60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 60:1–6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو حالانکہ تمہارے پاس جو (دین) حق آچکا ہے ، وہ اس کے منکر ہیں۔ پیغمبر کو اور تم کو اس وجہ سے کہ تم اللہ ، اپنے پروردگار پر ایمان لاچکے ہو ، شہر بدر کرچکے ہیں۔ اگر تم میرے رستے پر جہاد کرنے اور میری رضامندی پانے کی غرض سے (گھروں سے) نکلے ہو ، تم ان سے چپکے سے دوستی کی باتیں کرتے وہ حالانکہ مجھے خوب معلوم ہے جو تم چھپا کر کرتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔ اور جو شخص تم میں سے ایسا کرے گا تو یقینا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر یہ تم پر قابو پائیں تو (فوراً ) تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر اپنے ہاتھ (بھی) چلائیں اور اپنی زبانیں (بھی) اور وہ چاہتے ہیں کہ تم کافر ہوجاؤ

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتہ دار کام آئیں گے اور نہ تمہاری اولاد۔ وہ (اللہ) تمہارے درمیان فیصلہ فرمائیں گے اور اللہ تمہارے سب اعمال کو دیکھتے ہیں

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

یقینا تمہارے لئے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور جو لوگ (اطاعت میں) ان کے ساتھ تھے ایک اچھا نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ بیشک ہم تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو ، ان سے بےتعلق ہیں۔ ہم تمہارے (عقیدے کے) منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے کھلی دشمنی اور بغض رہے گا جب تک کہ تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ۔ ہاں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے ضرور بخشش طلب کروں گا۔ اور میں اللہ کے سامنے آپ کے لئے کسی بات کا اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم آپ پر بھروسہ کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور (ہمیں) آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ! ہم کو کافروں کے ہاتھ سے مصیبت میں نہ ڈالیے اور اے ہمارے پروردگار ! ہمارے گناہ معاف فرمائیے۔ بیشک آپ زبردست حکمت والے ہیں

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں (کے طرز عمل) میں تمہارے لئے عمدہ نمونہ ہے ایسے شخص کے لئے جو اللہ (کے سامنے جانے) اور قیامت کے دن کی امید رکھتا ہو۔ اور جو روگردانی کرے تو یقینا اللہ ہی بےنیاز ، تعریف کے سزاوار ہیں

آیات 1 تا 6۔ اسرار ومعارف۔ اے ایمان والو ! کفار جو کہ میرے بھی دشمن ہیں اور تمہارے بھی اللہ کے دشمن اس لیے کہ اس کے نبی اور دین کے دشمن ہیں تمہارے دشمن بھی تمہارے مسلمان ہونے کے باعث ہیں تو ان سے کبھی دلی دوستی نہ رکھو کیا تم ایسے لوگوں سے دوستی کرنا چاہوگے جنہوں نے اس سچے اور برحق دین کا انکار کیا جو تمہیں نصیب ہو اور اللہ کے رسول کو شہر سے نکال دیا اور تمہیں بھی ہجرت پر صرف اسلیے مجبور کردیا کہ تم اللہ رب العزت پر ایمان رکھتے ہو اور پھر جب ان کے ساتھ حالت جنگ میں ہو اور میری رضا کے حصول کی خاطر جان کی بازی لگاچکے ہوپھردل میں یاخفیہ طور پر کفار سے دوستی کی تمنا یا ان سے بھلے کی امید کیسی جب اللہ تمہاری ہر خفیہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے تو اگر کسی نے کفار سے دوستی کے لیے کوئی خفیہ کوشش بھی کی تو وہ گمراہ ہوجائے گا پہلے یہ بات گزرچکی کہ اخلاق اور مروت نیز دنیا کا کاروبار اس حد تک دین پر یا مسلمانوں کے مفاد پر حرف نہ آئے درست مگر مسلمانوں کو کفار کا تابع بنادینا اور ان پر کافرانہ نظام ٹھونس دینا تو کھلی گمراہی ہے۔ اوریاد رکھو اگر کبھی تم کفار کے ہاتھ آجاؤ تو تم سے کوئی رعایت نہ کریں گے اور سخت ترین دشمن ثابت ہوں گے تمہیں قتل بھی کریں گے ایذا بھی دیں گے اور طعنے بھی دیں گے اور چاہیں گے کہ تم اسلام ترک کرکے کافر ہوجاؤ نیز اس ڈر سے کہ خاندان بچ جائے گایامال بچالوں کافروں کی صحبت اختیار کی تو تمہارے مال ار تمہاری اولاد کام نہ آئے گی بلکہ تمہارے سب امور کا فیصلہ تو اللہ کرے گا جو تمہارے ہر کام سے باخبر ہے۔ تمہارے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خوبسورت مثال موجود ہے اور ان لوگوں کی جو ان کے ساتھ تھے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ ہم تم سے الگ ہوتے ہیں اور تمہارے باطل معبودوں سے بھی اور تمہارے نظریے اور نظام کا انکار کرتے ہیں اور آج سے ہمارے تمہارے درمیان دشمنی شروع ہوگئی جو ہمیشہ رہے گی یاپھرتم اللہ واحد پر ایمان لے آؤ تو یہ دشمنی دوستی میں بدل سکتی ہے ہم میں کوئی تبدیلی نہ آئے گی۔ سوائے اپنے والد کے ان پر ایمان لانے کی امید تھی تو فرمایا کہ میں تمہارے لیے دعا کروں گا مگر دعادرخواست ہوتی ہے یہ نہیں کہ میں کوئی فیصلہ کا اختیار رکھتا ہوں وہ اللہ کے دست قدت میں ہے اور پھر اپنے رب سے کہا ہم تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں اور تیری بارگاہ میں رجوع کرتے ہیں کہ آخر سب کو تیرے حضور میں پیش ہونا ہے اور اے اللہ جب ہم کفار کو چھوڑ چکے تو ہمیں ان کے غلبہ سے محفوظ رکھ اور کسی آزمائش میں نہ ڈال اور ہمیں معاف فرمادے کہ تو غالب ہے حکمت والا۔ تو اے مسلمانو ! تمہارے لیے خوبصورت انداز ہی سجتا ہے اور ہراس آدمی کے لیے جو اللہ پر اور آخر تکے دن پر امید رکھتا ہے اور یہ بھی جان لو کہ اگر کسی نے مسلمان ہوتے ہوئے کافروں سے ایسی دوستی کی جس سے اسلام یا مسلمان کا نقصان ہو تو اللہ بےنیاز ہے اور سب تعریفوں کا مالک اسے ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں۔
Ayahs 60:7–13

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور جن لوگوں سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا فرمادیں اور اللہ قادر ہیں اور اللہ بخشنے والے مہربانی ہیں

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تمہیں منع فرماتے ہیں۔ بیشک اللہ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتے ہیں

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

بیشک اللہ ان لوگوں سے تم کو منع فرماتے ہیں جنہوں نے دین کے بارے تمہارے ساتھ جنگ کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں (اوروں کی) مدد کی ، کہ ان سے دوستی کرو۔ اور جو ان سے دوستی کریں گے تو وہی ظالم ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان کرلیا کرو۔ اللہ ہی ان کے ایمان کو خوب جانتے ہیں۔ پس اگر تم ان کو ایمان والیاں سمجھو تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو۔ نہ وہ عورتیں ان (کافروں) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ اور انہوں (کافروں) نے جو کچھ خرچ کیا ہو ان کو ادا کردو۔ اور تم پر کوئی گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو انکے مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو واپس کر دو ) ۔ اور ان پر جو خرچ کیا ہو ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں۔ یہ اللہ کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتے ہیں اور اللہ جاننے والے حکمت والے ہیں

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیبیوں میں سے کوئی بی بی تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے تو ان (کافروں) سے جنگ کرو (اور ان سے تم کو غنیمت ملے) تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان لوگوں کو اتنا دے وہ جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! جب مومن عورتیں آپ کے پاس اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھوں اور پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی (کہ بہتان کی اولاد لے آئیں) اور نیک کاموں میں آپ کی نافرمانی نہ کریں گی۔ تو ان سے بیعت لے لیجئے اور ان کے لئے اللہ سے بخشش طلب فرمائیں۔ بیشک اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان لوگوں سے (بھی) دوستی مت کرو جن پر اللہ نے غضب فرمایا وہ آخرت سے ایسے ناامید ہوگئے ہیں جیسے کفار قبر والوں (کے دوبارہ جی اٹھنے) سے ناامید ہیں

آیات 7 تا 13۔ اسرار ومعارف۔ اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔ کافر سے تعلقات کی نوعیت۔ لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے ہیں۔ مگرجوکفار مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں محض مسلمان ہونے کی بنا پر اور ان کے گھروں کو تباہ کریں یا ان کو گھروں سے نکالنے میں شریک ہوں ان سے دوستی کرنے سے اللہ منع فرماتا ہے اگرچہ عدل تو سب کے ساتھ ہوگا۔ امریکہ اہل مغرب اور مسلمان۔ مگر ایسے کافروں سے دلی دوستی بھی حرام ہے اور ایسالین دین بھی جو ان کی طاقت بڑھانے کا سبب بنے جس سے وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں جس طرح سے آج امریکہ یا مغربی ممالک اور مسلمان کہ اکثر مسلمان ملکوں کا سرمایہ اور مسلمان سرمایہ داروں کی رقوم ان کے بنکوں میں ہیں جس کی وجہ سے وہ طاقتور ہو کر خود مسلمانوں کو تباہ کرنے پر لگے ہوئے ہیں ایسا کرنے والے سخت ظلم کرنے والے ہیں۔ ان مسلمان عورتوں سے جو دارالکفر سے ہجرت کرکے آئیں جبکہ ان کے شوہر مسلمان نہ ہوں توکیاسلوک کیا جائے گا۔ صلح حدیبیہ کے بعد کچھ خواتین مکہ سے مدینہ پہنچیں جبکہ ابھی ان کے خاوند مسلمان نہ ہوئے تھے تو ان کے خاوند بھی مطالبہ لے کر آئے کہ معاہدے کے مطابق انہیں واپس کیا جائے جس پر آپ نے وضاحت فرمائی کہ معاہدہ مردوں کے لیے ہے اس میں خواتین شامل نہیں لہذا مسلمان عورت کافر شوہر کو واپس نہ کی جائے گی اسی پر یہ حکم نازل ہوا کہ اے ایمان والو اگر کوئی عورت مسلمان ہوجائے اور دارالکفر سے دارالسلام پہنچ جائے تو اپنے طور پر اس کے مسلمان ہونے اور صرف دین کی خاطر ہجرت کرنے کی تحقیق ضرور کرلو اور حقیقت حال تو اللہ بہتر جاتا ہے لیکن تمہیں اعتبار آجائے کہ یہ مسلمان ہوچکی ہے تو پھر کفا ر کو واپس نہ کرو کہ اب نہ یہ کافر مرد کے لیے حلال ہے اور نہ کافر مرداس کے لیے ہاں کافر مرد نے اسے جو رقم بطور مہر کے دی ہو وہ اس کو لوٹا دے اب جائز ہے کہ تم ان سے نکاح کرلو اور انہیں اپنی طرف سے مہر دو ۔ مسئلہ۔ کافر مرد کی بیوی مسلمان ہوجائے اور دارالکفر سے دارالاسلام پہنچ جائے تو اس کا نکاح ختم ہوگیا اب وہ مسلمان مرد سے شادی کرسکتی ہے ہاں اس پہلے مرد کا مہر لوٹایاجائے گا اور مسلمان خاوند اپنامہر الگ سے دے گا۔ مہر اگرچہ شرط نکاح نہیں نکاح اس کے بغیر بھی ہوجاتا ہے ہاں واجب ہے کہ دیاجائے ۔ اور اگر کسی مسلمان کی بیوی کافرہ تھی جس نے اسلام قبول نہ کیا ہو تو اس کا نکاح بھی ختم ہوگیا اسے روک کر مت رکھو ہاں کفار سے مہر کی رقم وصول کرویہ دونوں طرف کے ذمہ داروں یاحکومتوں کی ذمہ داری ہے اس حکم کے نزول کے بعد کفار سے نکاح ختم ہوگیا۔ اہل کتاب سے نکاح۔ اہل کتاب سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے صرف آپ کی نبوت کو نہیں مانا مگر ان کے عقیدے پہلی کتابوں کے مطابق ہیں آج کے یہود ونصاری تو ان کتابوں کی تحریف کرنے کے بعد ان سے بھی منکر ہیں لہذا ان سے نکاح درست نہیں۔ دارالاسلام۔ لہذا مسلمان کی بیوی کافرہ تھی یا کافر کی بیوی مسلمان ہو کر چلی آئی شرط یہ ہے کہ وہ داراسلام میں پہنچ گئی تو نکاح ختم ہوگیا اب دونوں کے لیے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کا مہر لوٹا دیں۔ افسوس کہ پاکستان فی الحال دارالاسلام نہیں علماء حق نے انگریز کے غلبہ کے بعد جب اسلامی نظام کی بساط لپیٹ دی گئی اور انگریزی نظام نافذ ہوا تو اسے دارالحرب قرار دیا تھا انگریز چلا گیا مگر نظام انگریزی باقی ہے لہذا ابھی وہی فتوی بھی باقی ہے یہ حکم کہ جانبین ایک دوسرے کا مال لوٹا دیں اللہ کا ہے جو سب میں انصاف کا حکم کرتا ہے کہ وہ جاننے والا اور حکمت والا ہے لیکن اگر کافر اس کی تعمیل نہ کرے اور کافر عورت جو کسی مسلمان کی ادھر رہ جائے اس کا مہرواپس نہ کرے تو مسلمان بھی آنے والی عورتوں کا مہر روک لیں اور ان مردوں کو دیں جن کا مال کافروں نے روک لیا ہے لیکن انصاف سے ہو اس میں زیادتی نہ کی جائے اور اللہ کی عظمت کا احساس رہے کہ تم اس پر ایمان رکھتے ہو اور اے نبی اگر خواتین مسلمان ہو کر آئیں اور اس شرط پر بیعت کرنا چا ہیں کہ وہ اللہ سے شرک نہ کریں گی چوری اور بدکاری نہ کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی نہ ہی کوئی بہتان لگائیں گی اور ہر بھلے کام میں آپ کی اطاعت کریں گی یعنی ہر برائی سے بچنے کی پوری پوری کوشش کریں گی تو ان کو بیعت فرمالیجئے کہ بیشک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے لہذا آپ ان کے لیے اللہ کی بخشش طلب فرمائیے۔ خواتین کی بیعت ۔ خواتین کی بیعت کا حکم بھی موجود ہے اور خود نبی علی السلام سے ثابت ہے مگر مردوں کی طرح ان کے ہاتھ پر ہاتھ نہیں رکھاجاتا آپ نے زندگی بھرنامحرم عورتوں کو چھوا تک نہیں۔ غضب الٰہی کی صورت۔ اور اے مسلمانوا بھلا ایسے لوگوں سے کیا دوستی جن پر اللہ کا غضب ہو اور وہ آخرت سے اتنے ہی ناامید ہوچکے ہوں جتنے کہ مرنے کے بعد والے کافر کہ حالات منکشف ہونے کے بعدا نہیں یقین ہوجاتا ہے کہ آخرت میں ہمارے لیے کچھ بھی نہیں سوائے عذاب کے توغضب الٰہی کی صورت یہ ٹھہری کہ جس بندے کو آخرت کا خوف نہ رہے وہ سمجھ لے کہ اس پر اللہ کا غضب ہے۔