Ayahs 60:1–3اللہ کے دشمنوں سے دوستی کرنے کی ممانعت
ان آیات کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ سے متعلق ہے۔
حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کا واقعہ :
انہوں نے اہل مکہ کو (جو اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے) ایک خفیہ خط لکھا جس کا واقعہ امام بخاری (رح) نے کتاب الجہاد صفحہ 422 اور کتاب المغازی صفحہ 567، صفحہ 286 اور کتاب التفسیر صفحہ 726 میں یوں لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ مجھے اور زبیر اور مقداد ؓ کو (اور بعض روایات میں حضرت ابومرثد غنوی ؓ کا نام بھی ہے) (یہ چاروں حضرات گھوڑا سوار تھے) رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور فرمایا کہ تم روانہ ہوجاؤ اور چلتے رہو یہاں تک کہ روضہ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں تمہیں مشرکین میں سے ایک عورت ملے گی جس کے پاس حاطب کی طرف سے مشرکین کے نام ایک رقعہ ملے گا، (شارح حدیث نے لکھا ہے کہ روضہ خاخ مدینہ منورہ سے بارہ میل کی مسافت پر ہے) حضرت علی ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم گھوڑوں کو دواڑتے ہوئے چلتے رہے یہاں تک کہ مقام مذکور تک پہنچ گئے، وہاں دیکھا کہ ایک عورت اونٹ پر جارہی ہے ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا دیا اور رقعہ تلاش کیا تو اس کے پاس کہیں سے بر آمد نہیں ہوا۔ ہم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے غلط نہیں فرمایا، اس کے پاس رقعہ ضرور ہوگا ہم نے کہا کہ تیرے پاس جو رقعہ ہے وہ نکال، کہنے لگی میرے پاس کوئی رقعہ نہیں ہے۔ ہم نے ذراز وردار طریقہ پر کہا پر چہ نکال ورنہ ہم تجھے ننگا کردیں گے، جب اس نے یہ انداز دیکھا تو اپنی کمر باندھنے کی جگہ سے اور بعض روایات میں ہے کہ اپنے سر کے بالوں کی مینڈھیوں سے پرچہ نکالا یہ پرچہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کی طرف سے مشرکین مکہ کے نام تھا، جس میں مشرکین کو یہ خبر دی تھی کہ رسول اللہ ﷺ تم لوگوں پر حملہ آور ہونے والے ہیں۔ حضرت علی ؓ اور ان کے ساتھی اس پرچہ کو لے کر مدینہ منورہ واپس آگئے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا۔ آپ کو جب اس کے مضمون کا علم ہوا تو فرمایا اے حاطب یہ کیا بات ہے ؟ حاطب ؓ نے کہا یارسول اللہ ! آپ میرے بارے میں جلدی نہ فرمائیں میں نے کفر اختیار کرنے اور مرتد ہونے کے لیے یہ پرچہ نہیں لکھا بات یہ ہے کہ میں قریش میں مل جل کر رہتا تھا ان کا حلیف تھا خود قریشی نہیں تھا۔ آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین ہیں مکہ مکرمہ میں ان کی رشتہ داریاں ہیں جن کے ذریعے ان کے اہل و عیال واموال محفوظ ہیں، مجھے یہ بات پسند آئی کہ ان سے میرا کوئی سلسلہ نسب نہیں ہے تو ان پر ایک احسان ہی دھردوں تاکہ وہاں جو میرے متعلقین ہیں ان کی حفاظت کا ایک بہانہ بن جائے (تفسیر قرطبی میں لکھا ہے کہ حضرت حاطب ؓ صلایمن کے رہنے والے تھے صفحہ 51: جلد 18) یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یارسول کے رہنے والے تھے صفحہ 51: جلد 18) یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے یہ فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا، حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن ماردوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حاطب نے غزوہ بدر میں شرکت کی ہے اور اللہ تعالیٰ نے شرکا بدر کے بارے میں فرمایا ہے کہ تم جو چاہو کرو میں نے تمہاری بخشش کردی ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ شانہ نے سورة ممتحنہ کی ابتداء آیات ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ سے ﴿فَقَدْ ضَلَّ سَوَآء السَّبِيْلِ 001﴾ تک نازل فرمائیں حضرت حاطب ؓ نے جو عمل کیا وہ تو غلط ہی تھا لیکن رسول اللہ ﷺ نے اس وجہ سے ان کو کوئی سزا دینا مناسب نہیں سمجھا کہ وہ شرکاء بدر میں سے تھے جن سے سوچ اور فکر کرنے میں خطا ہوگئی تھی۔ حضرت عمر ؓ کو جوش ایمانی کی وجہ سے یہ دھیان نہ رہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جو فرما دیا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اس کے بعد انہیں منافق کہنے اور گردن مارنے کا موقع نہیں ہے، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے شرکاء بدر میں ان کے شریک ہونے کی فضیلت بیان فرمائی تو حضرت عمر ؓ خاموش ہوگئے۔
البدایہ والنہایہ (صفحہ 284: ج 4) میں حضرت حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کے خط کی عبارت بھی نقل کی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ جب ان کا مواخذہ فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ میں نے نفاق سے یا اللہ کے رسول کی خیانت کی وجہ سے یہ خط نہیں لکھا تھا یہ تو میں جانتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو غالب فرمائے گا اور اپنے دین کو مکمل فرمائے گا لہٰذا میرے لکھنے نہ لکھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ہاں اتنی بات ہے کہ میں جب مکہ میں تھا تو ان کے درمیان پر دیسی تھا اور میری والدہ بھی وہیں ہیں لہٰذا میں نے چاہا کہ ان پر میرا کوئی احسان ہوجائے۔ یہ ان کی ایک سوچ تھی جس کی وجہ سے یہ خط لکھ دیا جو سورة ممتحنہ کی آیات کے نزول کا سبب بن گیا اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لئے تنبیہ ہوگئی جب یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے لئے عنقریب تشریف لے جا رہے ہیں اور آپ کو غلبہ ہونا ہی ہونا ہے تو چند دن کے لئے اہل مکہ یہ احسان دھرنے کی ضرورت ہی نہ تھی۔
اللہ جل شانہ نے اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میرے دشمنوں کو اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ، دشمنوں کی طرف دوستی پھینکنا اور ان کو یہ بتانا کہ ہم تمہارے ہمدرد ہیں اور دوست ہیں (گوظاہری طور پر ہو) یہ شان ایمان کے خلاف ہے جو گناہ کے کام ہیں وہ ظاہر کرویا پوشیدہ کرو میں انہیں خوب اچھی طرح جانتا ہوں۔ ایسی حرکت کرنا کوئی معمولی بات نہیں ہے جو بھی کوئی شخص ایسی حرکت کرے گا ﴿ سَوَآء السَّبِيْلِ ﴾ یعنی سیدھے راستے سے ہٹ جائے گا جو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا راستہ ہے۔ ﴿ اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِيْ 1ۖۗ تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ بالْمَوَدَّةِ ﴾ جو فرمایا یہ شرط ہے اس کی جزا محذوف ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم اپنے وطن کو چھوڑ کے اس لئے آئے ہو کہ میری راہ میں جہاد کرو، میری مرضی کے طالب بنو تو میرے اور اپنے دشمنوں کی طرف دوستی مت پھینکنا، مشرکین کا تو یہ حال ہے کہ انہوں نے حق کا انکار کردیا کفر پر جمے رہے اور رسول اللہ ﷺ کو اور تم لوگوں کو اپنے شہر سے نکال دیا جبکہ تمہارا کچھ بھی قصور نہ تھا بس اتنی بات تھی کہ تم اللہ پر ایمان لائے جو تمہارا رب ہے۔ یہ ایمان لانا اور مومن بندہ بنانا کوئی عیب کی بات نہیں جس کی وجہ سے کسی کو نکالا جائے ان کا تو یہ حال ہے کہ انہوں نے تمہیں شہر بدر کردیا اور ان کی یہ دشمنی پوری نہیں ہوگئی اور ابھی تک تمہارے دشمن ہیں ان کا یہ حال ہے کہ اگر وہ تم کو کہیں پالیں تو ان کی دشمنی ظاہر ہوجائے گی اور دست درازی بھی کریں گے اور زبان درازی بھی، تمہیں تکلیف پہنچانے کی اور قتل کرنے کی کوشش کریں گے اور تمہارے بارے میں برے الفاظ استعمال کریں گے اور ان کی یہ تمنا اور آرزو ہے کہ تم لوگ ایمان کو چھوڑ کر پھر کفر میں داخل ہوجاؤ یہ تو ان کا حال ہے اور تمہارا حال یہ ہے کہ چپکے سے ان کی طرف دوستی ڈالتے ہو جو سراسر شان ایمان کے خلاف ہے۔ ﴿ لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ 1ۛۚ ﴾ (قیامت کے دن تمہاری رشتہ داریاں اور تمہاری اولاد ہرگز تمہیں نفع نہ دیں گی) یہ ایک عام مضمون ہے ہر مسلمان سے متعلق ہے۔ خصوصی طور پر یہاں اس کا ذکر اس لئے فرمایا کہ حضرت حاطب ؓ نے جو خط بھیجا تھا اس کی معذرت کرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ میں نے اپنی رشتہ دار یوں کے خاطر بھیجا ہے تاکہ قریش مکہ پر میرا یہ احسان ہوجائے اور میرے اقرباء کو تکلیف نہ پہنچائیں رشتہ داریوں کا تو خیال رہا اور یہ دھیان نہ رہا کہ رسول اللہ کی جاسوسی کر بیٹھے سورة لقمان میں ارشاد فرمایا ہے : ﴿يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّكُمْ وَ اخْشَوْا يَوْمًا لَّا يَجْزِيْ وَالِدٌ عَنْ وَّلَدِهٖٞ وَ لَا مَوْلُوْدٌ هُوَ جَازٍ عَنْ وَّالِدِهٖ شَيْـًٔا 1ؕ﴾ (اے ایمان والو ! اپنے رب سے ڈرو اور اس دن سے ڈرو جس میں نہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے کچھ مطالبہ ادا کرسکے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی جانب سے کچھ مطالبہ ادا کرسکے گا۔
اور سورة عبس (آیت 33 تا 37) میں فرمایا : ﴿ فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُٞ0033 يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِۙ0034 وَ اُمِّهٖ وَ اَبِيْهِۙ0035 وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِيْهِؕ0036 لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ يَوْمَىِٕذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِؕ0037﴾ (پھر جس وقت کانوں کا بہرا کردینے والا شور برپا ہوگا ہر آدمی اپنے بھائی سے اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنی اولاد سے بھاگے گا ان میں سے ہر شخص کو ایسا مشغلہ ہوگا جو اس کو کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا) ۔
جب رشتہ داروں کا یہ حال ہوگا تو دوسرے لوگ کیا کام آسکتے ہیں جس دن انسان سب اوقات اور احوال سے زیادہ حاجت مند ہوگا سب ہی اس سے دور بھاگیں گے ان سے دوستی کرنا اور ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ ﷺ کی جاسوسی کرنا ایمان کے صریح خلاف ہے۔
جاسوسی کا شرعی حکم :
فائدہ : حضرت امام ابوداؤد (رح) نے کتاب الجہاد میں باب فی حکم الجاسوس اذا کان مسلما قائم کیا ہے اور اس کے ذیل میں حضرت حاطب ؓ کا قصہ لکھا ہے اس کے بعد باب فی الجاسوس الذمی اور اس کے بعد تیسرا باب باب فی الجاسوس المستامن قائم کیا ہے۔
جاسوس مسلم، جاسوس ذمی، جاسوس مستامن یہ تین قسم کے جاسوس ہوئے اور چوتھا جاسوس حربی ہے۔ جس سے کوئی معاہدہ نہ ہو ان چاروں قسم کے جاسوسوں کے بارے میں حضرات فقہاء کرام کے مختلف اقوال ہیں شارح مسلم امام نووی نے فرمایا کہ جاسوس حربی تو باجماع المسلمین قتل کردیا جائے گا اور جو جاسوس معاہد اور ذمی ہے اس کے بارے میں حضرت امام مالک اور امام اوزاعی ؓ نے فرمایا ہے کہ جاسوسی کی وجہ سے معاہدہ ٹوٹ جائے گا اب امام المسلمین اسے غلام بھی بناسکتا ہے اور قتل کی بھی اجازت ہے اور جمہور علماء کا فرمان ہے کہ اس سے اس کا معاہدہ منقوض نہیں ہوگا، ہاں اگر معاہدہ میں یہ شرط لگالی گئی تھی کہ جاسوسی کرے گا تو معاہدہ منسوخ ہوجائے گا تو پھر نقض عہد میں شمار ہوگا اور جو شخص مسلمانوں میں سے جاسوسی کرے اس کے بارے میں امام شافعی اور امام اوزاعی اور امام ابوحنیفہ اور بعض مالکیہ ؓ امام المسلمین اس کو جو چاہے تعزیز کے طور پر سزادیدے اور اسے قتل کرنا جائز نہیں ہے اور امام مالک نے فرمایا ہے کہ امام المسلمین اجتہاد کر کے اپنی رائے کے مطابق عمل کرے۔
Ayah 60:4حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ قابل اقتداء ہے اور کافر کے لئے استغفار ممنوع ہے
ایمان اور کفر کی ہمیشہ سے لڑائی رہی ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کے جو اپنی قوم سے اور اپنی باپ سے مباحثے ہوئے جگہ جگہ قرآن مجید میں مذکور ہیں، ان باتوں میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں نے بغیر کسی مداہنت کے اپنی قوم کے سامنے اعلان کردیا کہ ہم تم سے اور تم اللہ کے سوا جن کی بھی عبادت کرتے ہو ان سے بھی بیزار ہیں، اس اعلان کے ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ ہم تمہارے منکر ہیں ہم تمہارے دین کو نہیں مانتے اور ہمارے تمہارے درمیان بغض ہے اور دشمنی ہے اور یہ دشمنی ہمیشہ رہے گی جب تک تم اللہ وحدہ لاشریک پر ایمان نہ لاؤ۔
اہل ایمان کو اسی طرح کھلے طور پر اپنے ایمان کا اعلان کرنا چاہئے کافروں کے سامنے جھکنا اور ان سے ایسی ملاقات کرنا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ ان سے دوستی ہے یا یہ کہ وہ بھی دین حق پر ہیں یا یہ کہ ہمارا دین کمزور ہے (العیاذ باللہ) یہ سب باتیں ایمان کے خلاف ہیں۔ ڈنکے کی چوٹ اعلان کردیں کہ ہم تم میں سے نہیں اور تم ہم میں سے نہیں، کافروں سے کسی قسم کی موالات و مداہنت کا معاملہ نہ کریں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنے باپ سے باتیں کی تھیں ان میں ایک یہ بات بھی تھی ﴿لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ ﴾ کہ میں تمہارے لئے استغفار کروں گا اور ساتھ یہ بھی کہ تھا، ﴿ وَ مَاۤ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ ﴾ (میں تمہارے لئے اللہ کی طرف سے کسی چیز کا مالک نہیں) یعنی ایمان قبول نہ کرو گے اور کفر ہی اختیار كئے رہو گے تو میں اللہ کے عذاب سے تمہیں نہیں بچا سکتا اس میں مغفرت کی دعاء کا جو وعدہ کیا تھا اس کے مطابق انہوں نے دعا بھی کی تھی جس کا سورة شعراء میں ذکر ہے۔ ﴿وَ اغْفِرْ لِاَبِيْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيْنَۙ0086﴾
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ان کو ایمان کی توفیق دے اور مغفرت فرما، سورة توبہ میں فرمایا ہے ﴿ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ 1ؕ﴾ (جب ان پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے یعنی یہ یقین ہوگیا کہ کفر پر باپ کی موت ہوگی تو بیزاری ظاہر کردی) ۔
سورة ممتحنہ میں جو ﴿ اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ ﴾ فرمایا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ابراہیم اور ان کے ساتھ جو توحید اور اعمال صالحہ میں ان کے شریک حال تھے ان میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ ہے سوائے اس بات کے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے استغفار کرنے کا وعدہ کیا۔ اس بات میں ان کا اسوہ نہیں ہے۔
﴿رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَ اِلَيْكَ اَنَبْنَا وَ اِلَيْكَ الْمَصِيْرُ 004﴾ بغض مفسرین نے فرمایا ہے کہ یہ بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کی دعاء ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہاں قولوا مقدر ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے امت محمد یہ علی صاحبہا الصلوٰۃ کو حکم دیا ہے کہ یوں دعاء کریں کہ اے ہمارے رب ہم نے آپ پر بھروسہ کیا اور آپ ہی کی طرف رجوع کیا اور آپ ہی کی طرف جانا ہے۔
Ayah 60:5﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (اے ہمارے رب ہمیں کافروں کے لئے فتنہ نہ بنا دیجئے) یعنی انہیں ہمارے اوپر مسلط نہ کیجئے کہ وہ ہمیں تکلیف پہنچا سکیں۔ ﴿اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا﴾ (اور ہماری مغفرت فرما دیجئے اے ہمارے رب) ۔ ﴿ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ 005﴾ (بےشک آپ زبردست ہیں حکمت والے ہیں) ۔
Ayah 60:6﴿ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْهِمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ ﴾ (الآیہ) یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے اصحاب کے طرز عمل میں اس شخص کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ کے سامنے حاضر ہونے کا اور قیامت کے دن کا اعتقاد رکھتا ہو۔ ﴿ وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ (رح) 006﴾
اور جو شخص رو گردانی کرے گا، سو اللہ بےنیاز ہے اور حمد کا مستحق ہے جو کوئی شخص کافروں سے موالات کرے گا ان کی طرف جھکے گا اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ غنی ہے بےنیاز ہے اور حمید بھی ہے ہمیشہ تعریف کا مستحق ہے۔
Ayahs 60:7–9ہجرت کرنے کے بعد وطن سابق کے لوگوں سے تعلق رکھنے کی حیثیت
جیسا کہ معلوم و معروف ہے جو حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تھے مکہ معظمہ میں ان کے رشتہ دار تھے جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا تھا طبعی طور پر مہاجرین کے دلوں میں اس کا احساس ہونا ممکن تھا کہ ان لوگوں سے تعلقات ٹوٹ گئے (لیکن ایمان وکفر کے مقابلہ کی وجہ سے تعلقات ٹوٹنا بھی ضروری تھا) اوپر جن آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے پہلی آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی ہے اور امید دلائی ہے کہ ایمان کی وجہ سے جن رشتہ داروں سے تعلقات ختم ہوگئے اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے اور ان کے درمیان مودت یعنی محبت پیدا فرما دے گا (یہ محبت اس طرح وجود میں آئے گی کہ جو لوگ اب تک مسلمان نہیں ہوئے اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی توفیق دیدے گا) چناچہ ایسا ہی ہوا کچھ لوگ فتح مکہ سے پہلے اور کچھ اس دن اور کچھ فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوگئے جس کی وجہ سے رشتہ داریوں کے تعلقات استوار ہوگئے ابوسفیان بن حرب حارث بن ہشام، سہیل بن عمرو، حکیم بن حزام مسلمان ہوگئے ان میں ابوسفیان وہ شخص ہیں جو مسلمانوں کے مقابلے میں کافروں کے لشکر کی قیادت کرتے تھے اور سہیل بن عمرو وہی شخص ہیں جو صلح حدیبیہ کے موقع پر اہل مکہ کے نمائندہ بن کر آئے تھے اور صلح نامہ میں محمد رسول اللہ نہیں لکھنے دیا تھا۔
کافروں کو ایمان کی توفیق دینا ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دینا اللہ کے لئے کچھ بھی مشکل نہیں ہے اسی لیے آیت کے اختتام پر فرمایا ﴿ وَ اللّٰهُ قَدِيْرٌ1ؕ﴾ (اور اللہ قادر ہے) نیز ﴿ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ007﴾ بھی فرمایا جس میں یہ بتایا کہ کفار جب مسلمان ہوجائیں گے تو ان کا پچھلا سب معاف کردیا جائے گا، جب اللہ تعالیٰ ہی سب کچھ معاف فرمادے گا تو اہل ایمان کو ان لوگوں سے تعلقات استوار کرنے کے بارے میں یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ یہ آدمی تو کل تک دشمن تھا آج دوستی کیسے کریں۔ جن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا تھا ان میں دو قسم کے آدمی تھے اول وہ لوگ جنہوں نے نہ جنگ میں حصہ لیا اور نہ اہل ایمان کو نکالنے میں کوشش کی اور نہ اس سلسلہ میں مدد کی اور دوسری قسم ان لوگوں کی تھی جنہوں نے مسلمانوں سے قتال بھی کیا اور مکہ سے نکالنے پر تل گئے اور آپس میں ایک دوسرے کی مدد کی آیت کریمہ ﴿لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ ﴾ پہلے گروہ کے بارے میں اور اس کے بعد والی آیت ﴿ اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ ﴾ دوسرے گروہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ صاحب روح المعانی نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ پہلی آیت ﴿ لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ ﴾ عورتوں اور بچوں کے بارے میں نازل ہوئی جو ایمان سے متصف نہیں ہوئے تھے۔ اور حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے مکہ معظمہ میں رہتے ہوئے ایمان قبول کرلیا تھا مگر ہجرت نہیں کی، مہاجرین وانصار ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے سے پرہیز کرتے تھے کیونکہ وہ لوگ ہجرت نہ کرنے کی وجہ سے فرض کے تارک تھے اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ان کمزور مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مکہ میں رہ گئے تھے ہجرت نہ کرسکتے تھے۔ حضرت امام بخاری (رح) نے ایک حدیث نقل کی ہے جس سے آیت کا سبب نزول ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ کہ صلح حدیبیہ کے بعد جب مومن کافر دونوں فریق امن وامان سے رہنے لگے اسماء بنت ابی بکر ؓ کی والدہ مدینہ منورہ آئیں اور کچھ اپنی ضرورت کا اظہار کیا حضرت اسماء ؓ کو مشرک عورت پر مال خرچ کرنے میں تامل ہوا لہٰذا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں سوال پیش کردیا اور عرض کیا کہ میری والدہ آئی ہیں ان کی طرف سے کچھ حاجت مندی ظاہر ہو رہی ہے کہ میں صلہ رحمی کے طور پر انہیں کچھ دے دوں آپ نے فرمایا ہاں صلہ رحمی کرو۔ راوی حدیث حضرت سفیان بن عیینہ نے فرمایا ہے کہ اس پر اللہ جل شانہ نے آیت کریمہ ﴿ لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ ﴾ نازل فرمائی۔ (صحیح بخاری صفحہ 884: ج 2)
صاحب روح المعانی نے بحوالہ مسند امام احمد حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے یوں حدیث نقل کی ہے کہ قیلہ بنت عبدالعزی اپنی بیٹی اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس کچھ ہدیہ لے کر آئیں قیلہ مشرکہ تھیں۔ سیّدہ اسماء ؓ ے ان کا ہدیہ قبول کرنے سے انکار کردیا اور گھر میں بھی داخل نہ ہونے دیا اور سیّدہ عائشہ ؓ کے پاس خبر بھیجی کہ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کر کے بتائیں۔ سیّدہ عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا اللہ تعالیٰ نے آیت مذکورہ بالا نازل فرمائی اور ہدیہ قبول کرنے اور گھر میں بلانے کی اجازت دے دی۔
آیت کریمہ میں واضح طور پر بتادیا کہ جن لوگوں نے تمہارے ساتھ دین کے بارے میں قتال کیا اور تم کو گھروں سے نکالا اور نکالنے میں ایک دوسرے کی مدد کی اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ دوستی کرنے سے منع فرماتا ہے۔
﴿وَ مَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ 009﴾ کہ جو لوگ اس قسم کے کافروں سے دوستی کا تعلق رکھیں گے وہ لوگ ظلم کرنے والے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کر کے اپنی جانوں کو مستحق عذاب بنانے والے ہیں۔
Ayah 60:10مومنات مہاجرات کے بارے میں چند احکام
6 ہجری میں جب رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کرنے کے لئے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تو راستہ میں معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ عمرہ کرنے میں رکاوٹ ڈالنے کا ارادہ كئے ہوئے ہیں آپ نے تحقیق حال کے لئے حضرت عثمان ؓ کو مشرکین مکہ کے پاس بھیجا اور خود مقام حدیبیہ میں تشریف فرما ہوگئے حضرات صحابہ بھی آپ کے ساتھ وہیں ٹھہر گئے اہل مکہ نے سہیل بن عمر و کو بھیجا (وہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) باتیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ آپس میں صلح کرنے پر راضی ہوگئے دس شرطوں پر دس سال کے لئے صلح ہوگئی جس کی تفصیل سورة الفتح کی تفسیر میں گزر چکی ہے، ان دس شرطوں میں یہ بھی تھا کہ جو بھی کوئی شخص اہل مکہ میں سے مدینہ منورہ پہنچ جائے گا اگرچہ مسلمان ہو کر آئے تو اسے واپس کردیا جائے گا اور جو شخص مسلمانوں میں سے مکہ پہنچ جائے گا وہ لوگ اسے واپس نہیں کریں گے، ابھی صلح نامہ لکھا ہی جا رہا تھا کہ خود سہیل بن عمرو کا بیٹا جس کے پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں پہنچ گیا جو مسلمان ہوگیا تھا اور اسی وجہ سے اسے بیڑیوں میں جکڑ رکھا تھا۔ اس نے مسلمانوں سے کہا تم مجھے لے چلو واپس نہ ہونے دو ، مسلمانوں کی خواہش تھی کہ انہیں واپس نہ کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی سہیل سے کہا کہ اسے مجھے دے دو لیکن سہیل نہیں مانا (جس کا قصہ طویل ہے) جب صلح نامہ کی کتابت ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام نے اپنی اپنی ہدی کے جانور ذبح کردیئے اور حلق بھی کرلیا حلال ہوگئے اور احرام سے نکل گئے۔
اس کے بعد کچھ عورتیں آگئیں انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ہیں ہمیں ساتھ لے چلو اس موقع پر آیت بالا ﴿ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا جَآءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ ﴾ (الآیۃ) اور اس کے بعد والی آیت ﴿ وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ ﴾ نازل ہوئی۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا کہ اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آجائیں تو ان کا امتحان کرلو۔ اللہ تعالیٰ کو ان کے ایمان کا علم ہے کیونکہ وہ دلوں کا حال جانتا ہے لیکن تم اپنے طور پر امتحان کرلو، سو اگر تم جان لو کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کافروں کی طرف مت لوٹانا نہ یہ عورتیں ان کافروں کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ مردان کے لئے حلال ہیں (اگرچہ زمانہ کفر میں وہ میاں بیوی تھے) جب کوئی عورت مسلمان ہو کردار الحرب سے آگئی تو سابق کافر شوہر سے اس کا نکاح ختم ہوگیا۔ معاہدہ میں جو یہ شرط تھی کہ جو شخص اہل مکہ میں سے جائے گا اسے واپس کردیا جائے گا اس کے عموم میں تخصیص کردی گئی اور عموم الفاظ سے مومنات مہاجرات کا استثناء کردیا گیا، پھر دشمن بھی اس پر راضی ہوگئے لہٰذا کوئی اشکال نقض عہد کے بارے میں وارد نہیں ہوتا۔ خصوصاً جبکہ یہ بھی فرما دیا کہ کافروں نے مومن عورتوں پر جو کچھ خرچ کیا وہ ان کو دے دو ، (جیسا کہ آئندہ ذکر آرہا ہے) ۔
بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ جب عورت مسلمان ہوگئی تو وہ ہمارے پاس خوش دلی سے نہیں رہ سکتی اور مسلمانوں میں چلی جائے تو اس سے جنگ کا خطرہ بھی نہیں، پھر اوپر سے ہمارے خرچ كئے ہوئے پیسے بھی مل رہے ہیں اس لئے انہوں نے عورتوں کو واپس کرنے کے لئے اصرار نہیں کیا۔
ان مومنات مہاجرات میں سے ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط بھی تھیں جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچیں تو ان کے خاندان والے حاضر ہوئے اور واپس کرنے کے لئے کہا رسول اللہ ﷺ نے واپس نہیں کیا۔ صاحب روح المعانی نے ص 76 جلد 28 سبیعہ بنت الحارث، امیمہ بنت بشر ؓ کا نام بھی لکھا یہ بحالت ایمان رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوگئیں ان کے خاندان والوں نے واپس کرنا چاہا لیکن رسول اللہ ﷺ نے واپس نہیں کیا۔
﴿وَ اٰتُوْهُمْ مَّاۤ اَنْفَقُوْا 1ؕ﴾ اور کافروں کی جو عورتیں مسلمان ہو کر تمہارے پاس آگئیں ان کے کافر شوہروں نے ان پر جو مال خرچ کیا اتنا مال ان کو دے دیں (یہ حکم خاص اسی وقت کے لئے تھا کیونکہ صلح حدیبیہ میں یہ بات داخل تھی کہ جو شخص اہل مکہ میں سے آپ کے پاس آئے گا اسے واپس کرنا ہوگا پھر اس میں مہاجرات مومنات کا استثناء کردیا گیا تو حکم دیا گیا کہ ان کے سابقہ شوہروں کو اتنا مال دے دیا جائے جو انہوں نے خرچ کیا تھا) ۔
اس وقت جو صلح کی تھی، ایک سال کے اندر قریش مکہ کی طرف سے اس کی خلاف ورزی کردی گئی جس کی بنیاد پر مکہ معظمہ فتح کیا گیا جب صلح ختم ہوگئی تو صلح کا اثر بھی ختم ہوگیا اگر اب کوئی عورت کافروں کے ملک سے مسلمان ہو کر مسلمانوں کے ملک میں آجائے گی تو اسے واپس نہ کیا جائے اور اس کے شوہر کو یا حکومت کافرہ کو کوئی مال نہیں دیا جائے گا۔
﴿وَ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ 1ؕ ﴾ (اور تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ ان ہجرت کر کے آنے والی عورتوں سے نکاح کرلو جبکہ تم ان کے مہر ادا کردو) ۔
اس میں ان عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی جو مسلمان ہو کردارالحرب چھوڑ کر دار السلام میں آجائیں چونکہ وہ مسلمان تھیں اس لئے دارالسلام کے رہنے والے مسلمان احکام شرعیہ کے مطابق ان سے نکاح کرسکتے ہیں، رہی یہ بات کہ اس عورت پر عدت لازم ہے یا نہیں اس کے بارے میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ نے فرمایا کہ اس پر عدت لازم نہیں ہے اور عدت گزارے بغیر کسی مسلمان سے نکاح کرسکتی ہے اور حضرات صاحبین نے فرمایا کہ اس پر عدت لازم ہے اس کے بغیر نکاح نہیں کرسکتی لیکن اگر ہجرت کر کے آنے والی عورت حاملہ ہو تو جب تک وضع حمل نہ ہو اسے نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ (دیکھو ھدایہ باب نکاح اہل الشرک)
﴿وَ لَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ ﴾ (اور تم کافر عورتوں کے تعلقات کو باقی نہ رکھو) یعنی تمہاری جو کافر بیویاں دارالحرب میں رہ گئی ہیں ان کا نکاح ختم ہوچکا اب سابق نکاح کے اثر کو باقی نہ سمجھو حتیٰ کہ دارالحرب والی کافرہ بیوی کی کوئی بہن دارالسلام میں ہو تو اس سے نکاح کرسکتے ہیں۔
﴿وَ سْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقْتُمْ وَ لْيَسْـَٔلُوْا مَاۤ اَنْفَقُوْا ﴾ (اور تم نے جو کچھ خرچ کیا ہے وہ طلب کرلو اور انہوں نے جو کچھ خرچ کیا ہے وہ طلب کرلیں) یعنی جو عورت دارالحرب میں کافر رہ گئی اور مسلمان ہو کر دارالسلام نہ آئی (جس کی وجہ سے نکاح ختم ہوگیا) اس عورت پر جو تم نے خرچ کیا تھا یعنی مہر وہ دارالحرب کے کفاروں سے طلب کرلو۔
اور کافروں نے جو ان عورتوں پر خرچ کیا ہے جو تمہارے پاس مسلمان ہو کر آگئیں وہ تم سے مانگ لیں یہ احکام بھی صلح حدیبیہ سے متعلق ہیں بعد میں منسوخ کردیئے گئے۔
﴿ذٰلِكُمْ حُكْمُ اللّٰهِؕ ﴾ یہ اللہ کا حکم ہے۔ ﴿يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ 1ؕ﴾ وہ تمہارے درمیان فیصلے فرماتا ہے۔ ﴿ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ0010﴾ اور اللہ علیم ہے حکمت والا ہے۔
Ayah 60:11﴿وَ اِنْ فَاتَكُمْ ﴾ (الآیۃ) اور اگر تمہاری بیویوں میں سے کوئی بیوی کافروں میں رہ جانے کی وجہ سے تمہارے ہاتھ سے نکل گئی یعنی تمہارے ذمہ اسی طرح کا کوئی حق کسی کافر کا نکل آئے تو ان مسلمانوں کو جن کی بیویاں دارالحرب میں رہ گئیں اس قدر دیدو جتنا انہوں نے خرچ کیا تھا یعنی تمہارے ذمہ جو کافروں کو ان کی سابق بیویوں کو مہر دینا واجب ہے (جو مسلمان ہوگئیں اور دار السلام میں آگئیں) ان مسلمانوں کو دے دو جن کی بیویاں ان کے ہاتھوں سے نکل گئیں اگر برابر برابر ہے تو کچھ سوچنے کی ضرورت نہیں اگر کمی بیشی ہو تو اس کو معاملات کے طور پر سوچ لیں یعنی جو کافر کا حق ہے وہ ادا کردیں اور جو اپنا حق باقی ہے اس کا مطالبہ جاری رکھیں۔
یہ حکم بھی صلح حدیبیہ کے ساتھ مخصوص تھا بعد میں منسوخ ہوگیا ﴿ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ 0011﴾ (اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان لائے ہو) اس میں تمام احکام کی پابندی کا حکم فرما دیا اور خلاف ورزی پر وعید کی طرف اشارہ فرما دیا۔
Ayah 60:12بیعت کے الفاظ اور شرائط کا بیان
صلح حدیبیہ کے اگلے سال مکہ معظمہ فتح ہوگیا، اہل مکہ تو ڈر رہے تھے کہ دیکھو ہماری زیادتیوں کے بدلہ میں ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہوتا ہے لیکن حضور اقدس ﷺ نے لاتثریب علیکم الیوم پڑھ کر سب کچھ معاف فرما دیا اکاد کا بعض افراد کے سوا عموماً اہل مکہ سب ہی مسلمان ہوگئے۔ رسول اللہ ﷺ نے مردوں سے بھی عہد لیا اور عورتوں سے بھی، عورتوں سے جو عہد لیا تھا وہ اس آیت میں بیان فرمایا ہے عام طور پر جو عورتیں ہجرت کر کے آتی تھیں رسول اللہ ﷺ ان سے ان چیزوں پر عہد لیتے تھے اور زبانی بیعت فرما کر رخصت کردیتے تھے۔ آیت بالا میں چھ چیزیں مذکور ہیں جن پر بیعت کرنے کا حکم ہے۔ علماء نے بتایا ہے گزشتہ آیت میں جو فامْتَحِنُوْهُنَّ فرمایا ہے اس میں ان چیزوں پر عہد لینا مراد ہے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ہجرت کر کے آنے والی عورتوں سے قسم لیتے تھے کہ وہ اپنے شوہر کے بغض کی وجہ سے آئی ہے اور نہ کسی مسلمان کے عشق میں مبتلا ہے اور نہ کسی سر زمین سے بےرغبت ہو کر آئی ہے اور نہ کوئی ایسی حرکت کی ہے جس کی وجہ سے مواخذہ کی مستحق ہو اور نہ دنیا کے لئے آئی ہے بلکہ محض اسلام میں رغبت کرنے اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت کی وجہ سے آئی ہے جب وہ قسم کھا کر یہ بیان دے دیتی تھی تو رسول اللہ ﷺ اس کو مشرکین کی طرف نہیں لوٹاتے تھے اور مشرکین کی طرف سے مشرکین کو مہر یا جو کچھ اس پر خرچ ہو وہ دے دیتے تھے۔
ام المومنین سیّدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ جب مومن عورتیں ہجرت کر کے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتی تھیں تو ان سے آیت کریمہ ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ ﴾ کے ذریعہ امتحان لیتے تھے، جو چیزیں آیت کریمہ میں مذکور ہیں جب وہ ان کا اقرار کرلیتی تھیں تو اسی سے ان کا امتحان ہوجاتا تھا اس اقرار کے بعد رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے جاؤ میں نے تمہیں بیعت کرلیا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک نے کبھی کسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا، آپ صرف زبان سے بیعت فرما لیتے تھے۔ (رواہ مسلم صفحہ 131: ج 2)
آیت بالا میں جن چیزوں پر بیعت لینے کا ذکر ہے بظاہر چھ چیزیں ہیں پہلی پانچ چیزوں میں منفی پہلو بیان فرمائے ہیں جن میں یہ ہے کہ ایسا نہ کریں گی اور چھٹی چیز کے الفاظ بھی بظاہر نہی کے الفاظ ہیں لیکن ان کا عموم دین کے سب کاموں کو شامل ہے اور اس میں پورے دین پر چلنے کا عہد لیا گیا ہے۔
پہلا عہد اس بات کا ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کریں گی۔ دوسرا عہد یہ ہے کہ چوری نہ کریں گی۔ تیسرا عہد یہ ہے کہ زنا نہ کریں گی۔ چوتھا عہد یہ ہے کہ اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی (یہ عہد اس زمانے میں لینا ضروری تھا کیونکہ اہل عرب اس وجہ سے اپنی اولاد کو قتل کردیتے تھے کہ ان کو کہاں سے کھلائیں گے اور لڑکی پیدا ہوجاتی تو شرماتے ہوئے منہ چھپاتے پھرتے تھے اور اسے زندہ دفنا دیتے تھے اس کا تذکرہ سورة اعراف اور سورة الاسراء اور سورة النحل میں گزر چکا ہے) اولاد کو قتل کرنے میں حمل گرانا بھی داخل ہے۔ پانچواں عہد یہ ہے کہ بہتان کی اولاد نہ لائیں گی جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے تراش لیں یعنی جھوٹ نہ بنائیں، علماء کرام نے اس کے دو مطلب لکھے ہیں۔
اول یہ کہ زنا سے جو حمل ٹھہرا ہوا سے شوہر کی اولاد نہ بنائیں گی۔
دوم یہ کہ کوئی بچہ کہیں پڑا مل جائے تو اس کو اٹھالیں اور شوہر سے کہیں کہ یہ میرا بچہ ہے جو تجھ سے پیدا ہوا ہے ایسا نہ کریں جن عورتوں کے شوہر پردیس میں رہتے ہیں ان کی عورتوں کو ایسا کرنے کے مواقع مل جاتے ہیں مثلا شوہر ایک سال میں آیا اور بچہ زنا سے پیدا ہوا تو اس کو بتادیا کہ اس کا حمل تمہیں سے قرار پایا تھا۔
چھٹا عہد جو عورتوں سے لیا جاتا تھا وہ یہ ہے کہ کسی معروف کام میں رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی نہ کریں گی لفظ معروف میں ہر وہ چیز داخل ہے جسے مسلمان آدمی کو اپنی زندگی میں اپنانا چاہئے رسول اللہ ﷺ جو بھی حکم فرمائیں درجہ فرض و واجب میں ہو یا درجہ استحباب واستحسان میں مومن مرد اور عورت کا اس پر عمل کرنا ایمان کا اہم تقاضا ہے حضرت ام عطیہ ؓ نے بیان فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی آپ نے آیت کریمہ ﴿ اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ باللّٰهِ شَيْـًٔا ﴾ تلاوت فرمائی اور ہمیں کسی کے مرجانے پر نوحہ کرنے سے منع فرمایا۔ (صحیح بخاری صفحہ 8271: ج 2)
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں عید الفطر کی نماز میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حاضر ہوا آپ نے نماز پڑھائی پھر خطبہ پڑھا خطبہ سے فارغ ہو کر آپ مردوں کی صفوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے عورتوں کے پاس تشریف لائے آپ کے ساتھ بلال ؓ بھی تھے آپ نے ان کے سامنے پوری آیت ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ ﴾ تلاوت فرمائی پھر فرمایا کہ تم سب اس پر قائم ہو ؟ عورتیں خاموش رہیں صرف ایک عورت نے کہا کہ ہاں ہم اس پر قائم ہیں اس کے بعد آپ نے صدقہ کرنے کا حکم فرمایا حضرت بلال نے کپڑا پھیلا دیا، عورتیں اس میں اپنی انگوٹھیاں ڈالتی رہیں۔ (صحیح بخاری صفحہ 133: ج 1)
جن چیزوں کا عہد رسول اللہ ﷺ عورتوں کو بیعت کرتے وقت لیتے تھے، ان امور کا مردوں سے بھی عہد لینا ثابت ہے حضرت عبادہ بن صامت ؓ روایت کرتے ہیں کہ چند صحابہ رسول اللہ ﷺ کے آس پاس موجود تھے آپ نے فرمایا آؤ مجھ سے ان باتوں پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ گے اور چوری نہ کرو گے اور زنا نہ کرو گے اور اپنی اولاد کو قتل نہ کرو گے اور کوئی بہتان کی چیز نہ لاؤ گے جسے تم اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے تراش لو اور معروف میں نافرمانی نہ کرو گے، سو جو شخص ان چیزوں کو پورا کر دے گا اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے اور جس شخص نے خلاف ورزی کرلی اور دنیا میں اس کی سزادی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہے اور جس شخص نے کوئی خلاف ورزی کی پھر اللہ نے اس کی پردہ پوشی فرمائی اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے اگر چاہے معاف فرما دے اور اگر چاہے عذاب دے روایت نقل کر کے حضرت عبادہ ؓ نے فرمایا کہ ہم نے ان باتوں پر رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرلی۔ (صحیح بخاری صفحہ 7: ج 1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مردوں سے بھی یہ عہد لیا کہ کوئی بہتان نہ لاؤ گے جسے اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان سے تراش لو، یہ الفاظ عورتوں کی بیعت میں بھی مذکور ہیں، وہاں اس کے دو معنی بتائے ہیں ایک یہ کہ کوئی پڑا ہوا بچہ اٹھا کر اپنے شوہر کے ذمہ نہ لگادیں دوسرا معنی یہ کہ زنا کی اولاد کو شوہر کی اولاد نہ بتادیں چونکہ یہ بات مردوں سے متعلق نہیں ہے اس لیے اس حدیث کی تشریح میں شارحین حدیث نے فرمایا ہے کہ اس سے یہ مراد ہے کہ کسی پر تہمت نہ رکھیں اور بہتان نہ باندھیں اور ہاتھ پاؤں کا ذکر اس لئے فرمایا کہ اکثر گناہ انہیں سے وجود میں آتے ہیں۔ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ مابین الایدی والا رجل (ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان) سے قلب مراد ہے کیونکہ زبان اسی کی ترجمانی کرتی ہے، لہٰذا بہتان وافترا کو قلب کی طرف منسوب کیا گیا۔
(ذكرہ الحافظ فی فتح الباری)
احقر کی سمجھ میں یہ آتا ہے کہ اگر عورتوں کے بارے میں بھی یہی مطلب لے لیا جائے اور لقیط (گرے پڑے بچہ) اور زنا کی اولاد کو شوہر کے ذمہ لگانے کو بطور مثال سمجھ لیا جائے تو یہ زیادہ مناسب ہے تاکہ ایک ہی سیاق میں واقع ہونے والے الفاظ کے معانی بیان کرنے میں تشتت نہ ہو۔
حضرت ام عطیہ ؓ کی روایت جو اوپر نقل کی گئی اس میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت سرور عالم ﷺ نے عورتوں سے یہ عہد بھی لیا کہ کسی کی موت پر نوحہ نہ کریں گی یعنی رونے پیٹنے والا کام نہ کریں گی (جو اعزہ و اقرباء کی موت پر کیا کرتی ہیں) اس سے معلوم ہوا کہ بیعت لینے میں صرف انہی چیزوں پر انحصار نہیں ہے جو آیت شریفہ ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ ﴾ میں مذکور ہیں بلکہ بیعت کرنے کی چیزوں میں حسب موقعہ اضافہ کردیا جائے گا۔
اسی لئے بیعت لینے میں اکابر امت کے یہاں بعض باتوں کا امت کے حالات دیکھ کر اضافہ کردیا جاتا تھا۔ ہمارے بعض مشائخ نے دور حاضر میں بیعت کرنے کی چیزوں میں یہ بھی اضافہ کردیا تھا کہ داڑھی نہیں مونڈیں گے اگر اور کوئی گناہ پھیل جائے اور کوئی شخص بیعت کرنے لگے تو اس گناہ سے بچنے کی تاکید کے لئے اس کا اضافہ کرلیا جائے۔
حضرت عبادہ بن صامت ؓ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے ان شرطوں پر بیعت کی کہ آسانی میں اور سختی میں اور خوشی میں اور ناگواری میں آپ کی فرمانبرداری کریں گے اور اس بات پر بھی بیعت کی کہ ہم جہاں کہیں بھی ہوں گے اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے اور اس بات پر بھی بیعت کی کہ امراء سے جھگڑا نہیں کریں گے ہاں اگر تم کھلا ہوا کفر دیکھو جس کے کفر ہونے میں تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے دلیل ہو تو امراء سے منازعت کرنے کا موقع ہوگا۔ (صحیح بخاری صفحہ 1045: ج 2)
﴿وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ ﴾ (اور آپ ان عورتوں کے لئے اللہ سے استغفار کیجئے) ﴿ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ0012﴾ بیشک اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔
Ayah 60:13اہل کفر سے دوستی نہ کرنے کا دوبارہ تاکیدی حکم
شروع سورت میں اور درمیان سورت میں کافروں کو دوست بنانے کی ممانعت کا تذکرہ تھا یہاں اس آیت میں خصوصی طور پر یہودیوں سے دوستی کرنے کی ممانعت فرمائی ہے، یوں تو تمام کافروں پر اللہ کا غضب ہے لیکن بعض آیات میں چونکہ یہودیوں کے مغضوب علیہم ہونے کا خصوصی تذکرہ آیا ہے۔ (کمافی سورة البقرہ فبآء وا بغضب علی غضب) و کمافی سورة آل عمران ﴿ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ ﴾ اسی لیے بعض مفسرین نے یہاں ﴿ قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ﴾ سے یہودیوں کو مراد لیا ہے، مفسر قرطبی نے لکھا ہے کہ بعض فقراء مسلمین یہودیوں کو مومنین کی خبریں پہنچا دیتے تھے اور کچھ پھل مل جاتا تھا اس آیت میں ان کو منع فرما دیا، اور بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ ﴿قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ﴾ سے یہود و نصاری دونوں قومیں مراد ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ منافق مراد ہیں۔
درحقیقت عموم الفاظ میں تمام کافروں کو مراد لینے کی گنجائش ہے، ابتداء سورت میں جو دشمنان اسلام سے دوستی کرنے کی ممانعت فرمائی تھی آخر سورت میں پھر بطور تاکید اس حکم کو دہرا دیا ہے۔ ﴿ قَدْ يَىِٕسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ ﴾ یہ ﴿قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ ﴾ کی صفت ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو کافر مرگئے قبروں میں چلے گئے اب دنیا میں آنے سے اور کسی طرح کی خیر ملنے سے ناامید ہوگئے اسی طرح یہ لوگ بھی ہیں جن پر اللہ کا غصہ ہوا، آخرت سے ناامید ہوگئے یہ ایمان قبول نہیں کرتے اور آخرت کو نہیں مانتے ان کا ڈھنگ یہ ہے کہ جیسے ان کے عقیدہ میں قیامت قائم نہیں ہوگی اور میدان حشر میں حاضر نہیں ہوں گے جب ان کا یہ حال ہے تو ایسے لوگوں سے دوستی کرنے کا کیا موقع ہے۔
ھذا اذا کانت ” من “ بیانیة كما اختارہ جماعة واختار ابوحیان کونھا لابتداء الغایة والمغنی ان ھولاء القوم المغضوب علیھم قد یئسوا من الاخرة كما یئسوا من موتاھم ان یبعثو ویلقو ھم فی دار الدنیا وھو مروی عن ابن عباس والحسن و قتادة فالمراد بالکفار اولائك لقوم ووضع الظاھر موضع ضمیر ھم تسجیلا لکفر ھم واشعارًا بعلة
یاسھم۔ (راجع روح المعانی صفحہ 83: ج 29)
اور صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ چونکہ جس طرح آیت ﴿ يَعْرِفُوْنَهٗ كَمَا يَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَهُمْ ﴾ آپ کی نبوت کو اور اسی طرح مخالف نبی کے کافر اور غیر ناجی ہونے کو خوب جانتے ہیں گو وہ عاروحسد کی وجہ سے اتباع بھی نہ کرتے تھے اس لیے ان کو دل سے یقین تھا کہ ہم ناجی نہیں ہیں تو شیخی کے مارے ظاہراً اس کے خلاف کرتے ہوں پس حاصل یہ ہوا کہ جن کی گمراہی ایسی مسلم ہے کہ وہ خود بھی اس کو دل سے تسلیم کرتے ہیں ایسے گمراہوں سے تعلق رکھنا کیا ضروری ہے ؟ اور یہ نہ سمجھا جائے کہ جو گمراہ اشد درجہ کا نہ ہو اس سے دوستی جائز ہے جواز دوستی سے تو مطلق کفر مانع ہے مگر اس صفت سے وہ عدم جواز اور شدید ہوجائے گا اور شاید تخصیص یہود کی اس جگہ اس لیے ہو کہ مدینہ میں یہود زیادہ تھے اور دوسرے وہ لوگ شریر و مفسد بھی بہت تھے۔ انتھی۔
تم سورة الممتحنہ وانتھی والحمد للہ اولًا وآخرًا