے عذاب اور اس کی قید سے رہائی دلانے کے لیے وہاں موت بھی نہیں ہو گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
24۔ 1 یہ افسوس اور حسرت کا اظہار، اسی ندامت کا حصہ ہے جو اس روز فائدہ مند نہیں ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
8: اس وقت اگر کوئی شخص ایمان لانا بھی چاہے تو ایمان اس کے لئے فائدہ مند نہیں ہوگا، ایمان تو وہی معتبر ہے جو قیامت اور موت کے آنے سے پہلے پہلے ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فیومئذ ............................ احد (26:89) پھر اس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں ، اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں “۔ اللہ قہار وجبار ہے۔ وہ اس دن ایسا عذاب دے گا جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور اس دن اس کے باندھنے کا انداز بھی ایسا ہوگا جیسا انداز یہاں متصور نہیں ہے۔ اور اللہ کی پکڑ اور اس کے عذاب کے مناظر قرآن کریم نے بڑی کثرت ، نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیے ہیں۔ یہاں صرف یہ کہہ دیا گیا ہے کہ وہ عذاب بھی منفرد ہوگا اور وہ گرفتاری بھی منفرد ہوگی اور ایسی ہوگی کہ اس جہاں میں ان کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اور یہ صورت حال ان صورتوں کے بالمقابل ہے جو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
4 یعنی اللہ تعالیٰ اس دن مجرموں کو ایسی سخت سزا دے گا اور ایسی سخت قید میں رکھے گا کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کی سختی کسی مجرم کے حق میں متصور نہیں۔ اور حضرت شاہ عبدالعزیز (رح) لکھتے ہیں کہ " اس روز نہ مارے گا اس کا سا مارنا کوئی۔ نہ آگ نہ دوزخ کے موکل نہ سانپ بچھو، جو دوزخ میں ہوں گے، کیونکہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے، اور حق تعالیٰ کا عذاب اس طور سے ہوگا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کر دے گا جو عذاب روحانی ہے اور ظاہر ہے عذاب روحانی کو عذاب جسمانی سے کیا نسبت، نیز نہ باندھے گا اس کا سا کوئی باندھنا کوئی۔ کیونکہ دوزخ کے پیادے ہرچند کہ دوزخیوں کے گلے میں طوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 24{ یَـقُوْلُ یٰــلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ۔ } ”وہ کہے گا : اے کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا !“
یہاں لفظ حَیَاتِیْ میری زندگی خاص طور پر لائق توجہ ہے۔ یعنی اس وقت انسان کو معلوم ہوجائے گا کہ میری اصل زندگی تو یہ ہے جواَب شروع ہوئی ہے۔ میں خواہ مخواہ دنیا کی زندگی کو اصل زندگی سمجھتا رہا جو اس اصل زندگی کی تمہید تھی۔
دراصل انسانی زندگی عالم ارواح سے شروع ہوتی ہے اور دنیا سے ہوتی ہوئی ابد الاباد تک جاتی ہے۔ دنیا کے ماہ و سال اور شب و روز کی گنتی سے زندگی کے اس طویل سفر کا حساب ممکن نہیں۔ علامہ اقبال نے اس فلسفے کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎
تو اسے پیمانہ امروز و فردا سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
17 یعنی جب آخرت اور جنت و دوزخ کے منکرین جہنم کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیں گے تو کہیں گے کہ آج ہمیں جو بھی نصیحت کی جائے اور حکم دیا جائے ہم اسے ماننے کو تیار ہیں۔ مگر اس وقت چونکہ ان کی فرمانبرداری اختیاری نہیں اضطراری ہوگی۔ ان کا ایمان لانا بالغیب نہیں بلکہ بالشہادت ہوگا لہذا اس کی کچھ قدر و قیمت نہ ہوگی۔ کسی چیز کو دیکھ کر تو ہر کوئی یقین کر ہی لیتا ہے۔ اس دن ایسے لوگ بڑی حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے دنیا میں یہ نصیحت قبول کرلی ہوتی۔ اور آج کے دن کے لیے ہم نے بھی کچھ اچھے کام کیے ہوتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
14۔ یعنی وہ سزا اور جزاء ایسی سخت ہوگی کہ اس کی کوئی نظیر و مثال نہیں، (آیت) کے الفاظ عرف انسان کے مطابق ہیں، ہم لوگ آپس میں یونہی بولتے ہیں کہ کوئی ایسا نہیں کرسکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →فیومئذ لا یعذب عذابہ احد . عَذَابَہٗ (مفعول مطلق بیان نوع کے لیے ہے) یعنی کعذابہٖ اس کے عذاب
کی طرح کوئی (کسی کو) اس روز عذاب نہیں دے گا ‘ اسی طرح
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(2426) اور تمنا کرے گا کہ کاش میں اس ابدی حیات کے لیے حیات فانیہ میں کچھ کرلیتا اور اس زندگی کے لیے کچھ نیک اعمال بھیج دیتا، سو قیامت کے دن نہ تو اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا نکلے گا اور نہ جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا ہوگا، یا یہ مطلب ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو مخلوق کو عذاب دینے پر غلبہ اور قدرت حاصل ہے کسی کو نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
(وجای یومئذ بجھنم : عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(یوتی بجھنم یومئذ لھا سبعون الف زمام، مع کل زمام سبعون الف ملک یجزونھا) (مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جھنم اعادنا اللہم نھا : 2832)”اس دن جہنم اس حال میں لائیج ائیگ ی کہ اس کی ستر ہزار لگا میں ہوں گی، ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ کر لائیں گے۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فیومئذلایعذب۔۔ تا۔۔۔ وثاقہ احد۔
اللہ تعالیٰ کے عذاب جیسا کوئی عذاب نہ دے گا اور نہ اس کے باندھنے جیسا کوئی باندھے گا، ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹ رہی ہے یہ حضرت ابن عباس اور حضرت حسن بصری کا قول ہے کسائی نے دونوں افعال لایعذب اور لایوثق کو مجہول کا صیغہ پڑھا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس روز کافر کو جیسا عذاب دے گا اس طرح کسی کو عذاب نہیں دیا جارہا ہوگا اور جیسا کافر کو جکڑا گیا ہوگا ایسا کسی کو نہ جکڑا گیا ہوگا، اس سے مراد ابلیس ہے کیونکہ اس امر پر دلیل قائم ہے کہ اس کے جرموں کی وجہ سے لوگوں میں سے سب سے زیادہ عذاب اسے دیا جارہا ہوگا پھر کلام کو مطلق رکھا گیا تھا کیونکہ ساتھ والی آیات مطلق ہیں ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
42۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد
پس اس دن اسکا سا عذاب کوئی بھی نہ دے اور نہ اس جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے برابر کوئی بھی عذاب نہ دے گا اور اللہ کے جکڑنے کے بربر کوئی بھی نہ جکڑے گا۔
43۔ ابو نعیم فی الحلیۃ نے خارجہ بن زید بن ثابت ؓ کے طریق سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یوں پڑھا آیت فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد۔
44۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن مردویہ وابن جریر والبغوی والحاکم وصححہ وابو نعیم عن ابی قلابہ عمن اقرأ ہ النبی ﷺ اور دوسری روایت میں مالک…
Read the full tafseer →[فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ : تو اس دن عذاب نہیں دے (سکے) گا ][ عَذَابَهٗٓ: اس (اللہ ) کے عذاب (جیسا)][ اَحَدٌ: کوئی ایک بھی ]
نوٹ۔ 3: آیات۔ 25 ۔ 26 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دن مجرموں کو ایسی سخت سزا دے گا اور ایسی سخت قید میں رکھے گا کہ کسی دوسرے کی طرف سے اس طرح کی سختی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اور شاہ عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ ” اس روز نہ مارے گا اس کا سامارنا کوئی، نہ آگ نہ دوزخ کے مؤکل، نہ سانپ بچھو، جو دوزخ میں ہوں گے۔ کیونکہ ان کا مارنا اور دکھ دینا عذاب جسمانی ہے۔ اور حق تعالیٰ کا عذاب اس طور سے ہوگا کہ مجرم کی روح کو حسرت اور ندامت میں گرفتار کر دے گا، جو عذاب روحانی…
Read the full tafseer →﴿فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ0025﴾ (سو اس دن اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا نہ ہوگا) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت :
قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–26
12:۔ ” یقول “ اس دن انسان انتہائی حسرت و ندامت سے تمنا کرے گا ہائے کاش ! میں نے دنیا میں آخرت کی زندگی کے لیے کچھ کما لیا ہوتا۔ مگر یہ سب کچھ بےسود ہوگا۔ ” فیومئذ ولا یعذب عذابہ احد “ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجرموں کو ایسا سخت عذاب دے گا کہ کوئی ایسا عذاب نہیں دے سکتا اور وہ مجرموں کو ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں اس طرح جکڑ دے گا کہ اس طرح کوئی بھی نہ جکڑ سکے۔ ای لایعذب کعذاب اللہ احد ولا یوثق کو ثاقہ احد (قرطبی ج 20 ص 56) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن مجرموں کی تعذیب و ایثاق کا متولی خود اللہ تعالیٰ ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار…
Read the full tafseer →فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَہٗٓ اَحَدٌ 25 ۙ
يَوْمَئِذٍ
ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ .
اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
فَیَوْمَئِذٍ لاَّ یُعَذِّبُ عَذَابَـہٗٓ اَحَدٌ۔ وَّلاَ یُوْثِقُ وَثَاقَـہٗٓ اَحَدٌ۔ (الفجر : 25، 26)
(پھر اس دن نہ اس کا سا کوئی عذاب دے سکتا ہے۔ اور نہ اس کا سا باندھنا کوئی باندھ سکتا ہے۔ )
گزشتہ آیات میں آخرت کے جس دن کا ذکر کیا گیا ہے پیش نظر آیات میں اس دن کے عذاب کی شدت اور بےپناہی کا بیان ہے۔ انسانوں کے ذہنوں میں یقینا ہر چیز کا وہی تصور ہوتا ہے جو اس کے تجربے نے دکھایا یا جسے اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ تو دنیا میں انسان جس طرح کی تکلیفیں دیکھتا ہے اور جس طرح کی سزائوں کا تصور رکھتا ہے اس کے بارے میں اسے یہ یقین ہے کہ وہ سزائیں فانی ہوتی ہیں، ابدی نہیں ہوتیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ختم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
فہم القرآن
ربط کلام : جس مال پر انسان اترتا اور اسے جمع کر کے رکھتا ہے اس مال اور پوری دنیا کا انجام۔
دنیا دار انسان شعوری یا غیر شعوری طور پر سمجھتا ہے کہ اس کا مال اس کے پاس ہمیشہ رہے گا حالانکہ دنیا اور اس کی ہر چیز عارضی ہے، ایک وقت آنے والا ہے جب اس زمین پر زلزلے واقع ہوں گے اور ہر چیز تہس نہس کردی جائے گی زمین و آسمان بدل دیئے جائیں گے اور لوگوں کو محشر کے میدان میں جمع کرلیا جائے گا۔ جب لوگ محشر کے میدان میں جمع ہوجائیں گے تو جبریل امین اور تمام ملائکہ قطار اندر قطار کھڑے ہوں گے۔ (النبا : 38)
ملائکہ، انسان اور جنات رب ذوالجلال کی تشریف آوری کا انتظار کررہے ہوں گے تو اچانک زمین و آسمان…
Read the full tafseer →25 : فَیَوْمَپذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَہٗ اَحَدٌ (اس روز نہ تو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا ہوگا) یعنی اس دن اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی ذمہ دار نہ ہوگا۔ کیونکہ اختیار تمام اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہوگا۔
Read the full tafseer →25 ۔” فیومئذ لا یعذب عذابہ احد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
21۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ…
Read the full tafseer →(فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهٗٓ اَحَدٌ) پس اس دن کوئی اللہ کے عذاب کی طرح عذاب نہیں دے گا۔ اس شخص کو جس نے اس دن کو مہمل جانا اس کے لی عمل کو فراموش کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
(28) زندگی اصل میں آخرت ہی کی زندگی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور محروم و منکر انسان کی اس روز کی یاس و حسرت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز انسان کہے گا کہ کاش میں اپنی زندگی کے لیے سامان کرلیتا "۔ یعنی اس زندگی کے لیے جو کہ اب شروع ہورہی ہے، اور جو کہ اصل حقیقی اور ابدی زندگی ہے، دنیوی زندگی تو سفر انسانی کے لیے ایک پڑاؤ جو کہ انسان کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے دراصل آخرت کی اس اصل اور حقیقی زندگی کی کمائی اور تیاری ہی کے لیے بخشا گیا تھا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، العنکبوت 64 پ 21) یعنی یقینا آخرت کا وہی گھر ہی حقیقی زندگی کا گھر ہوگا، کاش یہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر
تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 8 چین سے رہنے والی جان سے مراد وہ جان ہے جو حق کے ساتھ رہتی ہے اور حق کے ساتھ پھرتی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(89:25-26) فیومئذ لایعذب عذابہ احد ۔ ولا یوثق وثاقۃ احد۔ سو اس دن نہ کوئی اس کے عذاب کی طرح کا (کسی کو) عذاب دے گا اور نہ کوئی اس کے جکڑنے کی طرح (کسی کو) جکڑے گا۔
یومئذ : اس روز۔ لا یعذب اور لا یوثق کا ظرف زمان ہے۔ لا یعذب مضارع منفی صیغہ واحد مذکر غائب۔ اور لایوثق مضارع منفی واحد مذکر غائب۔ ایثاق (افعال) مصدر۔ وہ نہیں جکڑتا ہے۔ وہ نہیں جکڑے گا۔
عذابہ اور وثاقہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔
تفسیر ایسر التفاسیر میں لکھا ہے : ۔ ای لا یعذب مثل عذاب اللہ احد فی قوتہ وشدتہ ولا یوثق احد مثل وثاق اللہ عزوجل۔ یعنی قوت اور شدت میں اللہ کے عذاب کی طرح کوئی عذاب نہیں دے گا۔ اور نہ کوئی اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔
لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔
تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔
(ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
[10] یعنی تمہارا یہ خیال غلط ہے کہ تم یہ سب کچھ کرتے رہو اور اس کی بازپرس تم سے نہ کی جائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
انسانی تنگ ظرفی
1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…
Read the full tafseer →(25) پھر اس دن نہ تو خدا کے عذاب کا سا کوئی عذاب دینے والا ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
ف 6۔ کیونکہ آخرت دار الجزاء ہے دار العمل نہیں۔
Read the full tafseer →بس اس دن اللہ تعالیٰ کے برابر نہ کوئی عذاب دینے والا عذاب دے گا
25 ؎ فرمایا اس روز ان لوگوں کی اپیلوں سے کچھ ان کا فائدہ نہیں ہوگا بلکہ آج کا دن وہ دن ہے کہ ان کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور یہ عذاب وہی عذاب ہوگا جو انہوں نے دنیا میں اپنے لیے خود کمایا ہوگا نہ کہ ان کے ذمہ خواہ مخواہ لگا دیا جائے گا لیکن وہ عذاب دنیا کے عذابوں کی طرح نہیں ہوگا بلکہ وہ اتنا زبردست عذاب ہوگا کہ دنیا میں ایسے عذاب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس دن کے عذاب جیسا دنیا کا عذاب ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پورا پورا اس کے اعمال کا نتیجہ ہوگا اور اس کے کیے ہوئے اعمال کے نتیجہ میں اس کو آہنی زنجیروں میں جکڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّىٰ لَهُ الذِّكْرَىٰ (it will be the day when man will realise the truth, but from where will he take advantage of such realisation? - 89-23). The word tadhakkur in this context means 'to realise'. The unbelievers will realise the errors of their ways in the Hereafter, but it will be too late, because it is this present world where 'Imn and good deeds benefit the people. The Hereafter is the place only for reckoning and retribution. Man will express his remorse thus:
يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي (He will say, "0 Would that I had sent…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–26
17 The words in the original can have two meanings:
(1) That on that Day man will remember whatever he had done in the world and will regret, but what will remembrance and regretting avail him then?
(2) That on that Day man will take heed and accept admonition: he will realize that whatever he had been told by the Prophets was true and he committed a folly when he did not listen to them; but what will taking heed and accepting the admonition and realizing one's errors avail one then ?
Read the full tafseer →