60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsانوار البیان

Ayah 60:1

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

مومنو ! ! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لئے (مکے سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناو تم تو انکو دوستی کے پیغام بھیجتے ہو اور وہ (دین) حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں۔ اور اس باعث سے کہ تم اپنے پروردگار خدائے تعالیٰ پر ایمان لائے ہو پیغمبر کو اور تم کو جلا وطن کرتے ہیں تم ان کی طرف پوشیدہ پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو جو کچھ تم مخفی طور پر اور جو علی الاعلان کرتے ہو وہ مجھے معلوم ہے۔ اور جو کوئی تم میں سے ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔

(60:1) لاتتخذواـ فعل نہی جمع مذکر حاضر، اتخاذ (افتعال) مصدر۔ تم مت بناؤ۔ تم مت پکڑو۔ عدوی : مضاف مضاف الیہ۔ میرے دشمن۔ مفعول فعل لا تتخذوا کا۔ اولیائ۔ مفعول ثالث لاتتخذوا کا۔ ولی کی جمع۔ دوست، ساتھی۔ اے ایمان والو ! نہ بناؤ میرے دشموں کو اور اپنے دشمنوں کو اپنے دوست۔ عدو اگرچہ مفرد ہے لیکن اس کا اطلاق مفرد اور جمع دونوں پر ہوتا ہے۔ مثلاً اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ افتتخذونہ وذریتہ اولیاء من دونی وہم لکم عدو (18:50) کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں۔ تلقون الیہم بالمودۃ : تلقون مضارع جمع مذکر حاضر القاء (افعال) مصدر تم ڈالتے ہو۔ تم اظہار کرتے ہو۔ بالمودۃ : مودۃ مصدر ہے ودو مادہ سے اسی معنی میں اور مصادر بھی ہیں۔ جیسے ود، وداد، موددۃ، مردودۃ باب سمع محبت کرنا۔ خواہش کرنا۔ یہاں بمعنی محبت ۔ دوستی کے آیا ہے۔ ود، دید، ودودۃ ۔ دوست بہت محبت کرنے والا۔ جملہ تلقون الیہم بالمودۃ کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یہ لا تتخذوا کی ضمیر سے حال ہے۔ (2) یہ اولیاء کی صفت ہے۔ (3) یہ کلام مستانفہ ہے۔ نیا جملہ ہے پہلے کلام سے اس کا کوئی ربط نہیں ہے۔ بالمودۃ میں باء زائدہ برائے تعقیب بھی ہوسکتی ہے اور ثابۃ بھی ہوسکتی ہے۔ پہلی صورت میں القار بالمودۃ کے معنی اظہار المودۃ ہوگا۔ یعنی تم ان سے محبت کا اظہار کرتے ہو ۔ دوسری صورت میں یہ ب تعدیہ کے لئے ہوگی اور مودۃ تلقون کا مفعول ہوگا۔ اس کا مفہوم وہی ہوگا جو پہلے ذکر کیا گیا ہے۔ اور اگر ب سببیت کے لئے ہے تو اس وقت تلقون کا مفعول محذوف ماننا پڑیگا۔ عبارت یوں ہوگی :۔ تلقون الیہم اخبار رسول اللہ ﷺ بسبب المردۃ التی بینکم وبینہم (کشاف) یہاں القاء ارسال کے معنی میں ہے یعنی تم رسول کی خبریں ان کافروں کو بھیجتے ہو اس محبت کی وجہ سے جو تمہارے درمیان اور ان کے درمیان ہے (ضیاء القرآن) وقد کفروا بما جاء کم من الحق : واؤ حالیہ ہے قد ماضی کے ساتھ تحقیق کے معنی میں ہے۔ اور تحقیق وہ انکار کرتے ہیں اس حق سے (یعنی قرآن مجید سے) جو تمہارے پاس آیا ہے۔ الحق سے مراد قرآن مجید ہے (تفسیر مظہری) دین حق ہے (حقانی) اس سے مراد سلامی عقیدہ و شریعۃ ہے ای الاسلام عقیدۃ وشریعۃ (الیسر التفاسیر) اگر جملہ تلقون الیہم بالمودۃ کو لا تتخذوا کی ضمیر سے حال لیا جائے تو یہ جملہ بھی ضمیر لا تتخذوا سے حال ہوگا ۔ حالانکہ تمہارے پاس جو دین حق آیا ہے یہ لوگ بالحقیق اس سے انکار کرچکے ہیں۔ یخرجون الرسول وایاکم (من المکۃ او من دیارکم) وہ ملک بدر کرچکے ہیں رسول اللہ ﷺ کو اور تم کو بھی۔ یہ جملہ حال ہے فاعل کفروا سے۔ ان تؤمنوا باللہ ربکم : ان مصدریہ ہے یہ جملہ تعلیل ہے اخراج الرسول واخراج المؤمنین کی وان تؤمنوا تعلیل یخرجون ای یخرجونکم لایمانکم۔ مطلب یہ ہے کہ :۔ کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ کو اور تم کو مکہ سے محض اس لئے نکالا ہے کہ تم اللہ پر جو تمہارا پروردگار ہے ایمان لائے ہو۔ ان کنتم خرجتم جھادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی : ان شرطیہ ہے جھادا جہاد کے لئے جہاد۔ اللہ کی راہ میں لڑنا۔ محبت ، کوشش ، جاھدا یجاھد مجاھدۃ (باب مفاعلۃ) اور جھاد مصدر ۔ بوجہ مفعول لہ منصوب ہے۔ فی سبیلی۔ مضاف مضاف الیہ۔ میری راہ میں۔ ابتغاء موضارتی : ابتغاء چاہنا۔ تلاس شکرنا۔ بروزن افتعال مصدر ہے جو بہ مفعول لہ منصوب ہے۔ مرضاتی۔ مضاف مضاف الیہ۔ میری رضا جوئی کے لئے۔ میری خوشنودی کے لئے میری رضا مندی کے لئے۔ جملہ ان کنتم ۔۔ مرضاتی شرط ہے جس کی جزاء محذوف ہے اور کلام سابق لاتتخذوا اس پر دلالت کر دہا ہے۔ یا یہ جملہ شرط مؤخر ہے اور جواب شرط مقدم ہے یعنی عبارت یوں ہے :۔ ان کنتم خرجتم جھادا فی سبیلی وابتغاء مرضاتی فلا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء (تفسیر الخازن) تسرون الیہم بالمودوۃ : تسرون مضارع جمع مذکر حاضر اسرار (افعال) مصدر۔ تم چھپاتے ہو۔ تم پوشیدہ رکھتے ہو۔ تم چوری چھپے ان سے دوستی کی باتین کرتے ہو۔ صاحب تفسیر ضیاء القرآن اس آیت کی تفسیر میں حاشیہ میں لکھتے ہیں :۔ تسرون الیہم ۔۔ الخ یہ تلقون سے بدل بھی ہوسکتا ہے لیکن مناسب یہ ہے کہ اس کو کلام مستانفہ بنایا جائے۔ اس کے دونوں مفہوم ہوسکتے ہیں :۔ ای تفضون الیہم یمودتکم سرا۔ یعنی تم انہیں چپکے چپکے اپنی محبت اور دوستی کا یقین دلاتے ہو۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ :۔ تسرون الیہم اسرار رسول اللہ ﷺ بسبب المودۃ۔ کہ تم باہمی دوستی کی وجہ سے حضور ﷺ کے راز ان تک پہنچاتے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ تمہاری ساری حرکتوں کو اچھی طرح جانتا ہے تم لاکھ چھپانے کی کوشش کرو۔ اس علم وخبیر سے نہیں چھپا سکتے۔ وانا اعلم ۔ جملہ حالیہ ہے اعلم رلم سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے میں خوب جاننے والا ہوں۔ بما اخفیتم : ب تعدیہ یا زائدہ ہے ما موصولہ ہے اخفیتم ماضی جمع مذکر حاضر اخفاء (افعال) مصدر ۔ صلہ۔ جو تم نے چھپایا۔ جو تم چھپاتے ہو۔ ما اعلنتم : ما موصولہ۔ اعلنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ اعلان (افعال) مصدر اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ جو تم اعلان کرتے ہو۔ جو تم نے ظاہر کیا۔ ومن یفعلہ : واؤ عاطفہ۔ من شرطیہ یفعلہ مضارع مجزوم بالشرط۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر۔ محبت کا چوری چھپے اظہار۔ کے لئے ہے جملہ شرط ہے۔ فقد ضل :جواب شرط کے لئے ہے قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کا فائدہ دیتا ہے۔ اور ماضی کو ماضی قریب کے معنی میں کردیتا ہے ضل ماضی واحد مذکر غائب ۔ ضلال (باب ضرب) مصدر۔ وہ گمراہ ہوا۔ وہ بھٹکا۔ وہ راہ راست سے دور جا پڑا۔ یہاں ضل بطور فعل متعدی بمعنی اضل آیا ہے۔ سواء کے معنی وسط کے ہیں ۔ سواء وسوی وسوی اسے کہا جاتا ہے جس کی نسبت دونوں طرف مساوی ہو۔ سواء وصف بن کر بھی استعمال ہوتا ہے اور ظرف بھی لیکن اصل میں یہ مصدر ہے۔ قرآن مجید میں آیا ہے :۔ فی سواء الجحیم (37:55) دوزخ کے وسط میں ۔ سواء السبیل۔ راستہ کا درمیانی حصہ۔ سیدھا راستہ۔ صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہوکر ضل کا مفعول بہٖ ہے۔ قد ضل سواء السبیل۔ تو وہ سیدھے راستہ سے بھٹک گیا۔ اس نے راہ راست کو کھو دیا۔ ان آیات کا نزول اس وقت ہوا تھا جب مشرکین مکہ کے نام حضرت حاطب بن ابی بلتحہ کا خط پکڑا گیا تھا۔ قصہ یہ ہے کہ :۔ جب مشرکین مکہ کے لوگوں نے (قریش نے) صلح حدیبیہ کا معاہدہ توڑ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مکہ معظمہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا اور تیاری شروع کردی۔ مگر چند مخصوص صحابہ کے سوا کسی کو نہ بتایا کہ آپ کس مہم پر جانا چاہتے ہیں۔ اتفاق سے اسی زمانہ میں مکہ معظمہ سے ایک عورت آئی جو کہ پہلے بنی عبد المطلب کی لونڈی تھی اور پھر آزاد ہو کر گانے بجانے کا کام کرنے لگی اس نے آکرحضور ﷺ سے اپنی تنگ دستی کی شکایت کی اور کچھ مالی مدد مانگی۔ آ نے بنی عبد المطلب سے اپیل کرکے اس کی حاجت پوری کردی جب وہ مدینہ سے جانے لگی تو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے اور اس کو چپکے سے ایک خط بعض سرداران قریش کے نام دیا اور دس دینار بھی دئیے تاکہ وہ راز فاش نہ کر دے اور یہ خط چھپا کر ان لوگوں کو دے دے ابھی وہ مدینہ سے روانہ ہی ہوتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کریم ﷺ کو اس پر مطلع فرما دیا۔ آپ نے فورا حضرت علی ، حضرت زبیر، حضرت مقدار بن اسود ؓ کو اس کے پیچھے بھیجا۔ اور حکم فرمایا کہ تیزی سے جاؤ۔ روضہ خاخ کے موام پر (مدینہ سے 12 میل بجانب مکہ) تم کو ایک عورت مے گی جس کے پاس مشرکین مکہ کے نام حاطب کا ایک خط ہے جس طرح بھی ہو یہ خط حاصل کرو۔ اگر وہ دیدے تو اسے چھوڑ دینا۔ اور اگر نہ دے تو اسے قتل کردینا۔ یہ حضرات جب اس مقام پر پہنچے تو وہ عورت موجود تھی انہوں نے اس سے خط مانگا اس کے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے انہوں نے تلاشی لی مگر کوئی خط نہ ملا۔ آخر کو انہوں نے کہا کہ خط ہمارے حوالہ کر دو ورنہ ہم برہنہ کرکے تیری تلاشی لیں گے۔ جب اس نے دیکھا کہ اب بچنے کی کوئی صورت نہیں ہے تو اپنی چوٹی میں سے نکال کر وہ خط دیدیا اور یہ حضور ﷺ کے پاس لے آئے۔ کھول کر پڑھا گیا تو اس میں قریش کے لوگوں کو یہ اطلاع دی گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ تم پر چڑھائی کی تیاری کر رہے ہیں مختلف روایات میں مختلف الفاظ نقل ہوئے ہیں مگر مدعا سب کا یہی ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت حاطب سے دریافت فرمایا یہ کیا حرکت ہے ؟ انہوں نے عرض کیا آپ میرے معاملہ میں جلدی نہ فرمائیے میں نے جو کچھ کیا ہے اس بناء پر نہیں کیا ہے کہ میں کافر و مرتد ہوگیا ہوں اور اسلام کے بعد اب کفر کو پسند کرنے لگا ہوں۔ اصل بات یہ ہے کہ میرے اعزہ و اقرباء مکہ میں مقیم ہیں میں قریش کے قبیلہ کا آدمی نہیں ہوں بلکہ بعض قریشیوں کی سرپرستی میں وہاں آباد ہوا ہوں مہاجرین میں سے دوسرے جن لوگوں کے اہل و عیال مکہ میں ہیں ان کو تو ان کا قبیلہ بچا لیگا مگر میرا کوئی قبیلہ وہاں نہیں ہے جسے کوئی بچانے والا ہو ۔ اس لئے میں نے یہ خط اس خیال سے بھیجا تھا کہ قریش پر میرا ایک احسان رہے جس کا لحاظ کرکے وہ میرے بال بچوں کو نہ چھیڑیں رسول اللہ ﷺ نے حضرت حاطب کی یہ بات سن کر فرمایا کہ :۔ قد صدقکم : حاطب نے تم سے سچی بات کہی ہے۔ یعنی ان کے اس فعل کا اصل محرک یہی تھا اسلام سے انحراف اور کفر کی حمایت کا جذبہ اس کا محرک نہ تھا۔ حضرت عمر ؓ نے اٹھ کر عرض کیا کہ یارسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن ماد دوں ؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے خیانت کی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا :۔ اس شخص نے جنگ بدر میں حصہ لیا ہے تمہیں کیا خبر ؟ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو ملاحظہ فرما کر کہ کہہ دیا ہو کہ ” تم خواہ کچھ بھی کرو میں نے تم کو معاف کیا “۔ یہ بات سن کر حضرت عمر ؓ روپڑے اور کہا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ یہ ان کثیر التعداد روایات کا خلاصہ ہے جو کہ متعدد معتبر سندوں سے بخاری ، مسلم ، ابوداؤد، احمد، ترمذی، نسائی، ابن جریر) طبری۔ ابن ہشام۔ ابن حیان۔ اور ابن ابی حاتم نے نقل کی ہیں۔
Ayah 60:2

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر یہ کافر تم پر قدرت پالیں تو تمہارے دشمن ہوجائیں اور ایذا کے لئے تم پر ہاتھ (بھی) چلائیں اور زبانیں (بھی) اور چاہتیں ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجاؤ۔

(60:2) ان یثقفوکم : ان شرطیہ ۔ یثقفوا مضارع مجزوم بالشرط صیغہ جمع مذکر غائب ثقف (باب سمع) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کو پانا۔ اور اس پر کامیاب ہونا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر، اگر وہ تم پر کامیاب ہوجائیں ۔ اگر وہ تم پر قابو پالیں۔ اصل میں ثقف کے معنی ہیں کہ کسی شے کا ادراک کرلینا نیز اس کے کرنے اور انجام دینے میں مہارت اور حذاقت کے پائے جانے کے ہیں۔ اور اسی لئے نظر کی مشاقی کی بدولت کسی چیز کو نگاہ سے پالینے کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ پھر مجازا بغیر اس کے کہ مہارت اور حزاقت ملحوظ ہو صرف پانے اور ادراک کرنے کے لئے بولنے لگے۔ قرآن مجید میں ہے :۔ واقتلوہم حیث ثقفتموھم (2:191) اور ان کو جہاں پاؤ قتل کر دو ۔ یکونوا۔ مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) جمع مذکر غائب ، وہ ہوجاویں۔ اعدائ : یکونوا کی خبر۔ عدو کی جمع۔ دشمن۔ ویبسطوا الیکم ایدیہم : واؤ عاطفہ۔ یبسطوا مضارع (مجزوم بوجہ جواب شرط) جمع ذکر غائب۔ بسط (باب نصر) مصدر۔ بمعنی کشادہ کرنا۔ فراخ کرنا۔ بسط یدہ اس نے اپنا ہاتھ پھیلایا۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ ایدیہم : ایدی۔ جمع ید کی۔ مضاف۔ ہم مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول فعل یبسطوا کا۔ اور بڑھائیں گے تمہاری طرف اپنے ہاتھ۔ دست درازی کریں گے۔ والسنتھم : اس کا عطف ایدیہم پر ہے ای ویبسطوا الیکم السنتھم اور بڑھائیں گے تمہاری طرف اپنی زبانیں۔ یعنی زبان درازی کریں گے۔ بالسوائ۔ برائی کے ساتھ۔ ویبسطوا الیکن ایدیہم والسنتھم بالسوء کا عطف یکونوا لکم اعداء پر ہے۔ یہ جملہ یا تو جواب شرط ہے اور معنی ہوگا۔ اگر وہ تم پر قابو پالیں گے ( تو تمہارے دشمن ہوجائیں گے) اور ایذا کے لئے تم پو دست درازی اور زبان درازی کریں گے۔ یا یہ عطف تفسیری ہے یعنی یہ جملہ ان کی عداوت کی تفسیر کرتا ہے یعنی ان کی عداوت یہ ہوگی کہ :۔ وہ تم پر دست درازی کریں گے یعنی قتل کریں گے اور ماریں گے۔ اور تم سے زبان درازی کریں گے یعنی گا لیں دیں گے اور برائی کریں گے۔ بالسواء کا تعلق صرف والسنتھم سے بھی ہوسکتا ہے۔ اور ایدیہم والسنتھم دونوں سے بھی۔ وودوا : واؤ عاطفہ۔ اس کا عطف یکونوا اعداء پر ہے ، اور یہ بھی ان شرطیہ کی جزاء ہے۔ ان کی وجہ سے ماضی بمعنی مستقبل ہے۔ اور صیغہ ماضی استعمال کرنے میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی طرف سے گویا یہ فعل واقع ہو ہی گیا اور تمہارے کافر ہونے کی تمنا جو وہ کریں گے وہ حاصل ہو ہی گئی۔ ودوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ود اور مودۃ (باب سمع) مصدر وہ تمنا کریں گے۔ وہ دل سے چاہیں گے۔ لو حرف تمنا ہے۔ کاش ۔ لو تکفرون کاش تم کافر ہوجاؤ۔
Ayah 60:3

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

قیامت کے دن نہ تمہارے رشتے ناتے کام آئیں گے اور نہ اولاد۔ (قیامت کے روز) وہی تم میں فیصلہ کرے گا اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھتا ہے

(60:3) لن تنفعکم۔ مضارع منفی تاکید بلن واحد مؤنث غائب۔ نفع (باب فتح) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تمہارے کام نہیں آئے گی۔ یا نہیں آتی ہے ۔ وہ تم کو نفع نہیں دیتی یا نہیں دے گی۔ ارحامکم : ارحام جمع رحم کی۔ رحم عورت کے پیٹ کا وہ حصہ جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے مجازا قرابت کے معنی میں بھی مستعمل ہوتا ہے کیونکہ اہل قرابت ایک ہی رحم سے پیدا ہوتے ہیں۔ مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر مضاف الیہ۔ ارحامکم : تمہاری قرابتیں۔ یوم القیمۃ : مجاف مضاف الیہ۔ یوم منصوب بوجہ مفعول فیہ ہونے کے۔ قیامت کے دن۔ یفصل۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ فصل (باب ضرب) مصدر۔ وہ فیصلہ کر دے گا۔ یعنی قیامت کے دن تمہارا فیصلہ کر دے گا۔ تم کو الگ الگ کر دے گا۔ مؤمنوں کو جنت میں اور مشرکوں کو دوزخ میں ڈال دے گا۔ پھر آج اللہ اور اس کے رسول کے حق کو ترک کرکے تم مشرکوں کے دوست کیوں بنتے ہو۔ ما تعملوان : ما موصولہ۔ تعملون صلہ ۔ جو کچھ تم کرتے ہو۔ بصیر : بصر (باب کرم و سمع) مصدر۔ ب کے صلہ کے ساتھ ۔ بمعنی دیکھانا۔ چاننا۔ بروز فعیل بمنعی فاعل دیکھنے والا۔ جاننے والا
Ayah 60:4

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ ہم تم سے اور ان (بتوں) سے جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو بےتعلق ہیں (اور) تمہارے (معبودوں کے کبھی) قائل نہیں (ہو سکتے) اور جب تک تم خدائے واحد پر ایمان نہ لاؤ ہم میں تم میں ہمیشہ کھلم کھلی دشمنی رہے گی ہاں ابراہیم نے اپنے باپ سے یہ (ضرور) کہا کہ میں آپ کے لئے مغفرت مانگوں گا اور میں خدا کے سامنے آپ کے بارے میں کسی چیز کا کچھ اختیار نہیں رکھتا۔ اے ہمارے پروردگار تجھ ہی پر ہمارا بھروسا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں اور تیرے ہی حضور میں (ہمیں) لوٹ جانا ہے۔

(60:4) قد کانے لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراہیم والذین معہ : قد ماضی پر آئے تو تحقیق کا معنی دیتا ہے اور ماضی کو زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔ اسوۃ : الاسوۃ والاسوۃ : (قدوۃ وقدوۃ کی طرح) اس ہے ۔ انسان کی اس حالت کو کہتے ہیں جس میں وہ دوسرے کا متبع ہوتا ہے خواہ وہ حالت اچھی ہو یا بری۔ ہی اتباع الغیر علی الحالۃ التی یکون علیہا حسنۃ او قبیحۃ (اضواے البیان) سرور بخش ہو یا تکلیف دہ۔ اسی لئے آیت ہزا میں اسوۃ کی صفت حسنۃ لائی گئی ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (22:21) عربی میں کہتے ہیں کہ :۔ تاسیت بہ۔ میں نے اس کی اقتداء کی۔ اسوۃ مادہ اس و سے مشتق ہے اور قرآن مجید میں صرف تین جگہ استعمال ہوا ہے۔ وہ جگہ سورت ہذا میں آیت 4-6 اور آیت 21-22 میں۔ اسوۃ کا ترجمہ : نمونہ۔ نمونہ عمل ۔ اقتدار، پیروی۔ اسوۃ اسم ہے کانت کا۔ حسنۃ اس کی صفت ہے۔ فی ابراہیم اس کی خبر۔ یا ابراہیم اسوۃ کی صفت بعد صفت ہے۔ لکم خبر ہے کانت کی۔ یا فی ابراہیم خبر بعد خبر ہے۔ (پہلی خبر لکم ہے) والذین معہ : واؤ عاطفہ ہے الذین اسم موصول جمع مذکر جس کا عطف ابراہیم پر ہے۔ معہ اس کے ساتھ ۔ صلہ اپنے موصول کا جو اس کے ساتھ تھے۔ جو اس کے ساتھی تھے۔ والظاھر ان المراد بالذین معہ (علیہ السلام) اتباعہ المؤمنون (روح المعانی) لکن قال الطبری وجماعۃ : المراد بھم الانبیاء الذین کانوا قریبا من عصرہ علیہ وعلیم السلام ظاھرا۔ الذین معہ سے مراد (حضرت) ابراہیم (علیہ السلام) کے مومن پیروکار ہیں۔ لیکن طبری اور ایک جماعت کا قول ہے کہ اس سے مراد وہ انبیاء ہیں جو ان کے قریب کے ماضی کے زمانہ (ماضی ) میں تھے (علیہ وعلیہم السلام) اذ۔ ظرف زمان ہے اور اذ قالوا لقومہم ۔۔ سے مراد ” وقت وجودھم “ (ان کے وجود یا زندگیوں کا زمانہ) ہے۔ اذقالوا یعنی جب حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں نے اپنی قوم کے کافروں سے کہا (لقومہم) ۔ انا براء ۔۔ وحدہ یہ قالوا کا مقولہ ہے۔ برائ : ظریف ظرفاء کے وزن پر بری کی جمع ہے براء ۃ مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ بیزار۔ لاتعلق۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ براء ۃ من اللہ ورسولہ الی الذین عھدتم من المشرکین (9:1) (اے اہل اسلام اب) ۔ خدا اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکوں سے جن سے تم نے عہد کر رکھا تھا بیزاری (اور جنگ کی تیاری) ہے۔ (مادہ ب ر ئ) ۔ منکم : انابراء منکم ہم بیزاری کرتے ہیں یا ہم بیزار ہیں تم سے، تمہاری ذات سے۔ تمہارے دستور زندگی سے ، تمہارے افعال و کردار سے۔ ومما تعبدون من دون اللہ۔ واؤ عاطفہ ہے۔ مما مرکب ہے، من حرف جار اور ما موصولہ سے۔ تعبدون مضارع جمع مذکر حاضر۔ عبادۃ (باب نصر) مصدر۔ تم عبادت کرتے ہو۔ تم پوجتے ہو۔ یہ ما موصولہ کا صلہ ہے۔ جن کی تم عبادت کرتے ہو۔ من دون اللہ۔ اللہ کے سواء (اور ہم بیزار ہیں ان سے (بھی) اللہ کو چھوڑ کر جن کی تم پرستش کرتے ہو (مثلا بت، ستارے وغیرہ) کفرنا : ماضی جمع متکلم (باب نصر) مصدر۔ ہم نے انکار کیا۔ ہم نے کفر کیا۔ بکم : ب تعدیہ کا ہے کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کفرنا بکم : ہم تم سے (قطعا) انکار کرتے ہیں ۔ یعنی ہم تم سے، تمہارے افعال و کردار سے، تمہارے رنگ و ڈھنگ سے، تمہارے دستور زندگی سے اور تمہارے معبود ان باطل سے۔ سب سے قطعا لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ بدا۔ ماضی واحد مذکر غائب ۔ بدو ، بداء (باب نصر) مصدر۔ ظاہر ہوگیا ۔ کھلم کھلا آشکار ہوگیا۔ العداوۃ : عداوت، دشمنی، دل سے تعلق اور وابستگی کا منقطع ہوجانا۔ والبغضائ۔ بغض، حقارت، نفرت، مصدر ہے، حب کی ضد ہے۔ ابدا : ہمیشہ، زمانہ مستقبل غیر محدود۔ حتی : حرف جار ہے۔ انتہاء غایت کے لئے آیا ہے۔ تؤمنوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تومنون تھا۔ عامل کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔ ایمان (افعال) مصدر۔ تم ایمان لے آؤ۔ حتی کہ تم ایمان لے آؤ۔ وحدہ۔ مصدر منصوب، مضاف ہ ضمیر واحد مذکر غائب مضاف الیہ۔ یعنی ذات وصفات میں یکتا۔ تنہا۔ مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ حتی تؤمنوا باللہ وحدہ۔ یعنی یہ عداوت تمہارے کفر و شرک میں پڑے رہنے تک ہے۔ ایمان لانے کے بعد بغض وعدات، محبت و الفت میں بدل جائے گی۔ الا۔ حرف استثناء ہے فی ابراہیم مستثنیٰ منہ ہے مضاف محذوف ہے ای فی قول ابراہیم۔ الا قول ابراہیم میں قول ابراہیم مستثنیٰ ہے۔ پورا کلام اس طرح ہوگا۔ قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی قول ابراہیم الا قولہ لابیہ لاسسغفرن لک۔ تمہارے لئے ایک عمدہ نمونہ ہے ابراہیم کے قول (وفعل و زندگی) میں سوائے ان کے اس قول کے اپنے باپ کے ساتھ کہ میں ضرور تمہارے لئے بخشش مانگوں گا۔ استغفرن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ واحد متکلم استغفار (استفعال) مصدر۔ میں معانی چاہوں گا۔ میں بخشش چاہوں گا۔ وما املک لک من اللہ من شیئ۔ یہ جملہ قول مستثنیٰ کا تکملہ ہے اور استغفرن کے فاعل سے حال ہے۔ من شیء میں من زائدہ ہے اور شیء مفعول محل نصب میں ہے۔ اور حال یہ ہے کہ میں خدا کے سامنے تیرے بارے میں کسی چیز کا اختیار نہیں۔ معاف کرنا نہ کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔ ربنا علیک توکلنا ۔۔ انت العزیز الحکیم : یہ کلام مستانفہ ہے اور مفعول ہے ای قالوا ربنا ۔۔ الخ اوامر من اللہ للمؤمنین بان یقولوا یا یہ مؤمنوں کے لئے اللہ کا حکم ہے کہ یوں کہیں۔ ربنا ۔۔ الخ (بیضاوی) ۔ توکلنا ماضی جمع متکلم توکل (تفعل) مصدر۔ ہم نے بھروسہ کیا۔ ہم نے اعتماد کیا۔ علی کے صلہ کے ساتھ۔ نبنا : (الی کے صلہ کے ساتھ) ماضی جمع متکلم انابۃ (افعال) مصدر۔ بمعنی رجوع ہونا الیک انبنا۔ ہم تیری طرف رجوع ہوئے ۔ ن ب و مادہ۔ المصیر۔ اسم ظرف مکان ومصدر۔ صیر مادہ۔ لوٹنے کی جگہ۔ ٹھکانہ ، قرار گاہ۔
Ayah 60:5

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو کافروں کے ہاتھ سے عذاب نہ دلانا اور اے پروردگار ہمارے ہمیں معاف فرما بیشک تو غالب حکمت والا ہے

(60:5) ربنا : مناجات کو محکم کرنے اور درخواست رحم میں مزید قوت پیدا کرنے کے لئے ربنا کا دوبارہ ذکر کیا گیا۔ لاتجعلنا۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر جعل (باب فتح) مصدر۔ تو ہم کو نہ بنا، تو ہم کو نہ کر۔ فتنۃ۔ ایک کثیر المعانی لفظ ہے۔ فتن کے اصل معنی سونے کو آگ میں گلانے کے ہیں تاکہ اس کا کھڑا کھوٹا ہونا معلوم ہوسکے۔ اس لحاظ سے کسی انسان کو آگ میں ڈالنے کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے قرآن مجید میں ہے یوم ہم علی النار یفتنون (51:13) جب ان کو آگ میں عذاب دیا جائے گا۔ آیت زیر غور میں اس کے مندرجہ ذیل معانی ہوسکتے ہیں :۔ (1) ہم کو کافروں کے ظلم و ستم کا تختہ مشق نہ بنا۔ (2) کافروں کو ہم پر مسلط نہ کر۔ کہ وہ ہم کو دکھ دے سکیں۔ (3) ہم کو کافروں کا آزمائش کا مقام نہ بنا۔ فتنۃ بوجہ مفعول منصوب ہے۔ اغفرلنا : اغفر واحد مذکر امر معروف۔ غفر (باب ضرب) مصدر۔ تو بخش دے تو معاف کر دے۔ غفر اصل میں ایسے لباس پہنا دینے کو کہتے ہیں جو ہر قسم کی گندگی اور میل سے محفوظ رکھ سکے۔ مغفرت الٰہی کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو عذاب سے محفوظ رکھے۔ اسی اعتبار سے غفر کا استعمال معاف کردینے اور بخش دینے کے معنی میں ہوتا ہے۔ محاورہ ہے اغفر ثوبک فی الوعائ۔ اپنے کپڑوں کو صندوق میں ڈال کر چھپا دو ۔ العزیز الحکیم : زبردست، حکمت والا۔ (نیز ملاحظہ ہو 59:24)
Ayah 60:6

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

تم (مسلمانوں) کو یعنی جو کوئی خدا کے سامنے جانے اور روز آخرت (کے آنے) کی امید رکھتا ہو اسے ان لوگوں کی نیک چال چلنی (ضرور) ہے اور جو روگردانی کرے تو خدا بھی بےپروا اور سزا وار حمد (وثنا) ہے۔

(60:6) لکم : ای یا امۃ محمد ﷺ ۔ اے امت محمد ﷺ تمہارے لئے۔ فیہم : فی ابراہیم ومن معہ (حضرت ابراہیم اور ان کے ساتھیوں کے دستور زندگی میں اور اعتقاد و عمل میں۔ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الاخر۔ یہ بدل ہے لکم سے۔ یعنی ان لوگوں کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی پیشی اور اس کے ثواب کا نیز روز قیامت کے آنے کا یقین رکھتے ہیں۔ یرجوا۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ رجاء (باب نصر) مصدر۔ وہ امید رکھتا ہے وہ اندیشہ رکھتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے۔ اللہ بحالت مفعول منصوب ہے۔ اسی طرح الیوم منصوب ہے۔ ومن یتول : واؤ عاطفہ۔ من شرطیہ ، جملہ شرط ہے۔ یتول مضارع مجزوم بالشرط۔ اصل میں یتولی تھا۔ تولی (تفعل) مصدر سے اور جو منہ موڑے گا۔ اعراض کرے گا۔ روگردانی کریگا۔ یعنی جو پیغمبروں کی پیروی سے روگردانی کریگا۔ فان اللہ ھو الغنی الحمید۔ جملہ جواب شرط ہے۔ یعنی جو پیغمبروں کی پیروی سے روگردانی کرے گا (تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑے گا) کیونکہ اللہ بالکل بےنیاز اور اپنی ذات میں محمود ہے۔ الغنی : صفت مشبہ کا صیغہ ہے الف لام تعریف کا ہے۔ بےنیاز۔ غیر محتاج۔ الحمید : حمد سے بروزن (فعیل) صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی مفعول یعنی محمود صفت کیا گیا ۔ ستودہ۔ تعریف کیا ہوا۔
Ayah 60:7

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتیں ہو دوستی پیدا کر دے اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(60:7) عسی اللہ۔ عسی : امید ہے۔ عنقریب ہے ، اندیشہ ہے، کھٹکا ہے، جب اس کا استعمال اللہ کے لفظ کے ساتھ ہو تو بمعنی امید ہے۔ توقع ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 47:22) ۔ ان : مصدریہ ہے۔ یجعل مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ عادیتم : ماضی جمع مذکر حاضر۔ معاداۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ تم نے دشمنی کی، تم نے عداوت رکھی۔ منھم : میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ مودۃ : محبت، دوستی، (ملاحظہ ہو 20:1 ۔ متذکرۃ الصدر) فعل یجعل کا مفعول عسی اللہ فاعل۔ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتہم منھم مودۃ خبر ہے۔ فائدہ : جب آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم ۔۔ الخ نازل ہوئی تو جو مسلمان ہجرت کرکے مدینہ چلے آئے تھے انہوں نے اس آیت پر عمل کرتے ہوئے اپنے کافر عزیز و اقارب سے جو مکہ میں مقیم تھے قطع تعلق کرلیا۔ اگرچہ وہ بڑے صبر کے ساتھ اس پر عمل پیرا تھے لیکن اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں اور قرب ترین عزیزوں سے قطع تعلق کرلینا کتنا صبر آزما کام ہے ؟ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ وہ وقت دور نہیں ہے کہ جب تمہارے یہی رشتہ دار مسلمان ہوجائیں گے اور آج کی دشمنی کل کو پھر محبت و الفت میں بدل جائے گا۔ آیت کا مطلب ہے کہ کفار مکہ میں سے جن اپنے عزیزواقارب کے ساتھ اللہ کے حکم کی بجا آوری میں تم نے تعلقات توڑ لئے ہیں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تعلقات کو بحال کر دے۔ اور یہی ہوا۔ اس بشارت خداوندی کے چند ہی ہفتے بعد مکہ فتح ہوگیا اور ماسوائے چند ایک کے مسلمانوں کے سب عزیزو اقارب مشرف باسلام ہوگئے ۔ اور ان کی باہمی قرابت پھر بحال ہوگئی۔ شاہ عبد القادر (رح) نے اس جملہ کا ترجمہ یوں کیا ہے ” امید ہے کہ کر دے اللہ تم میں اور جو دشمن ہیں تمہارے ان میں دوستی۔ واللہ قدیر واللہ غفور رحیم۔ جملہ معترضہ تذییلی ہے۔ کلام سابقہ میں جو بشارت دی گئی تھی اس میں جو اس کی صفات کار فرما ہیں ان کی تقویت کے لئے یہ جملہ بیان ہوا۔ قدیر : قدرت والا۔ زبردست، قدرۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے۔ غفور : بہت بخشنے والا۔ غفران سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ رحیم : نہایت رحم والا۔ رحمۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد مذکر ہے اس کی جمع رحماء ہے۔
Ayah 60:8

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا خدا تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

(60:8) لاینھکم مضارع منفی واحد مذکر غائب نھی (باب فتح) مصدر۔ منع کرنا۔ روکنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو منع نہیں کرتا ہے۔ لم یقاتلوکم : مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم سے نہیں لڑے۔ ان تبروھم : ان مصدریہ تبروا مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبرون تھا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ بروبر (باب سمع) مصدر۔ تم نیکی کرتے ہو۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ کہ تم ان کے ساتھ احسان کرتے رہو۔ وتقسطوا الیہم۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے تقسطوا ای وان تقسطوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اقساط (افعال) مصدر۔ الیہم۔ جاز مجرور۔ ان کی طرف ۔ ان سے، (اور یہ کہ) تم ان سے انصاف سے پیش آؤس ط مادہ۔ قسط وقسوط مصدر سے (باب ضرب) بمعنی بےانصافی کرنا۔ اسی سے قرآن مجید میں ہے واما القاسطون فکانوا لجھنم حطبا (72:15) اوع جو گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے۔ اسی مادہ سے مصدر قسط واقسط (باب ضرب) سے اور (باب نصر) سے۔ بمعنی انصاف کرنا ہے۔ اسی سے قرآن مجید میں ہے واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین (49:9) اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے آیت زیر غور میں اسی معنی میں آیا ہے۔ ترجمہ آیت یوں ہوگا ! جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے خدا تم کو منع نہیں کرتا۔ المقسطین : اسم فاعل جمع مذکر۔ انصاف کرنے والے ۔ نیکی کرنے والے۔ بھلائی کرنے والے۔
Ayah 60:9

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

خدا انہی لوگوں کیساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی۔ تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں۔

(60:9) ظاھروا : ماضی جمع مذکر غائب مظاھرۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ انہوں نے مدد کی۔ انہوں نے معاونت کی۔ انہوں نے پشتیبانی کی ان تولوہم : عن الذین میں الذین (اسم موصول) سے بدل ہے۔ یعنی اللہ تو ان سے دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جو دین میں تم سے لڑے۔ اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ اور تمہارے نکالنے پر اور لوگوں کی مدد کی۔ ان مصدریہ ہے تولوہم ۔ تولوا مضارع جمع مذکر حاضر ہے۔ اصل میں تتولون تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی تولون ہوگیا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ تولوا رہ گیا۔ تولی (تفعل) مصدر۔ ومن یتولہم : من شرطیہ ہے جملہ شرطیہ ہے۔ یتول مضارع مجزوم (بوجہ شرط) واحد مذکر غائب۔ تولی (تفعل) مصدر اصل میں یتولی تھا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور جو ان سے دوستی کرے گا۔ فاولئک ہم الظلمون :جواب شرط کے لئے اولئک اسم اشارہ جمع مذکر ہم۔ پس وہی لوگ ظالم ہیں۔ ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا۔ خوہ کمی یا زیادتی کرکے یا اس سے اس کے صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹا کر یہاں دین اسلام میں مسلمانوں سے لڑنے والوں کے ساتھ دوستی کرنے والوں کو ظالم کہا گیا ہے کہ انہوں نے ان سے بجائے عداوت کے دوستی اختیار کی، یا انہوں نے اس طرح عذاب کو اپنے اوپر لاگو کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
Ayah 60:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

مومنو جب تمہارے پاس مومن عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کی آزمائش کرلو۔ (اور) خدا تو ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے سو اگر تم کو معلوم ہو کہ مومن ہیں تو ان کو کفار کے پاس واپس نہ بھیجو کہ نہ یہ ان کو حلال ہیں اور نہ وہ ان کو جائز۔ اور جو کچھ انہوں نے (ان پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو دے دو اور تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ان عورتوں کو مہر دے کر ان سے نکاح کرلو اور کافر عورتوں کی ناموس کو قبضے میں نہ رکھو (یعنی کفار کو) واپس دے دو اور جو کچھ تم نے خرچ کیا ہو ان سے طلب کرلو اور جو کچھ انہوں نے (اپنی عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ تم سے طلب کرلیں یہ خدا کا حکم ہے جو تم میں فیصلہ کیے دیتا ہے اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

(60:10) اذا : جب ظرف زمان ہے یہاں پر شرط کے معنی کے لئے آیا ہے۔ مھجرت۔ اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث مھاجرۃ (مفاعلہ) مصدر ہے۔ ہجرت کرنے والیاں۔ یہ المؤمنت سے حال ہے یعنی بحالت ہجرت یا مہاجر ہو کہ آئیں ۔ فامتحنوھن :جواب شرط کا۔ امتحنوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر امتحان (افتعال) مصدر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تو ان کا امتحان کرلو۔ اللہ اعلم بایمانھن جملہ معترضہ ہے اعلم افعل التفضیل کا صیغہ علم۔ سے۔ خوب جاننے والا۔ بہتر جاننے والا۔ ب تعدیہ کے لئے ہے۔ ایمانھن مضاف ، مضاف الیہ۔ (اللہ ان کے ایمان کو بہتر جانتا ہے) ۔ فان :تعقیب کے لئے ہے ان شرطیہ ہے۔ پھر اگر۔ علمتموھن۔ علمتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ علم۔ مصدر سے۔ تم جان لو۔ تم کو معلوم ہوجائے۔ واؤ اشباع کا ہے۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب ہے (مفعول اول) مؤمنت مفعول ثانی، علمتم کا۔ ایمان والیاں۔ فلا ترجعوھن :جواب شرط کے لئے ۔ لاترجعوا فعک نہی جمع مذکر حاضر رجع (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی واپس کرنا۔ واپس پھیر دینا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تو مت واپس کرو ان کو۔ لاھن حل لہم ولا ھم یحلون لہن : یہ علت ہے ان کو واپس کفار کی طرف نہ کرنے کی۔ کیونکہ وہ عورتیں کافروں کے لئے حلال نہیں ہیں۔ اور نہ وہ ان عورتوں کے لئے حلال ہیں۔ ضمیر ہم کفار کے لئے ہے اور ھب مہاجرین مومن عورتوں کے لئے ہے۔ حل (باب ضرب) مصدر سے۔ واتوھم : واؤ عاطفہ، اتوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ بمعنی دینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب جس کا مرجع ان مومن مہاجر بیویوں کے کافر خاوند ہیں جو وہ پیچھے چھوڑ آئیں۔ ما انفقوا : ما موصولہ انفقوا اس کا صلی۔ موصول و صلہ مل کر اتوا کا مفعول ثانی جو انہوں نے خرچ کیا۔ (یعنی جو ان مشرک و کافر خاوندوں نے مہر یا وظیفہ وغیرہ کی صورت میں ان مومنات مہاجرات پر خرچ کیا تھا۔ انفقوا ماضی جمع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ جو انہوں نے خرچ کیا۔ ولا جناح علیکم ان تنکحوھن : جواب شرط مقدم اذا اتیتموھن اجور ھن : شرط مؤخر۔ یعنی جب تم ان عورتوں کے مہر دے چکو تو ان عورتوں سے نکاح کرلینے میں کوئی گناہ نہیں ہے۔ ولا جناح کوئی حرج نہیں ، کوئی گناہ نہیں۔ لا نفی جنس کا ہے اس کے عمل سے جناح منصوب ہے۔ ان مصدریہ تنکحوا مضارع کا صیغہ مذکر حاضر۔ نکاح (باب ضرب) مصدر ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تم ان (عورتوں) سے نکاح کرلو۔ اذا ظرف زمان شرطیہ آیا ہے۔ جب۔ اتیتموھن : اتیتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ ایتاء (افعال) مصدر۔ تم نے دیا۔ واؤ اشباع کا ہے ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ تم نے ان عورتوں کو ادا کردیا ۔ تم نے ان کو دیا۔ (جب تم ان کو ان کے مہر دے چکو) ۔ اجورھن : مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ثانی اتیتم کا۔ ان کے حق، ان کے مہر۔ لاتمسکوا۔ فعل نہی جمع مذکر حاضر۔ امسک (افعال) مصدر۔ تم نہ روک رکھو۔ عصو الکوافر۔ مضاف مضاف الیہ۔ عصم جمع عصمۃ کی۔ اس کے اصل معنی رسی کے ہیں یہاں اس سے مراد عقد نکاح ہے۔ نکاح کے بندھن جیسے عقد مقالات عقد نکاح وغیرہ۔ کو افر : کافرہ کافرہ دونوں کی جمع ہے یہاں بمعنی ” کافر عورتیں “ ہے۔ لاتمسکوا بعصم الکوافر۔ اور نہ روکے رکھو کافر عورتوں کے نکاح کی بندھنیں ۔ یعنی اپنی کافر بیویوں کو اپنے نکاح کے بندھنوں میں مت جکڑے رکھو۔ ان کو اپنے نکاح میں قائم رہنے پر اصرار مت کرو۔ تم اپنی کافر بیویوں کو اپنے نکاح میں مت روکے رکھو۔ واسئلوا : واؤ عاطفہ۔ اسئلوا : سوال سے امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ تم مانگ لو۔ ما انفقتم : ما موصولہ ہے۔ انفقتم صلی۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ انفاق (افعال) مصدر، جو تم خرچ کیا۔ ولیسئلوا واؤ عاطفہ لیسئلوا امر کا صیغہ جمع مذکر غائب اور مانگ لیں۔ یعنی کافر لوگ مانگ لیں جو انہوں نے خرچ کیا۔ یحکم بینکم : ای الذی یحکم بینکم جسے وہ تمہارے میں صادر فرماتا ہے۔
Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی عورت تمہارے ہاتھ سے نکل کر کافروں کے پاس چلی جائے (اور اسکا مہر وصول نہ ہوا ہو) پھر تم ان سے جنگ کرو (اور ان سے تم کو غنیمت ہاتھ لگے) تو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں ان کو (اسی مال میں سے) اتنا دے دو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا اور خدا سے جس پر تم ایمان لائے ہو ڈرو۔

(60:11) وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار۔ جملہ شرطیہ ہے ان شرطیہ۔ فاتکم فات۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکرغائب، فوت (باب نصر) مصدر۔ الفوت کسی چیز کا ہاتھ سے نکل جانا ۔ کسی چیز کا انسان سے اتنی دور ہوجانا کہ اس کا حصول اسکے لئے دشوار ہو۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ شیء بمعنی احد ہے تذلیل اور تحقیر کے لئے لفظ شئی استعمال ہوا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ (اے مسلمانو ! ) اگر تمہاری بیبیوں میں کوئی عورت تم سے دور (تم کو چھوڑ کر کفار کہ طرف چل جائے اور اس کی واپسی کی کوئی امید نہ ہو) ۔ فعاقبتم :تعقیب کا ۔ پھر۔ عاقبتہ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ معاقبۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ تمہاری باری آئے۔ فعاقبتم فجاءت عقبتکم ونوبتکم من اداء المھر بان ھاجرت امراۃ الکافر مسلمۃ الی المسلین ولزمھ اداء مھرھا (روح البیان، کشاف بیضاوی) ۔ پھر تمہاری نوبت مہر ادا کرنے کے آئے کہ کافر عورت مسلمان ہو کر مسلمانوں کے پاس آجائے اور ان پر اس کا مہرادا کرنا ملازم ٹھہرے ۔ فاتوا الذین ذھبت ازواجھم۔ جملہ جواب شرط ہےجواب شرط ہے ۔ تو ادا کرو ان کو جن کی عورتیں جاتی رہتی ہیں۔ مثل ما انفقوا : مثل۔ مانند ۔ مشابہ۔ ما موصولہ ۔ انفقوا ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب انفاق (افعال) مصدر۔ جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا (ان عورتوں پر جو کفار کے پاس چلی گئی تھیں) واتقوا اللہ : واؤ عاطفہ۔ اتقوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر اللہ منصوب بوجہ مفعول ۔ اور ڈرو اللہ سے۔ الذی انتم بہ مؤمنون (جس پر ایمان لائے ہو) الذی اسم موصول باقی جملہ اس کا صلہ۔ بہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ مؤمنون ایمان (افعال) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے ۔ ایمان والے۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ خدا کے ساتھ نہ تو شرک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھ پاؤں میں کوئی بہتان باندھ لائیں گی اور نہ نیک کاموں میں تمہاری نافرمانی کریں گی تو ان سے بیعت لے لو اور ان کے لئے خدا سے بخشش مانگو۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

(60:12) یایھا النبی : یا حرف نداء ۔ النبی منادی ہے۔ جب منادی پر الف لام داخل ہو تو مذکر میں ایھا اور مؤنث میں ایتھا یاء کے ساتھ بڑھایا جاتا ہے جیسے کہ مذکر کی صورت میں یایھا النبی (آیت ہذا) اور مؤنث کی صورت میں یایھا النفس المطمئنۃ (89:27) یایھا النبی۔ اے نبی۔ اذا۔ ظرف زمان۔ شرطیہ۔ اذا جاء ک ۔۔ الخ جملہ شرطیہ ہے۔ جاء ک۔ تیرے پاس آئے۔ یہاں جاء بمعنی صیغہ جمع ہے۔ جب تیرے پاس آئیں ۔ یبایعنک۔ مضارع جمع مؤنث غائب مبایعۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ وہ عورتیں بیعت کریں۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تیری۔ جب آپ کے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لئے آئیں ۔ یبایعنک حال ہے المؤمنت سے۔ علی اس بات پر۔ ان لا یشرکن باللہ : ان مصدریہ ہے لا یشرکن مضارع منفی جمع مؤنث غائب اشراک (افعال) مصدر ۔ وہ شریک قرار نہیں دیں گے۔ باللہ شیئا۔ اللہ کے ساتھ کسی کو۔ ولا یسرقن اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ (لا یشرکن) پر ہے۔ لا یسرقن مضارع منفی جمع مؤنث غائب اور نہ وہ چوری کریں گی۔ ولا یزنین۔ اس کا عطف بھی لایشرکن پر ہے اور نہ زنا کریں گی۔ مضارع منفی جمع مؤنث غائب زناء (باب ضرب) مصدر سے۔ ولا یقتلن مضارع منفی جمع مؤنث غائب قتل (باب نصر) مصدر سے ۔ اور وہ قتل نہ کریں گے۔ ماقبل کی طرح اس کا عطف بھی لا یشرکن پر ہے۔ اولادھن۔ مضاف مضاف الیہ ۔ اپنی اولاد کو۔ ولا یاتین مضارع منفی جمع مؤنث غائب اتیان (باب ضرب) مصدر۔ ب کے صلہ کے ساتھ ۔ بمعنی وہ نہیں کریں گے۔ وہ نہیں لائیں گی۔ اس جملہ کا عطف بھی لا یشرکن پر ہے۔ ببھتان۔ مفعول ہے بوجہ حرف جر مجرور ہے۔ ایسا صریح جھوٹ کہ جس کو سن کر سننے والا حیران و ششدر رہ جائے۔ یفترینہ : یفترین مضارع جمع مؤنث غائب افتراء (افتعال) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع بہتان ہے۔ جس کو وہ خود گھڑ رہی ہوں۔ اس صورت میں یہ یاتین کی ضمیر جمع مؤنث سے حال ہے۔ یا جسے انہوں نے خود گھڑا ہو (اس صورت میں یہ بھتان کی نعمت ہے) ۔ بین ایدیہن : بین کے معنی درمیان، بیچ، جدائی ۔ ملاپ۔ دو چیزوں کے درمیان وغیرہ ہیں۔ لیکن جب اس کی اضافت ایدی یا ارجل کی طرف ہو تو اس کے معنی سامنے اور قریب کے ہوتے ہیں۔ یہاں بین مضاف ہے اور اس کی اضافت سیدیہن کی طرف ہے۔ ایدیہم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ہے بین کا۔ اسی طرح ارجلھن کی صورت ہے لہٰذا اس کا معنی ہوگا ۔ روبرو، سامنے، دیدہ دانستہ۔ جملہ کا ترجمہ ہوگا :۔ اور وہ کوئی دیدہ دانستہ، خود ساختہ بہتان نہ باندھیں گی۔ ولا یعصینک۔ واؤ عاطفہ۔ لایعصینک مضارع منفی جمع مؤنث غائب۔ عصیان (باب ضرب) مصدر۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ اور وہ نافرمانی نہیں کریں گے۔ اس جملہ کا عطف بھی لا یشرکن پر ہے۔ فی معروف۔ معروف احکام میں۔ نیکی کے امور میں۔ یعنی وہ کسی (شرعی) نیکی کرنے میں اور گناہ اور بدی سے باز رہنے میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گے۔ فبایعھن۔جواب شرط کے لئے ہے بایع امر واحد مذکر حاضر ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ مبایعۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ تو ان عورتوں کو بیعت کرلے۔ یہاں مبایعت کا بیعت قبول کرنے اور عہد لینے اور معاہدہ کے معنی میں استعمال مجازا ہے۔ واستغفرلہم اللہ۔ جملہ سابقہ کا معطوف ہے استغفر امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ استغفار (استفعال) مصدر۔ تو بخشش مانگ۔ تو مغفرت کی دعا کر۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ ان کے لئے۔ اللہ مفعول ثانی۔ تو ان کے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کر ان اللہ غفور رحیم۔ اللہ اسم ان (منصوب) غفور رحیم خبر (مرفوع) ۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں سے جن پر خدا غصہ ہوا ہے دوستی نہ کرو (کیونکہ) جس طرح کافروں کو مردوں (کے جی اٹھنے) کی امید نہیں اسی طرح ان لوگوں کو بھی آخرت کے آنے) کی امید نہیں۔

(60:13) لا تتولوا۔ فعل نہی، جمع مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر۔ دوستی مت رکھو۔ دوستی نہ کرو۔ قوما۔ منصوب بوجہ مفعول۔ اس قوم سے۔ غضب اللہ علیہم : ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع قوما ہے۔ جن پر اللہ کا غضب ہوا۔ جن پر اللہ غصہ ہوا۔ قوما کی نعت ہے۔ قوم سے مراد یا تو یہودی ہیں یا عام کافر مراد ہیں۔ قد یئسوا۔ ماضی پر داخل ہوکر قد تاکید کا فائدہ دیتا ہے۔ یئسوا ماضی جمع مذکر غائب یاس (باب سمع) مصدر۔ تحقیق وہ ناامید ہوگئے (آخرت سے) یہ بھی قوما کی نعت ہے۔ کما یئس : کما مرکب ہے ک تشبیہ اور ما موصولہ سے اور بعد کو آنے والا جملہ ما کا صلہ ہے۔ یئس۔ ماضی واحد مذکر غائب (اوپر ملاحظہ فرمائیں یئسوا آیت ہذا) ۔ یعنی جس طرح کافر لوگ قبروں میں پڑے ہوئے لوگوں کے دوبارہ جی اٹھنے اور ان کے ثواب و عذاب پانے کی امید نہیں رکھتے۔ اسی طرح یہ لوگ بھی جن پر اللہ کا عذاب نازل ہوا آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں۔