59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 59:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 59:1 in the Quran reader

آسمانوں اور زمین کے رہنے والے اللہ کی تقدیس کرتے ہیں اور وہ زبردست حکمت والا ہے

هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ Open ayah 59:2 in the Quran reader

اس نے تو اہل کتاب کے کافروں کو ان کے گھروں سے لشکر جمع کرنے سے پہلے نکال باہر کردیا۔ حالانکہ تم کو ان کے نکلنے کا گمان بھی نہ تھا اور وہ یہی سمجھ رہے تھے کہ ان کے قلعے ان کو اللہ سے بچا لیں گے۔ پھر ان پر اللہ کا عذاب وہاں سے آیا کہ جہاں کا ان کو گمان بھی نہ تھا اور ان کے دلوں میں ہیبت ڈال دی کہ اپنے گھروں کو اپنے اور مسلمانوں کے ہاتھ سے آپ ڈھانے لگے پس اے آنکھوں والو ! عبرت پکڑو۔

ترکیب : مانعتھم بالرفع علی انہ خبر۔ مقدم و حصونھم مبتداء موخر والجملۃ خبران من اللہ متعلق بالخبر۔ ویمکن ان یکون مانعتھم خبران و حصونھم مرتفع علیٰ الفاعلیۃ یخربون الجملۃ حال او تفسیر للرعب فلامحل لھا۔ وقریٔ یخربون بالتشدید التکثیر وقیل الاحزاب التعطیل والخریب الھدم۔ تفسیر : پچھلے سورة میں منافقوں کے افعال ناشائستہ کا ذکر تھا اس سورة میں ان کے معین و مددگار یہود کی نالائق حرکت اور اس کا یہ نتیجہ ذکر فرماتا ہے کہ عبرت ہو فقال سبح اللہ۔ ان آیات میں اور نیز ان کے بعد آیات میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ مورخین نے یوں بیان کیا ہے کہ جب پچھلے زمانوں میں یہود پر مصائب پڑے کچھ لوگ ان میں کے عرب میں بھی آرہے تھے۔ بیشتر مدینہ منورہ کے آس پاس 1 ؎ آب سے تھے۔ اس خیال سے کہ وہ نبی جس کی موسیٰ (علیہ السلام) نے خبر دی ہے یہیں آ کر رہے گا اور یہی شہر اس آفتاب کا تجلی گاہ بنے گا۔ منجملہ ان کے مدینہ کے آس پاس ایک ایک فرسنگ کے فاصلے سے دو فرقے یہود کے تھے۔ ایک بنی قریظہ دوسرے بنی نضیر کہلاتے تھے۔ آنحضرت ﷺ جب مدینہ میں ہجرت کر کے آئے تو یہ دونوں آنحضرت ﷺ کے حلیف 2 ؎ ہوگئے تھے مگر احد کی جنگ میں جو مسلمانوں کو کفار قریش سے ہزیمت پہنچی تب سے بنی نضیر کے دماغوں میں بھی سرکشی کا مادہ بھر گیا۔ اگرچہ اس سے پہلے بدر کی لڑائی کے بعد ابوسفیان سردار قریش کو بنی نضیر کے سردار سلام بن مشکم نے اپنے ہاں مہمان رکھا تھا جو آنحضرت ﷺ پر شب خون مارنے آیا تھا۔ آخر اس کو مدد دی اور ابوسفیان نے اس کی مدد سے مدینے کے بعض مسلمانوں پر جو اپنے کھیتوں میں مصروف تھے رات کو حملہ کیا، مسلمانوں نے خبر پا کر تعاقب کیا۔ یہ تو تھا ہی اب ایک اور نئی بات پیدا ہوئی۔ آنحضرت ﷺ بنی نضیر کی گڑھی میں مع چند صحابہ ؓ اسی عہدنامے اور معاہدے کی رو سے ایک مسلمان کو خون بہا دینا تھا اس روپے کے چندے میں انہیں بھی شریک کرنے تشریف لائے تھے۔ حضرت ﷺ سے کہا آپ تشریف رکھئے ہم چندہ دیتے ہیں اور بہت کچھ مدد دیں گے۔ آنحضرت ﷺ گڑھی کی دیوار سے کمر لگا کر بیٹھ گئے۔ یہود اندر گئے، جا کر تجویز کی کہ اس کے اوپر سے بھاری پتھر ڈال دو مر کر رہ جائے۔ جھگڑا ہی تمام ہو اس کی خاطر سے بھلا ہم قریش سے اور تمام عرب سے بگاڑ کر کہاں رہیں گے ؟ (جب بدبختی سوار ہوتی ہے تو ایسی ہی کمینگی کی باتیں سوجھا کرتی ہیں) وہ ہنوز اپنا ارادہ پورا کرنے نہ پائے تھے کہ خدا تعالیٰ نے بذریعہ وحی آپ ﷺ کو خبر کی، آپ وہاں سے چلے گئے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) آپ کے حق میں فرما ہی چکے تھے کہ جو آپ پر گرے گا چورا چورا ہوجائے گا اور جس پر آپ گریں گے اس کو بھی چورا کردیں گے۔ بموجب اس بشارت کے ان متواتر بدذاتیوں پر قہرمانِ الٰہی کب صبر کر کے پایہ تخت اسلام میں ان پشتینی بدذاتوں اور ازلی منحوسوں کو فتنہ انگیزی کی مہلت دے سکتا تھا ؟ اس لیے آنحضرت ﷺ نے بحکم الٰہی اعلان کردیا کہ اب ہمارا تمہارا عہد باقی نہیں رہا اب تم یہاں سے چلے جاؤ ورنہ پھر جنگ ہے۔ ان مغروروں نے قریش اور مدینے کے منافقوں کی مدد کے بھروسے پر کہہ دیا اچھا جنگ ہے آئیے آپ کیا کرسکتے ہیں ؟ اپنی گڑھی کے دروازے بند کر کے بیٹھ گئے۔ یہ گڑھی بھی مستحکم اور بلند تھی۔ لشکر اسلام نے محاصرہ کیا۔ گیارہ روز تک سخت محاصرہ رہا۔ یہود کی باہر سے کوئی مدد نہ آئی ادھر مسلمانوں نے ان کے باغوں کو جن میں بہت عمدہ کھجوریں تھیں کاٹنا اور کھیتوں کو جلانا شروع کیا (ان کی گڑھی سے لے کر مدینے تک باغات تھے) آخر مجبور ہو کر پیغام بھیجا کہ امن دیجئے۔ آپ جو کہیں گے ہم کریں گے۔ آنحضرت ﷺ نے امن دیا اور یہ حکم دیا کہ اپنا اس قدر مال واسباب کہ تم سے چل سکے یا ایک اونٹ پر لد سکے لے جائو۔ یہود نے منظور کیا اور دس روز کی مہلت مانگی۔ اس عرصے میں اپنا اسباب لادنا شروع کیا اور اس جلن کے مارے کہ بعد میں مسلمان ہمارے گھروں میں نہ رہیں اور اس لالچ سے بھی کہ اپنا کڑی کاٹھ کیوں چھوڑ دیں، مکانوں کو گرانا شروع کردیا۔ آپ بھی ڈھاتے تھے اور مدینے کے مسلمانوں سے بھی اس کام میں مدد لیتے تھے۔ پھر اکثر تواریحاواذراعات کی طرف چلے گئے (یہ شام کے مقامات ہیں) اور ابی الحقیق اور حیی بن اخطب کا خاندان کچھ تو خیبر میں رہا اور کچھ حیرہ چلا گیا۔ اس واقعے کے بعد یہ سورة نازل ہوئی۔ ان آیات میں خدا تعالیٰ اپنی شان کبریائی جتلا کر یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اس قادر مطلق نے ان سرکش یہود کو حشر سے پہلے ہی ان کے گھروں سے نکلوا دیا۔ محاصرہ سے پہلے یہ کہتے تھے کہ ہم حشر تک بھی اپنے گھربار نہ چھوڑیں گے۔ لو اس نے حشر سے پہلے ہی گھربار چھڑوا دیے۔ ان کی بلند اور مستحکم گڑھی کو دیکھ کر ظاہر میں مسلمان یہ خیال کرتے تھے کہ یہ نہیں نکل سکتے۔ ادھر خود ان کو بھی یہ غرور تھا کہ ہماری گڑھی اور مستحکم قلعہ ہم کو ہر قسم کی آفت سے بچا لے گا ہم کو اس میں کون مار سکتا ہے ؟ مگر ان کو اس بدروز کا خیال بھی نہ تھا کہ محاصرہ ہوتے ہی ان کے دلوں میں رعب بھر گیا، نامردی چھا گئی، امان مانگ کر جلاوطنی پر راضی ہوئے۔ اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے مکانوں کو کس نامرادی کے ساتھ آپ ڈھانے لگے۔ یہ بڑی عبرت کی بات ہے آنکھ والوں کے لیے کہ آسمانی حکم کا مقابلہ ایسے برے نتیجے پیدا کرتا ہے۔ پیغمبر ﷺ سے دغا کرنا اچھا نہیں ہوتا۔ کسی سے دوستی کا عہد مستحکم باندھ کر مکاری و عیاری کرنا ضرور برا دن دکھاتی ہے۔ دنیا اور اس کے سامان دل لگانے کے قابل نہیں۔ کل کس شادمانی اور کن کن میٹھی امیدوں سے یہ مکانات بنا رہے تھے اور کیا کیا خیالات پکا رہے تھے۔ آج کس حسرت و یاس کے ہاتھوں سے ڈھا رہے ہیں۔ عبرت، عبرت ! پچھلی آیتوں کا یہ مطلب صاف صاف تھا۔ اب ہم مفسرین کی موشگافیاں بھی نقل کرتے ہیں اور آیات میں جو اسرار ہیں ان کو بھی دکھاتے ہیں۔ سبح اللہ۔ تسبیح تنزیہ و تقدیس۔ یعنی اللہ کی تقدیس تمام آسمانوں اور زمین کے رہنے والے کرتے ہیں۔ شریعت و نبی بھیجنے سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ ان کی عبادت کا حاجتمند ہے بلکہ انہیں کے فائدے کے لیے۔ آسمانوں کے ستارے اور ان کے اندر کی کائناٹ اور اسی طرح زمین کے رہنے والے سب زبان حال سے اپنے خالق کی یکتائی اور شان بیان کر رہے ہیں۔ گویا ہر شے اہل بصیرت کے لیے اس کے کمالات اور عظمت شان کا آئینہ اور مکمل دفتر ہے اور یہی اس کی تسبیح و تقدیسِ بےاختیاری ہے اور ملائکہ اور ارواح طیبہ آسمانوں میں نیک لوگ زمین پر اس کی تسبیح و تقدیس بالارادہ کرتے ہیں۔ آسمانوں اور زمین اور ان کے اندر کی جملہ کائنات کا اس طرزورویہ فطری پر لگا رہنا کہ جن پر ان کو ان کے خالق ومالک نے لگا دیا ہے، ان کی تسبیح و تقدیس ہے۔ تمام کائنات پر اس کے احکام جبروتی نافذ ہیں۔ طوعاً و کرھاً سب ان کو تسلیم کر رہے ہیں یہ بھی تسبیح و تقدیس ہے۔ اس جملہ میں اس کی کمال عظمت و شوکت و توانائی بیان ہوئی ہے اس کے بعد اس کی جبروتیت و قہاریت کی ایک خاص بات ذکر کرتا ہے کہ ھوالذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتاب کہ وہی جبار و توانا ہے کہ جس نے اہل کتاب کے کافروں کو حشر سے پہلے ان کو گھروں سے نکال دیا۔ کفروا میں اشارہ ہے کہ یہ کفرو بےدینی اس سزا کی باعث ہوئی اور اخرج کے لفظ میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ ایک تو ان کے باپ دادا تھے کہ جو توریت میں لکھا دیکھ کر نبی عربی (علیہ السلام) کے ظہور کے انتظار میں بامید اعانت و اطاعت یہاں آئے تھے ایک یہ ان کی نااہل اولاد ہے کہ اس سے مخالفت کرنے کے جرم میں نکالے گئے۔ لاول الحشر کے صاف معنی ہی ہیں جو ہم بیان کر آئے ہیں لیکن بعض مفسرین نے اور بھی بیان کئے ہیں۔ حشر جمع کرنا یعنی اس دن سے پہلے کہ ان پر مسلمانوں کے لشکر جمع ہوں جیسا کہ ہرقل روم و کسریِٰ فارس پر ہوئے اس سے پہلے ہی آسانی سے نکالے گئے یا یہ معنی کہ نبی ﷺ کے معین و مددگار جمع ہوں اس سے پہلے یہ کمبخت نکالے گئے۔ ان میں شریک ہونا جس لیے یہاں آئے تھے نصیب نہ ہوا یا یہ کہ معین و مددگار جمع کرنے سے پہلے نکالے گئے کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آیا۔ اپنے قلعہ پر بڑا گھمنڈ تھا ناگہانی بلا کی خبر بھی نہ تھی۔ 1 ؎ خیبر بھی مدینے سے پاس ہے وہاں بھی حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل کے یہودی رہتے تھے بنی قینقاع اور بنی قریظہ اور بنی نضیر تو بہت ہی قریب تھے۔ 12 منہ 2 ؎ عرب میں قدیم دستور تھا کہ جب دو شخص ‘ دو قوم باہم ایک عہد نامہ حلفیہ قائم کرلیتے تھے کہ ہماری جان و مال تمہاری تمہاری جان و مال ہماری تو ان کو حلیف کہتے تھے ان میں حقیقی بھائیوں سے بھی زیادہ اتحاد و حمایت ہوتی تھی اس طوائف الملوک کے زمانے میں خانہ بدوش قوموں سے بچنے کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی مستحکم قلعہ متصور نہیں ہوسکتا تھا۔ آنحضرت ﷺ سے بنی نضیر و بنی قریظہ نے حلف کرکے عہد باندھا تھا جو بعد میں خلاف کیا اور بہت ہی برے طور پر نالائقیاں اور بدذاتیاں جس کی سزا قانون الٰہی میں ضروری تھی بنی نضیر نکالے گئے بنی قریظہ غزوہ احزاب کے بعد جو اس واقعہ کے بعد ہوا ہے (شاید دو برس بعد) موذی سانپ اور زہریلے جانور کی طرح قتل کیے گئے اور ان کے ناپاک اور زہریلے وجود سے دنیا کو پاک کرنا حکمت آسمانی کا مقتضی ہی تھا جو واقع ہوا اس کو پیغمبر (علیہ السلام) کی رحم دلی روک نہیں سکتی تھی اس زمانے میں جب مہذب گورنمنٹ کو رٹ مارشل لاء (قانونی مجلس) کے بعد رحم دلی پر گولیاں مارنا مصلحت و حکمت جانتی ہیں تو اس حکم پر کیا اعتراض ہے۔ 12 منہ
Ayahs 59:3–4

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ Open ayah 59:3 in the Quran reader

اور اگر اللہ نے ان کے لیے دیس نکالا نہ لکھ دیا ہوتا تو ان کو دنیا ہی میں سزا دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے عذاب ہی ہے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَآقُّوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ۚ وَ مَنْ یُّشَآقِّ اللّٰهَ فَاِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 59:4 in the Quran reader

یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی تھی اور جو کوئی اللہ سے مخالفت کیا کرتا ہے تو اللہ سخت سزا دیتا ہے۔

اس کے بعد فرماتا ہے ولولاان کتب اللہ علیہم الجلاء کہ اگر اللہ نے ان پر جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا میں ان کو عذاب دیتا اور اس عذاب سے آخرت کے عذاب میں کمی نہ ہوتی بلکہ وہاں بھی عذاب ہوتا یعنی دونوں ہوتے اس جلاوطنی سے دونوں نہ ہوئے بلکہ صرف آخرت کا ہوگا۔ دنیا میں عذاب دیتا یا تو بنی قریظہ کی طرح قتل کراتا یا لونڈی غلام بنواتا یا تنگدستی و بیماری میں مبتلا کرتا یا زلزلہ یا برق یا کسی اور آسمانی بلا سے ہلاک کرتا اس کے دنیاوی عذاب صدہا قسم کے ہیں اس کی امان فرماتا ہے۔ ذلک بانہم شاقوا اللہ الخ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے گردن کشی کی اور جو ایسا کرتا ہے تو اللہ اس کو سخت سزا دیتا ہے۔ بعض مسلمانوں کو اپنی بہادری کا خیال پیدا ہوگا کہ نبی نضیر کو جو بڑے بہادر لوگ تھے ہم نے یوں نکال دیے۔ اس لیے فرماتا ہے ماقطعتم من لینۃ اوترکتموھا قائمہ علی اصولھا الخ کہ تم نے جو کوئی لینہ (عمدہ کھجور) کاٹی یا ویسی ہی قائم چھوڑی سو یہ سب خدا کے حکم کے مقتضٰی تھا تاکہ بدکاروں کو سزا دے وہ دیکھیں اور حسرت کریں تم اپنی بہادری اور جواں مردی کا نتیجہ نہ سمجھنا۔ اور ممکن ہے کہ کفار نے درختوں کے کاٹنے پر طعن کیا ہو کہ یہ فساد فی الارض ہے جس کو تم خود منع کرتے ہو اور صحابہ ؓ کے دل میں اس کا کوئی اثر پیدا ہوا ہو، اس کے جواب میں یہ جملہ ہے کہ جو کچھ تم نے کیا حکم الٰہی سے کیا۔ اللہ کو بدکاروں کا رسوا کرنا منظور تھا۔ (بخاری کی کتاب التفسیر سے یہی متبادر ہوتا ہے) ۔
Ayah 59:5

مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّیْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَآئِمَةً عَلٰۤى اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیُخْزِیَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 59:5 in the Quran reader

مسلمانو تم نے جو کھجور کا پیڑ کاٹ ڈالا یا اس کو اس کی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا۔ یہ سب اللہ کے حکم سے ہوا اور تاکہ بدکاروں کو رسوا کرے۔

فائدہ : پیغمبر خدا ﷺ نے جہاد کے موقعوں پر منع کردیا ہے کہ میوہ اور سبز درخت نہ کاٹو نہ کھیتی اجاڑ و کارآمد جانوروں کو نہ مارو۔ مگر ضرورت کے موقع پر ایسا کرنا جائز ہے۔ ممانعت تو اس لیے ہے کہ ان کارآمد چیزوں کو برباد کرنا فساد فی الارض اور اپنی قسمت میں آنے والی چیز کو مفت برباد کرنا ہے اور اجازت کسی خاص موقع پر اس لیے ہے کہ مخالفین کو صدمہ پہنچے یا وہ اسباب معیشت کے منقطع ہونے سے صلح پر یا اطاعت پر آمادہ ہوں جیسا کہ بنی نضیر کے نخلستان میں ہوا۔
Ayahs 59:6–10

وَ مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ فَمَاۤ اَوْجَفْتُمْ عَلَیْهِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِكَابٍ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ یُسَلِّطُ رُسُلَهٗ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 59:6 in the Quran reader

اور جو کچھ اللہ نے ان سے لے کر اپنے رسول کو عطا کیا تو اس پر تم نے نہ تو گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ اونٹ لیکن اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے غالب کردیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

مَاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى فَلِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ١ۗ وَ مَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِۘ Open ayah 59:7 in the Quran reader

جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو بستیوں والوں سے لے کردیا ہے سو وہ اللہ اور رسول اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے تاکہ وہ تمہارے دولت مندوں میں نہ پھرتا رہے۔ اور جو کچھ تم کو رسول دے اس کو لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو۔ اور اللہ سے ڈرو کیونکہ اللہ کی سخت سزا ہے۔

لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ Open ayah 59:8 in the Quran reader

(وہ مال) مفلسوں وطن چھوڑنے والوں کے لیے بھی ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے وہ اللہ کے فضل اور رضامندی کے طالب رہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے رہتے ہیں یہی راستباز بھی ہیں

وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَیْهِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّاۤ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ١۫ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 59:9 in the Quran reader

اور (وہ مال) ان کے لیے بھی ہے کہ جنہوں نے ان سے پہلے (مدینہ میں) گھر اور ایمان حاصل کر رکھا ہے جو کوئی ان کے پاس وطن چھوڑ کر آتا ہے اس سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ اوروں کو دیا جاتا ہے اس سے اپنے دلوں میں کچھ خلش نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم سمجھتے ہیں ان کو احتیاج بھی کیوں نہ ہو اور جس نے اپنی جان کو لالچ سے بچایا وہی کامیاب ہوا۔

وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 59:10 in the Quran reader

اور ان کے لیے بھی جو مہاجرین اولین کے بعد آئے (اور) دعا مانگا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں ایمانداروں کی طرف سے کینہ (دشمنی) قائم نہ ہونے پائے تو غصہ کا دھیما اور مہربانی کرنے والا ہے۔

فے اور غنیمت کے معنی : تفسیر : اس کے بعد بنی نضیر کے مال و اسباب کی بابت فرماتا ہے جو مسلمانوں کے ہاتھ آیا اور جس کو وہ نہ لے جاسکے۔ فقال وما افاء اللہ علی رسولہ منہم فما ادجفتم علیہ من خیل دلارکاب الخ۔ مبرد کہتے ہیں فاء یفیٔ کے معنی ہیں رجوع کے اور افاء اللہ جب کہتے ہیں کہ جب اللہ بھیجے۔ ازہری کہتے ہیں فیٔ اس مال کو کہتے ہیں جو بغیر جنگ مخالفوں سے حاصل ہو خواہ اس طور سے کہ کفار چھوڑ کر چلے جائیں یا جزیے کے طور ادا کریں یا رعب میں آ کر جان بچانے کے لیے کچھ رقم یا چیزیں دیں ‘ یہ سب فیٔ ہے۔ اس کو لغوی معنی کے لحاظ سے فی اس لیے کہتے ہیں کہ کفار سے اللہ نے مسلمانوں کے پاس بھیجا ہے۔ برخلاف غنیمت کے کہ جنگ و جدل ‘ محنت و مشقت سے جو مال کفار سے ہاتھ لگے اس کو غنیمت کہتے ہیں۔ انفال کہ جس کا شروع سورة انفال میں ذکر ہے اس کے دو معنی ہیں۔ کبھی تو وہ غنیمت کے معنوں میں مستعمل ہوتا ہے کس لیے کہ نفل کے معنی لغت میں زیادت کے ہیں اور فرض کے علاوہ نماز کو اس لیے نفل کہتے ہیں کہ وہ زائد علی الفرض ہے اور غنیمت بھی جہاد کے اصل مقصود اعلائِ کلمۃ اللہ سے ایک زائد بات ہے اس لیے اس کو انفال کہتے ہیں۔ اور کبھی سردار لشکر کے اس انعام کو بھی کہتے ہیں جو وہ کسی خاص مردانہ کام کے مقابلے میں معین کرتا ہے۔ انفال کی تقسیم کا حکم اللہ اور رسول کے سپرد ہونا بیان کر کے پھر اس کی تقسیم بھی ذکر کردی گئی۔ دیکھو سورة انفال۔ فیٔ اور غنیمت میں فرق ہے اس لیے سب سے اول اس فرق کو قائم کرتا ہے فقال فما اوجفتم الخ کہ تم نے اس پر نہ گھوڑے دوڑائے نہ اونٹنی یعنی تمہاری محنت و مشقت اس میں کچھ نہیں اللہ اپنے رسول کو جس پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ اس طرح یہ تقسیم نہ ہوگی جیسا کہ غنیمت ہوتی ہے۔ صحابہ ؓ کو شاید تقسیم کا خیال پیدا ہوا ہوگا۔ اس کافیٔ میں بقول مؤرخین بنی نضیر سے پچاس زرہیں، پچاس خود، تین سو پینتالیس اونٹ اور دیگر اسباب حاصل ہوا جس کا اختیار نبی ﷺ کو تھا جس کو جس قدر مناسب جانا عطا کیا۔ پچھلی آیت میں فیٔ کے صرف کا مسئلہ بھی آتا ہے۔ وجف، یجف، جفاو جیفا، جلد چلنا، دوڑانا اونٹ اور گھوڑے کا۔ خیل گھوڑے۔ رکاب اونٹ ان لفظوں میں سے مفرد صیغہ نہیں۔ ہاں دوسرے لفظ سے ہے راحلہ۔ گھوڑے کے سوار کو فارس اونٹ کے سوار کو راکب کہتے ہیں۔ فائدہ : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ بنی نضیر کے مال کو فیٔ کہنا اور یہ فرمانا کہ اس پر تمہارے گھوڑے اونٹ نہیں دوڑے صحیح نہیں کس لیے کہ بنی نضیر کا کئی روز تک محاصرہ رہا لوگ مرے کھپے بھی اخیر جلاوطنی پر وہ راضی ہوگئے تھے اس کو غنیمت کہنا چاہیے۔ جواب : یہ بنی نضیر مدینے سے صرف دو میل کے فاصلے پر تھے ان کے لیے کچھ زیادہ سامان سفر اور تیاری کی ضرورت نہ ہوئی۔ پاپیادہ جا کر محاصرہ کرلیا گیا۔ صرف نبی ﷺ اونٹ پر سوار تھے۔ یعنی جس طرح جنگوں میں محنتیں اور تکلیفیں اٹھا کر فتح ہوتی ہے اس میں اس قدر تکالیف اٹھانی نہ پڑیں گویا کہ مفت ہاتھ آگیا اس لیے اس کو فیٔ کہا گیا۔ بعض علماء یہ جواب دیتے ہیں کہ ان آیات میں فدک کی طرف اشارہ ہے البتہ وہ جائیداد بےمحنت حاصل ہوئی تھی جس میں سے آنحضرت ﷺ اپنے اقارب اور مہمانوں کے لیے خرچ کیا کرتے تھے اور سامان جنگ گھوڑے ہتھیار وغیرہ میں بھی صرف کرتے تھے۔ فے کے مصارف : اس کے بعد فیٔ کے مصارف بیان فرماتا ہے۔ فقال ما افاء اللہ علی رسولہ من اھل القر ای کہ جو کچھ گاؤں والوں سے پہنچایا۔ گاؤں والے یعنی کفار سے جو گاؤں اور بستیوں کے لوگ تھے ان سے بشوکت اسلامی وصول ہوا۔ ابن عباس ؓ کہتے ہیں گاؤں والوں سے مراد قریظہ و نضیر و فدک و خیبر ہیں (معالم) فللّٰہ وللرسول ولذی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین و ابن السبیل تو وہ اللہ اور رسول اور قرابت داروں اور یتیموں اور فقیروں اور مسافروں کے لیے ہے یعنی مال اللہ کا ہے یعنی اس میں لشکر کا کوئی حق نہیں وہ رسول کے پاس رہے۔ رسول اس کو اپنے ذاتی مصارف میں بھی بقدر ضرورت صرف کرے اور اپنے قرابت داروں کو بھی دے بوجہ قرابت صلہ رحمی کرے اور جو قرابت دار محتاج ہوں بدرجہ اولیٰ صلہ رحمی کے مستحق ہوں اور یتیموں کو بھی دے۔ عام ہے کہ رسول کے خاندان کے یتیم ہوں یا اور فقراء کو بھی دے کوئی ہو اور حاجت مند مسافروں کو بھی دے۔ اور محتاج نہ ہوں یوں مہمان آئے ہوں رسول کے پاس جیسا کہ قوموں کے وکیل اور جماعتیں آیا کرتی تھیں۔ یہ شاہی مہمان ہیں ان کا خرچ بھی اسی شاہی خزانے پر ہے۔ آیت میں چھ شخص ذکر ہوئے اول اللہ جل جلالہ۔ یوں تو سب کچھ اسی کا ہے مگر یہاں اللہ کا مال کہنے سے یہ غرض ہے کہ یہ اللہ نے مخصوص حاجتوں کے لیے اپنا خزانہ بنا کر رکھا ہے اس تقدیر پر یہ کہنا کہ لفظ اللہ تبرکاً مذکور ہے بےفائدہ بات ہے۔ دوم رسول، سوم قرابت دار، چہارم یتیم، پنجم مساکین، ششم مسافر۔ آیت میں یہ قید نہیں کہ قرابت دار کس کے ؟ بظاہر رسول اللہ ﷺ کے قرابت دار اور آنحضرت ﷺ کے بعد جو آپ کا جانشین ہو اس کو بھی اپنے اقارب کے ساتھ حسن سلوک کرنا انسانی خاصہ ہے جس کا باربقدر ضرورت شاہی خزانے پر ہونا عین انصاف ہے اور یتیم و مسکین و ابن السبیل قومی ذوحاجت لوگ ہیں۔ خصوصاً شاہی مہمان جو سلطنت سے علاقہ رکھتے ہوں یا ان کی مہمانداری شان سلطنت اور اس کے فوائدِ آیندہ پیدا کرنے میں موثر ہو یہ بھی اسی شاہی خزانے سے ہونی چاہیے۔ آیت میں یہ بھی ذکر نہیں کہ ان چھٹوں کے حصے مساوی ہیں یا کم زیادہ کیونکہ ان چھٹوں کی طرف تقسیم نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً حسب ضرورت ان اشخاص کو دینا مراد ہے جس کی قبل از وقت کوئی تعداد معین ہو نہیں سکتی اور آیت میں یہ چند ذوحاجت اس لیے مذکور ہیں کہ ان کی طرف زیادہ تر توجہ مبذول ہوتی ہے یہ اس کے منافی نہیں کہ اور کسی حاجتمند کو یا اور کسی کام میں جو قومی اور سلطنت کے مفید ہو صرف نہ کیا جائے۔ الحاصل فیٔ شاہی خزانے میں داخل ہو کر اشخاص مذکورہ بالا کے لیے ہے۔ کی لا یکون دولۃ بین الاغنیاء منکم۔ مبرد کہتے ہیں دولۃ بالضم وہ چیز جو لوگوں کے ہاتھوں میں آئے جائے کبھی اس پاس کبھی اس پاس اور دولۃ بالفتح خوش حالی ہو ایک قسوقوم سے منتقل ہو کر دوسرے پر آئے پس بالضم اسم ہے اس کا جس کا تداول کریں، روپیہ پیسہ کپڑا زیور وغیرہ اور بالفتح اس کا مصدر (کبیر) کہ یہ اس لیے مقرر کیا تاکہ وہ فیٔ تمہارے اغنیاء کے ہاتھوں میں نہ پڑے بلکہ اس کے مستحقین ہی کے پاس رہے۔ اے اغنیائ ! تم اس کی حرص نہ کرو بلکہ ما اتٰکم الرسول فخذوہ جو تم کو غنیمت یا اور کسی چیز میں سے رسول دے یا حکم کرے اس کو لو۔ وما نھکم عنہ فانتھوا اور جس سے منع کرے جیسا کہ اس فیٔ سے یا اور بری باتوں سے تو اس سے باز آئو۔ واتقوا اللہ الخ اللہ سے ڈرو، نافرمانی نہ کرو اس کی سزا سخت ہے۔ یہ جملہ معترضہ تھا کی لایکون سے لے کر یہاں تک۔ اس کے بعد مہاجرین و انصاف کے فقرا اور حاجتمندوں کو ان کے محامد اور اسلامی سرگرمیاں اور سچی جانفشانیاں ذکر فرما کر مستحق ٹھہراتا ہے اور تعمیم کے بعد تخصیص کرتا ہے کہ اور فقیروں سے یہ زیادہ تر مستحق ہیں۔ فقال للفقراء المہاجرین الخ کہ یہ ان فقراء مہاجرین کو ملنی چاہیے کہ جو اللہ کے لیے اپنا گھر ‘ بار مال و اسباب چھوڑ کر ہجرت کر کے نبی (علیہ السلام) کے پاس آئے ہیں۔ جب عرب میں اسلام کا چرچا ہوا اس آفتاب کی کرنیں اسی سرزمین پر پڑیں تو مکہ اور دیگر جگہوں کے لوگ مسلمان ہونے شروع ہوئے مگر جہاں کوئی مسلمان ہوا اس پر اس کی قوم کی طرف سے مصیبتیں آئیں، مار دھاڑ شروع ہوئی اس لیے گھربار چھوڑ کر مدینے میں آنحضرت ﷺ کے پاس چلے آتے تھے۔ اب ان کے پاس بجز صبروفاقے کے اور تھا کیا ؟ ان کو مہاجرین کہتے تھے، اس لیے ان پر ترحم دلاتا ہے کہ ان کو بھی دو ۔ ان کی فکر بھی آنحضرت ﷺ کو رہتی تھی۔ فرماتا ہے کہ یہ لوگ صرف یہی بات نہیں کہ ہجرت کر کے چلے آئے ہیں بلکہ ینصرون اللہ و رسولہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں۔ اسلام کا لشکر جرار جس نے بڑے بڑے گردن کشوں کو سیدھا کردیا انہیں لوگوں کا تھا۔ اولئک ھم الصاوقون یہ سچے لوگ ہیں۔ یہاں تک مہاجرین کے محامد تھے۔ (1) یہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضامندی حاصل کرنے کو اپنے گھروں سے اور مالوں سے جدا کئے گئے اور نکالے گئے ہیں۔ (2) وہ اللہ اور رسول کے مددگار ہیں۔ (3) وہ صادقین ہیں۔ حضرت ابوبکر و عمر و عثمان و علیٰ ؓ بھی مہاجر تھے اور جو جو دین کی حمایت میں انہوں نے کوششیں کی ہیں اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ اور یہ فقراء بھی ہوگئے تھے۔ پھر وہ کون سی روایت اور کون مؤرخ ہے جو جھوٹے افسانے گھڑ کر ان کو بدنام کرے اور یہ کہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد انہوں نے وہ برے کام کئے جو پیغمبر (علیہ السلام) کا سخت دشمن بھی نہ کرسکتا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرہ ؓ کے لات ماری اور اہل بیت پر ظلم کئے۔ معاذاللہ صادقین سے یہ کبھی ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔ اولئک کا لفظ کہہ رہا ہے کہ یہی سچے تھے اور ان پر جو الزام لگائے وہ جھوٹا ہے۔ اس کے بعد فقرائِ انصار کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ فقال والذین تبوء الذین تبوء الدار والایمان من قبلہم کہ ان فقیروں کو بھی دو کہ جنہوں نے دار یعنی دارالہجرت مدینہ کو اور ایمان کو گھر بنایا پہلے سے۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے تشریف لانے سے پہلے مدینے میں رہتے تھے اور ایمان لے آئے تھے۔ آنحضرت ﷺ ہنوز مکہ میں تشریف رکھتے تھے کہ عرب میں آپ کی نبوت کا شہرہ ہوا۔ ایام حج میں چند اہل مدینہ آ کر آنحضرت ﷺ سے ملے اور اسلام لائے اور جا کر مدینے میں لوگوں کو ترغیب دی وہ بھی ایمان لے آئے۔ جب کفار قریش نے مسلمانوں کو زیادہ ستانا شروع کیا تو خود آنحضرت ﷺ و ابوبکر صدیق ؓ مدینے تشریف لے گئے جو اہل مدینہ کی دلی تمنا تھی اور رفتہ رفتہ اور لوگ بھی جانے شروع ہوئے۔ ان اہل مدینہ نے آنحضرت ﷺ و دیگر مہاجرین کی خاطر و مدارات میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا جیسا کہ بعد کی آیت میں ذکر آتا ہے۔ من قبلہم یعنی مہاجرین کی ہجرت سے پہلے مدینے کو جگہ بنایا اور ایمان کو دل میں جگہ دی یا ان کے گھر بنانے سے پہلے گھر بنایا۔ یحبون من ھاجرا الیہم جو ان کے پاس ہجرت کر کے آیا اس کو دوست رکھتے ہیں۔ محبت کا یہ حال تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ہر ایک مہاجر کا ہر ایک انصار سے بھائی چارہ کرا دیا تھا یہاں تک کہ آیت میراث نازل ہونے سے پہلے ایک دوسرے کا وارث ہوتا تھا اور کو مرنے کے بعد ورثہ نہیں ملتا تھا اور ہر ایک دوسرے کی جان و مال پر اپنا مال اور جان فدا کرتا تھا جس کی مفصل کیفیت کتب سیر میں موجود ہے۔ ولایجدون فی صدورھم حاجۃً مما اوتوا حسن بصری (رح) کہتے ہیں حاجۃ کہ معنی یہاں حرارت و حسد و غیظ کے ہیں کہ مہاجرین کو جو دیا جاتا ہے اس سے ان کے دل میں کوئی رنج نہیں ہوتا بلکہ خوش ہوتے ہیں۔ بخاری (رح) نے ابی ہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ انصار نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ نبی نضیر کے باغ ہم میں اور ہمارے مہاجرین بھائیوں میں تقسیم کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا نہیں تم کام میں شریک رہو تم کو پھل دیں گے۔ انصار نے کہا ہم راضی ہیں بسروچشم منظور۔ اس سے بڑھ کر ان میں یہ صفت ہے ویؤثرون علیٰ انفسہم ولوکان بہم خصاصۃ کہ وہ باوجود حاجت فقروفاقے کے مہاجرین کو اپنے اوپر مقدم رکھتے ہیں۔ اپنی حاجت کے کام میں نہیں لاتے، مہاجرین کو دیتے ہیں۔ یہ ایثار بڑی اولوالعزمی کی بات ہے ہر ایک کو نصیب نہیں۔ آپ بھوکا رہے اپنے بھائی کو کھلائے۔ خصاصۃ حاجت فقرائ۔ اس ایثار کا کیا ٹھکانا ہے کہ انصار نے مہاجرین کو اپنے گھر اور مال بانٹ دیے تھے جس کے پاس ایک مکان یا باغ تھا تو آدھا اپنے مہاجر بھائی کو دے دیا تھا، دو کپڑے تھے تو ایک مہاجر کو اسی طرح سب چیزوں میں کیا تھا۔ بخاری (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا۔ آپ نے اس کو مہمان بنایا گھر میں کسی کو بھیجا کہ کسی کے پاس کھانے کو کچھ ہے ؟ بیویوں نے عرض کیا بجز پانی کے ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں۔ پھر آپ نے لوگوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ کون ہے جو اس کو مہمان بنائے ؟ ایک انصاری نے (غالباً ابوطلحہ ؓ تھے) کہا میں یارسول اللہ۔ پھر اس کو وہ اپنے گھر لے گئے اور بیوی سے کہا، رسول اللہ ﷺ کے مہمان کی خاطر کرو۔ اس نے کہا لڑکوں کو کھانے کے سوا ہمارے ہاں اور کوئی چیز نہیں۔ اس نے کہا کھانا تیار کر، چراغ جلا لڑکوں کو سلا دے جب کہ وہ کھانا مانگیں۔ پھر اس نے کھانا تیار کیا چراغ جلایا، لڑکوں کو سلا دیا۔ پھر بتی اکسانے کے بہانے سے اٹھی اور چراغ گل کردیا تاکہ اندھیرے میں مہمان کو یہی معلوم ہو کہ میرے ساتھ کھانا کھا رہے ہیں مگر آپ نے نہ کھایا، مہمان نے کھایا۔ آپ بھوکے سو رہے۔ صبح کو آنحضرت ﷺ کے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا تمہاری رات کی بات سے خدا تعالیٰ نہایت خوش ہوا۔ تب یہ آیت نازل فرمائی۔ ویؤثرون علیٰ انفسہم ولوکان بھم خصاصۃ۔ اسی طرح اور مواقع پر انصاری نے ایسی ہمدردی اختیار کی ہے جس کا نظیر اور قوموں یا کسی اور نبی کے پیروئوں میں پایا نہیں جاتا۔ اس لیے اس کے بعد فرماتا ہے ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون یعنی انصار کو لالچ نہ تھا اس سے خدا نے ان کو بچا لیا تھا اور جن کو خدا لالچ سے دور رکھے وہ کامیاب ہے۔ شح بالضم والکسر۔ شح اور بخل میں علماء نے فرق کیا ہے۔ بخل صرف منع کرنا نہ دینا اور شح وہ نفسانی حالت ہے جس سے یہ بات پیدا ہوتی ہے۔ شح صفات ذمیمہ میں سے ہے جس کا ترجمہ لالچ ہے اس لیے اس سے بچنے کو کامیابی فرمایا۔ دنیا و دین کی صدہا محرومیاں اسی شح سے پیدا ہوتی ہیں۔ لوگوں کی آنکھوں میں یہ انسان کو حقیر کردیتا ہے۔ ہمدردی اور سعادت کے کاموں میں حصہ نہیں لینے دیتا۔ لالچی اور بخیل کو ہم نے اپنے گھر میں بھی اس کے متعلقین کے نزدیک عزت پاتے نہیں دیکھا۔ ایسے آدمی کو لئیم کہتے ہیں جس کا مال اس کے بعد فضول خرچی میں صرف ہوتا ہے۔ دنیا میں جس قدر اولوالعزم لوگ آئے ہیں ان میں سے کسی میں بھی یہ ناپاک خصلت نہ تھی۔ تمام عمر خون جگر کھایا، دولت سے متمتع نہ ہوا، نہ نفس کو آرام دیا نہ کار خیر میں حصہ لیا، مرگیا چھوڑ گیا، حسرت لے گیا۔ یہی انسان کو چوری، خیانت، قتل، ظلم، جھوٹ بولنے، کم تولنے پر مجبور کرتا ہے، بہادرانہ کاموں سے روکتا ہے۔ اس لیے خدا تعالیٰ اپنی مخلوق کو اس سے نفرت دلاتا ہے اس کے نام لینے کو بھی لوگ معیوب سمجھتے ہیں۔ مرنے کے بعد برائی سے یاد کرتے ہیں۔ پھر جس کو خدا نے اس ناپاک خصلت سے بچا لیا اس کے کامیاب ہونے میں کیا شک ہے۔ انصار و مہاجرین جو اسلامیوں کی دواعلیٰ اور بزرگ ترین جماعت ہیں ان کے محامد بیان فرما کر تیسرے گروہ کی مدح کرتا ہے جس میں تابعین اور ان کے بعد کے آنے والے نیک اور بزرگ لوگ ہیں۔ فقال والذین جاؤ من بعدھم یہ بھی مہاجرین پر عطف ہے۔ یعنی جو ان کے بعد ہجرت کر کے آئے یا اسلام میں ان کے بعد آئے، قیامت تک جو کوئی ہو ان کے اندر یہ خوبی ہے یقولون ربنا اغفرلنا ولاخواننا الذین سبقونا بالایمان۔ وہ اپنے لیے بخشش مانگتے ہیں کہ الٰہی ہم کو بخش دے اور اس کے بعد اپنے متقدمین بھائیوں کے لیے بھی بخشش مانگتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے ! ان بھائیوں کو بھی بخش دے جو ہم سے پہلے ایماندار گزرے ہیں۔ ولاتجعل فی قلوبنا غل اللذین آمنوا اور ایمانداروں کی طرف سے ہمارے دل میں رنج اور عداوت نہ پیدا کر۔ ربنا انک رئوف الرحیم۔ اے ہمارے رب ! تو نرمی کرنے والا اور رحمت کرنے والا ہے جس میں یہ خاصیت نہیں وہ اس تیسرے گروہ میں داخل نہیں۔ ابن ابی لیلی فرماتے ہیں لوگوں کے تین درجے ہیں، مہاجرین، انصار اور وہ جو ان کے بعد آئے اور ان سے محبت رکھتے ہیں، ان کے لیے استغفار کرتے ہیں، دعائے خیر میں شریک کرتے ہیں، ان کے رستے پر چلتے ہیں۔ پس تو کوشش کر کہ ان تینوں سے خارج نہ ہونے پائے۔ مہاجرین و انصار تو گزر گئے ان میں داخل ہونا تو ممکن نہیں خیر یہ نہیں تو تیسرے فریق میں تو شامل رہے کہ ان کو بھلا سمجھے، دل سے ان کی محبت رکھے، ان کی مساعی جمیلہ کی قدردانی کرے نہ یہ کہ ان پر جھوٹے سچے الزامات قائم کر کے تبرا کرنے کو ایمان وسعادت جانے۔ یہود سے اگر پوچھا جاتا ہے تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اصحاب کو اچھا کہتے ہیں اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو اچھا جانتے ہیں۔ مگر افسوس شیعہ حضرات محمد ﷺ کے اصحاب مہاجرین و انصار کو باستثنائے چند اشخاص سب کو برا کہتے ہیں بلکہ برا کہنے کو حسنات و برکات کا موجب سمجھتے ہیں۔ دنیا میں اس خصلت کا یہ اثر ہے کہ کبھی ان کا جھنڈا کھڑا ہونے نہیں پاتا نہ مقابلے میں پائوں جمتا ہے۔ اہل حق کے مقابلے میں مقہور ہی رہے اور ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہ بات کیا ہے ؟ جس سے وہ ان بزرگوں سے پھرگئے۔ اس آیت کے ذیل میں اس کا بیان محققانہ طور پر مناسب ہے۔ بنی نضیر اور فدک اور خیبر کی کچھ زمین آنحضرت ﷺ کے لیے معین ہوئی تھی جس میں سے آپ نے کسی کو مہمانوں اور سامان حرب کے لیے اور کسی کو خرچ ازواج مطہرات کے لئے، کسی کو اقارب و یتامٰی و مساکین کے لیے معین کر رکھا تھا، چناچہ فدک کی آمدنی سے آپ ﷺ قرابت داروں کے ساتھ سلوک کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے بعد جب جانشین کی ضرورت سمجھی گئی تو انہیں مہاجرین و انصار نے جن کی مدح آیات مذکور ہیں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو انتخاب کیا۔ اس وجہ ترجیح کو وہی لوگ خوب جانتے تھے جو ایک مجموعی اوصاف سے ان کے دلوں میں جاگزین تھی جس لیے ان بزرگوں کے نزدیک یہی حضرت اس مسند پر بیٹھنے کے مستحق ٹھہرے۔ ہاں کوئی رعایت یا ابویکر ؓ کا ذاتی دباؤ تو قطعاً نہ تھا کس لیے کہ نہ ان کی قوم زیادہ تھی نہ ان کے پاس کوئی لشکر و خزانہ تھا اور ایسے مہاجرین و انصار ایسے بیجا دباؤ کو ماننے والے بھی کب تھے، فوراً مخالفت ظاہر کرتے اور سیوف کے قبضوں پر ہاتھ دھر لیتے۔ شیعہ کہتے ہیں یہی بات بری کی کس لیے کہ نبی ﷺ کے بعد جانشینی کا استحقاق حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو تھا اور امامت لوگوں کے انتخاب پر موقوف تھی بلکہ آسمانی عہدہ ہے، نبوت کے عہدے کے برابر یا کسی قدر کم مگر مشابہ۔ حضرت علی ؓ کے لیے آسمانی سند موجود تھی۔ مگر افسوس حضرت علی ؓ نے اس آسمانی سند کو قبول نہیں کیا اور نہ وہ مہاجرین و انصار کو معلوم ہوئی کس لیے کہ اگر معلوم ہوتی تو ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا کہ وہ باوجود اس آسمانی سند کے اور باوجودیکہ حضرت علی ؓ پیغمبر خدا ﷺ کے بھائی اور داماد اور مہاجرین میں ذی مرتبہ شخص تھے ان سے عداوت اور بغض رکھتے جو رحماء بینہم اور مہاجرین و انصار کی اسلامی سیرت کے برخلاف تھا اور ابوبکر ؓ کو مقام کردیتے۔ اور ابوبکر ؓ یا عمر ؓ سے ڈر جاتے حالانکہ کوئی ڈرانے کا سامان ان کو میسر نہ تھا۔ اس پر وہ سب مہاجرین و انصار کو جو اس جانشینی میں شریک تھے برابھلا کہتے ہیں۔ یہ پہلا خلاف تھا مگر تعجب ہے کہ حضرت علی ؓ نے بھی ان کی جانشینی تسلیم کی اور ان کے ساتھ بخوشی و خرمی کاروبار میں شریک رہے۔ شیعہ کہتے ہیں دل میں ناراض تھے، ظاہرداری کرتے تھے، اس کو تقیہ کہتے ہیں۔ مگر ایسے بزرگ کی نسبت یہ ظاہرداری ظاہر کچھ اور باطن کچھ منسوب کرنا ان کی شان حیدری کو گھٹانا ہے۔ حضرت علی ؓ نے معاویہ ؓ کے مقابلے میں حضرت حسین ؓ نے یزید کے مقابلے میں تقیہ نہ کیا۔ توبہ توبہ برگزیدہ ہاشم کبھی کسی سے دبنے والے تھے جو زبان سے جھوٹی باتیں بناتے اور دل میں کچھ اور رکھتے ؟ حضرت صدیق اکبر ؓ کی خلافت میں ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں حضرت فاطمہ زہرا ؓ مدعیہ تھیں اور خلاف مدعٰی علیہ۔ دعویٰ یہ تھا کہ پیغمبر خدا ﷺ کی جائیداد میں سے بموجب فرائض مجھے حصہ ملنا چاہیے۔ دعویٰ بہت درست تھا مگر خلافت کی طرف سے یہ جواب ملا کہ آنحضرت ﷺ اپنی حیات میں اس جائیداد کو وقف کرچکے تھے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی یہ شان نہ تھی کہ وہ جائیداد یا روپیہ پیسہ چھوڑ کر دنیا سے رحلت کریں۔ اس پر شہادت گزر گئی، دعویٰ نہ چلا مگر جس قدر جائیداد آنحضرت ﷺ نے اقارب کے مصارف میں لگا دی تھی خلافت نے اقارب کے خرچ و اخراجات بلحاظ قرابت پیغمبر (علیہ السلام) بدستور جاری رکھے۔ یعنی منافع جاری رہے تملیک عین نہ تھی بلکہ وہ سب خلافت کا مال تصور ہوا۔ اس پر حضرت فاطمہ زہرا ؓ کو اگر رنجیدگی ہوئی ہو تو انسانی جبلت اور برادرانہ رنجش خیال ہوسکتی ہے۔ یہ دوسرا خلاف ہے۔ اس پر شیعہ کے مؤرخین نے جس قدر مبالغہ آمیز روایات تیار کی ہیں تو تعجب نہیں کس لیے کہ منشاء موجود تھا اور ایسے مواقع پر مبالغہ کرنے والوں کو برا موقع ہاتھ آتا ہے۔ میں ان ناپاک روایات کا ذکر بھی اہل بیت کی اہانت سمجھتا ہوں مگر یہ سمجھنا چاہیے کہ فاطمہ ؓ کس باپ کی بیٹی ہیں اور کس رتبے کی ہیں وہ ایسے قلیل دنیاوی معاملات پر اس قدر رنج و بغض اپنے باپ کے جانشین سے رکھیں، حیطہ امکان سے باہر ہے۔ حاشا و کلاثم حاشا وکلا۔ مگر حضرت علی ؓ نے اپنے عہدخلافت میں بھی اس جائیداد کو خلافت کا مال سمجھا، آنحضرت ﷺ کے ورثہ میں تقسیم نہ کیا۔ اس کے بعد حضرت عمر ؓ کو اسی انتخاب سے خلیفہ کیا۔ ان کے بعد حضرت عثمان ؓ کو یہ بھی شیعہ کے نزدیک رنجش کا باعث ہوا۔ یہ تیسرا خلاف تھا۔ اس کے بعد حضرت علی ؓ کو خلیفہ کیا۔ حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد مگر معاویہ ؓ حضرت عثمان ؓ کے عہد سے شام کے حاکم یا گورنر تھے اور اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ اور ان کے احباب سلطنت کی باریکیاں خوب سمجھتے تھے اور دنیاداری کی تدابیر پر پورے قابو یافتہ تھے۔ لوگوں نے حضرت علی ؓ سے کہا، اول معاویہ سے بیعت لے لیجئے، پھر چاہے ان کو معزول کیجئے اور عثمان ؓ کے قاتلوں سے بھی اول داروگیر کیجئے مگر شیر خدا ؓ نے جانے کس مصلحت سے مہاجرین و انصار کے اس مشورے سے پر عمل نہ کیا ؟ معاویہ ؓ نے بغاوت اختیار کی اور کہہ دیا میں تم کو خلیفہ ہی نہیں سمجھتا، تم سے اب تک قاتلان عثمان ؓ کا بھی پتا نہ چل سکا۔ اس بنا پر طرفین میں رنجش آمیز خط و کتابت بھی جاری رہی۔ ادھر لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ اور طلحہ و زبیر وغیرہ ؓ کو تحریک دلائی کہ قاتلان عثمان علی ؓ کے لشکر میں پناہ گزین ہیں اور اس وقت حضرت علی ؓ اطراف کوفہ میں ہیں۔ ام المومنین ؓ حضرت علی ؓ کے پاس چلیں اور صدہا لوگ شریک ہوتے گئے۔ ایک لشکر مہیا ہوگیا۔ جب یہ لشکر حضرت علی ؓ کے لشکر کے قریب پہنچا اور باہم قاتلان عثمان کی بابت گفتگو شروع ہوئی۔ ایک رات چند بدمعاشوں نے حضرت ام المومنین ؓ کے لشکر پر تیر مارنے شروع کردیے۔ پھر تو ادھر سے بھی تیاری ہو کر دونوں لشکروں میں خاطر خواہ جنگ ہوئی۔ حضرت عائشہ ؓ کے لشکر کو شکست ہوئی۔ یہاں تک کہ جنگ آور اس اونٹ تک پہنچ گئے تھے کہ جس کے اوپر ہودے پر ام المومنین ؓ سوار تھیں۔ اس لیے اس مصیبت ناک واقعہ کو جنگ جمل کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ ؓ کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچا دیا گیا اور طرفین سے بڑے بڑے اسلام کے نام آور اور بہادر شہید ہوگئے۔ اس کے بعد حضرت علی ؓ کی معاویہ ؓ کے لشکر سے لڑائیاں شروع ہوئیں۔ صفین کا میدان مسلمانوں کے گراں بہا خونوں سے لالہ زار ہوگیا۔ ایسے مواقع پر برادرانہ رنجشیں ایک معمولی بات ہے اور طرفین کے غالیوں کے لیے افراط وتفریط اور بیشمار روایات بنانے کا عمدہ محل ہے۔ اس کے بعد حضرت علی ؓ شہید ہوئے۔ ابن ملجم ملعون نے (جو گھات میں تھا) مسجد کوفہ میں زخمی کیا۔ اس کے بعد حضرت حسن ؓ مسند خلافت پر بیٹھے۔ پھر باہمی جنگ شروع ہوئی۔ آخرکار ابن رسول اللہ ﷺ نے خلافت معاویہ ؓ کے سپرد کر کے کنارہ 1 ؎ کشی کی اور باہمی معاہدہ ہو کر جنگ کا خاتمہ ہوگیا۔ اس کے بعد معاویہ ؓ کا انتقال ہوگیا اور ان کی جگہ ان کا نالائق فرزند یزید پلیدنہ انتخاب سے بلکہ ان کے باپ کی شوکت کے زور سے خلیفہ کیا گیا تھا مسند پر بیٹھا۔ اس ناخلف نے حضرت حسن ؓ کو زہر دلوا کر شہید کیا اور پھر امام حسین ؓ کو کربلا کے میدان میں شہید کیا اور مسلمانوں پر جو روظلم کئے۔ اس کے بعد یہ مرگیا اور چند روز کے لیے اس کا بیٹا جانشین ہوا مگر اب انتخاب نہ رہا، حکومت و سلطنت کی تخت نشینی رہ گئی۔ اس کے بعد مروان خلیفہ ہوا اور مروانی خاندان میں کچھ کم سو برس حکومت رہی۔ پھر اس خاندان کا استیصال بنی العباس نے کیا۔ عباسیوں کی خلافت و حکومت کا پایہ تخت بغداد تھا۔ ان باہمی لڑائیوں میں حضرت علی ؓ کی اولاد پر ظلم و ستم بھی ہوتے رہے۔ معاویہ ؓ کی لڑائی سے لے کر اخیر تک اہل سنت کے نزدیک بھی جو حضرت علی اور حسنین ؓ کے مقابلے میں ہوئیں ان میں فریق مخالف سراسر خطا پر تھا اور حق اس طرف تھا۔ شیعہ حضرت علی ؓ کی اولاد فرضی طور پر اسی سند آسمانی سے اس مسند نشینی کو بہ لقب امامت بارہویں امام مہدی، حسن عسکری کے بیٹے تک مانتے ہیں اور کسی کو خلیفہ برحق نہیں جانتے۔ پھر ان میں بھی کئی فرقے پیدا ہوگئے۔ کسی نے حضرت علی ؓ کی اولاد کو کسی نے اور کسی کو امام مانا۔ اسی طرح ایک فریق جو ابتداء میں حضرت علی ؓ کا طرفدار تھا وہ دونوں فریق سے برگشتہ ہو کر دونوں کو برا کہنے لگا۔ ان کو خوارج کہتے ہیں۔ معاویہ ؓ اور ان کے بعد والے اگرچہ خطاکار تھے مگر ان باہمی ملکی لڑائیوں سے جن کا بیشتر منشا برادری کی عصبیت و حمیت ہے ہم ان کو کافر نہیں کہہ سکتے اور نہ کفرواسلام رسول کریم ﷺ کے بعد کسی شخص خاص کے ماننے یا نہ ماننے پر منحصر ہے کفرواسلام وہی ہے جس کو خدا و رسول ﷺ نے کفرواسلام بتایا۔ ہاں باہمی فسادومعصیت ضرور ہے جس کی سخت الفاظ سے پیغمبر خدا ﷺ نے ممانعت فرمائی ہے۔ اصلی بات تو یہ ہے اس پر لوگوں نے حاشیہ چڑھا چڑھا کر کا ہ کا کوہ بنا دیا اور افراط وتفریط کو کام میں لا کر ایسے مباحث سے کتابیں بھر دیں۔ مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ یہ بڑی نامبارک لڑائیاں تھیں اسلام کی تلوار جس نے تھوڑے عرصے میں قطعہ ارض پر بےنظیر قبضہ کیا تھا اسلامیوں ہی پر الٹ پڑی۔ انا اللہ واناالیہ راجعون۔ افسوس کہ ہر فریق کے تیز طبع اور چالاک لوگوں نے ان واقعات سے کیا کیا باتیں اختراع کی ہیں بعض سنیوں نے تو بمقابلہ شیعہ حضرت صدیق اکبر ؓ کی خلافت کے لیے آسمانی سند بنانے میں کوشش کی اور روایات و احادیث بنائیں اسی طرح شیعہ نے تو سینہ بسینہ علوم و اسرار شریعت جدی گھڑنے میں کوشش کی اور روایات کا تو ڈھیر لگا دیا۔ کسی نے زبر بینات نکالے، کسی نے دعویٰ کیا کہ علی مرتضیٰ و زہرا و حسنین ؓ کی کتاب ہمارے پاس ہے جو خاص ان کو آنحضرت ﷺ نے عنایت کی تھی اس میں لکھا ہے کہ بارہ امام 1 ؎ اس ترتیب سے ہوں گے اور یہ سب معصوم تھے نبی کی طرح ان کے پاس بھی وحی آتی تھی جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد ان کے اتباع میں سے نبی گزرے ہیں۔ یہ آنحضرت ﷺ کے اتباع میں سے نبی ہیں گو نبی کے لفظ کا اطلاق نہیں کرتے مگر معنی اسی کے لیے جاتے ہیں۔ بارہ اماموں کو اہل سنت بھی مانتے ہیں یعنی ان کو بزرگ اور نیک سمجھتے ہیں جن کے عقائد و اعمال اہل سنت کے موافق تھے نہ یہ کہ وہ معصوم تھے ان پر وحی آتی تھی۔ بعض نے قرآن مجید کے آیات کی ایسی تفسیریں لکھیں کہ گویا تمام قرآن اسی باہمی جھگڑے اور علی ؓ کی خلافت اور دیگر خلفاء کی مذمت میں نازل ہوا ہے اور کوئی اہم مقصد بجز اس کے نہ تھا اور لطف یہ کہ سارے قرآن میں صاف صاف کہیں بھی ان کے مقاصد کو خدا تعالیٰ نے بیان نہیں فرما دیا کہ جھگڑا ہی طے ہوجاتا اور نہ پیغمبر (علیہ السلام) نے صحابہ ؓ کے مجمع عام میں اس بات کو طے کردیا معاذ اللہ اور اس کے رسول کو صاف صاف بیان کرنا نہیں آتا تھا کیا وہ بھی ابوبکر و عمر ؓ سے ڈرتے تھے ؟ معاذ اللہ معاذ اللہ۔ رہیں مناقب علی مرتضیٰ ؓ کی بعض سچی احادیث سو ان میں کلام ہی کیا ہے مگر ان سے وہ بات پیدا کرنی توجیہ القول بما لا یرضیٰ بہ قائلہ کا مضمون ہے اور سب سے بڑھ کر غور طلب یہ بات ہے کہ وہ خلافت جو ابوبکر و عمر ؓ نے کی اس میں دنیا کا حظ ہی کیا تھا وہ تو ایک سخت مشقت تھی جس لیے ان بزرگوں نے اپنی اولاد کو نہ دی۔ شیعہ اس کو دنیاوی سلطنت و امارت سمجھے ہوئے ہیں جس لیے اپنے پیارے علی مرتضیٰ ؓ اور ان کی اولاد پاک کے پاس بلافصل نہ آنے سے ناخوش ہیں۔ ہاں یزید کے عہد میں امارت ہوگئی تھی تو اس وقت تو ہم بھی یہی کہتے ہیں یہ نعمت دنیا جگرگوشہ رسول ﷺ کو دی جائے بشرطیکہ وہ اس کو قبول بھی کرتے۔ 1 ؎ شیعہ کے بارہ امام یہ ہیں۔ اول علی ؓ ان کے بعد حسن، ان کے بھائی حسین، ان کے بعد ان کے بیٹے علی زین العابدین، ان کے بعد ان کے بیٹے محمد باقر، ان کے بعد ان کے بیٹے جعفر صادق ان کے بعد ان کے بیٹے موسیٰ کا ظم ان کے بعد ان کے بیٹے علی رضا ان کے بعد ان کے بیٹے محمد تقی ان کے بعد ان کے بیٹے محمد نقی ان کے بعد ان کے بیٹے حسن عسکری ان کے بعد ان کے بیٹے محمد مہدی رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جو غار سرمن رائے میں چھپے بیٹھے ہیں۔ 12 منہ 1 ؎ رسول کریم ﷺ نے ان مصیبت ناک واقعات کی پہلے ہی سے نہایت درد انگیز الفاظ میں پیشین گوئی کی تھی۔ 12 منہ
Ayahs 59:11–14

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا یَقُوْلُوْنَ لِاِخْوَانِهِمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَئِنْ اُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَ لَا نُطِیْعُ فِیْكُمْ اَحَدًا اَبَدًا١ۙ وَّ اِنْ قُوْتِلْتُمْ لَنَنْصُرَنَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 59:11 in the Quran reader

کیا آپ نے منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے اہل کتاب کے کافر بھائیوں (یہود) سے کہتے ہیں کہ اگر تم نکالے گئے تو ضرور ہم بھی تمہارے ساتھ نکلیں گے اور تمہارے معاملے میں کبھی کسی کی بات نہ مانیں گے اور اگر تم سے لڑائی ہوگی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ ضرور جھوٹے ہیں

لَئِنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْ١ۚ وَ لَئِنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 59:12 in the Quran reader

اگر (کافر اہل کتاب) نکالے گئے تو یہ ان کے ساتھ نہ نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے اور جو ان کی مدد بھی کریں گے تو پیٹھ دے کر بھاگیں گے پھر کہیں سے مدد نہ پائیں گے

لَاَنْتُمْ اَشَدُّ رَهْبَةً فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 59:13 in the Quran reader

ان کے دلوں میں تو تمہارا خوف اللہ سے زیادہ ہے یہ اس لیے کہ وہ بےسمجھ لوگ ہیں

لَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًى مُّحَصَّنَةٍ اَوْ مِنْ وَّرَآءِ جُدُرٍ١ؕ بَاْسُهُمْ بَیْنَهُمْ شَدِیْدٌ١ؕ تَحْسَبُهُمْ جَمِیْعًا وَّ قُلُوْبُهُمْ شَتّٰى١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَۚ Open ayah 59:14 in the Quran reader

وہ تم سے سب مل کر بھی نہیں لڑ سکتے مگر محفوظ بستیوں میں یا دیواروں کی آڑ میں ان کی لڑائی تو آپس میں سخت ہے آپ ان کو متفق سمجھتے ہیں حالانکہ ان کے دل تو پھٹے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ بےعقل لوگ ہیں

تفسیر : ایمانداروں کے اقسام بیان فرما کر ان کے مقابلے میں بدکاروں کا حال بیان فرماتا ہے کہ وہ بدبخت بجائے ان اصول سعادت کے جو پہلے مذکور ہوئے یہ باتیں کرتے ہیں فقال الم ترالی الذین نافقوا بطور تعجب کے منافقین کی پوشیدہ نالائق حرکات سے خبر دیتا ہے کہ ایسے موقع پر وہ اپنے کافر 1 ؎ بھائیوں سے یوں کہتے اور ایسے غلط وعدے دیتے ہیں جن کو ہرگز وہ پورا نہ کرسکیں گے۔ اللہ اور رسول کی مخالفت میں ان کے دشمنوں سے یہ سازباز اور زبان سے ایمان کا دعویٰ ۔ ایک وہ لوگ تھے ایک یہ ہیں۔ جب یہود بنی 2 ؎ نضیر سے آنحضرت ﷺ کی مخالفت ہو رہی تھی اور ابھی ان کا محاصرہ بھی نہیں ہوا تھا اس وقت مدینہ کے منافق اور ان کے سردار عبداللہ بن ابی نے یہود سے مخفی یہ کہلا بھیجتا تھا کہ اگر تم کو نکالیں گے تو تمہارے ساتھ ہم بھی وطن چھوڑ کر نکل جائیں گے اور اس میں کسی کی بات بھی نہ مانیں گے اور جو تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور مدد کریں گے۔ مضبوط رہو۔ یہ سردار منافق کا کلام تھا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے بطور پیشین گوئی کے نہایت تاکید سے فرماتا ہے واللہ یشہد انہم لکاذبون کہ اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں ہرگز ہرگز کوئی بات بھی ان دونوں میں سے نہ کریں گے لئن اخرجوا لایخرجون معہم اگر وہ نکالے گئے تو ان کے ساتھ آپ نہ نکلیں گے۔ ولئن قوتلوا الخ اگر ان سے لڑائی ہوئی تو ان کی مدد نہ کریں گے اور بالفرض مدد بھی کی تو شکست کھائیں گے اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے اور پھر کبھی غلبہ نہ پائیں گے۔ اس پیشین گوئی کی پوری تصدیق ہوئی۔ بنی نضیر سے نوبت جنگ آئی ان کی گڑھی کا محاصرہ ہوا اس کے بعد وہ عرب سے نکالے گئے مگر منافقوں پر وہ رعب غالب آیا کہ وہ نہ تو ان کی مدد کرسکے نہ ان کے ساتھ آپ جلاوطن ہوئے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی خبر کو جھوٹا کرنے کے لیے ان کے لیے بڑا موقع تھا کہ کچھ مدد کرتے یا دس بیس کوس دوچار روز کے لیے نکل جاتے مگر خدائے قادر کب تکذیب کرنے دیتا یہ بھی منجملہ اخبار بالغیب کے ایک پیشین گوئی تھی جو صادق ہوئی۔ اعجاز قرآن و نبوت کی کھلی دلیل ہے۔ اس خلاف وعدگی کا سبب بیان فرماتا ہے الاانتم اشد رھبۃً الخ کہ یہ منافق اللہ سے اتنا نہیں ڈرتے جس قدر اے مسلمانو ! تم سے ڈرتے ہیں، بےسمجھ لوگ ہیں۔ بندہ کا کیا ڈر، اللہ سے ڈرنا چاہیے جس کے قبضہ قدرت میں ہر بات ہے۔ جو قوم اللہ سے ڈرتی ہے اس سے سب ڈرنے لگتے ہیں ان پر پھر کسی کا خوف غالب نہیں آتا۔ یہی شجاعت کا اصل اصول ہے جو صحابہ ؓ کو حاصل تھا۔ اب رہے یہود وہ بھی بزدل ہیں تم سے مقابلہ نہیں کرسکتے مگر گڑھیوں میں بیٹھ کر اور شہر پناہوں کی آڑ میں۔ ہاں آپس میں خوب لڑتے ہیں۔ ظاہر میں موافق اور باطن میں باہم مخالف یہ بدعقل ہیں۔ افسوس یہی خصلت آج کل ہم مسلمانوں میں پیدا ہوگئی ہے۔ 1 ؎ کفر ایک ملت ہے اس لیے ان کے بھائی کہا یا ان میں اور یہود میں بھائی چارہ تھا مواخات و موالات قائم تھی۔ 12 منہ 2 ؎ کتاب یسعیاہ کے بائیس باب میں اس واقعہ بنی نضیر و بنی قریظہ کی طرف ان الفاظ میں صاف بیان ہے جو پورا ہوا اس کتاب کی یہ عبارت ہے الظرف ” خداوند ایک بہادر کی صورت میں نکلے گا وہ جنگی مرد کی مانند اپنی عزت کو اسکائے گا وہ چلائے گا ہاں وہ جنگ کے لیے بلائے گا وہ اپنے دشمنوں پر بہادری کرے گا۔ وہ شریعت کو بزرگی دے گا اور اسے عزت بخشے گا “ (پیغمبر (علیہ السلام) خدا کی طرف سے بہادرانہ لباس میں نمودار ہوئے۔ شریعت کو عزت ہوئی) ” لیکن یہ ایک گروہ ہے جو لوٹے گئے اور غارت کئے گئے “۔ (بنی نضیر لوٹے گئے بنی قریظہ غارت ہوئے) ” وہ شکار ہوئے اور کوئی نہیں بچاتا وہ لوٹے گئے اور کوئی نہیں کہتا پھر وہ “ (منافق بچا نہ سکے) ” بنی اسرائیل نے خدا کی نافرمانی کی۔ اس لیے اس نے ان پر قہر کا شعلہ اور جنگ کا غضب ڈالا اس پر گرداگرد آگ لگی۔ بنی نضیر کی گڑھی کا شعلہ جب مسلمانوں نے اس میں آگ دی خدا کے قہر کا شعلہ تھا جو دور سے لپیٹیں مارتا تھا۔ 12 منہ
Ayahs 59:15–17

كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ Open ayah 59:15 in the Quran reader

ان کا حال تو پہلوں جیسا ہی ہے کہ جنہوں نے اپنے کام کی سزا پائی ہے اور ان کو (آخرت میں بھی) سخت عذاب ہے

كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ١ۚ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 59:16 in the Quran reader

(اور) مثال شیطان کی سی ہے وہ آدمی سے کہتا ہے کہ تو منکر ہوجا پھر جب وہ منکر ہوجاتا ہے (اور مدد مانگتا ہے) تو کہہ دیتا ہے کہ مجھے تجھ سے کچھ سروکار نہیں کیونکہ میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں کہ جو تمام جہان کا رب ہے۔

فَكَانَ عَاقِبَتَهُمَاۤ اَنَّهُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْهَا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 59:17 in the Quran reader

پھر ان دونوں کا یہی انجام ہوتا ہے کہ وہ دونوں ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیے جاتے ہیں اور ستمگاروں کی یہی سزا بھی ہے۔

ترکیب : کتشبیہ مثلم قریبا ای استقروا من قبلھم اوذاقواو بال امرھم قریبا ای عن قریب فکان عاقبتھما یقرء بالنصب علی الخبر وانھما فی النار و یقرء بالعکس دخالدین حال دحسن لماکرر الظرف ویقرء خالدان علی انہ خبران، ابن الصائغ۔ تفسیر : یہود بنی نضیر نے اپنی نالائقی کی ایسی سزا پائی جیسا کہ ابھی ان سے پہلے لوگ اپنے افعالِ بد کا وبال اور سزا پا چکے ہیں۔ دنیا میں اور آخرت میں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ان بنی نضیر سے پہلے تھوڑے دنوں آگے کون لوگ آسمانی تازیانے سے پٹے تھے ؟ مجاہد کہتے ہیں مشرکین مکہ تھے جو بدر میں قتل اور قید ہوئے بنی نضیر کے واقعے سے پہلے۔ ابن عباس ؓ عنھما کہتے ہیں بنی قینقاع کی طرف اشارہ ہے، بعض کہتے ہیں یہود بنی قریظہ کی سزا کی نسبت ارشاد ہے کہ ان کو ایسی سزا ہوئی جو تھوڑے دنوں آگے بنی نضیر کو ہوئی تھی بنی نضیر کے دو برس بعد یہود کے دوسرے قبیلے ہر جس کو بنی قریظہ کہتے تھے اور وہ بھی مدینے کے قریب رہتے تھے ان کی بدعہدی سے آفت ہوئی۔ کمثل الشیطان الخ مدینے کے منافق جو یہود نبی نضیر کو حضرت ﷺ کے مقابلے میں جھوٹی باتوں کے گھمنڈ پر ابھار رہے تھے اور وہ کمبخت ان کی باتوں میں آ کر خراب ہوئے اس کی تمثیل بیان فرماتا ہے کہ یہود بنی نضیر کے بہکانے کی مثال ایسی ہے کہ جب شیطان آدمی کو کافر بنا دیتا ہے اور جب بہکا چکتا ہے تو شیطان آپ الگ ہوجاتا ہے اور الٹی ملامت کرنے لگتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں، مجھے اللہ رب العالمین سے ڈر لگتا ہے۔ اسی طرح منافق بہکا کر الگ ہوگئے اور جب ان پر آ پڑی تو انہیں کو برا بھلا کہنے لگے۔ انجام کار شیطان اور اس کے بہکے ہوئے آدمی کا ٹھکانا جہنم ہوتا ہے اور ظالموں کی سزا بھی یہی ہے۔ یہ ایک بڑی عبرت انگیز نصیحت دل پر اثر کرنے والے الفاظ میں انسان کے لیے ہے کہ وہ کسی بہکانے پھسلانے والے کی باتوں میں آ کر برباد نہ ہو، وہ بہکانے والا بوقت مصیبت ساتھ نہیں دیتا، الگ ہوجاتا ہے۔ شیطان سے مراد ابلیس ہے وہ ہر روز انسان کو بہکاتا اور کفر و بدکاری میں مبتلا کرتا ہے۔ انسان کے اندر قوائے بہیمیہ و شہوانیہ و غضبیہ تین زورآور کلیں ہیں جن تک بذریعہ سرایت شیطان کا ہاتھ پہنچتا ہے۔ اگر مدد غیبی کا محافظ نہ روکے تو یہ بدبخت ان میں ناجائز تحریک پیدا کردیتا ہے۔ انسان کی ان تینوں قوتوں کی ناجائز تحریک اور فطری مڑک سے دوسری طرف روانگی شیطانی تحریک و تضلیل ہے جس طرح ملائکہ کو ان چیزوں کی اصلاح کے لیے بذریعہ الہام و تلقی رسائی ہے اسی طرح شیطان کو فساد کے لیے اور خود انسانی خیالات فاسدہ جو خلاف فطرت پیدا ہوتے ہیں اور بنی آدم کے بدراہ کرنے والوں کی تائید و تحریک بھی تضلیل شیطانی ہے۔ بعض مفسرین نے کمثل الشیطان کے الفاظ سے چسپاں کرنے کے لیے ایک قصہ طول و طویل نقل کیا ہے جس میں برصیصیا راہب کے پاس شیطان کا بہ شکل راہب آنا اور ان کو اسماء سکھانا اور بیماروں کا بھیجنا اور ان میں بادشاہ کی لڑکی کا آنا اور برصیصیا کا اس سے زنا کرنا اور اس کو حمل رہ جانا اور بدنامی دور کرنے کے لیے بمشورہ شیطان اس کا قتل کر کے دبانا اور شیطان کا جا کر خبر دینا اور برصیصیا کا دار پر چڑھنا اور اس وقت شیطان کا بامید خاص سجدہ کرنا اور پھر شیطان کا ملامت کر کے غائب ہوجانا اور برصیصیا کا حالت کفر میں مرنا نقل کیا ہے جس کا صحیح احادیث سے ثبوت نہیں ہاں کہیں ایسا ہوا ہو تو کچھ تعجب بھی نہیں۔