Ayah 59:9فضائل انصار
(آیت) وَالَّذِيْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَالْاِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ الایتہ، تبوء کے معنی ٹھکانے بنانے کے ہیں اور دار سے مراد دار ہجرت یا دار ایمان یعنی مدینہ طیبہ ہے اسی لئے حضرت امام مالک ایک حیثیت سے مدینہ طیبہ کو باقی دنیا کے سب شہروں سے افضل قرار دیتے تھے، فرماتے تھے کہ دنیا کے تمام شہر اور ملک جہاں جہاں اسلام پہنچا اور پھیلا ہے سب جہاد کے ذریعہ فتح ہوئے ہیں یہاں تک کہ مکہ مکرمہ بھی، بجز مدینہ طیبہ کے یہ صرف ایمان سے فتح ہوا ہے (قرطبی)
اس آیت میں تبو کے تحت میں دار کے ساتھ ایمان کا بھی ذکر فرمایا ہے، حالانکہ ٹھکانا پکڑنے کا تعلق کسی مقام اور جگہ سے ہوتا ہے، ایمان کوئی ایسی چیز نہیں جس میں ٹھکانا پکڑا جائے، اس لئے بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں ایک لفظ محذوف ہے یعنی اخلصوا یا تمکنوا، مطلب یہ ہوگا کہ یہی وہ حضرات ہیں جنہوں نے دارالہجرت میں ٹھکانا بنایا اور ایمان میں مخلص اور مضبوط ہوئے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں استعارہ کے طور پر ایمان کو ایک محفوظ مکان سے تشبیہ دے کر اس میں پناہ گزین ہوجانے کو بیان فرمایا ہو اور لفظ من قبلہم یعنی مہاجرین سے پہلے کا مطلب یہ ہے کہ ان انصار مدینہ کی ایک فضیلت یہ ہے کہ جو شہر اللہ کے نزدیک دارالہجرت اور دارالایمان بننے والا تھا، اس میں ان لوگوں کا قیام وقرار مہاجرین سے پہلے ہوچکا تھا اور مہاجرین کے یہاں منتقل ہونے سے پہلے ہی یہ حضرات ایمان قبول کر کے اس میں پختہ ہوچکے تھے۔
دوسری صفتحضرات انصار کی اس آیت میں یہ بیان کی گئی ہے يُحِبُّوْنَ مَنْ هَاجَرَ اِلَيْهِمْ ، یعنی یہ حضران ان لوگوں سے محبت رکھتے ہیں جو ہجرت کر کے ان کے شہر میں چلے آئے ہیں جو عام دنیا کے انسانوں کے مزاج کے خلاف ہے، ایسے اجڑے ہوئے خستہ حال لوگوں کو اپنی بستی میں جگہ دینا کون پسند کرتا ہے، ہر جگہ ملکی اور غیر ملکی کے سوالات کھڑے ہوتے ہیں، مگر ان حضرات انصار نے صرف یہی نہیں کیا ان کو اپنی بستی میں جگہ دی، بلکہ اپنے مکانوں میں آباد کیا اور اپنے اموال میں حصہ دار بنایا اور اس طرح عزت و احترام کے ساتھ ان کا استقبال کیا کہ ایک ایک مہاجر کو اپنے پاس جگہ دینے کے لئے کئی کئی انصاری حضرات نے درخواست کی یہاں تک کہ قرعہ اندازی کرنا پڑی، قرعہ کے ذریعہ جو مہاجر جس انصاری کے حصہ میں آیا اس کو سپرد کیا گیا (مظہری)
تیسرا وصفحضرات انصار کا بیہ بیان فرمایا (آیت) وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا، اس جملے کا تعلق اس خاص واقعہ سے ہے جو بنو نضیر کے جلا وطن ہونے اور ان کے باغات و مکانات پر مسلمانوں کا قبضہ ہونے کے وقت پیش آیا۔
اموال بنو نضیر کی تقسیم کا واقعہ
صورت یہ تھی کہ جب اس آیت میں اموال فئی کی تقسیم مہاجرین و انصار وغیرہ میں کرنے کا اختیار نبی کریم ﷺ کو دے دیا گیا، یہ وہ وقت تھا کہ مہاجرین کے پاس نہ اپنا کوئی مکان تھا نہ جائیداد، وہ حضرات انصار کے مکانوں میں رہتے اور انہی کی جائیدادوں میں محنت مزدوری کر کے گزارہ کرتے تھے جب بنو نضیر اور بنو قینقاع کے اموال بطور فئی کے مسلمانوں کو حاصل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے انصار مدینہ کے سردار ثابت بن قیس بن شماس کو بلا کر فرمایا کہ اپنی قوم انصار کو میرے پاس بلا دو ، انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ انصار کے اپنے قبیلہ خزرج کو یا سب انصار کو ؟ آپ نے فرمایا سب ہی کو بلانا ہے، یہ حضرات سب جمع ہوگئے، تو رسول اللہ ﷺ نے ایک خطبہ دیا، جس میں حمد و صلوٰة کے بعد انصار مدینہ کی اس بات پر مدح وثناء فرمائی کہ انہوں نے جو سلوک اپنے مہاجر بھائیوں کے ساتھ کیا وہ بڑے عزم و ہمت کا کام تھا، اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بنو نضیر کے اموال آپ لوگوں کو دے دیے ہیں، اگر آپ چاہیں تو میں ان اموال کو مہاجرین و انصار سب میں تقسیم کر دوں اور مہاجرین بدستور سابق آپ کے مکانوں میں رہائش پذیر رہیں اور آپ چاہیں تو ایسا کیا جائے کہ یہ بےگھر دبے زر لوگ ہیں، یہ اموال صرف ان میں تقسیم کردیئے جائیں اور یہ لوگ آپ کے گھروں کو چھوڑ کر الگ اپنے اپنے گھر بسا لیں۔
یہ سن کر انصار مدینہ کے دو بڑے سردار حضرت سعید بن عبادہ اور سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہماری رائے یہ ہے کہ یہ سب اموال بھی صرف مہاجر بھائیوں میں تقسیم فرما دیئے اور وہ پھر بھی ہمارے مکانوں میں بدستور مقیم رہیں، ان کی بات سن کر تمام حاضرین انصار بول اٹھے کہ ہم اس فیصلے پر راضی اور خوش ہیں، اس وقت آنحضرت ﷺ نے تمام انصار اور ابناء انصار کو دعا دی اور ان اموال کو صرف مہاجرین میں تقسیم فرما دیا، انصار میں سے صرف دو حضرات کو جو بہت حاجت مند تھے اس میں سے حصہ عطا فرمایا، یعنی سہل بن حنیف اور ابو دجانہ اور سعد بن معاذ کو ایک تلوار عطا فرمائی جو ابن ابی الحقیق کی ایک ممتاز تلوار تھی (مظہری بحوالہ سیل الرشاد محمد بن یوسف الصالحی)
آیت مذکورہ میں جو یہ ارشاد فرمایا وَلَا يَجِدُوْنَ فِيْ صُدُوْرِهِمْ حَاجَةً مِّمَّآ اُوْتُوْا، اس میں حاجت سے مراد ہر ضرورت کی چیز ہے اور مّمَّآ اُوْتُوْا کی ضمیر مہاجرین کی طرف راجع ہے، معنی آیت کے یہ ہیں کہ اس تقسیم میں جو کچھ مہاجرین کو دے دیا گیا، انصار مدینہ نے خوشی سے اس کو اس طرح قبول کیا کہ گویا ان کو ان چیزوں کی کوئی حاجت ہی نہیں، ان کو دینے سے برا ماننا یا شکایت کرنا اس کا تو دور دور کوئی امکان ہی نہ تھا، اس کے بالمقابل جب بحرین فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے چاہا کہ یہ پورا مال صرف انصار میں تقسیم کردیا جائے مگر انصار نے اس کو قبول نہ کیا، بلکہ عرض کیا ہم اس وقت تک نہ لیں گے جب تک ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی اس میں سے حصہ نہ دیا جائے (رواہ البخاری انس بن مالک، از ابن کثیر)
چوتھا وصفانصار مدینہ کا اس آیت میں یہ ذکر فرمایا ہے
وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ، خصاصہ کے معنی فقر و فاقہ کے ہیں اور ایثار کے معنی دوسروں کی خواہش اور حاجت کو اپنی خواہش و حاجت پر مقدم رکھنے کے ہیں، معنی آیت کے یہ ہیں کہ حضرت انصار اپنے اوپر دوسروں کو یعنی مہاجرین کو ترجیح دیتے تھے کہ اپنی حاجت و ضرورت کو پورا کرنے سے پہلے ان کی حاجت کو پورا کرتے تھے، اگرچہ یہ خود حاجت مند اور فقر و فاقہ میں ہوں۔
حضرت صحابہ خصوصاً انصار کے ایثار کے چند واقعات
اگرچہ تفسیر آیات کے لئے بیان واقعات کی ضرورت نہیں مگر یہ واقعات ہر انسان کو اعلیٰ انسانیت کا سبق دینے والے اور زندگی میں انقلاب لانے والے ہیں، اس لئے حضرات مفسرین نے اس موقع پر ان کو تفصیل سے لکھا ہے، خصوصاً قرطبی نے، اسی سے چند واقعات نقل کئے جاتے ہیں
ترمذی میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کے گھر رات کو کوئی مہمان آ گیا، ان کے پاس صرف اتنا کھانا تھا کہ یہ خود اور ان کے بچے کھا سکیں، انہوں نے اپنی بیوی سے فرمایا کہ بچوں کو تو کسی طرح سلاد دو اور گھر کا چراغ گل کردو، پھر مہمان کے سامنے کھانا رکھ کر برابر بیٹھ جاؤ کہ مہمان سمجھے کہ ہم بھی کھا رہے ہیں، مگر ہم نہ کھائیں، تاکہ مہمان بافراعت کھانا کھا سکے، اس پر یہ آیت مذکورہ وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ نازل ہوئی (قال الترمذی ھٰذا حسن صحیح)
اور ترمذی ہی میں حضرت ابوہریرہ سے ایک دوسرا واقعہ یہ منقول ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں بھوک سے پریشان ہوں، آپ نے ازواج مظہرات میں سے ایک کے پاس اطلاع بھیجی تو ان کا جواب آیا کہ ہمارے پاس تو اس وقت بجز پانی کے کچھ نہیں، دوسری کے پاس پیغام بھیجا وہاں سے بھی یہی جواب آیا، پھر تیسری چوتھی یہاں تک کہ تمام امہات المومنین کے پاس بھیجا اور سب کا ایک ہی جواب آیا کہ پانی کے سوا ہمارے پاس کچھ نہیں، اب آپ نے حاضرین مجلس سے خطاب فرمایا کہ کون ہے جو آج رات اس شخص کی مہمانی کرے ایک انصاری نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں کروں گا وہ ان کو ساتھ لے گئے اور جا کر گھر میں پوچھا کہ کھانے کے لئے کچھ ہے تو بیوی نے بتلایا کہ صرف اتنا ہے کہ ہمارے بچے کھا لیں انصاری بزرگ نے بچوں کو سلا دینے کے لئے فرمایا اور فرمایا کہ مہمان کے سامنے کھانا رکھنے اور خود ساتھ بیٹھ جانے کے بعد اٹھ کر چراغ گل کردینا کہ ہمارے نہ کھانے کا مہمان کو احساس نہ ہو، مہمان نے کھانا کھالیا، جب یہ صبح کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے اس معاملہ کو جو تم نے گزشتہ رات اپنے مہمان کے ساتھ کیا بہت پسند فرمایا۔
اور مہدوی نے ایک ایسا ہی واقعہ ایک انصاری بزرگ کا حضرت ثابت بن قیس کے ساتھ رات کو چراغ گل کر کے کھانا کھلانے کا ذکر کیا ہے اور تمام واقعات کے ساتھ روایت میں یہ بھی ہے کہ آیت مذکورہ اس واقعہ میں نازل ہوئی ہے۔
اور قشیری نے حضرت عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام میں سے ایک بزرگ کو کسی شخص نے ایک بکری کا سر بطور ہدیہ پیش کیا، اس بزرگ نے خیال کیا کہ ہمارا فلاں بھلائی اور اس کے اہل و عیال ہم سے زیادہ ضرورت مند ہیں، یہ سر ان کے پاس بھیج دیا، اس دوسرے بزرگ کے پاس پہنچا تو اسی طرح انہوں نے تیسرے کے پاس اور تیسرے نے چوتھے کے پاس بھیج دیا، یہاں تک کہ سات گھروں میں پھرنے کے بعد پھر پہلے بزرگ کے پاس واپس آ گیا، اس واقعہ پر آیات مذکورہ نازل ہوئیں، یہی واقعہ ثعلبی نے حضرت انس سے بھی روایت کیا ہے۔
مؤطاء امام مالک میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک مسکین نے اس سے سوال کیا، ان کے گھر میں صرف ایک روٹی تھی اور ان کا اس روز روزہ تھا، آپ نے اپنی خادمہ سے فرمایا کہ یہ روٹی اس کو دے دو خادمہ نے کہا کہ اگر یہ دے دی گئی تو شام کو آپ کے افطار کرنے کے لئے کوئی چیز نہ رہے گی، حضرت صدیقہ نے فرمایا کہ پھر بھی دے دو ، یہ خادمہ کہتی ہیں کہ جب شام ہوئی تو ایک ایسے شخص نے جس کی طرف سے ہدیہ دینے کی کوئی رسم نہ تھی ایک سالم بکری بھنی ہوئی اور اس کے اوپر آٹے میدے کا خول چڑھا ہوا پختہ، جو عرب میں سب سے بہترین کھانا سمجھا جاتا ہے، ان کے پاس بطور ہدیہ بھیج دیا، حضرت صدیقہ نے خادمہ کو بلایا کہ آؤ یہ کھاؤ یہ تمہاری اس روٹی سے بہتر ہے۔
اور نسائی نے حضرت عبداللہ بن عمر کا واقعہ نقل کیا ہے کہ وہ بیمار تھے اور انگور کو جی چاہا ان کے لئے ایک درہم میں ایک خوشہ انگور کا خرید کر لایا گیا، اتفاق سے ایک مسکین آ گیا اور سوال کیا، آپ نے فرمایا کہ یہ خوشہ اس کو دے دو ، حاضرین میں سے ایک شخص خفیہ طور پر اس کے پیچھے گیا اور خوشہ اس مسکین سے خرید کر پھر ابن عمر کو پیش کردیا، مگر یہ سائل پھر آیا اور سوال کیا تو حضرت ابن عمر نے پھر اس کو دیدیا، پھر کوئی صاحب خفیہ طور پر گئے اور اس مسکین کو ایک درہم دے کر خوشہ خرید لائے اور حضرت ابن عمر کی خدمت میں پیش کردیا، وہ سائل پھر آنا چاہتا تھا لوگوں نے منع کردیا اور حضرت ابن عمر کو یہ اطلاع ہوتی کہ یہ وہی خوشہ ہے جو انہوں نے صدقہ میں دے دیا تھا، تو ہرگز نہ کھاتے، مگر ان کو یہ خیال ہوا کہ لانے والا بازار سے لایا ہے اس لئے استعمال فرما لیا۔
اور ابن مبارک نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم نے چار سو دینار ایک تھیلی میں بھر کر تھیلی غلام کے سپرد کی کہ ابوعبیدہ بن جراح کے پاس لے جاؤ کہ ہدیہ ہے قبول کر کے اپنی ضرورت میں صرف کریں اور غلام کو ہدایت کردی کہ ہدیہ دینے کے بعد کچھ دیر گھر میں ٹھہر جانا اور یہ دیکھنا کہ ابوعبیدہ اس رقم کو کیا کرتے ہیں، غلام نے حسب ہدایت یہ تھیلی حضرت ابوعبیدہ کی خدمت میں پیش کردی اور ذرا اٹھہر گیا، ابوعبیدہ نے تھیلی لے کر کہا کہ اللہ تعالیٰ ان کو یعنی عمر بن خطاب کو اس کا صلہ دے اور ان پر رحمت فرمائے اور اسی وقت اپنی کنیز کو کہا کہ لو یہ سات فلاں شخص کو پانچ فلاں کو دے آؤ، یہاں تک کہ پورے چار سو دینار اسی وقت تقسیم کردیئے۔
غلام نے واپس آ کر واقعہ بیان کردیا، حضرت عمر بن خطاب نے اسی طرح چار سو دینار کی ایک دوسری تھیلی تیار کی ہوئی غلام کو دے کر ہدایت کی کہ معاذبن جبل کو دے آؤ اور وہاں بھی دیکھو وہ کیا کرتے ہیں، یہ غلام لے گیا، انہوں نے تھیلی لے کر حضرت عمر کے حق میں دعا دی ؒ و وصلہ یعنی ”اللہ ان پر رحمت فرمائے اور ان کو صلہ دے“ اور یہ بھی تھیلی لے کر فوراً تقسیم کرنے کے لئے بیٹھ گئے اور اس کے بہت سے حصے کر کے مختلف گھروں میں بھیجتے رہے، حضرت معاذ کی بیوی یہ سب ماجرا دیکھ رہی تھیں، آخر میں بولیں کہ ہم بھی تو بخدا مسکین ہی ہیں، ہمیں بھی کچھ ملنا چاہئے، اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار رہ گئے تھے وہ ان کو دے دیے، غلام یہ دیکھنے کے بعد لوٹا اور حضرت عمر سے بیان کیا، تو آپ نے فرمایا کہ یہ سب بھائی بھائی ہیں سب کا مزاج ایک ہی ہے۔
اور حذیفہ عدوی فرماتے ہیں کہ میں جنگ یرموک میں اپنے چچا زاد بھائی کی تلاش شہداء کی لاشوں میں کرنے کے لئے نکلا اور کچھ پانی ساتھ لیا کہ اگر ان میں کچھ جان ہوئی تو پانی پلا دوں گا، ان کے پاس پہنچا تو کچھ رمق زندگی کی باقی تھی، میں نے کہا کہ کیا آپ کو پانی پلا دوں، اشارہ سے کہا ہاں، مگر فوراً ہی قریب سے ایک دوسرے شہید کی آواز آہ آہ کی آئی تو میرے بھائی نے کہا کہ یہ پانی ان کو دے دو ، ان کے پاس پہنچا اور پانی دینا چاہا تو تیسرے آدمی کی آواز ان کے کان میں آئی، اس نے بھی اس تیسرے کو دینے کے لئے کہہ دیا، اسی طرح یکے بعد دیگرے سات شہیدوں کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا، جب ساتویں شہید کے پاس پہنچا تو وہ دم توڑ چکے تھے، یہاں سے اپنے بھائی کے پاس پہنچا تو وہ بھی ختم ہوچکے تھے۔
یہ چند واقعات ہیں جن میں کچھ انصار کے کچھ مہاجرین کے ہیں، اکثر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آیت ایثار اس واقعہ میں نازل ہوئی، مگر ان میں کوئی تضاد و اختلاف نہیں، کیونکہ جس طرح کے واقعہ میں ایک آیت نازل ہوچکی ہے اگر اسی طرح کا کوئی دوسرا واقعہ پیش آجائے تو یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ اس میں یہ آیت نازل ہوئی اور حقیقت یہ ہے کہ سبھی واقعات نزول آیت کا سبب یا مصداق ہیں۔
ایک شبہ کا جواب
حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے واقعات ایثار جو اوپر بیان ہوئے ہیں ان پر ایک شبہ روایات حدیث سے یہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنا پورا مال صدقہ کر ڈالنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک بیضہ کے برابر سونے کا ٹکڑا بغرض صدقہ پیش کیا، تو آپ نے اس کو اسی کی طرف پھینک کر ارشاد فرمایا کہ تم میں سے بعض لوگ اپنا سارا مال صدقہ کرنے کو لے آتے ہیں پھر محتاج ہو کر لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں۔
جواب اس شبہ کا انہی روایات سے یہ نکلتا ہے کہ لوگوں کے حالات مختلف ہوتے ہیں، ہر حال کا حکم الگ ہے، پورا مال صدقہ کر ڈالنے کی ممانعت ان لوگوں کے لئے ہے جو بعد میں فقر و فاقہ پر صبر نہ کرسکیں، اپنے صدقہ کئے ہوئے پر پچھتائیں یا پھر لوگوں سے بھیک مانگنے پر مجبور ہوجائیں اور وہ لوگ جن کے عزم و ہمت اور ثبات و استقلال کا یہ حال ہو کہ سب کچھ خرچ کر ڈالنے کے بعد فقر و فاقہ پر انہیں کوئی پریشانی نہ ہو، بلکہ ہمت کے ساتھ اس پر صبر کرسکتے ہوں ان کے لئے سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالنا جائز ہے، جیسا کہ حضرت صدیق اکبر نے ایک جہاد میں چندہ میں اپنا سارا مال پیش کردیا تھا، اسی کے نظائر یہ واقعات ہیں جو اس جگہ مذکور ہیں، ایسے حضرات نے اپنے اہل و عیال کو بھی اسی صبر و استقلال کا خوگر بنا رکھا تھا، اس لئے اس میں ان کی بھی کوئی حق تلفی نہ تھی، اگر مال خود اہل و عیال کے قبضہ میں ہوتا تو وہ بھی ایسا ہی کرتے (قرطبی باضافہ اشیاء)
حضرات مہاجرین کی طرف سے ایثار انصار کی مکافات
دنیا میں کوئی اجتماعی کام یک طرفہ روا داری و ایثار سے قائم نہیں رہتا جب تک دونوں طرف سے اسی طرح کا معاملہ نہ ہو، اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے جیسا اس کی ترغیب دی کہ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کو ہدیہ دے کر باہمی محبت بڑھایا کریں، اسی طرح جن کو ہدیہ دیا گیا ہے ان کو یہ بھی تعلیم دی کہ تم بھی ہدیہ دینے والے کے احسان کی مکافات کرو، اگر مالی وسعت اللہ تعالیٰ عطا فرما دے تو مال سے ورنہ دعا ہی سے اس کی مکافات کرو، بےحسی کے ساتھ کسی کے احسانات کا بار سر پر لیتے رہنا شرافت اور خلق کے خلاف ہے۔
حضرات مہاجرین کے معاملہ میں حضرات انصار نے بڑے ایثار سے کام لیا، اپنے مکانوں، دکانوں، کاروبار، زمین اور زراعت میں ان کو شریک کرلیا، لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان مہاجرین کو وسعت عطا فرمائی تو انہوں نے بھی حضرات انصار کے احسانات کی مکافات میں کمی نہیں کی۔
قرطبی نے بحوالہ صحیحین حضرت انس بن مالک سے روایت کیا ہے کہ جب مہاجرین مکہ مکرمہ سے مدینہ طبیہ آئے تو ان کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا اور انصار مدینہ زمین و جائیداد والے تھے، انصار نے ان حضرات کو ہر چیز نصفا نصف تقسیم کردی، اپنے باغات کے آدھے پھل سالانہ ان کو دینے لگے اور حضرت انس کی والدہ ام سلیم نے اپنے چند درخت کھجور کے رسول اللہ ﷺ کو دے دیے تھے، جو آنحضرت ﷺ نے اسامہ بن زید کی والدہ ام ایمن کو عطا فرما دیئے۔
امام زہری کہتے ہیں کہ مجھے حضرت انس بن مالک نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ جب خیبر کے جہاد سے کامیابی کے ساتھ فارغ ہو کر مدینہ طیبہ واپس آئے (اس غزوہ میں مسلمانوں کو اموال غنیمت کافی مقدار میں ہاتھ آئے) تو سب مہاجرین نے حضرات انصار کے سب عطایا کا حساب کر کے ان کو واپس کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے میری والدہ کے درخت ام ایمن سے لے کر ان کو واپس کردیئے اور اس کی جگہ ام ایمن کو اپنے باغ میں سے درخت عطا فرمائے۔
(آیت) وَمَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ حضرات انصار کے ایثار اور اللہ کی راہ میں سب کچھ قربان کردینے کا ذکر کرنے کے بعد عام ضابطہ ارشاد فرمایا کہ جو لوگ اپنے نفس کے بخل سے بچ گئے تو اللہ کے نزدیک وہ ہی فلاح و کامیابی پانے والے ہیں، لفظ شیخ اور بخل تقریباً ہم معنی ہیں، لفظ شح میں کچھ مبالغہ ہے کہ بہت شدید بخل کو کہا جاتا ہے، بخل و شح اگر حقوق واجبہ میں کیا جائے خواہ وہ اللہ کے حقوق ہوں، جیسے زکوٰة، صدقتہ الفطر، عشر، قربانی وغیرہ کہ ان کی ادائیگی میں بوجہ بخل کے کوتاہی کرے، یا انسانوں کے حقوق واجبہ ہوں جیسے اہل و عیال کا نفقہ یا اپنے حاجت مند والدین اور عزیزوں کا نفقہ واجبہ جو بخل ان حقوق واجبہ کی ادائیگی سے مانع ہو وہ قطعاً حرام ہے اور جو امور مستجہ اور فضائل انفاق سے مانع ہو وہ مکروہ و مذموم ہے اور جو محض رسمی چیزوں میں خرچ سے مانع ہو وہ شرعاً بخل نہیں۔
بخ و شح اور دوسروں پر حسد ایسی مذموم خصلتیں ہیں کہ قرآن و حدیث میں ان کی بڑی مذمت آتی ہے اور جو ان سے بچ جائے اس کے لئے بڑی بشارت ہے، حضرات انصار کی جو صفات بیان ہوئی ہیں ان میں ان کا بخل و حسد سے بری ہونا واضح ہے۔
کینہ اور حسد سے پاک ہونا جنتی ہونے کی علامت ہے
ابن کثیر نے بحوالہ امام احمد حضرت انس سے روایت کیا ہے۔
”ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا کہ ابھی تمہارے سامنے ایک شخص آنے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے، چناچہ ایک صاحب انصار میں سے آئے جن کی ڈاڑھی سے تازہ وضو کے قطرات ٹپک رہے تھے اور بائیں ہاتھ میں اپنے نعلین لئے ہوئے تھے، دوسرے دن بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا اور یہی شخص اسی حالت کے ساتھ سامنے آیا، تیسرے روز پھر یہی واقعہ پیش آیا اور یہی شخص اپنی مذکورہ حالت میں داخل ہوا، جب رسول اللہ ﷺ مجلس سے اٹھ گئے تو حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص اس شخص کے پیچھے لگے (تاکہ اس کے اہل جنت ہونے کا راز معلوم کریں) اور ان سے کہا کہ میں نے کسی جھگڑے میں قسم کھالی ہے کہ میں تین روز تک اپنے گھر نہ جاؤں گا، اگر آپ مناسب سمجھیں تو تین روز مجھے اپنے یہاں رہنے کی جگہ دیدیں، انہوں نے منظور فرما لیا، عبداللہ بن عمرو نے یہ تین راتیں ان کے ساتھ گزاریں، تو دیکھا کہ رات کو تہجد کے لئے نہیں اٹھتے البتہ جب سونے کے لئے بستر پر جاتے تو کچھ اللہ کا ذکر کرتے تھے پھر صبح کی نماز کے لئے اٹھ جاتے تھے، البتہ اس پورے عرصہ میں میں نے ان کی زبان سے بجز کلمہ خیر کے کوئی کلمہ نہیں سنا جب تین راتیں گزر گئیں اور قریب تھا کہ میرے دل میں ان کے عمل کی حقارت آجائے تو میں نے ان پر اپنا راز کھول دیا کہ ہمارے گھر کوئی جھگڑا نہیں تھا لیکن میں رسول اللہ ﷺ سے تین روز تک یہ سنتا رہا کہ تمہارے پاس ایک ایسا شخص آنے والا ہے جو اہل جنت میں سے ہے اور اس کے بعد تینوں دن آپ ہی آئے، اس لئے میں نے چاہا کہ میں آپ کے ساتھ رہ کر دیکھوں کہ آپ کا وہ کیا عمل ہے جس کے سبب یہ فضیلت آپ کو حاصل ہوئی، مگر عجیب بات ہے کہ میں نے آپ کو کوئی بڑا عمل کرتے نہیں دیکھا، تو وہ کیا چیز ہے جس نے آپ کو اس درجہ پر پہنچایا، انہوں نے کہا میرے پاس تو بجز اس کے کوئی عمل نہیں جو آپ نے دیکھا ہے، میں یہ سن کر واپس آنے لگا تو مجھے بلا کر کہا کہ ہاں ایک بات ہے کہ ”میں اپنے دل میں کسی مسلمان کی طرف سے کینہ اور برائی نہیں پاتا اور کسی پر حسد نہیں کرتا جس کو اللہ نے کوئی خیر کی چیز عطا فرمائی ہو عبداللہ بن عمرو نے کہا کہ بس یہی وہ صفت ہے جس نے آپ کو یہ بلند مقام عطا کیا ہے“۔
ابن کثیر نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ اس کو نسائی نے بھی عمل الیوم واللیلہ میں نقل کیا ہے اور اس کی اسناد صحیح علیٰ شرط الشیخین ہے۔
Ayah 59:10مہاجرین و انصار کے بعد عام امت کے مسلمان
(آیت) وَالَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ الایة، اس آیت کے مفہوم میں صحابہ کرام مہاجرین و انصار کے بعد پیدا ہونے والے قیامت تک کے مسلمان شامل ہیں اور اس آیت نے ان سب کو مال فئی میں حقدار قرار دیا ہے، یہی سبب تھا کہ حضرت فاروق اعظم نے دنیا کے بڑے ممالک عراق، شام، مصر وغیرہ فتح کئے، تو ان کی زمینوں کو غانمین میں تقسیم نہیں فرمایا بلکہ ان کو اگلی آنے والی نسلوں کے لئے وقف عام رکھا کہ ان کی آمدنی اسلامی بیت المال میں آتی رہے اور اس سے قیامت تک آنے والے مسلمان فائدہ اٹھا سکیں، بعض صحابہ کرام نے جو ان سے مفتوحہ زمینوں کی تقسیم کا سوال کیا تو انہوں نے اسی آیت کا حوال دے کر فرمایا کہ اگر میرے سامنے آئندہ آنے والی نسلوں کا معاملہ نہ ہوتا تو میں جو ملک فتح کرتا اس کی سب زمینوں کو بھی غانمین میں تقسیم کردیتا جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کی زمینوں کو تقسیم فرما دیا تھا، اگر یہ ساری زمینیں موجودہ مسلمانوں میں تقسیم ہوگئیں تو آنے والے مسلمانوں کے لئے کیا باقی رہے گا (رواہ مالک، قرطبی)
امت کے حق پر ہونے کی پہچان صحابہ کرام کی محبت و عظمت ہے
اس مقام میں حق تعالیٰ نے پوری امت محمدیہ کے تین طبقے کئے، مہاجرین، انصار اور باقی تمام امت، مہاجرین و انصار کے خاص اوصاف اور فضائل بھی اس جگہ ذکر فرمائے مگر باقی امت کے فضائل و کمالات اور اوصاف میں سے صرف ایک چیز یہ بتلائی کہ وہ صحابہ کرام کی سبقت ایمانی اور ایمان کے ہم تک پہنچانے کا ذریعہ ہونے کو پہچانیں اور سب کے لئے دعائے مغفرت کریں اور اپنے لئے یہ دعا کریں کہ ہمارے دلوں میں کسی مسلمان سے کینہ و نفرت نہ رہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام کے بعد والے جتنے مسلمان ہیں ان کا ایمان و اسلام قبول ہونے اور نجات پانے کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ صحابہ کرام کی عظمت و محبت اپنے دلوں میں رکھتے ہوں اور ان کے لئے دعا کرتے ہوں، جس میں یہ شرط نہیں پائی جاتی وہ مسلمان کہلانے کے قابل نہیں، اسی لئے حضرت مصعب بن سعد نے فرمایا کہ امت کے تمام مسلمان تین درجوں میں ہیں، جن میں سے دو درجے تو گزر چکے یعنی مہاجرین و انصار، اب صرف ایک درجہ باقی رہ گیا، یعنی وہ جو صحابہ کرام سے محبت رکھے، ان کی عظمت پہچانے، اب اگر تمہیں امت میں کوئی جگہ حاصل کرنی ہے تو اسی تیسرے درجہ میں داخل ہوجاؤ۔
حضرت حسین سے کسی نے حضرت عثمان غنی کے بارے میں سوال کیا (جبکہ ان کی شہادت کا واقعہ پیش آ چکا تھا) تو انہوں نے سوال کرنے والے سے پوچھا کہ تم مہاجرین میں سے ہو ؟ اس نے انکار کیا پھر پوچھا کہ انصار میں سے ہو ؟ اس نے اس کا بھی انکار کیا تو فرمایا بس اب تیسری آیت والَّذِيْنَ جَاۗءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ کی رہ گئی، اگر تم عثمان غنی کی شان میں شک و شبہ پیدا کرنا چاہتے ہو تو اس درجہ سے بھی نکل جاؤ گے۔
قرطبی نے فرمایا کہ یہ آیت اس کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام کی محبت ہم پر واجب ہے، حضرت امام مالک نے فرمایا کہ جو شخص کسی صحابی کو برا کہے یا اس کے متعلق برائی کا اعتقاد رکھے اس کا مسلمانوں کے مال فئی میں کوئی حصہ نہیں، پھر اسی آیت سے استدلال فرمایا اور چونکہ مال فئی میں حصہ ہر مسلمان کا ہے تو جس کا اس میں حصہ نہ رہا اس کا اسلام و ایمان ہی مشکوک ہوگیا۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب مسلمانوں کو اصحاب محمد ﷺ کے لئے استغفار اور دعا کرنے کا حکم دیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ ان کے آپس میں جنگ وجدال کے فتنے بھی پیدا ہوں گے (اس لئے کسی مسلمان کو مشاجرات صحابہ کی وجہ سے ان میں سے کسی سے بدگمان ہونا جائز نہیں)
حضرت صدیقہ عائشہ نے فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ یہ امت اس وقت تک ہلاک نہیں ہوگی جب تک اس کے پچھلے لوگ اگلوں پر لعنت و ملامت نہ کریں گے۔
حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ کسی صحابی کو برا کہتا ہے تو اس سے کہو کہ جو تم سے زیادہ برا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت، یہ ظاہر ہے کہ زیادہ برے صحابہ تو ہو نہیں سکتے یہی ہوگا جو ان کی برائی کر رہا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام میں سے کسی کو برا کہنا سبب لعنت ہے اور عوام بن شب نے فرمایا کہ اس نے اس امت کے پہلے لوگوں کو اس بات پر مستقیم اور مضبوط پایا ہے کہ وہ لوگوں کو یہ تلقین کرتے تھے کہ صحابہ کرام کے فضائل اور محاسن بیان کیا کرو تاکہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت پیدا ہو اور وہ مشاجرات اور اختلافات جو ان کے درمیان پیش آئے ہیں ان کا ذکر نہ کیا کرو جس سے ان کی جرات بڑھے (اور وہ بےادب ہوجاویں) (یہ سب روایات تفسیر قرطبی سے لی گئی ہیں)۔
Ayahs 59:11–14خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان منافقین (یعنی عبداللہ بن ابی وغیرہ) کی حالت نہیں دیکھی کہ اپنے (ہم مذہب) بھائیوں سے کہ کفار اہل کتاب ہیں (یعنی بنی نضیر سے) کہتے ہیں (یعنی کہتے تھے، کیونکہ یہ سورت واقعہ جلا وطنی بنی نضیر کے بعد نازل ہوئی ہے، کمافی الروح مستدلاً بالحدیث والسیر) کہ واللہ (ہم ہر حال میں تمہارے ساتھ ہیں، پس) اگر تم (اپنے وطن سے جبراً) نکالے گئے تو ہم (بھی) تمہارے ساتھ (اپنے وطن سے) نکل جاویں گے اور تمہارے معاملہ میں ہم کبھی کسی کا کہنا نہ مانیں گے (یعنی ہم کو خواہ کوئی کیسا ہی سمجھاوے کہ خروج و قتال میں جو آئندہ مذکور ہے تمہارا ساتھ نہ دیں لیکن ہم نہ مانیں گے، پس جملہ لا نطیع سیاق وسباق دونوں کے متعلق ہے) اور اگر تم سے کسی کی لڑائی ہوئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے اور اللہ گواہ ہے کہ وہ بالکل جھوٹے ہیں (یہ تو ان کے کاذب ہونے کا اجمالاً بیان ہوا آگے تفصیلاً فرماتے ہیں کہ) واللہ اگر اہل کتاب نکالے گئے تو یہ (منافقین) ان کے ساتھ نہیں نکلیں گے اور اگر ان سے لڑائی ہوئی تو یہ ان کی مدد نہ کریں گے اور اگر (بفرض محال) ان کی مدد بھی کی (اور لڑائی میں شریک ہوئے) تو پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے پھر (ان کے بھاگ جانے کے بعد) ان (اہل کتاب) کی کوئی مدد نہ ہوگی (یعنی جو ناصر تھے وہ تو بھاگ گئے اور دوسرا بھی کوئی ناصر نہ ہوگا، پس لامحالہ مغلوب و مقہور ہوں گے، غرض منافقین کی جو غرض ہے کہ اپنے ان بھائیوں پر کوئی آفت نہ آنے دیں، اس میں ہر طرح ناکامی رہے گی، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب آخر میں بنی نضیر نکالے گئے تو منافقین ان کے ساتھ نکلے نہیں اور جب اول میں ان کا محاصرہ کیا گیا جس میں احتمال قتال کا تھا تو اس میں انہوں نے نصرت نہیں کی اور بعد وقوع واقعہ کے اس طرح فرمانا لئن اخرجوا الخ جو آئندہ واقع ہونے پر دلالت کرتا ہے یا تو واقعہ ماضیہ کو مستحضر و موجود فرض کرنے پر مبنی ہے تاکہ ان کا خلف و عد اور ان کا مخذول ہونا خوب پیش نظر ہوجاوے اور یا آئندہ جو احتمال موہوم تھا ساتھ دینے کا اس کی نفی کردی، آگے اس ساتھ نہ دینے کا سبب فرماتے ہیں کہ) بیشک تم لوگوں کا خوف ان (منافقین) کے دلوں میں اللہ سے بھی زیادہ (یعنی دعویٰ ایمان سے جو یہ اپنا ڈرنا اللہ تعالیٰ سے بیان کرتے ہیں وہ تو خلاف واقع ہے ورنہ کفر کو کیوں نہ چھوڑ دیتے اور تمہارا واقعی خوف ہے پس اس خوف کی وجہ سے یہ لوگ ان بنی نضیر کا ساتھ نہیں دے سکتے اور) یہ (ان کا تم سے ڈرنا اور خدا سے ڈرنا) اس سبب سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں کہ (بوجہ کفر کے خدا تعالیٰ کی عظمت کو) سمجھتے نہیں (اور یہ یہود عام ہیں بنی نضیر وغیر بنی نضیر سے اور منافقین الگ الگ تو تمہارے مقابلہ کا کیا حوصلہ کرتے) یہ لوگ (تو) سب مل کر بھی تم سے نہ لڑیں گے مگر حفاظت والی بستیوں میں یا دیوار (قلعہ و شہر پناہ) کی آڑ میں (حفاظت سے مراد عام، خندق سے ہو یا قلعہ وغیرہ سے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کبھی ایسا واقعہ پیش آیا ہو کہ منافقین نے مسلمانوں کا مقابلہ کسی قلعہ اور محفوظ مقام سے کیا ہو، کیونکہ مقصود یہ ہے کہ اگر کبھی یہود یا منافقین اکیلے اکیلے یا جمع ہو کر تمہارے مقابلہ میں آئے بھی تو ان کا مقابلہ محفوظ قلعوں میں یا شہر پناہ کی دیوار کے پیچھے سے ہوگا، چناچہ یہود بنی قریظہ و اہل خیبر اسی طرح مقابلہ میں پیش آئے اور منافقین نہ ان کے ساتھ ہوئے اور نہ ان کا کبھی اتنا حوصلہ ہوا کہ کھل کر مسلمانوں کے مقابلہ پر آئیں، اس میں مسلمانوں کی تشجیع یعنی ہمت افزائی بھی ہے کہ ان سے اندیشہ نہ رکھیں اور ان کے بعض قبائل جیسے اوس و خزرج کے واقعات جنگ دیکھ کر یہ اندیشہ نہ کیا جاوے کہ شاید اسی طرح اہل اسلام کے مقابلہ میں کسی وقت یہ بھی آسکیں، بات یہ ہے کہ) ان کی لڑائی آپس (ہی) میں بڑی تیز ہے (مگر مسلمانوں کے مقابلہ میں کوئی چیز نہیں ہیں اور اسی طرح یہ احتمال نہ کیا جاوے کہ گو بمقابلہ اہل اسلام کے تنہا یہ ضعیف ہوں مگر بہت سے ضعفاء مل کر قوی ہوجاتے ہیں شاید اس طرح یہ سب جمع ہو کر مسلمانوں کا مقابلہ کرسکیں، یہ احتمال اس لئے قابل التفات نہیں کہ) اے مخاطب تو ان کو (ظاہر میں) متفق خیال کرتا ہے، حالانکہ ان کے قلوب غیر متفق ہیں (یعنی گو عداوت اہل حق ان سب میں ایک وجہ اشتراک کی ہے، مگر خود بھی تو ان میں اختلاف عقائد کی وجہ سے افتراق اور عداوت ہے جیسا سورة مائدہ میں گزر چکا ہے والقینا بینہم العداوة الخ اور ان کے باہم مجتمع ہونے کے احتمال کی نفی بھی زیادہ تاکید وتقویت مقصود کے لئے ہے ورنہ حق تعالیٰ کی مشیت ان کی مغلوبی و مقہوری کے ہاتھ ہوچکی ہے، تو اگر اتفاق ہو بھی جاتا تو کیا کام آتا، آگے اس نااتفاقی کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ) یہ (تشتت قلوب) اس وجہ سے ہے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو (دین کی) عقل نہیں رکھتے (اس لئے ہر ایک اپنے اپنے خیال کا تابع ہے اور جب نظریات اور اغراض مختلف ہوں تو اس کے لئے اختلاف قلوب لازم ہے اور اس پر یہ شبہ نہ کیا جاوے کہ بےدینوں میں بسا اوقات اتفاق دیکھا جاتا ہے، بات یہ ہے کہ یہاں مقصود قاعدہ کلیہ بیان کرنا نہیں، بلکہ ان میں جو نااتفاقی تھی اس کا سبب بیان کرنا مقصود ہے کہ ان کے لئے یہی امر سبب ہوگیا تھا، چناچہ ظاہر ہے آگے بالخصوص بنی نضیر اور ان منافقین کی جنہوں نے وعدہ نصرت کر کے دھوکہ میں ڈالا اور عین وقت پر دغا دی ان کی حالت کا بیان ہے کہ ان کے مجموعہ کی دو مثالیں ہیں، ایک مثال خاص بنی نضیر کی اور دوسری منافقین کی، بنی نضیر کی مثال تو) ان لوگوں کی سی مثال جو جو ان سے کچھ ہی پہلے ہوئے ہیں جو (دنیا میں بھی) اپنے کردار کا مزہ چکھ چکے ہیں اور (آخرت میں بھی) ان کے لئے درد ناک عذاب (ہونے والا) ہے (مراد ان سے یہود بنی قینقاع ہیں، جن کا قصہ یہ ہوا کہ واقعہ بدر کے بعد انہوں نے آپ سے سن 2 ہجری میں عہد شکنی کر کے جنگ کی، پھر مغلوب و مقہور ہوئے اور قلعہ سے آپ کے فیصلہ پر باہر نکلے اور سب کی مشکیں باندھی گئیں، پھر عبداللہ بن ابی کے اصرار و الحاح کی وجہ سے ان کی اس شرط پر جان بخشی کی گئی کہ مدینہ سے چلے جائیں، چناچہ وہ اذرعات شام کو نکل گئے اور ان کے اموال مال غنیمت کی طرح تقسیم کئے گئے، کذا فی زاد المعاد، اور ان منافقین کی مثال) شیطان کی سی مثال ہے کہ (اول تو) انسان سے کہتا ہے کہ تو کافر ہوجا پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے (اور کفر کے وبال میں گرفتار ہوتا ہے خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں) تو (اس وقت صاف جواب دیدیتا ہے اور) کہہ دیتا ہے کہ میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں (دنیا میں ایسی تبری کا قصہ تو سورة انفال آیت و اذ زین لہم الشیطن اعمالہم الخ میں گزر چکا ہے اور آخرت میں تبری مضلین کی ضالین سے آیات متعددہ میں مذکور ہے) سو آخری انجام دونوں کا یہ ہوا کہ دونوں دوزخ میں گئے جہاں ہمیشہ رہیں گے (ایک ضلال کی وجہ سے دوسرا اضلال کی وجہ سے) اور ظالموں کی یہی سزا ہے (پس جس طرح اس شیطان نے اس انسان کو اول بہکایا پھر وقت پر ساتھ نہ دیا اور دونوں خسران میں پڑے، اسی طرح ان منافقین نے اول بنی نضیر کو بری رائے دی، کہ تم نکلو نہیں، پھر عین وقت پر ان کو دھوکہ دیا اور دونوں بلا میں پھنسے) بنی نضیر تو جلاوطنی کی مصیبت میں اور منافقین ناکامیابی کی ذلت میں مبتلا ہوئے۔
Ayah 59:15معارف و مسائل
(آیت) كَمَثَلِ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِيْبًا الخ، یہ بنو نضیر کی مثال کا بیان ہے اور الذین من قبلہم کی تفسیر میں حضرت مجاہد نے فرمایا کہ کفار اہل بدر مراد ہیں اور حضرت ابن عباس نے فرمایا بنو قینقاع (قبیلہ یہود) مراد ہیں اور دونوں کا انجام بد اور مقتول و مغلوب اور ذلیل و خوار ہونا اس وقت واضح ہوچکا تھا کیونکہ بنو نضیر کی جلاوطنی کا واقعہ غزوہ بدر و احد کے بعد واقع ہوا اور بنو قینقاع کا واقعہ بھی بدر کے بعد پیش آ چکا تھا، بدر میں مشرکین عرب کے ستر سردار مارے گئے اور باقی بڑی ذلت و خواری کے ساتھ واپس ہوئے اور بقول ابن عباس یہ مراد ہیں تو مطلب آیت کا واضح ہے کہ ان کے بارے میں جو آیت میں فرمایاذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ، یعنی انہوں نے اپنے کرتوت کا بدلہ چکھ لیا، یہ آخرت سے پہلے دنیا ہی میں آنکھوں کے سامنے آ گیا، اسی طرح اگر الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ سے مراد یہود ہی کا قبیلہ بنو قینقاع ہو تو ان کا واقعہ بھی ایسا ہی عبرتناک ہے۔
بنوقینقاع کی جلا وطنی
واقعہ یہ تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو مدینہ کے آس پاس جتنے قبائل یہود کے تھے سب کے ساتھ ایک معاہدہ صلح کا ہوگیا تھا جس کی شرائط میں یہ داخل تھا کہ ان سے کوئی رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے کسی مخالف کی امداد نہ کرے گا، ان معاہدہ کرنے والوں میں قبیلہ بنو قینقاع بھی شامل تھا، مگر اس نے چند مہینوں کے بعد ہی عذر و عہد شکنی شروع کردی اور غزوہ بدر کے موقع پر مشرکین کے ساتھ خفیہ سازش و امداد کے کچھ واقعات سامنے آئے، اس وقت یہ آیت قرآن نازل ہوئی (آیت) (واما تخافن من قوم خیانتہ فانبذ الیھم علے ٰ سواء) یعنی ”اگر (معاہدہ اور صلح کے بعد) کسی قوم کی خیانت کا خطرہ لاحق ہو تو آپ ان کا معاہدہ صلح ختم کرسکتے ہیں“ بنو قینقاع اس معاہدہ کو اپنی غداری سے خود توڑ چکے تھے، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کے خلاف جہاد کا اعلان فرمایا اور علم جہاد حضرت حمزہ کو عطا فرمایا اور مدینہ طیبہ کے شہر پر حضرت ابولبابہ کو اپنا خلیفہ مقرر کر کے آنحضرت ﷺ خود بھی تشریف لے گئے، یہ لوگ مسلمانوں کا لشکر دیکھ کر اپنے قلعہ میں بند ہوگئے، رسول اللہ ﷺ نے قلعہ کا محاصرہ کرلیا، پندرہ روز تک تو یہ لوگ محصور ہو کر صبر کرتے رہے، بالآخر اللہ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور یہ سمجھ گئے کہ مقابلہ سے کام نہ چلے گا اور قلعہ کا دروازہ کھول دیا اور کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ پر راضی ہیں جو آپ ہمارے بارے میں نافذ کریں۔
آپ کا فیصلہ ان کے مردوں کے قتل کا ہونے والا تھا کہ عبداللہ بن ابی منافق نے رسول اللہ ﷺ پر بےحد اصرار و الحاح کیا کہ ان کی جاں بخشی کردی جائے، بالآخر آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ یہ لوگ بستی خالی کر کے جلاوطن ہوجائیں اور ان کے اموال مسلمانوں کا مال غنیمت ہوں گے، اس قرار داد کے مطابق یہ لوگ مدینہ چھوڑ کر ملک شام کے علاقہ اذرعات میں چلے گئے اور ان کے اموال کو رسول اللہ ﷺ نے مال عنیمت کے قانون کے مطابق اس طرح تقسیم فرمایا کہ ایک خمس بیت المال کا رکھ کر باقی چار خمس غانمین میں تقسیم کردیئے۔
غروہ بدر کے بعد یہ پہلا خمس تھا جو بیت المال میں داخل ہوا، یہ واقعہ بروز شنبہ 15 شوال سن 2 ھ آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے بیس ماہ بعد پیش آیا۔
Ayahs 59:16–17(آیت) كَمَثَلِ الشَّيْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْ الایة یہ دوسری مثال ان منافقین کی ہے جنہوں نے بنو نضیر کو جلا وطنی کا حکم نہ ماننے اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ پر جنگ کرنے کے لئے ابھارا اور ان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا، مگر جب مسلمانوں نے ان کا محاصرہ کیا تو کوئی منافق امداد کو نہ پہنچا ان کی مثال قرآن کریم نے شیطان کے ایک واقعہ سے دی ہے کہ شیطان نے انسان کو کفر پر آمادہ کیا اور اس سے طرح طرح کے وعدے کئے، مگر جب وہ کفر میں مبتلا ہوگیا تو سب سے مکر گیا۔
شیطان کے ایسے واقعات خدا جانے کتنے ہوئے ہوں گے، ان میں سے ایک واقعہ تو خود قرآن کریم میں منصوص ہے جس کا بیان سورة انفال کی ان آیات میں آیا ہے (آیت) (واذ زین لھم الشیطن اعمالھم وقال لاغالب لکم الیوم من الناس انی جار لکم فلما ترآءت الفئتن نکص علے ٰ عقبیہ وقال انی بری منکم الآیة) ، یہ واقعہ غزوہ بدر کا ہے جس میں شیطان نے بطور وسوسہ کے یا بشکل انسانی سامنے آ کر مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے مقابلہ پر ابھارا اور اپنی مدد کا یقین دلایا، مگر جب مسلمانوں سے مقابلہ ہوا تو مدد کرنے سے صاف انکار کردیا، اس واقعہ کی پوری تشریح معارف القرآن جلد چہارم صفحہ 256 سے صفحہ 258 تک تفصیل کے ساتھ آچکی ہے۔
اگر آیت مذکورہ میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے تو یہ ارشاد کہ شیطان انسان سے کفر کرنے کو کہتا ہے اور جب وہ کرلیتا ہے تو اس سے بری ہو کر الگ ہوجاتا ہے، اس پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ اس واقعہ پر بظاہر شیطان نے ان کو کفر کرنے کے لئے نہیں کہا، کافر تو وہ پہلے ہی سے تھے، شیطان نے تو ان کو مقابلہ پر جمع کرنے کے لئے کہا تھا، جواب ظاہر ہے کہ کفر پر جمے رہنے اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ پر قتال کرنے کو کہنا بھی اسی حکم میں ہے کہ ان کو کفر کرنے کے لئے کہا جائے۔
اور تفسیر مظہری و قرطبی و ابن کثیر وغیرہ میں اس جگہ شیطان کی اس مثال کے واقعات بنی اسرائیل کے متعدد راہبوں اور عبادت گزاروں کو شیطان کے بہکا کر کفر تک پہنچا دینے کے متعلق نقل کئے ہیں، مثلاً بنی اسرائیل کا ایک راہب عبادت گزار جو اپنے صومعہ میں ہمیشہ عبادت میں مشغول رہتا اور روزے اس طرح رکھتا تھا کہ دس دن میں صرف ایک مرتبہ افطار کرتا تھا، ستر سال اس کے اسی حال میں گزرے، شیطان اس کے پیچھے پڑا اور اپنے سب سے زیادہ مکار، ہوشیار شیطان کو اس کے پاس بصورت راہب عبادت گزار بنا کر بھیجا جس نے اس کے پاس جا کر اس راہب سے بھی زیادہ عبادت گزاری کا ثبوت دیا یہاں تک کہ راہب کو اس پر اعتماد ہوگیا۔
بالآ خر مصنوعی راہب شیطان اس بات میں کامیاب ہوگیا کہ اس راہب کو کچھ دعائیں ایسی سکھلائیں جس سے بیماروں کو شفا ہوجائے، پھر اس نے بہت سے لوگوں کو اپنے اثر سے بیمار کر کے ان کو خود ہی اس راہب کا پتہ دیا جب یہ راہب ان پر دعا پڑھتا تو یہ شیطان اپنا اثر اس سے ہٹا دیتا، وہ شفایات ہوجاتا تھا اور عرصہ دراز تک یہ سلسلہ جاری رکھنے کے بعد اس نے ایک اسرائیلی سردار کی حسین لڑکی پر اپنا یہ عمل کیا اور اس کو بھی راہب کے پاس جانے کا مشورہ دیا، یہاں تک کہ اس کو راہب کے صومعہ تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا اور رفتہ رفتہ اس کو اس لڑکی کے ساتھ زنا میں مبتلا کرنے میں کامیاب ہوا جس کے نتیجہ میں اس کو حمل ہوگیا، تو رسوائی سے بچنے کے لئے اس کو قتل کرنے کا مشورہ دیا، قتل کرنے کے بعد شیطان ہی نے سب کو واقعہ قتل وغیرہ بتلا کر راہب کے خلاف کھڑا کردیا یہاں تک کہ لوگوں نے اس کا صومعہ ڈھا دیا اور اس کو قتل کر کے سولی دینے کا فیصلہ کیا، اس وقت شیطان اس کے پاس پھر پہنچا کہ اب تو تیری جان بچنے کی کوئی صورت نہیں، ہاں اگر تو مجھے سجدہ کرلے تو میں تجھے بچا سکتا ہوں، راہب سب کچھ گناہ پہلے کرچکا تھا، کفر کا راستہ ہموار ہوچکا تھا اس نے سجدہ بھی کرلیا، اس وقت شیطان نے صاف کہہ دیا کہ تو میرے قبضہ میں نہ آتا تھا میں نے یہ سب مکر تیرے مبتلائے کفر کرنے کے لئے کئے تھے، اب میں تیری کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ یہ واقعہ تفسیر قرطبی اور مظہری میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayah 59:18خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! (تم نے نافرمانوں کا انجام سن لیا سو تم) اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر ہر شخص دیکھ بھال لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے (یعنی اعمال صالحہ میں کوشش کرو جو کہ ذخیرہ آخرت ہیں) اور (جس طرح تحصیل طاعات و اعمال صالحہ میں تقویٰ کا حکم ہے، اسی طرح سیئات و معاصی سے بچے کے بارے میں تم کو حکم ہے کہ) اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ تعالیٰ کو تمہارے اعمال کی سب خبر ہے (پس معاصی کے ارتکاب سے اندیشہ عقوبت ہے، پس پہلا اتَّقُوا اللّٰهَ طاعات کے متعلق ہے جس کا قرینہ قدمت لغد ہے، اور دوسرا معاصی کے متعلق ہے، جس کا قرینہ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ہے) اور (آگے ان احکام کی مزید تاکید کے لئے ارشاد ہے کہ) تم ان لوگوں کی طرح مت ہو جنہوں نے اللہ (کے احکام) سے بےپروائی کی (یعنی عمل بالاحکام کو ترک کردیا، اس طرح کہ اوامر کے خلاف کیا اور نواہی کا ارتکاب کیا) سو (اثر اس کا یہ ہوا کہ) اللہ تعالیٰ نے خود ان کی جان سے ان کو بےپرواہ بنادیا (یعنی ان کی ایسی عقل ماری گئی کہ خود اپنے نفع حقیقی کو نہ سمجھا اور نہ حاصل کیا) یہی لوگ نافرمان ہیں (اور نافرمانی کی سزا بھگتیں گے اور اوپر جن دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہوا، یعنی ایک وہ جو اہل تقویٰ ہوئے اور دوسرے وہ جو مارک احکام ہوئے ان میں ایک اہل جنت ہیں دوسرے اہل نار اور) اہل نار اور اہل جنت باہم برابر نہیں (بلکہ) جو اہل جنت ہیں وہ لوگ کامیاب ہیں (اور اہل نار ناکام ہیں جیسا اوپر (آیت) اولٓئک ھم الفسقون سے معلوم ہوا پس تم کو اصحاب الجنتہ میں سے ہونا چاہئے، اہل نار میں سے نہ ہونا چاہئے اور یہ چند نصائح جس قرآن کے ذریعہ سے تم کو سنائے جاتے ہیں وہ ایسا ہے کہ) اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے (اور اس میں سمجھنے کا مادہ رکھ دیتے اور شہوات کا مادہ نہ رکھتے) تو (اے مخاطب) تو اس کو دیکھتا کہ خدا کے خوف سے دب جاتا اور پھٹ جاتا (یعنی قرآن فی نفسہ ایسا موثر اور قوی الاثر ہے، مگر انسان میں بوجہ غلبہ شہوات کے قابلیت فاسد ہوگئی جس کے سبب تاثر نہیں ہوتا، پس ان کو چاہئے کہ تحصیل طاعات اور ترک معاصی سے اپنی شہوت کو مغلوب کرے تاکہ مواعظ قرآنیہ سے اس کو تاثر ہو اور احکام پر استقامت و استدامت اور ذکر و فکر نصیب ہو جس کا اوپر حکم ہوا ہے) اور ان مضامین عجیبہ کو ہم لوگوں کے (نفع کے) لئے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں (اور منتفع ہوں، اسی لئے یہ مضمون لوانزلنا الخ یہاں بیان کیا گیا، آگے حق تعالیٰ کے صفات کمال بیان کئے جاتے ہیں جس سے حق تعالیٰ کی عظمت قلب پر نقش ہو کر احکام بجالانے میں مددگار ثابت ہو، پس ارشاد ہے کہ) وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوا کوئی اور معبود (بننے کے لائق) نہیں وہ جانتے والا ہے پوشیدہ چیزوں کا اور ظاہر چیزوں کا وہی بڑا مہربان رحم والا ہے (اور چونکہ توحید نہایت مہتم بالشان چیز ہے، اس لئے اس کی تاکید کے لئے مکرر فرمایا کہ) وہ ایسا معبود ہے کہ اس کے سوال کوئی اور معبود (بننے کے لائق) نہیں وہ بادشاہ ہے (سب عیبوں سے) پاک ہے، سالم ہے (یعنی نہ ماضی میں اس میں کوئی عیب ہوا جو حاصل ہے قدوسی کا اور نہ آئندہ اس کا احتمال ہے جو حاصل ہے سلام کا (کذافی الکبیر) اپنے بندوں کو خوف کی چیزوں سے) امن دینے والا ہے (اپنے بندوں کی خوف کی چیزوں سے) نگہبانی کرنے والا ہے (یعنی آفت بھی نہیں آنے دیتا اور آئی ہوئی کو بھی دور کردیتا ہے) زبردست ہے خرابی کا درست کردینے والا ہے، بڑی عظمت والا ہے، اللہ تعالیٰ (جس کی یہ شان ہے کہ) لوگوں کے شرک سے پاک ہے وہ معبود (برحق) ہے پیدا کرنے والا ہے، ٹھیک ٹھیک بنانے والا ہے (یعنی ہر چیز کو حکمت کے موافق بناتا ہے) صورت (شکل) بنانے والا ہے، اس کے اچھے اچھے نام ہیں (جو اچھی اچھی صفتوں پر دلالت کرتے ہیں) سب چیزیں اس کی تسبیح (و تقدیس) کرتی ہیں (حالاً یا قالاً) جو آسمانوں میں اور زمین میں ہیں اور وہی زبردست حکمت والا ہے (پس ایسے باعظمت کے احکام کی بجا آوری ضرور اور نہایت ضرور ہے)۔
معارف و مسائل
سورة حشر میں شروع سے کفار اہل کتاب اور مشرکین و منافقین کے حالات و معاملات اور ان پر دنیا و آخرت کے وبال کا بیان فرمانے کے بعد اب آخر سورت تک مومنین کو متنبہ کرنا اور اعمال صالحہ کی پابندی کرنے کی ہدایت ہے۔
مذکورہ آیات میں سے پہلی آیت میں ایک بلیغ انداز سے آخرت کی فکر اور اس کے لئے تیاری کا حکم ہے جس میں پہلے فرمایا۔ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ، یعنی اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور تم میں سے ہر نفس کو اس پر غور کرنا چاہئے کہ اس نے آخرت کے لئے کیا سامان بھیجا ہے۔
یہاں چند باتیں غور طلب ہیںاول۔ یہ کہ اس آیت میں قیامت کو لفظ غد سے سے تعبیر کیا جس کے معنی ہیں آنے والی کل، اس میں تین چیزوں کی طرف اشارہ ہے، اول پوری دنیا کا بمقابلہ آخرت نہایت قلیل و مختصر ہونا ہے کہ ساری دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایک دن کی مثال ہے اور حساب کے اعتبار سے تو یہ نسبت ہونا بھی مشکل ہے، کیونکہ آخرت دائمی ہے جس کی کوئی انتہا اور انقطاع نہیں، انسانی دنیا کی عمر تو چند ہزار سال ہی بتلائی جاتی ہے، اگر زمین و آسمان کی تخلیق سے حساب لگائیں تو چند لاکھ سال ہوجائیں گے، مگر پھر ایک محدود مدت ہے غیر محدود اور غیر متناہی سے اس کو کوئی بھی نسبت نہیں ہوتی۔
بعض روایات حدیث میں ہے الدنیا یوم و لنا فیہ صوم، یعنی ”ساری دنیا ایک دن ہے اور اس دن میں ہمارا روزہ ہے“ اور غور کرو تو تخلیق انسانی سے شروع کرو یا تخلیق زمین و آسمان سے یہ دونوں چیزیں ایک فرد انسانی کے لئے قابل اہتمام نہیں، بلکہ ہر فرد کی دنیا تو اس کی عمر کے ایام و سال ہیں اور وہ آخرت کے مقابلہ میں کتنی حقیر مدت ہے، اس کا ہر شخص اندازہ کرسکتا ہے۔
دوسرا اشارہ اس میں قیامت کے یقینی ہونے کی طرف ہے، جیسے آج کے بعد کل کا آنا امر یقینی ہے کسی کو اس میں شبہ نہیں ہوتا، اسی طرح دنیا کے بعد قیامت و آخرت کا آنا یقینی ہے۔
تیسرا اشارہ اس طرف ہے کہ قیامت بہت قریب ہے جیسے آج کے بعد کل کچھ دور نہیں، بہت قریب سمجھی جاتی ہے، اسی طرح دنیا کے بعد قیامت بھی قریب ہے۔
اور قیامت ایک تو پورے عالم کی ہے جب زمین و آسمان سب فنا ہوجائیں گے، وہ بھی اگرچہ ہزاروں لاکھوں سال کے بعد ہو مگر بمقابلہ مدت آخرت کے بالکل قریب ہی ہے، دوسری قیامت ہر انسان کی اپنی ہے جو اس کی موت کے وقت آجاتی ہے، جیسا کہ کہا گیا ہے من مات فقد قامت قیامتہ، یعنی ”جو شخص مر گیا اس کی قیامت تو ابھی قائم ہوگئی“ کیونکہ قبر ہی سے عالم آخرت کے آثار شروع ہوجاتے ہیں اور عذاب وثواب کے نمونے سامنے آجاتے ہیں کیونکہ عالم قبر جس کو عالم برزخ بھی کہا جاتا ہے اس کی مثال دنیا کی انتظار گاہ (ویٹنگ روم) کی سی ہے جو فرسٹ کلاس سے لے کر تھرڈ کلاس تک کے لوگوں کے لئے مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور مجرموں کا ویٹنگ روم حوالات یا جیل خانہ ہوتا ہے، اسی انتظار گاہ ہی سے ہر شخص اپنا درجہ اور حیثیت متعین کرسکتا ہے، اس لئے مرنے کے ساتھ ہی ہر انسان کی اپنی قیامت آجاتی ہے اور انسان کا مرنا اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا معمہ بنایا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا فلسفی اور سائنسدان اس کا یقینی وقت مقرر نہیں کرسکتا، بلکہ ہر وقت ہر آن انسان اس خطرہ سے باہر نہیں ہوتا کہ شاید اگلا گھنٹہ زندگی کی حالت میں نہ آئے، خصوصاً اس برق رفتار زمانہ میں تو ہارٹ فیل ہونے کے واقعات نے اس کو روز مرہ کی بات بنادیا ہے۔
خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں قیامت کو لفظ غد سے تعبیر کر کے بےفکرے انسان کو متنبہ کردیا کہ قیامت کو کچھ دور نہ سمجھو وہ آنے والی کل کی طرح قریب ہے اور ممکن یہ بھی ہے کہ کل سے پہلے ہی آجائے۔
دوسری غور طلب بات اس آیت میں یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے اس میں انسان کو اس پر غور و فکر کرنے کی دعوت دی کہ قیامت جس کا آنا یقینی بھی ہے اور قریب بھی اس کے لئے تم نے کیا سامان بھیجا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا اصل وطن اور مقام آخرت ہے، دنیا میں اس کا مقام ایک مسافر کی طرح ہے، وطن کے دائمی قیام وقرار کے لئے یہیں سے کچھ سامان بھیجنا ضروری ہے اور انسان کے اس سفر کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ یہاں رہ کر کچھ کمائے اور جمع کرے پھر اس کو اپنے وطن آخرت کی طرف بھیج دے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہاں سے دنیا کا سامان، مال و دولت کوئی وہاں ساتھ نہیں لے جاسکتا تو بھیجنے کی ایک ہی صورت ہے کہ ایک ملک سے دوسرے ملک کی طرف مال منتقل کرنے کا جو طریقہ دنیا میں رائج ہے کہ یہاں کی حکومت کے بینک میں جمع کر کے دوسرے ملک کی کرنسی حاصل کرلے جو وہاں چلتی ہے، یہی صورت آخرت کے معاملہ میں ہے کہ جو کچھ یہاں اللہ کی راہ میں اور اللہ کے احکام کی تعمیل میں خرچ کیا جاتا ہے وہ آسمانی حکومت کے بینک (اسٹیٹ بینک) میں جمع ہوجاتا ہے، وہاں کی کرنسی ثواب کی صورت میں اس کے لئے لکھ دی جاتی ہے، اور وہاں پہنچ کر بغیر کسی دعوے اور مطالبہ کے اس کے حوالہ کردی جاتی ہے۔
اور لفظ مّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ عام ہے نیک اعمال اور بد اعمال دونوں کے لئے جس نے نیک اعمال آگے بھیجے ہیں اس کو ثواب کی صورت میں آخرت کے نقود (کرنسی) مل جائے اور جس نے برے اعمال آگے بھیجے ہیں وہاں اس پر فرد جرم عائد ہوگی، اس کے بعد لفظ اتقواللہ کا اعادہ کیا گیا، یہ تاکید کے لئے بھی ہوسکتا ہے اور وہ مراد بھی ہو سکتی ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں بیان ہوئی ہے کہ پہلے اتقواللہ سے واجب و فرائض کی ادائیگی کا اہتمام سکھایا گیا اور دوسرے اتقوا اللہ سے گناہوں سے بچنے کا اہتمام بتلایا گیا ہے
اور یہ بھی ممکن ہے کہ پہلے اتقوا اللہ سے اعمال و احکام خداوندی کی تعمیل کر کے آخرت کے لئے کچھ سامان بھیجنے کا حکم ہو اور دوسرے اتقوا اللہ سے اس طرف ہدایت ہو کہ دیکھو جو سامان وہاں بھیجتے ہو اس کو دیکھ لو، کہ وہ کوئی کھوٹا خراب سامان نہ ہو جو وہاں کام نہ آئے، کھوٹا سامان وہاں کے لئے وہ ہے کہ جس کی صورت عمل صالح کی ہو مگر اس میں اخلاص اللہ کی رضا کے لئے نہ ہو بلکہ نام و نمود یا اور کوئی غرض نفسانی شامل ہو، یا وہ عمل جو صورت میں تو عبادت ہے مگر دین میں اس کا کوئی ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بدعت و گمراہی ہے، تو اس دوسرے اتقوا اللہ کا خلاصلہ یہ ہوا کہ آخرت کے لئے محض سامان کی صورت بنادینا کافی نہیں، دیکھ کر بھیجو کہ کھوٹا سامان نہ ہو جو وہاں نہ لیا جائے۔
Ayahs 59:19–20فَاَنْسٰـىهُمْ اَنْفُسَهُمْ ، یعنی ان لوگوں نے اللہ کو بھول اور نسیان میں کیا ڈالا اور حقیقتا خود اپنے آپ کو اس بھول میں ڈال دیا کہ اپنے نفع نقصان کی خبر نہ رہی۔
Ayah 59:21(آیت) لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰي جَبَلٍ ، یہ ایک تمثیل ہے کہ اگر قرآن پہاڑوں جیسی سخت اور ثقیل چیز پر اتارا گیا ہوتا اور جس طرح انسان کو فہم و شعور دیا گیا ہے ان کو بھی دے دیا جاتا تو پہاڑ بھی اس قرآن کی عظمت کے سامنے جھک جاتے بلکہ ریزہ ریزہ ہوجاتے، مگر انسان اپنی خواہش پرستی اور خود غرضی میں مبتلا ہو کر اپنے فطری شعور کو کھو بیٹھا، وہ قرآن سے متاثر نہیں ہوتا، گویا یہ ایک فرضی مثال ہے کہ پہاڑوں میں شعور ہوتا اور بعض حضرات نے فرمایا کہ پہاڑوں اور درختوں اور دنیا کی تمام چیزوں میں شعور و ادراک ہونا عقل و نقل سے ثابت ہے، اس لئے یہ کوئی فرضی مثال نہیں حقیقت ہے (مظہری) واللہ اعلم۔
انسان کو آخرت کی فکر اور قرآن کی عظمت بتلانے کے بعد آخر میں حق تعالیٰ کی چند صفات کمال کا ذکر کر کے سورت کو ختم کیا گیا۔
Ayah 59:22عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہر چھپی اور کھلی چیز اور غائب و حاضر کا پوری طرح جاننے والا ہے