59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsبیان القرآن

Ayahs 59:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں (خواہ زبان حال سے یا قال سے) اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے۔

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

وہی ہے جس نے (ان) اہل کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کرکے نکال دیا (ف 5)․تمہارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ (کبھی اپنے گھروں سے) نکلیں گے اور (خود) انہوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ سے بچالیں گے (ف 1) سو ان پر خدا (کا عقاب) ایسی جگہ سے پہنچا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا (ف 2) اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ اپنے گھروں کو خوداپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی اجاڑ رہے تھے سو اے دانشمندو (اس حالت کو دیکھ کر) عبرت حاصل کرو۔ (ف 3)

ف 5۔ یہ قصہ یہود بنو نضیر کا بعد بدر کے ربیع الاول 4 ھ میں ہوا، یہ لوگ مدینہ سے دو میل پر رہتے تھے، پھر حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت میں ان کو مع دیگر یہود کے ملک شام کی طرف نکال دیا۔ یہ دونوں جلا وطنی حشر اول و حشر ثانی کہلاتی ہیں۔ 1۔ یعنی اپنے قلعوں کے استحکام پر ایسے مطئمن تھے کہ ان کے دل میں انتقام غیبی کا خطرہ بھی نہ آتا تھا۔ 2۔ مراد اس جگہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکالے گئے جن کی بےسرو سامانی پر نظر کر کے اس کا احتمال بھی نہ ہوتا تھا کہ یہ بےسامان ان باسامانوں پر غالب آجاویں گے۔ 3۔ یعنی عبرت حاصل کرو کہ انجام خدا و رسول کی مخالفت کا بعض اوقات دنیا میں بھی نہایت برا ہوتا ہے۔
Ayahs 59:3–4

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ ان کی قسمت میں جلا وطن ہونا نہ لکھ چکتاتو ان کو دنیاہی میں (قتل کی) سزا دیتا اور ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب (تیار) ہے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو سخت سزا دینے والا ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ آگے یہود کے ایک طعن کا جواب ہے جو ان کے درختوں کا کاٹنے اور جلانے کے باب میں کیا تھا کہ یہ فساد ہے اور فساد مذموم ہے۔
Ayah 59:5

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو ان کی جگہ پر کھڑا رہنے دیا سو ( دونوں باتیں) خدا ہی کے حکم ( اور رضا) کے موافق ہیں اور تاکہ کافروں کو ذلیل کرے۔ (ف 5)

ف 5۔ (مسئلہ) اہل حرب کے اموال کا احراق یا افساد و قطع اشجار وغیرہ جب اس میں مصلحت ہو جائز ہے۔
Ayah 59:6

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا (ف 6) سو تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ (ف 7) لیکن اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) اپنے رسولوں کو جس پر چاہے (خاص طور پر) مسلط فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت حاصل ہے۔

ف 6۔ جو مال اہل حرب سے بلا قتال حاصل ہو وہ فئے ہے۔ 7۔ مطلب یہ کہ نہ سفر کی مشقت ہوئی، کیونکہ مدینہ سے دو میل پر ہے، اور نہ قتال کی اور برائے نام جو مقابلہ کیا گیا وہ غیر معتد بہ تھا اس لئے اس میں تمہارا استحقاق تقسیم و تملیک کا نہیں جس طرح غنیمت کے چار خمس میں ہوتا ہے۔
Ayah 59:7

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو کچھ اللہ تعالیٰ نے (اس طور پر) اپنے رسول کو دوسری بستیوں کے (کافر) لوگوں سے دلوادے (جیسے فدک اور ایک حصہ خیبر کا) سو وہ (بھی) اللہ کا حق ہے اور رسول کا اور (آپ کے) قرابت داروں کا اور یتیموں کا اور غریبوں کا اور مسافروں کا (ف 8) تاکہ وہ (مال فئے) تمہارے تونگروں کے قبضے میں نہ آجاوے۔ اور رسول تم کو جو کچھ دے دیا کریں وہ لے لیا کرو اور جس چیز (کے لینے) سے تم کو روک دیں (اور بعموم الفاظ یہی حکم ہے افعال اور احکام میں بھی) تم رک جایا کرو اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ تعالیٰ (مخالفت کرنے پر) سخت سزا دینے والا ہے۔

ف 8۔ یعنی یہ سب حسب صوابدید رسول اللہ ﷺ کے اس کے مصرف ہیں جیسا کہ اور بھی اس کے مصرف ہیں، پس تخصیص ذکری بناء پر رفع شبہ کے ہوسکتی ہے کہ یہ لوگ بدون شرکت جہاد کے بدرجہ اولی مستحق نہ ہوں گے۔ اس شبہ کو رفع کردیا کہ ان کا مصرف ہونا خاص اوصاف کے اعتبار سے ہے نہ بوجہ شرکت جہاد کے، پس وہ وصف جس میں ہوگا وہ مصڑف ہوگا، اور ان مصارف میں سے یتامی و مساکین وا ابن السبیل میں تو حکم مطلقا باقی ہے، اور رسول و ذوی القربی من حیث نصرة الرسول کا سہم وفات نبوی سے مرتفع ہوگیا۔
Ayah 59:8

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

اور ان حاجتمند مہاجرین کا (بالخصوص) حق ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے (جبراً وظلماً ) جدا کردیے گئے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل (یعنی جنت) اور رضامندی کے طالب ہیں۔ (ف 1) اور وہ اللہ اور رسول (کے دین) کی مدد کرتے ہیں (اور) یہی لوگ (ایمان) کے سچے ہیں۔

ف 1۔ یعنی انہوں نے کسی دنیوی غرض سے ہجرت نہیں کی۔
Ayah 59:9

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (نیز) ان لوگوں کا (یہی حق ہے) جو دار الاسلام (یعنی مدینہ) میں ان (مہاجرین) کے (آنے کے) قبل سے قرار پکڑے ہوئے ہیں جو ان کے پاس ہجرت کرکے آتا ہے اس سے یہ لوگ محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ (انصار) اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ ان پر فاقہ ہی ہو ․(ف 2) اور (واقعی) جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جاوے ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ (ف 3)

ف 2۔ یعنی خود بسا اوقات فاقہ سے بیٹھ رہتے ہیں اور مہاجرین کو کھلا دیتے ہیں۔ 3۔ یہ دعا معاصرین کو بھی عام ہے، مجموعہ کا حاصل یہ ہوا کہ متقدمین کے فضل کے معتقد ہیں اور محبت معاصرین کے لئے بھی عام ہے۔
Ayah 59:10

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور ان لوگوں کا (بھی اس مال فئے میں حق ہے) جو ان کے بعد آئے جو (ان مذکورین کے حق میں) دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو بخشدے اور ہمارے ان بھائیوں کو (بھی) جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجئے (ف 4) ․ اے ہمارے رب آپ بڑے شفیق رحیم ہیں۔

ف 4۔ حرص طبعی و جبلی پر ملامت نہیں، البتہ اس کے مقتضائے نا مشروع پر عمل کرنا مذموم ہے۔
Ayahs 59:11–12

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا آپ نے ان منافقین (یعنی عبد اللہ ابن ابیّ وغیرہ) کی حالت نہیں دیکھی کہ اپنے (ہم مذہب) بھائیوں سے کہ کفار اہل کتاب ہیں (یعنی بنی نضیر سے) کہتے ہیں کہ واللہ اگر تم نکالے گئے تو ہم تمہارے ساتھ نکل جاوینگے اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کا کبھی کہنا نہ مانیں گے اور اگر تم سے کسی کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کرینگے اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں۔

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

واللہ اگر اہل کتاب نکالے گئے تو یہ (منافقین) انکے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ انکی مدد نہ کرینگے اور اگر (بفرض محال) ان کی مدد بھی کی تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر ان کی کوئی مدد نہ ہوگی۔ (ف 5)

ف 5۔ یعنی منافقین کی جو غرض ہے کہ اپنے ان بھائیوں پر کوئی آفت نہ آنے دیں اس میں ہر طرح ناکامی رہے گی، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب آخر میں نبی نضیر نکالے گئے تو منافقین ان کے ساتھ نکلے نہیں، اور جب اول میں ان کا محاصرہ کیا گیا جس میں احتمال قتال کا تھا تو اس میں انہوں نے نصرت نہیں کی۔
Ayahs 59:13–14

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

بیشک تم لوگوں کا خوف ان (منافقین) کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ ہے (اور) یہ (ان کا تم سے ڈرنا خدا سے نہ ڈرنا) اس سبب سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھتے نہیں۔

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

یہ لوگ (تو) سب مل کر بھی تم سے نہ لڑینگے مگر حفاظت والی بستیوں میں یا دیوار (قلعہ و شہر پناہ) کی آڑ میں ان کی لڑائی آپس (ہی) میں بڑی تیز ہے . اے مخاطب تو ان کو (ظاہر میں) متفق خیال کرتا ہے حالانکہ ان کے قلوب غیر متفق ہیں (ف 1) یہ اسوجہ سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (دین) کی عقل نہیں رکھتے۔

ف 1۔ یعنی گو عداوت اہل حق ان سب میں مابہ الاشتراک ہے مگر خود بھی تو انہیں اختلاف عقائد کی وجہ سے افتراق اور عداوت ہے۔
Ayah 59:15

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان لوگوں کی سی مثال ہے جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں جو (دنیا میں بھی) اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے ہیں . اور ( آخرت میں بھی) ان کے لئے دردناک عذاب (ہونیوالا) ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ مرا دان سے یہود بنی قینقاع ہیں جن کا قصہ یہ ہوا کہ واقعہ بدر کے بعد انہوں نے آپ سے 2 ھ میں نقض عہد کر کے محاربہ کیا، پھر مغلوب و مقہور ہوئے اور قلعہ سے آپ کے فیصلہ پر باہر نکلے۔ اور سب کی مشکیں باندھی گئیں، پھر عبداللہ بن ابی کے الحاح سے ان کی اس شرط پر جان بخشی کی کہ مدینہ سے چلے جائیں، چناچہ وہ اذرعات شام کو نکل گئے اور ان کے اموال میں غنیمت کی طرح عمل ہوا۔
Ayahs 59:16–17

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

شیطان کی سی مثال ہے کہ (اول تو) انسان سے کہتا ہے کہ تو کافر ہوجا پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو اس وقت صاف کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو اللہ رب العٰلمین سے ڈرتا ہوں۔

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

سو آخری انجام دونوں کا یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں گئے جہاں ہمیشہ رہیں گے (ایک گمراہ کرنے کی وجہ سے دوسرا ہونے کی وجہ سے) اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔ (ف 3)

ف 3۔ پس جس طرح اس شیطان نے اس انسان کو اول بہکایا پھر وقت پر ساتھ نہ دیا اور دونوں خسران میں پرے، اسی طرح ان منافقین نے اول بنی نضیر کو بری رائے دی کہ تم نکلو نہیں، پھر عین وقت پر ان کو دغا دی، اور دونوں بلا میں پھنسے، بنی نضیر تو بلائے اخراج میں اور منافقین ناکامیابی میں۔
Ayahs 59:18–19

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 59:18 in the Quran reader

اے ایمان والو اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ بھال لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے کیا ذخیرہ بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ․ بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی سب خبر ہے۔

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰىهُمْ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 59:19 in the Quran reader

اور تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے اللہ (کے احکام) سے بےپروائی کی (ف 4) سو اللہ تعالیٰ نے خودان کی جان سے ان کو بےپروا بنادیا (ف 5) یہی لوگ نافرمان ہیں۔

ف 4۔ یعنی عمل بالاحکام کو ترک کردیا، اس طرح کہ اوامر کے خلاف کیا اور نواہی کا اقتراف کیا۔ 5۔ یعنی ان کی ایسی عقل ماری گئی کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نہ حاصل کیا۔
Ayahs 59:20–23

لَا یَسْتَوِیْۤ اَصْحٰبُ النَّارِ وَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ؕ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 59:20 in the Quran reader

اہل نار اور اہل جنت باہم برابر نہیں جو اہل جنت ہیں وہ کامیاب لوگ ہیں (اور اہل نار ناکام ہیں ) ۔

لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 59:21 in the Quran reader

اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو (اے مخاطب) تو اس کو دیکھتا کہ خدا کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا۔ اور ان مضامین عجیبہ کو ہم لوگوں کے (نفع کے) لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ Open ayah 59:22 in the Quran reader

وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا کوئی اور معبود (بننے کے لائق) نہیں وہ جاننے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا وہی بڑا مہربان رحم والا ہے۔

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں وہ بادشاہ ہے (سب عیبوں سے) پاک ہے سالم ہے (ف 6) امن دینے والا ہے (ف 7) نگہبانی کرنے والا ہے زبردست ہے خرابی کا درست کردینے والا ہے بڑی عظمت والا ہے اللہ تعالیٰ (جسکی شان یہ ہے) لوگوں کے شرک سے پاک ہے۔

ف 6۔ یعنی نہ ماضی میں اس میں کوئی عیب ہوا کہ حاصل قدوس کا اور نہ آئندہ اس کا احتمال ہے کہ حاصل ہے سلام کا۔ 7۔ یعنی آفت بھی نہیں آنے دیتا اور آئی ہوئی کو بھی دور کردیتا ہے۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہ معبود (بر حق) ہے پیدا کرنے والا ہے ٹھیک ٹھیک بنانے والا ہے (ف 8) وہ صورت بنانے والا ہے اسکے اچھے اچھے نام ہیں سب چیزیں اس کی تسبیح کرتی ہیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہی زبردست حکمت والا ہے۔ (ف 1)

ف 8۔ یعنی ہر چیز کو حکمت کی موافق بناتا ہے۔ 1۔ پس ایسے باعظمت کے احکام کی بجا آوری ضرور اور نہایت ضرور ہے۔