60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsبیان القرآن

Ayahs 60:1–2

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والو تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو (ف 2) حالانکہ تمہارے پاس جو دین حق آچکا ہے وہ اس کے منکر ہیں رسول کو اور تم کو اس بنا پر کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لے آئے شہر بدر کرچکے ہیں اگر تم میرے رستہ پر جہاد کرنے کی غرض سے اور میری رضامندی ڈھونڈنے کی غرض سے (اپنے گھروں سے) نکلے ہو تم ان سے چپکے چپکے دوستی کی باتیں کرتے ہو (ف 3) حالانکہ مجھ کو سب چیزوں کا خوب علم ہے تم جو کچھ چھپاکر کرتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو (ف 4) اور (آگے اس پر وعید ہے کہ) جو شخص تم میں سے ایسا کریگا وہ راہ راست سے بھٹکے گا۔

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر ان کو تم پر دسترس ہوجاوے تو (فوراً ) اظہارعداوت کرنے لگیں اور (وہ اظہار عداوت یہ کہ) تم پر برائی کے ساتھ دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں (یہ دنیوی اضرار ہے) اور (دینی اضرار یہ ہے کہ) وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ تم کافر (ہی) ہوجاؤ۔

ف 2۔ یعنی گو دل سے دوستی نہ ہو مگر ایسا دوستانہ برتاوبھی مت کرو۔ 3۔ یعنی اول تو دوستی ہی بری چیز ہے، پھر خفیہ پیغام بھیجنا اور زیادہ برا ہے۔ 4۔ یعنی مثل دوسرے موانع مذکورہ کے یہ امر بھی مانع دوستی ہونا چاہئے۔
Ayahs 60:3–6

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

تمہارے رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن تمہارے کام نہ آوینگے خدا تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تمہارے سب اعمال کو خوب دیکھتا ہے۔ (ف 5)

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہارے لیے ابراہیم (علیہ السلام) میں اور ان لوگوں میں جو کہ ا (ایمان اور اطاعت میں) ان کے شریک حال تھے ایک عمدہ نمونہ ہے۔ جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو ان سے بیزار ہیں ہم تمہارے منکر ہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے عداوت اور بغض (زیادہ) ظاہر ہوگیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ لیکن ابراہیم (علیہ السلام) کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی کہ میں تمہارے لیے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے (استغفار سے زیادہ) مجھ کو خدا کے آگے کسی بات کا اختیار نہیں اے ہمارے پروردگار ہم آپ پر توکل کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور آپ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کا تختہ مشق نہ بنا اور اے پروردگار ہمارے گناہ معاف کردیجئے بیشک آپ زبردست حکمت والے ہیں۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

بیشک ان لوگوں میں تمہارے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ (کے سامنے جانے) کا اور قیامت کے دن (کے آنے) کا اعتقاد رکھتا ہو اور جو شخص (اس حکم سے) رو گردانی کرے گا سو (اسی کا ضرر ہوگا کیونکہ) اللہ تعالیٰ (تو) بالکل بےنیاز اور سزا وار حمد ہے۔

ف 5۔ یہ آیتیں ایک قصہ کے متعلق ہیں اور وہ قصہ یہ ہے کہ جب آپ ﷺ نے فتح مکہ کے لئے جہاد کرنے کا ارادہ کیا تو حاطب بن ابی بلتعہ نے جو کہ اہل بدر سے ہیں اور رہنے والے یمن کے ہیں اور مکہ میں آرہے تھے اور ان کے بھائی اور والدہ اور اولاد واہل عیال و اموال اب بھی مکہ میں تھے اہل مکہ کے نام ایک خط لکھا کہ رسول اللہ ﷺ تم پر چڑھائی کرنے والے ہیں اور یہ خط ایک عورت کو دیدیا کہ مکہ والوں پہنچا دے، آپ ﷺ کو وحی سے یہ بات معلوم ہوگئی، آپ نے حضرت علی اور چند صحابہ کو حکم دیا کہ فلاں جگہ وہ عورت ملے گی اس سے وہ خط لے آو، یہ گئے اور وہ عورت ملی، اور ان کے دھمکانے سے وہ خط اس نے دیا اور یہ لائے، آپ ﷺ نے حاطب سے پوچھا، انہوں نے کہا کہ واقعی خط میرا ہی لکھا ہوا ہے لیکن خدا نہ کرے میں نے مخالفت اسلام کے سبب یہ خط نہیں لکھا، بلکہ میں جانتا تھا کہ اسلام کو اس سے کوئی ضرر نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو ضرور غالب کرنے والا ہے، اور آپ کو ضرور فتح ہوگی، اور میرا نفع ہوجاوے گا کہ اہل مکہ اس کا احسان مان کر میرے اہل و عیال و اموال کی حفاظت کریں گے اور ان کو ایذا و ضرر نہ پہنچاویں گے۔ حضرت عمر کو غصہ آیا اور آپ سے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ اہل بدر سے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کے گناہ معاف فرمادیئے ہیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ سے امید ہے (یعنی ادھر سے وعدہ ہے) کہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری عداوت ہے دوستی کردے (ف 1) . اور اللہ کو بڑی قدرت ہے اور اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ (ف 2)

ف 1۔ یعنی ان کو مسلمان کر دے جس سے عداوت مبدل بہ صداقت ہوجاوے۔ 2۔ چناچہ فتح مکہ کے روز بہت آدمی خوشی سے مسلمان ہوگئے، مطلب یہ کہ اول تو اگر قطع تعلق ہمیشہ کے لئے ہو تب بھی بوجہ مامور بہ ہونے کے واجب العمل تھا، پھر خاص کر جبکہ تھوڑی ہی مدت کے لئے کرنا پڑے، اور پھر مشارک فی الایمان سے دوستی اور تعلق بدستور عود کر آوے، غرض ہر طرح قطع تعلق ضروری ہوا۔
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا (ف 3) . اللہ تعالیٰ انصاف کا براؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔

س 3۔ مراد وہ کافر ہیں جو ذمی یا مصالح ہوں، یعنی محسنانہ برتاوان کو منصفانہ برتاوفرمادیا، پس انصاف ہے یعنی خاص ان کی ذمیت یا مصالحت کے اعتبار سے انصاف مقتضی اس کو ہے کہ ان کے ساتھ احسان سے دریغ نہ کیا جاوے، ورنہ مطلق انصاف تو ہر کافر بلکہ جانور کے ساتھ بھی واجب ہے۔
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے (ف 4) اللہ تعالیٰ تم کو منع کرتا ہے جو تم سے دین کے بارے میں لڑے ہوں (خواہ بالفعل یابالعزم) اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہو اور (اگر نکالا بھی نہ ہو لیکن) تمہارے نکالنے میں (نکالنے والوں کی) مدد کی ہو (ف 5) اور جو شخص ایسوں سے دوستی کرے گا سو وہ گناہ گار ہوں گے۔

ف 4۔ یعنی بر و احسان سے۔ 5۔ یعنی ان کے ساتھ شریک ہوں بالفعل یا بالعزم، اس میں سب حربی غیر مصالح آگئی۔
Ayahs 60:10–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والوجب تمہارے پاس مسلمان عورتیں (دار الحرب سے) ہجرت کرکے آئیں تو تم ان کا امتحان کرلیا کرو ان کے ایمان کو اللہ ہی خوب جانتا ہے۔ (ف 6) پس اگر ان کو (اس امتحان کی رو سے) مسلمان سمجھو تو ان کو کفار کی طرف مت واپس کرو (کیونکہ) نہ تو وہ عورتیں ان (کافروں) کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان عورتوں کے لئے حلال ہیں اور ان کافروں نے جو کچھ خرچ کیا ہو وہ انکو ادا کردو اور تم کو ان عورتوں سے نکاح کرلینے میں کوئی گناہ نہ ہوگا جبکہ تم ان کے مہر ان کو دیدو اور (اے مسلمانو) تم کافر عورتوں کے تعلقات کو باقی مت رکھو (ف 1) اور (اس صورت میں) جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو (ان کافروں سے) مانگ لو اور جو کچھ ان کافروں نے خرچ کیا ہو وہ (تم سے) مانگ لیں یہ اللہ کا حکم ہے (اس کا اتّباع کرو) وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور اللہ بڑا علم اور حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بی بیوں میں سے کوئی بی بی کافروں میں رہ جانے سے (بالکل ہی) تمہارے ہاتھ نہ آئے پھر تمہاری نوبت آئے تو جن کی بی بیاں ہاتھ سے نکل گئیں جتنا (مہر) انہوں نے خرچ کیا تھا اس کے برابر تم انکو دیدو اور اللہ سے کہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو۔

ف 6۔ یعنی اس امتحان میں ظاہری ایمان پر اکتفا کیا کرو کیونکہ ان کے حقیقی ایمان کو تو اللہ ہی خوب جانتا ہے، تم کو تحقیق ہو ہی نہیں سکتا۔ 1۔ یعنی جو تمہاری بیبیاں دارالحرب میں کفر کی حالت میں رہ گئیں ان کا نکاح تم سے زائل ہوگیا۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس (اس غرض سے) آویں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کریں گی اور نہ چوری کرینگی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان کی (اولاد) لاوینگی جسکو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان (نطفہ شوہر سے جنی ہوئی دعویٰ کرکے) بنالیویں (ف 2) اور مشروع باتوں میں وہ آپ کے خلاف نہ کرینگی تو آپ ان کو بیعت کرلیا کیجئے اور ان کے لئے اللہ سے مغفرت طلب کیا کیجئے بیشک اللہ غفوررحیم ہے۔ (ف 3)

ف 2۔ جاہلیت میں بعض عورتوں کا دستور تھا کہ کسی غیر کا بچہ اٹھا لائیں اور کہہ دیا کہ میرے خاوند کا ہے، اور یا کسی سے بدکاری کی، اور اس نطفہ حرام کو اپنے خاوند کا بتلا دیا کہ اس میں علاوہ گناہ زنا کے الحاق والد کا ہے غیر من لہ الوالد کے ساتھ جس پر حدیث میں بھی وعید آئی ہے۔ 3۔ مطلب یہ کہ جب ان احکام کے حق اور واجب العمل سمجھنے کا اظہار کریں تو ان کو مسلمان سمجھئے اور ہرچند کہ خود اسلام ہی سے مغفرت ذنوب ماضیہ ہوجاتی ہے مگر امر بالاستغفار یا تو کمال ترتب آثار مغفرت کے لئے ہے، یا حاصل اس کا دعا ہے قبول ایمان کی، جو ملزوم ہے مغفرت کا۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو ان لوگوں سے (بھی) دوستی مت کرو جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب فرمایا (ف 4) ہے کہ وہ آخرت (کے خیروثواب) سے ایسے ناامید ہوگئے ہیں جیسے کفار جو قبروں میں (مدفون) ہیں ناامید ہیں۔ (ف 5)

ف 4۔ مراد اس سے یہود ہیں۔ 5۔ جو کافر مرجاتا ہے بوجہ اس کے کہ اس کو معائنہ آخرت کا ہوجاتا ہے حقیقت امر پر یقین کے ساتھ مطلع ہوجاتا ہے کہ اب میری بخشش نہ ہوگی۔