Ayahs 58:1–4ترکیب : وتشتکی معطوف علی تجادلک وقیل حال من فاعلہ ای تجادل وھی متضرعۃ الی اللہ تعالیٰ الذین موصول یظاہرون الخ صلۃ والکل مبتداء ماھن امھتھم الجملۃ خبرہ امہاتہم بکسر التاء علی انہ خبراوبضمھا علی اللغۃ والذین یظاھرون من نسائھم مبتداء فتحریر رقبۃ الجملۃ وھی فعلیھم تحریر رقبۃ خبرہ۔ ذلکم مبتداء تو عظون بہ خبرہ واللام فی لما قالوا تتعلق بیعودون ومامصدریۃ ویمکن ان تجعل بمعنی الذین ونکرۃ موصوفۃ وقیل اللام بمعنی فی وقیل بمعنی الیٰ فی الکلام تقدیم و تاخیرہ تقدیرہ ثم یعودون فعلیھم تحریر رقبۃ لماقالوا فصیام شہرین ای فعلیہ صیام شہرین ذالک ومحلہ النصب بفعل معلل بقولہ لتومنوا اوالرفع علی الابتداء یوم منصوب بماتعلق بہ اللام من الاستقرار او مبین او با ضمار اذکر۔
تفسیر : یہ سورة بالاتفاق مدینے میں نازل ہوئی ہے۔ قرطبی کہتے ہیں جمہور علماء اسی کے قائل ہیں۔ بعض کہتے ہیں کسی قدر مکہ میں بھی نازل ہوئی ہے مگر یہ قول معتبر نہیں۔ سورة حدید کے اخیر میں واللہ ذوالفضل العظیم آیا تھا جو یہودونصاریٰ کے گمان فاسد کا رد تھا کہ وہ نبوت اپنے خاندان میں ختم سمجھتے تھے۔ اس سورة میں منجملہ افضالِ الٰہی کے جن میں سے نبوت نبی آخرالزمان ﷺ بڑی چیز ہے اس نبوت کے برکات اور اپنے بعض افضال کا (سہل احکام اور آسان شریعت نازل کرنے کے پیرائے میں) اظہار فرماتا ہے کہ یہ بھی اس کے فضل کی ایک بڑی بات ہے کہ اس نے ظہار میں جو جاہلیت میں اشد طلاق سمجھی جاتی تھی یہ سہولت کی کہ کفارے سے عورت کو اس کے مرد کے لیے حلال کردیا۔ اب اس کی تشریح بضمن ایک واقعے کے کرتا ہے۔ فقال قدسمع اللہ قول التی الخ۔ اس کے شان نزول میں جمہور مفسرین نے یوں نقل کیا ہے کہ خولہ بنت ثعلبہ ؓ اوس بن صامت ؓ کی بیوی کو اس کے خاوند نے ناراض ہو کر یہ کلمہ کہہ دیا تھا (انت علی کظہرامی) کہ تو مجھ پر میری ماں کی طرح سے حرام ہے۔ یہ کلمہ جاہلیت میں سخت طلقا کا تھا کہ جس کے بعد ملاپ نہیں ہوتا تھا اس کو بڑا رنج ہوا۔ خاوند سے بڑی محبت تھی اور بچہ دار بھی تھی اس لیے نبی ﷺ کی خدمت شریف میں حاضر ہوئی۔ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں میں اس وقت حضرت ﷺ کا سر دھلا رہی تھی اس عورت نے آ کر سب قصہ بیان کیا اور اپنی مصیبت ناک حالت بھی عرض کی کہ میں پہلے جوان مالدار تھی اب عمررسیدہ بھی ہوگئی اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی ہیں کہ اگر آپ رکھتی ہوں تو بھوک سے ہلاک ہوتے ہیں اور اس کو دیتی ہوں تو برباد ہوتے ہیں اور مجھے اس سے محبت بھی ہے۔ اب میں کیا کروں گی ؟ اب میں اس سے پھر بھی مل سکتی ہوں ؟ آپ نے فرمایا مجھے تو طلاق ہوگئی معلوم ہوتی ہے۔ یہ سن کر اور بھی رنج ہوا۔ باربار دردناک الفاظ میں اپنی مصیبت و تنہائی بیان کر کے پھر جائز ہونے کے سبیل پوچھتی تھی۔ آنحضرت ﷺ اس کے جواب میں وہی بات فرماتے تھے۔ آخر وہ مایوسانہ حالت میں آسمان کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر یہ کہنے لگی کہ الٰہی میں اپنی مصیبت کا اظہار تجھ سے کرتی ہوں میری مشکل کشائی کے لیے اپنے نبی پر کوئی حکم نازل کر دیجئے۔ اتنے میں آنحضرت ﷺ پر وحی کے آثار نمودار ہوئے اور وہ یہی کہے جاتی تھی کہ یانبی اللہ آپ کے قربان جائوں میرے معاملے میں کچھ تدبیر و فکر کیجئے۔ عائشہ ؓ نے آثار وحی دیکھ کر اس عورت کو کہا چپ رہو اور اپنی تکرار کو بند کر تو رسول اللہ ﷺ کے منہ کو نہیں دیکھتی ؟ جب آنحضرت ﷺ کو وحی ہوچکی تو اس عورت کو بلا کر یہ آیات سنائیں اور کفارے کا حکم دے کر اس کو خاوند کے لیے مباح کردیا۔ اس کے خاوند نے کفارہ ادا کیا۔ یہ اس کا کیسا فضل ہے ؟ اور بھی سہل احکام اس سورة میں ہیں اب ہم آیات کی تفسیر کرتے ہیں۔
الذین یظاہرون منکم الخ ظہار یہ ہے کہ مرد اپنی عورت کو یوں کہے انت علی کظہرامی کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح حرام ہے۔ ظہار 1 ؎ شرع میں اپنی بیوی کو یا اس کے کسی جزء شائع کو یا ایسے جزء کو جس سے کل تعبیر کیا جاسکتا ہو اپنی ماں سے یا اس کے کسی ایسے جز سے تشبیہ دینا کہ جس کا دیکھنا جائز نہیں اور اسی طرح اور محرمات ابدیہ عورتوں سے تشبیہ دینا بھی ظہار ہے یہ ظہر بمعنی پشت سے مشتق ہے۔ اور پشت ذکر کی اور مراد اس سے پیٹ ہے یا مقام مخصوص مجازاً ۔ اور شرم کی وجہ سے ایسی چیزوں کو دوسرے ناموں سے تعبیر کردینا زبان عرب کا دستور ہے۔ بعض علماء کہتے ہیں ظہر کہ جس سے ظہار لیا گیا ہے اس کے معنی پشت کے نہیں کس لیے کہ اور اعضاء میں سے صرف پشت ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ یہ ظہر بمعنی علو سے مشتق ہے جس سے مراد چڑھنا یعنی مرد جو اپنی بیوی پر چڑھتا ہے اس کو اپنی ماں پر چڑھنے سے تشبیہ دے رہا ہے۔ یہ ایام جاہلیت میں سخت طلاق تھی اس آیت کے نازل ہونے سے پیشتر شرع نے بھی اس کو طلقا ہی قرار دے رکھا تھا جس لیے نبی ﷺ نے فرمایا طلاق ہوگئی جس پر وہ عورت حیرت زدہ ہو کر اور حکم چاہتی تھی۔ بالاتفاق جمہور علماء اس کلمہ سے عورت مرد پر ایک ایک وقت تک حرام ہوجاتی ہے یعنی جب تک کفارہ نہ دے اور اس لفظ سے طلاق نہیں واقع ہوتی بلکہ ظہار ایک جداگانہ چیز ہے۔
ان الفاظ کے کہنے سے تو بالاتفاق ظہار ہوجائے گا اور ان میں سے دوسری صورت بدل کر کہنے میں اختلاف ہے اور صورتیں چار پیدا ہوتی ہیں۔ (1) یہ کہ ظہروام یا ان کے ہم معنی الفاظ دونوں مذکور ہوں جیسا کہ بیان ہوا۔ اس میں بالاتفاق ظہار واقع ہوگا۔ (2) یہ کہ ظہر تو مذکور ہو اور ام مذکور نہ ہو پس اگر ماں کے بدلے کوئی غیرمحرم عورت ذکر ہے یعنی محرم عورت سے تشبیہ نہیں اس صورت میں بھی بالاتفاق ظہار نہ ہوگا کس لیے کہ اپنی عورت کے جماع کو اجنبی عورت سے تشبیہ دینے سے کوئی خرابی نہیں آتی اور اگر ماں کے سوا ان عورتوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جو اس پر ہمیشہ حرام ہیں خواہ قرابت سے جیسا کہ بہن بیٹی خالہ پھوپھی نانی دادی نواسی بھتیجی بھانجی خواہ دودھ کی شرکت سے جیسا کہ دودھ بہن یا دودھ ماں یا رشتے کے سبب سے جیسا کہ بیوی کی ماں۔ ان سب صورتوں میں امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ظہار ہوگا کس لیے کہ جو ماں کے ساتھ تشبیہ دینے سے غرض تھی وہی ان کے ساتھ تشبیہ دینے میں حاصل ہے۔ امام شافعی (رح) کے اس میں دو قول ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ ظہار نہ ہوگا آخر قول یہ ہے کہ ظہار ہوگا مگر بعض شافعیہ قول اول کو ترجیح دیتے ہیں۔ (3) یہ کہ ماں کی پیٹھ سے تشبیہ نہ ہو بلکہ اس کے کسی اور عضو کے ساتھ اس کی دو صورتیں ہیں۔ اول یہ کہ اس کے کسی اور عضو سے تشبیہ ہو کہ جس کا دیکھنا حرام نہیں جیسا کہ ہاتھ پائوں ان صورتوں میں بھی ظہار نہیں مگر امام شافعی (رح) تفصیل کرتے ہیں کہ اگر ان میں سے ان اعضاء کے ساتھ تشبیہ ہے کہ جہاں تعظیم مقصود ہوتی ہے منہ آنکھ۔ اس میں دو قول ہیں، پہلا یہ کہ ظہار نہیں آخر یہ کہ ظہار ہے۔ دوم یہ کہ ان اعضاء سے تشبیہ ہو کہ جن کا دیکھنا حرام ہے پیٹ، ران، چوتڑ وغیرہ۔ ان صورتوں میں امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ظہار ہے۔ امام شافعی (رح) کے دو قول ہیں مگر بعض نے قوت اس کو دی کہ ظہار نہیں۔ (4) یہ کہ نہ ماں کا ذکر ہو نہ پشت کا بلکہ یوں کہے کہ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری بہن یا بیٹی کا پیٹ یا ران۔ یا یوں کہے کہ تو میری بہن یا بیٹی جیسی ہے۔ ان صورتوں میں اختلاف ہے مگر امام اعظم (رح) کے نزدیک ظہار ہے۔ بحث دوم ظہار کون کرسکتا ہے اور کس سے ؟ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں جو مسلمان طلاق دینے کا مجاز ہے وہ ظہار کا بھی ہے۔ کافر ذمی کا ایسا فعل ظہار نہ ہوگا کس لیے کہ آیت میں منکم کا لفظ ہے جو اہل اسلام کی طرف خطاب ہے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں مسلمان ہو یا نہ ہو جو کوئی طلاق دے سکتا ہے ظہار بھی کرسکتا ہے۔ ذمیوں کے ایسے افعال کا وہی حکم ہوگا جو مسلمانوں کا ہے۔ ابوحنیفہ (رح) و شافعی (رح) ومالک (رح) کے نزدیک عورت ظہار نہیں کرسکتی۔ اس کے اس کہنے سے کہ تو میرے پر ایسا ہے جیسی میری ماں کی پشت کچھ نہیں ہوتا۔ اوزاعی فرماتے ہیں یہ یمین ہے عورت کو کفارہ دینا پڑے گا۔ مسئلہ اگر مرد نے ظہار میں دن کی قیدلگا دی کہ آج کے روز تو مجھ پر میری ماں کی پشت جیسی ہے تو ظہار نہ ہوگا۔ امام مالک (رح) و ابن ابی لیلیٰ (رح) کہتے ہیں ظہار ہوگا۔ آیت میں من نسائھم کا لفظ ہے اس سے ثابت ہوا کہ ظہار خاص بیوی سے ہوسکتا ہے نہ لونڈی سے۔ اگر لونڈی کو ایسی بات کہے گا تو امام ابوحنیفہ (رح) و شافعی (رح) کے نزدیک ظہار نہ ہوگا۔ مالک (رح) و اوزاعی (رح) کہتے ہیں ظہار ہوگا کس لیے کہ من نسائھم میں لونڈی داخل ہے وہ بھی مرد کی عورت ہے۔
فائدہ : آیت میں لفظ منکم عرب پر ایک طرح کی چوٹ ہے کس لیے کہ جاہلیت میں عرب کی یہ عادت تھی جس سے خدا تعالیٰ نفرت فرماتا ہے اس لیے بعد میں صراحت کرتا ہے ماھن امھاتھم کہ اس کہنے سے وہ ان کی مائیں نہیں ہوگئیں۔ ان اماتھم الاللائی ولدنھم مائیں تو ان کی حقیقۃً وہی ہیں کہ جنہوں نے ان کو جنا ہے اور حکم حرمت میں ان کے ساتھ وہ مائیں بھی شریک ہیں کہ جن کو شرع نے ماں کے قائم مقام کیا ہے جیسا کہ دودھ کی ماں جس کی نسبت ماں کا لفظ آیا ہے۔ وامھاتکم من الرضاعۃ اور نبی ﷺ کی بیویاں جن کی نسبت بھی ماں کا لفظ آیا ہے وازواجہ امہاتہم مگر یہ عورتیں نہ تو حقیقی مائیں ہیں نہ حکمی۔ وانہم لیقولون منکراً من القول وزوراً یہ تو ایک بری اور جھوٹی بات منہ سے نکال دی ہے جس کی سزا کفارہ ہے اس لیے اس کے بعد کفارے کا ذکر کرتا ہے۔ فقال والذین یظاھرون من نسائھم ثم یعودون لماقالوا فتحریر رقبۃ کہ جو اپنی بیوی سے ظہار کرتے ہیں (ان کو ماں کی ظہر یعنی پشت سے تشبیہ دیتے ہیں) پھر وہ لوٹنا چاہتے ہیں تو ان کو ایک بردہ آزاد کرنا چاہیے بیوی کے ہاتھ لگانے سے پہلے یہ تمہاری نصیحت کے لیے ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ جانتا ہے اور جس کو بردہ یعنی غلام میسر نہ ہو تو بیوی کے ہاتھ لگانے سے پہلے پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے اور جس کو اس کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں یعنی فقیروں کو کھانا کھلا دے۔ یہ کفارہ ہے۔ اس کے بعد پھر بدستور اس کی بیوی اس کے لیے حلال ہے۔
ابحاث : (1) ثم یعودون لماقالوا۔ محاورہ عرب میں اس کلام کے دو معنی سمجھے جاتے ہیں۔ اس کام کے برخلاف ہونا اور اسی کو باردگر کرنا کہتے ہیں۔ عادکما 1 ؎ فعل جب کہ اس کے کام کو بگاڑنا چاہے اور جب باردگر کرنا چاہے تب بھی یہی جملے بولتے ہیں اور ہر ایک کی نظائر موجود ہیں۔ یہ اس لیے کہ الی اور لام ایک دوسرے کے معنی ہیں مستعمل ہوتا ہے اسی وجہ سے اس کلام کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ پہلے معنی کی طرف (یعنی برخلاف مراد لینے کی طرف) جمہور مجتہدین گئے ہیں ان کے نزدیک آیت کے یہ معنی ہوئے کہ جو ظہار کر کے اس سے پھرنا چاہیں اور برخلاف ہونا چاہیں تو کفارہ دیں۔ پھر ان پہلے مہینوں کی تعیین میں کئی قول ہیں۔ (1) امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں یہ معنی ہوئے کہ جو ظہار کر کے وطی وغیرہ فوائد حاصل کرنا چاہیں تو کفارہ دیں کس لیے کہ ظہار سے بجز اس خاص فائدے کے اور کوئی فائدہ ممنوع نہیں ہوا۔ خانہ داری کے سب کام بعد ظہار بھی کرنے درست ہیں پھر عود کس چیز کی طرف ہے ؟ اسی چیز کی طرف ہوگا جو فوت ہوگئی اور وہ وطی اور اس کے دواعی ہیں۔ (2) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں ٹھہرا رکھنا یعنی جو شخص ظہار کر کے عود کرے کہ بیوی کو اس قدر زمانے تک اپنے پاس ٹھہرا رکھے کہ اس قدر زمانے میں طلاق دے سکے پس جب اس نے ظہار کر کے عورت کو رہنے دیا طلاق نہ دی تو بیوی پنے کا حق جو ظہار کرنے سے تلف کیا تھا پھر حاصل کیا۔ (3) امام مالک (رح) کہتے ہیں وہ عود کہ جو کفارے کا باعث ہے ظہار کے بعد وہ صرف وطی کا قصد کرنا ہے۔ ظہار کے بعد جب یہ قصد کرلیا تو عود کیا۔
خلاصہ یہ کہ جمہور فقہا کے نزدیک کفارہ محض ظہار سے واجب نہیں بلکہ عود سے ان وجوہ ثلاثہ میں سے کسی وجہ پر عود ہو۔ ابن عباس ؓ نے عود کی تفسیر یہ کی کہ نادم ہو اور الفت چاہیے۔ اس کے بھی یہی معنی ہیں جو اوپر بیان ہوئے۔ اور جو علماء عود کے دوسرے معنی لیتے ہیں یعنی باردگر اس فعل ظہار کا کرنا تو ان کے نزدیک وجوب کفارہ کا باعث ظہار ہے نہ اور کوئی چیز پھر اس کے بھی کئی معنی ہوسکتے ہیں۔ (1) یہ کہ مکرر الفاظ منہ سے کہنے سے کفارہ واجب ہوتا ہے نہ ایک بار کے کہنے سے جیسا کہ ابی عالیہ و دائود ظاہری اور جمیع اہل ظواہر کا قول ہے ان کے نزدیک آیت کے یہ معنی ہوئے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر کے ثم یعودون لماقالوا پھر انہیں کلمات کو باردگر منہ سے نکالیں اور اعادہ کریں تو ان پر کفارہ ہے اور جو ایک بار کہا تو کچھ نہیں مگر یہ قول محض ضعیف ہے کس لیے کہ خدا تعالیٰ اپنی ناراضی ان کلمات پر ظاہر فرما رہا ہے جو زمانہ جاہلیت کی بات تھی۔ اس میں ایک بار کہنے سے بھی وہی جاہلیت کی ناشائستہ حرکت پائی گئی۔ دوم اس صحابی کا (کہ جس کی عورت کا آیات میں اشارۃً ذکر ہے) کسی روایت سے دوبارہ کہنا ثابت نہیں بلکہ اس نے ایک ہی بار یہ کلمات منہ سے نکالے تھے جس پر اس کی بیوی حیران و پریشان ہو کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ (2) یہ کہ صرف ظہار کے کلمات باعث ایجاب کفارہ ہیں۔ یہ مجاہد و سفیان کا قول ہے، ان کے نزدیک ثم یعودون لما قالوا کے یہ معنی ہوئے کہ جو ایام جاہلیت میں کہا کرتے تھے اگر اب پھر کہیں تو کفارہ دیں۔ ان کے نزدیک والذین یظاھرون من نسائہم کا بیان ثم یعودون لما قالوا ہے کہ وہ جو ظہار کرتے ہیں اہل اسلام میں باردگر پھر اسی جاہلیت کی بات کا اعادہ کرتے ہیں۔
کفارہ ظہار : فتحریر رقبۃ من قبل ان یتماسا۔ تحریر حربنانا یعنی آزاد کرنا۔ رقبہ گردن۔ اس سے مراد گردن و الاجز سے کل تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ ہماری زبان میں کہتے ہیں ہر سر پیچھے یہ ہو۔ یعنی ہر شخص کے لئے۔ رقبہ سے مراد غلام لونڈی، تم اس، ہاتھ لگانا۔ مراد عام ہے۔ ہاتھ لگانا بوسہ دینا ‘ جماع کرنا سب کو شامل ہے۔ عموم الفاظ کی وجہ سے۔ صحبت کرنے اور اس کے اسباب عمل میں لانے سے پہلے ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا چاہئے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں رقبہ مطلقہ ہے مومن ہونے کی کوئی قید نہیں، غلام ہو، کافر ہو یا مومن کالا ہو یا گورا آزاد کردینا چاہئے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں دوسری آیت میں رقبہ کو مومنہ سے مقید کردیا ہے۔ یہاں بھی وہی مراد ہوگا یعنی مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیے۔ مگر دوسری آیت میں جو قید تھی وہاں یہ قید قتل کے کفارے میں ہے جو سخت جرم ہے۔ اس کو یہاں لانا اور قیاس کرنا کوئی وجہ نہیں رکھتا۔ من قبل ان یتماسا کے متعلق ایک اور بحث ہے۔ وہ یہ کہ آیت کا حکم یہی ہے کہ کفارہ ادا کرنے سے پہلے عورت کو ہاتھ نہ لگائے مگر جو کسی نے لگایا اور صحبت کرلی تو پھر کیا حکم ؟ اکثر علماء امام ابوحنیفہ و امام مالک و امام شافعی و امام احمد حنبل و سفیان ثوری و اسحاق وغیرہ (رح) کے نزدیک ایک ہی کفارہ دینا ہوگا۔ پہلے ہاتھ لگانا دوسرا گناہ 1 ؎ ہے اس کے لیے کوئی کفارہ نہیں ‘ استغفار کرے۔ عبدالرحمن بن مہدی کہتے ہیں دو کفارے دینے ہوں گے۔ ذالک لتوعظون بہ یہ کفارہ یا غلام آزاد کرنے کا حکم تمہاری نصیحت کے لیے ہے تاکہ پھر ایسی بات نہ کہو۔ واللہ بماتعملون خبیر اللہ کو تمہارے اعمال کی خبر ہے۔ اگر کوئی یہ کلمات کہے کہ کفارے کے ڈر کے مارے نہ کرے گا تو کیا ؟ اللہ تو جانتا ہے (یہ کفارے میں ایک بات تھی) فمن لم یجد فصیام شہرین متتابعین من قبل ان یتماسا پھر جس کو غلام میسر نہ آئے تو ہاتھ لگانے سے پہلے لگاتار دو مہینے کے روزے رکھے۔ یہ دوسری بات ہوئی۔ ان روزوں میں بھی یہ شرط ہے کہ ہاتھ لگانے سے پہلے پہلے رکھے۔ اگر دس بیس روزے رکھ کر بیچ میں بیوی سے صحبت کرلی تو نئے سرے سے روزے رکھنے ہوں گے۔ رات میں نہ دن میں کفارے سے پہلے بیوی کو ہاتھ لگانا نہ چاہیے۔ عمداً تو عمداً اگر سہواً بھی کر بیٹھے گا تو ہٹ کر نئے سرے سے روزے رکھنے ہوں گے۔ امام شافعی (رح) کہتے ہیں اگر رات میں بیوی سے صحبت کی تو اس سے تتابع میں فرق نہ آئے گا۔ امام مالک و امام ابوحنیفہ ; کے نزدیک تتابع نہ رہا۔ پھر نئے سرے سے رکھے اور جو کسی عذر سے اس نے دو مہینے کے روزوں میں سے کوئی روزہ نہ رکھا تو اس میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں نئے سرے سے رکھے، بعض کہتے ہیں نہیں۔ پھر اگر بیماری یا بڑھاپے یا کسی معتبر عذر کی وجہ سے روزہ نہ رکھ سکے تو ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلا دے۔ فمن لم یستطع فاطعام ستین مسکینا۔ صبح و شام دو وقت پیٹ بھر دے معمولی کھانا ہو اور معمولی کھانے والے ہوں۔ اور جو ان کو کھانا پختہ یا غیرپختہ دے کہ اپنے گھر جا کر کھا لیں تو کس قدر فی کس دے ؟ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں ہر مسکین کو گیہوں کا نصف صاع اور جو ‘ چھوارے کا پورا صاع دے یا ان کی قیمت دے دے اور دلیل ان کی حدیث اوس ابن الصامت و سہل بن صخر کی ہے۔ جس میں نصف صاع گیہوں اور ایک صاع جو چھوارے دینے کا حکم آنحضرت ﷺ نے دیا ہے۔ اور نیز صدقۃ الفطر میں یہی مقدار آئی ہے۔ اور صدقات واجبہ برابر ہیں۔ یہ حدیثیں ابودائود احمد طبرانی وغیرہ نے نقل کی ہیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں ہر ایک مسکین کو ایک مددے جو مدنبی ﷺ کے ہم وزن ہو اور وہ ایک رطل اور ثلث مقدار کی ہے۔
مسئلہ اگر ساٹھ روز تک ایک ہی مسکین کو دے گا تو کافی ہوگا اور اگر ساٹھ روز کا ایک فقیر کو ایک ہی روز دے دے گا تو یہ صرف ایک روز کا دینا سمجھا جائے گا۔ (ہدایہ) آیت میں جہاں کھانا دینے کا ذکر ہے اس جگہ من قبل ان یتماسا کی قید نہیں جیسا کہ غلام آزاد کرنے اور روزہ رکھنے میں تھی۔ اس سے امام ابوحنیفہ (رح) یہ بات کہتے ہیں کہ ہرچند کھانا پہلے کھلانا واجب ہے اور جو کسی نے کھانا کھلانے سے پہلے صحبت کرلی تو یہ کفارہ کافی ہوجائے گا یعنی ہنوز مساکین دوسرے وقت کا کھانا نہ کھانے پائے تھے اس نے صحبت کرلی برا کیا استغفار کرے مگر کفارہ ادا ہوگا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں گو اس جگہ قید من قبل ان یتماسا مذکور نہ ہو مگر اس سے پہلے دو چیزوں کے ادا کرنے میں مذکور ہوچکی ہے یہاں بھی وہی مراد ہے یہ کفارہ ادا نہ ہوگا۔
جمیع آیت سے متعلق بحث : اللہ تعالیٰ نے الذین یظاھرون من نسائہم ثم یعودون لماقالوا فتحریر رقبۃ الخ ارشاد فرمایا جس سے کئی باتیں پیدا ہوئیں۔ (1) ثم یعودون لماقالوا یہ تحریر رقبہ الخ کا سبب ثابت ہوتا ہے جس لیے تحریر پرسببیہ آئی۔ پھر اگر کوئی ظہار کر کے رجوع کرنا نہ چاہے تو کفارہ لازم نہ ہوگا کیا عورت کو عمر بھر یوں ہی لٹکائے رکھ سکتا ہے ؟ فقہاء فرماتے ہیں عورت کفارہ ادا کئے بغیر مرد کو اپنے پاس نہ آنے دے اور مرد کو کفارہ ادا کرنے پر مجبور کرے۔ کس لیے کہ ادا نہ کرنے میں عورت کے حقوق تلف ہوتے ہیں حاکم سے رجوع کر کے کفارہ ادا کرائے۔ (کبیر) ۔
(2) من نسائھم کے لفظ میں وسعت ہے کہ اگر کسی کی چار بیویاں ہوں اور چاروں کو ایک بار خطاب کر کے یہ کہہ دے کہ تم مجھ پر میری ماں کی پشت جیسی ہو یعنی حرام۔ یہ چار ظہار گنے جائیں گے اور چار کفارے دینے پڑیں گے جس سے صحبت کرنے کا قصد کرے گا پہلے کفارہ دے گا جیسا کہ ایک ساتھ سب کو طلاق ہوسکتی ہے ظہار بھی ہوسکتا ہے۔ یہ امام ابوحنیفہ و شافعی و حسن بصری و زہری و ثوری وغیرہم (رح) کا قول ہے۔ امام مالک و امام احمد حنبل کہتے ہیں ایک کفارہ دینا ہوگا اور عمر و علی ؓ و طائوس وعطاء ; سے بھی یہی منقول ہے۔ یہ لوگ یمین باللہ پر قیاس کرتے ہیں ایلاء میں۔ فتح القدیر
(3) اگر کوئی ایک بار ظہار کر کے اور کفارہ دے کر پھر ظہار کرے تو فائدہ : سببیہ یہ کہہ رہی ہے کہ کفارہ دینا ہوگا تکرار علت سے معلول مکرر ہوگا (ہدایہ) کفارے کے بعد پابندی احکام کی بابت تاکید فرماتا ہے۔ فقال ذالک یہ تعلیم احکام اس لیے ہے کہ اللہ اور رسول پر بجاآوری احکام میں ایمان لاؤ اور اس کے حدود پر قائم رہو اور کافروں کو عذاب الیم ہے اور خدا کو ناخوش کرنے والے عزت نہیں پاتے۔ ایک روز وہ ذلیل ہوں گے جیسا کہ پہلے لوگ ہوئے۔ ہم نے آیات بینات نازل کردیں ان کو جو نہ مانے اس پر خدا کی مار اور ذلت کا عذاب ہے۔ اس روز ان سب کو اللہ اٹھا کر ان کے اعمال بتائے گا اللہ نے ان کو لکھ رکھا ہے یہ بھول گئے ہیں۔ اللہ کے نزدیک سب چیز حاضر ہے۔ اس میں مسئلہ معاد بھی کس لطف سے ثابت کردیا اور آخرت کا ذکر بھی جو انسان کو نیکی پر تحریر دلاتا ہے۔
1 ؎ فتح القدیر میں ظہار کے متعلق یہ قاعدہ کلیہ لکھا ہے کہ ظہار حلال عورت کہا اس کے جزء مستورہ یا جزء شایع کو اس عورت کے ساتھ تشبیہ دینا جس سے کبھی نکاح درست نہیں یا اس کی کسی چیز سے جس کا دیکھنا درست نہیں یا اس جزء سے کہ جس سے وہ تعبیر کی جاتی ہو جیسا کہ سر و گردن نصف وغیرہ مگر اس میں اختلافی صورتیں بھی داخل ہیں۔ 12 منہ
1 ؎ ومنہ المثل عانہ وغیث علی ما افسد ای تدار کہ بالاصلاح کشاف۔ 12 منہ
1 ؎ اصحاب سنن اربعہ نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا کفارہ ادا کرنے سے پہلے اس نے صحبت کرلی آنحضرت ﷺ نے فرمایا یہ تو نے کس لیے کیا اس نے عرض کیا چاندنی رات میں اس کی پازیب اور گوری پنڈلی دیکھ کر رہا نہ گیا فرمایا کفارہ دینے تک اس کے پاس نہ جانا۔ 12 منہ
Ayahs 58:5–61 ؎ محاذۃ مخالفت کردن دباز داشتن حق تحاد کذلک قولہ تعالیٰ ان الذین یحادون کبت بازدگردانیدن دخوار کردن بر روئے درافگندن یقال کبت اللہ اور العدد ای صرفہ داذلہ و صرفہ بوجہ صعاک ام صراح۔ 12 منہ
Ayahs 58:7–8ترکیب : مایکون جملۃ مستانفۃ مقررۃ لماقبلھا من سعۃ علمہ۔ یکون من کان التامۃ وقریٔ تکون من التاء اعتبار التانیث النجویٰ وان کان غیرحقیقی۔ نجو ای مصدر کالتناجی وقال الزجاج النجوٰی مشتق من النجوۃ وھی ما ارتفع من الارض فان السرا مرمرتفع عن استماع الغیر کالارض المرتعفۃ لارتفاعھا انفصلت عن اتصال الغیر۔ ثلاثۃ مجرد رباضافۃ نجوٰی الیہ او علی انھا موصوفۃ بھا بتقدیر مضاف الاستثناء مفرغ من اعم الاحوال۔ ولاخمسۃ ای ولانجوٰی ولا اکثر معطوف علی العددو یقرء بالرفع علی اللابتدائ۔
تفسیر : پہلے فرمایا تھا اللہ علیٰ کل شیئٍ شہید کہ اللہ کے نزدیک ہر چیز حاضر و موجود ہے۔ اب اس جگہ اس وسعت علمی کی تشریح فرماتا ہے تاکہ ہر مکلف کو معلوم ہوجائے کہ ہمارا کوئی فعل ‘ کوئی قول ‘ کوئی حرکت ‘ کوئی دلی خطرہ بھی خدا تعالیٰ سے مخفی نہیں وہ جزا دے گا۔ اس بات پر یقین آنا انسان کا بڑا ہادی اور منہیات سے منع کرنے والا ناصح مشفق ہے۔ فقال الم ترکہ کہ کیا اے انسان تو نہیں دیکھتا (کس لیے کہ اس بات کے دلائل تیرے آگے ظاہر ہیں پھر جاننا بمنزلہ دیکھنے کے ہے اور یہ بات محسوس و مشاہدہ ہوگئی ہے) کہ اللہ کو آسمانوں اور زمینوں کی سب چیزیں معلوم ہیں۔ انسان کی مخفی اور مشورہ نہانی کی باتیں بھی اس کو معلوم ہیں جہاں تین شخص مل کر مشورہ کرنے بیٹھتے ہیں۔ چوتھا ان کے ساتھ خدا ہوتا ہے اور جو چار ہوتے ہیں تو وہ پانچواں ہوتا ہے اور پانچ ہوں تو وہ چھٹا ہوتا ہے۔ (غالباً مخفی مشورہ میں کم ہی آدمی ہوا کرتے ہیں جن کی اکثریہ تعداد یہ ہوتی ہے) خواہ کم ہوں خواہ زیادہ ہر حال میں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر قیامت کے روز بتا دے گا کہ کیا کرتے تھے، وہ ہر بات جانتا ہے۔ مخفی مشورے کے ذکر کے بعد خاص مشورہ ہی کی بابت ایک مناسب حکم دینے کا موقع آگیا اس لیے بری باتوں کے لیے مخفی مشورت اور کانا پھونسی کی ممانعت کس عمدہ پیرائے میں بیان فرماتا ہے۔ فقال الم ترالی الذین نہواعن النجوٰی کہ اے پیغمبر ! ﷺ کیا آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے کہ جو مخفی مشورہ سے منع کئے گئے تھے وہ باز نہیں آتے، پھر کرتے ہیں اور کس بات کی کا ناپھونسی کرتے ہیں ؟ گناہ اور بغاوت کی، رسول کی نافرمانی کی اور اسی پر بس نہیں جب وہ اے رسول ! تیرے پاس آتے ہیں تو سلام اس طرح سے کرتے ہیں کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے نہیں کیا خدا نے سلام علی عبادہ الذین اصطفٰی فرمایا ہے اور السلام علیکم سنت قرار پائی ہے مگر یہ کمبخت ان لفظوں سے سلام نہیں کرتے یا تو السام 1 ؎ علیک زبان دبا کر کرتے ہیں یا انعم صباحاً وغیرہ الفاظ۔ اور جب مجلس سے باہر جاتے تھے تو دلیری سے کہتے تھے خدا ہماری باتوں پر ہمیں کیوں عذاب نہیں دیتا۔ ان کو جہنم کی سزا ہے مگر دنیا میں جلدی نہیں کرتا وہ بہت بری جگہ ہے۔
معتبر روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ مدینے کے منافق اور بنی قریظہ و بنی نضیر کے یہود جو آس پاس رہتے تھے مسلمانوں کو حیران و پریشان کرنے کے واسطے لوگوں کو دکھا کر دوچار الگ بیٹھ کر سرگوشی کرتے اور آنکھوں بھوئوں سے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے جاتے اس سے مسلمانوں کو تشویش پیدا ہوتی تھی کیونکہ اس وقت بدامنی تھی، کفار کا غلبہ تھا آنحضرت ﷺ نے ان کو منع کردیا تھا مگر پھر بھی باز نہ آتے تھے۔ اور اسی طرح السلام علیکم کی جگہ جو شعائرِ اسلامیہ ہے کہیں السام علیک کہیں انعم صباحاً 2 ؎ کہتے تھے مقصود خلاف کرنا ہوتا تھا۔
Ayah 58:91 ؎ سام موت مدینے کے یہود ایسا کرتے تھے دبخت لوگوں میں ایسی کمینگی اور چالاکی اور گستاخی کی عادت اخلاق کریمانہ کی جگہ ہوجاتی ہے۔ 12 منہ
2 ؎ اسلام کا آسمانی قانون جس طرح روحانی اور اخلاق امور کی تعلیم کرتا ہے اسی طرح بعض رسمی اور علامتی باتوں کو بھی بڑے زور سے قائم کرتا ہے خصوصاً ان اوفضاع واطوار کو جو صحابہ ؓ پیغمبر ﷺ کے تھے جو اسلامیوں کے نشان اور علامات قرار دیے گئے ہیں (جیسا کہ ڈاڑھی رکھنا مونچھیں کتروانا ناخن لوانا زیر ناف کے بال لبنا ختنہ کرنا آپس میں بوقت ملاقات السلام علیکم کہنا) اس کا غلبہ اور قوموں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ ان باتوں میں پیروی کریں اوروں کو جھکاتا ہے مبتذل اور فاحشہ کی طرح ایک کی طرف آپ اپنے کپڑے اور وضع بدل کر جھکنا نہیں چاہتا دیکھو آج کل شوکت انگریزی لوگوں کو اپنی زبان و اوضاع کی طرف کھینچ رہی ہے حالانکہ ملکی مصلحت یہ تھی کہ خود انگریز رعایا کی زبان واطوار کا تتبع کرتے۔ 12 منہ
Ayahs 58:10–11ترکیب : لیحزن خبرآخر لانما النجوٰی والاول من الشیطان والذین اوتوالعلم فی محل النصب لکونہ معطوفا علی الذین آمنوا درجات منصوبۃ بالتمیز۔
تفسیر : پہلے مخفی مشاورت کی برائی بیان ہوئی تھی اب یہاں مسلمانوں کو مشورے کی بابت حکم دیتا ہے۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا الخ کہ مخفی مشورہ بالکل ممنوع نہیں ہاں اگر ہو تو گناہ اور بغاوت اور رسول کی نافرمانی کی بابت نہ ہو بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں کے لیے ہونا چاہیے اور اگر مصالح دنیاویہ کی بابت ہو بشرطیکہ گناہ اور بغاوت اور نافرمانی رسول نہ ہو تو کچھ مضائقہ نہیں اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ اسی کے پاس جمع ہونا ہے قیامت میں یا مرنے کے بعد عالم ارواح میں۔ اب اس پہلے مخفی مشورے کی حالت بیان فرماتا ہے۔ انما النجویٰ الخ کہ وہ مشورہ شیطانی اور مسلمانوں کو رنج دینے کے لیے ہے اور خدا کی مرضی بغیر اس سے ضرر تو کیا دے سکتے ہیں ؟ اور ایمانداروں کا اللہ ہی پر بھروسا ہوتا ہے۔ وہ مخفی مشورہ اور اشاروں کی کچھ پروا نہیں کرتے یعنی نہ کرنا چاہیے۔
آداب مجلس : مخفی مشورہ جس طرح مجلس میں حضّار جلسہ کی پریشانی و رنج کا باعث ہے بلاضرورت کرنا وہ ممنوع کیا گیا اسی طرح مجلس میں پہنچ کر بیٹھنا اور آنے والے کو جگہ نہ دینا یا خواہ مخواہ جگہ تنگ کرنے کے لیے اڑ جانا بھی اہل مجلس اور قومی جماعت اور سردار کو رنج دینے والی بات تھی اس لیے اس کی بھی اصلاح کرنی ضرور تھی فقال یا ایہا الذین آمنوا اذا قیل لکم تفسحوا الخ یہ نشست و برخاست کی بابت دو حکم ہیں جو سراپا تہذیب ہیں۔ (1) یہ کہ جب مجالس میں (عام ہے کہ نبی ﷺ کی مجلس ہو یا کسی دینی بزرگ کی یا وعظ و پند کی یا مصالح دینی و دنیوی میں مشورہ کرنے کی یا کوئی تدبیر ملکی ومصلحت قومی کی) تنگ ہو کر نہ بیٹھو اور جب تم کو سردار کشادہ ہونے کا حکم دے تو کھل کر بیٹھو اللہ تمہارے لیے کشائش عطا کرے گا دنیا میں اور دنیاوی امور میں ‘ قبر میں ‘ آخرت میں ‘ فہم و عقل میں ‘ دائرہ محبت و اخوت اسلامی و قومی میں۔ مجلس میں کھل کر بیٹھنے سے دائرہ محبت و تہذیب کھل جائے گا۔ (2) واذا قیل انشزوا الخ کہ جب تم کو سردار جانے کے لیے کہے تو چلے جاؤ حکم سن لیا جو کام تھا کرلیا چل دیے، اژدہام کرنے کو اڑ کر نہ بیٹھو کہ سردار پر اور دیگر آنے والوں پر شاق گزرے۔ دعوت و عیادت میں بھی زیادہ جم کر نہ بیٹھنا چاہیے۔ تم سردار کے کہنے سے مجلس سے اٹھ کھڑے ہو گے تو خدا تمہارے میں سے ایمانداروں بالخصوص علم والوں کے درجے بلند کرے گا اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے۔ یعنی تم اٹھنے میں جو بلند ہوتے ہو تو درجے میں بھی بلندی حاصل کرتے ہو۔ عجب پر معنی لفظ ہے یہ بھی اور اس سے پہلا یفسح اللہ بھی۔ اس آیت میں اہل مجلس کے مراتب بھی اشارۃً بیان کردیے کہ اسلامی مجلس میں ترجیح ایمان و علم سے ہے نہ کثرت مال و اسبابِ و زن و فرزند سے۔ علم کے فضائل احادیث صحیحہ میں اس قدر بیان ہیں کہ جن کے ذکر کو ایک دفتر چاہیے۔
مباحث : (1) مشورہ اور ہے جس کا حکم خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کریم ﷺ کو دیا شا ورھم فی الامر فرمایا۔ نجوٰی اور چیز ہے۔ نجوٰی بھی مشورہ ہے مگر مخفی اور تھوڑے آدمیوں میں ہوتا ہے اور مشورے میں یہ قید نہیں بلکہ کبھی وہ علی رؤس الاشہاد سب کے سامنے ہوتا ہے رائوں میں سقم و صحت دریافت کرنے کے لیے جو کسی خاص بات میں دی جاتی ہیں۔ یہ عمدہ چیز کس لیے کہ ہر قسم کے لوگ اور مختلف ذہنوں اور دماغوں کا (جو مختلف تجربے اور کامیابی و ناکامی کی ورزش کئے ہوئے ہوں) کسی بات پر توجہ کرنا مجموعی قوت کے لحاظ سے بڑا اثر رکھتا ہے۔ اسلامی سلطنت جو آسمانی سلطنت کے نائب سے بائبل میں نامزد کی گئی ہے اسی مشورے پر مبنی تھی اور جمہوری تھی مگر رفتہ رفتہ بعد زمانہ نبی ﷺ کی وجہ سے یا قومی نحوست و بدبختی سے جس طرح اور باتوں میں فرق آتا گیا اس میں بھی آیا سلطنت شخصی رہ گئی جس میں ایک ہی شخص پر تمام بار پڑتا ہے۔ اگر وہ لائق اور مدبر اور اولوالعزم ہو تو اس نے بڑے بڑے کارنمایاں کئے اور اس کے مرتے ہی وہ چراغ گل ہوگیا اور اگر جمہوری ہوتی تو کیوں چراغ گل ہوتا اور نیز شخصی سلطنت میں بادشاہ کو غیرمحدود اختیارات حاصل ہونے سے وہ لہو ولعب ‘ جو روظلم خلاف قانون مذہب و ملت خلاف دستور جو چاہے کرسکتا ہے۔ خزانہ شاہی خاص اس کی ملک ہوتا ہے جس کا بڑا حصہ اس کے شہوانی اور آسائشی کاموں میں صرف ہوتا ہے اور پھر اس کو انتظام ملک و تدابیر سلطنت و بقائے قوت اعوانیہ و تحفظ جماعت و نظر ‘ قوانین سلطنت و ملک و ملت و انتخاب کارکنان سلطنت کے لیے کوئی وقت بھی نہیں ملتا۔ اس غافل کے کارکن وقت کو غنیمت جان کر خوب دست برد کرتے ہیں اس لیے ملک برباد سلطنت تمام ہوجاتی ہے اور نیزبدخواہان سلطنت یہ سمجھ کر اس ایک شخص کے مارنے سے ملک ہاتھ لگتا ہے مارنے میں کوشش کرنے کرتے ہیں جس لیے بادشاہ اپنی جان کو سپاہیوں کی حفاظت میں رکھتا ہے اور کھانے پینے ‘ پھرنے چلنے میں اس کی آزادی جاتی رہتی ہے وہ ایک قیدی یا ایک بیمار ہوتا ہے جو ہر کہیں نہیں جاسکتا ‘ نہ ہر کسی کے ہاتھ کا کھانا کھا سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو اپنی بیوی اور اولاد اور خاندان سے بھی اطمینان نہیں رہتا۔ یہ کیسی مصیبت ہے ؟ اگر جمہوری ہو تو اس کا بوجھ بھی بٹ جائے اور نہ کوئی اس کے مارنے کا قصد کرے نہ اس کے مرنے سے اپنی کامیابی تصور کرے کیونکہ جانتا ہے قوم کو اختیار ہے جو بعد میں بھی باقی ہے۔
ہمارے بادشاہوں نے باغ لگائے، سڑکیں بنائیں، قلعے مستحکم چنائے مگر ایسے پودے نہ لگائے کہ ان کی چھائوں میں ملک و سلطنت کو بیٹھنا نصیب ہوتا یعنی جمہوری کرنے کے لیے قوم و ملک میں ایسے حوصلے اور علوم کارآمد شائع نہ کئے کہ جس سے عمدہ افراد پیدا ہوتے اور ہر شخص ملک و سطنت کو اپنی جان کر سچی ہمدردی اور کامل سرگرمی کرتا۔
نجوٰی یعنی کانا پھونسی اور وہ بھی ایک مجلس میں خصوص بڑے شخص کے سامنے دینی و دنیاوی شہنشاہ رسول کریم ﷺ کے روبرو بدمعاشوں اور چوٹوں کا کمینہ فعل ہے اس لیے اس کو من الشیطان اور مومینن کو رنج رساں کہا تھا۔ اس لیے ان آیات میں اذاتناجیتم الخ اس پیرایہ سے ذکر کیا کہ جس سے نجوٰی کی کوئی خوبی اور بہتری نہیں نکلتی کیونکہ یوں فرمایا کہ اگر سرگوشی کرو یا جب کبھی سرگوشی کرو تو بری باتوں کے لیے نہ کرو اچھی باتوں کے لیے کرو وتنا جو ابالبر الخ اس تقدیر پر پہلے کلام کا تتمہ ہے مستقل حکم نہیں۔
(2) اثم گناہ۔ عدوان، سرکشی ‘ بغاوت ‘ معصیت الرسول رسول کی نافرمانی، یہ تین باتیں ہوئیں بظاہر تینوں کے مقصد میں کوئی فرق نہیں، گناہ سب کو شامل ہے مگر گناہ دو قسم کے ہیں۔ ایک بندوں کی حق تلفی ان پر ظلم و زیادتی، دوسرے خدا تعالیٰ کے گناہ نماز نہ پڑھنا، روزہ نہ رکھنا وغیرہ گناہ کی تفسیر بالتفصیل عدوان کے ساتھ اور دوسروں کی معصیت الرسول کے ساتھ کی۔ کس لیے کہ ان امور کا ثبوت کہ جن کے ترک و فعل سے گناہ ہوتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے بیان سے ہے بوحی متلویاغیرمتلو اور اس میں باریک فرق ہے جس کے ذکر کی گنجائش نہیں۔
(3) بر نیکی نیک سلوک کرنا تقویٰ پرہیزگاری برعدوان کے مقابلے میں اور تقویٰ معصیت الرسول کے مقابلے میں ذکر کی اور جس طرح اثم نہی میں دونوں کو شامل تھا اسی طرح یہاں امر میں اتقواللہ دونوں کو شامل ہے اور اللہ کی صفت میں الذی الیہ تحشرون کا ذکر منہی عنہ سے بچنے اور مامور کے بجالانے کا باعث ہے کیونکہ جب انسان یہ خیال کرلیتا ہے کہ ہم سب کو خدا کے پاس جمع ہونا اور بندوں کے حقوق کا مطالبہ ہونا اور اپنے گناہوں سے بھی پوچھا جانا ہے تو بری باتوں سے بچے گا اور نیک باتوں کو کرے گا۔
Ayahs 58:12–13ترکیب : اذا ناجیتم الخ شرط فقدموا جو ابہ والجملۃ نداء بین یدی بمعنی قبل ای قبل نجوٰکم۔ ھوظرف لقدمو اوصدقہ مفعولہ۔ ذٰلک مبتداء خیرلکم خبرہ و اطہر خبر بعد خبروشفقۃ مہربانی شفق کذلک۔ اشفاق ترسیدن از کسے یا چیزے ازمہربانی بروے صلہ بعلٰی وبمعنی ترسیدن ازک سے وصلتہ بمن۔
تفسیر : پہلے صرف سرگوشی کی برائی بیان فرمائی تھی کہ یہ شیطانی کام اور رنج دہندہ بات ہے۔ خیر یہ تو ان کی باہمی مشورت کے لیے حکم تھا جو آنحضرت ﷺ کی مجلس میں خواہ مخواہ سرگوشیاں کر کے مسلمانوں کو وحشت دلاتے تھے۔ مگر منافق تو عجب حیلہ گر تھے۔ اب آنحضرت ﷺ سے سرگوشی کرنی اختیار کی۔ بات کچھ نہیں یوں ہی مشیخت جتانے کے لیے اور اس لیے کہ اس عرصے میں آنحضرت ﷺ کو وعظ و پند تلقین کرنے کا موقع نہ ملے نہ مسلمانوں کو کسی بات کے دریافت کرنے کا موقع ملے۔ آنحضرت ﷺ سے عرض کرتے کہ آپ سے کچھ مخفی عرض کرنا ہے۔ کان جھکا کر ادھر ادھر کے قافیے ملانے لگتے۔ آپ سراسر اخلاق مجسم تھے۔ جانتے تھے کہ بیہودہ کام کی بات میں مشورہ نہیں مگر پھر بھی اخلاق کریمانہ سے کسی کی دل آزاری بھری مجلس میں پسند نہ کرتے تھے۔ مسلمانوں پر شاق گزرتا تھا اس لیے خدا تعالیٰ نے یہ ایک خاص حکم اس بارے میں نازل فرما دیا۔ فقال یا ایہا الذین آمنوا اذاناجیتم الرسول الخ کہ اے مسلمانو ! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اس سے پہلے صدقہ دے لیا کرو۔
ایسی سرگوشیاں منافق کیا کرتے تھے مگر رسول پاک ﷺ کے تو اخلاق کریمانہ تھے ہی اللہ تعالیٰ کی ستاری و دلجوئی کو دیکھو یہ نہ فرمایا کہ اے منافقو ! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو پہلے صدقہ دے لیا کرو۔ اس میں کئی باتیں بری پیدا ہوجاتیں۔ ایک تو ان منافقوں کا پردہ کھل جاتا۔ دوسرے منافق کہنے میں ان کو بڑی ندامت و شرمندگی اور رنج ہوتا۔ تیسرے اخلاص اور ایمان کی امید ان سے منقطع ہوجاتی کس لیے کہ جب اللہ نے ان کو منافق کہہ دیا تو پھر مومن کیسے ہوسکتے ہیں حالانکہ ان میں سے بہت لوگ اخیر میں مخلص اور سچے ایماندار ہوگئے گویا آمنوا کے لفظ سے یاد کرنا ان کے حق میں نیک فالی اور ایک طرح کی پیشین گوئی اور ایک مژدہ تھا۔ چوتھے ان میں منافقوں ہی کی تخصیص ہوجاتی، ایمانداروں کے لیے یہ حکم نہ ہوتا حالانکہ ان کے لیے بھی تھا کس لیے کہ رسول خدا ﷺ سے ہر کس و ناکس کا ہر بات میں مخفی طور سے سرگوشی کرنا منصب رسالت کے کاموں میں حرج کرنا ہے اور رسول کو اس کے اعلیٰ مقاصد سے روکنا ہے۔ فی الجملہ یہ بھی ایک قسم کی خطا ہے جس کا کفارہ اس کے وقوعہ سے پہلے صدقہ دینے کا حکم ہوا یعنی یہاں ادھار نہیں نقدا نقد ہے۔ پہلے صدقہ دے لو پھر رسول ﷺ سے سرگوشی کرو۔ پانچویں اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جب ہم نے مسلمانوں کو ان کی ضروری اور غیرضروری باتوں میں صدقے کا حکم دیا تو منافقوں کو کیوں نہ ہو کہ وہ نہ دیا کریں۔ کیا پر حکمت بول چال ہے۔ انہیں باتوں کی رعایت رکھنا تو اعلیٰ درجہ کی بلاغت ہے۔
اس صدقہ دینے کے حکم میں چند مصلحتیں ہیں۔ (1) ایک تو یہی کہ اس حرج کا کفارہ ہے۔ (2) یہ کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی عظمت کا اظہار ہے۔ (3) مخلصین اور غیرمخلصین کا امتحان ہے۔ (4) سب سے بڑھ کر مصلحت سرگوشیوں کا انسداد ہے۔ پہلے تو مفت مفت آنحضرت ﷺ سے کان میں کہہ دینا آسان بات تھی مگر اب تو صدقہ دینا پڑا اس لیے یہ سرگوشی بہت کم ہوگئی اور کس لطف کے ساتھ کم کی گئی ؟ دنیا کے عقلاء جب کسی بات کی قلت اور اس کا انسداد چاہتے ہیں تو دفعۃً اس کے بند اور معدوم کرنے کا حکم نہیں دیتے بلکہ اس پر کوئی ٹیکس یا جرمانہ یا فیس قائم کردیتے ہیں جس کی صدہا نظایر آج کل موجود ہیں۔ قرآن روحانی اخلاق تو سکھاتا ہی ہے دنیاوی تدابیر بھی تعلیم کرتا ہے۔ نیک لوگوں نے اس مسئلہ کو اپنے اخلاق ذمیمہ کم کرنے پر بہت برتا ہے اور خوب عمدہ نتائج پیدا کئے ہیں۔ کسی بزرگ نے التزام رکھا تھا کہ اگر کسی کی غیبت یا کوئی جھوٹی بات یا کوئی ایذا دہندہ کلمہ منہ سے نکلے گا تو سات روزے رکھوں گا دو ایک بار روزے رکھے پھر نفس کو خبر ہوگئی زبان بھی گھل گئی اسی طرح اور باتوں پر بھی ایسے احکام لگا رکھے تھے ایسے باخدا اپنی اصلاح میں شب و روز سرگرم رہتے ہیں اور یہی جہاد اکبر ہے جس نے نفس پر اس کی شہوانی خواہشوں کے روکنے میں فتح پائی اس نے اقلیم جاودانی کو حاصل کرلیا۔
فائدہ : آیت میں اس صدقہ کی کوئی مقدار بیان نہ ہوئی کہ کس قدر ؟ اور نہ یقین کہ کیا چیز دے اور کس کو دے۔ ان سب باتوں کو سہولت کے لیے عرف پر چھوڑ دیا اور صدقہ نکرہ لا کر اس بات کی طرف اشارہ کردیا۔ مسئلہ : یہ صدقہ کیا واجب تھا یا مندوب ؟ بعض علماء کہتے ہیں واجب تھا بعض کہتے ہیں مندوب تھا، آیت کے اخیر الفاظ بتا رہے ہیں جیسا کہ فان لم تجدوا۔ واشفقتم الخ خیر جو کچھ ہو مگر کیا یہ حکم اخیر تک باقی رہا تھا یا منسوخ ہوگیا تھا ؟ اکثر علماء کہتے ہیں پھر منسوخ ہوگیا تھا اور یہ اخیر جملے جو بعد میں نازل ہوئے تھے ناسخ ہیں اور وہ یہ ہیں فان لم تجدوا الخ اور اشفقتم الخ اور یہ سرگوشی کی عادت بھی جاتی رہی تھی جو مسلم کہتے ہیں جن جملوں کو ناسخ قرار دیتے ہو ان میں کوئی بات پہلے حکم کے مخالف نہیں یا تاکید ہے یا تشریح پھر کیونکر ناسخ، کہا گیا ؟ بلکہ یہ حکم باقی رہا اس کی وجہ سے یہ فعل بھی جاتا رہا اور بہت سے منافق رفتہ رفتہ مخلصین ہوگئے۔
صدقے کی نسبت فرمایا تھا ذلک خیرلکم واطھر کہ یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ بات ہے۔ بہتر میں۔ چار اخیر مصلحتوں کی طرف اشارہ ہے اور اطہر میں پہلی مصلحت کی طرف۔ پھر فرماتا ہے فان لم تجدوا الخ اگر تمہیں صدقہ دینے کا مقدور نہ ہو تو خیر معاف ہے پھر اسی پہلی آیت کے تمام مضمون کی تاکید کرتا ہے۔ فقال اشفقتم ان تقدموا بین یدی نجواکم صدقات کہ کیا تم اپنے مشورے سے پہلے صدقہ دینے سے ڈر گئے ؟ یعنی نہ ڈرو صدقہ دو صدقے میں بہتری اور پاکیزگی ہے فاذکم تفعلوا۔ پھر اگر نہ کرو جیسا کہ فان لم تجدوا میں ذکر تھا۔ یعنی بےمقدوری کی وجہ سے صدقہ نہ دے سکو اور تاب اللہ علیکم اللہ نے تم کو معاف بھی اسی حالت میں کردیا ہے تو اقیموا الصلوٰۃ الخ نیک کام کیا کرو۔ نماز پڑھو، زکوٰۃ دو ، اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے اس پر کوئی بات مخفی نہیں۔
فائدہ : پہلے تو صدقہ سفرو نفط فرمایا تھا کس لیے کہ حکم کے وقت ماموربہ کو تھوڑا دکھانے میں مکلف کی ہمت بڑھتی ہے کہ یہ تھوڑی سی بات ہے اسے کرلوں گا مگر اخیر میں بلحاظ افراد مخاطبین یا افراد صدقہ جمع کا لفظ صدقات ارشاد فرمایا۔ فائدہ : بعض علماء فرماتے ہیں خصوصاً جو اس کے منسوخ ہونے کے قائل ہیں کہ فاذلم تفعلوا میں بیمقدوری سے صدقہ نہ دینا مراد نہیں کس لیے کہ اگر یہ ہوتا اقیموا الصلوٰۃ کے بعد آتوا الزکوٰۃ نہ فرمایا کس لیے کہ مفلس کیا زکوٰۃ دے گا جو تھوڑا سا صدقہ نہ دے سکا ؟ بلکہ حکم کو منسوخ کرتا ہے کہ اگر ایسا نہ کرو تو تمہیں اختیار ہے۔ اس تقدیر پر یہ پہلی آیت کی تصریح و تاکید نہیں بلکہ جدید حکم ہے۔
Ayahs 58:14–18ترکیب : ماھم منکم ولامنہم جملۃ مستانفۃ اوحال من فاعل تولوا و یحلفون عطف علی تولواداخل فی حکم التعجب وصیغۃ المضارع للدلالۃ علی تکرار الحلف و تجددہ۔ وھم یعلمون حال من فاعل یحلفون لتفید شناعۃ قولھم لان الحلف علی مایعلم انہ کذب فی غایۃ القبح۔ یوم یبعثھم قیل ظرف لقولہ تعالیٰ لھم عذاب مھین۔
تفسیر : پہلی آیتوں میں منافقوں کے اعمالِ بد کا ذکر تھا جو اہل ایمان کی ایذاء اور پریشانی خاطر کے باعث ہوتے تھے یعنی کانا پھونسی کرنا۔ اب اس جگہ ان کی دوسری بدعات ایذا دینے والی ذکر کرتا ہے تاکہ اس سے باز آئیں اور دیگر مسلمان بھی دور رہیں فقال الم تر الخ اور وہ بدبات یہ تھی کہ منافق اس قوم سے (کہ جس پر غضب الٰہی ہے یعنی یہود) مخفی یارانہ رکھتے تھے اور اس یارانے میں بھی سچے اور قائم نہ تھے نہ یہود کے ساتھ نہ اہل اسلام کے ساتھ۔ مذبذبین بین ذٰلک اور مسلمانوں کے روبرو آ کر جھوٹی 1 ؎ قسمیں کھایا کرتے۔ یہ مجموعہ ناپسند اور ایذا وہ کام تھا۔ اگر یارانہ یہود سے کیا تھا تو صاف کہہ دیتے مسلمان پھر ان سے بھی خبردار رہتے۔ اس سازش کو چھپانا اور بھی ظلم تھا۔ اس نکوہیدہ بات کو تعجب کے صیغوں میں بیان فرمایا کہ اے نبی ! تم نے وہ لوگ بھی دیکھے جو ایسا کرتے ہیں ؟ اس سے مقصود حضرت ﷺ کا دیکھنا دریافت کرنا نہیں بلکہ یہ محاورہ تعجب اور افسوس کے لیے ہے۔ یہود کا نام نہیں لیا بلکہ یوں کہہ دیا کہ ان سے ملتے ہیں جن پر خدا کا غضب ہوا۔ یہ اس لیے کہ یہود سے بالذات ملنے کی کوئی ممانعت نہیں بلکہ اس لیے کہ وہ مقہور قوم ہے۔ مقہور اور مدبر لوگوں کے ساتھی ہونے میں انسان خود بھی قہر الٰہی میں آجاتا ہے۔ ڈوبتی کشتی کا بچانے والا آپ بھی ڈوبتا ہے۔ یہ ایک بڑی کارآمد بات ہے۔ کبھی بد اقبال اور مقہور لوگوں سے میل جول نہ کرے۔ یہود ایک متبرک اور خاندانی قوم تھی، دینی اور دنیاوی دونوں جہت سے مگر جس طرح ہر حادث کی عمر طبعی ہے قومی اقبالوں کی بھی ہے ان کے اقبال کی عمر ہوچکی تھی۔ مدت سے ستارہ اقبال غروب ہوچکا تھا۔ سخت اندھیریوں کے عمیق گڑھے میں پڑے ہوئے تھے اپنے بزرگوں پر تفاخر اور خاندان پر ناز ان کا مایہ بساط تھا اور اس لیے من گھڑت منصوبے بھی باندھ رکھے تھے کہ ہم انبیاء زادے ہیں، دوزخ ہمارے لیے نہیں کس لیے کہ ہم نبی کا جزو بدن ہیں اور نبی کا جزو بدن جہنم میں نہیں جائے گا۔ ہم جو چاہیں کریں، بھلا دوسرے خاندان کے کسی شخص کو ہم مانیں ؟ (افسوس مسلمانوں میں بھی بعض لوگوں کی اس کے قریب قریب نوبت آگئی ہے خصوصاً مصنوعی سید اور نالائق بزرگ زادے ایسی باتیں بنایا کرتے ہیں اور بادشاہوں اور امیروں کی بداقبال اور کمبخت اولاد لاف زنیوں کو فوز مرام کا وسیلہ جانتی ہے خود کچھ بھی نہیں ہوتے) اس لیے وہ نبی کریم ﷺ کے سخت دشمن ہوگئے تھے۔ مدینے کے پاس ان کے دو قبیلے رہتے تھے۔ یہ مدینے کے منافق ان سے ملا کرتے تھے اور برائیاں کیا کرتے تھے۔ ان قسموں کو اپنے بچاؤ کے لیے ڈھال یا آڑ بنا رکھا تھا۔ فرماتا ہے ان کو ذلت کا عذاب ہے۔ ان کے اولاد و مال آخرت میں کچھ کام نہ آئے گی جس کے لیے خدا کے دشمنوں سے یارانہ کرتے ہیں۔ یہ جہنمی ہیں، ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ جس روز اللہ ان کو باردگر زندہ کرے گا یعنی قیامت میں وہاں بھی اپنی عادت کے موافق اسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے لیے کھاتے ہیں ؟ اور جانتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں، مگر جھوٹے ہیں۔ ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے قوائے بہیمیہ ملکیہ پر غالب آگئے ہیں اس لیے اللہ کو بھول گئے، یہ شیطانی گروہ ہے اور شیطانی گروہ خسارے میں ہے۔ تقدیر پھوٹے کمبخت لوگ ہیں۔
1 ؎ چناچہ سدی و مقاتل کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن نثبل منافق آنحضرت ﷺ کے پاس اکثر بیٹھا کرتا تھا پھر یہود میں جاکر باتیں بنایا کرتا اور عیب جوئی کرتا اور برا بھلا کہتا ایک بار آنحضرت ﷺ نے اس سے پوچھا تو کس لیے اور کس بات پر برا بھلا کہتا ہے قسمیں کھانے لگا اس کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے جس کو بعض مفسروں نے یوں تعبیر کیا کہ اس کی شان میں یہ آیت نازل ہوئیں۔ 12 منہ
1 ؎ وھم یعلمون کی قید سے جاحظ کا قول غلط ہوگیا جو کہتا ہے کہ خلاف واقع بات کہنے سے جب جھوٹ ہوگا کہ جب جانتا بھی ہو کہ یہ خلاف واقع ہے کس لیے کہ اگر ایسا ہوتا تو ھم یعلمون الفاظ ہوجائے بلکہ ثابت ہوگیا کہ جھوٹ دو قسم پر ہے ایک یہ کہ بیخبر ی میں خلاف واقع بات کے دوسرے یہ کہ جان کر کہے یہ سخت ہے پہلے سے۔ 12 منہ
2 ؎ انسان کا ملکات روحانیہ پر قائم نہ رہنا کبھی اون اس بہیمہ کی طرف مائل ہونا کبھی ملکوتیہ کی طرف یہ بھی اہل طریقت کے نزدیک نفاق ہے اہل شریعت کے نزدیک دل میں کچھ ہو زبان سے اور کچھ کہے نفاق کا شعبہ ہے اور روایت میں منافقوں سے وہ لوگ مراد ہیں جو زبان سے کلمہ توحید پڑھتے تھے باطن میں کافر تھے۔ 12 منہ
Ayah 58:193 ؎ استحوذ لم یبدل الواؤ بالالف مع وجود الفائدۃ۔
Ayahs 58:20–21ترکیب : اولئک الجملۃ خبر ان الذین لاتجد امامتعدالیٰ اثنین فقولہ تعالیٰ یوادون مفعولہ الثانی وامامتعدالی واحد فقولہ یوادون حال من مفعولہ لتحضصہ بالصفۃ وقیل صفۃ لقومٍ ولوکان متصلۃ بقولہ لاتجد الخ اولئک مبتداء کتب خبرہ وایدھم ویدخلھم معطوف علیہ۔
تفسیر : یہ کفار کی اسی دوستی کے متعلق بیان ہے کہ جس کا پہلے بیان ہوا تھا کہ خدا کے دشمنوں سے دوستی کرنا اللہ کو ناراض کرنا ہے اور جو اللہ کو ناراض کرتے ہیں وہ ذلیل ہیں۔ منافق یہود سے یارانہ اس لیے رکھتے ہیں کہ اس سے ہم کو عزت ہوگی اور ہم اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے۔ انہیں دونوں باتوں سے ان کا محروم رہنا بیان فرما دیا۔ پہلی بات کا اولئک فی الاذلین میں ان کا ذلیل ہونا ظاہر ہے کس لیے کہ عزت والا خدا تعالیٰ ہے ایسے عزت دار کے مخالف کو ذلت کے سوا اور کیا ہے۔ دوسری کا کتب اللہ لاغلبن اناء رسلی میں اللہ کے دفتر میں لکھا گیا کہ میں اور میرے رسول ہی غالب رہیں گے۔ بعض رسول منکروں کے مقابلے میں گوسر دست مغلوب ہوگئے تھے مگر انجام کار وہ منکر ہلاک و برباد ہوئے اس رسول کے گروہ کے لوگ غالب آئے۔
اس کے بعد کفار و مشرکین سے دوستی رکھنے کی ممانعت کا تاکیدی حکم دیتا ہے۔ فقال لاتجد قوماً الخ کہ اے محمد ﷺ یا اے ہر ایک اہل بصیرت ! تم اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان لانے والے لوگوں کو نہ دیکھو گے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرنے والوں سے دوستی رکھتے ہوں خواہ ان کا باپ ہو یا بیٹا ہو بھائی ہو یا برادری ہو۔ وہ سچے ایماندار کبھی ایسے لوگوں سے محبت نہیں رکھتے جو اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں۔ اس میں ان کا بھائی ہو یا باپ یا بیٹا کوئی کیوں نہ ہو وہ کسی کی اللہ کے مقابلے میں پروا نہیں کرتے۔ پھر ان سچے ایمانداروں کے (جو اللہ تعالیٰ کے لیے بھائی بیٹے باپ برادری کی پروا نہیں کرتے) چند اوصاف بیان فرماتا ہے۔ (1) کتب اللہ الخ کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان قائم کردیا۔ ان کے الواح قلوب پر ازلی قلم سے ایمان لکھا گیا وہ صرف زبانی ایمان والوں میں نہیں۔ (2) ایدھم بروح منہ کہ ان کی اپنی ہاں کی روح سے مدد کی روح مؤید کے علما نے کئی ایک معنی بیان فرمائے ہیں۔ نور قلب ‘ قرآن مجید دشمنوں پر فتحیابی ان سب کو روح کہا گیا اور ایسے ایمانداروں کی تائید ہوئی۔ سدی کہتے ہیں کہ منہ کی ضمیر ایمان کی طرف پھرتی ہے یعنی ان کی روحِ 1 ؎ ایمان سے مدد کی۔ کاتب الحروف کہتا ہے یہ بھی سہی مگر روح منہ روح القدس ہے جس سے خدا تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی تائید کرتا ہے جیسا کہ فرمایا ایدناہ بروح القدس اور آنحضرت ﷺ نے حسان ؓ کے حق میں فرمایا تھا۔ اللھم ایدہ بروح القدس پھر روح
1 ؎ روح حیات کا باعث ہے اور نو قلب وغیرہ ان کے استقلال کی حیا کا باعث ہے اس مشابہت سے ان پر لفظ روح کا اطلاق ہوا۔ 12 منہ
القدس کیا ہے اور اس سے کیونکر تائید ہوتی ہے ؟ اس کا بیان ایدناہ بروح القدس کی تفسیر میں دیکھو۔ (3) یدخلہم الخ ان کو ایسے باغوں میں رکھے گا کہ جن میں نہریں جاری ہیں، وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جسمانی بہشت کی طرف اشارہ تھا۔ (4) ؓ الخ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے۔ یہ روحانی بہشت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ سب انعام حضرات صحابہ ؓ کے نصیب ہوئے کس لیے کہ انہوں نے خصوصاً ابوبکر، عمر، عثمان، علی ؓ نے جنگ بدر، احد وغیرہ مواقع پر اپنے اقارب سے دل کھول کر جنگ کی اور ہر موقع پر آنحضرت ﷺ کے روبرو اور بعد میں دین پر ثابت قدم رہے اس لیے یہ خوبیاں ان کو نصیب ہوئیں۔ اس لیے صحابہ کے نام پر ؓ کہنے کا اہل سنت میں قدیم سے دستور ہوگیا ہے۔ (5) اولئک حزب اللہ 1 ؎ کہ یہ اللہ کا گروہ ہے جو فلاح پائے گا۔ اسلام میں اس نے اپنے فضل و کرم سے یہ بات عطا کردی کہ اہل حق کبھی مغلوب نہ ہوں گے۔ دیکھو صحابہ ؓ چند روز میں دنیا کی بڑی بڑی عالی شان سلطنتوں پر غالب 2 ؎ آگئے اور قیامت تک اہل حق غالب رہیں گے جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے۔ تعجب ہے کہ حضرت علی ؓ مغلوب ہو کر عمر بھر تقیہ کے ناگوار بوجھ میں دبے رہے جیسا کہ حضرات شیعہ کا اعتقاد ہے۔ اور وہ تو کیا ان کے امام مہدی ؓ بھی خائف و مغلوب رہے اور اب تک چھپے بیٹھے ہیں کیا ان کے لیے خدا کا یہ وعدہ نہیں ہے۔ فائدہ : کفار سے جو مودت و محبت ممنوع ہے وہ دینی امور اور اسلام کے مقابل دنیوی امور میں ہی رہی حسن معاشرت و خوش اخلاقی ‘ نیکی و احسان جس کے بنی آدم مستحق ہیں یہ ممنوع نہیں۔
Ayah 58:221 ؎ حزب اللہ ہونا صحابہ ؓ کا یہاں تک ہے کہ اہل بدر کے اسماء گرامی سحر و جادو و دفع غلبہ عداد شیاطین کے لیے عجب خاصیت رکھتے ہیں بارہا تجربہ یہ ہوا ہے ان کی روحانیت و اسمائے شریفہ میں یہ تاثیر خدا نے دی ہے۔ 12 منہ
2 ؎ دوسری جگہ غالبون بھی آیا ہے کہ اللہ کا گروہ غالب رہے گا۔ 12 منہ