Ayahs 60:1–3دشمنان خدا اور رسول سے دوستی کی ممانعت
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولئک تلقون الیھم بالمودۃ، اے ایمان والو ! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا کہ ان سے محبت کا اظہار کرنے لگو)
ایک قول کے مطابق آیت کا نزول حاطب ؓ بن ابی بلتعہ کے بارے میں ہوا تھا۔ انہوں نے خفیہ طور پر کفار قریش کو خط لکھوا کر انہیں خیر خواہانہ مشورے دیے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو اس بات کی خبر دے دی۔
آپ نے حاطب کو طلب کرکے ان سے خط کے متعلق استفسار کیا، انہوں نے اس بات کو تسلیم کرلیا آپ نے ان سے پوچھا کہ آخر تمہیں اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ انہوں نے عرض کیا بخدا ! جب سے میں مسلمان ہوا ہوں مجھے اللہ کے بارے میں کبھی کسی قسم کا کوئی شک وشبہ نہیں ہوا، لیکن میں قریش کے اندر ایک اجنبی کی حیثیت سے رہتا تھا۔ یہاں مدینے آچکا ہوں لیکن مکہ میں میرے بچے اور میرا مال ہے۔
میں نے چاہا کہ انہیں نصیحت آمیز خط لکھ کر اپنے بال بچوں کی حفاظت کا کوئی انتظام کرلو، حضرت عمر ؓ کو یہ سن کر طیش آگیا اور حضور ﷺ سے مخاطب ہوکر عرض کیا۔ اللہ کے رسول ﷺ ! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ “
اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” ابن خطاب ، حوصلہ کرو، حاطب معرکہ بدر میں شریک ہوئے ہیں اور تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے شرکاء پر اوپر سے نظر ڈال کر یہ فرمادیا ہو ” اب تم جو چاہو کرو۔ میں تمہیں بخش دوں گا۔ “
ہمیں عبداللہ بن محمد نے، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے، انہیں معمر نے زہری سے اور انہوں نے عروہ الزبیر سے درج بالا آیت کے سلسلے میں اسی قسم کی روایت کی ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ حاطب ؓ نے جو اقدام کیا تھا وہ ظاہری طور پر ارتداد کا موجب نہیں ہے کیونکہ انہوں نے یہ سمجھا تھا کہ اپنی اولاد اور اپنے مال کے دفاع کے لئے ان کا یہ اقدار جائز ہے جس طرح جان کے خطرے کے وقت تقیہ کرنا جائز ہوجاتا ہے اور اگر اس موقعہ پر کلمہ کفر کہہ کر کفر کے اظہار کی ضرورت بھی پیش آجائے تو اس کی بھی اباحت ہوتی ہے۔
اسی خیال کے تحت انہوں نے خط لکھا تھا اس بنا پر ان کا یہ خط انہیں کافر قرار دینے کا موجب نہیں بنا۔ اگر یہ خط اس امر کا موجب بن جاتا تو حضور ﷺ ان سے ضرور توبہ کا مطالبہ کرتے لیکن جب آپ ﷺ نے ان سے توبہ نہیں کرائی بلکہ ان کے بیان کی تصدیق فرمائی تو اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ حاطب ؓ مرتد نہیں بن گئے تھے۔
حضرت عمر ؓ نے کی گردن اڑا دینے کی اجازت اس بنا پر مانگی تھی کہ ان کا خیال یہ تھا کہ حاطب ؓ نے یہ قدم کس تاویل کے بغیر بدنیتی کی بنا پر اٹھایا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ حضور ﷺ نے یہ بتایا تھا کہ آپ ﷺ نے حضرت عمر ؓ کو حاطب ؓ کے قتل سے اس لئے روک دیا تھا کہ وہ معرکہ بدر میں شریک تھے اور پھر یہ فرمایا تھا کہ (ما یدریک لعل اللہ اطلع علی اھل بدر فقال اعملوا ما شئتم فقد غفرت لکم۔ تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر پر اوپر سے نظر ڈال کر انہیں فرما دیا ہو کہ اب تم جو چاہو کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے)
حضور ﷺ نے حضرت حاطب ؓ کے بدری ہونے کو انہیں قتل نہ کرنے کی علت قرار دی اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح معترض نے سمجھا ہے کیونکہ ان کا بدری ہونا اس بات کے لئے مانع بن سکتا تھا کہ اگر وہ کفر کرلیتے تو جہنم کی آگ کے مستحق قرار نہ پاتے۔
حضور ﷺ کے ارشاد کا مفہوم یہ کہ ” تمہیں کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ کو شاید اس بات کا علم ہے کہ اہل بدر اگر گناہ کے مرتکب بھی ہوں گے تو موت سے پہلے انہیں توبہ ضرور نصیب ہوجائے گی۔
جس شخص کے بارے میں اللہ کو یہ علم ہو کہ اسے توبہ نصیب ہوجائے گی اس کے قتل کا حکم دینا جائز نہیں ہے الایہ کہ وہ کوئی ایسی حرکت کرے جس کی بنا پر توبہ سے اس کا سلسلہ منقطع ہوجائے اس صورت میں اس کے قتل کا حکم دیا جاسکتا ہے ۔ اس لئے یہ ممکن ہے کہ حضور ﷺ کی مراد یہ ہو کہ اللہ کے علم میں یہ بات ہے کہ معرکہ بدر کے شرکاء اگرچہ گناہ کا ارتکاب بھی کرلیں پھر بھی انہیں رجوع الی اللہ اور توبہ نصیب ہوجائے گی۔
آیت میں اس بات پر دلالت موجود ہے کہ اگر کسی کو اپنے بال بچوں اور اپنے مال کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو اس کے لئے کفر کے اظہار کی خاطر تقیہ کرنے کی اباحت نہیں ہوگی۔ اور اس کی حیثیت وہ نہیں ہوگی جو اپنی جان کو خطرے کے پیش نظر تقیہ کی ہوتی ہے کیونکہ حضرت حاطب ؓ نے اپنے اہل وعیال اور اپنے مال کو نقصان پہنچنے کے اندیشے کے پیش نظر جو قدم اٹھایا تھا اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایسے اقدام سے منع فرمایا ہے۔
ہمارے اصحاب کا بھی یہی قول ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سے کہے ۔” میں تمہارے بیٹے کو قتل کر دوں گا الایہ کہ تم کفر کا اظہار کرو۔ “ تو ایسی صورت میں اس شخص کے لئے اظہار کفر کی گنجائش نہیں ہوگی۔
بعض کا یہ قول ہے کہ اگر کسی شخص کی کسی پر کوئی رقم ہو اور وہ اس سے کہے کہ میں اس رقم کا اقرار اسی وقت کروں گا جب تم اس میں کچھ کمی کردو گے، اگر وہ رقم میں کمی کردے تو اس کا یہ اقدام درست نہیں ہوگا۔
اس قول کے قائل نے مال کے ضیاع کے خطرے کو رقم میں کمی کرنے پر اکراہ کے بمنزلہ قرار دیا ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے یہ قاضی ابن ابی لیلیٰ کا قول ہے۔ ہم نے اوپر جو کچھ بیان کیا ہے وہ ہمارے قول کی صحت پر دلالت کرتا ہے۔
مال اور اہل وعیال کے ضیاع کا خطر تقیہ کو مباح نہیں کرتا ہے اس پر یہ امر دلالت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر ہجرت فرض کردی تھی اور ان کے اہل وعیال اور اموال کی خاطر انہیں معذور قرار نہیں دیا تھا۔ چناچہ ارشاد باری ہے (قل ان کان اباء کم وابناء کم واخوانکم وعشیرتکم آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے آباء ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی اور تمہارا خاندان) تا آخر آیت
نیز فرمایا (قالوا کنا مستضعفین فی الارض قالوا الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھا جروا فیھا، انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا۔ کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے)
Ayah 60:4قول باری ہے (قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ۔ بیشک تمہارے لئے ابراہیم اور اس کے شریک حال لوگوں میں ایک عمدہ نمونہ ہے) تاآخر آیت۔ قول باری (والذین معہ) سے مراد ایک قول کے مطابق انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ ایک قول ہے ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں نے لوگوں کو حکم دیا کہ کافروں سے دشمنی کے اظہار اور ان سے ترک موالات کے سلسلے میں ان لوگوں کی تقلید کی جائے۔ ارشاد ہوا (انا برآء منکم و مما تعبدون من دون اللہ کفرنا بکم وبدابیننا وبینکم العداوۃ و البغضاء ابدا، ہم تم سے اور جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بیزار ہیں۔ ہم تمہارے منکر ہیں اور ہمارے تمہارے درمیان ہمیشہ کے لئے عداوت اور بغض ظاہر ہوگیا) اس حکم کے اہل ایمان بھی پابند ہیں۔
ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ سے اعلان براء ت
قول باری (الا قول ابراھیم لا بیہ) البتہ ابراہیم نے یہ اپنے باپ سے کہا تھا، یعنی تم اس امر میں ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی نہ کرو کہ انہوں نے اپنے کافر باپ کے لئے بخشش کی دعا مانگی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا اس لئے مانگی تھی کہ باپ نے ان کے سامنے ایمان کا اظہار کیا تھا اور ان سے ایمان کے اظہار کا وعدہ کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگاہ کردیا تھا کہ ان کا باپ منافق ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے سامنے یہ بات واضح ہوگئی کہ باپ اللہ کا دشمن ہے تو انہوں نے اس سے بیزاری کا اظہار کردیا۔
Ayahs 60:5–7اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام باتوں میں تقلید کرنے کا حکم دیا۔ البتہ کافر بات کے لئے بخشش کی دعا مانگنے کی بات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا۔
قول باری ہے۔ (ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنا) قتادہ کا قول ہے : ” یعنی انہیں ہم پر غالب کرکے ، اور پھر وہ یہ سمجھ لیں کہ وہ حق پر ہیں۔ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ان کو ہم پر مسلط نہ کر کہ پھر وہ ہمیں اپنا تختہ مشق بنالیں۔
Ayahs 60:8–11مشرک کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
قول باری ہے (لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔ اللہ تمہیں ان لوگوں سے (حسن سلوک اور انصاف کرنے سے ) نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے) تا آخر آیت
ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا کہ ان کی ایک مشرک ماں ہے جو ان کے پاس آئی ہوئی ہے، آیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ حضور ﷺ نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان لوگوں سے حسن سلوک اور انصاف کرنے سے (نہیں روکتا) ) اہل ذمہ کو صدقات دینے کے جواز میں عموم ہے۔ کیونکہ اہل ذمہ ہم سے قتال نہیں کرتے۔
اس میں اہل حرب کو صدقہ دینے کی ممانعت ہے کیونکہ ارشاد باری ہے (انما ینھاکم اللہ عن الذین قاتلوکم فی الدین، اللہ تو تمہیں صرف ان لوگوں سے (دوستی کرنے سے) روکتا ہے جو تم سے دین کے بارے میں لڑے) اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں اور روایتیں بھی ہیں۔
ہمیں عبدللہ بن محمد نے روایت بیان کی، انہیں حسن بن ابی الربیع نے، انہیں عبدالرزاق نے معمر سے اور انہوں نے قتادہ سے قول باری (لا ینھاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ اس آیت کو قول باری (فاقتلوا المشرکین حیث وجدتمو ھم مشرکین کو قتل کرو جہاں کہیں بھی انہیں پائو) نے منسوخ کردیا ہے۔
Ayahs 60:12–13مہاجر خواتین کے بارے میں حضور ﷺ کو کیا حکم ہوا ؟
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا اذا جآء ک المومنات مھاجرات، اے ایمان لانے والو ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کرکے آجائیں) تا آخر آیت۔
زہری نے عروہ سے، انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ سے اور انہوں نے حضور ﷺ کے صحابہ سے روایت کی ہے کہ صلح حدیبیہ میں سہیل بن عمرو نے قریش کی طرف سے حضور ﷺ کو ایک شرط یہ پیش کی تھی کہ ہمارا کوئی آدمی اگر آپ لوگوں کے پاس آجائے گا تو آپ اسے ضرور ہمارے پاس واپس بھیج دیں گے خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
چنانچہ سہیل بن عمرو کے بیٹے حضرت ابوجندل ؓ کو واپس ان کے باپ کے پاس بھیج دیا گیا بلکہ اس مدت میں جو مرد بھی بھاگ کر حضور ﷺ کے پاس مدینے میں آگیا آپ نے اسے واپس کردیا خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ تھا۔
پھر مومن عورتیں ہجرت کرکے آنے لگیں ان میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی تھیں جو ہجرت کرکے حضور ﷺ کے پاس آگئی تھیں۔ وہ اس وقت دوشیزہ تھیں ۔
ان کے خاندان والے حضور ﷺ کے پاس آگئے اور ان کی واپسی کا مطالبہ کردیا اللہ تعالیٰ نے ان جیسی خواتین کے بارے میں درج بالا آیت نازل فرمائی۔ عروہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عائشہ نے بتایا کہ حضور ﷺ اس آیت کی بنا پر ان خواتین کا امتحان لیا کرتے تھے۔
قول باری ہے (یایھا النبی اذا جآء ک المومنات یبایعسک علی الا یشرکن باللہ۔ اے نبی ! جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ ان سے اس شرط پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی) تا آخر آیت۔
حضور ﷺ نے بیعت لیتے وقت کسی خاتون کے ہاتھ میں ہاتھ نہ ڈالا
حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جو عورتیں آیت میں مذکورہ شرائط کو تسلیم کرلیتیں آپ ان سے فرماتے میں نے تمہاری بیعت لے لی۔ “ آپ الفاظ کے ذریعے ان سے بیعت لیتے، بخدا آپ کا ہاتھ بیعت کرنے والی کسی عورت کے ہاتھ کے ساتھ نہیں لگا۔ “
عکرمہ بن عمار نے ابوزمیل سے اور انہوں نے حضرت عمر ؓ بن الخطاب سے روایت کی ہے کہ اہل مکہ نے حدیبیہ کے دن حضور ﷺ کے ساتھ صلح کی تھی ۔ اس میں ایک شرط یہ تھی کہ جو مسلمان بھاگ کر کافروں کے پاس چلا جائے گا کافر اسے واپس نہیں کریں گے اور کافروں کا جو آدمی بھاگ کر مسلمانوں کے پاس آجائے گا مسلمان اسے واپس کردیں گے۔
الحکم نے مقسم سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ صلح حدیبیہ کی ایک شرط یہ تھی کہ اہل مکہ میں سے جو شخص مسلمان ہوکر مسلمانوں کے پاس آئے گا اسے واپس کردیا جائے گا۔
سورہ الممتحنہ کا نزول صلح حدیبیہ کے بعد ہوا تھا، اہل مکہ کی جو عورت مسلمان ہوکر مدینہ آجاتی اس سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ مکہ سے کیوں نکل کر آئی ہے۔ اگر وہ اپنے سو ہر سے جان چھڑانے آئی ہوتی تو اسے واپس کردیا جاتا اور اگر وہ اسلام کی رغبت میں آئی ہوتی تو اسے واپس نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے شوہر کو وہ رقم واپس کردی جاتی جو اس نے مہر کے طور پر اسے دی ہوتی۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ صلح حدیبیہ کے اندر واپسی کی شرط یا تو صرف مردوں کے لئے مخصوص تھی اس میں عورتیں داخل نہیں تھیں جیسا کہ اس طریق کار سے یہ بات ظاہر ہے کہ اہل مکہ کا جو فرد مسلمان ہوکر مدینہ آجاتا اسے واپس کردیا جاتا یا یہ کہ یہ شرط مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے شروع ہی سے عام تھی پھر عورتوں کے سلسلے میں یہ شرط منسوخ ہوگئی۔
یہ دوسری بات زیادہ واضح ہے۔ ہمارے نزدیک یہ جائز ہے اگرچہ حضور ﷺ نے مکہ سے آنے والی کسی خاتون کو واپس نہیں کیا تھا۔ ہمارے نزدیک اس کے جواز کی وجہ یہ ہے کہ فعلی پر تمکین حاصل ہونے کے بعد اس کا نسخ جائز ہوتا ہے خواہ وہ فعل عملاً واقع نہ بھی ہوا ہو۔
قول باری (یایھا الذین امنوا) میں اہل ایمان کو خطاب ہے لیکن اس سے حضور ﷺ کی ذات مراد ہے۔ یعنی جب عورتیں ہجرت کرکے آپ کے پاس آجائیں کیونکہ آپ ہی ان کا امتحان کرنے کے ذمہ دار تھے، مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی تھی۔ البتہ حضور ﷺ کی عدم موجودگی میں اس خطاب سے مسلمان مراد ہوتے۔
احکام شریعت ظاہر پر نافذ ہوتے ہیں
قول باری ہے (فان علمتموھن مومنات ، پس اگر تم انہیں مسلمان سمجھ لو) اس سے مراد علم ظاہری ہے۔ حقیقت یقین مراد نہیں ہے۔ کیونکہ حقیقت تک رسائی کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
اس کی مثال حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا وہ قول ہے جو قرآن کے الفاظ میں یوں مذکور ہے (ان ابنک سوق وما شھدنا الا بما علمنا۔ آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کررہے ہیں) اس سے ان کی مراد ظاہری علم تھا کیونکہ ان کے بھائی نے حقیقت میں چوری نہیں کی تھی۔
آپ نہیں دیکھتے کہ ارشاد باری ہے (وما کنا للغیب حافظین۔ اور غائب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے) بادشاہ کا پیمانہ جب بھائی کے کجاوے سے برآمد ہوا تھا تو لوگوں نے ان پر اسی ظاہر ی جہت سے چوری کا حکم عائد کردیا تھا۔ اس کی مثال ان گواہوں کی گواہی ہے جن کی ظاہری حالت ان کی عدالت اور راست روی کی نشاندہی کرتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کی گواہی پر فیصلہ کرنے اور ان کی گواہی کو صحت پر محمول کرنے کا پابند کردیا ہے۔
حضور ﷺ سے مروی اخبار احاد کو قبول کرنے کی بھی یہی بنیاد ہے اور اس کے لئے یہی طریق کار ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے ذریعے ہم پر اس شخص کی خبر کو قبول کرنا لازم کردیا ہے جو ہمارے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتا ہو، اگر ایسا شخص ہمارے آپس کے معاملات کے سلسلے میں اپنی ذات کے بارے میں کوئی بات کہے تو ہم پر اس کی بات کو صحت پر محمول کرنا لازم ہے۔
یہ بات ہر شخص کی ایسی خبر کی تصدیق کے لئے اصل اور بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے جس کا تعلق اسکی اپنی ذات سے ہو اور کسی اور کو اس کی اطلاع نہ ہو مثلاً عورت کی اپنی حیض، طہر یا حمل کے متعلق اطلاع اور خبر۔ یا مثلاً شوہر نے اپنی بیوی سے یہ کہہ دیا ہو کہ ” جب تمہیں حیض ہے تو تمہیں طلاق ہے یا جب تم حیض سے پاک ہو جائو تو تمہیں طلاق ہے۔ “ اس صورت میں حیض اور طہر کے بارے میں عورت کی بات قابل قبول ہوگی۔
عطاء بن ابی رباح نے قول باری (اذا جاء کم المومنات مھاجرات) تا آخر آیت تلاوت کرنے کے بعد کہا ” ہمیں ان کے ایمان کے بارے میں صرف ان کے قول کے ذریعے علم ہوگا جس کا اظہار وہ ہم سے کریں گی۔ “ قتادہ کا قول ہے کہ ان کا امتحان یہ ہے کہ وہ یہ کہیں ” ہم صرف دین کی خاطر، اسلام سے رغبت نیز اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں نکل کر آئی ہیں۔ “
اختلاف دارین کی بنا پر علیحدگی واقع ہوجانے کا بیان
قول باری ہے (فان علمتموھن مومنات فلا ترجعوھن الی الکفار لا ھن حد لھم ولا ھم یحلون لھن۔ پس اگر انہیں مسلمان سمجھ لو تو انہیں کافروں کی طرف مت واپس کرو وہ عورتیں ان کافروں کے لئے نہ حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان کے لئے حلال ہیں۔ )
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ اختلاف دارین کی بنا پر میاں بیوی کے درمیان علیحدگی واقع ہوجانے پر آیت کئی پہلوئوں سے دلالت کررہی ہے۔ اختلاف دارین کی صورت یہ ہے کہ شوہر دارالحرب کا باشندہ ہو اور بیوی دارالاسلام کی شہری ہو یا اس کے برعکس صورت ہو۔ جب بیوی ہجرت کر کے دارالاسلام میں آجائے گی تو وہ وہاں کی شہری بن جائے گی اور اس کا شوہر جو اپنے کفر پر قائم رہے گا وہ دارالحرب کا باشندہ کہلائے گا۔
اس طرح دونوں کے درمیان اختلاف دارین ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے جوڑے کے درمیان علیحدگی کا حکم عائد کردیا ہے چناچہ ارشاد ہے (فلا ترجعو ھن الی الکفار) اگر اس صورت میں زوجیت باقی رہتی تو شوہر کو اس بات کا حق حاصل ہوتا کہ بیوی کو اپنے ساتھ جہاں بھی چاہے رکھے۔
اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے (لاھن حل لھم ولا ھم یحلون لھن) نیز قول باری (واتوھم ما انفقوا، ان کے کافر شوہروں نے جو مہران کو دیے تھے وہ انہیں پیر دو ) بھی اس پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس میں شوہر کو اس کا دیا ہوا مہر واپس کرنے کا حکم ہے۔
اگر رشتہ ازدواج باقی ہوتا تو شوہر مہر کی واپسی کا مستحق قرار نہ پاتا کیونکہ یہ درست نہیں کہ شوہر بضع اور بضع کے بدل یعنی مہر دونوں کا مستحق قرار دیا جائے۔ اس پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے (ولا جناح علیکم ان تنکحوھن اذا اتیتموھن اجورھن اور تم کو ان عورتوں سے نکاح کرنے میں کوئی گناہ نہیں جبکہ تم ان کے مہران کے حوالے کردو۔ )
اگر پہلا نکاح باقی ہوتا تو اس صورت میں اس کے ساتھ نکاح کرنا جائز نہ ہوتا۔ اس پر یہ قول باری بھی دلالت کرتا ہے (ولا تمسکوا بعصم الکوافر) عصمہ منع کو کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کافر عورتوں سے ان کی حربی شوہروں کی بنا پر نکاح کرنے سے بار رہنے کی نہی کردی ہے۔
جو حربی عورت مسلمان ہوکر دارالاسلام میں ہمارے پاس آجائے اس کے متعلق اہل علم کے مابین اختلاف رائے ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ اگر حربی عورت ہمارے پاس مسلمان ہوکر آجائے اور والحرب میں اس کا کافر شوہر موجود ہو تو شوہر سے اس کی علیحدگی واقع ہوجائے گی اور اس پر عدت بھی لازم نہیں ہوگی۔
امام ابویوسف اور امام محمد کا قول ہے کہ اس پر عدت لازم ہوگی اور اگر اس کا شوہر مسلمان ہوجائے گا تو وہ اس کے لئے نئے سرے سے نکاح کے ذریعے حلال ہوگی۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک ، امام شافعی، اوزاعی اور لیث بن سعد کا قول ہے کہ اگر تین حیض گزارنے سے پہلے شوہر مسلمان ہوجائے گا تو وہ اس کے لئے نئے سرے سے نکاح کے ذریعے حلال ہوگی۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ امام مالک، امام شافعی، اوزاعی اور لیث بن سعد کا قول ہے کہ اگر تین حیض گزارنے سے پہلے شوہر مسلمان ہوجائے گا تو علیحدگی واقع ہوجائے گی۔ امام شافعی کے نزدیک دارالحرب اور دارالاسلام کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کے نزدیک اختلاف دارین کا کوئی حق نہیں ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قتادہ نے سعید بن المسیب سے اور انہوں نے حضرت علی ؓ سے روایت کی ہے کہ جب کوئی یہودی یا نصرانی عورت اپنے شوہر سے پہلے مسلمان ہوجائے تو جب تک یہ دونوں دارالہجرت میں رہیں گے اس وقت تک شوہر اپنی اس بیوی کا زیادہ حق دار ہوگا۔
شیبانی نے سفاح بن مطر سے، انہوں نے دائود بن کردوس سے روایت کی ہے کہ بنو تغلب کا ایک نصرانی مرد تھا جس کی زوجیت میں بنو تمیم کی ایک نصرانی عورت تھی، عورت مسلمان ہوگئی لیکن شوہر نے مسلمان ہونے سے انکار کردیا۔ حضرت عمر ؓ نے دونوں کے درمیان علیحدگی کرادی۔
لیث نے عظاء طائوس اور مجاہد سے روایت کی ہے کہ نصرانی مرد کی بیوی اگر مسلمان ہوجائے اور اس کے ساتھ مرد بھی مسلمان ہوجائے تو وہ اس کی بیوی رہے گی اگر عورت مسلمان نہیں ہوگی تو ان کے درمیان علیحدگی کرادی جائے گی۔
قتادہ نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ بیوی کی عدت کے اندر اگر شوہر مسلمان ہوجائے تو وہ اس کی بیوی رہے گی۔ اگر وہ مسلمان نہیں ہوگی تو دونوں کے درمیان علیحدگی کرادی جائے گی۔ حجاج نے عطاء سے اسی قسم کی روایت کی ہے حسن اور سعید بن المسیب سے بھی اسی قسم کی روایت منقول ہے۔
ابراہیم کا قول ہے کہ اگر شوہر مسلمان ہونے سے انکار کردے تو ان کے درمیان علیحدگی کرادی جائے گی۔ عباد بن العوام نے خالد سے، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اگر نصرانی عورت اپنے شوہر سے پہلے مسلمان ہوجائے تو وہ اپنی ذات کی زیادہ مالک بن جائے گی۔
ان تمام آراء پر ابوبکر حبصاص تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس مسئلے میں سلف کے اختلاف کی تین صورتیں ہوگئیں۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ جب تک یہ دارالہجرت میں رہیں گے اس وقت تک شوہر اپنی بیوی کا زیادہ حق دار رہے گا۔ ہمارے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر میاں بیوی ایک ہی دار میں اقامت گزیں رہیں گے تو ان کا یہ حکم ہوگا ۔ لیکن جب اختلاف دارین ہوجانے کا یعنی ایک دارالحرب میں رہ جائے اور فریق آخر دارالاسلام میں تو عورت بائن ہوجائے گی۔
حضرت عمر ؓ کا قول ہے کہ اگر عورت مسلمان ہوجائے اور مرد مسلمان ہونے سے انکار کردے تو دونوں کے درمیان علیحدگی کرادی جائے گی۔ یہ بھی اس صورت پر محمول ہے جب دونوں دارالاسلام میں ہوں گے۔ دوسرے حضرات کے نزدیک جن کی آراء ہم نے نقل کی ہے، عورت اس کی بیوی رہے گی جب تک وہ عدت میں ہوگی، جب عدت ختم ہوجائے گی تو علیحدگی واقع ہوجائے گی۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اگر عورت مسلمان ہوجائے تو علیحدگی واقع ہوجائے گی۔
تاہم فقہائے امصار کا اس پر اتفاق ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں ایک ہی دار میں ہوں تو عورت کے مسلمان ہوجانے کی وجہ سے وہ اپنے شوہر سے بائن نہیں ہوگی۔
اگر عورت مسلمان ہوجائے اور شوہر مسلمان نہ ہو تو اس صورت میں علیحدگی واقع ہونے کے وقت کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ ہمارے اصحاب کا قول ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں ذمی ہوں اور عورت مسلمان ہوجائے تو اس وقت تک دونوں کے درمیان علیحدگی نہیں ہوگی جب تک شوہر پر اسلام نہ پیش کیا جائے۔
اگر شوہر اسلام قبول کرلے تو فبہا ورنہ دونوں کے درمیان علیحدگی کرادی جائے گی۔ اس سلسلے میں حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ سے جو روایتیں منقول ہیں یہ قول ان کے ہم معنی ہے۔ ہمارے اصحاب کا یہ بھی قول ہے کہ اگر میاں بیوی دونوں حربی ہوں اور دارالحرب میں رہتے ہوں اور عورت مسلمان ہوجائے تو اس صورت میں وہ اس کی بیوی رہے گی جب تک اسے تین حیض نہ آجائے۔
اگر شوہر کے مسلمان ہونے سے پہلے وہ تین حیض گزارے تو علیحدگی واقع ہوجائے گی۔ سلف کے جن حضرات سے حیض کا اعتبار منقول ہے۔ عین ممکن ہے کہ انہوں نے یہ مراد لی ہو کہ جب میاں بیوی حربی ہوں اور دارالحرب میں رہتے ہوں۔
ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ حربی جوڑے میں سے جو بھی مسلمان ہوکر ہمارے پاس آجائے گا اور دوسرا دالحرب میں ٹھہرا رہے گا تو اس صورت میں اختلاف دارین کی بنا پر علیحدگی واقع ہوجائے گی۔
ہم نے اس قول کی صحت پر آیت کی دلالت کے مختلف پہلوئوں کا پہلے ہی ذکر کردیا ہے اس کی ایک دلیل یہ قول باری ہے (والمحصنات من النساء الا ما ملکت ایمانکم اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں البتہ ایسی عورتیں مستثنیٰ ہیں جو جنگ میں تمہارے ہاتھ آئیں)
حضرت ابوسعید خدری ؓ کا قول ہے کہ اس آیت کا نزول جنگ اوطاس میں گرفتار ہونے والی عورتوں کے بارے میں ہوا تھا، ان عورتوں کے مشرک شوہر موجود تھے لیکن جنگ میں گرفتار ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ان کی اباحت کردی۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے اس آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ ہر شوہر والی عورت سے ہم بستری زنا ہے مگر جو عورتیں جنگ میں گرفتار ہوجائیں۔ حضور ﷺ نے جنگ میں گرفتار ہونے والی عورتوں کے بارے میں فرمایا ہے۔ (لا توطا حامل حتی تصنع ولا حائل حتی تسہراء عیثۃ)
حاملہ عورت کا جب تک وضع حمل نہ ہوجائے اور غیر حاملہ کا ایک حیض کے ذریعے استبراء رحم نہ ہوجائے ان کے ساتھ ہم بستری نہ کی جائے۔
فقہاء کا اس پر اتفاق ہے کہ استبراء رحم کے بعد گرفتار شدہ عورت کے ساتھ ہم بستری جائز ہے خواہ دارالحرب میں اس کا شوہر موجود کیوں نہ ہو بشرطیکہ شوہر بھی اس کے ساتھ گرفتار نہ ہوا ہو۔ اس لئے علیحدگی واقع ہونے کا تعلق یا تو عورت کے مسلمان ہوجانے کے ساتھ ہوگا یا اختلاف دارین کے ساتھ ہوگا جیسا کہ ہم اوپر بیان کر آئے ہیں یا پھر اس پر ملکیت کے حدوث کے ساتھ ہوگا۔ سب کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت کا مسلمان ہوجانا فوری طور پر علیحدگی کا موجب نہیں ہوتا ۔
نیز یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ ملکیت کا حدوث نکاح کو رفع نہیں کرتا جس کی دلیل یہ ہے کہ شوہر والی لونڈی کو اگر فروخت کردیا جائے تو علیحدگی واقع نہیں اسی طرح اگر شوہر والی لونڈی کا آقا مرجائے تو وارث کی طرف ملکیت کا انتقال نکاح کو رفع نہیں کرتا۔
جب درج بالا دونوں صورتیں باطل ہوگئیں تو اب صرف تیسری صورت یعنی اختلاف دارین علیحدگی واقع ہونے کی وجہ رہ گئی ۔
اگر یہ کہا جائے کہ اختلاف دارین علیحدگی کا موجب نہیں ہے کیونکہ مسلمان اگر امان لے کر دارالحرب میں چلا جائے تو اس کی بیوی کے ساتھ اس کا نکاح باطل نہیں ہوتا اسی طرح اگر حربی امان لے کر دارالاسلام میں داخل ہوجائے تو علیحدگی واقع نہیں ہوتی اسی طرح اگر میاں بیوی دارالحرب میں مسلمان ہوجائیں اور پھر ان میں سے کوئی ایک دارالاسلام میں آجائے تو ان کے درمیان علیحدگی واقع نہیں ہوتی۔
ان مثالوں سے ہمیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ علیحدگی کے ایجاب میں اختلاف دارین کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اختلاف دارین کا وہ مفہوم نہیں ہے جو معترض نے اختیار کیا ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ دونوں میں سے ای دارالاسلام کا باشندہ ہو اس کی یہ شہریت یا تو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہو یا ذمی ہونے کی بنا پر ہو، اور دوسرا دارالحرب کا باشندہ ہو، اس صورت میں وہ کافر حربی ہوگا۔
لیکن اگر دونوں مسلمان ہوں تو انہیں ایک ہی دار کے باشندے تصور کیا جائے گا خواہ ان میں سے ایک دارالاسلام میں مقیم ہو اور دوسرا دارالحرب میں۔
اگر ہم سے اختلاف رکھنے والا اس روایت سے استدلال کرے جسے یونس نے محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے ، انہوں نے دائود بن الحصین سے، انہوں نے عکرمہ سے۔
اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہ حضور ﷺ نے اپنی بیٹی زینب کو ابوالعباس بن الربیع کی طرف چھ سال کے بعد پہلے نکاح کی بنا پر واپس بھیج دیا تھا۔ زینب ہجرت کرکے مدینہ آگئی تھیں جب کہ ان کا خاوند شرک کی حالت میں مکہ میں مقیم رہا تھا۔ پھر آپ نے زینت کو پہلے نکاح کی بنا پر ان کے خاوند کے پاس بھیج دیا تھا۔
یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ علیحدگی واقع کرنے میں اختلاف دارین کو کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس واقعہ سے مخالف کا اپنے حق میں استدلال درست نہیں ہے اس کے کئی وجوہ ہیں۔
ایک وجہ تو یہ ہے کہ مخالف نے یہ کہا ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی بیٹی کو چھ سال کے بعد پہلے نکاح کی بنا پر واپسی بھیج دیا تھا جبکہ فقہاء کے مابین اس امر میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ عورت کو تین حیض گزر جانے کے بعد پہلے نکاح کی بنا پر واپس نہیں بھیجا جائے گا اور یہ بات تو واضح ہے کہ عادۃ تین حیض کے لئے چھ سال کی مدت نہیں ہوتی۔ اس بنا پر اس جہت سے معترض کا استدلال ساقط ہوگیا۔
اس استدلال کے درست نہ ہونے کی ایک وجہ اور بھی ہے وہ یہ کہ خالد نے عکرمہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے ایک یہودی عورت کے متعلق جو اپنے شوہر سے پہلے مسلمان ہوگئی روایت کی ہے کہ وہ اپنی ذات کی زیادہ مالک بن گئی تھی، گویا حضرت ابن عباس ؓ کا مسلک یہ تھا کہ عورت کے مسلمان ہوجانے کی وجہ سے علیحدگی واقع ہوگئی تھی۔ اب یہ بات تو درست ہو ہی نہیں سکتی کہ حضرت ابن عباس ایک حکم کی حضور ﷺ سے روایت کرنے کے بعد خود اس سے اختلاف کریں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ حضرت عمر و بن شعیب نے اپنے والد سے اور انہوں نے عمرو کے دادا سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ اپنی بیٹی زینب کو ابوالعاص کی طرف دوسرے نکاح کی بنا پر واپس کیا تھا۔
یہ روایت دائود بن الحصین کی روایت کی معارض ہے۔ عمرو بن شعیب کی یہ روایت اس کے باوجود اولیٰ ہے کہ کیونکہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کو اگر درست تسلیم کرلیا جائے تو اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ زینب اپنے شوہر کے مسلمان ہوجانے کے بعد بحالہ اس کی بیوی رہیں۔ اس روایت سے عقد ثانی کی کوئی بات معلوم نہیں ہوئی جبکہ عمرو بن شعیب کی روایت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ابوالعاص کے مسلمان ہوجانے کے بعد ان کے ساتھ عقد ثانی ہوا۔ اس لئے یہ روایت اولیٰ ہوگئی۔
کیونکہ پہلی روایت میں ظاہر حال کی خبر دی گئی ہے جبکہ اس دوسری روایت میں ایک نئی بات کے پیدا ہونے کی اطلاع دی گئی ہے جس کا علم راوی کو ہوا تھا۔ اس کی مثال وہ روایت ہے جو حضرت ابن عباس ؓ نے حضرت میمونہ کے ساتھ حضور ﷺ کے نکاح کے متعلق نقل کی ہے کہ آپ نے حالت حرام میں ان کے ساتھ نکاح کیا تھا جبکہ یزید ین الا صم کی روایت ہے کہ آپ نے حالت احلال میں ان کے ساتھ عقد کیا تھا۔ یہاں ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت اولیٰ ہے کیونکہ اس میں ایک نئے پیدا ہونے والے حال کی خبر دی گئی ہے جبکہ یزیدبن الاصم ؓ کی روایت میں ظاہر حال کی اطلاع دی گئی ہے یا جس طرح بریرہ ؓ کے شوہر کے متعلق روایت ہے کہ وہ بریرہ ؓ کی آزادی کے وقت آزاد تھے جبکہ ایک اور روایت کے مطابق وہ اس وقت غلام تھے ۔ یہاں بھی یہی بات ہے کہ پہلی روایت اولیٰ ہے کیونکہ اس میں ایک نئی بات کی اطلاع ہے جس کا علم راوی کو ہوا تھا جبکہ دوسری روایت میں ظاہر حال کی اطلاع ہے اور راوی کو اس نئی بات کا علم نہیں ہوسکا تھا۔
فصل
امام ابوحنیفہ نے ہجرت کرکے دارالاسلام میں آجانے والی عورت کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ اپنے حربی شوہر سے علیحدگی کی عدت نہیں گزارے گی۔ اس کی وجہ یہ قول باری ہے (ولا جناح علیکم ان تنکحوھن ، ان کے ساتھ نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہے، اللہ تعالیٰ نے عدت کا ذکر کیے بغیر ان کے ساتھ نکاح کی اباحت کردی)
سلسلہ تلاوت میں یہ بھی فرمایا (ولا تمسکوھن بعصم الکوافر) عصمت کے معنی منع کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کافر عورت کے ساتھ اس کے حربی شوہر کی بنا پر نکاح کرنے سے باز رہنے کی نہی کردی ہے۔ کو افر کے لفظ کا مردوں کو بھی شامل ہونا جائز ہے۔ اس مقام پر ظاہراً اس کا اطلاق مردوں پر ہوا ہے کیونکہ یہ لفظ ہجرت کرکے آنے والی عورتوں کے ذکر کے سلسلے میں لایا گیا ہے۔ نیز حضور ﷺ نے ایک حیض کے ذریعے استہزاء رحم کے بعد گرفتار شدہ عورت سے ہم بستری کو جائز کردیا ہے۔
حالانکہ استبراء عدت نہیں ہے کیونکہ حضور ﷺ نے فرمایا ہے کہ (عدۃ الامۃ حیضتان ، لونڈی کی عدت دو حیض ہے) اس لئے آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اختلاف دارین کی بنا پر علیحدگی واقع ہوجاتی ہے۔
کافر بیوی کے مہر کا بیان
قول باری ہے (واسئلواما انفقتم ولیسئلوا ماانفقوا، جو مہر تم نے اپنی بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں) معمر نے زہری سے روایت کی ہے کہ اس سے مہر مراد ہے۔ یعنی اہل حرب سے وہ مہر واپس مانگ لو جو تم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے جب یہ بیویاں ان کے پاس رہ جائیں یا چلی جائیں۔
اسی طرح اہل حرب مسلمانوں سے اپنی ان بیویوں کے مہر واپس مانگ لیں جو مسلمان ہوکر دارالاسلام میں آجائیں۔ زہری کا قول ہے کہ اہل ایمان نے تو اللہ کے حکم کو تسلیم کرلیا یعنی مہر واپس دینے کے لئے تیار ہوگئے لیکن مشرکین نے اللہ کے حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم فاتوا الذین ذھبت ازواجھم مثل ما انفقوا، اور اگر تمہاری کافر بیویوں کے مہر میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہوں ان کو اتنی رقم ادا کردو جو ان کے دیے ہوئے مہروں کے برابر ہو)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ حکم دیا کہ اگر مسلمان کی کوئی کافر بیوی دارالحرب چلی جائے اور مسلمانوں کے ہاتھوں میں مہروں کی رقم ہو جسے وہ کافروں کی طرف لوٹانے والے ہوں تو اس میں سے مسلمان شوہر کو اس کے دیے ہوئے مہر کی رقم واپس کردیں اور پھر باقی ماندہ رقم کافروں کو واپس کریں۔
خصیف نے مجاہد سے قول باری (واسئلوا ما انفقتم) کی تفسیر میں روایت کی ہے کہ مسلمان شوہر کو اس کے دیے ہوئے مہر کا معاوضہ مال غنیمت سے ادا کردیا جائے۔ زکریا بن ابی زائدہ نے شعبی سے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت (واسئلوا ماانفقتم ولیسئلوا ما اتفقوا ) تو کافر بیوی کے شوہر کو اتنی رقم معاوضہ میں دے دو جو اس کے ہاتھ سے مہر کی صورت میں نکل گئی ہو۔
سعید نے قتادہ سے بھی اسی قسم کی روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ یہ معاوضہ اسے مجموعی مال غنیمت سے دیا جائے گا اور پھر مال غنیمت کی تقسیم ہوگی۔ ابن اسحاق نے زہری سے روایت کی ہے کہ اگر تم میں سے کسی کی بیوی کافروں کے پاس رہ جائے اور کافروں کی طرف سے کوئی عورت تمہارے پاس نہ آئے جس سے تم ادا کیے ہوئے مہر کے برابر رقم وصول کرسکو تو اس صورت میں اگر تمہیں اموال فئے میں سے کچھ ہاتھ آئے تو اس میں سے انہیں معاوضہ دے دو ۔
یہاں یہ کہنا درست ہے کہ زہری سے یہ روایت اس روایت کے خلاف نہیں جس کا ہم پہلے ذکر آئے ہیں کہ اگر مسلمانوں کے پاس کافروں کو واجب الاد مہروں کی رقم ہوتی تو اس میں سے مسلمان شوہروں کو ان کے دیے ہوئے مہروں کے بدلے رقم دے دی جاتی اور اگر ایسی رقم نہ ہوتی جسے کافروں کو واپس کرنا واجب ہوتا تو اس صورت میں مسلمان شوہروں کو مال غنیمت سے ان کے دیے ہوئے مہروں کی رقم واپس کردی جاتی۔
درج بالا احکام جن کا تعلق کافروں کو مہر کی رقمیں واپس کرنے، ان سے رقمیں واپس لینے نیز مسلمان شوہر کو مال غنیمت سے یا مہر کی اس رقم سے معاوضہ دینے کے ساتھ ہے جسے کافروں کو واپس کرنا واجب ہو، اہل علم کی ایک جماعت کے نزدیک منسوخ ہوچکے ہیں۔
البتہ اس سلسلے میں عطا سے ایک روایت ہے، عبدالرزاق نے ابن جریج سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں عطاء سے پوچھاکا کیا خیال ہے کہ اگر مشرکین کی کوئی عورت مسلمانوں کے پاس آکر اسلام قبول کرلے، آیا اس کے شوہر کو مہر کا معاوضہ دیا جائے گا کیونکہ سورة الممتحنہ میں یہ قول باری ہے (واتوھم ما انفقوا)
عطاء نے جواب میں کہا کہ یہ بات ان لوگوں کے لئے تھی جن سے حضور ﷺ کا معاہدہ تھا۔ میں نے کہا کہ اب ایک ایسی عورت آئی ہے جس کا تعلق اہل معاہدہ سے ہے، یہ سن کر عطاء نے کہا کہ اس کے شوہر کو معاوضہ دیا جائے گا۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ عطاء کا یہ مسلک اجماع کے خلاف ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ قرآن وسنت میں کوئی ایسی بات نہیں ہے درج بالا احکام کے نسخ کی موجب بنتی ہو، پھر ان احکام کا نسخ کیسے واجب ہوا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ممکن ہے کہ یہ احکام قول باری (ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم ، آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھائو الا یہ کہ آپس کی رضامندی سے تجارت کی صورت ہو) کی بنا پر منسوخ ہوگئے ہوں۔
نیز شاہد حضور ﷺ کے ارشاد (لا یحل مال امری مسلم الا بطیبۃ من نفسہ ، کسی مسلمان کا مال کھانا حلال نہیں ہوتا الا یہ کہ وہ بطیب خاطر اپنے مال میں سے کچھ دے دے) کی بنا پر یہ احکام منسوخ ہوگئے ہوں۔
قول باری ہے (ولا یاتین ببھتان یفترینہ بین ایدیھن وارجلھن اور اپنے ہاتھ پائوں کے آگے کوئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ ایسے بچوں کو ملحق نہیں کریں گی جو ان کے نطفوں سے نہ ہوں۔
ایک قول کے مطابق اہل احصان پر زنا کی تہمت لگانا، لوگوں پر جھوٹ باندھنا، ان پر غلط الزام لگانا اور ان کے متعلق ایسی بات کہنا جو ان میں نہ پائی جاتی ہو، یہ تمام صورتیں آپ کے حکم میں داخل ہیں اسی طرح جھوٹ کی تمام صورتیں بھی اس میں داخل ہیں۔ ظاہر آیت ان تمام صورتوں کا مقتضی ہے۔
قول باری ہے (ولا لعصینک فی معروف اور کسی امر معروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی) معمر نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے جب عورتوں سے بعیت لی تو آپ ﷺ نے ان سے یہ عہد لیا کہ وہ مرنے والوں پر نوحہ نہ کریں گی۔ چند عورتیں بول اٹھیں کہ ” اللہ کے رسول ! “ زمانہ جاہلیت میں کچھ عورتوں نے نوحہ کرنے میں ہماری ہمنوائی کی تھی ہم زمانہاسلام میں ان کی ہمنوائی کریں گی۔
یہ سن کر حضور ﷺ نے فرمایا۔ اسلام میں نوحہ کے اندر کوئی ہمنوائی نہیں۔ اسلام میں شعار نہیں (کسی کے ساتھ اپنی بہن یا بیٹی کا اس شرط پر نکاح کہ وہ بھی اپنی یا بیٹی کا نکاح مہر کے بغیر کے ساتھ کردے) اسلام میں جلب نہیں (یہ جائز نہیں کہ مویشیوں کی زکوٰۃ کا محصل مویشیوں کے مالکوں کو اپنے تمام جانور اس جگہ لانے کے لئے کہے جہاں وہ ٹھہرا ہوا ہے بلکہ خود ان کے پاس چل کر جائے ) اسلام میں جنب نہیں (یہ جائز نہیں کہ مویشیوں کے مالکان محصل کو تنگ کرنے اور زکوٰۃ سے بچنے کے لئے اپنے جانور ادھر ادھر کردیں بلکہ اپنے ڈیروں پر رکھیں) اور جس نے لوٹ کار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
شہر بن جو شب سے مروی ہے، انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ سے روایت کی ہے اور انہوں نے حضور ﷺ سے کہ آیت (ولا یعصیتک فی معو وف) سے مراد مرنے والوں پر نوحہ کرنا ہے۔
ہشام نے حفصہ سے اور انہوں نے حضرت ام عطیہ ؓ سے روایت کی ہے کہ بیعت لیتے وقت حضور ﷺ نے ہم سے یہ عہد لیا تھا کہ ہم مرنے والے پر نوحہ نہیں کریں گی اور قول باری (ولا یعصینک فی معروف) کا یہی مفہوم ہے۔
عطاء نے حضرت جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا۔ مجھے دو احمقانہ آوازوں سے روکا گیا ہے، لہو ولعب کی آواز نیز گاتے وقت مزامیر شیطان یعنی بانسری کی شیطانی آواز سے۔ اور معصیبت کے وقت رونے دھونے کی آواز سے جس کے ساتھ چہرہ نوچنا، گریبان پھاڑنا اور شیطان کی آواز میں فریاد کرنا ہوتا ہے۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں اللہ کی اطاعت کی تمام صورتوں کے لئے عموم ہے کیونکہ اطاعت کی تمام صورتیں معروف کہلاتی ہیں اور مرنے والے پر نوحہ نہ کرنا آیت کی مراد کی ایک صورت ہے۔ اللہ کو معلوم تھا کہ اس کا نبی کبھی معروف کے سوا کسی چیز کا حکم نہیں دیتا پھر بھی اس نے اپنے نبی کی نافرمانی سے منع کرتے ہوئے معروف کی شرط لگادی تاکہ کوئی شخص کبھی اس امر کی گنجائش نہ نکال سکے کہ ایسی حالت میں بھی سلاطین کی اطاعت کی جائے جب کہ ان کا حکم اللہ کی اطاعت میں نہ ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو افضل البشر ﷺ کی اطاعت میں بھی معروف کی شرط لگا دی ہے۔
حضور ﷺ کا ارشاد ہے (لا طاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق اللہ کی نافرمانی میں کسی مخلوق کی اطاعت نہیں) نیز آپ کا ارشاد ہے (من اطاع مخلوقاً فی معصیۃ الخالق سلط اللہ علیہ ذلک المخلوق جو شخص خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی اطاعت کرے اللہ تعالیٰ اس پر اسی مخلوق کو مسلط کردیتا ہے) دوسرے الفاظ میں اس مخلوق کی تعریفیں کرنے والا خود اس کی مذمت کرنے والا بن جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے (یایھا النبی اذاجآء ک المومنات یبایعنک) میں حضور ﷺ کے ساتھ خطاب کی تخصیص کردی کیونکہ مسلمان ہونے والیوں سے بیعت لینا صرف حضور ﷺ کا کام تھا لیکن ہجرت کرکے آنے والی عورتوں کی جانچ پڑتال اور امتحان کے حکم کو تمام مسلمانوں کے لئے عام رکھا۔
چنانچہ ارشاد ہوا (یایھا الذین امنوا اذا جآء کم المومنات مھاجرات فامتحنوھن ) کیونکہ جانچ پڑتال کا کا حضور ﷺ کے ساتھ مخصوص نہیں تھا۔ بلکہ اس میں دوسرے بھی شریک تھے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ ہم اب بھی ہجرت کرکے آنے والی عورت کی جانچ پڑتال کرتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔