60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

مومنو ! ! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لئے (مکے سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناو تم تو انکو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ (دین) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں۔ اور اس باعث سے کہ تم اپنے پروردگار خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے ہو پیغمبر کو اور تم کو جلا وطن کرتے ہیں تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علی الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

تفسیر اتخذ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے۔ وہ عدوکم اولیاء ہے عدویہ عدا سے فعول کا وزن ہے جس طرح عفو، عفا سے ہے کیونکہ اس کا وذن مصدر کا ہے اس طرح یہ جمع پر اس طرح صادق آتا ہے جس طرح واحد پر صادق آتا ہے۔ اس آیت میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یا یھا……… ائمہ نے حضرت علی شیرا خدا ؓ سے روایت نقل کی ہے جبکہ الفاط امام مسلم کے ہیں (1) ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھے، حضرت زبیر اور حضرت مقداد کو بھیجا۔ فرمایا : ” روضہ خاخ (جگہ کا نام) جائو وہاں ایک ہودج میں عورت ہوگی اس کے پاس خط ہے وہ خط اسے لے لو “۔ ہم چلے ہمارے گھوڑے ہمیں لے کر دوڑ رہے تھے تو اچانک ہم اس عورت تک جا پہنچتے ہیں ہم نے کہا : خط نکال دو ۔ اس نے کہا : میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے کہا : خط نکال دو یا تو اپنے کپڑے اتارے گی۔ اس نے اپنے جوڑے سے وہ خط نکال دیا۔ ہم وہ خط رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں لے آئے تو اس میں یہ تھا۔ “ حاطب ب ابی بلتعہ کی جانب سے اہل مکہ کے مشرکوں کی جانب “۔ وہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے ارادہ کے بارے میں آگاہ کر رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” اے حاطب ! یہ کیا ہے ؟ “ عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھ پر جلدی نہ کیجئے۔ میں ایسا شخص ہوں جو قریش کے ساتھ وابستہ کردیا گیا ہے۔ سفیان نے کہا : وہ ان کے حلیف تھے وہ قریش کے خاندان میں سے نہ تھے۔ آپ کے ساتھ جو مہارجین ہیں وہاں ان کے رشتہ دار ہیں جو ان کے اہل کی حفاظت کرتے ہیں جب کہ میرا وہاں کوئی رشتہ نہیں تو میں نے یہ پسند کیا کہ میں ان میں ایک ایسا احسان کروں جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں۔ میں نے یہ عمل کفر یا دین سے ارتداد اختیار کرتے ہوئے نہیں کیا اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کرنے کی وجہ سے کیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اس نے سچ کہا ہے “۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے اجازت دیجئے میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ فرمایا :” یہ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ اہل بدر کے اعمال پر مطلع تھا اسی لئے ارشاد فرمایا : جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دی ا ہے “۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا نازل فرمایا : یایھا ………۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ عورت سارہ تھی جو قریش کے غلاموں میں سے تھی (2) ۔ خط میں یہ تھا اما بعد فان ……………۔ اما بعد رسول اللہ ﷺ ایک ایسے لشکر کے ساتھ روانہ ہونے والے ہیں جو رات کی مانند ہے۔ سیلاب کی طرح چلے گا۔ میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں اگر آپ صرف اکیلے ہی تمہاری طرف چلیں تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو تم پر کامیابی عطا فرمائے گا وہ اپنے وعدہ کو پورا کرے گا بیشک اللہ تعاولیٰ اس کا حمایتی اور مددگار ہے ؛ یہ بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ قشیری اور ثعلبی نے یہ ذکر کیا ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ یم کے باشندے تھے ان کا مکہ مکرمہ میں بنی اسد بن عبد العزی جو حضرت زبیر بن عوام کا خاندان تھا سے معاہدہ تھا ،۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت زبیر بن عوام کے حلیف تھے۔ مکہ مکرمہ سے ابو عمرو بن صیفی بن ہشام بن عبد مناف کی لونڈی سارہ مدینہ طیبہ اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی جبکہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے لئے لشکر کی تیاری میں مصروف تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حدیبیہ کا سال تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اے سارہ کیا تو ہجرت کر کے آئی ہے ؟ “ اس نے عرض کی : نہیں۔ پوچھا :” کیا تو مسلمان ہو کر آئی ہے ؟ “ اس نے عرض کی : نہیں۔ پوچھا :” کس وجہ سے آئی ہو ؟ “ اس نے عرض کی : آپ لوگ ہی میرے اہل، آقا، اصل اور خاندان تھے سب آقا تو چلے گئے یعنی غزوہ بدریں قتل ہوگئے۔ میں سخت مصیبت کا شکار ہوگئی میں آپ لوگوں کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوئی ہوں تاکہ تم مجھے مال اور لباس دو ۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اہل مکہ کے جوانوں کا تیرے ساتھ کیا سلوک ہے ؟ “ وہ لونڈی مغنیہ تھی۔ اس نے عرض کی : واقعہ غزوہ بدر کے بعد مجھ سے کسی نے گانے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے بنی عبد المطلب اور بنی مطلب کو رغبت دلائی کہ وہ اسے مال عطا کریں۔ انہوں نے اسے مال عطا کیا، لباس دیا اور اسے سواری دی اور وہ مکہ مکرمہ کی طرف روانہ ہوگئی۔ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اس کے پاس آئے فرمایا : میں تجھے دس دینار اور دھاری دار چادریں دوں گا مگر شرط یہ ہے کہ تو میرا یہ خط اہل مکہ تک پہنچا دے۔ خط میں یہ تحریر تھی۔ رسول اللہ ﷺ تمہارا ارادہ رکھتے ہیں اس لئے محتاط رہو۔ سارہ لونڈی وہاں سے نکلی تو حضرت جبریل امین حاضر ہوگئے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے اس بارے میں آگاہ کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی، حضرت زبیر اور حضرت ابو مرثد غنوی کو بھیجا۔ ایک روایت میں ہے : حضرت علی اور حضرت عمار بن یاسر کو بھیجا۔ ایک روایت میں ہے : حضرت علی، حضرت عمار، حضرت عمر، حضرت زبیر، حضرت طلحہ، حضرت مقداو ور حضرت ابو مرثد کو بھیجا۔ یہ سب شاہسوار تھے۔ انہیں فرمایا :” تم چلو یہاں تک کہ تم روضہ خاخ پہنچو گے۔ وہاں ہودج میں ایک عورت ہوگی اس کے پاس حاطب بن ابی بلتعہ کا مشرکوں کے نام خط ہوگا، وہ اس سے لے لینا اور اسے چھوڑ دینا۔ اگر وہ خط تمہیں نہ دے تو اسے قتل کردینا “۔ ان صحابہ نے اسے وہاں ہی پایا۔ صحابہ نے پوچھا : خط کہاں ہے ؟ اس نے قسم اٹھا دی اس کے پاس کوئی خط نہیں۔ صحابہ نے اس کے سامان میں خط کو تلاش کیا خط اس میں نہ ملا۔ صحابہ نے واپس لوٹنے کا ارادہ کرلیا۔ حضرت علی شیر خدا نے کہا : اللہ کی قسم ! رسول اللہ ﷺ نے ہم سے جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی ہم نے آپ کو جھٹلایا ہے۔ اور اپنی تلوار سونت لی۔ فرمایا : خط نکال دو بصورت دیگر میں تیرے کپڑئے اتادوں گا اور تیری گردن اتاردوں گا۔ جب اس نے آپ کے پختہ ارادہ کو دیکھا تو خط اپنی مینڈھیوں سینکال دیا۔ ایک روایت میں ہے : جہاں تہہ بند باندھا جاتا ہے وہاں سے نکال دیا۔ انہوں نے اسے جانے دیا اور خط رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطب کو بلا بھیجا پوچھا : ” کیا تو یہ خط پہنچانتا ہے “۔ عرض کی : جی ہاں۔ پھر تمام واقعہ بیان کیا۔ روایت بیان کی جاتی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے تمام لوگوں کو امان دے دی مگر چار افراد کو امان نہ دی یہ سارہ لونڈی ان میں سے ایک تھی۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ یہ سورت کفار کے ساتھ دوستی سے نہی میں اصل ہے۔ یہ بحث کئی مواقع پر گزر چکی ہے جیسے ……(آل عمران : 188)……(المائدہ :51) اس جیسی کثیر آیات ہیں۔ حضرت حاطب بن بلتعہ کو جب مومن ہونے کی حیثیت میں خطاب کیا گیا تو ان پر غشی طاری ہوگئی۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ ……تم ظاہر سے ان کی طرف محبت کا اظہار کرتے ہو (1) کیونکہ حضرت حاطب کا دل اس سے محفوظ تھا اس کی دلیل نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد تھا نبی کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا : اما صاحبک فقد صدق جہاں تک تمہارے ساتھی کا تعلق ہے تو اس نے سچ کہا ہے۔ یہ ارشاد اس کے دل کی سلامتی اور اعتقاد کے درست ہونے پر نص ہے۔ بالودۃ میں باء زائدہ ہے جس طرح تو کہتا ہے : قرات السورۃ، قرات بالسورۃ۔ رمیت الیہ ما فی نفسی رمیت الیہ بما فی نفسی یہ بھی جائز ہے کہ باء زائدہ نہ ہو اس صورت میں تلقون کا مفعول مخدوف ہوگا۔ اس کا معنی ہوگا تم رسول اللہ ﷺ کی خبریں ان کو پہچانتے ہو کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان محبت موجود ہو (2): اسی طرح …… میں باء سیبیہ ہے۔ فراء نے کہا : …… میں باء اولیاء سے متعلق ہے اور مودۃ پر باء داخل کرتا اور داخل نہ کرنا برابر ہے۔ یہ بھی جائز ہے یہ … کے ساتھ متعلق ہو او حال ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ اس کا تعلق اولئاء کے ساتھ ہو اور یہ صفت ہو۔ یہ بھی جائز ہے کہ یہ جملہ مستانفہ ہو۔ …… تم مسلمانوں کے رازا نہیں بتاتے ہو اور ان کے مخلص بنتے ہو ؛ یہ زجاج کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ جو مسلمانوں کے رازوں پر آگا ہو اور ان کی خبریں دشمنوں کو بتائے اگر اس کا فعل دنیوی غرض کے لئے ہو تو اس وجہ سے وہ کافر نہیں ہوگا جبکہ اس کا اعتقاد صحیح ہو جس طرح حضرت حاطب بن بلتعہ ؓ نے ان پر احسان کے رادہ سے ایسا کیا اور دین سے ارتداد کی خاطر ایسا نہیں کیا۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ جب ہم نے یہ کہا کہ وہ اس کی وجہ سے کافر نہیں، کیا وہ اس جرم کی وجہ سے حدا قتل کیا جائے گا یا نہیں ؟ علماء نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ امام مالک، ابن قاسم اور اشہب نے کہا : امام اس میں اجتہاد کرے گا۔ عبد الملک نے کہا : ہے کیونکہ اس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور اس کی کاوش سے زمین میں فساد برپا ہوا ہے۔ ابن ماجثون نے اس میں تکرار کو بنیاد بنایا ہے کیونکہ حضرت حاطب تو پہلی دفعہ ہی پکڑے گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ اگر جاسوس کا فر ہو تو اوزاعی نے کہا : اس کو قتل اس لئے کیا جائے گا کیونکہ اس نے اپنے عہد کو توڑا ہے۔ اصبغ نے کہا : حربی جاسوس قتل کیا جائے گا۔ جاسوس مسلمان ہو یا ذمی ہوا انہیں سزا دی جائے گی مگر جب وہ اسلام کے خلاف کام کریں تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ جاسوس مسلمان ہو ذمی ہوا انہیں سزا دی جائے گی مگر جب وہ اسلام کے خلاف کام کریں تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ جاسوس مسلمان ہو یا ذمی ہو انہیں سز ادی جائے گی مگر جب وہ اسلام کے خلاف کام کریں تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ جاسوس مسلمان ہو یا ذمی ہو انہیں سزا دی جائے گی مگر جب وہ اسلام کے خلاف کام کریں تو انہیں قتل کردیا جائے گا۔ حضرت علی شیر خدا ؓ سے مروی ہے : رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں مشرکوں کا ایک جاسوس پیش کیا گیا جس کا نام فرات بن حیان تھا (3) ۔ اسے قتل کرنے کا حکم دیا گیا وہ چلایا اے جماعت انصار ! مجھے قتل کیا جائے گا جبکہ میں لا الہ اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہوں۔ نبی کریم ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے چھوڑ دیا گیا پھر فرمایا :” تم میں سے جسے میں اس کے ایمان کے سپرد کرتا ہوں۔ ان میں سے ایک فرات بن حیان ہے “ (1) ۔ وقد کفروا حال ہے یا تو لا تتخذوا کی ضمیر سییاتلقون کی ضمیر ہے یعنی تم ان سے دوستی اختیار نہ کرو اور تم ان سے محبت نہ کرو جبکہ اس کی یہ حالت ہو۔ حجدری نے یہ کہا : بما جاء کم کا معنی ہے انہوں نے کفر کیا کیونکہ تمہارے پاس حق آیا۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ …… یہ نئی کلام ہے جو ان کے کفر اور سرکشی کی تفسیر بیان کرتی ہے یا یہ کفروا اسے حال ہے۔ …… کی علت ہے معنی ہے وہ رسول اللہ ﷺ اور تمہیں مکہ مکرمہ سے نکالتے ہیں کیونکہ تم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہو یعنی تمہارے ایمان لانے کی وجہ سے وہ ایسا کرتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : حضرت حاطب بھی ان صحابہ میں سے تھے جنہیں نبی کریم ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ سے نکالا گیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں تقدیم و تاخیر ہے (2) تقدیر کلام یوں ہے۔ …………۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کلام میں حذب ہے معنی ہے اگر تم میری راہ میں جاہد اور میری رضا حاصل کرنے کے لئے نکلے ہو تو ان کی طرف محبت کا پیغام نہ بھیجو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے :……شرط ہے اور اسکاجواب مقدم ہے (3) ۔ معن ہے اگر تم میرے راستہ میں جہاد کے لئے نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنائو۔ جہاد اور ابتغاء مفعول لہ ہونے کی حیثیت میں منصوب ہے۔ …… کا بدل ہے اور اس کی وضاحت کر رہا ہے۔ افعال، افعال سے بدل ہوسکتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : ومن یفعل ………(الفرقان) سیبو یہ نے یہ شعر پڑھنا ہے : ………… جب تم ہمارے پاس آئو گے ہمارے گھروں میں پڑائو ڈالو گے تو تم بڑا ایندھن اور سرکش آگ دیکھو گے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تقدیر کلام یوں ہے ……یہ جملہ مستانفہ ہے۔ یہ سب حضرت حاطب بن بلتعہ ؓ کو عتاب ہے۔ یہ عتاب حضرت حاطب کے فضل، کرامت اور حضور ﷺ کے لئے مخلص ہونے اور ان کے ایمان کے صدق پر دال ہے کیونکہ عتاب صرف محب کا حبیب کے لئے ہوتا ہے جس طرح شاعر نے کہا : ………… میں محبت والے دوست کو عتاب کرتا ہوں۔ جب اس کی طرف سے اجتناب مجھے شک میں ڈالتا ہے۔ جب عتاب چلا جائے تو کوئی محبت نہیں اور جب تک عتاب باقی رہے تو محبت باقی رہتی ہے۔ بالمودۃ کا معنی ہے انہیں لکھنے میں اخلاص کا مظاہرہ کر رہے ہیں جس طرح ہم نے ذکر کیا باء زائدہ ہے یا ثابت ہے زائدہ نہیں۔ وانا ……… جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو اسے میں جانتا ہوں۔ بما میں باء زائدہ ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : علمت کذا ولمت بکذا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : میں تم سے ہر ایک فرد کی ہر اس بات کو جانتا ہوں جو تم چھپاتے ہو یا جو تم ظاہر کرتے ہو۔ تو من کل احد محذوف ہے جس طرح یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلاں اعلم و افضل من غیرہ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : جو تم اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہو اور جو تم اپنی زبانوں سے اقرار توحید کو ظاہر کرتے ہو سب جانتا ہوں۔ ومن یفعلہ منکم جو ان کی طرف رازداری سے پیغام بھیجتا ہے اور تم میں سے جو انہیں خط لکھتا ہے۔ فقد ضل سوا السبیل واہ راہ راست سے بھٹک گیا۔
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر ہاتھ (بھی) چلائیں اور زبانیں (بھی) اور چاہتیں ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ۔

آیات 2 تفسیر ان یثقفوا کم اگر وہ تمہیں ملیں اور تمہیں اچانک پالیں۔ اس سے ثاقفہ ہے جس کا معنی ہے تلوار چلانے وغیرہ کے لئے موقع کی تلاش کرنا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ تم پر کامیابی حاصل کریں (1) اور تم پر قدرت حاصل کریں ایدیھم وار کرنے اور قتل کرنے اور السنتھم گالی گلوچ کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ ودوالوتکفرون وہ خواہش کرتے ہیں کہ تم حضرت محمد ﷺ کا انکار کردو پس تم ان کے ساتھ اخلاص کا مظاہرہ نہ کرو وہ تم سے مخلص نہیں۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ (قیامت کے روز) وہی تم میں فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے

آیت 3 تفسیر لن تنفعکم ارحامک جب حضرت حاطب نے معذرت پیش کی کہ ان کی قریش مکہ کے ہاں اولاد اور رشتہ دار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ اہل اور اولاد قیامت کے روز کچھ نفع نہ دیں گے اگر اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی۔ …… وہ مومنوں کی جنت میں اور کافروں کو آگ میں داخل فرمائے گا۔ یفصل میں سات قرائیتیں ہیں۔ عاسم نییفصل قراءت کی ہے۔ حمزہ اور کسائی نے اسے یفصل پڑھا ہے۔ طلحہ اور نخفی نے نفصل قراءت کی ہے۔ علقمہ سے نفصل مروی ہے۔ قتادہ او بو حیوہ نے یفصل قرا ئت کی ہے۔ یہ افصل سے مضارع کا صیغہ ہے۔ باقی قراء نے یفسل قرات کی ہے ؛ ابو عبیدہ نے اسے ہی پسند کیا ہے۔ جس نے اسے تختیف کے ساتھ پڑھا ہے وہ ان آیات کی وجہ سے قراء کرتے ہیں۔ وھو خیر الفصلین۔ (الانعام) ……(الدخان :40) جس نے اسے مشدد پڑھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ اس فعل میں زیادہ واضح ہے جو کثیر، مکرر اور متعدد ہے۔ جس نے اسے مجہول کا صیغہ پڑھا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ فاعل معروف و مشہور ہے۔ اور جو اسے معروف کا صیغہ پڑھتا ہے تو وہ ضمیر کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹاتا ہے۔ جو اسے جمع متکلم کا صیغہ پڑھتا ہے تو وہ تعظیم کی بنا پر ایسا کرتا ہے۔……۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ اسے دیکھ رہا ہے۔
Ayahs 60:4–5

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہو سکتے) اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلی دشمنی رہے گی ہاں ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور میں خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ جانا ہے۔

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما بیشک تو غالب حکمت والا ہے

آیات۔ 4۔ 5 تفسیر قد کا نت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابرہیم جب اللہ تعالیٰ نے کفار کے ساتھ دوستی سے منع کیا تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کا قصہ ذکر کیا۔ آپ کی سیرت میں یہ بات تھی کہ آپ نے کفار سے برا ئت کا اظہار کیا۔ یعنی تم آپ کی اقتداء کرو مگر جو آپ نے اپنے اب آذر کے لئے استغفار کی اس میں اقتدا نہ کرو۔ اسوۃ اور اسوہ اسے کہتے ہیں جس کی اقتدا کی جائے۔ جس طرح قدوہ اور قدوہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : ھو اسوتک یعنی وہ تیری اور تو اس کی مثل ہے۔ عاصم نے اسے اسوۃ پڑھا ہے دو لعنتیں ہیں۔ والذین معہ یعنی مومنین میں سے جو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کے صحابہ تھے۔ ابن زید نے کہا : مراد انبیاء ہیں (1) ۔ اذ قالو…… قوم سے مراد کفا رہیں۔ ما سے مراد بت ہیں براء یہ برء کی جمع ہے جس طرح شریک کی جمع شرکاء ظریف کی جمع ظرفاء عام قراءت فعلاء کے وزن پر ہے۔ عیسیٰ بن عمر اور ابن ابی اسحاق نے براء قراءت کی ہے یہ فعال کا وزن ہے ؛ جس طرح قصیر کی جمع قصار، طویل کی جمع طوال، ظریف کی جمع ظراف ہمزہ کو ترک کرنا بھی جائز ہے۔ یہاں تک کہ تو پڑھے گا ئرا اور تنوین دے گا۔ اسے براء مصدر کی صورت میں صفت پر بھی پڑھا گیا ہے اسے براء کسرہ کو ضمہ سے بدل کرکے بھی پڑھا گیا ہے جس طرح رخال اور رباب ہے۔ یہ آیت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے افعال میں اقتدا کو ضمہ سے بدل کرکے بھی پڑھا گیا ہے جس طرح رخال اور رباب ہے۔ یہ آیت حضرت ابراہیم کے افعال میں اقتدا کے بارے میں نص ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم سے قبل کی شریعتیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے خبر دی ہے۔ وہ ہمارے لئے بھی شرعی احکام ہیں۔ کفرنا بکم یعنی جن بتوں پر تم ایمان لائے ہو ہم اس مسئلہ میں تمہارا انکار کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم تمہارے افعال کا انکار کرتے ہیں اور ہم تمہارے حق پر ہونے میں تمہیں جھٹلاتے ہیں اور انکار کرتے ہیں۔ جب تک تم کفر کرو گے تمہارے ساتھ ہمارا یہی رویہ ہوگا تو ہمارے اور تمہارے درمیان عداوت اور بغض ظاہر ہے۔ …… یہاں تک کہ تم اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک پر ایمان لے آئو اس وقت دشمنی دوستی میں بدل جائے گی۔ استغفار میں تم آپ کی اقتداء نہ کرو کہ تم مشرکوں کیلئے استغفار کرنے لگو کیونکہ انہوں نے یہ عمل ایک خاص وعدہ کی وجہ سے کیا تھا ؛ یہ قول قتادہ، مجاہد اور دوسرے علماء کا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : استثناء کا معنی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو چھوڑا اور ان سے دوری اختیار کی مگر اپنے اب آذر کے لئے استغفار میں دوری اختیار نہ کی پھر سورت توبہ میں ان کے عذر کو واضح کیا۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی تمام انبیاء پر فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ ہمیں آپ کی اقتدا کا حکم دیا گیا اور یہ امر مطلق ہے۔ فرمان عالی شان ہے : ……(الحشر :7) جب ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اقتدا کا حکم دیا گیا تو بعض افعال کی استثناء کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مستثنی منطقع ہے، یعنی لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قول جو انہوں نے اپنے اب آذر کے حق میں کیا تھا۔ یہ اس لئے انہوں نے کیا کیونکہ انہیں گمان تھا کہ وہ مسلمان ہے جب یہ واضح ہوگیا کہ وہ مسلمان نہیں تو آپ نے اس سے برا ئت کا اظہار کردیا۔ اس تاویل کی بناء پر اس آدمی کے حق میں استغفار کرنا جائز ہے جس کے مسلمان ہونے کا گمان ہو۔ تم جب اس قسم کا ظن نہیں پاتے تو تم کیوں ان سے دوستی کا اظہار کرتے ہو۔ …… یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے اب آذر کے لئے قول ہے یعنی اگر تو نے شرک کیا تو میں اللہ تعالیٰ کے عذاب میں سے کچھ بھی تم سے دور نہیں کرسکوں گا۔ …… یہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور آپ کے صحابہ کی دعا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مومنین کو یہ تعلیم دی کہ وہ یہ کہیں کفار سے برا ئت کا اظہار کرو اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرو اور کہو : …… ہم نے بھروسہ کیا …… نے تیری طرف رجوع کیا۔ …… آخرت میں تیری طرف ہی رجوع ہے۔ …… ہمارے دشمنوں کو ہم پر غلبہ نہ دے تو وہ یہ گمان کرنے لگیں کہ وہ حق پر ہیں اور اس وجہ سے فتنہ میں پڑجائیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تو انہیں پم پر مسلط نہ کر کہ وہ ہمیں فتنہ میں ڈالیں اور ہمیں عاب دیں (1) ۔ ……۔ اے ہمارے رب ! ہمیں بخشش دے تو عزیز و حکیم ہے۔
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا کے سامنے جانے اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے اور جو روگردانی کرے تو خدا بھی بےپروا اور سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

آیات۔ 6۔ 7 تفسیر لقد کان لکم فیھم، ھم ضمیر سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ انبیاء و اولیاء ہیں۔ اسوۃ حسنۃ یعنی کفار سے براءت کا اظہار کرنے میں بہترین اسوہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تاکید کے لئے اسے مکررذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ ذکر کیا گیا ہے : دوسری آیت پہلی آیت کے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی، قرآن حکیم میں اکثر تکرار اسی وجہ سے ہے۔ ومن تول جو آدمی اسلام اور ان مواعظ کو قبول کرنے سے اعراض کرے…… اللہ تعالیٰ غنی ہے، اس نے اپنی کسی حاجت کی وجہ سے انہیں اپنا بندہ نہیں بنایا۔ الحمید۔ وہ اپنی ذات وصفات میں محمود ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمانوں نے مشرک رشتہ داروں سے دشمنی شروع کردی اس وجہ سے مسلمانوں کو جس دکھ کا سامنا کرنا پڑا اللہ تعالیٰ کو علم ہوا تو یہ آیت نازل ہوئی……… وہ اس طرح ہوا کہ کافر مسلمان ہوجائیں گے ان میں سے ایک قوم نے فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا اور مسلمانوں سے میل جول رکھا جس طرح حضرت ابو سفیان بن حرب، حضرت حارث بن ہشام، حضرت سہیل بن عمرو، حضرت حکیم بن حزام ؓ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں مودہ سے مراد نبی کریم و کی حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے شادی ہے۔ اس موقع پر ابو سفیان کی نخوت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی اور عداوت میں ان کی طبعیت ڈھیلی پڑگئی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : مودہ سے مراد فتح مکہ کے بعد نبی کریم ﷺ کا حضرت ام حبیبہ بنت ابی سفیان سے شادی کرنا ہے۔ وہ حضرت عبد اللہ بن تجش کے عقد میں تھیں۔ انہوں نے اورع ان کے خاوند نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی ان کے خاوند نصرانی ہوگئے اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ دین میں اس کی اتباع کریں حضرت ام حبیبہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اور اپنے دین پر ہی کاربند رہیں اور ان کا خاوند نصرانیت پر ہی فوت ہوا۔ نبی کریم و نے نجاشی کی طرف پیغام بھیجا اور حضرت ام حبیبہ کو دعوت نکاح دی۔ نجاشی نے نبی کریم و کے صحابہ سے پوچھا : تم میں سے کون اس کا قریبی رشتہ دار ہے ؟ صحابہ نے بتایا : حضرت خالد بن سعید، نجاشی نے کہا : ام حبیبہ کی شادی نبی کریم ﷺ سے کردو۔ اس نے اسی طرح کیا۔ نجاشی نے اپنی جانب سے چار سو دینار بطو رمہر پیش کیے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی کریم ﷺ نے حضرت عثمان بن عفان کی طرف ان کے نکاح کے لئے پیغام بھیجا۔ جب حضرت عثمان نے حضرت ام حبیبہ کا نکاح نبی کریم ﷺ سے کردیا تو نجاشی کی طرف ان کے بارے میں پیغام بھیجا نجاشی نے اپنی جانب سے مہر دیا اور حضرت ام حبیبہ کو نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں بھیج دیا۔ ابو سفیان جو ابھی مشرک تھا جب اسے یہ خبر پہنچی کہ نبی کریم ﷺ نے اس کی بیٹی سے شادی کرلی ہے تو اس وقت کہا : …… یعنی یہ ایسا نر ہے جس کی ناپ پر ضرب نہیں لگائی جاتی (1) ۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب کوئی بہت ہی معزز ہو۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتیں ہو دوستی پیدا کر دے اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

آیات۔ 8 تفسیر اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کی رخصت ہے جو مومنوں سے دشمنی نہیں رکھتے اور ان سے برسرپیکار نہیں رہتے۔ ابن زید نے کہا : یہ ابتداء اسلام میں تھا جب ایک دوسرے کو چھوڑنے اور قتال کے معاملہ کو ترک کرنے کا حکم تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا (2) ۔ قتادہ نے کہا : اسے فاقتلو ……(التوبہ :5) سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم خاص علت کی بنا پر تھا اور وہ صلح تھی جب فتح مکہ کے ساتھ صلح ختم ہوگئی تو یہ حکم بھی منسوخ کردیا گیا اور صرف اس کی قراءت و تلاوت باقی رہ گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فتح مکہ کے ساتھ صلح ختم ہوگئی تو یہ حکم بھی منسوخ کردیا گیا اور صرف اس کی قرا ئت و تلاوت باقی رہ گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نبی کریم و اور جن کا آپ ﷺ کے ساتھ کوئی عہد و پیمان تھا جس کو انہوں نے نہ توڑا تھا ان کے لئے ہے : یہ حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : وہ بنو خزاعہ اور بنو حارث بن عبد مناف ہیں۔ ابو صالح نے بھی یہی کہا ہے کہ مراد بنو خزاعہ ہیں۔ مجاہد نے کہا : یہ ان لوگوں کے بارے میں جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد عورتین اور بچے ہیں کیونکہ یہ قتال نہیں کرتے (1) ، اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ نیکی کا کام دیا ؛ بعض مفسرین نے یہ قول کیا ہے۔ اکثر علماء تاویل نے کہا : یہ آیت محکم ہے۔ انہوں نے اس واقعہ سے استدلال کیا کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓ نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا : کیا وہ اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہے جبکہ وہ مشرکہ کی حیثیت میں اس کے پاس آئی ہے ؟ فرمایا :” ہاں “۔ اسے امام بخاری اور امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ آیت انہیں کے حق میں نازل ہوئی۔ عامر بن عبد اللہ بن زبیر نے اپنے باپ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے دور جاہلیت میں پانی بیوی قتیلہ کو طلاق دی یہی حضرت اسماء بنت ابوبکر کی والدہ تھی (2) ۔ یہ اس وقت حضرت اسماء کے پاس آئی تھی جب نبی کریم ﷺ اور قریش کے درمیان صلح تھی۔ اس نے حضرت اسماء کو ایک بالی اور کچھ اشیاء تحفہ کے طور پر دیں۔ حضرت اسماء نے انہیں قبول کرنے کو ناپسند کیا یہاں تک کہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کی خدت میں زکر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کا نازل فرمایا : اس واقعہ کو ماوردی اور دوسرے علماء نے بیان کیا۔ ابو دائود طیالسی نے اپنی مسند میں اسے نقل کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ ان تبروھم، ان حل جر میں ہے اور الذین سے بدل ہے یعنی وہ افراد جو تم سے جنگ نہیں کرتے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ صلہ رحمی سے منع نہیں کرتا۔ وہ بنو خزاعہ تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ یہ معاہدہ کیا تھا کہ نہ وہ آپ ﷺ سے جنگ کریں گے اور نہ آپ ﷺ کے خلاف کسی کی مدد کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ نیکی کرنے اور وقت مقررہ تک اسے پورا کرنے کا حکم دیا ؛ یہ فراء نے بیان کیا ہے۔ وتقسطوا الیھم یعنی اپنے اموال میں سے کچھ حصہ صلہ رحمی کے طور پر انہیں دے دو (3) ۔ اس سے مراد عدل نہیں کیونکہ عدل تو قتال کرنے والے اور قتال نہ کرنے والے کے درمیان واجب ہے ؛ یہ ابن عربی کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ قاضی ابوبکر نے کتگاب ” الاحکام “ میں کہا : اس سے ان علماء نے استدلال کیا ہے جن پر اعتماد کیا جاسکتا ہے کہ مسلمان بچے کا نفقہ کافر باپ پر واجب ہے (4) ۔ یہ بڑی غلطی اور بھول ہے کیونکہ کسی چیز کے بارے میں اذن اور کسی شی کے بارے میں نہی کا نہ ہونا اس کے واجب ہونے پر دال نہیں۔ یہ انداز تجھے صرف اباحت عطا کرسکتا ہے۔ ہم بیا کرچکے ہیں کہ اسماعیل بن اسحاق اضی کے پاس ایک ذمی آیا آپ نے اس کی تکریم کی تو اس بارے میں حاضرین نے ان کی گرفت کی تو آپ نے اسی آیت کو ان پر تلاوت کیا۔
Ayahs 60:8–9

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

خدا انہی لوگوں کیساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔

تفسیر قتلوکم یعنی دین کے خلاف تمہارے ساتھ جنگ کی۔ اخرجوا میں دائو ضمیر سے مراد اہل مکہ میں سے سرکش لوگ ہیں۔ وظھرا انہوں نے تمہیں نکالنے میں مدد کی اور وہ اہل مکہ کے مشرک ہیں۔ ان تولوھم میں ان محل جر میں ہے اور ان تبروھم سے بدل یہ۔ ومن یتولھم جوا انہیں اولیاء انصار اور احباب بناتا ہے۔ فاولئک ھم الظلمون یہی لوگ ظالم ہیں۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

مومنو جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو) واپس دے دو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

تفسیر اس آیت میں سولہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا…… جب اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے ساتھ دوستی کے ترک کرنے کا حکم دیا اس امر نے یہ تقاضا کیا کہ مسلمان مشرکوں کے علاقے چھوڑ کر مسلمانوں کے علاقوں کی طرف ہجرت کر جائیں۔ باہم نکاح، باہم دوستی کا موکد ترین سبب تھا، تو عورتوں کی ہجرت کے احکام کو بیان کیا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قریش کے مشرکوں کے ساتھ حدیبیہ کے سال صلح ہوئی کہ مکہ مکرمہ میں سے جو بھی شخص مدینہ طیبہ آئے گا اسے ان کی طرف واپس کردیا جائے گا ابھی تحریر سے فراغت ہوئی تھی کہ حارث اسلمیہ کی بیٹی حضرت سعیدہ آگئی۔ ابھی نبی کریم و حدیبیہ میں ہی تھے اس کا خاوند آگیا جبکہ وہ کافر تھا اس کا نام صیفی بن راہب تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا نام مسافر مخزومی تھا۔ اس نے کہا : اے محمد ! ﷺ میری بیوی مجھے واپس کردو کیونکہ آپ نے یہ شرط تسلیم کی ابھی تحریر کی مٹی بھی خشک نہیں ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی محیط آئی تو اس کے خاندان والے واپس لے جانے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے خاوند عمرو بن عاص سے بھاگ آئی اس کے ساتھ اس کے دو بھائی عمارہ اور ولید تھے رسول اللہ ﷺ نے اس کے دونوں بھائیوں کو واپس بھیج دیا اور اسے روک لیا۔ قریش نے نبی کریم ﷺ سے عرض کی : اسے شرط کی وجہ سے واپس کردیجئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” شرط مردوں کے متعلق تھی عورتوں کے متعلق نہ تھی “ (2) ۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ حضرت عروہ سے مروی ہے : سہیل بن عمرو نے حدیبیہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ پر یہ شرط لگائی کہ ہم میں سے کوئی آدمی آپ کے پاس نہیں آئے گا اگرچہ وہ آپ کے دین پر ہو تو آپ اسے ہماری طرف واپس کردیں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے مومنات کے بارے میں یہ آیت نازل کی (3) ۔ یہ قول اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عورتوں کے بارے میں شرط کو اس آیت نے منسوخ کردیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو عورت آئی تھی وہ امیمہ بنت بشر تھی جو ثابت شمر کے عقد میں تھی (4) ۔ وہ ثابت سے بھاگ آئی جبکہ وہ ابھی کافر تھا اور حضرت سہل بن حنیف نے اس سے شادی کرلی تو اس کے بطن سے ان کا بیٹا عبد اللہ پیدا ہوا۔ مہدوی نے کہا : ابن وہب نے خالد سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت امیمہ بنت بشر جو بنی عمرو بن عوف سے تعلق رکھتے تھے کے بارے میں نازل ہوئی۔ مقاتل نے کہا : اس سے مراد سعیدہ ہے جو صیفی بن راہب کی زوجہ تھی جو اہل مکہ میں سے مشرک تھا۔ اکثر علماء کی رائے ہے کہ وہ عورت ام کلثوم بنت عقبہ تھی۔ مسئلہ نمبر 2 ۔ اہل علم کا اس میں اختلاف ہے کیا عورتیں صلح میں لفظاً شامل تھیں یا عموماً شامل تھیں (5) ؟ ایک طائفہ کا کہنا ہے : صلح میں واضح اور صراحۃ یہ شرط شامل تھی کہ عورتوں کو واپس کیا جائے گا اللہ تعالیٰ نے معاہدہ سے ان کے لوٹانے کی شر ط کو منسوخ کردیا اور اس سے منع کردیا اور مردوں کی شرط کو اسی طرح باقی رکھا جس طرح وہ تھی۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم ﷺ احکام میں اپنی رائے سے اجتہاد فرماسکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو خطا پر قائم نہیں رکھتا۔ علماء میں سے ایک طائفہ کا کہنا ہے صراحتہً ان کی واپسی کی کوئی شرط نہ تھی۔ معاہدہ اس پر ہوا تھا کہ جو مسلمان ہوگا اس کو واپس کردیا جائے گا۔ عموم کا ظاہر مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عموم سے عورتوں کے نکلنے کو واضح کیا اللہ تعالیٰ نے دو امور کی وجہ سے مردوں اور عورتوں میں فرق بیان کیا ہے۔ (91 اب ان کی شرمگاہیں کفار پر حرام ہیں۔ (2) وہ زیادہ رقیو القلب اور مردوں کی نسبت جلدی پھرجانے والی ہیں۔ ان میں سے جو شرک پر قائم رہیں وہ ان پر لوٹا دی جائیں گی۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ فامتحوھن ایک قول یہ کیا گیا ہے (6): ان میں سے جو اپنے خاوند کو تنگ کرنا چاہتی وہ کہتی : میں عنقریب حضرت محمد ﷺ کی طرف ہجرت کر جائوں گی، اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لینے کا حکم دیا۔ جس چیز کے ساتھ ان کا امتحان لیا جائے گا اس کے بارے میں تین قول ہیں۔ (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : امتحان یہ ہے کہ ان سے اللہ کے نام کی قسم لی جائے گی (1) کہ وہ خاوند سے ناراض ہو کر اور ایک علاقہ کی بجائے دوسرے علاقہ کی محبت، دنیا کے لالچ اور کسی مرد کی محبت کے لئے نہیں نکلی بلکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے نکلی ہے۔ جب وہ اس پر اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم اٹھا دیتی تو نبی کریم ﷺ اس کے خاوند کو اس کا مہر عطا فرما دیتے اور اس نے اس پر جو خرچ کیا ہوتا وہ بھی عطا فرما دیتے اور اسے واپس نہ کرتے اللہ تعالیٰ کے فرمان فان علمتموھن… کا یہی مدعا و مقصود ہے۔ (2) امتحان یہ ہے کہ وہ یہ گواہی دے ………، یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ (3) جس کی وضاحت بعد میں اسی سورت میں کی گئی ہے۔ ………۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے کہا (2): رسول اللہ ﷺ اس آیت کے ساتھ آزماتے اذ جائک ……۔ اسے معمر نے زہری سے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کرتے ،۔ اسے امام ترمذی نے نقل کیا ہے۔ کہا : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت اس معاہدہ کے لئے ناسخ ہے جو آپ نے قریش سے کیا تھا کہ جو بھی مسلمان آئے آپ اس کو واپس کردیں۔ اس کے ساتھ عورتوں کا حکم منسوخ ہوگیا۔ یہ اس کا مذہب ہے جو قرآن کے ساتھ سنت کے نسخ کو جائز سمجھتا ہے۔ بعض علماء کی رائے ہے کہ مردوں اور عورتوں کے بارے میں حکم منسوخ ہے۔ یہ جائز نہیں کہ امام دشمنوں کے ساتھ اس بات پر صلح کرے کہ جو آدمی مسلمان ہو کر آئے وہ اسے واپس کر دے گا کیونکہ کسی مسلمان کو مشرکوں کی سرزمین پر رکھنا جائز نہیں ! یہ کو فیوں کا نقطہ نظر ہے۔ امام مالک کے نزدیک اس نقطہ پر صلح جائز ہے۔ کو فیوں نے جو نقطہ نظر اپنایا ہے وہ اسے اسماعیل بن ابی خالد کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں وہ قیش بن ابی حازم سے وہ حضرت خالد بن ولید ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اسے بنع خشعم کی طرف بھیجا انہوں نے انہیں سجدہ کی حالت میں پکڑ لیا اور قتل کردیا، رسول اللہ ﷺ نے انہیں نصف دیت دی اور فرمایا :” میں ہر ایسے مسلمان سے بری ہوں جو دار الحرب میں مشرکوں کے ساتھ مقیم ہو وہ ایک دوسرے کی آگ نہ دیکھیں “ (3) ۔ انہوں نے کہا : یہ روایت اس روایت کے لئے ناسخ ہے جس میں مسلمانوں کو مشرکوں کے حوالے کا ذکر تھا کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے براءت کا اظہار کیا جو ان کے ساتھ دار الحرب میں مقیم ہے ،۔ امام مالک اور امام شافعی کی رائے یہ ہے کہ یہ حکم منسوخ نہیں۔ امام شافعی نے کہا : اس قسم کا معاہدہ خلیفہ یا ایسا شخص جو امر کرتا ہے وہی کرسکتا ہے کیونکہ وہ تمام اموال کا والی ہوتا ہے خلیفہ کے علاوہ جس نے یہ عقد کیا تو وہ عقد مردود ہوگا۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ اللہ اعلم…… یہ امتحان تمہارے لئے ہے جبکہ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے کیونکہ وہ رازوں کو خوب جانتا ہے۔ فان علممتو ھن مومنت ایمان میں سے جو ظاہر ہے اگر تم انہیں مومن جانتے ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اگر تم امتحان سے قبل ان کے مومن ہونے کا علم رکھتے ہو۔ فلا ترجعو……… اللہ تعالیٰ نے کوئی مومنہ کسی کافر کے لئے حلال نہیں کی اور نہ ہی کسی مومن کے لئے کسی مشرکہ سے نکاح کو حلال کیا ہے۔ یہ واضح ترین دلیل ہے کہ جس امرنے مسلمان عورت کی اپنے خاوند سے جدائی کو ثابت کیا وہ اس کا اسلام لانا ہے، اس کا ہجرت کرنا نہیں۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : جس امر نے ان کے درمیان تفریق کو ثابت کیا وہ دونوں داروں کا مختلف ہوتا ہے۔ امام مالک کے مذہب میں اسی کی طرف اشارہ ہے بلکہ وہ اس میں صریح اور عبارۃ النص ہے۔ صحیح قول پہلا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : …… اس امر کو واضح کیا کہ عدم حل کی علت اسلام ہے داروں کا مختلف ہونا نہیں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ابو عمر نے کہا : دار میں کوئی فرق نہیں نہ کتاب اللہ میں ایسی بات ہے نہ سنت میں ہے اور نہ ہی قیاس میں ہے۔ اسمیں جس کی رعایت کی گئی ہے وہ دو دین ہیں۔ ان دونوں کے اختلاف اور اجتماع کے ساتھ حکم مرتب ہوگا، دار کی وجہ سے کوئی حکم نہیں ہوگا۔ مسئلہ نمبر 6 ۔ واتوھم ما انفقوا جب مسلمان عورت کو اس بات سے روک دیا جائے کہ اسے اس کے خاوند کے پاس واپس بھیجا جائے تو اس کے خاوند نے اس پر جو مال خرچ کیا ہے وہ اسے واپس کردیا جائے۔ یہ وعدہ کو پورا کرنے کی صورت یہ کیونکہ جب اسلام کی حرمت کی وجہ سے اسے روکا گیا ہے تو اس کے مال کو واپس کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ دونوں صورتوں میں اس پر خسارہ واقع نہ ہو، بیوی اور مال۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ کوئی چٹی وغیرہ لازم نہ ہوگی مگر اس صورت میں جب کافر خاوند مطالبہ کرے، جب وہ حاضر ہو اور مطالبہ کرے ہم اسے روک لیں گے اور چٹی بھر دیں گے۔ اگر وہ عورت خاوند کے آنے سے پہلے ہی مرجائے تو ہم مہر چٹی کے طور پر نہ دیں گے کیونکہ روکنا متحقق نہیں ہوا۔ اگر مہر شراب یا خنزیر ہو تو ہم کسی چیز کے ذمہ دار نہیں ہونگے کیونکہ اس کی کوئی قیمت نہیں۔ اس آیت کی تفسیر میں امام شافعی کے دو قول ہیں۔ (1) یہ منسوخ ہے۔ امام شافعی نے کہا : جب ایسے افراد کے پاس سے مسلمان عورت آئے جن کے ساتھ صلح ہو جبکہ وہ مسلمان ہو مہاجر ہو دار الحرب سے امام کی طرف دار الالسلام میں یا دار الحرب میں آئے۔ اگر اس کے خاوند کے علاوہ علی نے مطالبہ کیا تو بغیر عوض کے اسے روک لیا جائے گا اگر خاوند اپنے لیے یا کسی غیر کے لئے اپنی وکالت کے ساتھ مطالبہ کرے تو اس میں دو قول ہیں۔ (1) وہ عوض دے گا دلیل وہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ (2) اسمیں دوسرا قول بھی ہے : مشرک خاوند کو کوئی عوض نہیں دیا جائے گا جس کی بیوی مسلمان ہو کر آئی اگر امام عورتوں کے واپس کرنے کی شرط لگائے تو یہ شرط باطل ہوگی۔ جس نے یہ قول کیا اس نے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ نے اہل حدیبیہ کے لء یہ شرط لگائی تھی کہ ان میں سے جو بھی آئے گا اسے واپس کردیا جائے گا۔ عورتوں کے بارے میں ان کی جانب سے شرط، شرط صحیح تھی اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کردیا اور عوض کو رد کردیا جب اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کردیا پھر اس کے رسول نے فیصلہ کردیا کہ ان عورتوں کو واپس نہ کیا جائے گا تو جس نے بھی عورتوں کے واپس کرنے کی شرط لگائی وہ شرط منسوخ ہوگی اور اس پر کوئی عوض نہ ہوگا کیونکہ منسوخ کو شرط قرار دینا باطل ہے اور باطل چیز کا کوئی عوض نہیں۔ مسئلہ نمبر 8 ۔ خاوندوں نے جس قدر خرچ کیا ہو اس مقدار میں اللہ تعالیٰ نے واپس کرنے کا حکم دیا۔ اس امر کا مخاطب امام ہے اس کے پاس بیت المال میں جو ایسا مال ہے جس کا مصرف متعین نہ ہو اس میں سے وہ خرچ کرے گا۔ مقاتل نے کہا : وہ مہر کافر خاوند کو واپس کرے گا جس مہر پر عورت سے مسلمان مرد شادی کرے گا۔ اگر مسلمانوں میں سے کوئی بی اس سے شادی نہ کرے تو کافر خاوند کے لئے کوئی چیز نہ ہوگی۔ قتادہ نے کہا : مہر واپس کرنے کا حکم ان لوگوں کی عورتوں کے بارے میں ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کے عہدو پیمان ہوں۔ جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ نہیں انہیں کوئی مہر وغیرہ نہیں دیا جائے گا۔ معاملہ اسی طرح ہے جس طرح انہوں نے کہا۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ ولا جناح …… یعنی جب انہوں نے اسلام قبول کرلیا اور ان کی عدت ختم ہوگئی۔ کیونکہ یہ بات ثابت ہے کہ مشرکہ اور متعدہ کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ اگر ایسی عورت حقوق زوجیت سے قبل ہی مسلمان ہوجائے تو اس کا نکاح اسی وقت ثابت ہوجائے گا اور اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کرنا بھی جائز ہوگا۔ مسئلہ نمبر 10 ۔ ……مہر کی شرط کے ساتھ ان کے ساتھ نکاح کرنے کا مباح قرار دیا کیونکہ اسلام نے اس کے اور اس کی کافر بیوی کے درمیان جدائی کردی ہے۔ مسئلہ نمبر 11 ۔ ولاتمسکو…… عام قراء کی قراءت تخفیف کے ساتھ ہے یہ امساک سے مشتق ہے ؛ یہ ابو عبید کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ……(البقرہ : 231) حضرت حسن بصری، ابو العالیہ اور ابو عمرو نے لاتمسکوا پڑھا ہے یہ تمسسیک سے مشتق ہوگا یوں کہا جاتا ہے : مسک یمسسک تمسیکا۔ یہ امسک یمسک کے معنی میں ہے۔ اسے علا تمسکواتاء کے نصب کے بھی ساتھ پڑھا گیا ہے۔ اصل میں یہ لاتتمسکوا تھا۔ العصم یہ عصمہ کی جع ہے اسے مراد وہ چیز ہے جس کے ساتھ انسان محفوظ رہتا ہے یہاں عصمہ سے مراد نکاح ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جس کی مکہ مکرمہ میں کافرہ بیوی ہو وہ اسے بیوی شمار نہ کرے وہ اس کی بیوی نہیں (1) ۔ وار کے مختلف ہونے کی وجہ سے نکاح ختم ہوچکا ہے۔ امام نخعی سے مروی ہے : مراد وہ مسلمان عورت ہے جو دار الحرب بھاگ گئی اور کافر ہوگئی۔ کفار مسلمان عورتوں سے شادیاں کیا کرتے تھے اور مسلمان مرد مشرک عورتوں سے شادی کیا کرتے تھے پھر اس آیت میں اس کو منسوخ کردیا گیا۔ حضرت عمر ؓ نے دو ایسی عورتوں کو طلاق دے دی جو مکہ مکرمہ میں تھیں اور مشرک تھیں ان میں سے ایک قریبہ بنت ابی امیہ تھی جس سے بعد میں معاویہ بن ابی سفیان نے شادی کی جو دونوں مکہ مکرمہ میں مشرک کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔ اور ام کلثوم بنت عمرو خزاعیہ جو عبد اللہ بن مغیرہ کی والدہ تھی ابو جہم بن حذافہ نے اس سے شادی کی جو دونوں مشرک تھے۔ جب حضرت عمر ؓ امیر المومین بنے تو حضرت ابو سفیان نے اپنے بیٹے حضرت معاویہ سے کہا : قریبہ کو طلاق دے تاکہ حضرت عمر ؓ یہ خیال نہ کریں اس کا چھینا ہوا مال تیرے گھر میں ہے۔ حضرت معاویہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا۔ حضرت طلحہ بن عبد اللہ کے عقد میں اروی بنت ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب تھی اسلام نے دونوں میں تفریق کردی پھر حالت اسلام میں ان سے حضرت خالد بن سعید بن عاص نے شادی کی۔ یہ بھی کفار کی ان عورتوں میں سے تھی جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں نبی کریم ﷺ نے انہیں روک لیا اور حضرت خالد سے ان کی شادی کردی۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیٹی کی شادی ابو العاص بن ربیع سے کی تھی۔ عبد الرزاق ابن جریج سے وہ ایک آدمی سے وہ ابن شہاب سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت زینب نے نبی کری ﷺ کی ہجرت کے بعد ہجرت کی ان کا خاوند ابع العباس بن ربیع عبد العزی مکہ مکرمہ میں مشرک کی حیثیت میں تھا اس کی یہ وضاحت ہے کہ اس نے حضرت زینب کے بعد اسلام قبول کیا۔ شعبی نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ شعبی نے کہا : حضرت زینب بنت رسول اللہ ابو العاص بن ربیع کی زوجہ تھیں وہ مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ نبی کریم ﷺ کے ہاں چلی گئیں پھر ان کا خاوند مدینہ طیبہ آیا حضرت زینب نے اسے امان دی تو وہ اسلام لے آیا تو نبی کریم ﷺ نے حضرت زینب کو اس کی طرف لوٹا دیا۔ ابو دائود نے عکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ پہلے نکاح کی وجہ سے ہی انہیں واپس کردیا اور کوئی نیا عمل نہ کیا۔ محمد بن عمر نے اپنی حدیث میں کہا : یہ واقعہ چھ سال بعد ہوا۔ حسین بن علی نے کہا : دو سال بعد ہوا (1) ۔ ابو عمر نے کہا : اگر یہ صحیح ہے تو یہ دو وجوہ سے خالی نہیں۔ آپ کو حیض ہی نہ آیا یہاں تک کہ ان کا خاوند مسلمان ہوگیا یا ان کے بارے میں یہ امر منسوخ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمانا ہے : وبعولتھن……(البقرہ :228) یہ ایسا امر ہے جس بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ اس سے مراد عدت ہے۔ ابن شہاب زہری نے حضرت زینب کے اس قصہ میں کہا : یہ فرائض کے نازل ہونے سے پہلے تھا۔ قتادہ نے کہا : یہ سورة براءۃ کے نازل ہونے سے پہلے واقع ہوا جس میں مشرکین کے ساتھ تمام معاہدے ختم کرنے کا حکم ہوا۔ مسئلہ نمبر 12 ۔ بعصم الکوافر، کو افر سے یہاں مراد بت پرست ہیں ان کے ساتھ ابتدا سے ہی نکاح کرنا جائز نہیں۔ یہ حکم اہل کتاب کے علاوہ کو افر کے لئے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ عام ہے۔ اہل کتاب کی عورتوں کا حکم اس سے منسوخ ہے۔ اگر آیت کے ظاہر کو دیکھا جائے تو کوئی کافر عورت کسی صورت میں حلال نہیں۔ پہلے قول کی بناء پر جب کوئی بت پرست یا مجوسی مسلمان ہوجائے اور اس کی بیوی مسلمان نہ ہو تو دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔ یہ قول بعض علماء کا ہے۔ ان میں سے کچھ نہ کہا : عدت کے ختم ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔ جس نے یہ کہا : اسی وقت ان میں تفریق کردی جائے گی اور عورت کی عدت کے مکمل ہونے کا انتظار نہ کیا جائے گا جب اس پر اسلام پیش کیا جائے اور وہ اسلام قبول نہ کرے وہ امام مالک بن انس ہیں ؛ یہی قول حضرت حسن بصری، طائوس، مجاہد، عطا، عکرمہ قتادہ اور حکم کا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے : ولا تمسکو……۔ زہری نے کہا : وہ اس کے ساتھ عدت کا انتظار کرتا ہے ؛ یہ امام شافعی اور امام احمد کا قول ہے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت ابو سفیان بن حرف اپنی بیوی ہند بنت عتبہ سے پہلے اسلام لائے انہوں نے مرا الظہر ان کے مقام پر اسلام قبول کیا پھر وہ مکہ مکرمہ کی طرف لوٹے جبکہ ہندوہاں کافرہ کی حیثیت سے رہ رہی تھی اور اپنے کفر پر قائم تھی۔ اس نے حضرت ابو سفیان کی داڑھی کو پکڑ لیا اور کہا : اس گمراہ شیخ کو قتل کردو پھر اس کے چند روز بعد وہ مسلمان ہوگئی۔ دونوں اپنے نکاح پر قایم رہے کیونکہ ان کی عدت ختم نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا : اس کی مثل حضرت حکیم بن حزام کا واقعہ ہے۔ انہوں نے اپنی بیوی سے پہلے اسلام قبول کیا۔ پھر ان کے بعد ان کی بیوی مسلمان ہوئی۔ دونوں اپنے نکاح پر باقی رہے۔ امام شافعی نے کہا : جس نے والا تمسکوا بعصم الکوافر سے استدلال کیا ہے اس کے لئے اس میں کوئی دلیل نہیں کیونکہ مسلمان عورتیں کافروں پر حرام ہیں جس طرح مسلمان مرد کافر، بت پرست اور مجوسی عورتوں کے لئے حلال نہیں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لا ھن ………پھر سنت نے اس کی وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی مراد یہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے حلال نہیں ہوتے مگر اس صورت میں کہ دوسرا فرد عدت میں اسلام قبول کرلے۔ جہاں تک کو فیوں کا تعلق ہے کو فیوں سے مراد حضرت سفیان ثوری، حضرت امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں انہیں نے ذمی کافروں کے بارے میں کہا : جب عورت مسلمان ہوجائے تو خاوند پر اسلام پیش کیا جائے گا اگر وہ اسلام قبول کے لے توٹھیک ورنہ دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔ ان علماء نے کہا : اگر دونوں حربی ہوں تو یہ اس کی بیوی رہے گی یہاں تک کہ اس کے تین حیض گزر جائیں۔ جب وہ دونوں دار الحرب میں ہوں یا دار الاسلام میں ہوں۔ اگر ان میں سے ایک دار الاسلام میں ہو اور دوسرا دار الحرب میں ہو تو دونوں میں عصمت ختم ہوجائے گی۔ ان علماء نے دار کا اعتبار کیا ہے جبکہ یہ کچھ بھی نہیں۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 13 ۔ یہ اختلاف مدخول بہا کے بارے میں ہے۔ اگر وہ غیر مدخول بھا ہو تو دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوجانے میں کسی اختلاف کو نہیں جانتے کیونکہ اس پر کوئی عدت نہیں۔ امام مالک اس عورت کے بارے میں بھی یہی کہتے ہیں جو خود مرتد ہوجائے اور اس کا خاوند مسلمان ہو : دونوں کے درمیان نکاح ختم ہوجائے گا۔ ان کی دلیل ولا تمسکوا بعصم الکوافر ہے یہی قول حضرت حسن بصری اور حضرت حسن بن صالح بن حی کا ہے۔ امام شافعی اور امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ وہ عدت کے مکمل ہونے کا انتظار کرے۔ مسئلہ نمبر 14 ۔ اگر دونوں میاں بیوی نصرانی ہوں اور بیوی مسلمان ہوجائے اس میں بھی اختلاف ہے۔ امام مالک، امام احمد اور امام شافعی کا کہنا یہ ہے کہ وہ عورت کی عدت میں مسلمان ہوجائے تو خاوند اس کا زیادہ حقدار ہوگا جس طرح حضرت صفوان بن امیہ اور حضرت عکرمہ بن ابی جہل اپنی بیویوں کے زیادہ مستحق رہے جب وہ دونوں اپنی بیویوں کی عدت میں مسلمان ہوئے تھے۔ روایت ابن شہاب سے مروی ہے، اسے امام مالک نے موطا میں ذکر کیا ہے۔ ابن شہاب نے کہا : حضرت صفوان اور ان کی بیوی کے اسلام لانے میں ایک ماہ کا عرصہ حائل ہے۔ ابن شہاب نے کہا : ہمیں یہی خبر پہنچی ہے کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کرے اور اس کا خاوند کافر ہو اور دار الحرب میں مقیم ہو مگر ہجرت اسے کے اور اس کے خاوند کے درمیان تفریق کرے دے گی ہاں یہ صورت مختلف ہے کہ اس کا خاوند عدت ختم ہونے سے پہلے آجائے (1) ۔ علماء میں سے وہ بھی ہیں جو یہ کہت ہیں : دونوں کے درمیان نکاح منسوخ ہوجائے گا۔ یزید بن علقمہ نے کہا : میرا دادا مسلمان ہوگیا اور میری دادی مسلمان نہ ہوئی حضرت عمر ؓ نے دونوں میں تفریق کردی ؛ یہ طائوس کا قول ہے۔ دوسری جماعت میں جن میں عطا، حضرت حسن بصری اور عکرمہ نے کہا : دعوت نکاح کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ مسئلہ نمبر 15 ۔ وسئلو…مفسرین نے کہا : مسلمان عورتوں میں سے جو عورتیں مرتد ہو کر ان کفار کے پاس چلی گئیں جن کے ساتھ مسلمانوں کے معاہدے تھے تو کفار کو کہا جائے گا : ان عورتوں کے مہردے دو (2) ۔ جب کفار کی عورتوں میں سے کوئی ایک مسلمان ہو کر ہجرت کرکے آجائے تو مسلمانوں کو کہا جائے گا : کفار کو ان عورتوں کے مہر واپس کردو۔ یہ دونوں حالتوں میں عدل کی صورت ہے۔ اجماعت امت یہی ہے کہ یہ حکم اس زمانہ میں ایک خاص واقعہ کے ساتھ خاص ہے ؛ یہ ابن عربی کا قول ہے۔ مسئلہ نمبر 16 ۔ ذلکم حکم اللہ یعنی جو اس آیت میں مذکور ہے۔ یحکم بینکم واللہ علیم حکیم۔ یہ پہلے کئی مواقع پر گزر چکی ہے۔