Al-Mumtahana 60:7

Al-Mumtahana · from ayah 7

60:7

عَسَی اللّٰهُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَكُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً ؕ— وَاللّٰهُ قَدِیْرٌ ؕ— وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۟عَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّجۡعَلَ بَيۡنَكُمۡ وَبَيۡنَ الَّذِيۡنَ عَادَيۡتُمۡ مِّنۡهُمۡ مَّوَدَّةً ؕ وَاللّٰهُ قَدِيۡرٌ‌ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا کردے۔ اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Perhaps Allah will put, between you and those to whom you have been enemies among them, affection. And Allah is competent, and Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mumtahana

All translations of 60:7

بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور اُن لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور و رحیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

عجب نہیں کہ خدا تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم دشمنی رکھتے ہو دوستی پیدا کردے۔ اور خدا قادر ہے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کیا عجب کہ عنقریب ہی اللہ تعالیٰ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے۔ اللہ کو سب قدرتیں ہیں اور اللہ (بڑا) غفور رحیم ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کچھ بعید نہیں ہے کہ اللہ تمہارے اور جن لوگوں سے تمہاری دشمنی ہے، ان کے درمیان دوستی پیدا کردے، اور اللہ بڑی قدرت والا ہے، اور اللہ بہت بخشنے والا، بہت مہربان ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

قریب ہے کہ اللہ تم میں اور ان میں جو ان میں سے تمہارے دشمن ہیں دوستی کردے اور اللہ قادر ہے اور بخشنے والا مہربان ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

عجب نہیں کہ اللہ تمہارے اور اُن میں سے بعض لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے (کسی وقت بعد میں) دوستی پیدا کر دے، اور اللہ بڑی قدرت والا ہے، اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قریب ہے کہ اللہ تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم ان میں سے دشمنی رکھتے ہو، دوستی پیدا کر دے اور اللہ بہت قدرت رکھنے والا ہے اور اللہ بےحد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کچھ بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان دوستی پیدا کر دے جن سے تم عداوت رکھتے ہو۔ اور اللہ بڑی قدرتوں والا ہے، اور وہ بہت بخشنے والا ہے رحم کرنے والا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

توقع ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم نے دشمنی کی، دوستی پیدا کر دے۔ اللہ قدرت والا اور غفور رحیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بعید نہیں کہ اللہ محبت ڈال دے تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن سے آج تمہاری دشمنی ہے کہ اللہ بڑی ہی قدرت والا ہے اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے

— مولانا اسحاق مدنی

عجب نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم سے دشمنی ہے دوستی پیدا کردے اللہ بڑا قدرت والا ہے اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے دوستی پیدا کر دے۔ اللہ ہر شے پر قادر ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اُمید ہے کہ اللہ تم میں اور تمہارے دشمنوں میں دوستی کر دے، اور اللہ سب کچھ کرسکتا ہے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

It may well be that Allah will implant love between you and those with whom you have had enmity. Allah is Most Powerful; and Allah is Most Forgiving, Most Compassionate.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It is hoped that Allah will bring about love between you and those of them with whom you have enmity. Allah is Powerful, and Allah is Most-forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

It is hoped that Allah will bring about love between you and those of them with whom you have enmity. Allah is Powerful, and Allah is Most-forgiving, Very-Merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Perhaps Allah will make friendship between you and those whom you hold as enemies. And Allah has power (over all things), and Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It may be that Allah will ordain love between you and those of them with whom ye are at enmity. Allah is Mighty, and Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Perhaps Allah will put, between you and those to whom you have been enemies among them, affection. And Allah is competent, and Allah is Forgiving and Merciful.

— Saheeh International

God will perhaps bring about love between you and those of the disbelievers with whom you were enemies. God is All-powerful, All-merciful, and All-forgiving.

— Muhammad Sarwar

It may be that Allah will bring about friendship between you and those whom you hold to be your enemies among them; and Allah is Powerful; and Allah is Forgiving, Merciful.

— Muhammad Habib Shakir

Belike Allah may appoint between you and those of them whom ye hold as enemies affection. And Allah is Potent, and Allah is Forgiving, Merciful.

— Abdul Majid Daryabadi

It may be that Allah will grant love (and friendship) between you and those whom ye (now) hold as enemies. For Allah has power (over all things); And Allah is Oft-Forgiving, Most Merciful.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 60:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 7–9

کفار سے محبت کی ممانعت کی دوبارہ تاکید کافروں سے محبت رکھنے کی ممانعت اور ان کی بغض و و عداوت کے بیان کے بعد اب ارشاد ہوتا ہے کہ بسا اوقات ممکن ہے کہ ابھی ابھی اللہ تم میں اور ان میں میل ملاپ کرا دے، بغض نفرت اور فرقت کے بعد محبت مودت اور الفت پیدا کر دے، کونسی چیز ہے جس پر اللہ قادر نہ ہو ؟ وہ متبائن اور مختلف چیزوں کو جمع کرسکتا ہے، عداوت و قساوت کے بعد دلوں میں الفت و محبت پیدا کردینا اس کے ہاتھ ہے، جیسے اور جگہ انصار پر اپنی نعمت بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے (ترجمہ) الخ تم پر جو اللہ کی نعمت ہے اسے یاد کرو کہ تمہاری دلی عداوت کو اس نے الفت قلبی سے بدل دیا اور تم ایسے ہوگئے جیسے ماں جائے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُمْتَحِنَة 11 اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو اپنے کافر رشتہ داروں سے قطع تعلق کی جو تلقین کی گئی تھی اس پر سچے اہل ایمان اگرچہ بڑے صبر کے ساتھ عمل کر رہے تھے، مگر اللہ کو معلوم تھا کہ اپنے ماں باپ، بھائی بہنوں اور قریب ترین عزیزوں سے تعلق توڑ لینا کیسا سخت کام ہے اور اس سے اہل ایمان کے دلوں پر کیا کچھ گزر رہی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ وہ وقت دور نہیں ہے جب تمہارے یہی رشتہ دار مسلمان ہوجائیں گے اور آج کی دشمنی کل پھر محبت میں تبدیل ہوجائے گی۔ جب یہ بات فرمائی گئی تھی اس وقت کوئی شخص بھی یہ نہیں سمجھ سکتا تھا کہ یہ نتیجہ کیسے رونما ہوگا۔ مگر ان آیات کے نزول پر چند ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (اور چونکہ ان کی عداوت سن کر مسلمانوں کو فکر ہو سکتی تھی کچھ قطع قرابات سے طبعاً رنج ہوسکتا تھا، اس لئے بطور بشارت کے آگے پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ سے امید ہے (یعنی ادھر سے وعدہ ہے) کہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری عداوت ہے دوستی کر دے (گو بعض ہی سے سہی، یعنی ان کو مسلمان کر دے جس سے عداوت مبدل بہ صداقت ہوجاوے) اور (اس کو کچھ بعید نہ سمجھو کیونکہ) اللہ کو بڑی قدرت ہے (چنانچہ فتح مکہ کے روز بہت آدمی خوشی سے مسلمان ہوگئے، مطلب یہ کہ اول تو اگر قطع تعلق ہمیشہ کے لئے ہوتا تب بھی بوجہ مامور بہ ہونے کے واجب العمل تھا، پھر خاص کر جبکہ تھوڑی ہی مدت کے لئے کرنا پڑے اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(عسی اللہ ان یجعل بینکم و بین الذین عایتم منھم مودۃ واللہ قدیر واللہ غفور رحیم) (7)۔ (ایک عظیم بشارت)۔ یہ ایک بہت بڑی بشارت ہے کہ آج اگر تم جی کڑا کر کے اپنے ان اقرباء سے اپنی دشمنی کا اعلان کردو گے تو یہ نہ خیال کرو کہ یہ دشمنی ہمیشہ دشمنی ہی رہے گی بلکہ امکان اس کا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دشمنی کو محبت سے بدل دے اور جن سے آج تمہیں عداوت کرنی پڑ رہی ہے وہ ایمان و اسلام کی توفیق سے بہرہ مند ہو کر تم سے گلے ملیں۔ (واللہ قدیر واللہ غفور رحیم) اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ چاہے تو جانی دشمنوں کو جگری دوست بنا دے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ وہ لوگوں کو عذاب میں ڈالنے کے بہانے نہیں ڈھونڈتا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

7۔ 1 یعنی ان کو مسلمان کرکے تمہارا بھائی اور ساتھی بنا دے، جس سے تمہارے مابین عداوت، دوستی اور محبت میں تبدیل ہوجائے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، فتح مکہ کے بعد لوگ فوج در فوج مسلمان ہونا شروع ہوگئے اور ان کے مسلمان ہوتے ہی نفرتیں، محبت میں تبدیل ہوگئیں، جو مسلمانوں کے خون کے پیاسے تھے، وہ دست وبازو بن گئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: یعنی امید ہے کہ مکہ مکرمہ میں جو لوگ اس وقت دشمنی پر آمادہ ہیں، ان میں سے کچھ ایمان بھی لے آئیں گے، اور ان کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہوجائے گی۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد ان میں سے بہت سے لوگ ایمان لے آئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–9

اسلام سلامتی کا دین ہے ، محبت کا عقیدہ ہے۔ وہ ایک ایسا نظام ہے جو پوری دنیا کو اپنے سایہ عاطفت میں لینا چاہتا ہے۔ اور پوری دنیا اپنا منہاج قائم کرنا چاہتا ہے۔ وہ لوگوں کو اللہ کے جھنڈوں کے نیچے جمع کرتا ہے اور ان کو باہم متعارف بھائی بناتا ہے۔ اس سلسلے میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ یہ ہے کہ اسلام کے دشمن اپنی معاندانہ کاروائیاں کرتے ہیں۔ وہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں۔ اگر مخالفین اسلام ، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ دشمنی ترک کردیں تو اسلام کو کسی کے ساتھ دشمنی میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسلام از خود کوئی دشمنی پیدا نہیں کرتا۔ وہ دشمنی اور جنگی حالت میں بھی انسانی نفوس کے اندر انس و…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی اللہ کی قدرت و رحمت سے کچھ بعید نہیں کہ جو آج بدترین دشمن ہیں کل انہیں مسلمان کر دے اور اس طرح تمہارے اور ان کے درمیان دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہوجائیں۔ چناچہ فتح مکہ میں ایسا ہی ہوا، تقریباً سب مکہ والے مسلمان ہوگئے اور جو لوگ ایک دوسرے پر تلوار اٹھا رہے تھے اب ایک دوسرے پر جان قربان کرنے لگے۔ اس آیت میں مسلمانوں کی تسلی کردی کہ مکہ والوں کے مقابلہ میں یہ ترک موالات کا جہاد صرف چند روز کے لیے ہے۔ پھر اس کی ضرورت نہیں رہے گی۔ چاہیے کہ بحالت موجودہ تم مضبوطی سے ترک موالات پر قائم رہو۔ اور جس سے کوئی بےاعتدالی ہوگئی ہو اللہ سے اپنی خطا معاف کرائے۔ وہ بخشنے والا مہربان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْہُمْ مَّوَدَّۃً } ”بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تمہاری دشمنی ہے ‘ دوستی پیدا کر دے۔“ ظاہر ہے اگر وہ بھی ایمان لے آئیں گے تو وہ تمہارے بھائی بن جائیں گے ‘ جیسا کہ سورة التوبہ کی آیت 11 میں فرمایا گیا : { فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِط } ”پھر بھی اگر وہ توبہ کرلیں ‘ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں“۔ اور یہ مرحلہ کوئی زیادہ دور بھی نہیں تھا۔ زیرمطالعہ آیات فتح مکہ سے قبل 8 ہجری میں نازل ہوئیں اور اس سے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

16 فتح مکہ سے پیشتر کفار مکہ کے ایمان لانے کی خوشخبری :۔ اس آیت میں مسلمانوں کو فتح مکہ سے پہلے ہی فتح مکہ کی خوشخبری دے دی گئی ہے۔ اور ابتداء میں عسیٰ کا لفظ محض شاہانہ انداز بیان کی رعایت سے آیا ہے۔ جیسے کوئی بادشاہ اپنے کسی ملازم کو کہے کہ ہوسکتا ہے کہ تمہیں ترقی دے دی جائے۔ تو اس کا مطلب ایک یقینی خبر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صرف فتح مکہ کی خبر ہی نہیں دی۔ بلکہ یہ بھی بتلا دیا کہ مکہ کے کافر جو آج تمہارے سخت دشمن ہیں۔ اسلام قبول کرلیں گے اور تم لوگ پھر آپس میں شیروشکر بن جاؤ گے۔ 17 یعنی اللہ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ حالات کا رخ اس طرح موڑ دے کہ مکہ بھی فتح ہوجائے۔ کشت و خون بھی نہ ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ (چنانچہ اب تک اسی حکم کی تعمیل میں جن سے کو تاہیاں ہوئی ہیں، وہ اگر توبہ و استغفار کرلیں تو اللہ کی مغفرت و رحمت دونوں سے مستفید ہوسکتے ہیں) (آیت) ” عسی ..... مودۃ “۔ یعنی انہیں کافروں اور مسلمانوں کے شدید دشمنوں میں سے بعض کو اسلام کی ہدایت دے دے، حضرت ابوسفیان بن حرب وغیرہ کا اسلام لانا اسی پیشگوئی کے ظہور عملی کی مثال ہے۔ مسلمانوں نے حکم الہی کی تعمیل میں مشرکین سے قطع تعلق کرلیا تو تھا لیکن قرابتوں اور رشتہ داریوں کی بنا پر کسی درجہ میں غم محسوس کرنا بالکل طبعی تھا۔ (آیت) ” واللہ قدیر “۔ تو ایسے قادر مطلق کی قدرت سے یہ بعید ہی کیا ہے۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جو کافر اہل حرب میں سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ : کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ عنقریب ہی تم میں اور تمہارے دشمنوں میں محبت پیدا کر دے جن کفار مکہ سے تم نے خدا کی طاعت میں دشمنی کی ہے، اس طریقہ سے کہ وہ ان کو ایمان کی ہدایت دیدے، تو وہ تمہارے دوست ہوجائیں، اللہ ت عالیٰ اس بات پر قادر ہے اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فتح مکہ کے بعد ایسا کر بھی دیا اور اللہ تعالیٰ ان کے سابقہ (گناہوں) کو معاف کرنے والا ان پر رحم کرنے والا ہے اللہ ت عالیٰ تم کو ان کفار کے ساتھ جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی نہیں کی اور نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہے حسن سلوک کرنے سے الذین سے بدل الاشتمال ہے اور انصاف کا برتائو کرنے سے منع نہیں کرتا اور یہ حکم،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

عسی اللہ ان یجعل بینکم و بین الذین عادیتم منھم مودۃ واللہ قدیر واللہ غفور رحیم . ” امید ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں ‘ دوستی پیدا کر دے گا اور اللہ کو بڑی قدرت ہے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ “ بغوی نے لکھا ہے کہ مقاتل نے بیان کیا ‘ جب اللہ نے کافروں سے عداوت رکھنے کا حکم دیا تو مسلمانوں نے اپنے کافر قرابت داروں اور عزیزوں سے بھی دشمنی اور بیزاری کا اظہار کردیا (لیکن ان کے دلوں میں اقرباء کے لیے رقت اور محبت پوشیدہ تھی) اور اللہ اس سے واقف تھا تو مسلمانوں کو تسکین دینے کے لیے یہ آیت نازل فرما دی۔ اَلَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ : ان سے مراد ہیں کفار مکہ۔ اللہ نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دینی دشمنوں یعنی مکہ والوں سے دوستی کا سلسلہ قائم کردے گا، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ رسول اکرم نے فتح مکہ کے سال حضرت ابوسفیان کی صاحبزادی حضرت ام حبیبہ سے شادی فرمائی۔ اور کفار قریش پر اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو غلبہ دینے پر قادر اور کفر سے توبہ کرنے والے اور ایمان لانے والے کو بخشنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ عَسَی اللہ ُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْہُمْ مَّوَدَّۃً : اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان کے مشترک رشتہ داروں سے قطع تعلق کا جو حکم دیا اس کے مطابق اپنے عزیزوں سے ناتا توڑنا اگرچہ نہایت مشکل کام تھا مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور کسی قربت کی پروا نہیں کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے صدق و اخلاص کو دیکھ کر اس آیت کے ساتھ ان کی دلجوئی فرمائی اور انہیں بشارت دی کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اور ان لوگوں کے درمیان جن کے ساتھ دین کی وجہ سے تمہاری دشمنی ہے دوستی پیدا کر دے ، تمہارے یہ عزیز مسلمان ہوجائیں اور دشمنی پھر محبت میں بدل جائے۔ 2۔…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیات۔ 8 تفسیر اس آیت میں تین مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے ساتھ صلہ رحمی کی رخصت ہے جو مومنوں سے دشمنی نہیں رکھتے اور ان سے برسرپیکار نہیں رہتے۔ ابن زید نے کہا : یہ ابتداء اسلام میں تھا جب ایک دوسرے کو چھوڑنے اور قتال کے معاملہ کو ترک کرنے کا حکم تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا (2) ۔ قتادہ نے کہا : اسے فاقتلو ……(التوبہ :5) سے منسوخ کردیا گیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ حکم خاص علت کی بنا پر تھا اور وہ صلح تھی جب فتح مکہ کے ساتھ صلح ختم ہوگئی تو یہ حکم بھی منسوخ کردیا گیا اور صرف اس کی قراءت و تلاوت باقی رہ گئی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : فتح مکہ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 7–9

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن شہاب (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابو سفیان بن حرب کو یمن کے بعض علاقہ پر عامل بنایا۔ جب رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے۔ تو وہ آرہے تھے کہ ایک اوڑھنی والے مرتد سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اس سے قتال کیا۔ یہ پہلا آدمی ہے جس نے مرتد ہونے کے سبب کسی سے قتال کیا اور دین کے لیے جہاد کیا ابن شہاب (رح) نے کہا کہ انہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت عسی اللہ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتم منہم مودۃ۔ امید ہے کہ اللہ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں دوستی پیدا کردے گا۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن شہاب سے اور انہوں نے ابی سلمہ بن عبدالرحمن سے اور انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[عَسَى اللّٰهُ ان يَجْعَلَ : قریب ہے کہ اللہ پیدا کر دے ][ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِينَ : تمہارے درمیان اور ان کے درمیان جس سے ][ عَادَيْتم : تمہارا جھگڑا ہے ][ مِّنْهُمْ : ان میں سے (کچھ سے)][ مَّوَدَّةً : دوستی ][ وَاللّٰهُ قَدِيْرٌ: اور اللہ قدرت والا ہے ][ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ : اور اللہ بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 7–9

ہجرت کرنے کے بعد وطن سابق کے لوگوں سے تعلق رکھنے کی حیثیت جیسا کہ معلوم و معروف ہے جو حضرات ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے آئے تھے مکہ معظمہ میں ان کے رشتہ دار تھے جنہوں نے اسلام قبول نہ کیا تھا طبعی طور پر مہاجرین کے دلوں میں اس کا احساس ہونا ممکن تھا کہ ان لوگوں سے تعلقات ٹوٹ گئے (لیکن ایمان وکفر کے مقابلہ کی وجہ سے تعلقات ٹوٹنا بھی ضروری تھا) اوپر جن آیات کا ترجمہ لکھا گیا ہے ان میں سے پہلی آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی ہے اور امید دلائی ہے کہ ایمان کی وجہ سے جن رشتہ داروں سے تعلقات ختم ہوگئے اللہ تعالیٰ عنقریب تمہارے اور ان کے درمیان مودت یعنی محبت پیدا فرما دے گا (یہ محبت اس طرح وجود میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 7–9

تسلی اہل ایمان بذکر بشارت و کامیابی مسلمین براعدائے اسلام و اجازت حسن سلوک از کافران امن پسند ومصالحین “۔ قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” عسی اللہ ان یجعل بینکم ..... الی فاولئک ھم الظلمون “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں کفار مشرکین کے ساتھ بغض ونفرت اور براءت وبیزاری کا ذکر تھا کہ یہی اسوۂ ابراہیمی ہے مسلمانوں کو اسی کو اختیاری کریں، اب ان آیات میں مستقبل قریب میں پیش آنے والے غلبہ اور کامیابی کا ذکر ہے اور ضمنا اشارہ ہے کہ کچھ تو میں کافروں میں سے ایمان لے آئیں گی اور یہ اجازت وہی جارہی ہے کہ جس کسی کافر نے اب تک مسلمانوں کے ساتھ کوئی قتال نہیں کیا اور نہ دشمنی کا کوئی معاملہ کیا اور نہ ہی انہوں نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ ” عسی اللہ “ یہ مومنین کو ان کے مشرک اقارب کے ایمان لانے کی بشارت ہے یعنی جب تک اہل مکہ اپنے کفر پر قائم ہیں اس وقت تک تم ان سے دوستی نہیں کرسکتے۔ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے ان کافر رشتہ داروں کے درمیان جن سے تمہیں دین کی وجہ سے عداوت ہے، دوستی اور محبت کا رشتہ قائم کردے یعنی ان کو قبول اسلام کی توفیق دے دے۔ اللہ تعالیٰ اس پر قادر ہے اور سچی توبہ کرنے والوں کے تمام گناہ معاف فرمانے والا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فتح مکہ کے موقع پر پورا فرمایا اور ان کافروں کو قبول اسلام سے مشرف فرمایا۔ فلمایسیر فتح مکۃ اظفرہم اللہ بامنیتہم فاسلم قومھم وثم بینہم التحاب (مدارک ج 4 ص…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 7–9

ربط آیات : حضور ﷺ کے صحابی سے غلطی ہوئی اور اس نے مسلمانوں کے راز مشرکین مکہ تک پہنچانے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو سخت تنبیہ کی کہ…ایسی غلطی کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ پھر اللہ نے کافروں کے ساتھ مقاطعہ کا حکم دیا اور ان کے ساتھ دوستی کرنے کی ممانعت فرمادی۔ فرمایا اللہ کے دشمنوں کے ساتھ کسی طرح دوستی نہیں ہوسکتی ، نہ انہیں اپنا راز دار بنایا جاسکتا ہے کیونکہ جب بھی انہیں موقع ملے گا وہ مسلمانوں کو نقصان ہی پہنچائیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ وہ اپنے ہاتھوں اور زبانوں سے اہل ایمان کو اذیتیں پہنچاتے ہیں۔ فرمایا تم نے تو یہ کام اپنے بیوی بچوں کو مصلحت کے لئے کیا ہے مگر قیامت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

عَسَى اللہُ اَنْ يَّجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ عَادَيْتُمْ مِّنْہُمْ مَّوَدَّۃً۝ 0 ۭ وَاللہُ قَدِيْرٌ۝ 0 ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۝ 7 عسی عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین ( ع س ی ) عسیٰ کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی تفسیر لازم منعی یعنی یقین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–9

ترکیب : اللہ فاعل عسی ‘ ان یعجل الجملۃ خبرھا مودۃ مفعول لیجعل ان تبروھم فی موضع جرعلی البدل من الموصول بدل البعض وتقسطوا معطوف علی تبروا منصوب بان ان تو لوھم بدل من الموصول (الذین) بدل الاشتمال ای ینھٰکم ان تتولوھم۔ تفسیر : پچھلی آیات میں مسلمانوں کو کفار کی دوستی اور ملاپ سے منع کردیا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے بالکل ترک کردیا اور اس حکم کی پابندی میں یہاں تک مبالغہ کیا کہ حسن معاشرت کے قانون سے تجاوز ہوگیا۔ چناچہ بخاری (رح) نے نقل کیا ہے کہ اسماء بنت ابی بکر ؓ کے پاس مکہ سے اس کی ماں آئی اس وقت کہ قریش میں اور نبی ﷺ میں معاہدہ قائم ہوگیا تھا۔ اسماء ؓ نے بغیر آنحضرت ﷺ سے دریافت کئے اپنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَـکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ مَّوَدَّۃً ط وَاللّٰہُ قَدِیْرٌ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ (الممتحنۃ : 7) (بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جن سے تم نے دشمنی کی، دوستی پیدا کردے، اور اللہ قدرت والا ہے اور اللہ غفورورحیم ہے۔ ) مسلمانوں کی وفاداری پر ایک انعام گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو ایمان کی روح قرار دیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے ان اعزہ و اقرباء سے تعلقات منقطع کردے جو اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمن ہیں اور جنھوں نے ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکنے کی کوشش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی پہلی آیت میں مسلمانوں کو کفار کے ساتھ قلبی تعلقات رکھنے سے منع کیا گیا ہے جس میں ایمانداروں کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی اور ہے اس لیے انہیں تسلی دی گئی ہے کہ دل چھوٹا نہیں کرنا۔ عنقریب اللہ تعالیٰ وقت لانے والا ہے جب تمہارے دشمن ایمان لے آئیں گے اور تم آپس میں شیرو شکر ہوجاؤ گے۔ رب ذوالجلال کا حکم پاتے ہی صحابہ کرام ؓ نے کفار کے ساتھ اپنی رشتہ داریوں اور تعلقات کو ختم کرلیا کسی نے اپنی کافر بیوی کو طلاق دی اور کسی نے اپنی اولاد سے رشتہ توڑا۔ یہ بات لکھنا اور بیان کرنا آسان ہے لیکن رشتہ داروں سے لاتعلق ہونا معاشرتی اعتبار سے بہت بڑا چیلنج اور آزمائش ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

مسلمانوں کو ان کے ایمان کی توقع دلائی : 7 : جب یہ آیات نازل ہوئیں اور مسلمانوں نے اپنے کافر آباء و ابناء، رشتہ داروں کی عداوت میں خوب سختی کی تو اس آیت میں اس کے برعکس حالت کی تبدیلی کی توقع دلائی گئی فرمایا عَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّجْعَلَ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَ الَّذِیْنَ عَادَیْتُمْ مِّنْھُمْ (امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تمہارے دشمن ہیں۔ دوستی پیدا کر دے گا) یعنی اہل مکہ میں سے جو تمہارے اقارب ہیں۔ مَّوَدَّۃً (دوستی) کہ ان کو ایمان کی توفیق سے نواز دیں۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ تمنا پوری کردی۔ قریش مسلمان ہوگئے اور ان کے درمیان محبت تکمیل کو پہنچ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” لقد کان لکم فیھم “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) اور ان لوگوں میں جوان کے ساتھ ایمان لائے۔ ” امرا حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الآخر “ یہ بدل ہے اللہ تعالیٰ کے قول لکم سے اور یہ بیان ہے کہ یہ اسوہ اس کے لئے ہے جو اللہ سے ڈرے اور آخرت کے عذاب سے۔ ” ومن یتول “ ایمان سے اعراض کرے اور کفار سے دوستی کرے۔ ” ان اللہ ھوالغنی “ اپنی مخلوق سے الحمید “ پس اپنے اولاء اور اہل طاعت کا دوست ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کفار سے دشمنی کا حکم دیا تو مومنین نے اپنے مشرک رشتہ داروں سے دشمنی کی اور ان کے لئے دشمنی اور براۃ کو ظاہر کیا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے تھے مومنین کی سخت مشقت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–7

1۔ 7۔ حاطب بن ابی بلتعہ کے بال بچے مکہ میں تھے حاطب نے اس سبب سے آنحضرت ﷺ کی مکہ کی چڑھائی کے حال کا وہ خط مشرکین مکہ کو آنحضرت سے چھپ کر لکھا تھا کہ اہل مکہ سے دوستی بنی رہے اور چڑھائی کے وقت اہل مکہ کے ہاتھ سے ان کے بال بچوں کو کچھ تکلیف نہ پہنچے۔ چناچہ صحیحین 2 ؎ میں حضرت علی ؓ کی روایت سے جو حدیث ہے اس میں ذکر ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ نے جو خط اہل مکہ کو لکھا تھا جب وہ خط مکہ کے راستہ سے پکڑا جا کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا اور آنحضرت ﷺ نے اس خط کا حال حاطب سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا کہ حضرت میرے بال بچے مکہ میں تھے۔ فقط ان کے بچاؤ کی غرض سے میں نے یہ خط لکھا تھا۔ اسلام سے مرتد ہو کر میں نے یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

پس اے مومنوا تم ان کے ایمان کی طرف لوٹنے سے مایوس نہ ہوجاؤ (عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّجْعَلَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ عَادَيْتُمْ مِّنْهُمْ مَّوَدَّةً ۭ ) عجب نہیں کہ اللہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تم عداوت کرتے ہو، دوستی پیدا کردے۔ اور اس کا سبب ان کا ایمان کی طرف لوٹنا ہے (وَاللّٰهُ قَدِيْرٌ ۭ ) اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے دلوں کو ہدایت سے بہرہ ور کرنا اور ان کو ایک حال سے دوسرے حال میں بدلنا اور اس کی قدرت کے تحت ہے۔ (وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اس کے سامنے کوئی گناہ بڑا نہیں کہ وہ اسے بخش نہ سکے اور کوئی عیب بڑا نہیں کہ وہ اسے ڈھانپ نہ سکے۔ (قل یعبادی الذین اسرفوا۔۔۔ تا۔۔۔…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 5–7

اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی تمام باتوں میں تقلید کرنے کا حکم دیا۔ البتہ کافر بات کے لئے بخشش کی دعا مانگنے کی بات کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا۔ قول باری ہے۔ (ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں کافروں کا تختہ مشق نہ بنا) قتادہ کا قول ہے : ” یعنی انہیں ہم پر غالب کرکے ، اور پھر وہ یہ سمجھ لیں کہ وہ حق پر ہیں۔ “ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ان کو ہم پر مسلط نہ کر کہ پھر وہ ہمیں اپنا تختہ مشق بنالیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–8

[ 24] اہل صدق و صفا کے لیے ایک عظیم الشان بشارت : سوا رشاد فرمایا گیا، اور مومنین صادقین کے لیے عظیم الشان بشارت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بعید نہیں کہ اللہ تمہارے اور تمہارے دشمنوں کے درمیان محبت ڈال دے کہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی قدرت والا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے "۔ پس تمہیں اپنے اہل کفر رشتہ داروں سے بائیکاٹ اور قطع تعلقی میں زیادہ گرانی نہیں ہونی چاہیے، اس طرح ان حضرات کو ان کے رشتہ داروں کے ایمان لانے کی امید دلائی گئی، اور امام رازی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ کہتے ہیں کہ یہ دراصل اللہ پاک کی طرف سے ایک وعدہ ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں انقلاب آئے گا، اور وہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 7–13

اسلام امن کا مذہب ہے، عورتوں کے خاص معاملات تشریح : پچھلی آیات میں جو غیر مسلموں سے دوستی اور اعتبار سے منع کیا گیا ہے تو خاص حالات میں، یعنی جنگ کے حالات میں کیونکہ، دشمن کو کبھی بھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے،۔ مخالفین اکثر مسلمان کو دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں دہشت گردی کو کبھی پسند نہیں کیا بلکہ اسلام تو نام ہی امن و سلامتی کا ہے۔ ہماری تاریخ اور نبی اکرم ﷺ کی زندگی اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ آپ ﷺ نے صبر سے کفار کی سختیاں برداشت کیں اور پھر چپکے سے ہجرت کر گئے پھر جنگ بدر، احد اور حنین۔ تینوں دفاعی جنگیں تھیں۔ معاہدہ حدیبیہ مکمل طور پر صلح و…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 7–13

آیات 7 تا 13۔ اسرار ومعارف۔ اللہ قادر ہے کہ وہ تمہارے دشمنوں یعنی کافروں میں سے بھی تمہارے دوست پیدا کردے یعنی بعض کو ایمان نصیب ہوجائے کہ اللہ بہت بڑابخشنے والامہربان ہے۔ کافر سے تعلقات کی نوعیت۔ لیکن اگر وہ مسلمان نہ بھی ہوں تو جن کفار سے اندیشہ نہ ہو کہ مسلمانوں یا اسلام کو نقصان پہنچے گا جو تمہارے خلاف جنگ میں کسی بھی طرح سے شریک نہ ہوں اور مسلمانوں کے گھراجاڑنے اور انہیں گھروں سے نکل جانے پر مجبور کرنے میں ان کا حصہ نہ ہو ان سے حسن سلوک کیا کرو اور مسلمانوں کی فلاحی ریاست کے فلاحی امور سے وہ فائدہ حاصل کرسکتے ہیں نیز سب کے ساتھ عدل و انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت سے بعید نہیں ہے کہ جو کافر آج تمہارے بد ترین دشمن ہیں وہ کل انہیں توفیق دے اور وہ مسلمان ہوجائیں اور اس طرح تمہارے اور ان کے درمیان درست تعلقات قائم ہوجائیں۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد ایسا ہی ہوا۔ اس آیت سے مقصود مسلمانوں کو تسلی دینا ہے کہ کفار مکہ سے ترک موالات کا جو حکم دیا جا رہا ہے وہ صرف تھوڑے رصہ کے لئے ہے جلد ہی ایسے حالات پیش آئیں گے کہ تمہیں اس پر عمل کرنے کی ضرورت باقی نہ رہے گی۔ (موضح)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(60:7) عسی اللہ۔ عسی : امید ہے۔ عنقریب ہے ، اندیشہ ہے، کھٹکا ہے، جب اس کا استعمال اللہ کے لفظ کے ساتھ ہو تو بمعنی امید ہے۔ توقع ہے (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو 47:22) ۔ ان : مصدریہ ہے۔ یجعل مضارع منصوب بوجہ عمل ان۔ عادیتم : ماضی جمع مذکر حاضر۔ معاداۃ (مفاعلۃ) مصدر ۔ تم نے دشمنی کی، تم نے عداوت رکھی۔ منھم : میں من تبعیضیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ مودۃ : محبت، دوستی، (ملاحظہ ہو 20:1 ۔ متذکرۃ الصدر) فعل یجعل کا مفعول عسی اللہ فاعل۔ ان یجعل بینکم وبین الذین عادیتہم منھم مودۃ خبر ہے۔ فائدہ : جب آیت یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم ۔۔ الخ نازل ہوئی تو جو مسلمان ہجرت کرکے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 7–9

لغات القرآن۔ عسی ۔ شاید۔ امید ہے کہ ۔ عادیتم۔ تم نے دشمنی کی۔ ان تبروا۔ یہ کہ تم نیکی (نہ ) کرو گے۔ تفسطوا۔ تم انصاف کرو گے۔ تشریح : انسان دنیا کے کسی بھی خطے میں رہتا بستا ہوا اپنے گھرو الوں اور رشتہ داروں کی محبت کو دل سے نہیں نکال سکتا۔ مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد ان اہل ایمان سے جو اپنا سب کچھ چھوڑ کر محض اللہ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت و محبت میں مدینہ منورہ آگئے تھے ان سے فرمایا گیا کہ تم کافر رشتہ داروں سے قطع تعلق کرلو۔ ان کے ساتھ حسن سلوک سے نہیں بلکہ قلبی محبت رکھنے کو منع فرما دیا گیا تھا۔ اہل ایمان اس حکم پر پوری طرح عمل نہایت صبرو برداشت سے کر رہے تھے لیکن ان پر کیا گذر رہی…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–7

حضور ﷺ کا حضرت حاطب ؓ کی فضیلت بیان کرنا۔ اللہ تعالیٰ کا اولاد اور رشتہ داروں کے میل جول کے حق میں حکم اور علم نبوی ﷺ ۔ (ف 1) شان نزول : بنی ہاشم کے خاندان کی ایک باندی سارہ مدینہ طیبہ میں نبی ﷺ کے حضور میں حاضر ہوئی جبکہ حضور فتح مکہ کا سامان فرما رہے تھے حضور ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو مسلمان ہوکرآئی ہے اس نے کہا نہیں، فرمایا کیا ہجرت کرکے آئی ہو عرض کیا نہیں، فرمایا پھر کیوں آئی ہو اس نے کہا محتاجی سے تنگ ہوکر بنی عبدالمطلب نے اس کی امداد کی کپڑے بنائے سامان دیا۔ حاطب بن ابی بلتعہ اس سے ملے انہوں نے اس کو دس دینار دیے ایک چادر دی اور ایک خط اہل مکہ کے پاس اس کی معرفت بھیجا جس کا مضمون یہ تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت سے کچھ بعید نہیں کہ جو آج بدترین دشمن ہیں کل انہیں مسلمان کر دے اور تمہارے اور ان کے درمیان برادرانہ تعلقات قائم ہوجائیں۔ چناچہ فتح مکہ کے موقع پر ایسا ہی ہوا اور تقریباً تمام اہل مکہ مسلمان ہوگئے اور جو لوگ ایک دوسرے پر تلوار اٹھا رہے تھے وہ اب ایک دوسرے پر جان قربان کرنے لگے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

ف 2: جب یہ آیتیں نازل ہوئیں ۔ تو مسلمانوں کی گردنیں اطاعت اور فرمانبرداری میں جھک گئیں ۔ اور انہوں نے اللہ کے سوا تمام لائق دنیا کو جو اس کی راہ میں حائل ہوسکتے تھے ۔ چھوڑ دیا ۔ اور اس سختی کے ساتھ اپنے غیر مسلم عزیزوں سے قطع تعلق کیا ۔ کہ اس میں کچھ قساوت کی آمیزش ہوگئی ۔ اور خطرہ پیدا ہوگیا ۔ کہ کہیں یہ نبض وعناد اس عزیزوں کو اسلام سے دور نہ کردے ۔ اس لئے سمجھادیا ۔ کہ قطع تعلق کے یہ معنی نہیں ہیں ۔ کہ تم ان کو ہمیشہ کے لئے کفر کی آغوش میں دے دو ۔ بلکہ تعلقات کی نوعیت سی ہو ۔ کہ وہ تمہارے جذبہ دینی کی تو قدر کریں ۔ مگر اس کے ساتھ وہ تم سے متنفرنہ ہوجائیں ۔ کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں ۔ جو عنقریب…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری دشمنی اور عداوت ہے دوستی پیدا کردے اور اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے اور اللہ تعالیٰ نے بڑی مغفرت کرنے والا نہایت مہربان ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ان کو مسلمان کردے پھر تمہاری دوستی بجا رہے ایسا ہی ہوا اس سفر میں مکہ کے لوء سارے مسلمان ہوئے۔ یعنی اگرچہ اس وقت دشمنی اور عداوت کی وجہ سے ترک تعلقات کا حکمدیا گیا ہے لیکن وہ دن دور نہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ ان کے جن سے تم عداوت رکھتے ہو اور تمہارے درمیان دوستی اور اخوت کے سامان پیدا کردے جس کی سہل صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان دین حق کے منکروں کو مسلمان کردے اور ان کے سابقہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ یعنی ان کو مسلمان کر دے جس سے عداوت مبدل بہ صداقت ہوجاوے۔ 2۔ چناچہ فتح مکہ کے روز بہت آدمی خوشی سے مسلمان ہوگئے، مطلب یہ کہ اول تو اگر قطع تعلق ہمیشہ کے لئے ہو تب بھی بوجہ مامور بہ ہونے کے واجب العمل تھا، پھر خاص کر جبکہ تھوڑی ہی مدت کے لئے کرنا پڑے، اور پھر مشارک فی الایمان سے دوستی اور تعلق بدستور عود کر آوے، غرض ہر طرح قطع تعلق ضروری ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

مسلمانوں کو تنبیہ کہ اگر تم نے کفار سے بےنیازی اختیار کی تو شاید وہ خود متوجہ ہو جائیں 7 ؎ اہل ایمان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم نے کفار سے تعلقات اور رشتے منقطع رکھے اور ان کی کوئی پرواہ نہ کی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہوگا کہ ان کی رغبت تمہاری طرف ہوجائے ۔ ذرا اس وقت کے حالات کو ذہن میں لائو کہ حالت کیا تھی اور اس نسخہ نے حالت کیا کردی ۔ صدر اول کے مسلمانوں کو جب یہ نصیحت کی گئی تو اسلام کی خاطر ان کو کسی عزیز سے عزیز رشتہ دار کا میدان جنگ میں بھی سر قلم کرنا پڑا تو مسلمانوں نے کبھی دریغ نہ کیا اور ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ جو زیر نظر آیت میں خوش خبری دی گئی وہ من و عن پوری ہوگئی مشرکین…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary The preceding verses vehemently prohibited Muslims to maintain any friendly intimacy with non-believers, even though they had very near blood relationships with them. The noble Companions used to carry out the commands of Allah and His Messenger in letter and spirit. In this matter, they did not care about their personal desires, or about their near and dear ones. This command was also carried out with the result that in some homes the father was a Muslim and the son was an unbeliever or vice versa. Friendly relations were severed. Obviously, this situation was not easy for their…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

11 Although the true believers were following the exhortation to sever their connections with the unbelieving kinsmen patiently, yet Allah knew how hard it was to break off one's connections with one's parents, brothers and sisters and near relations. Therefore, Allah consoled them with the hope that a time would soon come when their same relations would become Muslims and their today's enmity would again change into love tomorrow. When this thing was said no one could understand how this would happen. But hardly a few weeks had passed after the revelation of these verses when Makkah fell and…

Read the full tafseer →