Explained with ayahs 7–9
کفار سے محبت کی ممانعت کی دوبارہ تاکید
کافروں سے محبت رکھنے کی ممانعت اور ان کی بغض و و عداوت کے بیان کے بعد اب ارشاد ہوتا ہے کہ بسا اوقات ممکن ہے کہ ابھی ابھی اللہ تم میں اور ان میں میل ملاپ کرا دے، بغض نفرت اور فرقت کے بعد محبت مودت اور الفت پیدا کر دے، کونسی چیز ہے جس پر اللہ قادر نہ ہو ؟ وہ متبائن اور مختلف چیزوں کو جمع کرسکتا ہے، عداوت و قساوت کے بعد دلوں میں الفت و محبت پیدا کردینا اس کے ہاتھ ہے، جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے (ترجمہ) الخ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہوگئے جیسے ماں جائے…
Read the full tafseer →سورة الْمُمْتَحِنَة 12
اس مقام پر ایک شخص کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ دشمنی نہ کرنے والے کافروں کے ساتھ نیک برتاؤ تو خیر ٹھیک ہے، مگر کیا انصاف بھی صرف انہی کے لیے مخصوص ہے ؟ اور کیا دشمن کافروں کے ساتھ بےانصافی کرنی چاہیے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس سیاق وسباق میں دراصل انصاف ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص تمہارے ساتھ عداوت نہیں برتتا، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم بھی اس کے ساتھ عداوت نہ برتو۔ دشمن اور غیر دشمن کو ایک درجہ میں رکھنا اور دونوں سے ایک ہی سلوک کرنا انصاف نہیں ہے۔ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کرنے کا حق ہے جنہوں نے ایمان لانے کی پاداش…
Read the full tafseer →صحیح بخاری میں حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق سے روایت ہے کہ ان کی والدہ بحالت کفر مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ پہنچیں (مسند احمد کی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ غزوہ بدر حدیبیہ کے بعد قریش مکہ سے معاہدہ صلح ہوگیا تھا اور ان کی والدہ کا نام قتیلہ ہے، یہ اپنی بیٹی اسماء کے لئے کچھ تحفے ہدیئے لے کر مدینہ پہنچیں تو حضرت اسماء نے ان کے تحفے قبول کرنے سے انکار کردیا اور اپنے گھر میں آنے کی بھی اجازت اس وقت تک نہ دی جب تک کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت نہ کرلیا) غرض حضرت اسماء نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری والدہ مجھ سے ملنے کے لئے آئی ہیں اور وہ کافر ہیں میں ان کے ساتھ کیا سلوک کروں ؟ آنحضرت ﷺ…
Read the full tafseer →2۔ آگے آیات۔ 8، 9 کا مضمون
آگے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ ممانعت جس چیز کی کی جا رہی ہے وہ ان لوگوں سے سوالات اور دوستی بڑھانے کی ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا ہے یا نکالنے والوں کی مدد کی ہے۔ جن لوگوں نے اس طرح کی کوئی زیادتی نہیں کی ہے ان کے ساتھ احسان اور انصاف کرنے کی ممانعت نہیں کی جا رہی ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آیتیں بعد میں اس وقت نازل ہوئی ہیں جب مذکورہ بالا حکم کی تعمیل میں کفار کے ساتھ مسلمانوں کا رویہ غیر معتدل ہوگیا ہے حالانکہ اس طرح کی کوئی بات فرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اوپر کی آیات میں خطاب، جیسا کہ واضح ہوا، ان لوگوں سے ہے جو اہل مکہ سے اپنے روابط قائم…
Read the full tafseer →8۔ 1 یہ ان کافروں کے بارے میں ہدایت دی جا رہی ہے جو مسلمانوں سے محض دین السلام کی وجہ سے بغض و عداوت نہیں رکھتے اور اس بنیاد پر مسلمانوں سے نہیں لڑتے، یہ پہلی شرط ہے
۔ 8۔ 2 یعنی تمہارے ساتھ ایسا رویہ بھی اختیار نہیں کیا کہ تم ہجرت پر مجبور ہوجاؤ، یہ دوسری شرط ہے۔ ایک تیسری شرط یہ ہے جو اگلی آیت سے واضح ہوتی ہے، کہ وہ مسلمانوں کے خلاف دوسرے کافروں کو کسی قسم کی مدد بھی نہ پہنچائیں مشورے اور رائے سے اور نہ ہتھیار وغیرہ کے ذریعے سے۔
8۔ 3 یعنی ایسے کافروں سے احسان اور انصاف کا معاملہ کرنا ممنوع نہیں ہے جیسے حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی مشرکہ ماں کی بابت صلہ رحمی یعنی حسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
4: یعنی جو غیر مسلم مسلمانوں سے نہ جنگ کرتے ہیں، اور نہ انہیں کوئی اور تکلیف دیتے ہیں، ان سے اچھا برتاؤ اور نیکی کا سلوک اللہ تعالیٰ کو ہرگز ناپسند نہیں ہے، بلکہ انصاف کا معاملہ کرنا تو ہر مسلم اور غیر مسلم کے ساتھ واجب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و…
Read the full tafseer →8 مکہ میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو آپ مسلمان نہ ہوئے اور مسلمان ہونے والوں سے ضد اور پرخاش بھی نہیں رکھی، نہ دین کے معاملہ میں ان سے لڑے نہ ان کو ستانے اور نکالنے میں ظالموں کے مددگار بنے۔ اس قسم کے کافروں کے ساتھ بھلائی اور خوش خلقی سے پیش آنے کو اسلام نہیں روکتا۔ جب وہ تمہارے ساتھ نرمی اور رواداری سے پیش آتے ہیں۔ انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ تم بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور دنیا کو دکھلا دو کہ اسلامی اخلاق کا معیار کس قدر بلند ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ نہیں کہ اگر کافروں کی ایک قوم مسلمانوں سے برسر پیکار ہے تو تمام کافروں کو بلا تمیز ایک ہی لاٹھی سے ہانکنا شروع کردیں۔ ایسا کرنا حکمت و انصاف کے…
Read the full tafseer →آیت 8{ لَا یَنْہٰٹکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَـبَـرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَـیْہِمْ } ”اللہ تمہیں نہیں روکتا ان لوگوں سے جنہوں نے دین کے معاملے میں تم سے کبھی جنگ نہیں کی اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا کہ تم ان کے ساتھ کوئی بھلائی کرو یا انصاف کا معاملہ کرو۔“
یعنی وہ غیر حربی کافر ‘ جن کے ساتھ تمہاری جنگ نہیں ہے ‘ تم لوگوں کو مکہ سے بےدخل کرنے میں بھی ان کا کوئی کردار نہیں اور نہ ہی انہوں نے تمہارے خلاف تمہارے دشمنوں کی کبھی مدد کی ہے ‘ ایسے لوگوں کے ساتھ احسان اور بھلائی کا سلوک روا رکھنے میں کوئی…
Read the full tafseer →18 لڑنے کا حکم صرف ان کافروں سے ہے جو دکھ پہنچاتے اور معاندانہ سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔ عام کافروں سے نہیں محض کفر لڑائی کا سبب نہیں بن سکتا :۔ اس آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے کافروں کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک وہ جو معاند تھے۔ مسلمانوں کو ایذائیں پہنچاتے، اسلام کی راہ روکتے اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرنے میں سرگرم تھے۔ دوسرے مسالم جو کافر تو تھے مگر روادار تھے۔ غیر جانبدار بن کر رہے۔ مسلمانوں کو نہ کوئی دکھ پہنچایا نہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ اور یہ دونوں قسم کے لوگ مکہ میں بھی رہتے تھے اور ارد گرد بھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے لیے الگ الگ احکام بیان فرمائے۔ پہلی قسم…
Read the full tafseer →12۔ (اور انصاف کا اولین مقتضی یہ ہے کہ ہر شخص سے معاملہ اس کے درجہ وحیثیت کے لائق کیا جائے۔ (آیت) ” ان ..... الیھم “۔ یہاں بر وقسط (حسن سلوک وعدل) سے مراد ان کا عام ومطلق مفہوم نہیں کہ وہ تو بہر صورت ہر انسان بلکہ ہر حیوان کے لئے واجب ہے، بلکہ مراد اس شفقت ورعایت کے برتاؤ سے ہے۔ جو ذمی یا مصالح ہونے کی بناء پر کافر کے ساتھ بھی لازم آتا ہے گو یا بالواسطہ یہاں یہ ارشاد ہوا کہ شفقت ورعایت کا برتاؤ ذمی اور مصالح کے حق میں جائز ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض بزرگوں کی جو عادت کافروں سے نرمی، ملاطفت برتنے اور ان کے ہدیے اور تحفے قبول کرلینے کی ہے، اس کی سند یہاں سے نکل آتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
لاینھکم الذین لم یقاتلو کم فی الدین (الآیۃ) اس مقام پر یہ شبہ پیدا ہوسکتا ہے کہ دشمنی نہ کرنے والے کافروں سے حسن سلوک کرنا تو اچھی بات ہے مگر کیا انصاف بھی ان ہی کے لئے مخصوص ہے اور کیا دشمن کافروں کے ساتھ ناانصافی کرنا چاہیے ؟ جواب یہ ہے کہ عدل و انصاف تو ہر شخص کے ساتھ ضروری ہے، خواہ کافر ہو یا غیر کافر، حتی کہ اسلام کی تو یہ ہدایت ہے کہ دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کیا جائے اس میں کافر وغیرہ کافر اور حربی وغیرہ حربی سب برابر ہیں، بلکہ اسلام میں تو انصاف جانوروں کے ساتھ بھی ضروری ہے، اس آیت میں بھلائی اور احسان کرنے کی ہدایت ہے، ان ہی معنی کی رعایت کے لئے تقسطوا کو تعطوا کے معنی میں اور…
Read the full tafseer →لاینھکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروھم و تقسطوا الیھم ان اللہ یحب المقسطین
” اللہ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑتے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ‘ اللہ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔
بخاری نے لکھا ہے کہ حضرت اسماء بن ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا : میرے پاس میری ماں محبت سے آئی۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا میں اس سے مل سکتی ہوں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ہاں ! اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ امام احمد ‘ بزار اور حاکم نے حضرت عبداللہ بن زبیر کی روایت سے بیان کیا اور حاکم نے…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ساتھ دوستی رکھنے اور احسان کرنے سے نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تمہیں انہوں نے مکہ مکرمہ سے نہیں نکالا اور نہ تمہارے نکالنے میں کسی کی مدد کی اور اللہ تعالیٰ وفائے عہد کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
شان نزول : لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ (الخ)
امام بخاری نے حضرت اسماء سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں کہ میری والدہ میرے پاس آئیں اور وہ ضرور مند تھیں میں نے رسول اکرم سے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے بارے میں دریافت کیا آپ نے اجازت دے دی۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے۔
امام…
Read the full tafseer →1۔ لَا یَنْہٰکُمُ اللہ ُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ۔۔۔۔۔: اس آیت میں اور اس کے بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک محارب جو مسلمانوں سے ضد اور عناد رکھتے تھے ، انہیں ایذا دینے ، ان کے گھروں سے نکالنے اور ان سے لڑنے میں سر گرم تھے ، یا ایسے لوگوں کی پشت پناہی اور مدد کرتے تھے۔ دوسرے مسالم جو کافر تو تھے مگر روادادر تھے ، غیر جانبدار بن کر رہے ، مسلمانوں کو نہ کوئی دکھ پہنچایا اور نہ ان کے خلاف کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ ان میں مکہ کے ارد گرد رہنے والے کئی قبائل تھے ، جیسے بنوخزاعہ اور بنو حارث وغیرہ جو مسلمانوں کے حلیف تھے یا کفار قریش کے مقابلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
تفسیر
قتلوکم یعنی دین کے خلاف تمہارے ساتھ جنگ کی۔ اخرجوا میں دائو ضمیر سے مراد اہل مکہ میں سے سرکش لوگ ہیں۔ وظھرا انہوں نے تمہیں نکالنے میں مدد کی اور وہ اہل مکہ کے مشرک ہیں۔ ان تولوھم میں ان محل جر میں ہے اور ان تبروھم سے بدل یہ۔ ومن یتولھم جوا انہیں اولیاء انصار اور احباب بناتا ہے۔ فاولئک ھم الظلمون یہی لوگ ظالم ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان بن حرب کو یمن کے بعض علاقہ پر عامل بنایا۔ جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے۔ تو وہ آرہے تھے کہ ایک اوڑھنی والے مرتد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سے قتال کیا۔ یہ پہلا آدمی ہے جس نے مرتد ہونے کے سبب کسی سے قتال کیا اور دین کے لیے جہاد کیا ابن شہاب (رح) نے کہا کہ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ۔ امید ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں دوستی پیدا کردے گا۔
2۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب سے اور انہوں نے ابی سلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے…
Read the full tafseer →[لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ : نہیں روکتا تم کو اللہ ][ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ : ان سے جنھوں نے جنگ نہیں کی تم سے ][ فِي الدِّيْنِ : دین (کے بارے) میں ][ وَلَمْ يُخْرِجوكُمْ : اور انھوں نے نہیں نکالا تم کو ][ مِّنْ دِيَارِكُمْ : تمہارے گھروں سے ][ ان : (اس سے) کہ ][ تَبَرُّوْهُمْ : تم لوگ حسن سلوک کرو ان سے ][وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْهِمْ : اور انصاف کا رویہ اختیار کرو ان کی طرف ][ان اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ : بیشک اللہ پسند کرتا ہے انصاف کرنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ہجرت کرنے کے بعد وطن سابق کے لوگوں سے تعلق رکھنے کی حیثیت
جیسا کہ معلوم و معروف ہے جو حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تھے مکہ معظمہ میں ان کے رشتہ دار تھے جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا تھا طبعی طور پر مہاجرین کے دلوں میں اس کا احساس ہونا ممکن تھا کہ ان لوگوں سے تعلقات ٹوٹ گئے (لیکن ایمان وکفر کے مقابلہ کی وجہ سے تعلقات ٹوٹنا بھی ضروری تھا) اوپر جن آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے پہلی آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی ہے اور امید دلائی ہے کہ ایمان کی وجہ سے جن رشتہ داروں سے تعلقات ختم ہوگئے اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے اور ان کے درمیان مودت یعنی محبت پیدا فرما دے گا (یہ محبت اس طرح وجود میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
تسلی اہل ایمان بذکر بشارت و کامیابی مسلمین براعدائے اسلام و اجازت حسن سلوک از کافران امن پسند ومصالحین “۔
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عسی اللہ ان یجعل بینکم ..... الی فاولئک ھم الظلمون “۔
(ربط) گذشتہ آیات میں کفار مشرکین کے ساتھ بغض ونفرت اور براءت وبیزاری کا ذکر تھا کہ یہی اسوۂ ابراہیمی ہے مسلمانوں کو اسی کو اختیاری کریں، اب ان آیات میں مستقبل قریب میں پیش آنے والے غلبہ اور کامیابی کا ذکر ہے اور ضمنا اشارہ ہے کہ کچھ تو میں کافروں میں سے ایمان لے آئیں گی اور یہ اجازت وہی جارہی ہے کہ جس کسی کافر نے اب تک مسلمانوں کے ساتھ کوئی قتال نہیں کیا اور نہ دشمنی کا کوئی معاملہ کیا اور نہ ہی انہوں نے…
Read the full tafseer →11:۔” لاینھاکم “ یہ ایک قانون کا بیان ہے جو زجر مذکور سے متعلق ہے اور ان کافروں کا ذکر ہے جن پر احسان کرنے اور جن سے عدل و انصاف کا برتاؤ کرنے کی ممانعت نہیں۔ کیونکہ عدل کرنے والوں کو اللہ پسند فرماتا ہے اور ان سے مراد وہ کافر ہیں، جنہوں نے مسلمانوں سے دین کی وجہ سے عداوت نہیں کی اور نہ ان سے لڑے ہیں اور ان کو گھروں سے نکالنے میں مشرکین مکہ کی نہیں کی ہے۔ یہ وہ قبائل عرب تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ سے معاہدہ کر رکھا تھا کہ وہ نہ خود ان سے لڑیں گے اور نہ ان کے دشمنوں کی مدد کریں گے۔ نزلت الایۃ فی خزاعۃ وبنی الحارث بن کعب وکنانۃ ومزینۃ وقبائل من لاعرب کانوا صالحوا رسول اللہ ﷺ علی ان لا یقاتلوہ ولا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ربط آیات :
حضور ﷺ کے صحابی سے غلطی ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے راز مشرکین مکہ تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سخت تنبیہ کی کہ…ایسی غلطی کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ پھر اللہ نے کافروں کے ساتھ مقاطعہ کا حکم دیا اور ان کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت فرمادی۔ فرمایا اللہ کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح دوستی نہیں ہوسکتی ، نہ انہیں اپنا راز دار بنایا جاسکتا ہے کیونکہ جب بھی انہیں موقع ملے گا وہ مسلمانوں کو نقصان ہی پہنچائیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اہل ایمان کو اذیتیں پہنچاتے ہیں۔ فرمایا تم نے تو یہ کام اپنے بیوی بچوں کو مصلحت کے لئے کیا ہے مگر قیامت…
Read the full tafseer →لَا يَنْہٰىكُمُ اللہُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْہُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْہِمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ 8
لا
«لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت .
ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ترکیب : اللہ فاعل عسی ‘ ان یعجل الجملۃ خبرھا مودۃ مفعول لیجعل ان تبروھم فی موضع جرعلی البدل من الموصول بدل البعض وتقسطوا معطوف علی تبروا منصوب بان ان تو لوھم بدل من الموصول (الذین) بدل الاشتمال ای ینھٰکم ان تتولوھم۔
تفسیر : پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کفار کی دوستی اور ملاپ سے منع کردیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بالکل ترک کردیا اور اس حکم کی پابندی میں یہاں تک مبالغہ کیا کہ حسن معاشرت کے قانون سے تجاوز ہوگیا۔ چناچہ بخاری (رح) نے نقل کیا ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس مکہ سے اس کی ماں آئی اس وقت کہ قریش میں اور نبی ﷺ میں معاہدہ قائم ہوگیا تھا۔ اسماء ؓ نے بغیر آنحضرت ﷺ سے دریافت کئے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
لاَ یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِے الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ ۔ اِنَّمَا یَنْھٰـکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰـتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَاَخْرَجُوْکُمْ مِّن دِیَارِکُمْ وَظٰھَرُوْا عَلٰٓی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوْھُمْ ج وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الممتحنۃ : 8، 9)
(اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ حُسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا جنھوں نے دین کے معاملہ میں نہ تم سے جنگ کی ہے اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
فہم القرآن
ربط کلام : کفار کے ساتھ تعلقات میں استثناء۔
پچھلی آیت کے اختتام پر ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے یہ اس کی مہربانی کا نتیجہ ہے کہ اس نے ہر کافر کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات منقطع کرنے کا حکم نہیں دیا قطع تعلق اور لڑنے کا حکم ان کفار کے ساتھ ہے جو مسلمانوں پر زیادتی کرتے ہیں اور اسلام کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس نے صرف کفار کے ساتھ قلبی محبت، ازواجی تعلقات اور ان کو رازداں بنانے سے منع کی گیا ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ، کاروبار اور سماجی تعلقات رکھنے سے منع نہیں کرتا جنہوں نہ دین کی وجہ سے تمہارے ساتھ جنگ کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا۔…
Read the full tafseer →بعض سے برتائو کی اجازت :
8 : لَایَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّ وْھُمْ (اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتائو کرنے سے منع نہیں کرتے جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ ان کا اکرام کرو) قولاً اور فعلاً ان پر احسان کرو۔ ان تبروھم محلاً مجرور ہے۔ کیونکہ یہ الذین لم یقاتلوکم سے بدل ہے۔ یہ بدل اشتمال ہے تقدیرکلام اس طرح ہے۔ عن برالذین تمہیں ان کے ساتھ بھلائی سے منع نہیں کرتا۔ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَیْھِمْ (انصاف کا برتائو کرو اور ان پر ظلم نہ کرو) جب اللہ…
Read the full tafseer →7 ۔” عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منھم “ یعنی کفار مکہ سے۔ ” مودۃ “ پس اللہ تعالیٰ نے یہ کیا کہ ان میں سے اکثر اسلام لے آئے۔ پس ان کے دوست اور بھائی بن گئے اور آپس میں مل جل گئے اور ان سے نکاح کیے۔ ” واللہ قدیرو اللہ غفور رحیم “ پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے بارے میں رخصت بیان کی جنہوں نے مومنین سے دشمنی نہیں کی اور ان سے لڑائی نہیں کی تو فرمایا :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8۔ 9۔ صحیح بخاری 1 ؎ مسند امام احمد مسند بزار مستدرک حاکم میں جو روایتیں ہیں ان سے ان آیتوں کی شان نزول یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی شروع آیتوں میں مسلمانوں کو کافروں سے میل جول رکھنے کو منع فرمایا تو مکہ میں مسلمانوں کی رشتہ دار جو مشرک عورتیں تھی مسلمان مردوں اور عورتوں نے ان سے بھی میل جول ترک کردیا۔ چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی طلاق دی ہوئی بی بی قتیلہ اپنی بیٹی حضرت اسماء کے پاس صلح کے زمانہ میں کچھ تحفہ لے کر مکہ سے مدینہ آئیں لیکن حضرت اسماء اپنی مشرک ماں سے نہیں ملیں اور اپنی ماں کا تحفہ بھی نہیں لیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرما دیا کہ میل جول…
Read the full tafseer →جب یہ آیات کریمہ جو کفار کے ساتھ عداوت پر ابھارتی تھیں نازل ہوئیں تو اہل ایمان نے ان پر عمل کیا انہوں نے ان آیات (کے تقاضوں) کو پوری طرح قائم کیا اور بعض مشرک قریبی رشتہ داروں سے تعلق کو گناہ تصور کیا اور سمجھا کہ یہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ یہ صلہ رحمی اس موالات ومودت کے دائرے میں نہیں آتی جو حرام ٹھہرائی گئی ہے۔ (لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ وَلَمْ يُخْرِجُوْكُمْ مِّنْ دِيَارِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْهُمْ وَتُقْسِطُوْٓا اِلَيْهِمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ ) یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے مشرک عزیز و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
مشرک کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
قول باری ہے (لا ینھا کم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین۔ اللہ تمہیں ان لوگوں سے (حسن سلوک اور انصاف کرنے سے ) نہیں روکتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے) تا آخر آیت
ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت اسماء ؓ نے حضور ﷺ سے پوچھا تھا کہ ان کی ایک مشرک ماں ہے جو ان کے پاس آئی ہوئی ہے، آیا میں اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں ؟ حضور ﷺ نے اس کا جواب اثبات میں دیا تھا اور فرمایا تھا کہ اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو۔
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری (ان تبروھم وتقسطوا الیھم ان لوگوں سے حسن سلوک اور انصاف کرنے سے (نہیں روکتا) ) اہل ذمہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
[ 24] اہل صدق و صفا کے لیے ایک عظیم الشان بشارت :
سوا رشاد فرمایا گیا، اور مومنین صادقین کے لیے عظیم الشان بشارت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان محبت ڈال دے کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی قدرت والا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے "۔ پس تمہیں اپنے اہل کفر رشتہ داروں سے بائیکاٹ اور قطع تعلقی میں زیادہ گرانی نہیں ہونی چاہیے، اس طرح ان حضرات کو ان کے رشتہ داروں کے ایمان لانے کی امید دلائی گئی، اور امام رازی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ یہ دراصل اللہ پاک کی طرف سے ایک وعدہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں انقلاب آئے گا، اور وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات
تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–13
آیات 7 تا 13۔
اسرار ومعارف۔
اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔
کافر سے تعلقات کی نوعیت۔
لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے…
Read the full tafseer →ف 8 ان سے مراد وہ عورتیں بچے بوڑھے اور بیمار لوگ ہیں جو جنگ نہیں کرسکتے یا وہ عرب قبائل جیسے خزاعہ اور بنو الحارث جو اگرچہ کافر تھے لیکن مسلمانوں کا ان سے معاہدہ تھا کہ وہ ان کے مقابلے میں قریش کی مدد نہ کریں گے اور وہ اپنے اس معاہدہ پر قائم ہے (ابن کثیر) حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں : مکہ کے لوگوں میں سے بعض یاییس بھی تھے کہ آپ مسلمان نہ ہوئے ہونے والوں سے ضد بھی نہ کی۔ “ آخر حضرت اسماء کا آنحضرت کی اجازت سے اپنی والدہ مشرکہ) کے ساتھ اچھا سلوک کرنا تو ثابت ہی ہے۔
Read the full tafseer →(60:8) لاینھکم مضارع منفی واحد مذکر غائب نھی (باب فتح) مصدر۔ منع کرنا۔ روکنا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم کو منع نہیں کرتا ہے۔
لم یقاتلوکم : مضارع مجزوم نفی جحد بلم۔ مقاتلۃ (مفاعلۃ) مصدر۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ وہ تم سے نہیں لڑے۔
ان تبروھم : ان مصدریہ تبروا مضارع جمع مذکر حاضر۔ اصل میں تبرون تھا۔ ان کے عمل سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ بروبر (باب سمع) مصدر۔ تم نیکی کرتے ہو۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ کہ تم ان کے ساتھ احسان کرتے رہو۔
وتقسطوا الیہم۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے تقسطوا ای وان تقسطوا مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اقساط (افعال) مصدر۔ الیہم۔ جاز مجرور۔ ان کی طرف ۔ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
لغات القرآن۔
عسی ۔ شاید۔ امید ہے کہ ۔ عادیتم۔ تم نے دشمنی کی۔ ان تبروا۔ یہ کہ تم نیکی (نہ ) کرو گے۔ تفسطوا۔ تم انصاف کرو گے۔
تشریح : انسان دنیا کے کسی بھی خطے میں رہتا بستا ہوا اپنے گھرو الوں اور رشتہ داروں کی محبت کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد ان اہل ایمان سے جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر محض اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت میں مدینہ منورہ آگئے تھے ان سے فرمایا گیا کہ تم کافر رشتہ داروں سے قطع تعلق کرلو۔ ان کے ساتھ حسن سلوک سے نہیں بلکہ قلبی محبت رکھنے کو منع فرما دیا گیا تھا۔ اہل ایمان اس حکم پر پوری طرح عمل نہایت صبرو برداشت سے کر رہے تھے لیکن ان پر کیا گذر رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
کافروں سے دوستی کی ممانعت :
(ف 1) شان نزول : صحیح بخاری ، مسند امام احمد، بزاز، مستدک حاکم میں روایتیں ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو شروع آیتوں میں مسلمانوں کو کافروں سے میل جول رکھنا منع فرمایا تو مکہ میں مسلمانوں کی رشتہ دار جو مشرک عورتیں تھیں مسلمان مردوں اور عورتوں نے ان سے بھی میل جول ترک کردیا چناچہ ابوبکر صدیق ؓ کی طلاق دی ہوئی بی بی قتیلہ اپنی بیٹی حضرت اسماء کے پاس صلح کے زمانے میں کچھ تحفے لے کر مکہ سے مدینہ آئی لیکن حضرت اسماء اپنی مشرک ماں سے نہیں ملیں اور اپنی ماں کا تحفہ بھی نہیں لیا، اور رسول کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور رسول کریم نے اجازت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–10
[8] صلح حدیبیہ کے بعد جو مسلمان مرد مکہ سے بھاگ کر مدینے آتے تھے تو معاہدے کی رو سے انہیں واپس کرنا پڑتا تھا۔ لیکن پھر کئی مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو کفار مکہ نے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ اس پر یہ آیت اتری۔
[9] یعنی وہ مسلمان ہو کر کافر شوہروں کی زوجیت سے خارج ہوگئیں اور ان کے نکاح خودبخود ٹوٹ گئے۔
[10] یعنی جو مہر کافروں نے دئیے تھے وہ ان کو واپس کردو۔
[11] یعنی اب جو مسلمان بھی ان میں سے کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے وہ اس کا مہر ادا کرے اور اس سے نکاح کرے۔ یہ ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ اب اس سے نکاح کرنے والا مسلمان یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ ابھی ایک مہر تو اس کے کافر شوہر کو واپس کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
بےضرر غیر مسلموں سے تعلقات مودت
1: اس آیت میں بہت بڑی غلط فہمی کو دور کردیا ہے ۔ جو ان گزشتہ آیات کو سن کر اس شخص کے دل میں پیدا ہوسکتی ہے ۔ جو نظام اسلامی کی باریکیوں کو سمجھنے کی قدرت نہیں رکھتا ۔ وہ یہ کہہ سکتا تھا ۔ کہ اسلام مسلمانوں کو عام معاشری تعلقات تودہ سے روکتا ہے ۔ اور اس انسانی ہمدردی کو جو فطری طور پر انسانوں میں اپنے بنی نوع کے لئے موجود ہے ۔ کچل دینا چاہتا ہے ۔ اور یہ کہ اس مذہب میں دنیا کے مدنی مذہب ہونے کی صلاحیت نہیں ۔ کیونکہ یہ غیر مسلموں سے ہمدردانہ اور آئینی تعلقات کو برقرار رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ فرمایا ۔ یہ غلط ہے ۔ وہ لوگ جو تم سے دوستانہ تعلقات رکھتے ہیں ۔ جن سے…
Read the full tafseer →(8) اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں پر نکالا۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے - بر اور اقساط بھلائی نیکی اور حسن سلوک کی اجازت دی اور انصاف کرنے کا حکم دیا ایسے لوگوں کے معاملے میں انصاف کرو اور ظلم نہ کرو۔
مشرکین میں سب قسم کے آدمی تھے بعض جارحانہ کاروائیاں کرتے تھے بعض سخت برتائو کی مخالفت کرتے تھے اور اگر ان کی بات نہ چلتی تو وہ مسلم آزار کاروائیوں سے بالکل علیحدہ رہتے تھے ان کے لئے خصوصی برو اقساط کا حکم دیا ورنہ عام برداقساط کا حکم تو ہر ذی روح کے ساتھ ہے…
Read the full tafseer →س 3۔ مراد وہ کافر ہیں جو ذمی یا مصالح ہوں، یعنی محسنانہ برتاوان کو منصفانہ برتاوفرمادیا، پس انصاف ہے یعنی خاص ان کی ذمیت یا مصالحت کے اعتبار سے انصاف مقتضی اس کو ہے کہ ان کے ساتھ احسان سے دریغ نہ کیا جاوے، ورنہ مطلق انصاف تو ہر کافر بلکہ جانور کے ساتھ بھی واجب ہے۔
Read the full tafseer →کفر کا مقابلہ کرنے کے لیے جو پالیسی اسلام نے تیار کی ہے اس کا اعلان عام
8 ؎ ( تبروا) کی اصل ب ر ر ہے اور بڑا احسان کرنے والا ۔ نیک سلوک کرنے والا ۔ بر سے صفت مشبہ کا صیغہ بر کے معنی جنگل اور زمین کے ہیں اس لیے چونکہ وسعت کا تصور موجود ہے اس لیے اس سے برکا اشتقاق ہوا جس کے معنی خوب نیکی کرنے کے ہیں چونکہ بر کی نسبت کبھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے ( انہ ھو البر الرحیم) ” بلا شبہ وہی ہے احسان کرنے والا مہربان “ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے ( وبرا بوالدیہ) ” اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا “ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے اس کا استعمال ہوگا تو اس کے معنی ثواب عطا کرنے کے ہوں گے اور جب…
Read the full tafseer →Some reports indicate that Sayyidah Asma’ s ؓ mother Qutailah was divorced by Sayyidna Abu Bakr ؓ in the Days of Ignorance. Sayyidah Asma’ s sister, Sayyidah ` A'ishah ؓ was born of the second wife of Abu Bakr ؓ ، namely, Umm Raman, who had embraced Islam. [ Ibn Kathir and Mazhari ].
The verse directs that justice and good behavior should be maintained with those unbelievers who did not fight the Muslims. As for justice, it is obligatory to maintain with every non-Muslim, whether he is a citizen of an Islamic State, or the Muslims have peace agreement with him, or a citizen of an un-Islamic…
Read the full tafseer →12 Here a doubt may arise in the minds. It is all right to treat the disbelievers, who are not hostile, kindly, but should only they be treated un-justly? And should the disbelievers, who arc hostile, be treated un-justly? The answer is that in this context, the word justice, in fact, has been used in a special sense. It means: "Justice demands that you should not be hostile to those who are not hostile to you, for it is not justice to treat the enemy and the non-enemy alike. You have every right to adopt a stem attitude towards those who persecuted you for embracing Islam and compelled you…
Read the full tafseer →