Ayah 59:1ربط سورت اور شان نزول
پچھلی سورت میں یہود کی دوستی جو منافقین نے اختیار کر رکھی تھی اس کی مذمت کا بیان تھا، اس سورت میں یہود پر دنیا میں جلا وطنی کی سزا اور آخرت کا عذاب مذکور ہے اور قصہ ان یہود کا یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ جب مدینہ طیبیہ میں تشریف لائے تو یہود سے معاہدہ صلح کا ہوچکا تھا اور ان یہودیوں کے مختلف قبائل میں ایک قبیلہ بنو نضیر کا تھا وہ بھی معاہدہ صلح میں داخل تھا اور یہ لوگ مدینہ طیبہ سے دو میل پر رہتے تھے، ایک مرتبہ یہ واقعہ پیش آیا کہ عمرو بن امیہ ضمری کے ہاتھ سے دو قتل ہوگئے تھے جس کا خون بہا سب کو مل کر ادا کرنا تھا، آپ نے اپنے مسلمانوں سے اس کے لئے چندہ حاصل کیا، پھر یہ ارادہ ہوا کہ یہود بھی ازروئے صلح نامے مسلمانوں کے ساتھ ہیں خون بہا کی رقم میں ان کو بھی شریک کیا جائے، اس کام کے لئے آنحضرت ﷺ قبیلہ بنو نضیر کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے یہ سازش کی کہ آپ کو قتل کردینے کا موقع ہمارے ہاتھ آ گیا، اس لئے آنحضرت ﷺ کو ایک جگہ بٹھلا دیا اور کہا کہ ہم خون بہا کی رقم جمع کرنے کا انتظام کرتے ہیں اور خفیہ مشورہ کر کے یہ طے کیا کہ جس دیوار کے نیچے آپ تشریف فرما ہیں کوئی شخص اوپر چڑھ کر کوئی بڑا بھاری پتھر آپ کے اوپر چھوڑ دے کہ آپ کا کام تمام ہوجائے، آپ کو فوراً بذریعہ وحی ان کی یہ سازش معلوم ہوگئی، آپ وہاں سے اٹھ کر واپس تشریف لائے اور ان سے کہلا بھیجا کہ تم نے عہد شکنی کر کے صلح توڑ دی اس لئے اب تمہیں دس روز کی مہلت دی جاتی ہے اس میں تم جہاں چاہو چلے جاؤ، اس مدت کے بعد جو شخص یہاں نظر آوے گا اس کی گردن مار دی جاوے گی، انہوں نے چلے جانے کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن ابی منافق نے ان کو روکا کہ کہیں نہ جاؤ، میرے پاس دو ہزار آدمیوں کی جمعیت ہے جو اپنی جان دیدیں گے، تم پر آنچ نہ آنے دیں گے اور روح المعانی میں ابن اسحاق کی روایت سے اس میں عبداللہ کے ساتھ ودیعہ مالک اور سوید اور راعس کا شریک ہونا بھی لکھا ہے، یہ لوگ ان کے کہنے میں آگئے اور آنحضرت ﷺ سے کہلا بھیجا کہ ہم کہیں نہیں جائیں گے، آپ سے جو کچھ ہو سکے کرلیجئے، آپ صحابہ کرام کے ساتھ اس قبیلہ پر حملہ آور ہوئے اور یہ لوگ قلعہ بند ہوگئے اور منافقین منہ چھپا کر بیٹھ گئے، آپ نے ان کا محاصرہ کرلیا اور ان کے درخت جلوا دیئے، کچھ کٹوا دیئے، آخر تنگ آ کر انہوں نے جلا وطن ہونا منظور کرلیا، آپ نے اس حال میں بھی ان کے ساتھ یہ رعایت کی کہ حکم دے دیا کہ جتنا سامان تم ساتھ لے جاسکتے ہو لے جاؤ، بجز ہتھیار کے وہ ضبط کر لئے جاویں گے، یہ لوگ نکل کر کچھ شام میں چلے گئے، کچھ خیبر میں اور حرص دنیا کی وجہ سے اپنے گھروں کی کڑیاں، تختے، کواڑ تک اکھاڑ کرلے گئے اور یہ قصہ غزوہ احد کے بعد ربیع الاول سن 4 ھ میں پیش آیا، پھر حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں ان کو دوسرے یہود کے ساتھ ملک شام کی طرف نکال دیا، یہ دونوں جلا وطنی حشر اول اور حشرثانی کہلاتی ہیں، کذافی زادلمعاد۔
خلاصہ تفسیر
اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے (چنانچہ اس کی علو شان اور قدرت اور حکمت کا ایک اثر یہ ہے کہ) وہی ہے جس نے (ان) کفار اہل کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کر کے نکال دیا (یعنی بقول زہری اس کے قبل ان پر یہ مصیبت واقع نہ ہوئی تھی، یہ مصیبت ان پر پہلی بار ہی آئی ہے جو ان کی حرکات شنیعہ کا ثمرہ ہے اور اس میں ایک لطیف اشارہ ہے ایک پیشین گوئی کی طرف کہ ان کے لئے پھر بھی ایسا اتفاق ہوگا، چناچہ دوبارہ حضرت عمر نے تمام یہود کو جزیرہ عرب سے نکال دیا، کذافی الخازن اور اشارہ کو لطیف اس لئے کہا گیا کہ لفظ اول ہمیشہ مقتضی نہیں ہوگا کہ اس کا کوئی ثانی بھی ہو، چناچہ بولتے ہیں فلاں عورت کے پہلی ہی بار بچہ پیدا ہوا ہے، ان کا گھروں سے نکال دینا مسلمان کی طاقت اور غلبہ کا اثر تھا، آگے اس کی تقریر ہے کہ اے مسلمانوں ان کا سامان و شوکت دیکھ کر) تمہارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ (کبھی اپنے گھروں سے) نکلیں گے اور (خود) انہوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ (کے انتقام) سے بچالیں گے (یعنی اپنے قلعوں کے استحکام پر ایسے مطمئن تھے کہ ان کے دل میں انتقام غیبی کا خطرہ بھی نہ آتا تھا، پس ان کی حالت مشابہ اس شخص کے تھی جس کا یہ گمان ہو کہ ان کے قلعے اللہ کی گرفت سے بچا لیں گے اور اگر خاص قبیلہ بنو نضیر کے قلعے متعدد نہ ہوں تو حصو نہم جمع کی ضمیر مطلق یہود کی طرف ہوگی اور انہم کی ضمیر بھی اور صرفضمیر بنی نضیر کی طرف ہوجاوے گی، یعنی بنی نضیر کا یہ خیال تھا کہ سب یہود کو ان کے قلعے حوادث سے بچا لیں گے، ان سب یہود میں یہ بھی آگئے کہ اپنے قلعہ کو اپنا محافظ سمجھتے تھے) سو ان پر خدا (کا عقاب) ایسی جگہ سے پہنچا کہ ان کو خیال (اور گمان) بھی نہ تھا، (مراد اس جگہ سے یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں نکالے گئے جن کی بےسرو سامانی پر نظر کر کے اس کا احتمال بھی نہ تھا کہ یہ بےسامان ان باسامانوں پر غالب آجائیں گے) اور ان کے دلوں میں (اللہ تعالیٰ نے مسلمان کا) رعب ڈال دیا کہ (اس رعب کی وجہ سے نکلنے کا قصر کیا اور اس وقت یہ حالت تھی کہ) اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے بھی اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی اجاڑ رہے تھے (یعنی خود بھی کڑی تختہ لے جانے کے واسطے اپنے مکانوں کو منہدم کرتے تھے اور مسلمان بھی ان کے قلب کو صدمہ پہنچانے کے واسطے منہدم کرتے تھے اور مسلمانوں کے منہدم کرنے کو بھی ان کی طرف منسوب اس لئے کیا کہ سبب اس انہدام کا وہ ہی لوگ تھے کیونکہ انہوں نے عہد شکنی کی اور وہ فعل یہود کا ہے پس اسناد سبب کی طرف ہوگئی اور مسلمانوں کا ہاتھ بمنزلہ آلہ کے ہوگیا) سو اے دانش مندو (اس حالت کو دیکھ کر) عبرت حاصل کرو (کہ انجام خدا اور رسول کی مخالفت کا بعض اوقات دنیا میں بھی نہایت برا ہوتا ہے) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کی قسمت میں جلا وطن ہونا نہ لکھ چکتا تو ان کو دنیا ہی میں (قتل کی) سزا دیتا (جس طرح ان کے بعد بنی قریظہ کے ساتھ معاملہ کیا گیا) اور (گو دنیا میں عذاب قتل سے بچ گئے لیکن) ان کے لئے آخرت میں دوزخ کا عذاب (تیار) ہے (اور) یہ (سزائے جلاوطنی دنیا میں اور سزا نار آخرت میں) اس سبب سے ہے کہ ان لوگوں نے اللہ کی اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرتا ہے (اور وہی مخالفت رسول کی بھی ہے) تو اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والا ہے (یہ مخالفت دو طرح کی ہوئی، ایک نقض عہد سے جس سے کہ سزا جلاوطنی ہوئی اور دوسرے عدم ایمان سے جو سبب عذاب آخرت کا ہے، آگے یہود کے ایک طعن کا جواب ہے جو درختوں کے کاٹنے اور جلانے کے باب میں کیا تھا کہ ایسا کرنا تو فساد ہے اور فساد مذموم ہے، کذا فی الدرو نیز بعض مسلمانوں نے باوجود اجازت کے یہ سمجھ کر کہ ترک جائز جائز ہے اور آخر میں یہ درخت مسلمانوں ہی کے ہوجائیں گے تو ان کا رہنا ہی بہتر ہے، نہیں کاٹے اور بعض نے یہ سمجھ کر کہ یہود کا دل دکھے گا کاٹ دیئے، کذافی الدر، جواب کے ساتھ ان دونوں فعل کی بھی تصویب ہے پس ارشاد ہے کہ) جو کجھوروں کے درخت تم نے کاٹ ڈالے (اسی طرح جو جلا دیئے) یا ان کو ان کی جڑوں پر (بحالہا) کھڑا رہنے دیا سو (دونوں باتیں) خدا ہی کے حکم (اور رضا) کے موافق ہیں اور تاکہ کافروں کو ذلیل کرے (یعنی دونوں فعل میں مصلحت ہے، چناچہ ترک میں بھی مسلمانوں کی ایک کامیابی اور کفار کو غیظ میں ڈالنا ہے کہ یہ مسلمان اس کو برتیں گے اور قطع کرنے اور جلا دینے میں بھی مسلمانوں کی دوسری کامیابی یعنی ظہور آثار غلبہ اور کفار کو غیظ میں ڈالنا ہے کہ مسلمان ہماری چیزوں میں کیسے تصرفات کر رہے ہیں، پس دونوں امر جائز ہیں اور حکمت پر مبنی ہونے کے سبب ان میں کوئی قباحت نہیں۔
معارف و مسائل
سورة حشر کی خصوصیات اور قبیلہ بنو نضیر کی تاریخ
سورة حشر پوری یہود کے قبیلہ بنو نضیر کے متعلق نازل ہوئی ہے (قالہ ابن اسحق) اور حضرت ابن عباس اس سورت کا نام ہی سورة بنی نضیر کہا کرتے تھے (ابن کثیر) بنو نضیر یہود کا ایک قبیلہ ہے جو حضرت ہارون ؑ کی اولاد میں ہے، ان کے آباؤ اجداد تورات کے عالم تھے، جس میں حضرت خاتم الانبیاء ؑ کی خیر اور آپ کا حلیہ اور علامات مذکور تھے اور یہ کہ ان کی ہجرت یثرب (مدینہ) کی طرف ہوگی، یہ خاندان اس طمع میں کہ خاتم الانبیاء کے ساتھ رہیں شام سے مدینہ طیبہ منتقل ہوا تھا، اس کے موجودہ لوگوں میں بھی کچھ تورات کے عالم تھے اور آنحضرت ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد علامات دیکھ کر پہچان بھی لیا تھا کہ یہ وہی خاتم الانبیاء ہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ آخری نبی ہارون ؑ کی اولاد میں ان کے خاندان میں ہوں گے اور خاتم الانبیاء ﷺ بنی اسرائیل کے بجائے بنی اسماعیل میں معبوث ہوئے تو اس حسد نے ان لوگوں کو ایمان لانے سے روک دیا، مگر دل میں ان کے اکثر لوگ آپ کے آخر الانبیاء ہونے کو جانتے پہچانتے تھے اور غزوہ بدر میں مسلمانوں کی حیرت انگیز فتح اور مشرکین کی شکست دیکھ کر ان کا یہ یقین کچھ اور بڑھا بھی تھا اس کا اقرار ان کی زبانوں سے سنا بھی گیا، مگر اس ظاہری فتح و شکست کو حق و باطل کے پہچاننے کا معیار بنا لینا ہی ایک بودی اور کمزور بنیاد تھی، نتیجہ یہ ہوا کہ غزوہ احد میں جب ابتداً مسلمانوں کو شکست ہوئی، کچھ حضرات صحابہ شہید ہوئے تو ان کا یقین متزلزل ہوگیا اور اس کے بعد سے انہوں نے مشرکین مکہ کے ساتھ ساز باز شروع کردی۔
اس سے پہلے یہ واقعہ ہوچکا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ طیبہ پہنچ کر حکیمانہ سیاست کے مقتضیٰ پر سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ مدینہ طیبہ میں اور شہر کے آس پاس کچھ یہود کے قبائل آباد تھے، ان سے معاہدہ صلح اس پر کرلیا تھا کہ یہ لوگ نہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے اور نہ کسی جنگ کرنے والے کی امداد کریں گے، اگر ان پر کوئی حملہ آور ہوا تو مسلمان ان کی امداد کریں گے، صلح نامہ میں اور بھی بہت سی دفعات تھیں جن کی تفصیل سیرت ابن ہشام وغیرہ میں مذکور ہے، اسی طرح یہود کے تمام قبائل کی جن میں بنو نضیر بھی داخل تھے، مدینہ طیبہ سے دو میل کے فاصلہ پر ان کی بستی اور مضبوط قلعے اور باغات تھے۔
غزوہ احد تک تو یہ لوگ بظاہر اس صلح نامہ کے پابند نظر آئے، مگر احد کے بعد انہوں نے غداری کی اور خفیہ خیانت شروع کردی، اس غدر و خیانت کی ابتداء اس سے ہوئی کہ بنو نضیر کا ایک سردار کعب بن اشرف غزوہ احد کے بعد اپنے یہودیوں کے چالیس آدمیوں کے ایک قافلہ کے ساتھ مکہ معظمہ پہنچا اور یہاں کے کفار قریش جو غزوہ بدر کی شکست کا بدلہ لینے کی نیت سے غزوہ احد پر گئے تھے اور اس میں بالآخر شکست کھا کر واپس ہوچکے تھے ان سے ملاقات کی اور ان دونوں میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کا ایک معاہدہ ہونا قرار پایا، جس کی تکمیل اس طرح کی گئی کہ کعب بن اشرف اپنے چالیس یہودیوں کے ساتھ اور ان کے بالمقابل ابوسفیان اپنے چالیس قریشیوں کے ساتھ حرم بیت اللہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کا پردہ پکڑ کر یہ معاہدہ کیا کہ ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کریں گے۔
کعب بن اشرف اس معاہدہ کے بعد مدینہ طیبہ واپس آیا تو جبرئیل امین نے رسول اللہ ﷺ کو یہ سارا واقعہ اور معاہدہ کی تفصیل بتلا دی، آنحضرت ﷺ نے کعب بن اشرف کے قتل کا حکم جاری فرما دیا، چناچہ محمد بن مسلمہ صحابی نے اس کو قتل کردیا۔
اس کے بعد بنو نضیر کی مختلف خیانتیں اور سازشیں آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوتی رہیں، جن میں ایک وہ واقعہ ہے جو اوپر شان نزول کے عنوان سے لکھا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش کی اور اگر فوری طور پر آنحضرت ﷺ بذریعہ وحی اس سازش پر مطلع نہ ہوتے تو یہ لوگ اپنی سازش قتل میں کامیاب ہوجاتے، کیونکہ جس مکان کے نیچے رسول اللہ ﷺ کو انہوں نے بٹھایا تھا اس کی چھت پر چڑھ کر ایک بڑا بھاری پتھر آپ کے سر مبارک پر چھوڑ دینے کا منصوبہ تقریباً مکمل ہوچکا تھا، جو شخص اس منصوبہ کو عملی صورت دینے والا تھا اس کا نام عمر بن حجاش تھا، حق تعالیٰ جل شانہ نے آپ کی حفاظت فرمائی اور یہ منصوبہ فیل ہوگیا۔
ایک عبرت
یہ بھی عجیب معاملہ ہے کہ بعد کے واقعہ میں سارے ہی بنو نضیر جلا وطن ہو کر مدینہ سے نکل گئے، مگر ان میں سے صرف دو آدمی مسلمان ہو کر محفوظ و مامون رہے، ان دو میں ایک یہی عمر بن جحاش تھے دوسرے ان کے چچا یامین بن عمرو بن کعب تھے (ابن کثیر)
عمرو بن امیہ ضمری کا واقعہ
شان نزول کے واقعہ میں جو یہ ذکر آیا ہے کہ عمر و بن امیہ ضمیری کے ہاتھ سے دو قتل ہوگئے تھے ان کا خون بہا جمع کرنے کی کوشش رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے اسی خون بہا کے سلسلے میں بنو نضیر کا چندہ حاصل کرنے کے لئے آپ ان کی بستی میں تشریف لے گئے تھے، اس کا واقعہ ابن کثیر نے یہ بیان کیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کفار کی سازشیں اور مظالم کی داستان تو بہت طویل ہے ان میں سے ایک واقعہ بیر معونہ کا تاریخ اسلام میں معروف و مشہور ہے کہ بعض منافقین و کفار نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی بستی میں تبلیغ اسلام کے لئے صحابہ کرام کی ایک جماعت بھیجنے کی درخواست کی، آنحضرت ﷺ نے ستر صحابہ کرام ان کے ساتھ کئے بعد میں حقیقت یہ کھلی کہ ان لوگوں نے یہ محض سازش کی تھی، ان سب کو گھیر کر قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور وہ اس میں کامیاب ہوگئے، ان سے صرف عمرو بن امیہ ضمری کسی طرح نکل کر بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئے جو بزرگ ابھی کفار کی یہ غداری اور خیانت اور اپنے انہتر بھائیوں کا بیدردی سے قتل دیکھ کر آ رہے تھے ان کا جذبہ کفار کے مقابلہ میں کیا ہوگا ہر شخص خود اندازہ کرسکتا ہے، اتفاق یہ ہوا کہ مدینہ طیبہ واپس آنے کے وقت راستہ میں ان کو دو کافروں سے سابقہ پڑا، انہوں نے دونوں کو قتل کردیا، بعد میں معلوم ہوا کہ دونوں آدمی قبیلہ بنی عامر کے تھے جن سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ صلح تھا۔
مسلمانوں کے معاہدات آج کل کے سیاسی لوگوں کے معاہدات تو ہوتے نہیں کہ پہلے ہی خلاف ورزی اور عہد شکنی کی راہیں تلاش کرلی جاتی ہیں، یہاں تو جو کچھ زبان یا قلم سے نکلتا تھا دین و مذہب اور خدا تعالیٰ کے حکم کی حیثیت رکھتا تھا اور اس کی پابندی لازمی تھی، جب آنحضرت ﷺ کو اس غلطی کا علم ہوا تو آپ نے اصول شرعیہ کے مطابق ان دونوں مقتولوں کی دیت (خون بہا) ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا اور اس کے لئے مسلمانوں سے چندہ جمع کیا، اس میں بنو نضیر کے پاس بھی چندہ کے سلسلے میں جانا ہوا (ابن کثیر)
بنو نضیر کو جلا وطن کرنے کے وقت اسلام اور مسلمانوں کی رواداری موجودہ اہل سیاست کے لئے سبق آموز معاملہ
آج کے بڑے حکمران اور بڑی حکومتیں جو انسانی حقوق کے تحفظ پر بڑے بڑے لیکچر دیتے ہیں اور اس کے لئے ادارے قائم کرتے ہیں اور دنیا میں تحفظ حقوق انسانیت کے چودھری کہلاتے ہیں ذرا اس واقعہ پر نظر ڈالیں کہ بنو نضیر کی مسلسل سازشیں، خیانتیں، قتل رسول کے منصوبے جو آپ کے سامنے آتے رہے اگر آج کل کے کسی حکمران اور کسی سربراہ مملکت کے سامنے آئے ہوتے تو ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچئے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ کرتا، آج کل تو زندہ لوگوں پر پٹرول چھڑک کر میدان صاف کردینا کسی بڑے اقتدار و حکومت کا بھی محتاج نہیں، کچھ غنڈے شریر جمع ہوجاتے ہیں اور یہ سب کچھ کر ڈالتے ہیں، شاہانہ غیظ و غضب کے کرشمے کچھ اس سے آگے ہی ہوتے ہیں۔
مگر یہ حکومت خدا کی اور اس کے رسول کی ہے جب خیانتیں اور غداریاں انتہاء کو پہنچ گئیں تو اس وقت بھی ان کے قتل عام کا ارادہ نہیں فرمایا، ان کے مال و اسباب چھین لینے کا کوئی تصور نہیں تھا، بلکہ (1) اپنا سب سامان لے کر صرف شہر خالی کردینے کا فیصلہ کیا۔ (2) اور اس کے لئے بھی دس روز کی مہلت دی کہ آسانی سے اپنا سامان ساتھ لے کر اطمینان سے کسی دوسرے مقام پر منتقل ہوجائیں جب اس کی بھی خلاف ورزی کی تو قومی اقدام کی ضرورت پیش آئی۔ (3) اس لئے کچھ درخت تو جلائے گئے، کچھ کاٹے گئے کہ ان پر اثر پڑے، مگر قلعہ کو آگ لگا دینے کا یا ان کے قتل عام کا حکم اس وقت بھی نہیں دیا گیا۔
(4) پھر جب مجبور ہو کر ان لوگوں نے شہر خالی کردینا منظور کرلیا تو اس فوجی اقدام کے باوجود ان کو یہ اختیار دیا گیا کہ ایک اونٹ پر جس قدر سامان ایک آدمی لے جاسکتا ہے لے جائے، اسی کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنے مکانوں کی کڑیاں، تختے، دروازے، کواڑ تک اتار کر لاد لئے۔
(5) اس سازو سامان کے ساتھ منتقل ہونے والوں کو کسی مسلمان نے ترچھی نظر سے نہیں دیکھا، امن و عافیت اور پورے اطمینان کے ساتھ سامان لے کر رخصت ہوئے۔
آنحضرت ﷺ کے یہ معاملات اس وقت کے ہیں جبکہ آپ کو اپنے دشمن سے انتقام پورا پورا لے لینے کی مکمل قدرت و طاقت حاصل تھی، ان غدار، خائن، سازشی دشمنوں کے ساتھ اس وقت آپ کا یہ معاملہ اسی کی نظیر ہے جو فتح مکہ کے بعد اپنے قدیمی دشمنوں کے ساتھ آپ نے فرمایا۔
Ayahs 59:2–4(آیت) لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ، بنو نضیر کی اس جلاوطنی کو قرآن کریم نے اول حشر فرمایا، حشر کے معنی اٹھ جانے کھڑے ہوجانے کے ہیں، اول حشر کہنے کی ایک وجہ خلاصہ تفسیر میں بیان ہوچکی ہے کہ یہ لوگ زمانہ قدیم میں ایک جگہ آباد تھے، نقل مکانی اور جلاوطنی کا یہ واقعہ ان کو پہلی بار پیش آیا اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام کا اصل حکم آگے یہ آنے والا تھا کہ جزیرة العرب کو غیر مسلموں سے خالی کرایا جائے، تاکہ وہ اسلام کا ایک مستحکم قلعہ بن سکے، اس کے نتیجہ میں ایک دوسرا حشر آئندہ بشکل جلاوطنی ہونے والا تھا، جو عملاً حضرت فاروق اعظم کے عہد خلافت میں ہوا کہ ان میں سے جو لوگ منتقل ہو کر خیبر میں آباد ہوگئے تھے ان کو جزیرة العرب سے باہر چلے جانے کا حکم دیا گیا، اس لحاظ سے بنو نضیر کی یہ جلا وطنی پہلا حشر اور دوسری جلاوطنی بعہد عمری دوسرا حشر ہوا
(آیت) فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَيْثُ لَمْ يَحْتَسِبُوْا، اس کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ آ گیا ان کے پاس اللہ تعالیٰ اس انداز سے کہ ان کو اس کا گمان بھی نہ تھا، اللہ کے آنے سے مراد اس کے حکم اور حکم بردار فرشتوں کا آنا ہے۔
(آیت) يُخْرِبُوْنَ بُيُوْتَهُمْ بِاَيْدِيْهِمْ وَاَيْدِي الْمُؤْمِنِيْنَ ، ان کا اپنے مکانات کا اپنے ہاتھوں خراب کرنا تو اس طرح ہوا کہ اپنے دروازے، کواڑ ساتھ لے جانے کے لئے اکھاڑے اور مسلمانوں کے ہاتھوں اس طرح کہ جب یہ قلعہ بند تھے تو قلعہ سے باہر مسلمانوں نے ان پر اثر ڈالنے کے لئے درختوں اور مکانوں کو ویران کیا۔
Ayah 59:5(آیت) مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ اَوْ تَرَكْتُمُوْهَا قَاۗىِٕمَةً عَلٰٓي اُصُوْلِهَا فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَلِيُخْزِيَ الْفٰسِقِيْنَ ، لفظ لینہ کجھور کے ہر درخت یا عجوہ کے علاوہ وہ باقی درختوں کے لئے بولا جاتا ہے، بنو نضیر کے باغات کجھور کے تھے جب قلعہ بند ہوگئے تو بعض صحابہ کرام نے ان لوگوں کو غیظ دلانے اور ان پر رعب ڈالنے کے لئے ان کی کھجوروں کے چند درختوں کو کاٹ کر جلا کر ختم کردیا اور بعض دوسرے صحابہ کرام نے خیال کیا کہ انشاء اللہ فتح ہماری ہوگی اور یہ درخت اور باغات مسلمانوں کے ہاتھ آئیں گے تو کیوں ان کو ضائع کیا جائے وہ ان کے کاٹنے جلانے سے باز رہے، یہ ایک رائے کا اختلاف تھا، بعد میں جب آپس میں گفتگو ہوئی تو جن حضرات نے کچھ درخت کاٹے یا جلائے تھے ان کو یہ فکر ہوئی کہ شاید ہم گناہ گار ہوگئے کہ جو مال مسلمانوں کو ملنے والا تھا اس کو نقصان پہنچایا، اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی جس نے دونوں فریق کے عمل کو جائز و درست فرمایا اور دونوں کو باذن اللہ میں داخل کر کے حکم الٰہی کی تعمیل قرار دیا۔
رسول اللہ ﷺ کا حکم درحقیقت اللہ ہی کا حکم ہوتا ہے، منکرین حدیث کیلئے تنبیہ
اس آیت میں ان درختوں کے کاٹنے جلانے یا ان کو باقی چھوڑنے کے دونوں مختلف عملوں کو باذن اللہ فرمایا ہے، حالانکہ قرآن کی کسی آیت میں دونوں میں سے کوئی بھی حکم مذکور نہیں، ظاہر تو یہ ہے کہ دونوں حضرات نے جو عمل کیا، وہ اپنے اجتہاد سے کیا، زیادہ سے زیادہ یہ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اجازت لی ہو مگر قرآن نے اس اجازت کو جو کہ ایک حدیث تھی اذن اللہ قرار دے کر واضح کردیا کہ رسول اللہ ﷺ کو حق تعالیٰ کی طرف سے تشریع احکام کا اختیار دیا گیا ہے اور جو حکم آپ جاری فرما دیں وہ اللہ تعالیٰ ہی کے حکم میں داخل ہے اس کی تعمیل قرآنی آیات کی تعمیل کی طرح فرض ہے۔
اجتہادی اختلاف کی دونوں جانبوں میں کسی کو گناہ نہیں کہہ سکتے
دوسرا اہم اصول اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ جو لوگ اجتہاد شرعی کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر ان کا اجتہاد کسی مسئلے میں مختلف ہوجائے، ایک فریق جائز قرار دے اور دوسرا ناجائز، تو عنداللہ یہ دونوں حکم درست اور جائز ہوتے ہیں، ان میں سے کسی کو گناہ و معصیت نہیں کہہ سکتے اور اسی لئے اس پر نہی عن المنکر کا قانون جاری نہیں ہوتا کیونکہ ان میں سے کوئی جانب بھی منکر شرعی نہیں اور ولیخزی الفسقین میں درختوں کے کاٹنے یا جلانے والوں کے عمل کی توجیہ بیان کی گئی ہے کہ وہ بھی فساد میں داخل نہیں بلکہ کفار کو ذلیل کرنے کے قصد سے موجب ثواب ہے۔
مسئلہبحالت جنگ کفار کے گھروں کو منہدم کرنا یا جلانا اسی طرح درختوں، کھیتوں کو برباد کرنا جائز ہے یا نہیں اس میں ائمہ فقہا کے مختلف اقوال ہیں، امام اعظم ابوحنیفہ سے بحالت جنگ ان سب کاموں کا جائز ہونا منقول ہے، مگر شیخ ابن ہمام نے فرمایا کہ یہ جواز اس وقت میں ہے جبکہ اس کے بغیر کفار پر غلبہ پانا مشکل ہو، یا اس صورت میں جبکہ مسلمانوں کی فتح کا گمان غالب نہ ہو، تو یہ سب کام اس لئے جائز ہیں کہ ان سے کفار کی طاقت و شوکت کو توڑنا مقصود ہے، یا عدم فتح کی صورت میں ان کے مال کو ضائع کرنا بھی ان کی قوت کو کمزور کردینے کے لئے اس میں داخل ہے (مظہری)
Ayah 59:6خلاصہ تفسیر
(اوپر جو بیان ہوا وہ تو بنی نضیر کی جانوں کے ساتھ معاملہ تھا) اور (ان کے اموال کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کا بیان یہ ہے کہ) جو کچھ اللہ نے اپنے رسول کو ان سے دلوا دیا سو (اس میں تم کو کوئی مشقت نہیں پڑی، چنانچہ) تم نے اس پر (یعنی اس کے حاصل کرنے پر) نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ اونٹ (مطلب یہ کہ نہ سفر کی مشقت ہوئی، کیونکہ مدینہ سے دو میل پر ہے اور نہ قتال کی اور برائے نام جو مقابلہ کیا گیا وہ غیر معتدبہ تھا کذافی الروح، اس لئے اس مال میں تمہارا استحقاق تقسیم و تملیک کا نہیں، جس طرح مال غنیمت میں ہوتا ہے) لیکن اللہ تعالیٰ (کی عادت ہے کہ) اپنے رسولوں کو (اپنے دشمنوں میں سے) جس پر چاہے (خاص طور پر) مسلط فرما دیتا ہے (یعنی محض رعب سے مغلوب کردیتا ہے، جس میں کسی کو کچھ مشقت اٹھانی نہیں پڑتی، چناچہ ان رسولوں میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول محمد ﷺ پر اموال بنی نضیر پر اسی طرح مسلط فرما دیا، اس لئے اس میں تمہارا کوئی حق نہیں بلکہ اس میں مالکانہ تصرف کرنے کا مکمل اختیار آپ کو ہی ہے) اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز پر پوری قدرت ہے (پس وہ جس طرح چاہے دشمنوں کو مغلوب کرے اور جس طرح چاہے اپنے رسول کو اختیار اور تصرف دے اور جیسا اموال بنی نضیر کا یہ حکم ہے اسی طرح) جو کچھ اللہ تعالیٰ (اسی طور پر) اپنے رسول کو دوسری بستیوں کے (کافر) لوگوں سے دلوادے (جیسا باغ فدک اور ایک جزو خبیر کا اسی طرح ہاتھ آیا) سو (اس میں بھی تمہارا کوئی استحقاق ملکیت کا نہیں بلکہ) وہ (بھی) اللہ کا حق ہے (یعنی وہ جس طرح چاہے اس میں حکم دے جیسا کہ اور سب چیزوں میں اس کا اسی طرح کا حق ہے اور تخصیص حصر کے لئے نہیں) اور رسول کا (حق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس مال میں مالکانہ تصرفات اپنی صوابدید سے کرنے کا اختیار دے دیا ہے) اور (آپ کے) قرابت داروں کا (حق ہے) اور یتیموں کا (حق ہے) اور غریبوں کا (حق ہے) اور مسافروں کا (حق ہے یعنی یہ سب حسب صوابدید رسول اللہ ﷺ کے اس مال کی مصرف ہیں اور ان میں بھی انحصار نہیں، رسول اللہ ﷺ جس کو اپنی رائے سے دینا چاہیں وہ بھی اس میں شامل ہے اور مذکورہ اقسام کا خاص طور پر ذکر شاید اس لے کیا گیا کہ ان کے بارے میں یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ جب شرکاء جہاد کا اس مال میں استحقاق نہیں تو یہ اقسام جو شریک جہاد بھی نہیں ان کا بھی حق نہیں ہوگا، مگر آیت میں ان کا ذکر خاص اوصاف یتیم، غریب، مسافر وغیرہ کے ساتھ کر کے اشارہ کردیا کہ یہ لوگ اپنے ان اوصاف کی وجہ سے اس مال کے مصرف باختیار نبی کریم ﷺ ہو سکتے ہیں، جہاد کی شرکت سے اس کا تعلق نہیں، پھر ان اوصاف میں ایک وصف ذوی القربی ٰ یعنی رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ داروں کا بھی ہے، ان کو اس مال میں سے اس لئے دیا جاتا تھا کہ یہ سب رسول اللہ ﷺ کے مددگار تھے، ہر مشکل کے وقت کام آتے تھے، یہ حصہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد منقطع ہوگیا، جیسا کہ سورة انفال میں اس کا بیان آ چکا ہے اور یہ حکم مذکور اس لئے مقرر کردیا) تاکہ وہ (مال فئی) تمہارے مالداروں کے قبضہ میں نہ آجائے (جیسا جاہلیت میں سب غنائم و محاصل جنگ اصحاب اقتدار کھا جاتے تھے اور فقراء بالکل محروم رہ جاتے تھے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول کی رائے پر رکھا اور مصارف بھی بتلا دیئے کہ آپ باوجود مالک ہونے کے پھر بھی اہل حاجت و مواقع مصلحت عامہ میں صرف فرما دیں گے) اور (جب یہ معلوم ہوگیا کہ رسول ﷺ کی رائے پر ہونے میں حکمت ہے تو) رسول تم کو جو کچھ دے دیاکریں وہ لے لیا کرو اور جس چیز (کے لینے) سے تم کو روک دیں تم رک جایا کرو (اور بعموم الفاظ یہی حکم ہے تمام افعال و احکام میں بھی) اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ تعالیٰ (مخالفت کرنے پر) سخت سزا دینے والا ہے (اور یوں تو فئی میں مطلقاً سب مساکین کا حق ہے لیکن) ان حاجت مند مہاجرین کا (بالخصوص) حق ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے (جبراً و ظلماً) جدا کردیئے گئے (یعنی کفار نے ان کو اس قدر تنگ کیا کہ گھر بار چھوڑ کر ہجرت پر مجبور ہوئے اور اس ہجرت سے) وہ اللہ تعالیٰ کے فضل (یعنی جنت) اور رضا مندی کے طالب ہیں (کسی دنیوی غرض سے ہجرت نہیں کی) اور وہ (لوگ) اللہ اور اس کے رسول (کے دین) کی مدد کرتے ہیں (اور) یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں اور (نیز) ان لوگوں کا (بھی حق ہے) جو دارالاسلام (یعنی مدینہ) میں اور ایمان میں ان (مہاجرین) کے (آنے کے) قبل سے قرار پکڑے ہوئے ہیں (مراد اس سے انصاری حضرات ہیں اور مدینہ میں ان کا پہلے قرار پکڑنا تو ظاہر ہے کہ وہ یہیں کے باشندے تھے اور ایمان میں پہلے قرار پکڑنے کا یہ مطلب نہیں کہ سب انصار کا ایمان سب مہاجرین سے مقدم ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ مہاجرین کے مدینہ میں آنے سے پہلے ہی یہ حضرات مشرف باسلام ہوچکے تھے، خواہ اصل ایمان ان کا بعض مہاجرین کے ایمان سے مؤخر ہی ہو) جو ان کے پاس ہجرت کر کے آتا ہے اس سے یہ لوگ محبت کرتے ہیں اور مہاجرین کو (مال غنیمت وغیرہ میں سے) جو کچھ ملتا ہے اس سے یہ (انصار بوجہ محبت کے) اپنے دلوں میں کوئی رشک نہیں پاتے اور (بلکہ اس سے بھی بڑھ کر محبت کرتے ہیں کہ اطعام وغیرہ میں ان کو) اپنے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ ان پر فاقہ ہی ہو (یعنی خود بسا اوقات فاقہ سے بیٹھے رہتے ہیں اور مہاجرین کو کھلا دیتے ہیں) اور (واقعی) جو شخص اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا جاوے (جیسے یہ لوگ ہیں کہ حرص اور اس کے مقتضا پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ نے ان کو پاک رکھا ہے) ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں اور ان لوگوں کا (بھی اس مال فئی میں حق ہے) جو (دارالاسلام میں یا ہجرت میں یا دنیا میں) ان (مہاجرین و انصار مذکورین) کے بعد آئے (یا آویں گے) جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو (بھی) جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں (خواہ نفس ایمان یا ایمان کامل کہ موقوف ہجرت پر تھا) اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ ہونے دیجئے (یہ دعاء متقدمین کے علاوہ معاصرین کو بھی شامل ہے) اے ہمارے رب آپ بڑے شفیق رحیم ہیں۔
Ayah 59:7معارف و مسائل
(آیت) وَمَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْهُمْ الآیہ، لفظ افاء فئی سے مشتق ہے جس کے معنی لوٹنے کے ہیں، اس لئے دوپہر کے بعد جو چیزوں کا سایہ مشرق کی طرف لوٹتا ہے اس کو بھی فئی کہا جاتا ہے، اموال غنیمت جو کفار سے حاصل ہوتے ہیں ان سب کی اصل حقیقت یہ ہے کہ ان کے باغی ہوجانے کی وجہ سے ان کے اموال بحق سرکار ضبط ہوجاتے ہیں اور ان کی ملکیت سے نکل کر پھر مالک حقیقی حق تعالیٰ کی طرف لوٹ جاتے ہیں، اس لئے ان کے حاصل ہونے کو افا کے لفظ سے تعبیر کیا گیا، اس کا تقاضا یہ تھا کہ کفار سے حاصل ہونے والے تمام قسم کے اموال کو فئی ہی کہا جاتا، مگر جو مال جہاد و قتال کے ذریعہ حاصل ہوا اس میں انسانی عمل اور جدوجہد کو بھی ایک قسم کا دخل ہے، اس لئے اس کو تو لفظ غنیمت سے تعبیر فرمایا گیا ، (آیت) واعلموا انما غنمتم من شیئ، لیکن جس کے حصول میں جہاد و قتال کی بھی کوئی ضرورت نہ پڑی اس کو لفظ فئی سے تعبیر فرمایا گیا، اس آیت کا حاصل یہ ہوا کہ جو مال بغیر جہاد و قتال کے حاصل ہوا ہے وہ مجاہدین و غانمین میں مال غنیمت کے قانون کے مطابق تقسیم نہیں ہوگا، بلکہ اس میں کلی اختیار رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ہوگا جس کو جتنا چاہیں عطا فرما دیں یا اپنے لئے رکھیں، البتہ یہ پابندی لگا دی گئی کہ چند اقسام مستحقین کی متعین کردی گئیں کہ اس مال کی تقسیم انہیں اقسام میں دائر رہنی چاہئے، اس کا بیان اگلی آیت میں اس طرح فرمایا (آیت) مَآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلٰي رَسُوْلِهٖ مِنْ اَهْلِ الْقُرٰى، اس میں اہل قریٰ سے مراد بنو نضیر اور ان جیسے دوسرے قبائل بنو قریظہ وغیرہ ہیں جن کے اموال بغیر قتال کے حاصل ہوئے، آگے مصارف و مستحقین کی پانچ قسمیں بتلائی گئیں ہیں جن کا بیان آگے آتا ہے۔
آیات مذکوہ میں فئی کے احکام، اس کے مستحقین اور ان میں تقسیم کا طریقہ کار بیان فرمایا ہے سورة انفال کے شروع میں مال غنیمت اور فئی کا فرق واضح طور پر بیان ہوچکا ہے کہ غنیمت اس مال کو کہا جاتا ہے جو کفار سے جہاد و قتال کے نتیجہ میں مسلمانوں کے ہاتھ آتا ہے اور فئی وہ مال ہے جو بغیر جہاد و قتال کے ان سے حاصل ہو، خواہ اس طرح کہ وہ اپنا مال چھوڑ کر بھاگ گئے یا رضا مندی سے بصورت جزیہ و خراج یا تجارتی ڈیوٹی وغیرہ کے ذریعہ ان سے حاصل ہوتا ہے۔
اس کی کچھ تفصیل شروع سورة انفال میں معارف (القرآن جلد چہارم صفحہ 174 میں اور مزید تفصیل اسی سورة انفال کی آیت 41 کے تحت معارف القرآن جلد چہارم صفحہ 236 میں لکھی جا چکی ہے)
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ سورة انفال کی آیت 41 میں جو الفاظ خمس غنیمت کے متعلق آئے ہیں تقریباً وہی الفاظ یہاں مال فئی کے بارے میں ہیں، سورة انفال میں ہے (آیت) واعلموآ انما غنمتم من شی فان للہ خمسہ وللرسول ولذی القربی والیتمی والمسکین وابن السبیل۔
ان دونوں آیتوں میں مال کے حقداروں میں چھ نام ذکر کئے گئے، اللہ، رسول، ذوی، القربیٰ ، یتیم، مسکین، مسافر، یہ ظاہر ہے کہ اللہ جل شانہ تو دنیا و آخرت اور تمام مخلوقات کا مالک حقیقی ہے، اس کا نام مبارک تو حصوں کے بیان میں محض تبرکاً اس فائدہ کے لئے ہے کہ اس سے اس مال کی شرافت و فضیلت اور حلال و طیب ہونے کی طرف اشارہ ہوجائے، حسن بصری، قتادہ، عطاء، ابراہیم، شعبی اور عام مفسرین کا یہی قول ہے (مظہری)
اللہ جل شانہ کا نام ذکر کرنے سے اس مال کی فضیلت و شرافت کی طرف اشارہ کس طرح ہوا اس کا تفصیلی بیان سورة انفال کی تفسیر میں ہوچکا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہم السلام) کے لئے مال صدقہ جو مسلمانوں سے حاصل ہوتا ہے، وہ بھی حلال نہیں فرمایا، مال غنیمت اور فئی جو کافروں سے حاصل ہو اس پر یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کیسے حلال ہوا ؟ اس شبہ کا ازالہ اللہ جل شانہ کا نام اس جگہ ذکر کر کے اس طرح کیا گیا کہ درحقیقت ہر چیز کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، اس نے اپنے فضل سے ایک خالص قانون کے تحت انسانوں کو حق ملکیت دیا ہے، لیکن جو انسان باغی ہوجائیں ان کو صحیح راستہ پر لانے کے لئے اول تو انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی ہدایات بھیجی گئیں جو ان سے بھی متاثر نہیں ہوئے ان کو یہ حق دیا گیا کہ کم از کم اسلامی قانون کی اطاعت قبول کرلیں اور مقررہ جزیہ و خراج اپنے مال میں سے حکومت کو ادا کیا کریں، جن لوگوں نے اس سے بھی بغاوت کی ان کے مقابلہ میں جہاد و قتال کا حکم ہوگیا جس کا حاصل یہ ہے کہ ان کی جان اور مال قابل احترام نہیں، ان کے اموال بحق حکومت الٰہیہ ضبط ہوگئے اور بذریعہ جہاد و قتال جو مال ان سے حاصل ہوا وہ کسی انسان کی ذاتی ملکیت نہیں رہا بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی ملک میں واپس ہوگیا اور لفظ فئی میں اس مفہوم کی طرف اشارہ بھی ہے کہ اس کے اصلی معنی لوٹنے ہی کے ہیں، اس مال کو فئے اس لئے کہا گیا کہ یہ اصل مالک حقیقی اللہ تعالیٰ کی ملکیت کی طرف لوٹ گیا اب اس میں کسی انسانی ملکیت کا کوئی دخل نہیں، اس کے بعد جن مستحقین کو اس میں کوئی حصہ دیا جائے گا یہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا، اس لئے ایسا ہی حلال طیب ہوگا جیسے پانی اور خود اگنے والی گھاس جو براہ راست حق تعالیٰ کا عطیہ انسان کے لئے ہے اور حلال طیب ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام اس جگہ ذکر کرنے سے اشارہ اس طرف ہے کہ یہ سارا مال دراصل اللہ کا ہے، اس کی طرف سے مستحقین کو دیا جاتا ہے، یہ کسی کا صدقہ و خیرات نہیں۔
اب مستحقین اور مصارف کل پانچ رہ گئے، رسول، ذوی القربیٰ ، یتیم، مسکین، مسافر یہی پانچ مصارف مال غنیمت کے خمس کے ہیں، جس کا بیان سورة انفال میں آیا ہے اور یہی مصارف مال فئی کے ہیں اور دونوں کا حکم یہ ہے کہ یہ سب اموال درحقیقت رسول اللہ ﷺ اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے مکمل اختیار میں ہوتے ہیں وہ چاہیں تو ان سب اموال کو عام مسلمانوں کے مفاد کے لئے روک لیں اور بیت المال میں جمع کردیں، کسی کو کچھ نہ دیں اور چاہیں تقسیم کردیں، البتہ تقسیم کئے جاویں تو ان پانچ اقسام میں دائر رہیں (قرطبی)
خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ کرام کے تعامل سے ثابت ہوا کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں تو مال فئی آپ کے اختیار میں تھا، آپ کی صواب دید کے مطابق صرف کیا جاتا تھا، آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے اختیار اور صواب دید پر رہا۔
پھر رسول اللہ ﷺ کا جو حصہ اس مال میں رکھا گیا تھا وہ آپ کی وفات کے بعد ختم ہوگیا ذوی القربیٰ کو اس مال میں سے دینے کی دو وجہ تھیں، ایک نصرت رسول یعنی اسلامی کاموں میں رسول اللہ ﷺ کی مدد کرنا، اس لحاظ سے اغنیاء ذوی القربیٰ کو بھی اس میں حصہ دیا جاتا تھا۔
دوسرے یہ کہ رسول اللہ ﷺ کے ذوی القربیٰ پر مال صدقہ حرام کردیا گیا ہے، تو ان کے فقراء و مساکین کو صدقہ کے بدلہ میں مال فئی سے حصہ دیا جاتا تھا، رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد نصرت و امداد کا سلسلہ ختم ہوگیا، تو یہ وجہ باقی نہ رہی، اس لئے اغنیاء ذوی القربیٰ کا حصہ بھی حصہ رسول کی طرح ختم ہوگیا، البتہ فقراء ذوی القربیٰ کا حصہ بحیثیت فقر و احتیاج کے اس مال میں باقی رہا اور وہ اس مال میں دوسرے فقراء و مساکین کے مقابلہ میں مقدم رکھے جاویں گے (کذا فی الہدایہ) اس کی پوری تفصیل سورة انفال میں آ چکی ہے۔
كَيْ لَا يَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَيْنَ الْاَغْنِيَاۗءِ مِنْكُمْ ، دولة، بضم دال اس مال کو کہا جاتا ہے جس کا آپس میں لین دین کیا جائے (قرطبی) (معنی آیت کے یہ ہیں کہ مال فئی کے مستحقین اس لئے متعین کردیئے) تاکہ ”یہ مال تمہارے مالداروں اور توانگروں میں گردش کرنے والی دولت نہ بن جائے“۔ اس میں اشارہ اس رسم جاہلیت کو مٹانے کی طرف ہے جس میں اس طرح کے تمام اموال پر رئیس خود قابض ومالک ہوجاتا تھا، غریبوں، مسکینوں کے حق کا اس میں کوئی حصہ نہ رہتا تھا۔
اکتناز دولت پر اسلامی قوانین کی ضرب کاری
حق تعالیٰ رب العالمین ہے، اس کی مخلوق ہونے کی حیثیت سے انسانی ضروریات میں تمام انسانوں کا یکساں حق ہے، اس میں مومن و کافر کا بھی فرق نہیں کیا گیا، خاندانی اور طبقاتی امیر و غریب کا کیا امتیاز ہوتا، اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تقسیم دولت کا بہت بڑا حصہ جو انسان کی فطری اور اصل ضروریات پر مشتمل ہے اس کی تقسیم خود اپنے دست قدرت میں رکھ کر اس طرح فرمائی ہے کہ اس سے ہر طبقہ ہر خطہ ہر کمزور و قوی یکساں فائدہ اٹھا سکے، ایسی اشیاء کو اللہ جل شانہ نے اپنی حکمت بالغہ سے عام انسانی دستبرد اور قبضہ و تسلط سے مافوق بنادیا ہے کہ کسی کی مجال نہیں کہ اس پر ذاتی قبضہ جما سکے، ہوا، فضا، آفتاب، ماہتاب اور سیاروں کی روشنی، فضاء میں پیدا ہونے والے بادل ان کی بارش، یہ چیزیں ایسی ہیں کہ ان کے بغیر انسان تھوڑی دیر بھی زندہ نہیں رہ سکتا، ان سب کو قدرت حق سبحانہ و تعالیٰ نے ایسا وقف عام بنادیا کہ کوئی بڑی سے بڑی حکوت و طاقت اس پر قبضہ نہیں جما سکتی، یہ چیزیں اللہ کی مخلوق کو ہر جگہ یکساں ملتی ہیں۔
اشیاء ضرورت کی دوسری قسم زمین سے نکلنے والا پانی اور کھانے کی چیزیں ہیں، یہ اگرچہ اتنی عام نہیں مگر اسلامی قانون میں پہاڑوں اور غیر آباد جنگلوں اور قدرتی چشموں کو وقف عام چھوڑ کر ایک خاص قانون کے تحت خاص خاص انسانوں کو زمین کے بعض حصوں پر جائز حق ملکیت بھی دیا جاتا ہے اور ناجائز قبضہ و تسلط جمانے والے بھی زمین پر قبضہ جما لیتے ہیں، لیکن قدرتی طور پر زمین کے فوائد کوئی بڑا سرمایہ دار بھی بغیر غریبوں، کسانوں، مزدوروں کو ساتھ لئے حاصل نہیں کرسکتا، اس لئے ایک گونہ قبضہ کے باوجود وہ اس میں دوسرے کمزور غریبوں کو حصہ دینے پر مجبور ہے۔
تیسری قسم سونا، چاندی، روپیہ پیسہ ہے، جو اصلی اور فطری ضروریات میں داخل نہیں، مگر حق تعالیٰ نے اس کو تمام ضروریات کی تحصیل کا ذریعہ بنادیا ہے اور یہ معاون سے نکالنے کے بعد خاص قانون کے تحت نکالنے والوں کی ملکیت ہوجاتا ہے اور ان سے ان کی ملکیت مختلف طریقوں پر دوسروں کی طرف منتقل ہوتی رہتی ہے اور اگر اس کی گردش پورے انسانوں میں خاطر خواہ ہوتی رہے تو کوئی انسان بھوکا ننگا نہیں رہ سکتا مگر ہوتا یہ ہے کہ مال سے صرف خود ہی فائدہ اٹھائے، دوسروں تک اس کا فائدہ نہ پہنچے، اس بخل و حرص نے دنیا میں اکتناز دولت اور سرمایہ پرستی کے پرانے اور نئے بہت سے طریقے ایجاد کرائے، جن کے ذریعہ اس دولت کی گردش صرف سرمایہ داروں اور بڑے لوگوں کے ہاتھوں تک محدود ہو کر رہ گئی، عام غریب مساکین محروم کردیئے گئے جس کے رد عمل نے دنیا میں کمیونزم اور سوشلزم جیسے نامعقول طریقے ایجاد کئے۔
اسلامی قانون نے ایک طرف تو شخصی ملکیت کا اتنا احترام کیا کہ ایک شخص کے مال کو اس کی جان کے برابر اور جان کو بیت اللہ کی حرمت کے برابر قرار دیا اس پر کسی کے ناجائز تصرف کو شدت سے روکا، دوسری طرف جو ہاتھ ناجائز طور پر اس کی طرف بڑھا وہ ہاتھ کاٹ دیا گیا، تیسری طرف ایسے تمام دروازے بند کردیئے کہ قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی چیزوں پر کوئی خاص شخص یا جماعت قبضہ کر کے بیٹھ جائے اور عوام کو محروم کر دے۔
کسب و اکتساب کے مروجہ طریقوں میں سود، سٹہ، جوا ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے ذریعہ دولت سمٹ کر چند افراد و اشخاص میں دائر ہو کر رہ جاتی ہے، ان سب کو سخت حرام قرار دے کر تمام معاملات تجارت اور کرایہ داری وغیرہ میں ان کی جڑ کاٹ دی اور جو دولت کسی شخص کے پاس جائز طریقوں سے جمع ہوئی اس میں بھی غریبوں فقیروں کے حقوق، زکوٰة، عشر، صدقتہ الفطر، کفارات وغیرہ مقرر فرائض کی صورت میں اور اس سے زائد رضا کارانہ صورت میں قائم فرما دیئے اور ان سب اخراجات کے بعد بھی جو کچھ انسان کے مرنے کے وقت تک باقی رہ گیا اس کو ایک خاص حکیمانہ اصول کے مطابق تقسیم کردیا کہ اس کا حق دار اسی مرنے والے کے رشتہ داروں کو اقرب فالا قرب کے اصول پر بنادیا اس کو عام فقراء میں تقسیم کرنے کا قانون اس لئے نہ بنایا کہ ایسا ہوتا تو مرنے والا اپنے مرنے سے پہلے ہی اس کو جا بےجا خرچ کر کے فارغ ہونے کی خواہش طبعی طور پر رکھتا، اپنے ہی خویش و عزیز کو ملتا دیکھ کر یہ داعیہ اس کے دل میں پرورش نہ پائے گا۔
یہ طریقہ تو کسب و اکتساب کے عام مروجہ طریقوں میں اکتناز دولت سے بچانے کا اختیار کیا، دوسرا طریقہ دولت حاصل ہونے کا جنگ و جہاد ہے، اس سے حاصل ہونے والے اموال میں وہ تقسیم شرعی جاری فرما دی جس کا ذکر کچھ سورة انفال میں گزرا ہے اور کچھ اس سورت میں بیان ہوا ہے، کیسے بےبصیرت ہیں وہ لوگ جو اسلام کے اس منصفانہ، عادلانہ اور حکیمانہ نظام کو چھوڑ کر نئے نئے ازموں کو اختیار کر کے امن عالم کو برباد کرتے ہیں۔
وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ الایة، یہ آیت اگرچہ مال فئی کی تقسیم کے سلسلے میں آئی ہے اور اس سلسلے کے مناسب اس کا مفہوم یہ ہے کہ مال فئی میں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے مستحقین کے طبقات بیان کردیئے ہیں مگر ان میں کس کو اور کتنا دیں اس کی تعیین رسول اللہ ﷺ کی صواب دید پر رکھی ہے، اس لئے مسلمانوں کو اس آیت میں ہدایت دی گئی کہ جس کو جتنا آپ عطا فرما دیں اس کو راضی ہو کرلے لیں اور جو نہ دیں اس کی فکر میں نہ پڑیں، آگے اس کو اتقوا اللہ کے حکم سے موکد کردیا کہ اگر اس معاملے میں کچھ غلط حیلے بہانے بنا کر زائد وصول کر بھی لیا تو اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے وہ اس کی سزا دے گا۔
حکم رسول مثل حکم قرآن کے واجب التعمیل ہے
لیکن الفاظ آیت عام ہیں، صرف اموال کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ احکام بھی اس میں داخل ہیں، اس لئے عام انداز میں آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو کوئی حکم یا مال یا اور کوئی چیز آپ کسی کو عطا فرما دیں وہ اس کو لے لینا چاہئے اور اس کے مطابق عمل کے لئے تیار ہوجانا چاہئے اور جس چیز سے روک دیں اس سے رکنا چاہئے۔
بہت سے صحابہ کرام نے اسی عام مفہوم کو اختیار کر کے رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو اس آیت کی بنا پر قرآن ہی کا حکم اور واجب التعمیل قرار دیا ہے، قرطبی نے فرمایا کہ اس آیت میں اتی کے بالمقابل نہیٰ کا لفظ آیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آتیٰ کے معنی یہاں امر کے ہیں جو نہیٰ کا صحیح مقابل ہے (اھ) اور قرآن کریم نے نہیٰ کے مقابل میں امر کے لفظ کو چھوڑ کر آتیٰ کا لفظ استعمال شاید اس لئے فرمایا تاکہ جس مضمون کے سیاق میں یہ آیت آئی ہے یعنی مال فئی کی تقسیم اس پر بھی آیت کا مضمون شامل رہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود نے ایک شخص کو احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے پہنے دیکھا تو حکم دیا کہ یہ کپڑے اتار دو ، اس شخص نے کہا کہ آپ اس کے متعلق مجھے قرآن کی کوئی آیت بتاسکتے ہیں ؟ جس میں سلے ہوئے کپڑوں کی ممانعت ہو، حضرت ابن مسعود نے فرمایا ہاں وہ آیت میں بتاتا ہوں، پھر یہی آیت وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ پڑھ کر سنا دی، امام شافعی نے ایک مرتبہ لوگوں سے کہا کہ میں تمہارے ہر سوال کا جواب قرآن سے دے سکتا ہوں، پوچھو جو کچھ پوچھنا ہے، ایک شخص نے عرض کیا کہ ایک محرم نے زنبور (تتنیا) مار ڈالا تو اس کا کیا حکم ہے ؟ امام شافعی نے یہی آیت وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ تلاوت کر کے حدیث سے اس کا حکم بیان فرما دیا (قرطبی)
Ayah 59:8لِلْفُقَرَاۗءِ الْمُهٰجِرِيْنَ. ان چند آیات میں آخر رکوع تک فقراء مہاجرین و انصار اور ان کے بعد آنے والی عام امت کے افراد کا بیان ہے، ترکیب نحوی کے اعتبار سے للفقراء کو لذی القربیٰ کا بدل قرار دیا گیا جو اس سے پہلی آیت میں مذکور ہے (مظہری) اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ پچھلی آیت میں جو عام یتیموں، مساکین اور مسافرین کو ان کے فقر و احتیاج کی بنا پر مال فئی کے مستحقین میں شمار کیا گیا ہے ان آیات میں اس کی مزید تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ اگرچہ حقدار اس مال میں تمام ہی فقراء و مساکین ہیں لیکن پھر ان میں یہ حضرات اور سب لوگوں سے مقدم ہیں جن کی دینی خدمات اور ذاتی اوصاف و کمالات دینیہ معروف ہیں۔
اموال صدقات میں صلحاء اور دینی خدمات انجام دینے والے حاجت مندوں کو مقدم کیا جائے
اس سے معلوم ہوا کہ اموال صدقات خصوصاً مال فئی اگرچہ عام فقراء مسلمین کی حاجت رفع کرنے کے لئے ہیں لیکن ان میں بھی نیک، صالح، دیندار خصوصاً دینی خدمات انجام دینے والے طلباء، علماء اوروں سے مقدم رکھے جاویں، اسی لئے اسلامی حکومتوں میں تعلیم و تبلیغ اور اصلاح خلق میں مشغول علماء اور مفتیوں، قاضیوں کو ان کے گزارہ کے اخراجات مال فئی ہی سے دینے کا رواج تھا، کیونکہ ان آیات میں صحابہ کرام میں بھی اول دو درجے قائم کئے گئے، ایک مہاجرین جنہوں نے سب سے پہلے اسلام اور رسول اللہ ﷺ کے لئے بڑی قربانیاں پیش کیں اور اسلام کے لئے بڑے مصائب جھیلے، بالآخر مال و جائیداد، وطن اور تمام خویش و اقرباء کو خیر باد کہہ کر مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کی، دوسرے انصار مدینہ ہیں، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ آنے والے مہاجرین حضرات کو بلا کر دنیا کو اپنا مخالف بنایا اور ان حضرات کی ایسی میزبانی کی کہ جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی، ان دونوں طبقوں کے بعد تیسرا درجہ ان مسلمانوں کا قرار دیا جو حضرات صحابہ کے بعد مشرف باسلام ہوئے اور ان کے نقش قدم پر چلے جس میں قیامت تک آنے والے مسلمان سب شریک ہیں، آگے ان تینوں طبقات کے کچھ فضائل و کمالات اور دینی خدمات کا بیان ہے۔
فضائل مہاجرین
(آیت) الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَاَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ۭ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ
اس میں مہاجرین کا پہلا وصف یہ بیان فرمایا کہ ان کو ان کے وطن اور مال و جائیداد سے نکال دیا گیا، یعنی کفار مکہ نے صرف اس جرم میں کہ یہ لوگ مسلمان اور رسول اللہ ﷺ کے حامی و مددگار ہوگئے تھے ان پر طرح طرح کے مظالم کئے یہاں تک کہ وہ اپنا وطن اور مال و جائیداد چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے، بعض لوگ بھوک سے مجبور ہو کر پیٹ کو پتھر باندھ لیتے تھے اور بعض لوگ سردی کا سامان نہ ہونے کے سبب زمین میں گڑھا کھود کر اس میں سردی سے بچتے تھے (مظہری، قرطبی)
ایک اہم مسئلہ، مسلمانوں کے اموال پر کفار کے قبضہ کا حکم
اس آیت میں حضرات مہاجرین کو فقراء فرمایا ہے اور فقیر وہ شخص ہوتا ہے جس کی ملک میں کچھ نہ ہو یا کم از کم بقدر نصاب کوئی چیز نہ ہو، حالانکہ حضرات مہاجرین میں سے اکثر مکہ مکرمہ میں اصحاب اموال و جائیداد تھے، اگر ہجرت کے بعد بھی وہ اموال ان کی ملکیت ہوتے تو ان کو فقراء کہنا درست نہ ہوتا، قرآن کریم نے ان کو فقراء فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ ہجرت کے بعد ان کی جائیداد اور مال جو مکہ میں چھوڑ آئے اور کفار نے ان پر قبضہ کرلیا وہ ان کی ملک سے نکل گئے۔
اسی لئے امام اعظم ابوحنیفہ و امام مالک نے فرمایا کہ اگر مسلمان کسی جگہ ہجرت کر کے چلے آویں اور ان کے مال و جائیداد پر کفار قابض ہوجائیں، یا خدانخواستہ کسی دارالاسلام پر وہ غالب آ کر مسلمانوں کے اموال و جائیداد چھین لیں تو یہ اموال و جائیداد کفار کے مکمل قبضہ مالکانہ کے بعد انہی کی ملک ہوجاتے ہیں، ان کے تصرفات بیع و شراء ان اموال مسلمین میں نافذ ہوتے ہیں، روایات حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، تفسیر مظہری میں اس جگہ وہ سب روایات نقل کی ہیں۔
دوسری صفت مہاجرین کی اس آیت میں یہ ذکر فرمائی ہے يَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانًا، یعنی ان کے اسلام میں داخل ہونے اور پھر ہجرت کر کے مال و وطن کو چھوڑنے کی کوئی دنیاوی غرض نہ تھی، بلکہ صرف اللہ کا فضل و رضا مطلوب تھی، جس سے ان کا کمال اخلاص معلوم ہوا، لفظ فضل عموماً دنیوی نعمت کے لئے اور رضوان آخرت کی نعمت کے لئے بولا جاتا ہے، اس لئے مفہوم یہ ہوا کہ ان حضرات نے اپنے تمام سابقہ اسباب عیش، مکان، جائیداد وغیرہ کو تو چھوڑ دیا، اب دنیاوی ضروریات بھی اور آخرت کی نعمتیں بھی صرف اسلام کے سایہ میں مطلوب تھیں اور دنیا کی ضروریات زندگی بھی اللہ و رسول کی رضا کے تحت حاصل کرنا مقصود تھا۔
تیسرا وصف حضرات مہاجرین کا یہ بیان فرمایا وَّيَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ ، یعنی یہ سب کام انہوں نے اس لئے اختیار کئے کہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد کریں، اللہ کی مدد سے مراد اس کے دین کی مدد ہے، جس میں انہوں نے حیرت انگیز قربانیاں پیش کیں۔
چوتھا وصف ان کا (آیت) اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ ، یعنی یہی لوگ قول و عمل کے سچے ہیں، کلمہ اسلام پڑھ کر جو عہد اللہ و رسول ﷺ سے باندھا تھا اس میں بالکل پورے اترے، اس آیت نے تمام صحابہ مہاجرین کے صادق ہونے کا عام اعلان کردیا، جو شخص ان میں سے کسی کو جھوٹا قرار دے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ اس آیت کا منکر ہے، معاذ اللہ، روافض جو ان حضرات کو منافق کہتے ہیں یہ اس آیت کی کھلی تکذیب ہے، ان حضرات مہاجرین کا اللہ کے رسول ﷺ کے نزدیک یہ مقام تھا کہ اپنی دعاؤں میں اللہ تعالیٰ سے ان فقراء مہاجرین کا وسیلہ دے کر دعا فرماتے تھے، کمار واہ (البغوی، مظہری)