58. Surah Al-Mujaadila

المجادلةThe Pleading Woman · 22 ayahsبیان القرآن

Ayahs 58:1–2

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا وَ تَشْتَكِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ۖۗ وَ اللّٰهُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 58:1 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملہ میں جھگڑتی تھی اور (اپنے رنج و غم کی) اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتی تھی اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا (اور) اللہ (تو) سب کچھ سننے والا سب دیکھنے والا ہے۔ (ف 3)

اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآئِهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓئِیْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ Open ayah 58:2 in the Quran reader

تم میں جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں (مثلا یوں کہہ دیتے ہیں انت علیَّ کظہر امی) وہ ان کی مائیں نہیں ہیں ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے اور وہ لوگ بلا شبہ ایک نامعقول اور (چونکہ) جھوٹ بات کہتے ہیں (اس لئے گناہ ضرور ہوگا) اور یقیناً اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے بخشدینے والے ہیں۔

ف 3۔ سبب نزول آیات ابتدائیہ کا یہ ہے کہ اوس بن الصامت نے غصہ میں ایک بار اپنی بی بی خولہ کو یوں کہہ دیا کہ انت علی کظھر امی یعنی تو میرے حق میں ایسی ہے جیسی میری ماں کی پشت کہ مجھ پر حرام ہے، اور بعثت نبویہ کے قبل اس لفظ سے تحریم ابدی طلاق سے بڑھ کر سمجھی جاتی تھی، خولہ تحقیق حکم کے لئے حضور نبوی ﷺ میں حاضر ہوئیں، آپ نے اس پر بنا پر کہ ابھی اس قول مشہور کے خلاف وحی نازل نہیں ہوئی اس قول مشہور کو قابل عمل خیال کر کے فرمادیا وہ یہ سن کر کے واویلا کرنے لگیں، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، پس ان آیات میں ظہار کا حکم ہے، اور اس کے بعد مطلقا احکام الہیہ کا واجب التصدیق والعمل ہونا اور تصدیق پر بالخصوص وعید شدید کا مرتب ہونا ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 58:3

وَ الَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآئِهِمْ ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ؕ ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:3 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنی بی بیوں سے ظہار کرتے ہیں پھر اپنی کہی ہوئی بات کی تلافی کرنا چاہتے ہیں تو انکے ذمہ ایک غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ دونوں (میاں بی بی) باہم اختلاط کریں اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے۔ (ف 4)

ف 4۔ پس کفارہ میں دو حکمتیں ہوگئیں، ایک تکفیر سیئہ جس کی طرف اشارہ ہے لعفو غفور میں، دوسرے زجر جس کا تو عظون میں بیان ہے۔
Ayah 58:4

فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّتَمَآسَّا١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ فَاِطْعَامُ سِتِّیْنَ مِسْكِیْنًا١ؕ ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 58:4 in the Quran reader

پھر جس کو (غلام لونڈی) میسر نہ ہو تو اس کے ذمہ پیاپے (یعنی لگاتار) دو مہینے کے روزے ہیں قبل اس کے کہ دونوں باہم اختلاط کریں پھر جس سے یہ بھی نہ ہوسکیں تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ یہ حکم اس لئے (بیان کیا گیا) ہے کہ اللہ اور رسول (علیہ السلام) پر ایمان لے آؤ اور یہ اللہ کی حدیں (باندھی ہوئی) ہیں اور کافروں کے لئے سخت دردناک عذاب ہوگا۔ (ف 5)

ف 5۔ (مسئلہ 1) ظہار کے معنی ہیں اپنی بی بی کو کسی ایسی عورت کے جو اس شخص پر ہمیشہ کے لئے حرام ہو (جیسے ماں، بہن، بیٹی وغیرہ) کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف بلا ضرورت نظر کرنا حرام ہے، جیسے ظہر اور بطن اور فخذ وغیرہ۔ (مسئلہ 2) بدون کفارہ ادا کئے ہوئے صحبت اور دواعی صحبت حرام ہے۔
Ayah 58:5

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ قَدْ اَنْزَلْنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ١ؕ وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ مُّهِیْنٌۚ Open ayah 58:5 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور رسول (علیہ السلام) کی مخالفت کرتے ہیں (ف 6) وہ (دنیا میں بھی) ایسے ذلیل ہونگے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے اور ہم نے کھلے کھلے احکام نازل کیے ہیں اور کافروں کو ذلت کا عذاب ہوگا۔ (ف 7)

ف 6۔ خواہ کسی حکم میں مخالفت کریں۔ 7۔ اس لئے ان کا انکار لا محالہ موجب سزا ہوگا۔
Ayah 58:6

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ۠ Open ayah 58:6 in the Quran reader

جس روز ان سب کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا پھر ان کا سب کیا ہوا ان کو بتلادیگا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے وہ محفوظ کر رکھا ہے اور یہ لوگ بھول گئے (ف 1) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر مطلع ہے۔

ف 1۔ خواہ حقیقة یا باعتبار بےفکری و بےالتفاتی کے۔
Ayah 58:7

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ مَا یَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَ لَا خَمْسَةٍ اِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَ لَاۤ اَدْنٰى مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْثَرَ اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ اَیْنَ مَا كَانُوْا١ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 58:7 in the Quran reader

کیا آپ نے اس پر نظر نہیں فرمائی کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے کوئی سرگوشی تین آدمیوں کی ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ (یعنی اللہ) نہ ہو اور نہ پانچ کی (سرگوشی) ہوتی ہے جس میں چھٹا وہ نہ ہو․ اور نہ اس (عدد) سے کم (میں) ہوتی ہے (جیسے دویا چار آدمیوں میں) اور نہ اس سے زیادہ مگر وہ (ہر حالت میں) ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے خواہ وہ لوگ کہیں بھی ہوں پھر ان (سب) کو قیامت کے روز ان کے کئے ہوئے کام بتلادے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ کو ہر بات کی پوری خبر ہے۔ (ف 2)

ف 2۔ اس آیت کا مضمون بعنوان کلی اگلے مضامین جزئیہ کی تمہید ہے یعنی یہ بالباطل سرگشی کرنے والے خدا سے ڈرتے نہیں کہ خدا کو سب خبر ہے اور ان کو سزا دے گا، آگے وہ جزئی مضامین ہیں۔
Ayah 58:8

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى ثُمَّ یَعُوْدُوْنَ لِمَا نُهُوْا عَنْهُ وَ یَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ١٘ وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَیَّوْكَ بِمَا لَمْ یُحَیِّكَ بِهِ اللّٰهُ١ۙ وَ یَقُوْلُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ١ؕ حَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 58:8 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جن کو سرگوشی سے منع کردیا گیا تھا (مگر) پھر (بھی) وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور گناہ اور زیادتی اور رسول (علیہ السلام) کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں (ف 3) اور وہ لوگ جب آپ کے پاس آتے ہیں آپ کو ایسے لقب سے سلام کہتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا (ف 4) اور اپنے جی میں (یا اپنے آپس میں) کہتے ہیں کہ (اگر پیغمبر ہیں تو) اللہ تعالیٰ ہم کو ہمارے اس کہنے پر سزا (فوراً ) کیوں نہیں دیتا ان کے لئے جہنم کافی ہے اس میں یہ لوگ (ضرور) داخل ہونگے سو وہ برا ٹھکانہ ہے۔

ف 3۔ یعنی ایسی سرگوشی کرتے ہیں جس میں بوجہ منہی عنہ ہونے کے گناہ لازمی بھی ہے اور بوجہ تحرین مسلمین کے عدوان یعنی ضرر متعدی بھی ہے اور بوجہ اس کے کہ حضور ﷺ منع فرماچکے تھے معصیت رسول بھی ہے۔ 4۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے الفاظ تو یہ ہیں سلام علی المرسلین، سلام علی عبادہ الذین اصطفی، صلوا علیہ وسلم وا تسلیما، اور وہ کہتے ہیں السام علیک۔
Ayah 58:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَیْتُمْ فَلَا تَتَنَاجَوْا بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِیَتِ الرَّسُوْلِ وَ تَنَاجَوْا بِالْبِرِّ وَ التَّقْوٰى١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 58:9 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم (کسی ضرورت سے) سرگوشی کرو تو گناہ اور رسول (علیہ السلام) کی نافرمانی کی سرگوشیاں مت کرو اور نفع رسانی اور پرہیزگاری کی باتوں کی سرگوشیاں کرو (ف 5) اور اللہ سے ڈرو جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤگے۔

ف 5۔ بر سے مراد نفع متعدی مقابل عدوان کے اور تقوی مقابل اثم و معصیت الرسول کے ہے۔
Ayah 58:10

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَیْسَ بِضَآرِّهِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 58:10 in the Quran reader

ایسی سرگوشی محض شیطان کی طرف سے (یعنی اس کے بہکانے سے) ہے تاکہ مسلمانوں کو رنج میں ڈالے اور وہ (شیطان) بدون خدا کے ارادے کے ان کو کچھ ضرر نہیں پہنچاسکتا (ف 6) اور مسلمانوں کو (ہر امر میں) اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئیے۔

ف 6۔ مطلب یہ کہ اگر بالفرض وہ باغواء شیطان تمہارے ضرر ہی کی باتیں کر رہے ہوں تب بھی وہ ضرر بدون مشیت ازلیہ کے تم کو نہیں پہنچ سکتا، پھر کیوں فکر میں پڑتے ہو۔
Ayah 58:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِیْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِی الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا یَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ١ۚ وَ اِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ۙ وَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 58:11 in the Quran reader

اے ایمان والو جب تم کو کہا جاوے (ف 7) کہ مجلس میں جگہ کھول دو تو تم جگہ کھول دیا کرو اللہ تم کو (جنت میں) کھلی جگہ دے گا اور جب (کسی ضرورت سے) یہ کہا جائے کہ (مجلس سے) اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوجایا کرو (ف 1) اللہ تعالیٰ (اس حکم کی اطاعت سے) تم میں ایمان والوں کے اور (ایمان والوں میں) ان لوگوں کے جن کو علم (دین) عطا ہوا ہے (اُخروی) درجے بلند کردیگا۔ اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے۔

ف 7۔ یعنی رسول اللہ ﷺ فرمادیں یا اولی الامر یا واجب الاطاعت لوگوں میں سے کوئی کہے۔ 1۔ خواہ اٹھنے کے لئے اس غرض سے کہا جاوے کہ آنے والے کے لئے جگہ کھل جائے، پھر چاہے بالکل اٹھ جانے سے ہو، یا ایک جگہ سے اٹھ کر دوسرے جگہ جا بیٹھنے سے ہو، اور خواہ اس وجہ سے کہا جاوے کہ صدر مجلس کو کسی مصلحت مشورت خاصہ یا کسی ضرورت آرام یا عبادت وغیرہ سے انفراد اور تخلیہ وغیرہ کی حاجت ہو۔ جو بدون خلوت کے مطلقا حاصل نہ ہوسکیں یا کامل نہ ہوسکیں، پس صدر مجلس کے امر بالقیام سے اٹھ جانا چاہئے۔ اور یہ حکم غیر رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی عام ہے۔ پس صاحب مجلس کو حاجت کے وقت اس کی اجازت ہے، البتہ آنے والے کو نہ چاہئے کہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ جا بیٹھے۔
Ayahs 58:12–13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَیْتُمُ الرَّسُوْلَ فَقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقَةً١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ١ؕ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 58:12 in the Quran reader

اے ایمان والوجب تم رسول سے سرگوشی (کرنے کا ارادہ) کیا کرو تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے (مساکین کو) کچھ خیرات دیدیا کرو (ف 2) یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور (گناہوں سے) پاک ہونے کا اچھا ذریعہ ہے (ف 3) پھر اگر تم کو (صدقہ دینے کی) مقدور نہ ہو تو اللہ غفور رحیم ہے۔

ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ١ؕ فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 58:13 in the Quran reader

کیا تم اپنی سرگوشی کے قبل خیرات دینے سے ڈر گئے ․ سو (اخیر) جب تم (اس کو) نہ کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی تو تم نماز کے پابند رہو اور زکوٰة دیا کرو اور اللہ اور رسول (علیہ السلام) کا کہنا ماناکرو اور اللہ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے۔ (ف 4)

ف 2۔ خیرات کی مقدار آیت میں منصوص نہیں، اور روایات میں مختلف مقداریں آئی ہیں ظاہرا غیر مقدر معلوم ہوتی ہے لیکن معتدبہ ہونا ضرور ہے۔ 3۔ غالبا یہ صدقہ علانیہ ہوگا ورنہ ہر شخص دعوی تقدیم صدقہ کا کرسکتا ہے۔
Ayahs 58:14–18

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ١ۙ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 58:14 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (ف 5) ․ یہ ( منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ ان ہی میں ہیں اور جھوٹی بات پر قسم کھاجاتے ہیں اور وہ (خود بھی) جانتے ہیں۔

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 58:15 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے (کیونکہ) بیشک وہ برے برے کام کیا کرتے تھے۔

اِتَّخَذُوْۤا اَیْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 58:16 in the Quran reader

انہوں نے اپنی قسموں کو (اپنے بچاؤ کے لئے) سپر بنارکھا ہے پھر خدا کی راہ سے روکتے رہتے ہیں سو (اس وجہ سے) ان کے لئے ذلت کا عذاب ہونے والا ہے۔

لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 58:17 in the Quran reader

ان کے اموال اور اولاد (اللہ کے عذاب) سے ان کو ذرا نہ بچاسکیں گے اور یہ لوگ دوزخی ہیں۔ وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

یَوْمَ یَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا فَیَحْلِفُوْنَ لَهٗ كَمَا یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ عَلٰى شَیْءٍ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 58:18 in the Quran reader

جس روز اللہ ان سب کو دوبارہ زندہ کرے گا سو یہ اس کے روبرو بھی (جھوٹی) قسمیں کھاجاوینگے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھا جاتے ہیں اور یوں خیال کریں گے کہ ہم کسی اچھی حالت میں ہیں خوب سن لو یہ لوگ بڑے ہی جھوٹے ہیں۔

ف 5۔ پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں، اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور معلوم ہے۔
Ayahs 58:19–20

اِسْتَحْوَذَ عَلَیْهِمُ الشَّیْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ الشَّیْطٰنِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ الشَّیْطٰنِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 58:19 in the Quran reader

ان پر شیطان نے پورا تسلط کرلیا ہے سو اس نے ان کو خدا کی یاد بھلادی (ف 1) ․ یہ لوگ شیطان کا گروہ ہے خوب سن لو کہ شیطان کا گروہ ضرور برباد ہونے والا ہے۔ (ف 2)

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ اُولٰٓئِكَ فِی الْاَذَلِّیْنَ Open ayah 58:20 in the Quran reader

جو لوگ اللہ اور اسکے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ سخت ذلیل لوگوں میں ہیں۔

ف 1۔ یعنی اس کے احکام کو چھوڑ بیٹھے۔ 2۔ آخرت میں تو ضرور اور گاہے دنیا میں بھی۔
Ayahs 58:21–22

كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 58:21 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے یہ بات (اپنے حکم ِ ازلی میں) لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے (ف 3) بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا غلبہ والا ہے۔ (ف 4)

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْ١ؕ اُولٰٓئِكَ كَتَبَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الْاِیْمَانَ وَ اَیَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ١ؕ وَ یُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ١ؕ اُولٰٓئِكَ حِزْبُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزْبَ اللّٰهِ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 58:22 in the Quran reader

جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھتے ہیں جو اللہ اور رسول کے برخلاف ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہوں ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور ان (قلوب) کو اپنے فیض سے قوت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے) اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہونگی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہونگے ․یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے۔

ف 3۔ مقصود یہاں غلبہ بیان کرنا انبیاء کا ہے، اپنا ذکر تشریف انبیاء کے لئے فرمادیا۔ 4۔ اس لئے وہ جس کو چاہئے غالب کردے۔