Ayah 60:1خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! تم میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بتاؤ کہ ان سے دوستی کا اظہار کرنے لگو (یعنی گو دل سے دوستی نہ ہو مگر ایسا دوستانہ برتاؤ بھی مت کرو) حالانکہ تمہارے پاس جو دین حق آ چکا ہے وہ اس کے منکر ہیں (جس سے ان کا دشمن خدا تعالیٰ ہونا معلوم ہوا جو آیت میں بلفظ عَدُوِّيْ بیان کیا گیا) رسول ﷺ کو اور تم کو اس بنا پر کہ تم اپنے پروردگار اللہ پر ایمان لے آئے شہر بدر کرچکے ہیں (یہ بیان ہے عدوکم کا، یعنی وہ صرف اللہ کے دشمن نہیں تمہارے بھی دشمن ہیں، غرض ایسے لوگوں سے دوستی مت کرو) اگر تم میرے راستہ میں جہاد کرنے کی غرض سے اور میری رضامندی ڈھونڈہنے کی غرض سے (اپنے گھروں سے) نکلے ہو (کفار کی دوستی جس کا حاصل کفار کی رضا مندی کی فکر ہے اور یہ حق تعالیٰ کی رضا جوئی اور اس کے مناسب اعمال کے منافی ہے) تم ان سے چپکے چپکے دوستی کی باتیں کرتے ہو (یعنی اول تو دوستی ہی بری چیز ہے، پھر خفیہ پیغام بھیجنا جو خصوصی ربط وتعلق کی علامت ہے یہ اور زیادہ برا ہے) حالانکہ مجھ کو سب چیزوں کا خوب علم ہے تم جو کچھ چھپا کر کرتے ہو اور جو ظاہر کر کے کرتے ہو (یعنی مثل دوسرے موانع مذکورہ کے یہ امر بھی ان کی دوستی سے مانع ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کی خبر ہے) اور (آگے اس پر وعید ہے کہ) جو شخص تم میں سے ایسا کرے گا وہ راہ راست سے بہک گیا (اور انجام گمراہوں کا معلوم ہی ہے آگے ان کی دشمنی کا بیان ہے کہ وہ تمہارے ایسے سخت دشمن ہیں کہ) اگر ان کو تم پر دسترس ہوجاوے تو (فوراً) اظہار عداوت کرنے لگیں اور (وہ اظہار عداوت یہ کہ) تم پر برائی (اور ضرر رسانی) کے ساتھ دست درازی اور زبان درازی کرنے لگیں (یہ تو دنیوی نقصان ہے) اور (دینی اضرار یہ کہ) وہ اس بات کے متمنی ہیں کہ تم کافر (ہی) ہوجاؤ (پس ایسے لوگ کب قابل دوستی ہیں اور اگر تم کو دوستی کے بارے میں اپنے اہل و عیال کا خیال ہو تو خوب سمجھ لو کہ) تمہارے رشتہ دار اور اولاد قیامت کے دن تمہارے (کچھ) کام نہ آویں گے خدا (ہی) تمہارے درمیان فیصلہ کرے گا اور اللہ تمہارے سب اعمال کو خوب دیکھتا ہے (پس ہر عمل کا فیصلہ ٹھیک ٹھیک کرے گا، پس اگر تمہارے اعمال موجب سزا ہوں گے تو اس سزا سے اولاد و ارحام بچا نہ سکیں گے، پھر ان کی رعایت میں خدا کے حکم کے خلاف کرنا بہت مذموم امر ہے اور اس سے اموال کا قابل رعایت نہ ہونا اور زیادہ ظاہر ہے، آگے حکم مذکور پر تحریض کے لئے حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ ارشاد ہے کہ) تمہارے لئے ابراہیم ؑ میں اور ان لوگوں میں جو کہ (ایمان و اطاعت میں) ان کے شریک حال تھے ایک عمدہ نمونہ ہے (یعنی اس بارے میں کفار سے ایسا برتاؤ رکھنا چاہئے، جیسے حضرت ابراہیم ؑ اور ان کے متبعین نے کیا) جبکہ ان سب نے (اوقات مختلفہ میں) اپنی قوم (کے لوگوں) سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو ان سے بیزار ہیں (اوقات مختلفہ اس لئے کہا گیا کہ ابراہیم ؑ نے جس وقت اول یہ بات اپنی قوم سے کہی تھی اس وقت وہ بالکل تنہا تھے، پھر جو جو آپ کے ساتھ ہوتے گئے کفار سے قطع تعلق قولاً و فعلاً کرتے گئے آگے اس بیزاری کا بیان ہے کہ) ہم تمہارے (یعنی کفار اور ان کے معبودین کے) منکر ہیں (یعنی تمہارے عقائد اور معبودات کی عبادت کے منکر ہیں، یہ تو تبری باعتبار عقیدہ کے ہوئی) اور (بری باعتبار معاملہ اور برتاؤ کے یہ ہے کہ) ہم میں اور تم میں ہمیشہ کے لئے عداوت اور بعض (زیادہ) ظاہر ہوگیا (کیونکہ بنا عداوت کے اختلاف عقائد ہے اور اب اس کا زیادہ اعلان ہوگیا تو عداوت کا بھی زیادہ اظہار ہوگیا، عداوت اور بغض متقارب ہیں اور دونوں کا جمع کرنا تاکید کے لئے ہے اور یہ عداوت ہم کو تم سے ہمیشہ رہے گی) جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لاؤ (غرض ابراہیم ؑ اور ان کے متبعین نے کفار سے صاف قطع تعلق کردیا) لیکن ابراہیم ؑ کی اتنی بات تو اپنے باپ سے ہوئی تھی (جس سے بظاہر ان کے ساتھ محبت و دوستی کا احتمام تھا) کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا اور تمہارے لئے (استغفار سے زیادہ) مجھ کو خدا کے آگے کسی بات کا اختیار نہیں (کہ دعا کو قبول کرا لوں یا باوجود ایمان نہ لانے کے تم کو عذاب سے بچا لوں، مطلب یہ ہے کہ اتنی بات تو ابراہیم ؑ نے کہی تھی جس کا مطلب تم میں سے بعض لوگ مطلق استغفار سمجھ گئے حالانکہ یہاں استغفار کے دوسرے معنی ہیں، یعنی ان کے لئے یہ دعا کرنا کہ وہ ایمان لا کر مغفرت کے مستحق بن جائیں جس کی سب کو اجازت ہے اور واقع میں وہ قطع تعلق کے خلاف بھی نہیں مگر ظاہری صورت تعلق اور ظاہری معنی استغفار کے اعتبار سے صورةً اس کو مستثنیٰ کیا جاتا ہے، یہ گفتگو تو ابراہیم کی اپنی قوم سے ہوئی، آگے ان کی دعا کا مضمون ہے، یعنی کفار سے قطع تعلق کر کے انہوں نے اس بارے میں حق تعالیٰ سے عرض کیا کہ) اے ہمارے پروردگار ہم (کفار سے اعلان برات و عداوت کے معاملے میں) آپ پر توکل کرتے ہیں اور (آپ ہی ہماری تمام مہمات و مشکلات کی کفالت اور دشمنوں کی ایذاؤں سے حفاظت فرما دیں گے و نیز ایمان لانے میں) آپ ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں اور (اعتقاد رکھتے ہیں کہ) آپ ہی کی طرف (سب کو) لوٹنا ہے (پس اس اعتقاد کی وجہ سے ہم نے جو کچھ کفار سے اعلان برات کیا ہے محض خلوص سے کیا ہے، اس میں کوئی دنیوی غرض نہیں اور اس سے مقصود تفاخر بھی نہیں بلکہ عرض حال بغرض سوال ہے اور) اے ہمارے پروردگار ہمارے گناہ معاف کر دیجئے بیشک آپ زبردست حکمت والے ہیں (اور ہر طرح کی آپ کو قدرت حاصل ہے) بیشک ان لوگوں میں (یعنی ابراہیم ؑ اور ان کے متبعین میں) تمہارے لئے یعنی ایسے شخص کے لئے عمدہ نمونہ ہے جو اللہ (کے سامنے جانے) کا اور قیامت کے دن (کے آنے) کا اعتقاد رکھتا ہو (یعنی یہ اعتقاد مقتضی ہے اس بارے میں اتباع ابراہیمی کو) اور (آگے دوسرے طرز پر وعید ہے جیسے اس سے پہلے ومن یفعلہ میں وعید آ چکی ہے یعنی) جو شخص (اس حکم سے) روگردانی کرے گا سو (اسی کا ضرر ہوگا کیونکہ) اللہ تعالیٰ (تو) بالکل بےنیاز اور (بوجہ جامع الکمالات ہونے کے) سزا وار حمد ہے۔
معارف و مسائل
اس سورت کا ابتدائی حصہ کفار و مشرکین سے موالات اور دوستانہ تعلقات رکھنے کی حرمت و ممانعت میں آیا ہے اور اس کے نزول کا ایک خاص واقعہ ہے۔
شان نزول
تفسیر قرطبی میں قشیری اور ثعلبی کے حوالہ سے مذکور ہے کہ غزوہ بدر کے بعد فتح مکہ سے پہلے مکہ مکرمہ کی ایک مغنیہ عورت جس کا نام سارہ تھا، پہلے مدینہ طیبہ آئی، رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم ہجرت کر کے آئی ہو تو کہا کہ نہیں، آپ نے پوچھا کہ کیا پھر تم مسلمان ہو کر آئی ہو ؟ اس نے اس کا بھی انکار کیا، آپ نے فرمایا کہ پھر یہاں کس غرض سے آئی ہو ؟ اس نے کہا کہ آپ لوگ مکہ مکرمہ کے اعلیٰ خاندان کے لوگ تھے، آپ ہی میں میرا گزارہ مشکل ہوگیا، میں سخت حاجت و ضرورت میں مبتلا ہو کر آپ سے مدد لینے کے لئے یہاں آئی ہوں، آپ نے فرمایا کہ تم تو مکہ مکرمہ کی پیشہ ور مغنیہ ہو وہ مکہ کے نوجوان کیا ہوئے (جو تجھ پر روپیہ پیسے کی بارش کیا کرتے تھے) اس نے کہا کہ واقعہ بدر کے بعد (ان کی تقریبات اور جشن طرب ختم ہوچکے ہیں) اس وقت سے کسی نے مجھے نہیں بلایا، رسول اللہ ﷺ نے بنی عبدالمطلب کو اس کی امداد کرنے کی ترغیب دی، انہوں نے اس کو نقد اور پوشاک وغیرہ دے کر رخصت کیا۔
اور یہ وہ زمانہ تھا جب صلح حدیبیہ کے معاہدہ کو کفار قریش نے توڑ ڈالا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے کفار مکہ پر حملہ آور ہونے کا ارادہ کر کے اس کی خفیہ تیاری شروع کر رکھی تھی اور یہ دعا بھی کی تھی کہ ہمارا راز اہل مکہ پر قبل از وقت فاش نہ ہو، ادھر مہاجرین اولین میں ایک صحابی حاطب بن ابی بلتعہ تھے جو اصل سے یمن کے باشندے تھے، مکہ مکرمہ میں آ کر مقیم ہوگئے تھے وہاں ان کا کوئی کنبہ قبیلہ نہ تھا وہیں مسلمان ہوگئے، پھر ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آگئے، ان کے اہل و عیال بھی مکہ ہی میں تھے، رسول اللہ ﷺ اور بہت سے صحابہ کرام کی ہجرت کے بعد مشرکین مکہ ان مسلمانوں کو جو مکہ مکرمہ میں رہ گئے تھے ستاتے اور پریشان کرتے تھے، جن مہاجرین کے خویش و عزیز مکہ میں موجود تھے، ان کو تو کسی درجہ میں تحفظ حاصل تھا، حاطب کو یہ فکر تھی کہ میرے اہل و عیال کو دشمنوں کی ایذاؤں سے بچانے والا وہاں کوئی نہیں، انہوں نے اپنے اہل و عیال کے تحفظ کا موقع غنیمت جانا کہ اہل مکہ پر کچھ احسان کردیا جائے تو وہ ان کے بچوں پر ظلم نہ کریں گے۔
ان کو اپنی جگہ یہ یقین تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو تو حق تعالیٰ فتح ہی عطا فرمائیں گے، آپ کو یا اسلام کو یہ راز فاش کردینے سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، اگر میں نے ان کو کوئی خط لکھ کر اس کی اطلاع کردی کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ تم لوگوں پر حملہ کرنے کا ہے تو میرے بچوں کی حفاظت ہوجائے گی، یہ غلطی ان سے ہوگئی کہ ایک خفیہ خط اہل مکہ کے نام لکھ کر اس جانے والی عورت سارہ کے سپرد کردیا (قرطبی و مظہری)۔
رسول اللہ ﷺ کو حق تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس معاملہ کی اطلاع دے دی اور یہ بھی آپ کو معلوم ہوگیا کہ وہ عورت اس وقت روضہ خاخ کے مقام تک پہنچ چکی ہے۔
صحیحین بخاری و مسلم میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور ابو مرثد اور زبیر بن عوام کو حکم دیا کہ گھوڑوں پر سوار ہو کر اس عورت کا تعاقب کرو وہ تمہیں روضہ خاخ میں ملے گی اور اس کے ساتھ حاطب بن ابی بلتعہ کا خط بنام مشرکین مکہ ہے اس کو پکڑ کر وہ خط واپس لے لو، حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ ہم نے حسب الحکم تیزی کے ساتھ تعاقب کیا اور ٹھیک اسی جگہ جہاں کے لئے رسول اللہ ﷺ نے خبر دی تھی اس عورت کو اونٹ پر سوار جاتے ہوئے پکڑ لیا اور ہم نے کہا کہ وہ خط نکالو جو تمہارے پاس ہے، اس نے کہا کہ میرے پاس کوئی کسی کا خط نہیں، ہم نے اس کے اونٹ کو بٹھا دیا اس کی تلاشی لی مگر خط ہمیں ہاتھ نہ آیا، لیکن ہم نے دل میں کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی خبر غلط نہیں ہو سکتی، ضرور اس نے خط کو کہیں چھپایا ہے، تو اب ہم نے اس کو کہا کہ یا تو خط نکال دو ورنہ ہم تمہارے کپڑے اتروائیں گے۔
جب اس نے دیکھا کہ اب ان کے ہاتھ سے نجات نہیں تو اپنے ازار میں سے یہ خط نکالا، ہم یہ خط لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، حضرت عمر بن خطاب نے واقعہ سنتے ہی رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ اس شخص نے اللہ اور اس کے رسول اور سب مسلمانوں سے خیانت کی کہ ہمارا راز کفار کو لکھ دیا، مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن مار دوں۔
رسول اللہ ﷺ نے حاطب بن ابی بلتعہ سے پوچھا کہ تمہیں کس چیز نے اس حرکت پر آمادہ کیا ؟ حاطب ابن ابی بلتعہ نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے ایمان میں اب بھی ذرا فرق نہیں ہے، بات یہ ہے کہ میرے دل میں یہ خیال آیا کہ میں اہل مکہ پر کچھ احسان کر دوں تاکہ وہ میرے اہل و عیال کو کچھ نہ کہیں، میرے سوا دوسرے حضرات مہاجرین میں کوئی ایسا نہیں جس کا کنبہ قبیلہ وہاں موجود نہ ہو جو ان کے اہل و عیال کی حفاظت کرے۔
رسول اللہ ﷺ نے حاطب کا بیان سن کر فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے اس کے معاملہ میں خیر کے سوا کچھ نہ کہو، حضرت فاروق اعظم نے (اپنی غیرت ایمانی سے) پھر اپنی بات دھرائی اور ان کے قتل کی اجازت مانگی، آپ نے فرمایا کہ کیا یہ اہل بدر (یعنی غزوہ بدر کے شرکاء) میں سے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے سب شرکاء غزوہ بدر کی مغفرت کا اور ان کے لئے وعدہ جنت کا اعلان فرما دیا ہے، یہ سن کر حضرت فاروق اعظم کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی حقیقت کا علم رکھتے ہیں (یہ بخاری کی روایت کتاب المغازی غزوہ بدر میں ہے، از ابن کثیر) اور بعض روایات میں حاطب کا یہ قول بھی ہے کہ میں نے یہ کام اسلام اور مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کے لئے ہرگز نہیں کیا، کیونکہ میرا یقین تھا کہ آپ کو فتح ہی ہوگی، اہل مکہ کو خبر بھی ہوگئی تو آپ کا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
اس واقعہ کی بناء پر سورة ممتحنہ کی ابتدائی آیات نازل ہوئی جن میں اس واقعہ پر سرزنش اور تنبیہ اور مسلمانوں کو کفار کے ساتھ کسی قسم کے دوستانہ تعلق رکھنے کو حرام قرار دیا گیا۔
(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّيْ وَعَدُوَّكُمْ اَوْلِيَاۗءَ تُلْقُوْنَ اِلَيْهِمْ بالْمَوَدَّةِ ”یعنی اے ایمان والو ! میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کو دوستی کے پیغام دو“ اس میں اسی واقعہ مذکورہ کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح کا خط کفار کو لکھنا ان کو دوستی کا پیغام دینا ہے اور آیت میں لفظ کفار کو چھوڑ کر عدوی اور عدو کم کا عنوان اختیار کرنے میں اول تو اس حکم کی علت اور دلیل کی طرف اشارہ ہوگیا کہ اپنے اور خدا کے دشمنوں سے دوستی کی توقع رکھنا سخت دھوکہ ہے اس سے بچو، دوسرے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ کافر جب تک کافر ہے وہ کسی مسلمان کا جب تک کہ وہ مسلمان ہے دوست نہیں ہوسکتا، وہ خدا کا دشمن ہے تو مسلمان جو خدا کی محبت کا دعویدار ہے اس سے اس کی دوستی کیسے ہو سکتی ہے۔
وَقَدْ كَفَرُوْا بِمَا جَاۗءَكُمْ مِّنَ الْحَقِّ ۚ يُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَاِيَّاكُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ رَبِّكُمْ ۭ حق سے مراد قرآن یا اسلام ہے، اس آیت میں ان کا کفر جو اصل سبب ہے عداوت کا اس کا بیان کرنے کے بعد ان کی ظاہری عداوت کو بھی بتلایا کہ انہوں نے تم کو اور تمہارے رسول کو ان کے وطن عزیز سے نکالا اور اس نکالنے کی وجہ کوئی دنیاوی سبب نہ تھا بلکہ صرف تمہارا ایمان اس کا سبب تھا، تو یہ بات کھل گئی کہ جب تک تم مومن ہو وہ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے، اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ جیسا حاطب نے خیال کیا تھا کہ ان پر کچھ احسان کر دوں گا تو وہ میرے اہل و عیال کی حفاظت کریں گے، یہ خیال غلط ہے کیونکہ وہ تمہارے دشمن ایمان کی وجہ سے ہیں، جب تک خدانخواستہ تمہارا سلب نہ ہوجاوے ان سے کسی دوستی وتعلق کی توقع رکھنا دھوکہ ہے۔
(آیت) اِنْ كُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِهَادًا فِيْ سَبِيْلِيْ وَابْتِغَاۗءَ مَرْضَاتِيْ ، اس میں بھی اشارہ اس طرف ہے کہ اگر تمہاری ہجرت واقعی اللہ کے لئے اور اس کی رضا جوئی کے لئے تھی تو کسی کافر دشمن خدا سے اس کی کیسے توقع رکھی جاسکتی ہے کہ وہ تمہاری کوئی رعایت کرے۔
ڰ تُسِرُّوْنَ اِلَيْهِمْ بالْمَوَدَّةِ ڰ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَآ اَخْفَيْتُمْ وَمَآ اَعْلَنْتُمْ ، اس میں یہ بھی بتلادیا کہ جو لوگ کفار سے خفیہ دوستی رکھیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کی یہ حرکت پوشیدہ رہ جائے گی، اللہ تعالیٰ کو ان کے چھپے اور کھلے ہر حال اور عمل کی خبر ہے، جیسا کہ واقعہ مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی خبردار کر کے سازش کو پکڑوا دیا۔
Ayah 60:2(آیت) اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَاۗءً وَّيَبْسُطُوْٓا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَاَلْسِنَتَهُمْ بالسُّوْۗءِ ان لوگوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ موقع پانے کے باوجود تمہارے ساتھ کوئی روا داری برتیں گے اس کا کوئی امکان نہیں، ان کو جب کبھی تم پر غلبہ حاصل ہوگا تو ان کے ہاتھ اور زبان تمہاری برائی اور خرابی کے سوا کسی چیز کی طرف نہ اٹھیں گے۔
وَوَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ ، اس میں اشارہ ہے کہ جب تم ان سے دوستی کا ہاتھ بڑھاؤ گے تو ان کی دوستی صرف تمہارے ایمان کی قیمت پر ہوگی، جب تک تم کفر میں مبتلا نہ ہوجاؤ، وہ کبھی تم سے راضی نہ ہوں گے۔
Ayah 60:3(آیت) لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَلَآ اَوْلَادُكُمْ ڔ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ ڔ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ ”یعنی قیامت کے روز تمہارے رشتے ناتے اور تمہاری اولاد تمہارے کام نہ آئیں گے، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز یہ سب تعلقات ختم کردیں گے اولاد ماں باپ سے اور ماں باپ اولاد سے بھاگتے پھریں گے، اس میں حضرت حاطب کے عذر کی تردید ہے کہ جس اولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر یہ کام کیا تھا سمجھ لو کہ قیامت کے دن وہ اولاد تمہارے کچھ کام نہ آئے گی اور اللہ تعالیٰ سے کوئی راز اور خفیہ چیز چھپنے والی نہیں۔
Ayahs 60:4–6اگلی آیات میں کفار سے ترک موالات کی تائید و تاکید کے لئے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰة والسلام کا واقعہ ذکر کیا گیا ہے کہ ان کا تو سارا خاندان مشرکین کا تھا، انہوں نے سب سے بیزاری اور برات کا ہی نہیں بلکہ عداوت کا اعلان کردیا اور بتلا دیا کہ جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لاؤ گے اور اپنے شرک سے باز نہ آؤ گے ہمارے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار حائل رہے گی، قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ (تا) حَتّٰى تُؤْمِنُوْا باللّٰهِ وَحْدَهٗٓ کا یہی مطلب ہے۔
ایک شبہ کا جواب
اوپر کی آیت میں مسلمانوں کو حضرت ابراہیم ؑ کے اسوہ حسنہ اور سنت پر چلنے کی تاکید فرمائی گئی ہے اور حضرت ابراہیم ؑ سے اپنے والد مشرک کے لئے استغفار کرنا ثابت ہے، جس کا ذکر سورة توبہ وغیرہ میں آیا تو اتباع سنت ابراہیمی کے حکم سے کسی کو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ اپنے مشرک والدین یا عزیزوں کے لئے دعاء مغفرت کرنا بھی اس میں داخل ہے، یہ جائز ہونا چاہئے، اس لئے اس اسوہ ابراہیمی کے اتباع سے اس کو مستثنیٰ کر کے فرما دیا کہ اور سب چیزوں میں اسوہ ابراہیمی کا اتباع لازم ہے، مگر ان کے اس فعل کی اقتداء مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ مشرک والدین اور عزیزوں کے لئے دعائے مغفرت کرنے لگیں، آیت اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ ، کا یہی مطلب ہے اور حضرت ابراہیم ؑ کا عذر سورة توبہ میں آ چکا ہے کہ انہوں نے باپ کے لئے استغفار کا وعدہ ممانعت سے پہلے کرلیا تھا، یا اس گمان پر کرلیا تھا کہ اس کے دل میں ایمان آ گیا ہے، جب معلوم ہوا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بھی برات و بیزاری کا اعلان کردیا ، (آیت) فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ الایة، کا یہی مطلب ہے۔
اور بعض حضرات مفسرین نے الا قول ابراہیم کے استثناء کو استثناء منقطع قرار دیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابراہیم ؑ کا اپنے باپ کے لئے استغفار اس اسوہ ابراہیمی کے منافی نہیں کیونکہ انہوں نے اس بنا پر استغفار کرلیا تھا کہ انہوں نے گمان کیا تھا کہ وہ مسلمان ہوگیا، پھر جب حقیقت معلوم ہوگئی تو استغفار چھوڑ دیا اور برات و بیزاری کا اعلان فرما دیا اور ایسا کرنا اب بھی جائز ہے کہ جس شخص کو کسی کافر کے متعلق گمان غالب یہ ہوجائے کہ وہ مسلمان ہوگیا ہے، اس کے استغفار کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں (قرطبی) خلاصہ تفسیر مذکور میں بھی اسی صورت کو اختیار کر کے تفسیر کی گئی ہے، واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم۔
Ayah 60:7خلاصہ تفسیر
(اور چونکہ ان کی عداوت سن کر مسلمانوں کو فکر ہو سکتی تھی کچھ قطع قرابات سے طبعاً رنج ہوسکتا تھا، اس لئے بطور بشارت کے آگے پیشین گوئی فرماتے ہیں کہ) اللہ تعالیٰ سے امید ہے (یعنی ادھر سے وعدہ ہے) کہ تم میں اور ان لوگوں میں جن سے تمہاری عداوت ہے دوستی کر دے (گو بعض ہی سے سہی، یعنی ان کو مسلمان کر دے جس سے عداوت مبدل بہ صداقت ہوجاوے) اور (اس کو کچھ بعید نہ سمجھو کیونکہ) اللہ کو بڑی قدرت ہے (چنانچہ فتح مکہ کے روز بہت آدمی خوشی سے مسلمان ہوگئے، مطلب یہ کہ اول تو اگر قطع تعلق ہمیشہ کے لئے ہوتا تب بھی بوجہ مامور بہ ہونے کے واجب العمل تھا، پھر خاص کر جبکہ تھوڑی ہی مدت کے لئے کرنا پڑے اور پھر مشارکت فی الایمان سے دوستی اور تعلق بدستور عود کر آوے تو کوئی فکر کی بات نہیں) اور (اب تک جو کسی سے اس حکم کے خلاف خطا ہوگئی ہے جس سے اب وہ تائب ہوچکا ہے تو) اللہ تعالیٰ (اس کے لئے) غفور رحیم ہے (اور یہاں تک تو دوستانہ تعلقات کی نسبت حکم فرمایا تھا کہ ان کا قطع واجب ہے آگے محسنانہ تعلقات کے حکم کی تفصیل فرماتے ہیں وہ یہ کہ) اللہ تعالیٰ تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا (مراد وہ کافر ہیں جو ذمی یا مصالح ہوں، یعنی محسنانہ برتاؤ ان سے جائز ہے، باقی رہا عدل و انصاف کا منصفانہ برتاؤ تو اس میں ذمی یا مصلح کی شرط نہیں بلکہ وہ تو ہر کافر بلکہ جانور کے ساتھ بھی واجب ہے، اس آیت میں عدل و انصاف سے مراد محسنانہ برتاؤ کرنا ہے اس لئے مصالحین کے ساتھ مخصوص کیا گیا) اللہ تعالیٰ انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں (البتہ) صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی (یعنی برو احسان) کرنے سے اللہ تعالیٰ تم کو منع کرتا ہے جو تم سے دین کے بارے میں لڑے ہوں (خواہ بالفعل یا بالعزم) اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا ہو اور (اگر نکالا نہ بھی ہو لیکن) تمہارے نکالنے میں (نکالنے والوں کی) مدد کی ہو (یعنی ان کے ساتھ شریک ہوں خواہ ان کے عمل میں شرکت کی ہو یا عزم و ارادہ اس کا رکھتے ہوں اس میں وہ سب کافر آگئے جن سے مسلمانوں کا کوئی معاہدہ صلح کا یا عقد ذمہ نہیں تھا، ان کے ساتھ بر و احسان کا معاملہ جائز نہیں بلکہ ان سے جنگ اور مقابلہ مطلوب ہے) اور جو شخص ایسوں سے دوستی (کا برتاؤ یعنی بر و احسان کا برتاؤ) کرے گا سو وہ لوگ گنہگار ہوں گے۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں کفار سے دوستانہ تعلق رکھنے کی سخت ممانعت و حرمت کا بیان آیا ہے اگرچہ وہ کفار رشتہ و قرابت میں کتنے ہی قریب ہوں، صحابہ کرام اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کے معاملہ میں نہ ذاتی خواہش کی پروا کرتے تھے نہ کسی خویش و عزیز کی، اس پر عمل کیا گیا جس کے نتیجہ میں گھر گھر یہ صورت پیش آئی کہ باپ مسلمان بیٹا کافر یا اس کے برعکس ہے تو دوستانہ تعلق قطع کردیا گیا، ظاہر ہے انسانی فطرت اور طبیعت پر یہ عمل آسان نہ تھا، اس لئے آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ نے ان کی اس مشکل کو عنقریب آسان کردینے کی خبر سنا دی۔
بعض روایات حدیث میں ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ جب اللہ کی رضا جوئی کے لئے اپنی کسی محبوب چیز کو چھوڑتا ہے تو بعض اوقات اللہ تعالیٰ ایسی چیز کو حلال کر کے اس تک پہنچا دیتے ہیں اور بعض اوقات اس سے بہتر چیز عطا فرما دیتے ہیں۔
ان آیات میں حق تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ آج جو لوگ کفر پر ہیں اور اس کی وجہ سے وہ تمہارے دشمن تم ان کے دشمن ہو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس عداوت کو دوستی سے مبدل فرما دے مطلب یہ ہے کہ ان کو ایمان کی توفیق عطا فرما کر تمہارے تعلقات باہمی کو پھر از سر نو ہموار کر دے اس پیشین گوئی کا ظہور فتح مکہ کے وقت اس طرح ہوا کہ بجز ان کفار کے جو قتل کئے گئے اور سب مسلمان ہوگئے (مظہری) قرآن کریم میں اس کا بیان (آیت) یدخلون فی دین اللہ افواجا…. میں کیا گیا، کہ یہ لوگ فوج در فوج بڑی تعدادوں میں اللہ کے دین اسلام میں داخل ہوجائیں گے اور ایسا ہی ہوا۔
Ayah 60:8صحیح بخاری میں حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق سے روایت ہے کہ ان کی والدہ بحالت کفر مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ پہنچیں (مسند احمد کی روایت میں ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ غزوہ بدر حدیبیہ کے بعد قریش مکہ سے معاہدہ صلح ہوگیا تھا اور ان کی والدہ کا نام قتیلہ ہے، یہ اپنی بیٹی اسماء کے لئے کچھ تحفے ہدیئے لے کر مدینہ پہنچیں تو حضرت اسماء نے ان کے تحفے قبول کرنے سے انکار کردیا اور اپنے گھر میں آنے کی بھی اجازت اس وقت تک نہ دی جب تک کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت نہ کرلیا) غرض حضرت اسماء نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ میری والدہ مجھ سے ملنے کے لئے آئی ہیں اور وہ کافر ہیں میں ان کے ساتھ کیا سلوک کروں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اپنی والدہ کی صلہ رحمی کرو یعنی ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو اس پر یہ آیات نازل ہوئیں لَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ لَمْ يُقَاتِلُوْكُم
بعض روایات میں ہے کہ حضرت اسماء کی والدہ قتیلہ کو صدیق اکبر نے زمانہ جاہلیت میں طلاق دے دی تھی حضرت اسماء اس کے بطن سے تھیں اور ان کی بہن ام المومنین حضرت عائشہ صدیق اکبر کی دوسری بیوی ام رومان کے بطن سے تھیں، یہ مسلمان ہوگئی تھیں (ابن کثیر و مظہری)
اس آیت میں ایسے کفار جنہوں نے مسلمانوں سے مقابلہ نہیں کیا اور ان کے گھروں سے نکالنے میں بھی کوئی حصہ نہیں لیا ان کے ساتھ احسان کے معاملہ اور اچھے سلوک اور عدل انصاف کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، عدل و انصاف تو ہر کافر کے ساتھ ضروری ہے، جس میں کافر ذمی کا مصالح اور کافر حربی و دشمن سب برابر ہیں، بلکہ اسلام میں تو عدل و انصاف جانوروں کے ساتھ بھی واجب ہے کہ ان کی طاقت سے زیادہ بار ان پر نہ ڈالے اور ان کے چارے اور آرام کی نگہداشت رکھے، اس آیت میں اصل مقصود بر و احسان کرنے کی ہدایت ہے۔
مسئلہاس آیت سے ثابت ہوا کہ نفلی صدقات ذمی اور مصالح کافر کو بھی دیئے جاسکتے ہیں صرف کافر حربی کو دینا ممنوع ہے۔
Ayah 60:9اِنَّمَا يَنْهٰىكُمُ اللّٰهُ عَنِ الَّذِيْنَ قٰتَلُوْكُمْ فِي الدِّيْنِ (الیٰ) اَنْ تَوَلَّوْهُمْ ، اس آیت میں ان کفار کا بیان ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ و قتال کر رہے ہوں اور مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے میں کوئی حصہ لے رہے ہوں، ان کے بارے میں ارشاد یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ موالات اور دوستی سے منع فرماتا ہے، اس میں برو احسان کا معاملہ کرنے کی ممانعت نہیں، بلکہ صرف قلبی دوستی اور دوستانہ تعلقات کی ممانعت ہے اور یہ ممانعت کچھ ان میں برسر پیکار دشمنوں کے ساتھ نہیں بلکہ اہل ذمہ اور اہل صلح کافروں کے ساتھ بھی قلبی موالات اور دوستی جایز نہیں، اس سے تفسیر مظہری میں یہ مسئلہ نکالا ہے کہ حربی یعنی برسر جنگ کفار کے ساتھ عدل و انصاف تو اسلام میں ضروری ہے ہی اور ممانعت صرف موالات یعنی دوستی کی کی گئی، برو احسان کی ممانعت نہیں کی گئی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محسنانہ سلوک برسر پیکار دشمنوں کے ساتھ بھی جائز ہے، البتہ دوسری نصوص کی بنا پر یہ شرط ہے کہ ان کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے سے مسلمانوں کو کسی نقصان و ضرر کا خطرہ نہ ہو، جہاں یہ خطرہ ہو وہاں برو احسان ان پر جائز نہیں، ہاں عدل و انصاف ہر حال میں ہر شخص کیلئے ضروری اور واجب ہے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 60:10خلاصہ تفسیر
سبب نزول کا واقعہ
(یہ آیتیں بھی ایک خاص موقع کے متعلق ہیں اور وہ موقع صلح حدیبیہ کا ہے، جس کا بیان آغاز سورة فتح میں ہوا ہے، منجملہ ان شرطوں کے جو صلح نامہ میں لکھی گئی تھیں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو شخص مسلمانوں میں سے کافروں کی طرف چلا جاوے وہ واپس نہ دیا جاوے اور جو شخص کافروں میں سے مسلمانوں کی طرف چلا جاوے وہ واپس دے دیاجاوے، چناچہ بعض مسلمان مرد آئے اور واپس کردیئے گئے پھر بعضی عورتیں مسلمان ہو کر آئیں، ان کے اقارب نے ان کی واپسی کی درخواست کی، اس پر یہ آیتیں حدیبیہ میں نازل ہوئیں، جس میں عورتوں کے واپس کرنے کی ممانعت کی گئی، پس عموم مضمون صلح نامہ کا اس مخصوص اور منسوخ ہوگیا اور ایسی عورتوں کے باب میں کچھ خاص احکام مقرر کئے گئے اور ان کے ساتھ کچھ احکام ایسی عورتوں کے باب میں مقرر ہوئے جو پہلے مسلمان کے نکاح میں تھیں مگر اسلام نہ لائیں اور مکہ ہی میں رہ گئیں اور چونکہ مدار ان احکام کا ان عورتوں کا مسلمان ہونا ہے، اس لئے طریق امتحان بھی بتلایا گیا، پس بخطاب عام ارشاد فرماتے ہیں کہ) اے ایمان والو ! جب تمہارے پاس مسلمان عورتیں (دارالحرب سے) ہجرت کر کے آویں ، (خواہ مدینہ میں کہ دارالاسلام ہے خواہ حدیبیہ میں کہ معسکر اسلام حکم دارالا سلام میں ہے کذافی کتاب الحدودمن الہدایة) تو تم ان (کے مسلمان ہونے) کا امتحان کرلیا کرو (جس کا طریقہ آگے خطاب خاص آیا یھا النبی میں آتا ہے اور اس امتحان میں ظاہری امتحان پر کتفا کیا کرو کیونکہ) ان کے (حقیقی) ایمان کو (تو) اللہ ہی خوب جانتا ہے (تم کو تحقیق ہو ہی نہیں سکتا) پس اگر ان کو (اس امتحان کی رو سے) مسلمان سمجھو تو ان کو کفار کی طرف واپس مت کرو (کیونکہ) نہ تو وہ عورتیں ان کافروں کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہیں اور نہ وہ کافر ان عورتوں کے لئے حلال ہیں (کیونکہ مسلمان عورت کا نکاح کافر مرد سے مطلقاً نہیں رہتا) اور (اس صورت میں) ان کافروں نے جو کچھ (مہر کے بابت ان عورتوں پر) خرچ کیا ہو وہ ان کو ادا کرو اور تم کو ان عورتوں سے نکاح کرنے میں کچھ گناہ نہ ہوگا جبکہ تم ان کے مہران کو دے دو اور (اے مسلمانوں) تم کافر عورتوں کے تعلقات کو باقی مٹ رکھو (یعنی جو تمہاری بیبیاں دارالحرب میں کفر کی حالت میں رہ گئیں ان کا نکاح تم سے زائل ہوگیا، ان کے تعلقات کا کوئی اثر باقی مت سمجھو) اور (اس صورت میں) جو کچھ تم نے (ان عورتوں کے مہر میں) خرچ کیا ہو (ان کافروں سے) مانگ لو اور (اسی طرح) جو کچھ ان کافروں نے (مہر کے بابت) خرچ کیا ہو وہ (تم سے) مانگ لیں (جیسا اوپر ارشاد ہوا ہے وَاٰتُوْهُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا، شاید یہ تکریر معنون باختلاف عنوان اس لئے ہو کہ تمہارے ذمہ دوسروں کا حق ہو اس کو زیادہ موکد سمجھو) یہ (جو کچھ کہا گیا) اللہ کا حکم ہے (اس کا اتباع کرو) وہ تمہارے درمیان (ایسا ہی مناسب) فیصلہ کرتا ہے اور اللہ بڑا علم اور حکمت والا ہے (علم و حکمت کے مناسب احکام مقرر فرماتا ہے) اور اگر تمہاری بیبیوں میں سے کوئی بی بی کافروں میں رہ جانے سے (بالکل ہی) تمہارے ہاتھ نہ آئے (یعنی وہ نہ ملے اور نہ اس کا بدل مہر ملے اور) پھر (کافروں کو مہر دینے کی) تمہاری نوبت آوے (یعنی تمہارے ذمہ کسی کافر کا حق مہر واجب الادا ہو) تو (تم وہ مہران کافروں کو نہ دو ، بلکہ) جن (مسلمانوں) کی بیبیاں ہاتھ سے نکل گئیں (جن کا ابھی ذکر ہوا فاتکم میں) جتنا (مہر) انہوں نے (ان بیبیوں پر) خرچ کیا تھا اس کے برابر (اس رقم واجب الادا میں سے) تم ان کو دے دو اور اللہ سے کہ جس پر تم ایمان رکھتے ہو ڈرتے رہو اور (احکام واجبہ میں خلل مت ڈالو، آگے خطاب خاص میں طریق امتحان ایمان کا فرماتے ہیں کہ) اے پیغمبر ﷺ جب مسلمان عورتیں آپ کے پاس (اس غرض سے) آویں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ کسی شے کو شریک نہ کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ کوئی بہتان کی اولاد لاویں گی جس کو اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے درمیان (نطفہ شوہر سے جنی ہوئی اولاد ہونے کا دعویٰ کر کے) بنالیویں (جیسا جاہلیت میں بعض عورتوں کا دستور تھا کہ کسی غیر کا بچہ اٹھا لائیں اور کہہ دیا کہ میرے خاوند کا ہے اور یا کسی سے بدکاری کی اور اس نطفہ حرام کو اپنے خاوند کا بتلا دیا کہ اس میں علاوہ گناہ زنا کے اپنے شوہر کے ساتھ غیر کے بچے کا الحاق بھی ہے، جس پر حدیث میں بھی وعید آئی، رواہ ابوداؤد والنسائی) اور مشروع باتوں میں وہ آپ کے خلاف نہ کریں گی (اس میں سب احکام شرعیہ آگئے، پس وہ عورتیں اگر ان شرطوں کو قبول کرلیں جن کا اعتقاد شرط ایمان ہے اور التزام عمل شرط کمال ایمان ہے) تو آپ ان کو بیعت کرلیا کیجئے اور ان کے لئے اللہ سے (پچھلے گناہوں کی) مغفرت طلب کیا کیجئے، بیشک اللہ غفور رحیم ہے (مطلب یہ کہ جب ان احکام کے حق اور واجب العمل سمجھنے کا اظہار کریں تو ان کو مسلمان سمجھئے اور ہرچند کو خود اسلام ہی سے پچھلے گناہوں کی مغفرت ہوجاتی ہے، مگر یہاں استغفار کا حکم یا تو مکمل طور پر آثار مغفرت حاصل کرنے کے لئے ہے اور یا حاصل اس کا دعا ہی قبول ایمان کی جس پر مغفرت مرتب ہوتی ہے) اے ایمان والو ! ان لوگوں سے (بھی) دوستی مت کرو جن پر اللہ تعالیٰ نے غضب فرمایا ہے (مراد اس سے یہود ہیں، لقولہ تعالیٰ فی المائدة، (آیت) من لعنہ اللہ و غضب علیہ آلآیة) کہ وہ آخرت کے (خیر وثواب) سے ایسے ناامید ہوگئے ہیں جیسا کفار جو قبروں میں (مدفون) ہیں (خیر وثواب آخرت سے) ناامید ہیں (جو کافر مر جاتا ہے بوجہ اس کے کہ اس کو معاینہ آخرت کا ہوجاتا ہے، حقیقت امر پر یقین کے ساتھ مطلع ہوجاتا ہے کہ اب میری بخشش ہرگز نہ ہوگی، چونکہ حسب (آیت) یعرفونہ کمایعر فون ابنآء ہم آپ کی نبوت کو اور اسی طرح مخالف نبی کے کافر اور غیر ناجی ہونے کو خوب جانتے ہیں، گو عار و حسد کی وجہ سے اتباع نہ کرتے تھے، اس لئے ان کو دل سے یقین تھا کہ ہم ناجی نہیں ہیں، گوشیخی کے مارے ظاہراً اس کے خلاف کرتے ہوں، پس حاصل یہ ہوا کہ جن کی گمراہی ایسی مسلم ہے کہ وہ خود بھی دل سے اس کو تسلیم کرتے ہیں ایسے گمراہوں سے تعلق رکھنا کیا ضرور اور یہ نہ سمجھا جاوے کہ جو گمراہ اشد درجہ کا نہ ہو اس سے دوستی جائز ہے، جو از دوستی سے تو مطلق کفر مانع ہے، مگر اس صفت سے وہ عدم جواز اور شدید ہوجاوے گا اور شاید تخصیص یہود کی اس جگہ اس لئے ہو کہ مدینہ میں یہود زیادہ تھے اور دوسرے وہ لوگ شریر و مفسد بھی بہت تھے)۔
معارف و مسائل
معاہدہ صلح حدیبیہ کی بعض شرائط کی تحقیق
سورة فتح میں حدیبیہ کا واقعہ تفصیل سے آ چکا ہے، جس میں بالآخر قریش مکہ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان ایک معاہدہ صلح دس سال کے لئے لکھا گیا اس معاہدہ کی بعض شرائط ایسی تھیں جن میں دب کر صلح کرنے اور مسلمانوں کی بظاہر مغلوبیت محسوس ہوتی تھی، اسی لئے صحابہ کرام میں اس پر غم و غصہ کا اظہار ہوا، مگر رسول اللہ ﷺ باشارات ربانی یہ محسوس فرما رہے تھے کہ اس وقت کی چند روزہ مغلوبیت بالآخر ہمیشہ کے لئے فتح مبین کا پیش خیمہ بننے والی ہے، اس لئے قبول فرما لیا اور پھر سب صحابہ کرام بھی مطمئن ہوگئے۔
اس صلح نامہ کی ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر مکہ مکرمہ سے کوئی آدمی مدینہ جائے گا تو آپ اس کو واپس کردیں گے، اگرچہ وہ مسلمان ہی ہو اور اگر مدینہ طیبہ سے کوئی مکہ مکرمہ چلا جائے گا تو قریش مکہ اس کو واپس نہ کریں گے، اس معاہدہ کے الفاظ عام تھے جس میں بظاہر مرد و عورت دونوں داخل تھے، یعنی کوئی مسلمان مرد یا عورت جو بھی مکہ مکرمہ سے آنحضرت ﷺ کے پاس جائے اس کو آپ واپس کریں گے۔
جس وقت یہ معاہدہ مکمل ہوچکا اور ابھی رسول اللہ ﷺ مقام حدیبیہ میں تشریف فرما تھے کئی ایسے واقعات پیش آئے جو مسلمانوں کے لئے بہت صبر آزما تھے، جن میں ایک واقعہ ابوجندل کا ہے، جن کو قریش مکہ نے قید میں ڈالا ہوا تھا، وہ کسی طرح ان کی قید سے چھوٹ کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ گئے، صحابہ کرام میں ان کو دیکھ کر سخت تشویش پھیلی کہ معاہدہ کی رو سے ان کو واپس کیا جانا چاہئے اور ہم اپنے مظلوم بھائی کو پھر ظالموں کے ہاتھ میں دیدیں، یہ کیسے ہوگا ؟
مگر رسول اللہ ﷺ معاہدہ تحریر فرما چکے تھے اور اصول شریعت کی حفاظت اور ان پر پختگی کو ایک فرد کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے تھے اور اس کے ساتھ آپ کی چشم بصیرت عنقریب ان سب مظلوموں کی فاتحانہ نجات کا بھی گویا مشاہدہ کر رہی تھی، طبعی رنج و تکلیف تو ابوجندل کی واپسی میں آپ کو بھی یقینا ہوگی، مگر آپ نے معاہدہ کی پابندی کی بنا پر ان کو سمجھا بجھا کر رخصت کردیا۔
اسی کے ساتھ ایک دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ سعیدہ بنت الحارث الاسلمیہ جو مسلمان تھیں مگر صیفی بن انصب کے نکاح میں تھیں جو کافر تھا، بعض روایات میں اس کا نام مسافر المخزومی بتلایا گیا ہے (اس وقت تک مسلمانوں اور کفار میں رشتہ مناکحت طرفین سے حرام نہیں ہوا تھا) یہ مسلمان عورت مکہ سے بھاگ کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئیں، ساتھ ہی ان کا شوہر حاضر ہوا اور رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ میری عورت مجھے واپس کی جائے، کیونکہ آپ نے یہ شرط قبول کرلی ہے اور ابھی تک اس معاہدہ کی مہر بھی خشک نہیں ہوئی۔
اس واقعہ پر یہ آیات مذکورہ نازل ہوئیں جن میں دراصل مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان عقد مناکحت کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کے نتیجہ میں یہ بھی کہ جو عورت مسلمان خواہ اس کا مسلمان ہونا پہلے سے معلوم ہو جیسے سعیدہ مذکورہ تھیں، یا بوقت ہجرت اس کا مسلمان ہونا صحیح طور سے ثابت ہوجائے، وہ اگر ہجرت کر کے آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ جائے اس کو کفار کے قبضہ میں واپس نہ دیا جائے، کیونکہ وہ اپنے کافر شوہر کے لئے حلال نہیں رہی (تفسیر قرطبی میں یہ واقعہ حضرت ابن عباس کی روایت سے نقل کیا)
غرض ان آیات کے نزول نے یہ واضح کردیا کہ صلح نامہ کی یہ شرط کہ جو بھی مسلمان آپ کے پاس پہنچے آپ واپس کریں گے اپنے لفظی عموم کے ساتھ جس میں مرد و عورت دونوں داخل ہیں صحیح نہیں، یہ شرط صرف مردوں کے حق میں قبول کی جاسکتی ہے، عورتوں کے معاملہ میں یہ شرط قابل قبول نہیں، ان کے بارے میں صرف اتنا کیا جاسکتا ہے کہ جو عورت مسلمان ہو کر ہجرت کرے اس کے کافر شوہر نے جو کچھ اس پر مہر کی صورت میں خرچ کیا وہ خرچ اس کو واپس کیا جائے گا، ان آیات کی بنا پر رسول اللہ ﷺ نے اس شرط کے مفہوم کو واضح فرما دیا اور اس کے مطابق سعیدہ مذکورہ کو واپس نہیں کیا۔
بعض روایات میں ہے کہ ام کلثوم بنت عتبہ ابن ابی معیط مکہ سے آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچ گئیں، ان کے خاندان کے لوگوں نے واپسی کا مطالبہ عموم شرط کی وجہ سے کیا اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور بعض روایات میں ہے کہ ام کلثوم عمر و بن عاص کے نکاح میں تھیں جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے، یہ اور ان کے ساتھ ان کے دو بھائی مکہ سے بھاگ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے اور ساتھ ہی عمر و بن عاص شوہر ام کلثوم وغیرہ نے آ کر ان کی واپسی کا مطالبہ رسول اللہ ﷺ سے کیا آپ نے شرط کے مطابق ان کے دونوں بھائی عمارہ اور ولید کو تو واپس کردیا مگر ام کلثوم کو واپس نہیں فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یہ شرط مردوں کے لئے تھی عورتیں اس میں شامل نہیں، اس پر یہ آیات آنحضرت ﷺ کی تصدیق کے لئے نازل ہوئیں۔
اس طرح آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پہنچنے والی دوسری عورتوں کے بھی کچھ واقعات روایات میں مذکور ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ ان میں کوئی تضاد نہیں، ہوسکتا ہے کہ یہ متعدد واقعات سب ہی پیش آئے ہوں۔
شرط مذکور سے عورتوں کا استثناء نقض عہد نہیں بلکہ ایک شرط کی وضاحت بقبول فریقین ہے
مذکور الصدر روایت قرطبی سے تو معلوم ہوا کہ معاہدہ کی شرط کے الفاظ اگرچہ عام تھے، مگر آنحضرت ﷺ کے نزدیک وہ عورتوں کے لئے عام اور شامل نہیں تھے، اس لئے آپ نے اس کی وضاحت وہیں حدیبیہ کے مقام پر فرما دی اور اسی کی تصدیق یہ آیات نازل ہوئیں۔
اور بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تو اس شرط کو عموم کے ساتھ قبول فرمالیا تھا جس میں عورتیں بھی شامل تھیں، ان آیات کے نزول نے اس، کے عموم کو منسوخ قرار دیا اور آنحضرت ﷺ نے قریش مکہ پر اسی وقت یہ واضح کردیا کہ عورتیں اس شرط میں داخل نہ ہوں گی، چناچہ عورتوں کو آپ نے واپس نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ یہ صورت نہ نقض عہد کی تھی جس کا رسول اللہ ﷺ سے کوئی امکان ہی نہ تھا اور نہ یہ نبذ عہد کی صورت تھی یعنی معاہدہ کو ختم کردینے کی، بلکہ ایک شرط کی وضاحت کا معاملہ تھا، خواہ خود رسول اللہ ﷺ کی مراد پہلے ہی سے یہ ہو یا نزول آیت کے بعد آپ نے اس عموم کو صرف مردوں تک محدود کرنے کے لئے فرما دیا ہو، بہرحال ہوا یہ ہے کہ اس توضیح کے بعد بھی معاہدہ صلح کو طرفین نے قبول کیا اور اس پر ایک مدت تک طرفین سے عمل ہوتا رہا، اس صلح کے نتیجہ میں راستے مامون ہوئے اور رسول اللہ ﷺ نے ملوک دنیا کے نام خطوط بھیجے اور اسی کے نتیجہ میں ابو سفیان کا قافلہ بےفکری کے ساتھ ملک شام تک پہنچا، جہاں ہر قل نے ان کو اپنے دربار میں بلا کر رسول اللہ ﷺ کے حالات و واقعات کی تحقیق کی۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس شرط صلح کے عام الفاظ میں، عورتوں کا شامل نہ ہونا خواہ پہلے ہی سے آنحضرت ﷺ کی نظر میں تھا یا نزول آیت کے بعد آپ نے عورتوں کو اس عموم سے خارج کیا، بہردو صورت کفار قریش اور مسلمانوں کے درمیان یہ معاہدہ اس وضاحت کے بعد بھی مکمل ہی سمجھا گیا اور ایک عرصہ تک اس پر عمل ہوتا رہا، اس لئے اس شرط کی وضاحت کو نقض عہد یا نبذ عہد میں داخل نہیں کیا جاسکتا، واللہ اعلم، آگے آیات کا مفہوم ان کے الفاظ کے تحت دیکھئے۔
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا جَاۗءَكُمُ الْمُؤْمِنٰتُ مُهٰجِرٰتٍ فَامْتَحِنُوْهُنَّ ۭ اَللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِهِنّ ، مراد آیت کی یہ ہے کہ عورتوں کو شرط صلح سے مستثنیٰ ہونے کی وجہ ان کا مسلمان اور مومن ہونا ہے مکہ سے مدینہ آنے والی عورتوں میں احتمال اس کا بھی تھا کہ ان میں سے کوئی اسلام و ایمان کی خاطر نہیں، بلکہ اپنے شوہر سے ناراضی کے سبب یا مدینہ کے کسی شخص سے محبت کے سبب یا کسی دوسری دنیوی غرض سے ہجرت کر کے آگئی ہو وہ عنداللہ اس شرط سے مستثنیٰ نہیں، بلکہ اس کو واپس کرنا شرط صلح کے تحت ضروری ہے، اس لئے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ ہجرت کر کے آنے والی عورتوں کے ایمان کا امتحان لو، اس کے ساتھ ہی یہ جملہ فرمایا کہ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِـاِيْمَانِهِن، اس میں اشارہ کردیا کہ حقیقی اور اصل ایمان کا تعلق تو انسان کے دل سے ہے، جس پر اللہ کے سوا کسی کو اطلاع نہیں، البتہ آدمی کے زبانی اقرار اور قرائن سے ایمان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، بس مسلمان اسی کے مامور و مکلف ہیں۔
حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ ان کے امتحان کا طریقہ یہ تھا کہ مہاجر عورت سے حلف لیا جاتا تھا کہ وہ اپنے شوہر سے بغض و نفرت کی وجہ سے نہیں آئی اور نہ مدینہ کے کسی آدمی کی محبت کی وجہ سے اور نہ کسی دوسری دنیوی غرض سے بلکہ اس کا آنا خالص اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ورضا جوئی کے لئے ہے، جب وہ یہ حلف کرلیتی تو رسول اللہ ﷺ اس کو مدینہ میں رہنے کی اجازت دیتے اور اس کا مہر وغیرہ جو اس نے اپنے کافر شوہر سے وصول کیا تھا وہ اس کے شوہر کو واپس دے دیتے تھے (قرطبی)
اور حضرت صدیقہ عائشہ سے ترمذی میں روایت ہے جس کو ترمذی نے حسن صحیح کہا ہے، آپ نے فرمایا کہ ان کے امتحان کی صورت وہ بیعت تھی جس کا ذکر اگلی آیات میں تفصیل سے آیا ہے اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَك الآیة، گویا آنے والی مہاجر عورتوں کے امتحان ایمان کا طریقہ ہی یہ تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک پر ان چیزوں کا عہد کریں جو اس بیعت کے بیان میں آگے آئی ہیں اور یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ ابتدائی طور پر پہلے وہ کلمات ان سے کہلوائے جاتے ہوں جو بروایت ابن عباس اوپر ذکر کئے گئے ہیں اور اس کی تکمیل اس بیعت سے ہوتی ہو جس کا آگے ذکر ہے۔ واللہ اعلم
(آیت) فَاِنْ عَلِمْتُمُوْهُنَّ مُؤْمِنٰتٍ فَلَا تَرْجِعُوْهُنَّ اِلَى الْكُفَّار، یعنی جب بطرز مذکور ان مہاجرات کے ایمان کا امتحان لے کر تم کو مومن قرار دے دو تو پھر ان کو کفار کی طرف واپس کرنا جائز نہیں۔
لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُن، یعنی نہ یہ عورتیں کافر مردوں پر حلال ہیں اور نہ کافر مرد ان کے لئے حلال ہو سکتے ہیں کہ ان سے دوبارہ نکاح کرسکیں۔
مسئلہاس آیت نے یہ واضح کردیا کہ جو عورت کسی کافر کے نکاح میں تھی اور پھر وہ مسلمان ہوگئی تو کافر سے اس کا نکاح خود بخود فسخ ہوگیا، یہ اس کے لئے اور وہ اس کے لئے حرام ہوگئے اور یہی وجہ عورتوں کو شرط صلح میں واپسی سے مستثنیٰ کرنے کی ہے کہ اب وہ اس کے شوہر کافر کیلئے حلال نہیں رہی۔
وَاٰتُوْهُمْ مَّآ اَنْفَقُوْا، یعنی مہاجر مؤ منہ کے کافر شوہر نے اس کے نکاح میں جو مہروغیرہ اس کو دیا ہے وہ سب اس کے شوہر کو واپس دیا جائے کیونکہ شرط صلح سے مستثنیٰ صرف عورتوں کی واپسی تھی، جو بوجہ ان کے حرام ہوجانے کے نہیں ہو سکتی، مگر جو مال انہوں نے ان کو دیا ہے وہ حسب شرط واپس کردینا چاہئے اس مال کی واپسی کا خطاب مہاجر عورتوں کو نہیں کیا گیا کہ تم واپس کرو بلکہ عام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ واپس کریں، کیونکہ بہت ممکن بلکہ غالب یہ ہے کہ جو مال ان کے شوہر نے ان کو دیا تھا وہ ختم ہوچکا ہو، اب ان سے واپس دلانے کی صورت ہی نہیں ہو سکتی، اس لئے یہ فریضہ عام مسلمانوں پر ڈال دیا گیا کہ معاہدہ صلح کو پورا کرنے کے لئے اس کی طرف سے کافر شوہروں کا مال واپس کردیں، اگر بیت المال سے دیا جاسکتا ہے تو وہاں سے ورنہ عام مسلمانوں کے چندے سے (من القرطبی)
وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ اَنْ تَنْكِحُوْهُنَّ اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ ، پچھلی آیت میں یہ واضح ہوچکا ہے کہ ہجرت کر کے آنے والی مسلمان عورت کا نکاح اس کے کافر شوہر سے فسخ ہوچکا ہے اور یہ اس پر حرام ہوچکی ہے، اس آیت میں اسی حکم کا تکملہ یہ ہے کہ اب مسلمان مرد سے اس کا نکاح ہوسکتا ہے، اگرچہ سابق شوہر کافر زندہ بھی ہے اور اس نے طلاق بھی نہیں دی مگر شرعی حکم سے نکاح فسخ ہوچکا ہے، اس لئے دوسریے مرد سے اس کا نکاح حلال ہوگیا۔
کافر مرد کی بیوی مسلمان ہوجائے تو نکاح فسخ ہوجانا آیت مذکورہ سے معلوم ہوچکا، لیکن دوسرے کسی مسلمان مرد سے اس کا نکاح کس وقت جائز ہوگا، اس کے متعلق امام اعظم ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک اصل ضابطہ تو یہ ہے کہ جس کافر مرد کی عورت مسلمان ہوجائے تو حاکم اسلام اس کے شوہر کو بلا کر کہے کہ اگر تم بھی مسلمان ہوجاؤ تو نکاح برقرار رہے گا، ورنہ نکاح فسخ ہوجائے گا، اگر وہ اس پر بھی اسلام لانے سے انکار کرے تو اب ان دونوں میں فرقت کی تکمیل ہوگئی، اس وقت وہ کسی مسلمان مرد سے نکاح کرسکتی ہے، مگر یہ ظاہر ہے کہ حاکم اسلام کا شوہر کو حاضر کرنا وہیں ہوسکتا ہے جہاں حکومت اسلام کی ہو، دارالکفر یا دارالحرب میں ایسا واقعہ پیش آوے تو شوہر سے اسلام لئے کہنے اور اس کے انکار کی صورت نہیں ہوگی جس سے دونوں میں تفریق کا فیصلہ کیا جاسکے، اس لئے اس صورت میں زوجین کے درمیان تفریق کی تکمیل اس وقت ہوگی جب یہ عورت ہجرت کر کے دارالاسلام میں آجائے یا مسلمانوں کے لشکر میں آجائے، دارالاسلام میں آنے کی صورت مذکورہ واقعات میں مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد ہو سکتی ہے اور لشکر اسلام حدیبیہ میں بھی موجود تھا، اس میں پہنچنے سے بھی اس کا تحقق ہوجاتا ہے، جس کو فقہاء کی اصطلاح میں اختلاف دارین سے تعبیر کیا گیا ہے، یعنی جب کافر مرد اور اس کی بیوی مسلمان کے درمیان دارین کا فاصلہ ہوجائے، یعنی ایک دارالکفر میں ہے دوسرا دارالاسلام میں تو یہ تفریق مکمل ہو کر عورت دوسرے سے نکاح کیلئے آزاد ہوجاتی ہے (ہدایہ وغیرہ)
اور اس آیت میں جو اِذَآ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ کو بطور شرط کے فرمایا کہ تم ان سے نکاح کرسکتے ہو۔
بشرطیکہ ان کے مہر دیدو، یہ درحقیقت نکاح کی شرط نہیں، کیونکہ باتفاق امت نکاح کا انعقاد ادائے مہر پر موقوف اور مشروط نہیں ہے، البتہ نکاح پر مہر کی ادائیگی واجب و لازم ضرور ہے، یہاں اس کو بطور شرط کے شاید اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ ابھی ایک مہر تو اس کے کافر شوہر کو واپس کرایا جا چکا ہے، ایسا نہ ہو کہ اب اس سے نکاح کرنے والے مسلمان یہ سمجھ بیٹھیں کہ مہر تو دیا جا چکا اور جدید مہر کی ضرورت نہیں، اس لئے فرما دیا کہ اس مہر کا تعلق پچھلے نکاح سے تھا، یہ دوسرا نکاح ہوگا تو اس کا جدید مہر لازم ہے۔r
ۭ وَلَا تُمْسِكُوْا بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ ، عصم، عصمت کی جمع ہے، جس کی اصلی معنی حفاظت اور استحکام کے ہیں، مراد اس سے وہ عقد نکاح وغیرہ ہیں جن کی حفاظت کی جاتی ہے۔
کوافر جمع کافرہ کی ہے اور مراد اس سے مشرکہ عورت ہے، کیونکہ کافر کتابیہ سے نکاح کی اجازت قرآن کریم میں منصوص ہے، مراد آیت کی یہ ہے کہ اب تک جو مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان مناکحت کی اجازت تھی وہ ختم کردی گئی، اب کسی مسلمان کا نکاح مشرک عورت سے جائز نہیں اور جو نکاح پہلے ہوچکے ہیں وہ بھی ختم ہوچکے، اب کسی مشرک عورت کو اپنے نکاح میں روکنا حلال نہیں۔
جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تو جن صحابہ کرام کے نکاح میں کوئی مشرک عورت تھی اس کو چھوڑ دیا، حضرت فاروق اعظم کے نکاح میں دو مشرک عورتیں اس وقت تک تھیں جو بوقت ہجرت مکہ مکرمہ میں رہ گئی تھی، حضرت فاروق اعظم نے یہ آیت نازل ہونے کے بعد دونوں کو طلاق دے دی (رواہ البغوی بسند الزہری کذا فی المظہری) اور طلاق سے مراد اس جگہ چھوڑ دینا اور قطع تعلق کرلینا ہے، اصطلاحی طلاق کی یہاں ضرورت ہی نہیں، کیونکہ اس آیت کے ذریعہ نکاح ٹوٹ چکا ہے۔
وَاسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقْتُمْ وَلْيَسْـَٔــلُوْا مَآ اَنْفَقُوْا، یعنی جب معاملہ یہ ٹھہرا کہ جو عورت مسلمان ہو کر ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آجائے تو وہ واپس مکہ نہ بھیجی جائے گی، البتہ اس کے شوہر نے جو مہر وغیرہ اس کو دیا ہے وہ اس کے شوہر کو واپس دیا جائے گا، اسی طرح اگر کوئی مسلمان عورت خدانخواستہ مرتد ہو کر مکہ معظمہ چلی جائے یا پہلے ہی سے کافر ہو مگر مسلمان شوہر کے قبضہ سے نکل جائے (خلاصہ تفسیر میں اسی صورت کو شاید اس لئے اختیار کیا گیا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا کہ کوئی مسلمان عورت مرتد ہو کر مکہ چلی گئی ہو، اور پھر وہیں کافر ہو کر رہ گئی ہو، ہاں ایسے واقعات پیش آئے کہ جو پہلے ہی سے کافر تھیں وہ اپنے مسلمان شوہر کے قبضہ سے نکل کر مکہ ہی میں رہیں) کفار مکہ اس کو واپس نہیں کریں گے، مگر اس کے مسلمان شوہر نے جو مہر وغیرہ اس کو دیا ہے اس کی واپسی کفار مکہ کے ذمہ ہوگی، اس لئے ان معاملات کا تصفیہ باہمی حساب فہمی سے کرلیا جائے، طرفین سے جو کچھ مہر وغیرہ میں خرچ کیا گیا وہ دریافت کر کے اس کے مطابق لین دین کرلیا جاوے۔
اس حکم پر مسلمانوں نے بطیب خاطر عمل کیا کہ احکام قرآن کی پابندی ان کے نزدیک فرض ہے اس لئے جتنی عورتیں ہجرت کر کے آئیں سب کے مہروغیرہ ان کے کافر شوہروں کو واپس بھیج دیئے، مگر کفار مکہ کا قرآن پر ایمان نہیں تھا، انہوں نے عمل نہ کیا، اس پر اگلی آیت نززل ہوئی (ذکرہ البغوی عن الزہری مظہری)