60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 60:1–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّكُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَ قَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَآءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ١ۚ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَ اِیَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ رَبِّكُمْ١ؕ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِیْ١ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَیْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ١ۖۗ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِمَاۤ اَخْفَیْتُمْ وَ مَاۤ اَعْلَنْتُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْهُ مِنْكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِ Open ayah 60:1 in the Quran reader

اے ایمان والو ؟ میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ ان کے پاس دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ تمہارے پاس جو دین حق آیا ہے اس کے یہ منکر ہوچکے ہیں۔ رسول کو اور تم کو اس بات پر نکالتے ہیں کہ تم اللہ اپنے رب پر ایمان لائے ہو۔ اگر تم جہاد کے لیے میری راہ میں اور میری رضاجوئی کے لیے نکلتے ہو تو ان کو دوست نہ بناؤ تم ان کے پاس پوشیدہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ میں خوب جانتا ہوں جو کچھ تم مخفی اور ظاہر کرتے ہو اور جس نے تم میں سے یہ کام کیا تو وہ سیدھے رستے سے بہکا

اِنْ یَّثْقَفُوْكُمْ یَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ یَبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَؕ Open ayah 60:2 in the Quran reader

اگر وہ تم پر قابو پائیں تو وہ تمہارے دشمن ہوجائیں اور تم پر اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی سے دراز کریں اور چاہتے ہیں کہ کہیں تم کافر ہوجائو

لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۛۚ یَفْصِلُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 60:3 in the Quran reader

تمہاری رشتہ داری اور تمہاری اولاد تمہارے کچھ کام نہ آئے گی۔ قیامت کے دن وہ تم میں فیصلہ کر دے گا اور تم جو کر رہے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے۔

ترکیب : تلقون الخ حال من ضمیر الفاعل فی تتخذوا اوصفۃ لاولیاء اواستیناف والباء زائدۃ ‘ وقدکفروا الخ حال من فاعل تلقون وقیل من فاعل لاتتخذوا یخرجون الخ حال من فاعل کفروا اواستیناف مبین لکفر ھم وصیغۃ المضارع لاستحضار الصورۃ۔ ان تو منوا مفعول لہ معمول یخرجون ان کنتم جو ابہ محذوف دل علیہ لاتتخذوا جہادا مصدر فی موضع الحال اومعمول فعل محذوف دل علیہ الکلام تسرون توکید لیقلون بتکریر معناً وانااعلم حال وقیل اعلم مضارع والباء مزیدۃ ماموصولۃ اومصدر۔ تفسیر : سورة حشر میں منافقوں کی بدسیرت کا بیان تھا جس سے حذر کرنا چاہیے۔ اب اس سورة میں منافقانہ سیرت کی مذمت کرتا ہے۔ اور اس سورة کی شان نزول میں بخاری (رح) وغیرہ محدثین نے ایک واقعہ نقل کیا ہے وہ یہ کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ صحابی بدری نے ایک عورت کو جو مدینے سے مکہ واپس جا رہی تھی مشرکین مکہ کے نام ایک خط دیا جس میں اظہار محبت کے بعد آنحضرت ﷺ کے راز کا اظہار تھا کہ حضرت ﷺ تم پر چڑھائی کر ارادہ رکھتے ہیں ہوشیار رہو۔ وہ عورت خط لے کر نکل گئی۔ جبرئیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ کو خبر دی۔ آنحضرت ﷺ نے علی مرتضیٰ و زبیر و مقداد ؓ کو دوڑایا کہ ایک عورت فلاں باغ کے پاس ملے گی اس کے پاس حاطب کا خط ہے وہ لے آؤ اور عورت کو جانے دو ۔ یہ حضرات گھوڑے دوڑاتے ہوئے چلے اسی باغ کے پاس عورت کو جا لیا۔ اس سے خط مانگا وہ مکر گئی۔ حضرت علی ؓ نے تلوار سے ڈرایا تو خط بالوں میں سے نکال کردیا۔ یہ لے کر حضرت ﷺ کے پاس آئے۔ حاطب ؓ کو طلب کیا اور خط دکھایا اس نے سچا عذر کردیا کہ میں نے دین سے برگشتہ ہو کر یہ کام کیا نہ مشرکین کی محبت سے۔ ہر مہاجر کا کوئی نہ کوئی مکہ میں قرابت دار ہے جو اس کے عیال اطفال کی نگہبانی کرتا ہے میرا وہاں کوئی بھی نہیں اس لیے یہ خط لکھا کہ اس کے سبب مشرکین میرے عیال و اطفال کو نہ ستائیں اور اس میں آپ کا کوئی ضرر بھی نہیں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا حکم ہو تو اس منافق کی گردن ماردوں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ سچا ہے اور اہل بدر ہے خدا نے بدریوں کے حق میں کہہ دیا کہ میں نے ان کو بخش دیا۔ یہ کام خدا کے نزدیک ناپسند تھا۔ ان آیات میں اس محبت اور مودت کو ناپسند کرتا ہے کہ ان سے دوستی اور یارانہ نہ کرو، اگر میری رضامندی مطلوب ہے کیونکہ وہ میرے اور تمہارے دشمن ہیں۔ اگر قابو پائیں تو تم پر ہاتھ اور زبان سے نہ چوکیں اور تمہیں کافر بنانے میں کوشش کرتے ہیں اور تمہاری رشتہ داری اور اولاد قیامت میں کچھ کام نہ آئے گی جس کے لیے تم یہ ناپسند باتیں کر رہے ہو۔
Ayahs 60:4–6

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ١ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِمْ اِنَّا بُرَءٰٓؤُا مِنْكُمْ وَ مِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١٘ كَفَرْنَا بِكُمْ وَ بَدَا بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَ الْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّٰى تُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗۤ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ رَبَّنَا عَلَیْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَیْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَیْكَ الْمَصِیْرُ Open ayah 60:4 in the Quran reader

تم کو ابراہیم اور اس کے ساتھ والوں کی عمدہ چال چلنی چاہیے جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہہ دیا تھا کہ ہم تم سے اور جس کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بیزار ہیں۔ ہم تمہارے قائل نہیں اور ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لیے دشمنی اور کاوش پیدا ہوگئی۔ جب تک اکیلے اللہ پر ایمان نہ لاؤ مگر ابراہیم کی اس بات میں پیروی نہیں جو اس نے اپنے باپ سے کہی تھی کہ میں ضرور تیرے لیے بخشش مانگوں گا اور میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی بات کا مالک بھی نہیں ہوں (اور یہ بھی کہا تھا) اے رب ! ہم نے تجھ پر بھروسا کرلیا اور تیری طرف رجوع ہوئے اور تیری طرف پھر کر آنا ہے۔

رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 60:5 in the Quran reader

اے رب ! ہم کو کافروں کے ہاتھ نہ ڈالیو۔ اے ہمارے رب ! ہم کو بخش دیجؤ تو جو ہے تو زبردست حکیم ہے۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠ Open ayah 60:6 in the Quran reader

البتہ تم کو انہیں کے اچھے طریقے پر چلنا چاہیے اس پر وہی چلے گا جو اللہ اور قیامت کے دن کے سامنے ہونے کی امید رکھتا ہو اور جو کوئی منہ موڑے تو اللہ بھی بےپرواہ ‘ خوبیوں والا ہے۔

ترکیب : فی ابراھیم الخ صفۃ ثانیۃ لاسوۃ اوخبر لکانت ولکم بیان اوحال من المستکن فی حسنۃ اوصلۃ لھا اذ قالوا لخبر کان براء جمع بریٰ کظریف وظریف قریٔ براء بالکسر مثل ظراف بالفتح اسم مصدر مثل سلام والتقدیر اناذوبرائ۔ الا قول استثناء منقطع من قولہ تعالیٰ اسوۃ حسنۃ فان استغفار ابراہیم (علیہ السلام) لابیہ وان کان جائزالہ قبل النھی عنہ لکنہ لیس ان یوشی بہ لمن کان بدل من لکم۔ تفسیر : کفار کی محبت و مودت سے دوسرے پیرائے میں منع کرتا ہے فقال قدکانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ کہ اے مسلمانو ! تم کو ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ ان کا عمدہ طریقہ اور بہتر رویہ تمہارے لیے قابل اقتداء ہے۔ پھر ان کے عمدہ طریقے کو بیان فرماتا ہے کہ وہ کیا تھا اذ قالوا لقومہم انا برء اوامنکم الخ کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں نے اپنی بت پرست قوم سے یہ کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے کہ جن کو تم اللہ کے سوا پوجتے ہو بیزار ہیں۔ ہم تمہارے منکر ہیں یعنی تمہارے معبودوں اور ان کی نسبت جو کچھ تمہارے اعتقاد ہیں کہ وہ نفع و ضرر کے مالک ہیں ہم اس کے منکر ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ ہے وبدابیننا وبینکم العداوۃ الخ کہ ہم میں اور تم میں ہمیشہ کو دشمنی اور رنجش پیدا ہوگئی جب تک کہ تم خدائے واحد پر ایمان نہ لائو۔ کفار سے دوستی رکھنا حرام ہے : نینویٰ اور بابل کے بادشاہ اور ان کی قوم اور سردار بت پرست تھے صرف ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے بھتیجے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی ایمان لائی تھی اس وقت اس قوم کے مقابلے میں جو ہر طرح سے قابویافتہ تھی۔ اس بیکسی کی حالت میں یہ کہہ دینا کوئی آسان بات نہ تھی۔ یہ جوانمردی محض اس قادر مطلق کے بھروسے پر تھی۔ مسلمانوں سے فرماتا ہے کہ تم کو بھی ابراہیم ( علیہ السلام) کی پیروی کرنی چاہیے۔ مشرکین تمہارا کیا کرسکتے ہیں کس لیے ان سے محبت رکھتے ہو، برادری اور دوستی خدا کے دشمنوں سے کیسی ؟ مسلمان کے سچے ایمان اور خدا تعالیٰ کی پوری محبت کا یہ مقتضٰی ہے کہ اس کے دشمنوں ‘ بددینوں ‘ ملحدوں پر قولاً و فعلاً تمسخر کرنے والوں سے قطع کر دے۔ ان سے محبت اور یگانگت اور دلی اخلاص ایمان کے ساتھ ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتا۔ ہاں خوش خلقی اور حسن معاشرت کی ممانعت نہیں یہ اور بات ہے۔ الاقول ابراھیم الخ ہاں اس بات میں ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی نہیں جو اس نے اپنے باپ کے لیے کہی تھی کہ میں خدا سے ضرور بخشش مانگوں گا حالانکہ مجھے اس کے معاملے میں کچھ اختیار نہیں (ابراہیم (علیہ السلام) سا پیغمبر اپنے باپ کے حق میں یہ بےاختیاری ظاہر کرے پھر وہ بزرگ زادے جو اپنے بزرگوں کے طریقے پر نہیں کس طرح بھروسے پر نجات کا بیڑا اٹھاتے ہیں) پھر آگے ابراہیم (علیہ السلام) کی مناجات ہے جو اس وقت اپنے رب سے کی تھی کہ ربنا علیک الخ اے رب ! تجھ پر ہمارا بھروسا ہے اور تیری طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری طرف پھر کر جانا ہے۔ ہم کو کافروں کے ہاتھ میں ڈال کر اور آزمائش نہ کر اور ہم کو بخش دے تو جو ہے تو زبردست اور حکمت والا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خدا نے کفار کی تکلیف سے بچایا اور جو کوئی ایسا کرے اس کو بچاتا ہے۔ ابغرض کافر باپ کے لیے بخشش مانگنے میں ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی نہ کرو اور سب باتوں میں کرو اگر اللہ اور قیامت کے سامنے ہونے کی امید ہے اور جو اس بات کو نہ مانے اور کفار وفجار سے دوستی رکھے تو اللہ کو بھی اس کی پروا نہیں۔ یہ سخت تہدید کا کلمہ ہے۔
Ayahs 60:7–9

عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً١ؕ وَ اللّٰهُ قَدِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:7 in the Quran reader

شاید کہ اللہ تم میں اور ان میں کہ جن سے تم کو دشمنی ہے دوستی قائم کر دے اور اللہ قادر ہے اور اللہ غفوررحیم ہے۔

لَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ لَمْ یُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَ تُقْسِطُوْۤا اِلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 60:8 in the Quran reader

اللہ تم کو ان لوگوں سے منع نہیں کرتا کہ جو تم سے دین میں نہیں لڑے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیکی کرو اور انصاف سے پیش آؤ کس لیے کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

اِنَّمَا یَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْكُمْ مِّنْ دِیَارِكُمْ وَ ظٰهَرُوْا عَلٰۤى اِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوْهُمْ١ۚ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 60:9 in the Quran reader

تم کو اللہ منع تو انہیں سے کرتا ہے کہ جو دین میں تم سے لڑے۔ اور انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکال دیا اور تمہارے نکالنے پر (لوگوں کی) مدد بھی کی کہ ان سے دوستی کرو اور جس نے ان سے دوستی کی تو پھر وہی ظالم بھی ہیں۔

ترکیب : اللہ فاعل عسی ‘ ان یعجل الجملۃ خبرھا مودۃ مفعول لیجعل ان تبروھم فی موضع جرعلی البدل من الموصول بدل البعض وتقسطوا معطوف علی تبروا منصوب بان ان تو لوھم بدل من الموصول (الذین) بدل الاشتمال ای ینھٰکم ان تتولوھم۔ تفسیر : پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کفار کی دوستی اور ملاپ سے منع کردیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بالکل ترک کردیا اور اس حکم کی پابندی میں یہاں تک مبالغہ کیا کہ حسن معاشرت کے قانون سے تجاوز ہوگیا۔ چناچہ بخاری (رح) نے نقل کیا ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس مکہ سے اس کی ماں آئی اس وقت کہ قریش میں اور نبی ﷺ میں معاہدہ قائم ہوگیا تھا۔ اسماء ؓ نے بغیر آنحضرت ﷺ سے دریافت کئے اپنی مشرکہ ماں کو گھر میں بھی نہ آنے دیا نہ اس کے تحفے قبول کئے۔ اسماء ؓ نے آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ میری ماں مشرکہ ہے کیا میں اس سے سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا، اس سے سلوک کر اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی خزاعہ کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے عہد کرلیا تھا کہ ہم آپ پر چڑھائی نہ کریں گے نہ آپ کے برخلاف کسی کو مدد دیں گے۔ خیر کوئی واقعہ ہو مگر یہ آیات اس افراط کے روکنے کے لیے نازل ہوئیں جن کا خلاصہ ایک درمیانی برتاؤ اور اعتدال کی کاروائی ہے۔ فقال عسی اللہ الخ کہ شاید خدا تم میں اور تمہارے دشمنوں کافروں میں دوستی کر دے۔ اب اتنا نہ بڑھو کہ حسن معاشرت اور مکارم اخلاق سے بھی گزر جاؤ کہ پھر دوستی ہوجانے کے بعد شرمندہ ہونا پڑے۔ اسی جگہ سے عقلاء نے کہا ہے کہ دشمنی کے وقت اس بات کو بھی لحاظ رکھ کر دوستی ہوجانے کے بعد کسی نامناسب بات پر ندامت نہ اٹھانی پڑے اور دوستی میں بھی دشمنی کے زمانے کو خیال کرے کوئی ایسی بات اس کے ہاتھ میں نہ دے کہ دشمن ہوجائے تو تجھے مشکل پڑے۔ واللہ قدیر اللہ اس بات پر قادر ہے اور تمہاری افراط وتفریط کے لیے غفوررحیم ہے۔ اور شاید ملاپ کی ممانعت سے مسلمانوں پر عزیز و اقارب کا کلیۃً ترک کرنا شاق بھی گزرا ہو جیسا کہ انسانی طبیعت کا مقتضیٰ ہے۔ مگر جب وہ لوگ اس حکم کے امتحان میں پورے نکلے تو خدا نے آیندہ دوستی قائم ہونے کا مژدہ بھی سنا دیا اور اس میلان قلبی کی معافی بھی کردی بقولہ۔ واللہ غفوررحیم اور اس بشارت کا جلد ظہور بھی ہوگیا۔ فتح مکہ کے بعد جس سے لڑائی تھی شیروشکر ہوگئے۔ پھر اس امر میں یہ امتیاز کردیا۔ لانیٰہکم کہ جو لوگ تم سے لڑے نہیں نہ انہوں نے تم کو گھروں سے باہر کیا ان سے احسان و انصاف کرنے کی اللہ تعالیٰ ممانعت نہیں کرتا۔ احسان و انصاف ان سے کرو، مگر دوستی و محبت اور چیز ہے وہ نہیں۔ اور جنہوں نے تم سے لڑائی کی، گھروں سے نکالا یا نکالنے میں مدد کی جیسا کہ قریش مکہ اور ان کے حلیف قبائل ان سے دوستی کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔ تولّٰی دوستی باک سے کردن (صراح) احسان اور عدل کرنے کی بابت ان لوگوں سے کچھ نہیں فرمایا۔ اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ ان دشمنوں سے اس کی بھی ممانعت ہے۔ آیت کا سیاق دلالت کر رہا ہے۔ یہ لوگ حربی کہلاتے ہیں۔ ان سے بجائے مقابلے کے اور کیا کیا جائے اور احسان و سلوک کفار میں سے صرف ذمیوں کے ساتھ درست ہے جو اسلام کے ذمے یا عہد میں داخل ہوں جیسا کہ عرب میں قبیلہ خزاعہ تھا۔ فوائد : (1) عسی اللہ الخ ایک بشارت اور پیشین گوئی تھی جس میں ضمناً اسلام کی ترقی اور اس کے غلبہ کی طرف اشارہ تھا کس لیے ان صادق اہل اسلام کی ان کفار سے دوستی ہونے کی بجز اس کے کوئی صورت نہ تھی کہ یا وہ کفار مسلمان ہوجائیں یا مغلوب ہو کر اسلام کی ماتحتی اختیار کرلیں۔ اس آیت کے نزول کے تھوڑے زمانے بعد اس کا ظہور کامل طور پر ہوا۔ مکہ اس کے بعد فتح ہوا۔ وہاں کے کفار جو مسلمانوں کو محض اسلام کے لیے تکلیف دیتے تھے، مغلوب ہوئے اور اسلام لائے پھر کیا تھا بھائی بھائی تھے۔ اس سے پہلے علی مرتضیٰ ؓ اور ان کے اقارب میں دینی عداوت تھی پھر وہی محبت ہوگئی۔ ابوسفیان ؓ کو قہر کی نظروں سے دیکھتے تھے پھر ایک ہوگئے۔ مسلمانوں کے اس صبر و برداشت و فرماں برداری کا یہ نتیجہ خدا نے دکھایا۔ اس کے فرمان کے موافق اقارب سے یکلخت بیگانگی ہوگئی تھی۔ (2) دنیا میں اسلام کا آنا ایک تغیر عظیم تھا اس کے مقابلے میں اس کے تین دشمن کھڑے ہوئے۔ اول کفروبت پرستی کیونکہ اس کی تو اسلام نے دنیا میں ظاہر ہوتے ہی بیخ کنی کی۔ مکہ کے قریش جو مسلمانوں کے قرابت دار اور بھائی بند تھے سب سے اول مقابل ہوئے اور بڑی بےرحمی اور بےمروتی کے ساتھ مقابلہ کیا۔ مارپیٹ، گالی گلوچ، قتل و ضرر رسانی کا کوئی دقیقہ ان غریب مسلمانوں سے اٹھا نہیں رکھا۔ آخر نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسلمان وطن عزیز سے نکال دیے گئے جو سب مدینے میں آجمع ہوئے۔ دوسرا رقیب عیسائیت تھی جو نہایت بدنما اور مہیب صورت میں ظاہر ہورہی تھی اور ایک ایسے بیمار کی حالت میں تھی کہ جس میں صدہا امراض نے گھر کرلیا ہو یہ بھی مقابل ہوئی اور شام کی سرزمین پر اس میں اور اسلام میں آخر کشت و خون کی نوبت پہنچی اور پھر قرنوں تک دونوں دنیا کے اکھاڑے میں لڑتے رہے اور قیامت تک لڑتے رہیں گے۔ تیسرا دشمن اور بغلی گھونسا یہودیت و مجوسیت تھی۔ آخرکار اسلام کے دل کش نظاروں نے دنیا کو اپنے اوپر فریفتہ کر ہی لیا اور یہ کشمکش اسلام کو اب بھی جہاں نیا عمل دخل کرتا ہے پیش آتی ہے اس لیے اس کے مخالفوں کے برتاوے کے لیے خدائے پاک نے ان آیات میں دستور العمل قائم کردیا جس کی تفصیل یہ ہے۔ (3) اسلام کے غیرلوگ دو طرح کے ہوتے ہیں۔ قسم اول جو اس سے مقابلہ نہیں کرتے اور نہ اس کی ایذاوضرررسانی میں سعی کرتے ہیں اب عام ہے کہ وہ اس کے ذمے یا عہد میں بھی داخل ہیں یا نہیں۔ اس قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ صلہ رحمی ‘ حسن سلوک ‘ انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا۔ اسلام کی فیاضی و ہمدردی ایسے کافروں پر بھی ہے اور ان میں سے اہل ذمہ کو تمدنی حالت میں کسی طرح بھی کم نہیں سمجھا گیا۔ دوسری قسم وہ ہیں جو اس سے مقابلہ کرتے ہیں، تکلیفیں دیتے ہیں، قتل و ضرب کا کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھتے جو ان کے امکان میں ہو جیسا کہ قریش مکہ تھے۔ اب ایسے لوگوں کے ساتھ وہ مذہب (جو دنیا میں سلطنت و شوکت کے لباس میں جلوہ گر ہوا ہو اور خدا تعالیٰ کے ان سخت وعدوں کا ایفا جو اس نے سرکشوں کے لیے کیا تھا اسی کی شمشیرِ آبدار کے قبضے سے بندھا ہوا ہو) کیا کرے گا ؟ مقابلہ اور اپنی قوت کا اجتماع۔ اجتماع قوت اعوانیہ کا یہ پہلا اصول ہے کہ مخالفوں سے یکسوئی اختیار کریں تاکہ ان پر اثر پڑے اور انتخاب صادق ہو کر ایک لشکر قہار تیار ہوجائے اس لیے خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی محبت سے منع کردیا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں کے حال کو نمونہ پیش کر کے یہ بھی کہہ دیا کہ ان کی دوستی کچھ بھی نفع نہ دے گی اس لیے خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی محبت سے منع کردیا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ والوں کے حال کو نمونہ پیش کر کے یہ بھی کہہ دیا کہ ان کی دوستی کچھ بھی نفع نہ دے گی، الٹا دنیا و آخرت میں خسارہ ہوگا۔ حکم تو یہ تھا مگر اس کو کس عمدہ عبارت میں ادا فرمایا ہے اور لفظوں میں دوسرے مطالب کی طرف اشارہ بھی کرتا گیا۔ اول تو کفار کے ساتھ جو قسم اول ہی کیوں نہ ہو سلوک کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہ کہہ دیا لا ینھٰکم اللہ تم کو منع نہیں کرتا، اجازت و رخصت دیتا ہے تاکہ کفر کی ذلت اس عارضی صلح و ذمہ سے مٹ نہ جائے۔ دوم ان تبروا وتقسطوا فرمایا کہ نیکی اور انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جس سے یہ نکلا کہ دوستی کی اجازت نہیں دیتا۔ سوم قسم دوم کے کفار کے لیے یہ فرمایا کہ ان سے دوستی کرنے کو منع کرتا ہے۔ نیکی و انصاف کا ذکر چھوڑ دو تاکہ دونوں پہلو ملحوظ رہیں۔ کفروعداوت پر غور کیا جائے تو ان سے بجز جنگ اور جواب ترکی بہ ترکی کے اور کچھ نہ کیا جائے تاکہ دنیا سے کفر کا جھنڈا اکھڑے اور جو ان میں سے کسی کی حالت زار ‘ فقر و فاقہ و مصیبت پر خیال کیا جائے تو نیکی اور حسن سلوک کر دو ، بھوکے کو کھانا کھلا دو ، ننگے کو کپڑے پہنا دو ، تمہاری عدالت میں ان کا جھگڑا آئے تو انصاف کرو۔ چہارم قاتلوکم فی الدین میں مسلمانوں کو جوش مذہبی دلایا۔ واخرجوکم الخ میں جوش عصبیت و حمیت وغیرہ کو دوبالا کردیا۔
Ayahs 60:10–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ١ؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِهِنَّ١ۚ فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّارِ١ؕ لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَ لَا هُمْ یَحِلُّوْنَ لَهُنَّ١ؕ وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ١ؕ وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ وَ سْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْیَسْئَلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِ١ؕ یَحْكُمُ بَیْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 60:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب کہ تمہارے پاس ایماندار عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو ان کا امتحان کرلو۔ اللہ ان کے ایمان کو خوب جانتا ہے پھر اگر تم جان لو کہ وہ ایماندار ہیں تو ان کو کافروں کی طرف نہ بھیجو۔ نہ یہ عورتیں ان کو حلال ہیں نہ وہ کافر ان عورتوں کو حلال ہیں۔ اور ان کافروں کو دے دو جو کچھ انہوں نے خرچ کیا اور تم پر ان عورتوں سے نکاح کرلینے میں کوئی گناہ نہیں جبکہ تم ان کے مہر دے چکو اور کافر عورتوں کے ناموس کو قبضہ میں نہ رکھو اور جو تم نے ان عورتوں پر خرچ کیا مانگ لو اور جو انہوں نے خرچ کیا وہ مانگ لیں اللہ کا یہی حکم ہے جو تمہارے لیے صادر فرمایا۔ اور اللہ بہت جاننے والا ‘ حکمت والا ہے۔

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی چلی جائے کافروں کی طرف پھر تمہاری باری آجائے تو تم ان مسلمانوں کو دے دو کہ جن کی بیویاں چلی گئیں جتنا کہ انہوں نے دیا تھا اور اس اللہ سے ڈرو کہ جس پر تم ایمان لائے ہو۔

ترکیب : مہاجرات حال من المومنات فامتحنوھن جواب راذا۔ اللہ اعلم جملۃ معترضہ مومنات مفعول ثان لعلمتم من مفعول اول فلا ترجعوھن الجملۃ جواب الشرط الاھن الجملۃ فی موضع التعلیل لقولہ فلا ترجعوا ولاتمسکو امن الامساک وقراء ابوعمرویعقوب بالتشدید والاخرون بالتخفیف بعصم جمع عصمتہ وھی مایعتصم بہ من العقدد النسب والعہد والمرادبہ ہنہا النکاح الکوافر جع کافرۃ وان فاتکم ای سبقکم وانفلت منکم شیء فاعل فاتکم من ازواجکم بیان لشیء وایقاع شیء موقعہ للتحقیر والا شباع فی التعمیم او شیء من فھو رازواجکم۔ فعاقبتم ای فجاءت عقبتکم اے نوبتکم من اداء المھر۔ شبہ الحکم باداء ھؤلاء مہوراولئک تارۃً واداء اولئک مھور نساء ھؤلاء تارۃ بامریتعاقبون فیہ کمایتعاقب فی الرکوب وغیرہ قال المبرد فعاقبتم ای فعلتم مافعل بکم یعنی ظفرتم وھومن قولک العقبٰی لفلان ای العاقبتہ و معنی العاقبۃ الکرۃ الاخیرۃ وقال ابن عباس و مسروق و مقاتل معنی عاقبتم غنمتم وغزوتم معاقبین غزواً بعد غزو وکانت العقبیٰ وانعلبۃ لکم وقیل اصبتم الکفار فی القتال بعقوبۃ حتّٰی غنمتم۔ قریٔ حمید الاعرج فعقبتم بالتشدید قرء الزہری بالتخفیف بغیر الف وقرء مجاہد فاعقبتم اے صنعتم بھم ما صنعوابکم۔ فھومعطوف علی فاتکم فی حیزالشرط فاتوا الخ جو ابہ مثل مفعول ثان فاتوا۔ تفسیر : دشمن اسلام تین قسم کے تھے۔ اول وہ کہ ان کی دشمنی ہنوز باقی تھی۔ دوم کہ جن کی دشمنی دور ہوجانے کی امید تھی۔ سوم وہ کہ ان کی دشمنی جاتی رہی تھی اور وہ مطیع اسلام ہوگئے تھے۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ نے ان کے احوال بیان فرما کر ہر ایک فریق سے اس کے مناسب معاملہ کرنے کا حکم دیا۔ قدکانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم الخ۔ میں اول قسم کے کفار کا حکم دیا کہ ان سے بالکل ترک کرنا چاہیے اور دوسری قسم کے لوگوں کا حکم اس آیت میں بیان فرمایا۔ عسی اللہ ان یجعل بینکم و بین الذین عادیتم منہم مودۃ کہ ان سے ایک روز دوستی ہوجائے گی۔ حسن معاشرت سے پیش آئو۔ تیسری قسم کے کفار کا حال اور حکم ان آیات یا ایھا لذین آمنوا اذاجاء کم المؤمنات مہاجرات میں بیان فرماتا ہے کہ اب جو کفار میں اور تم میں بمقام حدیبیہ صلح و عہد ہوگیا ہے وہ دشمنی تمام ہوگئی ان سے عدالت و انصاف کی کارروائی کرو جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ بخاری (رح) نے روایت کی ہے کہ بمقام حدیبیہ جو نبی ﷺ اور کفار مکہ میں صلح ہوئی اور عہدنامہ لکھا گیا اور سہیل بن عمرو کفار کی طرف سے عہدنامہ لکھ رہا تھا اس میں یہ بھی تھا کہ ہمارا جو کوئی اے محمد ﷺ ! تیرے پاس بھاگ کر آئے تو آپ اس کو ہمارے حوالے کردیں اگرچہ وہ آپ ہی کے دین پر ہو۔ مسلمانوں کو یہ شرط شاق معلوم ہوئی اور انکار کیا مگر اس نے نہ مانا آخری لکھی گئی۔ اسی روز آنحضرت ﷺ نے ابوجندل ؓ سہیل مذکور کے بیٹے کو جو مکہ سے بھاگ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آیا تھا اس کے حوالے کیا (اس میں بھی مصلحت الٰہیہ تھی۔ وہ یہ کہ یہ لوگ مکہ کو واپس نہ گئے نہ مدینے میں رہے بلکہ ایک مقام تجویز کر کے کفار مکہ کے آیندروند کو لوٹنا شروع کردیا جس سے کفار نے ان کو مدینے میں رہنا غنیمت جان کر واپس لینے کی درخواست کو چھوڑ دیا) یہ معاملہ مردوں کے ساتھ تھا مگر عورتوں کی بابت اس عہدنامے میں کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی۔ اس عرصے میں چند عورتیں بھی مکہ سے محض دین اسلام اختیار کرنے کی غرض سے مسلمانوں میں آ ملیں منجملہ ان کے سبیعہ بنت حارث ؓ قبیلہ اسلم کی بھی آئی اور عہدنامہ لکھ کر اس پر مہر ہوچکی تھی اس کے پیچھے اس کا خاوند بھی آیا جس کے نام میں اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں مسافر مخذومی۔ مقاتل کہتے ہیں اس کا نام صیفی بن راہب تھا۔ اس نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ میری بیوی کو میرے ہمراہ کر دیجئے۔ آپ نے ہمراہ نہ کیا کس لیے کہ یہ آیت نازل ہوگئی تھی۔ اس آیت میں عورتوں کا دینا ممنوع ہوگیا۔ خلاصہ یہ کہ اسلام کا دریا جوش زن تھا لوگ مسلمان ہوتے تھے مگر اپنے وطنوں میں کفار برادری سے امن نہ تھا اس لیے آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آئے تھے۔ مکہ کے لوگوں سے صرف مردوں کی بابت معاہدہ ہوگیا تھا۔ اس آیت نے کھول دیا کہ عورتوں کی بابت معاہدہ نہیں وہ ہرگز واپس نہیں دی جائیں گی کس لیے کہ کفرواسلام میں زوجیت باقی نہیں رہتی۔ نہ کافر مرد کو مسلمان عورت حلال ہے نہ مسلمان عورت کو کافر مرد مگر شرط یہ تھی کہ وہ عورت خاص اسلام کے لیے ہجرت کرکے آئی ہو کسی مرد یا دنیویہ خواہش یا اپنے شوہر کی نفرت سے نہ آئی ہو۔ اس لیے سب سے اول اس آیت میں اسی مسئلہ کی تشریح ہوئی۔ فقال یا ایھا الذین آمنوا اذاجاء کم المؤمنات مہاجرات فامتحنوھن کہ اے مسلمانو ! جب تمہارے پاس ایمان والی عورتیں وطن چھوڑ کر آئیں تو ان کا امتحان کرلو کہ آیا دراصل دین کے لیے آئی ہیں یا کوئی اور دنیاوی غرض ہے ؟ امتحان آزمائش قرآن میں اس کا کوئی خاص طریقہ بیان نہیں ہوا۔ احادیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ ان سے حلف دے کر پوچھتے تھے کہ تو اپنے خاوند سے ناراض ہو کر یا کسی مرد کی رغبت سے یا کسی دنیاوی غرض سے تو نہیں آئی ؟ اللہ اعلم بایمانہن حقیقت الامر اور ان کا ایمان تو اللہ ہی کو معلوم ہے۔ یہ اس لیے فرمایا کہ دنیا میں احکام شرع ظاہر پر جاری ہوتے ہیں جب وہ حلف سے ایمان ظاہر کردیں تو تمہیں اعتبار کرنا چاہیے کسی بدگمانی کو دخل نہ دینا چاہیے۔ اور نیز ان کے ایمان کی تائید بھی ہے کس لیے کہ امارات تو ظاہر ہیں مگر وطن و اقارب کا چھوڑنا ان پاکباز بیویوں کا محض ایمان اور محبت الٰہی سے تھا۔ فان علمتموھن مومنات فلا ترجعفوھن الی الکفار اگر تم کو یقین ہوجائے کہ وہ ایمان والیاں ہیں تو پھر ان کو کفار کے پاس نہ جانے دو کس لیے کہ لاھن حل لہم یہ عورتیں ان کفار شوہروں کے لیے حلال نہیں۔ ولاھم یحلون لہن اور نہ وہ کافر شوہر ان کو حلال اور جائز بنا سکتے ہیں۔ پہلا حکم : ان آیات میں یہ پہلا حکم ہے کہ کفار کی بیویاں اگر اسلام لا کر مسلمانوں کے گروہ میں آ ملیں تو ان کا نکاح سابق باقی نہیں رہتا۔ کبھی مسلمان عورت کافر کے لیے حلال نہیں۔ کوئی مسلمان عورت کسی ہندو یا نصرانی یا مجوسی یا یہودی یا کسی غیرمذہب والے سے نکاح کرے تو نکاح نہ ہوگا بلکہ حرام کاری ہوگی۔ بادشاہ اسلام کا فرض ہے کہ ان کو جدا کرے اور جو نہ مانیں تو سزا دے تاکہ ملک بدکاری سے پاک رہے۔ اس پر جمہور اہل اسلام کا اتفاق ہے۔ فائدہ (1) : جب کوئی عورت مسلمان ہوجائے یا اسلام کے ارادے سے مسلمانوں کے گروہ کی طرف سفر کرے بہ ایں نیت کہ پھر کفار میں نہ جائے گی اس کا نکاح کافر شوہر سے فسخ ہوگیا۔ اسی طرح مرد اسلام لائے یا بہ ارادہ اسلام دارالاسلام کی طرف آئے اس کی کافرہ بیوی سے اس کا نکاح فسخ ہوجاتا ہے۔ ان دونوں میں زوجیت باقی نہیں رہتی۔ عینی شرح ہدایہ باب العدۃ۔ فائدہ (2): اب اس مسلمان عورت کو مسلمان مرد سے نکاح درست ہے۔ پہلے خاوند کا جو کافر تھا کچھ تعلق باقی نہیں رہا۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ اس آیت کے بعد یوں فرماتا ہے۔ ولاجناح علیکم ان تنحکوہن اذا آتیمتوھن اجورھن کہ مسلمانوں پر ان مہاجرات عورتوں سے نکاح کرلینے میں کوئی گناہ نہیں جبکہ ان کے مہر ادا کردیں۔ مہروں کا ادا کرنا اس حکم کے لیے دائمی قید نہیں بلکہ اس واقعے کے لحاظ سے یہ قید لگائی جو آنحضرت ﷺ کے سامنے پیش آرہا تھا وہ یہ کہ کفار مکہ سے عہدنامہ ہوچکا تھا اور مکہ والوں کی عورتیں ہجرت کر کے مدینے میں آتی تھیں۔ یہ واپس نہ بھیجی جاتی تھیں بلکہ ان کا نکاح مسلمانوں سے درست تھا مگر بموجب اس باہمی مصالحت کے یہ ضرور ہوتا تھا کہ ان کے کافر خاوندوں نے جو مہر ان بیویوں کو دیے تھے وہ واپس دیے جاتے تھے۔ چناچہ اس آیت سے پہلے جملے میں اس کا ذکر تھا۔ واتوھم ماانفقوا کہ ان کافروں نے جو کچھ اپنی بیویوں پر صرف کیا ہے وہ دے دو ۔ ماانفقوا جو کچھ خرچ کیا گرچہ لفظ عام ہے روٹی کپڑے دیگر عطیات کو بھی شامل مگر مراد مہر ہے کس لیے کہ اور چیزیں عرف میں کم واپس لی جاتی تھیں۔ جدائی کے وقت مہر ضرور واپس لیا جاتا تھا۔ اب یہ مہر کون دے ؟ بیت المال دے اگر اس عورت سے کسی نے نکاح نہیں کیا ورنہ جس نے نکاح کیا وہ عورت کو مہر دے دے اور یہ مہر اس مہر کے بدلے میں جو اس نے کافر خاوند سے وصول کیا تھا واپس دے دے۔ مہر جدید جو مسلمان مرد سے بندھا وہ اسی قدر ہونا چاہیے کہ جس قدر اس کافر نے دیا تھا۔ اس میں اور علماء کے اقوال بھی شاید کچھ ہوں۔ مگر اس بات کی تشریح آیت میں نہیں کہ مہاجرہ عورت سے مسلمان مرد آیا عدت کے بعد نکاح کرے یا فوراً ۔ ہدایہ کتاب العدۃ میں لکھا ہے وکذا اذاخرجت الحربیۃ الینا مسلمۃ فان تزوجت جازء الخ۔ وھذا کلہ عندابی حنیفہ (رح) وقالا علیہا وعلی الذمیۃ العدۃ کہ اس عورت پر عدت نہیں صاحبین ; کے نزدیک عدت ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں آیت لاجناح میں عدت کی کوئی قید نہیں۔ صاحبین کہتے ہیں گو نہ ہو مگر اس بات کے امتیاز کے لیے کہ پہلے کافر خاوند کا حمل ہے یا نہیں عدت ضرور ہے کس لیے کہ اگر اس کو حمل ہے تو نکاح درست نہیں اور جو درست بھی کہا جائے تو صحبت کرنا وضع حمل تک قطعاً ممنوع ہے جیسا کہ احادیث صحیحہ میں وارد ہے۔ اور نیز امام احمد اور ابودائود اور دارمی (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے اوطاس کی عورتوں کی بابت جن کو مسلمان اسیر کر کے لائے تھے یہ فرما دیا تھا کہ حمل والی سے صحبت نہ کی جائے جب تک نہ جنے اور بغیر حمل والی سے صحبت نہ کی جائے جب تک کہ ایک حیض نہ ہو لے۔ استبراء کرنے کا حکم گوسبایائِ اوطاس میں صادر ہوا مگر علت عامہ مہاجرات میں بھی پائی جاتی ہے۔ فائدہ (3): میاں بیوی کافر ہیں اور ان میں کوئی اسلام لا کر دارالاسلام میں چلا آئے تو ان کا نکاح جاتا رہتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک اگر پھر دوسرا بھی اسلام لائے تو نکاح جدید کرنا پڑے گا۔ واذا اخرج احدالزوجین الینا من دارالحرب مسلماً وقعت البینونۃ بینھما (ہدایہ کتاب النکاح) ۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں اگر اس عرصے میں بیوی نے مسلمان ہو کر اور مرد سے نکاح نہیں کیا اور اس کا خاوند بھی مسلمان ہوگیا تو نکاح جدید کی حاجت نہیں۔ پہلا نکاح کفر کافی ہے کس لیے کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں بہت سی عورتیں مکہ سے ہجرت کر کے مدینے میں آئیں اور بعد میں ان کے شوہر بھی مسلمان ہوگئے اور ہجرت کر کے مدینے میں آئے تو آنحضرت ﷺ نے وہی نکاح بسابق باقی رکھا۔ مسئلہ اگر دونوں یکلخت مسلمان ہوجائیں اور ان کا نکاح کفر میں اس طور سے ہوا تھا جو ان کے نزدیک بھی درست تھا تو وہی نکاح کافی ہوگا مگر جو کسی نے اپنے ناجائز قانون یا دستور کے موافق بیٹی یا بہن سے نکاح کیا تھا تو اسلام میں یہ باقی نہ رہے گا بلکہ جدا کردیے جائیں گے۔ (ہدایہ کتاب النکاح) ۔ مسئلہ اگر کافر میاں بیوی مسلمانوں کی قید میں آجائیں یعنی لڑائی میں پکڑے جائیں جیسا کہ مغلوبی کے بعد ہوتا ہے پھر ان کا باہم نکاح سابق رہا یا نہیں ؟ امام شافعی (رح) کہتے ہیں نکاح باقی نہیں رہا۔ یہ عورت لونڈی میاں غلام ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کہتے ہیں باقی رہتا ہے۔ ہاں اگر ان دونوں میں سے ایک قید میں آجائے تو باقی نہیں رہتا۔ اگر عورت ہاتھ آگئی تو مسلمان کی لونڈی ہے اگر اس کو حمل نہیں تو ایک حیض کے بعد اس سے صحبت درست ہے۔ مسئلہ : اگر کوئی عورت مسلمان ہوجائے اور دارالحرب میں رہے اس کا نکاح تین حیض کے بعد فسخ ہے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں اگر اس عورت سے اس کا خاوند صحبت کرچکا ہے تو بیشک عدۃ کے بعد فسخ ہوگا ورنہ اسلام لاتے ہی نکاح فسخ ہوجائے گا خواہ دارالحرب ہو یا دارالاسلام۔ ہدایہ دوسرا حکم : ولاتمسکو بعصم الکوافر اور نہ تھام رکھو کافر عورتوں کی عصمت کو یعنی ان کو اپنے نکاح میں نہ سمجھو کہ ان کی حفاظت عصمت کی طرف تمہیں حاجت پڑے بلکہ ان کو چھوڑ دو کسی مرد سے نکاح کریں یا نہ کریں۔ تم کچھ علاقہ نہ رکھو۔ جو لوگ ہجرت کر کے مدینے چلے آئے تھے اور مکہ میں ان کی بیویاں اسی کفر کی حالت میں تھیں مسلمانوں نے ان کو چھوڑ دیا تھا۔ زہری کہتے ہیں اس آیت کے بعد عمربن الخطاب ؓ نے اپنی دو مشرک بیویوں کو جو مکہ میں رہ گئی تھیں چھوڑ دیا۔ ایک کا نام قرینہ تھا جو ابو امیہ بن المغیرہ کی بیٹی تھی جس نے اس کے بعد معاویہ بن ابی سفیان سے مکہ میں نکاح کیا اور اس وقت وہ دونوں مشرک تھے۔ دوسری کا نام ام کلثوم تھا جو عمرو بن جرول کی بیٹی تھی عبداللہ بن عمر ؓ کی ماں۔ اس سے ابوجہم بن حذانہ ابن غانم نے نکاح کیا اور وہ دنوں بھی اس وقت مشرک تھے۔ 1 ؎ ف۔ اسلام نے ایک عظیم الشان تفرقہ پیدا کردیا تھا۔ اسلام اور شرک میں کوئی رشتہ نہ تھا جس کی صادق الایمان صحابہ ؓ نے بڑی خوشی سے تعمیل کی۔ جو ان کی صداقت اور سچے جوش کا اور پیغمبر خدا ﷺ کی تاثیر پر اعجاز کا کامل نمونہ تھا مگر اسلام کے سبب اس بیوی سے مفارقت ہے کہ جس سے اسلام میں بھی نکاح درست نہیں مثلاً اگر عورت یہودیہ یا نصرانیہ ہے اور خاوند کسی مذہب کا تھا اس نے اسلام قبول کرلیا۔ اس صورت میں بیوی خاوند سے جدا نہ ہوگی زوجیت باقی رہے گی کس لیے کہ مسلمان مرد کا اہل کتاب عورت سے نکاح درست ہے۔ ہاں اگر عورت کسی ایک مذہب کی تھی اور مرد اہل کتاب تھا عورت مسلمان ہوگئی نکاح فاسد ہوجائے گا کس لیے کہ مسلمان عورت بجز مسلمان کے اور کو درست نہیں (ہدایہ وغیرہ کتابوں میں ایسا ہی ہے) ۔ تیسرا حکم : واسئلوا ما انفقتم ولیسلوا ما انفقوا۔ تمہاری جو عورتیں کافرہ ہیں اور کافروں سے انہوں نے نکاح کرلیا ہے اور تم نے ان کو مہر دیا تھا وہ تم واپس لے لو اور جو کافروں کی عورتیں مسلمان ہو کر تمہارے پاس آگئیں اور انہوں نے تم سے نکاح کرلیا ہے تو کافروں نے مہر دیا تھا واپس کر دو ۔ ذلکم حکم اللہ یحکم بینکم واللہ علیم حکیم۔ یہ اللہ کا حکم ہے تمہارے لیے۔ اس کے فوائد اور حکمتیں وہی خوب جانتا ہے کس لیے کہ اللہ علیم بڑا علم والا ‘ حکیم حکمت والا ہے۔ واضعان قوانین ملی و قومی و سیاسی کے قوانین و احکام جب ہی قابل پذیرائی ہوتے ہیں کہ جب ان کو علم بھی ہو۔ عواقب امور پر نظر ہو، طبائعِ بشریہ و خواص قومیہ و ملکیہ سے واقف ہوں اور اس کے ساتھ رفق و سہولت و تدابیر برجستہ بھی پہچانتے ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے ان باتوں میں کون زیادہ ہے ؟ بلکہ وہ سب سے زیادہ ہے۔ پھر خرابی ہے اس ملک و قوم کی جس کے واضعان قوانین ان باتوں سے واقف نہ ہوں اور ان میں رعایت مصالحہ کا مادہ ہو بلکہ وہ جاہل ہوں یا غیرلوگ اپنے طبائع اور خیالات پر دوسرے لوگوں کو حکومت اور شوکت کے دباؤ سے مجبور کرتے ہوں۔ اس لیے شریعت محمدیہ علیٰ صاحبہا الف الف تحیۃ وسلام سے کوئی قانون اور دستور العمل بہتر نہیں بشرطیکہ اس بات کے سمجھنے کا دماغ بھی رکھتا ہو۔ فائدہ۔ یہ آیت منسوخ ہے یا محکم ؟ یعنی اب اگر ایسا واقعہ ہو تو کیا مہر لینے اور دینے چاہییں ؟ اکثر کے نزدیک یہ حکم محدود اور موقت تھا کفار مکہ کے لیے بموجب عہدنامہ حدیبیہ کے۔ کفار عرب میں بھی مہر دینے کا دستور تھا۔ وہ عورت کو پہلے دے دیا کرتے تھے۔ اسلام نے بھی اس کو باقی رکھا۔ اس لیے عہدنامہ ہونے کے بعد یہ واپسی قائم رکھی کیونکہ کفار کی بیویاں جو مہر لے چکتی تھیں مسلمان ہو کر مسلمانوں سے آ ملتی تھیں اور مسلمانوں کی مہر دی ہوئی عورتیں جو اسلام نہیں لاتی تھیں کفار کے پاس رہ جاتی تھیں۔ فتح مکہ کے بعد پھر اس حکم کی ضرورت نہ رہی۔ عرب کے اور قبائل کی عورتیں مسلمان ہو کر آئیں۔ نکاح مسلمانوں سے کئے یا ان قبائل کے لوگ بیویاں چھوڑ کر مسلمان ہوئے مہر نہ لیے گئے نہ دیے گئے۔ اس لیے دارالحرب کے کفار کی بابت تو یہ حکم ہرگز نہیں۔ اور ذمیوں کی بابت یہ حکم نہیں کوئی ذمی عورت مسلمان ہو کر مسلمان سے نکاح کرلے تو مسلمان کو اس کے ذمی شوہر کا مہر یا خرچ شادی واپس دینا لازم نہیں۔ ہاں اگر کسی قوم سے معاہدہ ہو تو دینا چاہیے۔ چوتھا حکم : وان فاتکم شیء من ازواجکم الی الکفار فعاقبتم فاتوا الذین ذھبت ازواجہم مثل ماانفقوا کہ جو تمہاری بیویوں میں کوئی کفار کی طرف جائے اور تمہاری نوبت آئے تو تم وہ مہر جو مہاجرہ کی بابت اس کے پہلے خاوند کافر کو دینا تھا ان مسلمانوں کو دے دو جن کی بیویاں مہر پا کر کفار کے پاس چلی گئیں۔ عام مفسرین اس آیت کے یہ معنی کرتے ہیں کہ اگر تمہاری بیویوں میں سے مرتد ہو کر کفار کے پاس چلی جائیں الخ مگر بغور دیکھئے تو تعمیم ہے جو ان کو بھی شامل ہے کہ جن کی بیویاں مسلمان نہیں ہوئیں اور کفار ہی کے پاس رہ گئیں اور مہر پا چکی تھیں جیسا کہ اوپر بیان ہوا کہ چند عورتیں اس قسم کی تھیں جن میں سے حضرت عمر ؓ کی بیوی بھی تھی۔ فاتکم شیء من ازواجھم الی الکفار ان لوگوں پر صادق آتا ہے اور ہے بھی یہی کہ جن کی بیویاں وہاں رہ گئیں تو ان مہاجرات کا مہر جو ان کے کفار خاوندوں کو دینا چاہیے تھا ان مسلمانوں کو دینا چاہیے کہ جن کی عورتیں مہر پا کر وہیں رہ گئیں۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ایسے مسلمانوں کو غنیمت میں سے مہر دیا تاکہ حساب برابر ہوجائے کس لیے کہ کفار سے ان عورتوں کا مہر لینا تھا جو ان کے ہاں رہ گئیں اور ان کی عورتیں جو یہاں آئیں ان کا مہر واپس کرنا تھا وہ اس میں وضع ہوگیا۔ عاقبتم کے معنی میں بھی علماء کے کئی قول ہیں ایک یہ کہ تمہاری باری آئے مہر لینے کی اس صورت میں کہ تمہاری بیویاں کفار کے پاس رہ جائیں۔ دوم یہ کہ تم کفار سے جہاد کر کے غنیمت حاصل کرو۔ ان سب باتوں کے بعد یہ بھی فرما دیا، واتقوا اللہ الذی انتم بہ مؤمنون کہ تم اس اللہ سے ڈرو کہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ یہ جملہ تمام احکام کی پابندی پر ابھارنے والا ہے۔ ؎ منجملہ ان کے زینب ؓ نبی ﷺ کی صاحبزادی ہیں وہ اسلام لائیں اور ہجرت کر کے مدینے چلی آئیں اور ان کے شوہر ابوالعاص مشرک مکہ میں رہے پھر جب وہ بھی مسلمان ہو کر مدینے میں آئے تو آنحضرت ﷺ نے زینب ؓ کو ان کے حوالے کردیا۔ 12 منہ
Ayahs 60:12–13

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی ! جب آپ کے پاس ایمان والی عورتیں اس بات پر بیعت کرنے کو آئیں کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ اپنے ہاتھ پائوں کے سامنے (یعنی روبرو دیدہ و دانستہ) کوئی بہتان باندھیں گی اور نہ کسی نیک بات میں آپ کی نافرمانی کریں گی تو ان کی بیعت قبول کر اور ان کے لیے اللہ سے بخشش مانگ۔ اللہ جو ہے تو معاف کرنے والا ‘ مہربان ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اس قوم سے دوستی نہ کرو جن پر اللہ غصہ ہوا۔ وہ تو آخرت سے ایسے ناامید ہوگئے کہ جیسے کافر قبروالوں سے ناامید ہوگئے۔

ترکیب : اذا جاء شرط یبایعنک حال من المؤمنات ولایسرقن ومابعدہ معطوف علی ان لا یشرکن یفترینہ لغت لبھتان اوحال من الضمیر فی یاتین فبایعھن وماعطف علیہ جواب الشرط غضب اللہ علیہم الجملۃ لغت لقوم قد یئسوا الخ۔ لغت اخریٰ من اصحاب القبور متعلق یئس ای یئسوا من بعث اصحاب القبور ویمکن ان یکون حالا ای کائنین من اصحاب القبوروالکاف فی کما فی محل النصب۔ تفسیر : پہلی آیات میں مومنات کے امتحان کا ذکر تھا جب کہ وہ ہجرت کرکے آئیں اور اس کے بعد ہجرت سے جو تفرقہ کافر خاوند اور بیوی میں تھا اس کے احکام تھے کہ باہمی معاہدے کی صورت میں کیا کرنا چاہیے۔ اب یہاں ان عورتوں کے احکام بیان کرتا ہے جو آنحضرت ﷺ سے بیعت کرنے کو آتی تھیں کہ اگر وہ ان باتوں پر بیعت کریں یعنی عہد موثق کریں تو بیعت قبول کرلے۔ (1) کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ عرب میں بت پرستی عام تھی۔ عورتیں اس بلا میں زیادہ مبتلا تھیں۔ اب بھی توہمات باطلہ اور تخیلات فاسدہ کی پرستش اسی گروہ میں مردوں کی نسبت زیادہ ہے اس لیے سب سے اول اسی اہم بات کو پیش کیا۔ (2) چوری نہ کریں گی۔ چوری اگرچہ مردوں کے لیے بھی سخت عیب اور بدنما دھبہ ہے لیکن عورت کے حق میں اور بھی زیادہ عیب ہے خصوصاً خانہ داری میں خاوند سے چوری خانہ بربادی کا سبب ہے۔ اس کے بعد اس کو منع کیا۔ (3) زنا نہ کریں گی۔ زنامردوں کے لیے بھی برا کام ہے مگر معاذاللہ عورت کے لیے تو اور بھی شرمناک دھبہ ہے جو اس کی اولاد اور خاندان سے بھی دور نہیں ہوتا اور گو توبہ کر کے یہ عورت محاسبہ آخرت سے پاک ہوجائے مگر دنیا میں تو عمر بھر کلنک کا ٹیکا ہے۔ لیکن شرفاء عورتیں ایسا کام نہیں کرتیں اور بہت کم ان سے یہ حرکت وقوع میں آتی ہے اس لیے چوری کے بعد اس کو ذکر کیا۔ خاوند کے مال میں سے کچھ چرا لینا شرفاء عورتیں ایسا برا عیب نہیں سمجھتی تھیں۔ چوری عام لفظ ہے پیسہ سے لے کر بےانتہا تک خواہ نقد کی ہو خواہ گھر کے اسباب کی ہو۔ میاں کی بےاجازت اس کی کوئی چیز چھپانا یا اپنے ماں باپ یا رشتہ داروں یا اور کسی کو دے دینا سخت معصیت ہے اور خدا تعالیٰ کی بازپرس کا باعث اور دنیا میں اس کی یہ تاثیر ہوتی ہے کہ اس عورت سے خاوند کو نفرت ہوجاتی ہے اور پھر خاوند کے گھر کا پورا اختیار اس کو نصیب نہیں ہوتا۔ امانت و دیانت عجب چیز ہے۔ زنا جس طرح ممنوع ہے اسی طرح اس کے دواعی بھی ممنوع ہیں یعنی وہ باتیں جو زنا کا باعث اور سبب ہیں۔ غیرمحرم کا گھر میں آنے دینا یا اس سے بےضرورت باتیں اور اخلاق کا اظہار کرنا یا اس سے تخلیہ کرنا اور اسی طرح خاوند کے گھر سے باہر جانا اور غیروں کے ساتھ سیروتفریح میں باغوں ‘ سیرگاہوں میں جانا یا فحش اور شہوت انگیز قصہ کہانی کی کتابیں دیکھنا یا سننا جیسا کہ فسانہ عجائب ‘ بدرمنیر وغیرہ اخلاق کو برباد کرنے والی کتابیں ہیں یا نئے ناول نکلے ہیں۔ اسی طرح ناچ و رنگ کی محفلوں میں شریک ہونا ان کی شہوت انگیز نقل و حکایات سننا یا آپ گا کر لوگوں کو سنانا یا اپنے زیور یا کپڑے کی جھلکی دکھانا ‘ شراب و مسکرات کا استعمال کرنا یہ ساری باتیں زناکاری کے دروازے ہیں جن میں یہ باتیں ہیں وہاں زناکاری کی بھی کچھ انتہا نہیں۔ جس قدر ترفہ ہوتا ہے یہ باتیں پیدا ہوتی ہیں وہیں زناکاری بھی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ برخلاف قراء و قبائل کے لوگوں کے کہ ان میں یہ کم ہے اور اس لیے عصبیت اور جواں مردی بھی ان لوگوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ زناکار قوم میں غیرت نہیں رہتی۔ انجام کار وہ قوم دنیا میں تنزل اور پستی کا منہ دیکھتی ہے۔ اس بات پر ایک روایت یاد آئی جس کو مفسرین نے اس مقام پر نقل کیا ہے۔ وہ یہ کہ فتح مکہ کے دن جب عموماً وہاں کے لوگ مسلمان ہوگئے اور مردوں کی بیعت سے آنحضرت ﷺ فارغ ہوئے تو مسلمان عورتیں بھی بیعت کے لیے آمادہ ہوئیں۔ نبی کریم ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھے اور عمر ؓ نیچے تھے۔ عورتیں نے بیعت کرنی شروع کی انہیں امور پر ہندبنت عتبہ زوجہ ابی سفیان بھی برقع اوڑھے، بےپہچانے پیش ہوئیں (یہ ہندآں حضرت ﷺ کی پہلے بڑی دشمن تھی۔ حضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ دانتوں سے اسی نے چبایا تھا اس کا ایک بیٹا حنظلہ تھا بدر کی لڑائی میں مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا تھا) عمر ؓ نبی ﷺ کی طرف سے بیعت لے رہے تھے جب آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اللہ سے شرک نہ کرنا، ہند نے سراٹھایا اور کہا کہ ہم نے اب تک بت پرستی کی تھی آپ ہم سے وہ عہد لیتے ہیں جو مردوں سے نہیں لیا ان سے تو صرف اسلام و جہاد پر عہد لیا تھا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا۔ چوری نہ کرنا۔ اس پر ہند نے کہا ابوسفیان کنجوس آدمی ہے اس کے مال سے میں نے کچھ لے لیا اب نہیں معلوم کہ حلال ہے یا حرام ہے۔ ابوسفیان نے کہا کہ میرے مال سے جو کچھ تو نے پہلے لے لیا یا آیندہ لے سب تجھ کو معاف اور حلال ہے۔ اس پر آنحضرت ﷺ ہنس پڑے اور ہند کو پہچان لیا اور فرمایا کیا تو ہند عتبہ کی بیٹی ہے ؟ اس نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ! جو کچھ مجھ سے پہلے قصور سرزد ہوا معاف کیجئے۔ اللہ آپ کو معاف کرے اس کے بعد آپ نے فرمایا زنا نہ کرنا۔ ہند نے کہا کیا بیویاں بھی زنا کرتی ہیں ؟ یہ تو چھوکریوں لونڈیوں کا فعل ہے۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ ہند نے یہ کہا کہ ان بیویوں میں سے کسی نے کبھی یہ کام نہیں کیا۔ (اللہ رے شرافت و عصبیت کفروبت پرستی میں بھی یہ کام نہایت برا اور حقیر سمجھا جاتا تھا۔ تف ہے ان پر کہ بہن بیٹیوں سے یہ کام کراتے اور ان کی کمائی سے عمدہ کپڑے پہن کر اینٹھتے پھرتے ہیں) ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا۔ (4) ولایقتلن اولادھن کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کرنا۔ عرب میں دستور تھا کہ دامادی کی عاروننگ سے بیٹیوں کو مار ڈالتے تھے۔ اس کی بھی ممانعت ہوئی۔ اس پر ہند نے کہا ہم تو ان کی لڑکپن میں پرورش کرتی ہیں جب وہ بڑے ہوتے ہیں تم ان کو مار ڈالتے ہو اب تم جانو وہ جانیں (جنگ بدر کے مقتولوں کی طرف اشارہ تھا جن میں اس کا بیٹا حنظلہ بھی مارا گیا تھا) اس پر عمر ؓ کو اس قدر ہنسی آئی کہ لوٹ گئے اور آنحضرت ﷺ نے بھی تبسم کیا۔ (5) ولایاتین بہتان یفترینہ بین ایدیہن وارجلہن پھر فرمایا کہ کوئی بہتان نہ باندھے۔ یہ لفظ عام ہے ہر قسم کے بہتان کو شامل ہے خواہ کسی پر چوری کا لگایا جائے یا زنا کا۔ عورتوں میں یہ عادت بدبہت ہے کہ وہ جھٹ پٹ بدگمان ہو کر بہتان لگا دیتی ہیں اس سے بھی منع کیا۔ خاوند پر بہتان لگا دینا تو ایک ادنیٰ بات سمجھتی ہیں۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں اس کے یہ معنی ہیں کہ کسی غیر کے بیٹے کو اپنے خاوند کی اولاد نہ بنائو۔ فراء کہتے ہیں عرب میں عورتیں کسی کا بچہ اٹھا لاتی تھیں اور خاوند سے کہہ دیتی تھیں کہ میرا بچہ ہے تجھ سے۔ وہ بہتان کو جو اپنے ہاتھوں اور پائوں کے سامنے بنایا گیا اور یہ اس لیے کہ لڑکا جب دودھ پیتا ہے تو اس کو سامنے ڈال لیتی ہے اور اس کے دونوں ہاتھ اور پائوں کے سامنے ہوتا ہے مگر اس کے معنیٰ دیدہ و دانستہ کے ہیں۔ بین ایدی محاورہ ہے اس معنی میں کہ دیدہ و دانستہ کسی پر بہتان نہ باندھو۔ یہ بھی سخت جرم ہے۔ اس کے بعد ہند نے کہا واللہ بہتان بری بات ہے اور آپ عمدہ باتیں اور مکارم اخلاق سکھاتے ہیں۔ (6) ولا یعصینک فی معروف پھر فرمایا اور کسی نیک بات میں رسول کی نافرمانی نہ کریں۔ یہ بڑا وسیع لفظ ہے اس میں اور سب عمدہ باتیں آگئیں اگر ان چھ باتوں پر عہد کرلیں اور اس پر بیعت کریں تو اے نبی ! ان کی بیعت قبول کرلے اور ان کے پہلے گناہوں پر اللہ سے معافی مانگ۔ اللہ غفوررحیم ہے اس بیعت پر قائم رہنے کا یہ صلہ ہے کہ ان کے لیے مغفرت اور اگلے جہان میں جہاں نئی زندگانی ہے۔ عیش و آرام ابدی ہے۔ فائدہ۔ آج کل نئے علوم اور نئی روشنی کا بہت کچھ زوروشور ہے اور نئی تہذیب یافتہ قومیں جو عیسائی مذہب کے برائے نام پابند ہیں اس امر میں بہت کچھ دعوے کرتے ہیں۔ عورتوں کی تعلیم پر ان کی بڑی ہمت مصروف ہے اور اپنے کالجوں اور سکولوں کی تعلیم یافتہ عورتوں کو فوقیت دیتے ہیں اور اسباب تمدن کے علاوہ ناچنا گانا بھی سکھاتے ہیں۔ جو کچھ ہو اگر ان میں یہ باتیں نہیں تو کسی غیرتمند آدمی کے نزدیک ان کا مرتبہ ایک بازاری عورت سے بھی زیادہ نہیں جو دلربائی اور عیش و نشاط کے طریقے اپنے خانگی مکتبوں میں سیکھ کر بیٹھتے ہیں۔ ان چند باتوں کے سوا سینا پرونا اور ہنرمندی کی باتیں بھی اگر عورت میں ہوں تو نورٌ علیٰ نور۔ اسلام اپنی تعلیم نسواں میں نہ بائبل پر بلکہ بڑے حکیموں پر بھی فخر کرسکتا ہے۔ زمانہ حال کے غیرتمند تعلیم یافتہ سے وہ صدمہ پہنچنا چاہیے جو اس کو اپنی دلربا بیوی کی خیانت اور سرکشی اور غیروں کے ساتھ اختلاط کرنے سے ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ایک جماعت ہے جو فرنگیوں کی ہر ہر بات میں تقلید کرنا ہی ترقی جانتی ہے۔ فرنگی تو اپنی آزادیِنسواں سے تنگ آگئے ہیں اور یہ اپنی نیک بیویوں کو اسی طرح آزاد ہونے پر مجبور کرتے ہیں۔ یہ کہتے ہیں یہ کیا کہ بیوی گھر میں بیٹھی ہوئی ہے بجز ہمارے اور کسی مرد کی شکل بھی نہیں دیکھتی۔ اس کی عقل میں فراخی نہیں آتی بلکہ ہمارے ساتھ بن ٹھن کر کسی تھیٹر یا مجلس میں چلے اور ہمارے جوان جوان دوست اٹھ اٹھ کر اس سے مصافحہ کریں بغل میں لیں۔ پاک محبت سے بوسہ بھی لیں اور بغل میں ہاتھ دبا کر کسی کرسی پر جا بٹھائیں اور کوئی دبنگ جنٹلمین برانڈی کی بوتل چڑھائے ہوئے اس کی بغل میں ہاتھ دے کر اس کو کرسی پر سے اٹھائے اور دونوں ناچتے ہوئے چلے جائیں اور ہارے تھکے بڑی دیر میں دورہ تمام کر کے آئیں۔ کسی روز ہماری غیبت میں ہمارا کوئی سچا دوست آئے اور سوار کرا کے اس کو سیر کرانے لے جائے اور جہاں چاہیں پھر آئیں اور جب چاہیں آئیں۔ اور کبھی یہ بھی ہو کہ بیگم صاحبہ کے کمرے میں ہم کو اس کا کوئی دوست بیٹھا ہوا ملے جس کو ہم نہ پہچانتے ہوں اور ہم تہذیب کے قاعدے سے ان کے پاس نہ جاسکتے ہوں اور جب تک چاہیں وہ بیٹھے رہیں اور ہم جلا کریں اور کچھ کر نہ سکیں۔ ایسی باتوں سے ذہن میں فراخی ہوجاتی ہے پھر یہ پولیٹیکل امور میں بھی رائے دینے کے قابل ہوجائیں گی۔ عورتیں کسی طرح مردوں سے کم نہیں۔ تمام باتوں میں ان کو مردوں کا ہم پہلو اور پلہ پلہ رہنا چاہیے۔ پرانے خیالات نے ان کو اثاث البیت سمجھ رکھا تھا۔ استغفر اللہ اس نئی روشنی کے خیال کو نبوت کے پہلے ارشاد کے ساتھ مقابلہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قوائے بہیمیہ کا کہاں تک غلبہ ہوگیا۔ الامان الامان ! بیعت : بیع۔ خریدن وفروختن۔ اسلام میں یہ بھی ایک قسم کا معاہدہ قوی ہے کہ کسی بزرگ یا سردار قوم کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اقرار کیا جاتا ہے جس کی پابندی اشد ضروری خیال ہوتی ہے۔ گویا اس بیعت کرنے والے نے کسی ثواب یا رضائے الٰہی میں اس اقرار پورا کرنے کے لیے اس بزرگ کی معرفت اپنے تئیں بیچ ڈالا۔ اس بیعت کی چند قسمیں ہیں۔ اول جو بیعت اسلام میں ہوئی وہ غزوہ حدیبیہ میں تھی۔ صحابہ ؓ نے آنحضرت ﷺ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر اقرار کیا تھا کہ آپ کا ساتھ دیں گے، پیٹھ نہ پھیریں گے جس کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے۔ ان الذین یبایعونک انما یبایعون اللہ یداللہ فوق ایدیہم کہ اے نبی جو تجھ سے بیعت کرتے ہیں وہ دراصل اللہ سے کر رہے ہیں کس لیے کہ تیرا ہاتھ ان کے ہاتھ پر اللہ کی طرف سے ہے گویا اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھ پر ہے۔ اس کا نام بیعت رضوان تھا۔ دوم اسلام و جہاد پر بھی لوگ آنحضرت ﷺ سے بیعت کیا کرتے تھے۔ جیسا کہ احادیث سے ثابت ہے۔ سوم بیعت ترک معصیت و التزام حسنات پر اس آیت میں یہی بیعت مراد ہے۔ چہارم آنحضرت ﷺ کے بعد خلافت پر بھی بیعت صدیق اکبر ؓ کی مسند نشینی پر شروع ہوئی۔ یعنی خلیفہ تسلیم کرنے کے لیے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے تھے اس کو بیعت خلافت کہتے تھے۔ خلفائے اربعہ اور ان کے بعد کے خلفا کے لیے یہی رسم تخت نشینی تھی۔ عباسی خلفاء بھی لوگوں سے بوقت خلافت بیعت لیتے تھے یہ بھی اسلام کی قدیم سنت ہے جو آنحضرت ﷺ کے بعد جاری ہوئی۔ پانچویں قسم بیعت انابت ہے جو پیران طریقت سے کی جاتی ہے۔ دراصل یہ کوئی نئی قسم نہیں بلکہ وہی ہے یعنی تیسری قسم کی بیعت ہے جو ترک معصیت و التزام حسنات کے لیے ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں بھی ہوتی تھی مگر اس میں قدرے تغیر ہوگیا ہے وہ کیا ؟ التزام اذکار طریقہ معینہ اور ان کے روش کی پابندی اس قدرے تغیر سے اس کو بدعت قرار دینا بڑی زیادتی ہے۔ یہ بیعت بھی بیعت خلافت کی ہم عمر ہے۔ اسی عہدے سے یہ بھی جاری ہے اور بڑی مقدس جماعت میں جاری رہی اور اس کے عمدہ نتائج پیدا ہوئے۔ تہذیب قوائے باطنیہ و تزکیہ روح واکتساب کمالات روحانیہ اسی کے ثمرات ہیں۔ مگر آج کل بعض نے تو اس کو بہت ہی بدنما کردیا ہے۔ یہ حالت ہوگئی ہے کہ خود بیعت لینے والا جاہل ‘ طریقت تو درکار شریعت سے بھی محروم۔ صرف یہی تفاخر ان کو حاصل ہے کہ وہ کسی بزرگ کی اولاد میں سے ہیں یا کسی خانقاہ کے موروثی سجادہ نشین ہیں پھر بیعت بھی ایک نئی بیعت کہیں۔ شربت کا پیالہ پلایا جاتا ہے کہیں صرف شجرہ لکھ کر دے دیا جاتا ہے۔ نہ کسی عمل کا تقید ‘ نہ اور ادواذکار کی تلقین ‘ نہ معاصی کی ترک کا اقرار لیا جاتا ہے۔ پھر بیعت کرنے والے کون ؟ اکثر عوام جہلاء بدکار ‘ امراء شہوت پرست ‘ رنڈیاں قوال، اور بیعت کس لئے ؟ محض اس لیے کہ اس کے سبب سے ہم جمیع آفات و بلیات دنیاوی سے محفوظ رہیں گے۔ آخرت میں وہ بزرگ کہ جن کی طرف یہ سلسلہ منسوب ہے خواہ ہم کچھ ہی کریں عذاب کے فرشتوں سے چھڑا کر جنت میں لے جائیں گے اور یہ سجادہ نشین بھی اسی خیال بخشش کی ترغیب کو نذرانہ حاصل کرنے اور اپنی نافرمانروائی کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ بعض پیرزادے تو رنڈیوں ‘ ڈوموں ‘ بھانڈوں کو مرید کر کے ناچ مجرا دیکھتے ہیں اور اس شہوت پرستی کو فقیری اور معرفت و حقیقت کی سیڑھی سمجھتے ہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی ان بدکاروں اور فواحش کا ان کی قبروں پر جمگھٹا رہتا ہے۔ بہت نے تو یہ پیری مریدی معاش کا ذریعہ سمجھ رکھا ہے۔ اگر وہ امراء اور فساق کو معصیت و ترک شریعت پر تو بیخ کریں اور ان کے اعمالِ بد کے برے نتائج پیش آنے والوں سے ڈرائیں تو نذرانہ اور آمدنی جاتی رہے بلکہ اپنے بزرگوں کی بےانتہا قدرتیں بیان کر کے اور ان کی مبالغہ آمیز قصے سنا کر اور بھی جرأت دلاتے ہیں۔ ایسی پیری مریدی بدعت کیا بلکہ دام شیطانی ہے۔ نعوذباللہ منہ۔ عورتوں کے لیے بیعت امور مذکور پر بیان فرما کر مردوں کو حکم دیتا ہے۔ یا ایہا الذین آمنوا لاتتولوا الخ کہ اے ایمان والو ! تم اس قوم سے دوستی اور محبت نہ رکھو کہ جس پر خدا تعالیٰ کا غضب ہوا یعنی اللہ تعالیٰ ان سے غصہ ہوا۔ قدیئسوامن الآخرۃ کمایئس الکفار من اصحاب القبور۔ وہ قوم آخرت سے ایسی ناامید ہوگئی ہے کہ جیسا کفار مردوں سے ناامید ہیں کہ وہ پھر جی کر اٹھیں گے یا یہ معنی کہ وہ قوم جس پر خدا غصہ ہوا ہے آخرت سے ایسے ناامید ہیں (خیروثوابِ آخرت کی ان کو کچھ امید نہیں یا تو اس لیے کہ وہ قوم یعنی یہود آخرت کے منکر تھے کس لیے کہ یہود میں ایک فریق آخرت کا منکر تھا یا اپنے اعمالِ بد کی وجہ سے) ہوگئے ہیں جیسا کفار جو اصحاب القبور ہیں یعنی مردے آخرت کے ثواب سے منکر ہیں۔ چناچہ مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ کفار جب قبروں میں داخل ہوتے ہیں تو رحمت الٰہی سے ناامید ہوجاتے ہیں۔ کس لیے کہ قبر میں اپنے کفر اور بداعمال کا بدنتیجہ ان کو ناامیدی دلا دیتا ہے اور دارآخرت کی کیفیت ان کو معلوم ہوجاتی ہے وہاں اپنے لیے کوئی بھلائی نہیں پاتے۔ یہ کون قوم ہے ؟ مفسرین کہتے ہیں کہ یہود مراد ہیں۔ اور معاذاللہ جب انسان کو دارآخرت کا خیال نہ ہو رہے تو پھر اس سے کسی کی بھلائی کی امید نہ رکھنی چاہیے۔ دغا ‘ فریب ‘ عیاری سب کچھ اس سے بعید نہیں اس لیے ان کی دوستی سے منع کیا گیا کہ سوائے مضرت کے اور کوئی بات نہیں۔ مسلمانوں میں کچھ لوگ فقیر و محتاج تھے۔ وہ یہود مدینہ سے جا کر ملا کرتے تھے ان سے یہود کچھ سلوک کرتے تھے اور مسلمانوں کے حالات دریافت کیا کرتے تھے اور زمانہ تھا باہمی جدال و قتال کا پھر یہ غرباء اندرونہ تدابیر سے ان کو مطلع کردیتے تھے اس لیے منع کردیے گئے کہ ان سے دوستی نہ کرو۔ اور قطع نظر اس کے یہ ایک مقہور و مغضوب قوم تھی اور ایسی قوم سے دوستی رکھنے والا بھی ان کے ساتھ اس بلا میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ جس میں وہ ہونے والے ہیں اور نیز بدوں کی صحبت سے حذرلازم ہے جس طرح امراض متعدیہ کا دوسرے میں اثر پہنچتا ہے اسی طرح بد کی صحبت کا اثر پڑتا ہے۔