Al-Mumtahana 60:9

Al-Mumtahana · from ayah 9

60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَظٰهَرُوْا عَلٰۤی اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ ۚ— وَمَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۟اِنَّمَا يَنۡهٰٮكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيۡنَ قَاتَلُوۡكُمۡ فِى الدِّيۡنِ وَاَخۡرَجُوۡكُمۡ مِّنۡ دِيَارِكُمۡ وَظَاهَرُوۡا عَلٰٓى اِخۡرَاجِكُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡهُمۡ‌ۚ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

خدا ان ہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah only forbids you from those who fight you because of religion and expel you from your homes and aid in your expulsion - [forbids] that you make allies of them. And whoever makes allies of them, then it is those who are the wrongdoers.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mumtahana

All translations of 60:9

وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے اُن سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا ان ہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ تمہیں صرف ان لوگوں کی محبت سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائیاں لڑیں اور تمہیں شہر سے نکال دیئے اور شہر سے نکالنے والوں کی مدد کی جو لوگ ایسے کفار سے محبت کریں وه (قطعاً) ﻇالم ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ تو تمہیں اس بات سے منع کرتا ہے کہ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے معاملے میں جنگ کی ہے، اور تمہیں اپنے گھروں سے نکالا ہے، اور تمہیں نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے، تم ان سے دوستی رکھو۔ اور جو لوگ ان سے دوستی رکھیں گے، وہ ظالم ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ تمہیں انہی سے منع کرتا ہے جو تم سے دین میں لڑے یا تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا یا تمہارے نکالنے پر مدد کی کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے تو وہی ستمگار ہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ تو محض تمہیں ایسے لوگوں سے دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے جنہوں نے تم سے دین (کے بارے) میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں (یعنی وطن) سے نکالا اور تمہارے باہر نکالے جانے پر (تمہارے دشمنوں کی) مدد کی۔ اور جو شخص اُن سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ تو تمہیں انھی لوگوں سے منع کرتا ہے جنھوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی کہ تم ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کرے گا تو وہی لوگ ظالم ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے منع کرتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے لڑائی کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا، اور تمہارے نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی، اس بات سے کہ تم انہیں دوست بناؤ۔ اور جو انہیں دوست بنائے تو ایسے لوگ ظالم ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ بس ان لوگوں سے تم کو سوالات کرنے سے روکنا ہے جنہوں نے تمہارے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہے اور جو اس طرح کے لوگوں سے دوستی کریں گے تو وہ اپنے ہی اوپر ظلم ڈھانے والے بنیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ تو تمہیں تو روکتا ہے ان لوگوں (کی دوستی) سے جنہوں نے تم سے جنگ کی دین کے معاملے میں اور انہوں نے تمہیں نکال باہر کیا تمہارے اپنے گھروں سے اور انہوں نے تمہارے اخراج کے بارے میں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی اور (یہ روکنا بھی اس لئے ہے کہ) جو کوئی ان سے دوستی کرے گا تو ایسے ہی لوگ ظالم ہوں گے

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جو تم سے دین کے بارے میں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی اور جو کوئی دوستی کرے گا ان سے تو یہی لوگ تو ظالم ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ تو تمہیں منع کرتا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں دوسروں کی مدد کی کہ تم ان کے ساتھ ولایت اور دوستی کا رشتہ قائم کرو۔ اور جو کوئی ان کے ساتھ دوستی کرے گا تو وہی لوگ ہیں جو ظالم ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ انہی لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah only forbids you to be friends with those who have fought against you on account of religion and who have driven you out of your homes and have abetted in your expulsion. And any who make friends with them, they are the wrong-doers.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah forbids you only about those who fought you on account of faith, and expelled you from your homes, and helped (others) in expelling you, that you have friendship with them. Those who develop friendship with them are the wrongdoers.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah forbids you only about those who fought you on account of faith, and expelled you from your homes, and helped (others) in expelling you, that you have friendship with them. Those who develop friendship with them are the wrongdoers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It is only as regards those who fought against you on account of religion, and have driven you out of your homes, and helped to drive you out, that Allah forbids you to befriend them. And whosoever will befriend them, then such are the wrongdoers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah forbiddeth you only those who warred against you on account of religion and have driven you out from your homes and helped to drive you out, that ye make friends of them. Whosoever maketh friends of them - (All) such are wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah only forbids you from those who fight you because of religion and expel you from your homes and aid in your expulsion - [forbids] that you make allies of them. And whoever makes allies of them, then it is those who are the wrongdoers.

— Saheeh International

He only forbids you to be friends with those who have fought against you about the religion, expelled you from your homes or supported others in expelling you. Whoever loves these people are unjust.

— Muhammad Sarwar

Allah only forbids you respecting those who made war upon you on account of (your) religion, and drove you forth from your homes and backed up (others) in your expulsion, that you make friends with them, and whoever makes friends with them, these are the unjust.

— Muhammad Habib Shakir

Allah only forbiddeth you with regard to those who fought against you on account of religion and drave you out from your homes and helped in driving you out, that ye should befriend them. And whosoever shall befriend them, then those! they are the wrong-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah only forbids you, with regard to those who fight you for (your) Faith, and drive you out of your homes, and support (others) in driving you out, from turning to them (for friendship and protection). It is such as turn to them (in these circumstances), that do wrong.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 60:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

کفار سے محبت کی ممانعت کی دوبارہ تاکید کافروں سے محبت رکھنے کی ممانعت اور ان کی بغض و و عداوت کے بیان کے بعد اب ارشاد ہوتا ہے کہ بسا اوقات ممکن ہے کہ ابھی ابھی اللہ تم میں اور ان میں میل ملاپ کرا دے، بغض نفرت اور فرقت کے بعد محبت مودت اور الفت پیدا کر دے، کونسی چیز ہے جس پر اللہ قادر نہ ہو ؟ وہ متبائن اور مختلف چیزوں کو جمع کرسکتا ہے، عداوت و قساوت کے بعد دلوں میں الفت و محبت پیدا کردینا اس کے ہاتھ ہے، جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے (ترجمہ) الخ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہوگئے جیسے ماں جائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُمْتَحِنَة 13 سابقہ آیات میں کفار سے جس ترک تعلق کی ہدایت کی گئی تھی اس کے متعلق لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہو سکتی تھی کہ یہ ان کے کافر ہونے کی وجہ سے ہے۔ اس لیے ان آیات میں یہ سمجھا یا گیا ہے کہ اس کی اصل وجہ ان کا کفر نہیں بلکہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ ان کی عداوت اور ان کی ظالمانہ روش ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو دشمن کافر اور غیر دشمن کافر میں فرق کرنا چاہیے، اور ان کافروں کے ساتھ احسان کا برتاؤ کرنا چاہیے جنہوں نے کبھی ان کے ساتھ کوئی برائی نہ کی ہو۔ اس کی بہترین تشریح وہ واقعہ ہے جو حضرت اسماء بنت ابی بکر اور ان کی کافر ماں کے درمیان پیش آیا تھا۔ حضرت ابوبکر کی ایک بیوی قتیلہ بنت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ (الیٰ) اَنْ تَوَلَّوْهُمْ ، اس آیت میں ان کفار کا بیان ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ و قتال کر رہے ہوں اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے میں کوئی حصہ لے رہے ہوں، ان کے بارے میں ارشاد یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ موالات اور دوستی سے منع فرماتا ہے، اس میں برو احسان کا معاملہ کرنے کی ممانعت نہیں، بلکہ صرف قلبی دوستی اور دوستانہ تعلقات کی ممانعت ہے اور یہ ممانعت کچھ ان میں برسر پیکار دشمنوں کے ساتھ نہیں بلکہ اہل ذمہ اور اہل صلح کافروں کے ساتھ بھی قلبی موالات اور دوستی جایز نہیں، اس سے تفسیر مظہری میں یہ مسئلہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(انما ینھکم اللہ عن الذین قتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم و ظھروا علی اخراجکم ان تولو ھم ومن یتوتھم فاولیک ھو الظلمون) (9)۔ (روکا کن سے اور کس چیز سے گیا ہے ؟)۔ یہ صراحت کے ساتھ بتا دیا کہ اللہ تم کو کن لوگوں سے روکتا ہے اور خاص طور پر کس چیز سے روکا ہے۔ فرمایا کہ روک ان لوگوں سے رہا ہے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے جنگ کی ہے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے یا تمہارے نکالنے میں تمہارے دشمنوں کی مدد کی ہے اور روک جس چیز سے رہا ہے وہ صرف یہ ہے کہ ان کو اپنا دوست بنائو۔ دوست بنانے سے مقصود ظاہر ہے کہ یہی ہوسکتا ہے کہ تم ملت کے مفاد سے قطع نظر کر کے کسی معاملے میں اپنا دست ِ تعاون اس غرض…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 یعنی ارشاد الٰہی اور امر ربانی سے اعراض کرتے ہوئے۔ 9۔ 2 کیونکہ انہوں نے ایسے لوگوں سے محبت کی ہے جو محبت کے اہل نہیں تھے، یوں انہوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا کہ انہیں اللہ کے عذاب کے لئے پیش کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–9

4: یعنی جو غیر مسلم مسلمانوں سے نہ جنگ کرتے ہیں، اور نہ انہیں کوئی اور تکلیف دیتے ہیں، ان سے اچھا برتاؤ اور نیکی کا سلوک اللہ تعالیٰ کو ہرگز ناپسند نہیں ہے، بلکہ انصاف کا معاملہ کرنا تو ہر مسلم اور غیر مسلم کے ساتھ واجب ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی ایسے ظالموں سے دوستانہ برتاؤ کرنا بیشک سخت ظلم اور گناہ کا کام ہے۔ (ربط) یہاں تک کفار کے دو فریق (معاند اور مسالم) کے ساتھ معاملہ کرنے کا ذکر تھا۔ آگے بتلاتے ہیں کہ ان عورتوں کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہیے جو " دارالحرب " سے " دارالاسلام " میں آئیں یا " دارالحرب " میں مقیم رہیں۔ قصہ یہ ہے کہ " صلح حدیبیہ " میں مکہ والوں نے یہ قرار دیا کہ ہمارا جو آدمی تمہارے پاس جائے اس کو واپس بھیجنا ہوگا۔ حضرت محمد ﷺ نے اس کو قبول فرما لیا تھا۔ چناچہ کئی مرد آئے۔ آپ ﷺ نے ان کو واپس کردیا۔ پھر کئی مسلمان عورتیں آئیں۔ ان کو واپس کرتے تو کافر مرد کے گھر مسلمان عورتیں حرام میں پڑتیں۔ اس پر یہ اگلی آیتیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9 { اِنَّمَا یَنْہٰٹکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظٰہَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ } ”وہ تو تمہیں منع کرتا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں دوسروں کی مدد کی کہ تم ان کے ساتھ ولایت اور دوستی کا رشتہ قائم کرو۔“ { وَمَنْ یَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۔ } ”اور جو کوئی ان کے ساتھ دوستی کرے گا تو وہی لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔“ اب اگلی آیات میں خواتین سے متعلق چند مسائل کا ذکر آ رہا ہے جو صلح حدیبیہ 6 ہجری کے نتیجے میں سامنے آئے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

19 معاند قسم کے کافر ہی اسلام، پیغمبر اسلام، اہل اسلام اور اللہ کے دشمن ہیں۔ اور ایسے لوگوں سے دوستی دراصل اسلام اور اہل اسلام سے دشمنی کے مترادف ہے۔ لہذا اس قسم کے کافروں کو دوست بنانا یا ان سے راز و نیاز کی باتیں کہنا یا بتانا بڑے ظلم کی بات ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ ایسے محارب کافروں کے ساتھ معاملہ کے احکام ذمیوں اور غیر محاربین کے ساتھ برتاؤ کے احکام سے بالکل مختلف ہیں (آیت) ” قتلوکم فی الدین “۔ یہ قتال خواہ بالفعل واقع ہوچکا ہو یا بالعزم واقع ہونے کو ہو۔ (آیت) ” واخرجوکم ..... اخراجکم “۔ یا اخراج یا معاونت علی الاخراج خواہ بالفعل واقع ہوچکی ہو یا بالعزم واقع ہونے کو ہو۔ (آیت) ” ان تو لوھم “۔ ولایت یا دوستی سے یہاں بھی مراد وہی شفقت ورعایت والا برتاؤ ہے۔ 14۔ (اور حق تعالیٰ کے نافرمان) (آیت) ” الظلمون “۔ یعنی اپنے حق میں ظالم۔ (آیت) ” ومن یتولھم “۔ ولایت یا دوستی کے یہاں بھی معنی دوستی کا عملی برتاؤ رکھنے کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–9

لاینھکم الذین لم یقاتلو کم فی الدین (الآیۃ) اس مقام پر یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ دشمنی نہ کرنے والے کافروں سے حسن سلوک کرنا تو اچھی بات ہے مگر کیا انصاف بھی ان ہی کے لئے مخصوص ہے اور کیا دشمن کافروں کے ساتھ ناانصافی کرنا چاہیے ؟ جواب یہ ہے کہ عدل و انصاف تو ہر شخص کے ساتھ ضروری ہے، خواہ کافر ہو یا غیر کافر، حتی کہ اسلام کی تو یہ ہدایت ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کیا جائے اس میں کافر وغیرہ کافر اور حربی وغیرہ حربی سب برابر ہیں، بلکہ اسلام میں تو انصاف جانوروں کے ساتھ بھی ضروری ہے، اس آیت میں بھلائی اور احسان کرنے کی ہدایت ہے، ان ہی معنی کی رعایت کے لئے تقسطوا کو تعطوا کے معنی میں اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

انما ینھاکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین واخرجوکم من دیارکم ظاھروا علی اخراجکم ان تو لوھم ومن یتولھم فاولئک ھم الظلمون اللہ صرف ان لوگوں کے ساتھ ستی کرنے سے تم کو منع کرتا ہے جو دین کے بارے میں تم سے لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا (یعنی نکالنے کے درپے ہوئے) اور تمہارے نکالنے میں (نکالنے والوں) کی مدد کی اور جو شخص ایسوں سے دوستی کرے گا تو وہ (دوستی کرنے والے) گناہگار ہوں گے۔ “ اَلَّذِیْنَ قَاتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ : ان سے مراد ہیں مکہ کے وہ مشرک مرد جن میں سے کچھ لوگوں نے تو مسلمانوں کو نکالنے کی کوشش کی تھی اور بعض نے نکالنے والوں کی مدد کی تھی۔ اَنْ تَوَلَّوْھُمْ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

خزاعہ، خزیمہ اور بون مدلج نے حدیبیہ کے سال رسول اکرم سے اس چیز پر صلح کی آپ سے قتال نہیں کریں گے اور نہ مکہ مکرمہ سے کسی کو نکالیں گے اور نہ نکالنے میں کسی کی مدد کریں گے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ احسان کرنے سے نہیں روکا۔ البتہ مکہ والوں سے احسان کرنے اور صلہ رحمی کرنے سے منع فرمایا کیونکہ ان میں یہ تمام چیزیں موجود تھیں اور فرما دیا کہ جو ایسے لوگوں سے دوستی رکھے گا وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّمَا یَنْہٰکُمُ اللہ ُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰـتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ۔۔: ان لوگوں سے مراد وہ کفار ہیں جن کا تذکرہ شروع سورت سے آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 8–9

تفسیر قتلوکم یعنی دین کے خلاف تمہارے ساتھ جنگ کی۔ اخرجوا میں دائو ضمیر سے مراد اہل مکہ میں سے سرکش لوگ ہیں۔ وظھرا انہوں نے تمہیں نکالنے میں مدد کی اور وہ اہل مکہ کے مشرک ہیں۔ ان تولوھم میں ان محل جر میں ہے اور ان تبروھم سے بدل یہ۔ ومن یتولھم جوا انہیں اولیاء انصار اور احباب بناتا ہے۔ فاولئک ھم الظلمون یہی لوگ ظالم ہیں۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–9

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان بن حرب کو یمن کے بعض علاقہ پر عامل بنایا۔ جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے۔ تو وہ آرہے تھے کہ ایک اوڑھنی والے مرتد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سے قتال کیا۔ یہ پہلا آدمی ہے جس نے مرتد ہونے کے سبب کسی سے قتال کیا اور دین کے لیے جہاد کیا ابن شہاب (رح) نے کہا کہ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ۔ امید ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں دوستی پیدا کردے گا۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب سے اور انہوں نے ابی سلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[انمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ : اللہ تو بس روکتا ہے تم کو ][ عَنِ الَّذِينَ قٰتَلُوْكُمْ : ان سے جنھوں نے جنگ کی تم سے ][ فِي الدِّيْنِ : دین (کے بارے) میں ][ وَاَخْرَجوكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ : اور تم کو نکالا تمہارے گھروں سے ][ وَظٰهَرُوْا : اور باہم مدد کی ][ عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ : تم کو نکالنے پر ][ ان : (اس سے) کہ ][ تَوَلَوْهُمْ : تم لوگ دوستی کرو ان سے ][ وَمَنْ يَّتَوَلَهُمْ : اور جو دوستی کرے گا ان سے ][ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : تو وہ لوگ ہی ظلم کرنے والے ہیں ] نوٹ۔ 1 : انسانوں کے انسانوں کے ساتھ تعلقات کی چار سطحیں (levels) ہیں غیر مسلموں میں سے کس قسم کے غیر مسلم سے کس سطح…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

ہجرت کرنے کے بعد وطن سابق کے لوگوں سے تعلق رکھنے کی حیثیت جیسا کہ معلوم و معروف ہے جو حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تھے مکہ معظمہ میں ان کے رشتہ دار تھے جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا تھا طبعی طور پر مہاجرین کے دلوں میں اس کا احساس ہونا ممکن تھا کہ ان لوگوں سے تعلقات ٹوٹ گئے (لیکن ایمان وکفر کے مقابلہ کی وجہ سے تعلقات ٹوٹنا بھی ضروری تھا) اوپر جن آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے پہلی آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی ہے اور امید دلائی ہے کہ ایمان کی وجہ سے جن رشتہ داروں سے تعلقات ختم ہوگئے اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے اور ان کے درمیان مودت یعنی محبت پیدا فرما دے گا (یہ محبت اس طرح وجود میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

تسلی اہل ایمان بذکر بشارت و کامیابی مسلمین براعدائے اسلام و اجازت حسن سلوک از کافران امن پسند ومصالحین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عسی اللہ ان یجعل بینکم ..... الی فاولئک ھم الظلمون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار مشرکین کے ساتھ بغض ونفرت اور براءت وبیزاری کا ذکر تھا کہ یہی اسوۂ ابراہیمی ہے مسلمانوں کو اسی کو اختیاری کریں، اب ان آیات میں مستقبل قریب میں پیش آنے والے غلبہ اور کامیابی کا ذکر ہے اور ضمنا اشارہ ہے کہ کچھ تو میں کافروں میں سے ایمان لے آئیں گی اور یہ اجازت وہی جارہی ہے کہ جس کسی کافر نے اب تک مسلمانوں کے ساتھ کوئی قتال نہیں کیا اور نہ دشمنی کا کوئی معاملہ کیا اور نہ ہی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” انما ینھٰکم “ یہ ان کافروں کا بیان ہے جن سے موالات اور دوستی جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کافروں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے سے منع فرماتا ہے جو دین کی وجہ سے تمہارے ساتھ برسر پیکار رہے ہیں اور جنہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے یا نکالنے میں مدد دی ہے اس سے مراد مشرکین مکہ ہیں۔ وھم الرجال المشرکو من اھل مکۃ بعضہم سعوا فی اخراج المومنین و بعضہم اعانوا المخرجین (مظہری ج 9 ص 262) جو لوگ ایسے دشمنان اسلام سے دوستانہ تعلقات رکھیں گے وہ بہت بڑے ظالم ہیں اور اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–9

ربط آیات : حضور ﷺ کے صحابی سے غلطی ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے راز مشرکین مکہ تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سخت تنبیہ کی کہ…ایسی غلطی کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ پھر اللہ نے کافروں کے ساتھ مقاطعہ کا حکم دیا اور ان کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت فرمادی۔ فرمایا اللہ کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح دوستی نہیں ہوسکتی ، نہ انہیں اپنا راز دار بنایا جاسکتا ہے کیونکہ جب بھی انہیں موقع ملے گا وہ مسلمانوں کو نقصان ہی پہنچائیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اہل ایمان کو اذیتیں پہنچاتے ہیں۔ فرمایا تم نے تو یہ کام اپنے بیوی بچوں کو مصلحت کے لئے کیا ہے مگر قیامت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّمَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظٰہَرُوْا عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْہُمْ۝ 0 ۚ وَمَنْ يَّتَوَلَّہُمْ فَاُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ۝ 9 نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–9

ترکیب : اللہ فاعل عسی ‘ ان یعجل الجملۃ خبرھا مودۃ مفعول لیجعل ان تبروھم فی موضع جرعلی البدل من الموصول بدل البعض وتقسطوا معطوف علی تبروا منصوب بان ان تو لوھم بدل من الموصول (الذین) بدل الاشتمال ای ینھٰکم ان تتولوھم۔ تفسیر : پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کفار کی دوستی اور ملاپ سے منع کردیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بالکل ترک کردیا اور اس حکم کی پابندی میں یہاں تک مبالغہ کیا کہ حسن معاشرت کے قانون سے تجاوز ہوگیا۔ چناچہ بخاری (رح) نے نقل کیا ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس مکہ سے اس کی ماں آئی اس وقت کہ قریش میں اور نبی ﷺ میں معاہدہ قائم ہوگیا تھا۔ اسماء ؓ نے بغیر آنحضرت ﷺ سے دریافت کئے اپنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–9

لاَ یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِے الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ اِنَّمَا یَنْھٰـکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰـتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّن دِیَارِکُمْ وَظٰھَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْھُمْ ج وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الممتحنۃ : 8، 9) (اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملہ میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے،…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–9

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے ساتھ تعلقات میں استثناء۔ پچھلی آیت کے اختتام پر ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے یہ اس کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اس نے ہر کافر کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کرنے کا حکم نہیں دیا قطع تعلق اور لڑنے کا حکم ان کفار کے ساتھ ہے جو مسلمانوں پر زیادتی کرتے ہیں اور اسلام کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس نے صرف کفار کے ساتھ قلبی محبت، ازواجی تعلقات اور ان کو رازداں بنانے سے منع کی گیا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ، کاروبار اور سماجی تعلقات رکھنے سے منع نہیں کرتا جنہوں نہ دین کی وجہ سے تمہارے ساتھ جنگ کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

برتائو کی ممانعت : 9 : اِنَّمَا یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قَاتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظَاھَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْھُمْ (اللہ صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے تم کو منع کرتا ہے۔ جو دین کے بارے میں تم سے لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں مدد کی) ۔ نحو : یہ الذین قاتلوکم سے بدل ہے۔ مطلب یہ ہے ان لوگوں کے ساتھ نیک سلوک سے منع نہیں کیا البتہ ان کے ساتھ موالات اور گہری دوستی سے منع کیا ہے۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ فَاُولٰٓپکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ (اور جو شخص ایسوں سے دوستی اختیار کرے گا۔ تو وہ گناہ گارہوں گے) اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔” لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلو کم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں پر احسان نیکی کرنے سے نہیں روکتے جنہوں نے تم سے لڑائی نہیں کی۔ ” وتقسطوا الیھم “ تم ان کے بارے میں احسان کرکے انصاف کرو۔ ” ان اللہ یحب المقسطین “۔ آیات کا شان نزول ابن عباس ؓ فرماتے ہیں خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس بات پر صلح کی تھی کہ وہ آپ (علیہ السلام) سے لڑائی نہ کریں گے، آپ (علیہ السلام) کے خلاف اور لڑائی پر کسی کی مدد بھی نہ کریں گے۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان پر احسان کرنے میں رخصت دی اور عبداللہ بن زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ اسماء بنت ابی بکر کے بارے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–9

8۔ 9۔ صحیح بخاری 1 ؎ مسند امام احمد مسند بزار مستدرک حاکم میں جو روایتیں ہیں ان سے ان آیتوں کی شان نزول یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی شروع آیتوں میں مسلمانوں کو کافروں سے میل جول رکھنے کو منع فرمایا تو مکہ میں مسلمانوں کی رشتہ دار جو مشرک عورتیں تھی مسلمان مردوں اور عورتوں نے ان سے بھی میل جول ترک کردیا۔ چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طلاق دی ہوئی بی بی قتیلہ اپنی بیٹی حضرت اسماء کے پاس صلح کے زمانہ میں کچھ تحفہ لے کر مکہ سے مدینہ آئیں لیکن حضرت اسماء اپنی مشرک ماں سے نہیں ملیں اور اپنی ماں کا تحفہ بھی نہیں لیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ میل جول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ ) اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی۔ یعنی اللہ تعایل کے دین اور اس کے ماننے والوں سے عداوت رکھتے ہوئے تمہارے دین کی وجہ سے (وَاَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ وَظٰهَرُوْا عَلٰٓي اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ ۚ ) ور انہوں نے تمہیں تمہارے گھروں سے نکال دیا اور انہوں نے دوسروں کی مدد کی تمہیں تمہارے گھروں سے نکالنے میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں روک دیا اس بات سے کہ قول فعل میں تم نصرت اور مودت کے ساتھ ان سے دوستی رکھو رہا تمہارا (اپنے مشرک رشتے داروں کے ساتھ) نیک برتاؤ اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 8–11

مشرک کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان قول باری ہے (لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔ اللہ تمہیں ان لوگوں سے (حسن سلوک اور انصاف کرنے سے ) نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے) تا آخر آیت ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا کہ ان کی ایک مشرک ماں ہے جو ان کے پاس آئی ہوئی ہے، آیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ حضور ﷺ نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان لوگوں سے حسن سلوک اور انصاف کرنے سے (نہیں روکتا) ) اہل ذمہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 82] ظالموں سے دوستی بھی ظلم ہے۔ والعیاذ باللّٰہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تمہیں ان لوگوں کی دوستی سے روکتا ہے جنہوں نے دین کے بارے میں تم سے جنگ کی کہ یہ اللہ پاک کے حکموں کو توڑتے ہیں اور اللہ اور اس کے دین کے دشمن ہیں اور دلی دوستی جو کہ اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں کا حق تھا، اس کو جو لوگ اللہ کے دشمنوں کے ساتھ قائم کرتے ہیں وہ ظالم ہیں، کہ اس طرح یہ لوگ اپنی جانوں کے لئے عذاب کا سامان کرتے ہیں، تو یہ ظلم ہو اللہ پاک کے حقوق کے بارے میں بھی، دوسرے مسلمانوں کے حق میں بھی، اور خود ان لوگوں کی اپنی جانوں پر بھی، والعیاذ باللّٰہ العظیم۔ بہرکیف اس ارشاد کے ذریعے صراحت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–13

اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–13

آیات 7 تا 13۔ اسرار ومعارف۔ اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔ کافر سے تعلقات کی نوعیت۔ لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(60:9) ظاھروا : ماضی جمع مذکر غائب مظاھرۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے مدد کی۔ انہوں نے معاونت کی۔ انہوں نے پشتیبانی کی ان تولوہم : عن الذین میں الذین (اسم موصول) سے بدل ہے۔ یعنی اللہ تو ان سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جو دین میں تم سے لڑے۔ اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ اور تمہارے نکالنے پر اور لوگوں کی مدد کی۔ ان مصدریہ ہے تولوہم ۔ تولوا مضارع جمع مذکر حاضر ہے۔ اصل میں تتولون تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی تولون ہوگیا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ تولوا رہ گیا۔ تولی (تفعل) مصدر۔ ومن یتولہم : من شرطیہ ہے جملہ شرطیہ ہے۔ یتول مضارع مجزوم (بوجہ شرط) واحد مذکر غائب۔ تولی (تفعل) مصدر اصل میں یتولی تھا۔ ہم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–9

لغات القرآن۔ عسی ۔ شاید۔ امید ہے کہ ۔ عادیتم۔ تم نے دشمنی کی۔ ان تبروا۔ یہ کہ تم نیکی (نہ ) کرو گے۔ تفسطوا۔ تم انصاف کرو گے۔ تشریح : انسان دنیا کے کسی بھی خطے میں رہتا بستا ہوا اپنے گھرو الوں اور رشتہ داروں کی محبت کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد ان اہل ایمان سے جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر محض اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت میں مدینہ منورہ آگئے تھے ان سے فرمایا گیا کہ تم کافر رشتہ داروں سے قطع تعلق کرلو۔ ان کے ساتھ حسن سلوک سے نہیں بلکہ قلبی محبت رکھنے کو منع فرما دیا گیا تھا۔ اہل ایمان اس حکم پر پوری طرح عمل نہایت صبرو برداشت سے کر رہے تھے لیکن ان پر کیا گذر رہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 8–9

کافروں سے دوستی کی ممانعت : (ف 1) شان نزول : صحیح بخاری ، مسند امام احمد، بزاز، مستدک حاکم میں روایتیں ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو شروع آیتوں میں مسلمانوں کو کافروں سے میل جول رکھنا منع فرمایا تو مکہ میں مسلمانوں کی رشتہ دار جو مشرک عورتیں تھیں مسلمان مردوں اور عورتوں نے ان سے بھی میل جول ترک کردیا چناچہ ابوبکر صدیق ؓ کی طلاق دی ہوئی بی بی قتیلہ اپنی بیٹی حضرت اسماء کے پاس صلح کے زمانے میں کچھ تحفے لے کر مکہ سے مدینہ آئی لیکن حضرت اسماء اپنی مشرک ماں سے نہیں ملیں اور اپنی ماں کا تحفہ بھی نہیں لیا، اور رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول کریم نے اجازت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–10

[8] صلح حدیبیہ کے بعد جو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ کر مدینے آتے تھے تو معاہدے کی رو سے انہیں واپس کرنا پڑتا تھا۔ لیکن پھر کئی مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو کفار مکہ نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔ [9] یعنی وہ مسلمان ہو کر کافر شوہروں کی زوجیت سے خارج ہوگئیں اور ان کے نکاح خودبخود ٹوٹ گئے۔ [10] یعنی جو مہر کافروں نے دئیے تھے وہ ان کو واپس کردو۔ [11] یعنی اب جو مسلمان بھی ان میں سے کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے وہ اس کا مہر ادا کرے اور اس سے نکاح کرے۔ یہ ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ اب اس سے نکاح کرنے والا مسلمان یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ابھی ایک مہر تو اس کے کافر شوہر کو واپس کیا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 8–9

بےضرر غیر مسلموں سے تعلقات مودت 1: اس آیت میں بہت بڑی غلط فہمی کو دور کردیا ہے ۔ جو ان گزشتہ آیات کو سن کر اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتی ہے ۔ جو نظام اسلامی کی باریکیوں کو سمجھنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔ وہ یہ کہہ سکتا تھا ۔ کہ اسلام مسلمانوں کو عام معاشری تعلقات تودہ سے روکتا ہے ۔ اور اس انسانی ہمدردی کو جو فطری طور پر انسانوں میں اپنے بنی نوع کے لئے موجود ہے ۔ کچل دینا چاہتا ہے ۔ اور یہ کہ اس مذہب میں دنیا کے مدنی مذہب ہونے کی صلاحیت نہیں ۔ کیونکہ یہ غیر مسلموں سے ہمدردانہ اور آئینی تعلقات کو برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ فرمایا ۔ یہ غلط ہے ۔ وہ لوگ جو تم سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں ۔ جن سے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) سوائے اس کے نہیں کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں سے دوستی کرنے کو منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی ہو اور تم کو تمہارے گھروں سے اجاڑا اور نکالا ہو اور تمہارے خلاف تمہارے نکالنے والوں کی مدد کی ہو اور جو لوگ ایسے کفار اور اس قسم کی جارحانہ کاروائیاں کرنے والے کفار سے دوستی کریں گے اور دو ستانہ برتائوکریں گے تو یہی لوگ ہیں گنہگار۔ یعنی صرف ان لوگوں سے موالات اور دوستی کو اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے جو تم سے دین کے حق میں لڑتے رہے اور دین کے بارے میں تم سے جنگ کرتے رہے تم کو تمہارے وطن سے نکالا تم کو تمہارے گھروں سے اجاڑا اور ان لوگوں کی اعانت کی اور ان کی مدد کی جو تم کو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 4۔ یعنی بر و احسان سے۔ 5۔ یعنی ان کے ساتھ شریک ہوں بالفعل یا بالعزم، اس میں سب حربی غیر مصالح آگئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

زیادتی پر زیادتی کرنے والوں کے ساتھ محبت کی پینگیں چڑھانے سے تم کو منع کیا گیا ہے 9 ؎ اسلام صلح و آتشی کا دین ہے جو اس کو نہ چھیڑے وہ اس کی مخالفت کبھی نہیں کرتا کفرو اسلام کا مطالعہ اللہ رب کریم سے ہے اور وہ آخرت کی خرابی کا باعث ہے ، دنیا میں اگر کوئی امن وامان سے رہنا پسند کرتا ہے تو اسلام ان کی مزاحمت کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے۔ ززیر نظر آیت میں آٹھویں آیت کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ اسلام نے جو مسلمانوں کو ہدایت دی تھی کفر کے مقابلہ میں سختی کرنے کی تو وہ محض ان کافروں کے مقابلہ میں تھی جنہوں نے اسلام کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف آگ بھڑکا رکھی تھی اور نبی کریم ﷺ کے قتل کرنے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

إِنَّمَا يَنْهَاكُمُ اللَّـهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَأَخْرَ‌جُوكُم مِّن دِيَارِ‌كُمْ وَظَاهَرُ‌وا عَلَىٰ إِخْرَ‌اجِكُمْ أَن تَوَلَّوْهُمْ (Allah forbids you only from having friendship with those who fought you on account of faith, and expelled you from your homes, and helped (others) in expelling you....60:9) This verse speaks of those unbelievers who fought the Muslims in the matter of religion, drove them from their homes or supported their expulsion. These are hostile disbelievers and the Divine injunction in connection with them is abstain from having friendly or…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

13 The instructions to sever relations with the disbelievers given in the preceding verses, could cause the people the misunderstanding that this was because of their being the disbelievers. Therefore, in these verses it has been made clear that its actual cause is not their disbelief but their hostility to Islam and their tyrannical treatment of the followers of Islam. The Muslims, therefore, should distinguish between the hostile disbeliever and the non-hostile disbeliever, and should treat those disbelievers well who have never treated them evilly. Its best explanation is the incident that…

Read the full tafseer →