59. Surah Al-Hashr

الحشرThe Exile · 24 ayahsمعارف القرآن

Ayah 59:23

هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَیْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 59:23 in the Quran reader

وہ اللہ ہے جس کے سوائے بندگی نہیں کسی کی وہ بادشاہ ہے پاک ذات سب عیبوں سے سالم امان دینے والا پناہ میں لینے والا زبردست دباؤ والا صاحب عظمت پاک ہے اللہ ان کے شریک بتلانے سے

الْقُدُّوْسُ ، بضم قاف وہ ذات جو ہر عیب سے پاک اور ہر ایسی چیز سے بری ہو جو اس کے شایان شان نہیں، الْمُؤْمِنُ ، یہ لفظ جب انسان کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی ایمان لانے والے اور اللہ و رسول کے کلام کی تصدیق کرنے والے کے آتے ہیں اور جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جاتا ہے تو اس کے معنی امن دینے والے کے ہوتے ہیں (کماقالہ ابن عباس) یعنی وہ اللہ رسول پر ایمان لانے والوں کو ہر طرح کے عذاب و مصیبت سے امن اور سلامتی دینے والا ہے۔ الْمُهَيْمِنُ ، اس کے معنی ہیں نگرانی کرنے والا (کذاقال ابن عباس و مجاہد و قتادہ ؒ قاموس میں ہے کہ ہمن یہیمن کے معنی دیکھ بھال اور نگرانی کرنے کے آتے ہیں (مظہری) الْعَزِيْزُ بمعنی قوی، الْجَبَّارُ ، صاحب جبروت و عظمت اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لفظ جبر سے مشتق ہو جس کے معنی ٹوٹی ہڈی وغیرہ کو جوڑنے کے آتے ہیں، اسی لئے جبیرہ اس پٹی کو کہا جاتا ہے جو ٹوٹی ہوئی ہڈی کو جوڑنے کے بعد اس پر باندھی جاتی ہے، تو معنی اس لفظ کے یہ ہوں گے کہ وہ ہر ٹوٹی ہوئی شکستہ و ناکارہ چیز کی اصلاح کر کے درست کردینے والا ہے (مظہری) الْمُتَكَبِّرُ تکبر سے اور وہ کبریاء سے مشتق ہے، جس کے معنی بڑائی کے ہیں اور ہر بڑائی .... درحقیقت اللہ جل شانہ کے لئے مخصوص ہے جو کسی چیز میں کسی کا متحاج نہیں اور جو محتاج ہو وہ بڑا نہیں ہوسکتا، اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کے لئے یہ لفظ عیب اور گناہ ہے، کیونکہ حقیقت میں بڑائی حاصل نہ ہونے کے باوجود بڑائی کا دعویٰ جھوٹا ہے اور وہ ذات جو حقیقت میں سب سے بڑی اور بےنیاز ہے اس کی خاص صفت میں شرکت کا دعوی ہے، اس لئے متکبر کا لفظ اللہ تعالیٰ کے لئے صفت کمال ہے اور غیر اللہ کے لئے جھوٹا دعویٰ۔
Ayah 59:24

هُوَ اللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى١ؕ یُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 59:24 in the Quran reader

وہ اللہ ہے بنانے والا نکال کھڑا کرنے والا صورت کھینچنے والا اسی کے ہیں سب نام خاصے پاکی بول رہا ہے اس کی جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا۔

الْمُصَوِّرُ کے معنی صورت بنانے والا، مراد یہ ہے کہ تمام مخلوقات کو حق تعالیٰ نے خاص خاص شکل و صورت عطا فرمائی ہے جس کی وجہ سے وہ دوسری چیزوں سے ممتاز ہوئی اور پہچانی جاتی ہے۔ دنیا کی عام مخلوقات آسمانی اور زمینی خاص خاص صورتوں ہی سے پہچانی جاتی ہیں، پھر ان میں انواع و اصناف کی تقسیم اور ہر نوع و صنف کی جداگانہ ممتاز شکل و صورت اور ایک ہی نوع انسانی میں مرد و عورت کی شکل و صورت کا امتیاز پھر سب مردوں سب عورتوں کی شکلوں میں باہم ایسے امتیازات کہ اربوں کھربوں انسان دنیا میں پیدا ہوئے ایک کی صورت بالکلیہ دوسرے سے نہیں ملتی کہ بالکل امتیاز نہ ہو سکے، یہ کمال قدرت صرف ایک ہی ذات حق جل شانہ کا ہے جس میں اس کا کوئی شریک نہیں، جس طرح غیر اللہ کے لئے تکبر جائز نہیں کہ کبریا صرف اللہ جل شانہ کی صفت ہے اسی طرح تصویر سازی غیر اللہ کے لئے جائز نہیں کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفت میں شرکت کا عملی دعویٰ ہے۔ لَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۭ ”یعنی اللہ تعالیٰ کے اچھے اچھے نام ہیں، قرآن کریم میں ان کی تعداد متعین نہیں فرمائی، صحیح احادیث میں ننانوے تعداد بتلائی ہے، ترمذی کی ایک حدیث میں یہ سب یک جا مذکور ہیں اور بہت سے علماء نے اسما حسنیٰ پر مستقل کتابیں لکھی ہیں، احقر کا بھی ایک مختصر رسالہ اسما حسنیٰ کے نام سے مناجات مقبول کے شروع میں طبع ہوا ہے۔ يُسَبِّحُ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ، یہ تسبیح زبان حال سے ہونا تو ظاہر ہی ہے کہ ساری مخلوقات اور ان کے اندر رکھی ہوئی عجیب و غریب صنعتیں اور صورتیں زبان حال سے اپنے بنانے والے کی حمد ثناء میں مشغول ہیں اور ہوسکتا ہے کہ حقیقی تسبیح مراد ہو، کیونکہ تحقیق یہی ہے کہ تمام اشیاء کو عالم میں اپنی اپنی حیثیت کا عقل و شعور ہے اور عقل و شعور کا سب سے پہلا مقتضی اپنے بنانے والے کو پہچاننا اور اس کا شکر گزار ہونا ہے، اس لئے ہر چیز حقیقتہً تسبیح کرتی ہو تو اس میں کوئی بعد نہیں، اگرچہ ہم ان کی تسبیح کو کانوں سے نہ سن سکیں اسی لئے قرآن کریم نے ایک جگہ فرمایا ہے (آیت) ولکن لاتفقھون تسبیحھم، یعنی تم ان کی تسبیح کو سنتے سمجھتے نہیں۔ سورة حشر کی آخری آیات کے فوائد و برکات ترمذی میں حضرت معقل بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو صبح کے وقت تین مرتبہ اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم اور اس کے بعد ایک مرتبہ سورة حشر کی آخری تین آیتیں ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو، سے آخر سورت تک پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے مقرر فرما دیتے ہیں جو شام تک اس کے لئے رحمت کی دعا کرتے رہتے، اگر اس دن میں وہ مر گیا تو شہادت کی موت حاصل ہوگی اور جس نے شام کو یہی کلمات تین مرتبہ پڑھ لئے تو یہی درجہ اس کو حاصل ہوگا (مظہری) تمت بعون اللہ تعالیٰ سبحانہ و حمدہ سورة الحشر