Ayah 58:1سبب نزول
اس سورت کی ابتدائی آیات کے نزول کا سبب ایک خاص واقعہ ہے کہ حضرت اوس بن الصامت نے ایک مرتبہ اپنی بیوی خولہ کو یہ کہہ دیا کہ انت علی کظہر امی ”تو میرے حق میں ایسی ہے جیسے میری ماں کی پشت یعنی حرام ہے، آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے زمانہ جاہلیت میں یہ لفظ ابدی اور دائمی حرمت کے لئے بولے جاتے تھے، جو طلاق مغلظہ سے بھی زیادہ سخت ہے، حضرت خولہ یہ واقعہ پیش آنے پر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس کا حکم شرعی معلوم کرنے کے لئے حاضر ہوئیں، اس وقت تک اس خاص مسئلے کے متعلق آنحضرت ﷺ پر کوئی وحی نازل نہ ہوئی تھی، اس لئے آپ نے قول مشہور کے موافق ان سے فرما دیا ما اراک الا قد حرمت علیہ یعنی میری رائے میں تو تم اپنے شوہر پر حرام ہوگئیں، وہ یہ سن کر واویلا کرنے لگیں کہ میری جوانی سب اس شوہر کی خدمت میں ختم ہوگئی، اب بڑھاپے میں انہوں نے مجھ سے یہ معاملہ کیا، میں کہاں جاؤ ں ؟ میرا اور میرے بچوں کا گزارہ کیسے ہوگا ؟ اور ایک روایت میں ہے کہ خولہ نے یہ عرض کیا کہ ما ذکر طلاقاً یعنی میرے شوہر نے طلاق کا تو نام بھی نہیں لیا تو پھر طلاق کیسے ہوگئی اور ایک روایت میں ہے کہ خولہ نے اللہ تعالیٰ سے فرمایا کہ اللھم انی اشکو الیک اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے خولہ سے یہ فرمایا مآ امرت فی شانک بشی حتی الان یعنی ابھی تک تمہارے مسئلے کے متعلق مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا (ان سب روایات میں کوئی تضاد و تعارض نہیں، سبھی اقوال صحیح ہو سکتے ہیں) اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، (کذافی الدر المنثور و ابن کثیر) اس لئے اس سورت کی ابتدائی آیات میں اس خاص مسئلے کا جس کا نام ظہار ہے حکم شرعی بیان فرمایا گیا، جس میں حق تعالیٰ نے حضرت خولہ کی فریاد سنی اور ان کے لئے آسانی فرما دی، ان کی وجہ سے حق تعالیٰ نے قرآن میں یہ مستقل احکام نازل فرما دیئے، اسی لئے حضرات صحابہ ان کا بڑا احترام کرتے تھے، ایک روز فاروق اعظم ایک مجمع کے ساتھ چلے جا رہے تھے، یہ عورت خولہ سامنے آ کر کھڑی ہوگئیں، کچھ کہنا چاہتی تھیں حضرت عمر نے راستہ میں ٹھہر کر ان کی بات سنی، بعض لوگوں نے کہا کہ آپ نے اس بڑھیا کی خاطر اتنے بڑے مجمع کو روکے رکھا، تو آپ نے فرمایا کہ خبر ہے یہ کون ہے ؟ یہ وہ عورت ہے جس کی بات اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سنی، میں کون تھا کہ ان کی بات کو ٹال دیتا، واللہ اگر یہ خود ہی رخصت نہ ہوجاتی تو میں رات تک ان کے ساتھ یہیں کھڑا رہتا (ابن کثیر)
خلاصہ تفسیر
بیشک اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے اپنے شوہر کے معاملے میں جھگڑتی تھی (مثلاً یہ کہتی تھی ما ذکر طلاقاً یعنی اس نے طلاق کا صیغہ تو ذکر نہیں کیا پھر حرمت کیسے ہوگئی) اور (اپنے رنج و غم کی) اللہ تعالیٰ سے شکایت کرتی تھی (مثلاً یہ کہا تھا اللھم انی اشکو الیک) اور اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا (اور) اللہ تعالیٰ (تو) سب کچھ سننے والا سب کچھ دیکھنے والا ہے (تو اس کی بات کو کیسے نہ سنتا اور قد سمع اللہ سے خدا تعالیٰ کا مقصود اپنے لئے سمع ثابت کرنا نہیں بلکہ عورت کی تکلیف کو ختم کرنا اور اس کی عاجزی کو قبول کرنا ہے) تم میں جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں (مثلاً یوں کہہ دیتے ہیں انت علی کظہر امی) وہ (بیبیاں) ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے (اس لئے یہ الفاظ کہنے سے یہ عورتیں ان کی مائیں نہیں ہوگئیں تاکہ ہمیشہ کی حرمت مثل ماں کے ثابت ہوجائے اور کوئی دوسرا سبب بھی دائمی حرمت کا کسی دلیل سے متحق نہیں، مثلاً تحریم نسب، رضاع یا مصاہرة وغیرہ، پس دائمی حرمت کی نفی ہوگئی) اور وہ لوگ (جو کہ بیبیوں کو ماں کہتے ہیں) بلاشبہ ایک نامعقول اور جھوٹ بات کہتے ہیں (اس لئے گناہ ضرور ہوگا) اور (اگر اس گناہ کا تدارک کردیا جاوے تو وہ گناہ معاف بھی ہوجائے گا کیونکہ) یقینا اللہ تعالیٰ معاف کردینے والے بخش دینے والے ہیں اور (آگے اس تدارک کا بعض صورتوں کے اعتبار سے بیان ہے کہ) جو لوگ اپنی بیبیوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اپنی کہی ہوئی بات (کے مقتضا) کی (جو تحریم زوجہ ہے) تلافی کرنا چاہتے ہیں (یعنی بیبیوں سے نفع حاصل کرنا چاہتے ہیں) تو ان کے ذمہ ایک غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ دونوں (میاں بی بی) باہم اختلاط کریں (صحبت سے یا اسباب صحبت سے) اس (کفارہ کا حکم کرنے) سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے (کفارہ سے علاوہ تکفیر سیئات کے یہ بھی نفع ہے کہ اس سے آئندہ کو تمہیں تنبیہ ہوجاوے گی) اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے (کہ کفارہ کے متعلق پوری بجا آوری احکام کی کرتے ہو یا نہیں پس کفارہ میں دو حکمتیں ہوگئیں، ایک گناہ کی معافی جس کی طرف اشارہ ہے لعفو غفور میں، دوسری زجر و تنبیہ جس کا تو عظون میں بیان ہے اور یہ دوسری حکمت بھی کفارہ کی تینوں قسموں میں ہے لیکن غلام یا لونڈی آزاد کرنا چونکہ کفارہ کے اقسام میں ذکراً مقدم ہے، اس لئے اس کو اس کے ساتھ ذکر کردیا گیا) پھر جس کو (غلام، لونڈی) میسر نہ ہو تو اس کے ذمہ پے در پے (یعنی لگاتار) دو مہینے کے روزے ہیں قبل اس کے کہ دونوں (میاں بی بی) باہم اختلاط کریں پھر جس سے یہ بھی نہ ہو سکیں تو اس کے ذمہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے (آگے اس حکم کا مثل دیگر احکام کے واجب التصدیق ہونا اس لئے بیان فرماتے ہیں کہ اس حکم کا مقصد قدیم رسم اور جاہلیت کے حکم کو توڑنا ہے، اس لئے اہتمام مناسب ہوا پس ارشاد ہوا کہ) یہ حکم اس لئے (بیان کیا گیا) ہے تاکہ (اس حکم سے متعلق مصلحتوں کے حاصل کرنے کے علاوہ) اللہ اور رسول پر ایمان (بھی) لے آؤ (یعنی ان احکام میں ان کی تصدیق بھی کرو کہ ایمان سے متعلق مصالح بھی حاصل ہوں) اور (آگے مزید تاکید کے لئے ارشاد ہے کہ) یہ اللہ کی حدیں (باندھی ہوئی) ہیں (یعنی خداوندی ضابطے ہیں) اور کافروں کے لئے (جو کہ ان احکام کی تصدیق نہیں کرتے بالخصوص) سخت درد ناک عذاب ہوگا (اور مطلق عذاب عمل میں خلل ڈالنے والے کو بھی ہوسکتا ہے اور کچھ اسی حکم کی تخصیص نہیں بلکہ) جو لوگ اللہ اور رسول کی مخالفت کرتے ہیں (خواہ کسی حکم میں کریں جیسے کفار مکہ) وہ (دنیا میں بھی) ایسے ذلیل ہوں گے جیسے ان سے پہلے لوگ ذلیل ہوئے (چنانچہ کئی غزوات میں اس کا وقوع ہوا) اور (سزا کیسے نہ ہو کیونکہ) ہم نے کھلے کھلے احکام (جن کی صحت اعجاز آیات سے ثابت ہے) نازل کئے ہیں (تو ان کا انکار لامحالہ موجب سزا ہوگا اور یہ سزا تو دنیا میں ہوگی) اور کافروں کو (آخرت میں بھی) ذلت کا عذاب ہوگا (اور آگے اس عذاب کا وقت بتلاتے ہیں کہ یہ اس روز ہوگا) جس روز ان سب کو اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرے گا پھر ان سب کا کیا ہوا ان کو بتلا دے گا (کیونکہ) اللہ تعالیٰ نے وہ محفوظ کر رکھا ہے اور یہ لوگ اس کو بھول گئے ہیں (خواہ حقیقتہ یا باعتبار بےفکری بےالتفاتی کے) اور اللہ ہر چیز پر مطلع ہے (خواہ ان کے اعمال ہوں یا اور کچھ)۔
معارف و مسائل
قد سمع اللہ الآیتہ، ان آیات کا سبب نزول جو اوپر بیان ہوچکا ہے اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ عورت جس کا ذکر اس آیت میں ہے وہ حضرت اوس ابن الصامت کی بیوی خولہ بنت ثعلبہ ہیں، جن کے شوہر نے ان سے ظہار کرلیا تھا اور یہ اس کی شکایت کے لئے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔
حق تعالیٰ نے اس کو یہ عزت بخشی کہ اس کے جواب میں قرآن کی یہ آیات نازل ہوئیں اور ان میں صرف ظہار کا حکم شرعی اور اس کی تکلیف دور کرنے کا انتظام ہی نہیں فرمایا بلکہ اس کی دلداری کے لئے شروع کلام میں فرما دیا کہ ہم اس عورت کی باتیں سن رہے تھے، جو اپنے شوہر کے معاملہ میں آپ سے مجادلہ کر رہی تھی، مجادلہ سے مراد وہ جھگڑا جس سے مراد ایک مرتبہ جواب دے دینے کے باوجود اپنی تکلیف کو بار بار بیان کر کے آپ کو متوجہ کرنا اور بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب ان کو یہ جواب دیا کہ تمہارے معاملہ میں مجھ پر کوئی حکم اللہ کا نازل نہیں ہوا تو اس پر غم زدہ کی زبان سے یہ نکلا کہ یوں تو آپ پر ہر چیز کے حکم نازل ہوتے رہتے ہیں میرے بارے میں کیا ہوا کہ وحی بھی رک گئی ؟ (قرطبی)
اور اللہ تعالیٰ سے فریاد شروع کی وتشتکی الی اللہ اس پر حق تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
حضرت صدیقہ عائشہ فرماتی ہیں پاک ہے وہ ذات جس کا سماع تمام آوازوں کو محیط ہے، ہر ایک کی آواز سنتا ہے میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھی، جب خولہ بنت ثعلبہ اپنے شوہر کی شکایت بیان کر رہی تھیں مگر اتنے قریب ہونے کے باوجود ان کی بعض باتیں نہ سن سکی تھی، مگر حق تعالیٰ نے ان سب کو سنا اور فرمایا قد سمع اللہ (بخاری، ابن کثیر)
Ayah 58:2(آیت) اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَاۗىِٕــهِمْ ، یظاہرون، ظہار بکسر ظآ سے مشتق ہے جو بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی ایک خاص صورت کے لئے بولا جاتا ہے اور زمانہ اسلام سے پہلے رائج و معروف ہے، وہ صورت یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو یہ کہہ دے انت علی کظہر امی یعنی تو مجھ پر ایسی حرام ہے جیسے میری ماں کی پشت، اس موقع پر پشت کا ذکر شاید بطور کنایہ کے ہے کہ اصل مراد تو بطن تھا ذکر پشت کا کردیا (کما ذکرہ القرطبی)
ظہار کی تعریف اور حکم شرعی
اصطلاح شرع میں ظہار کی تعریف یہ ہے کہ اپنی بیوی کو اپنی محرمات ابدیہ، ماں، بہن، بیٹی وغیرہ کے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کو دیکھنا اس کے لئے جائز نہیں، ماں کی پشت بھی اس کی ایک مثال ہے، زمانہ جاہلیت میں یہ لفظ دائمی حرمت کے لئے بولا جاتا تھا اور طلاق کے لفظ سے بھی زیادہ شدید سمجھا جاتا تھا، کیونکہ طلاق کے بعد تو رجعت یا نکاح جدید ہو کر پھر بیوی بن سکتی ہے مگر ظہار کی صورت میں رسم جاہلیت کے مطابق ان کے آپس میں میاں بیوی ہو کر رہنے کی قطعی کوئی صورت نہ تھی۔
آیات مذکورہ کے ذریعہ شریعت اسلامیہ نے اس رسم کی اصلاح دو طرح فرمائی، اول تو خود اس رسم ظہار کو ناجائز و گناہ قرار دیا، کہ جس کو بیوی سے علیحدگی اختیار کرنا ہے اس کا طریقہ طلاق ہے، اس کو اختیار کرے، ظہار کو اس کام کے لئے استعمال نہ کرے کیونکہ یہ ایک لغو اور جھوٹا کلام ہے کہ بیوی کو ماں کہہ دیا، قرآن کریم نے فرمایا (آیت) مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ ۭاِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اڿ وَلَدْنَهُمْ ۭ، یعنی ان کے اس بیہودہ کلام کی وجہ سے بیوی ماں نہیں بن جاتی، ماں تو وہی ہے جس کے بطن سے پیدا ہوا ہے، پھر فرمایا (آیت) وَاِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُوْرًا، یعنی ان کا یہ قول جھوٹ بھی ہے کہ خلاف واقع بیوی کو ماں کہہ رہا ہے اور منکر یعنی گناہ بھی ہے۔
دوسری اصلاح یہ فرمائی کہ اگر کوئی ناواقف جاہل یا احکام دین سے غافل آدمی ایسا کر ہی بیٹھے تو اس لفظ سے حرمت ابدی شریعت اسلام میں نہیں ہوتی، لیکن اس کو کھلی چھٹی بھی نہیں دی جاتی کہ ایسا لفظ کہنے کے بعد پھر بیوی سے پہلے کی طرح اختلاط و انتفاع کرتا رہے، بلکہ اس پر ایک جرمانہ کفارہ کا لگایا گیا کہ اگر پھر یہ اپنی بیوی سے رجوع ہونا چاہتا ہے اور سابق کی طرح بیوی سے انتفاع چاہتا ہے تو کفارہ ادا کر کے اپنے اس گناہ کی تلافی کرے، بغیر کفارہ ادا کئے بیوی حلال نہ ہوگی
Ayah 58:3اگلی آیت میں (آیت) وَالَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَاۗىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا کا یہی مطلب ہے، یعودون لما قالوا میں حرف لام کو عن کے معنی میں لیا گیا، یعنی رجوع کرتے ہیں وہ اپنے قول سے اور حضرت ابن عباس سے یعودون کی تفسیر بلفظ یندمون بھی منقول ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ قول کہنے کے بعد وہ اپنے قول پر نادم ہوجائیں اور پھر بیوی سے اختلاط کرنا چاہیں (مظہری)
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کفارہ کا وجوب بیوی کے ساتھ اختلاط حلال ہونے کی غرض سے ہے اس کے بغیر حلال نہیں، خود ظہار اس کفارہ کی علت نہیں، بلکہ ظہار کرنا ایک گناہ ہے جس کا کفارہ توبہ و استغفار ہے، جس کی طرف آیت کے آخر میں وَاِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ سے اشارہ کردیا گیا ہے، اس لئے اگر کوئی شخص ظہار کر بیٹھے اور اب بیوی سے اختلاط نہیں رکھنا چاہتا تو کوئی کفارہ لازم نہیں، البتہ بیوی کی حق تلفی ناجائز ہے، اگر وہ مطالبہ کرے تو کفارہ ادا کر کے اختلاط کرنا یا پھر طلاق دے کر آزاد کرنا واجب ہے، اگر یہ شخص خود نہ کرے تو بیوی حاکم اسلام کی طرف مراجعت کر کے شوہر کو اس پر مجبور کرسکتی ہے، یہ سب مسائل کتب فقہ میں مفصل لکھے گئے ہیں
فتحریر رقبة الایة، یعنی کفارہ ظہار کا یہ ہے کہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کرے، اگر اس پر قدرت نہ ہو تو دو مہینے کے لگار تار مسلسل روزے رکھے اور کسی بیماری یا ضعف کے سبب اتنے روزوں پر بھی قدرت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے، یعنی دونوں وقت پیٹ بھرائی کھانا ساٹھ مسکینوں کو کھلاوے اور کھانا کھلانے کے قائم مقام یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو فی کس ایک فطرہ کی مقدار گندم یا اس کی قیمت دیدے، فطرہ کی مقدار ہمارے موجودہ وزن کے اعتبار سے پونے دو سیر گندم ہیں اس کی قیمت بھی دی جاسکتی ہے۔
ظہار سے متعلقہ احکام اور اس کے کفارہ کے مفصل مسائل کتب فقہ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔
حدیث میں ہے کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ کی واویلا اور فریاد پر جب آیات مذکورہ اور کفارہ ظہار کے احکام نازل ہوئے اور شوہر سے دائمی مفارقت و حرمت سے بچنے کا راستہ نکل آیا تو آنحضرت ﷺ نے ان کے شوہر کو بلایا، دیکھا کہ ضعیف البصر بوڑھا آدمی ہے، آپ نے اس کو نازل شدہ آیات اور کفارہ کا حکم سنایا کہ ایک غلام یا لونڈی آزاد کردو، اس نے کہا کہ یہ میری قدرت میں نہیں کہ غلام خرید کر آزاد کروں آپ نے فرمایا کہ پھر دو مہینے کے مسلسل روزے رکھو، اس نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو رسول برحق بنایا، میری حالت یہ ہے کہ اگر دن میں دو تین مرتبہ کھانا نہ کھاؤں تو میری نگاہ بالکل ہی جاتی رہتی ہے، آپ نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ، اس نے عرض کیا کہ یہ بھی میری قدرت میں نہیں بجز اس کے آپ ہی کچھ مدد کریں، آپ نے اس کو کچھ غلہ عطا فرمایا، پھر کچھ دوسرے لوگوں نے جمع کردیا اس طرح ساٹھ مسکینوں کو فطرے کی مقدار دے کر کفارہ ادا ہوگیا (ابن کثیر)
Ayah 58:4(آیت) ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۭ وَتِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ ۭ وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ
اس آیت میں لتومنوا فرمایا اور مراد ایمان سے شرائع و احکام پر عمل کرنا اور پھر فرمایا کہ یہ کفارہ وغیرہ کے احکام اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان میں تجاویز کرنا حرام ہے، اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ اسلام نے نکاح، طلاق، ظہار اور دوسرے سب معاملات میں جاہلیت کی رسوم کو مٹا کر ان کی جگہ معتدل اور صحیح طریقوں کی تعلیم دی ہے، تم اس پر قائم رہو اور جو لوگ ان حدود شرعیہ کے منکر اور کافر ہیں ان کو درد ناک سزا ملے گی ،
Ayah 58:5(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَاۗدُّوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَـمَا كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ، سابقہ آیت میں حدود اللہ اور شریعت اسلام کے احکام کی پابندی کی تاکید کی تھی، اس میں ان لوگوں پر وعید ہے جو حدود اللہ کے مخالف اور منکر ہیں، اس وعید میں ان کے لئے دنیا میں بھی انجام کار ذلت و خواری اور ان کے کفر یہ عزائم کی ناکامی کا بیان ہے اور آخرت میں عذاب الیم کا۔
Ayah 58:6(آیت) اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَنَسُوْهُ میں اس پر تنبیہ ہے کہ غافل انسان دنیا میں گناہ اور فسق و فجور کے کام کرتا رہتا ہے جو اس کو یاد بھی نہیں رہتے اور بھولنے کا سبب دراصل یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کام کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اس لئے ذہن میں بھی نہیں رہتا، وہ سب اللہ تعالیٰ کے پاس لکھے ہوئے ہیں، یہ تو کر کے بھول گئے مگر اللہ تعالیٰ کو سب یاد ہیں سب پر محاسبہ اور عذاب ہوگا۔
Ayah 58:7شان نزول
اسباب نزول ان آیات کے چند واقعات ہیں، اول یہود اور مسلمانوں میں صلح تھی، لیکن یہود جب کسی مسلمان کو دیکھتے تو اس کے خیالات پریشان کرنے کے لئے آپس میں سر گوشی کرنے لگتے، وہ مسلمان سمجھتا کہ میرے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں، حضور ﷺ نے یہود کو اس سے منع فرمایا مگر وہ باز نہ آئے، اس پر (آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى الخ نازل ہوئی۔
دوماسی طرح منافقین بھی باہم سرگوشی کیا کرتے اس پر آیت اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا الخ اور آیة انما النجوی الخ نازل ہوئی، سومیہود آپ کے حضور میں آتے تو از راہ شرارت بجائے السلام علیکم کہنے کے السام علیکم کہتے، سام بمعنی موت کے ہیں، چہارم منافقین بھی اسی طرح کہتے ان دونوں واقعوں پر (آیت) وَاِذَا جَاۗءُوْكَ حَيَّوْكَ الخ نازل ہوا اور ابن کثیر نے امام احمد کی روایت سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ یہود اس طرح سلام کر کے خفیہ کہتے لَوْلَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ ، یعنی اگر ہم نے یہ گناہ کیا ہے تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا، پنجمایک بار آپ صفہ مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور مجلس میں مجمع زیادہ تھا، چند صحابہ جو غزوہ بدر کے شرکاء میں سے تھے آئے تو ان کو کہیں جگہ نہ ملی اور نہ اہل مجلس نے ایسا کیا کہ مل مل کر بیٹھ جاتے جس سے جگہ کھل جاتی، آپ نے جب دیکھا تو بعضے آدمیوں کو مجلس سے اٹھنے کے لئے فرما دیا، منافقین نے طعن کیا کہ یہ کونسی انصاف کی بات ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو اپنے بھائی کے لئے جگہ کھول دے، سو لوگوں نے جگہ کھول دی، اس پر آیت يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا الخ نازل ہوئی، رواہ ابن کثیر عن ابی حاتم، مجموعہ اجزا روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اول آپ نے جگہ کھولنے کے لئے فرمایا ہوگا، بعضوں نے تو جگہ کھول دی، جو کافی نہ ہوئی ہوگی اور بعضوں نے جگہ نہیں کھولی، آپ نے تادیباً جیسے مدارس کے طلبہ میں ہوتا ہے ان کو اٹھ جانے کے لئے فرمایا جو کہ منافقین کو ناگوار ہوا۔
ششمبعض اغنیاء حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر بڑی دیر تک آپ سے سرگوشی کیا کرتے اور فقراء کو استفادہ کا وقت کم ملتا، آپ کو ان لوگوں کا دیر تک بیٹھنا اور دیر تک سرگوشی کرنا ناگوار گزرتا اس پر آیت اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ الخ نازل ہوئی، فتح البیان میں زید بن اسلم سے بلا سند نقل کیا ہے کہ یہود و منافقین بلا ضرورت آپ سے سرگوشیاں کرتے، مسلمانوں کو اس خیال سے کہ شاید کسی نقصان دہ بات کی سرگوشی ہونا گوار گزرتا، اس پر ان کو منع کیا گیا، جس کا ذکر آیت نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى میں ہے، مگر جب وہ باز نہ آئے تو یہ حکم نازل ہوا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ الخ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اہل باطل اس سرگوشی سے رک گئے، کیونکہ حب مال کی وجہ سے صدقہ ان کو گوارا نہ تھا۔
ہفتمجب آنحضرت ﷺ سے سرگوشی کرنے سے پہلے صدقہ دینے کا حکم ہوا تو بہت سے آدمی ضروری بات کرنے سے بھی رک گئے، اس پر آیت ءاشفقتم نازل ہوئی، حضرت حکیم الامت ؒ نے فرمایا کہ صدقہ دینے کے حکم میں پہلے سے بھی فان لم تجدوا میں نادراروں کو رخصت دے دیگئی تھی، لیکن بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ نہ تو بالکل نادار ہوتے ہیں اور نہ پورے صاحب ثروت ہوتے ہیں گو صاحب نصاب ہوں، غالباً ایسے لوگوں کو تنگی پیش آئی ہوگی کہ کم و سعتی کی وجہ سے تو خرچ کرنا شاق ہوا اور اپنی ناداری میں بھی شبہ ہوا، اس لئے نہ صدقہ دے سکے اور نہ اپنے کو محل رخصت سمجھا اور سرگوشی کرنا کوئی عبادت نہ تھی کہ اس کا چھوڑنا ملامت کا سبب ہو سکے، اس لئے اس سے رک گئے (الروایات کلہا فی الدر المنثور) ان اسباب نزول سے فہم تفسیر میں اعانت و سہولت ہوگی (ازبیان القرآن)
خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے اس پر نظر نہیں فرمائی (مطلب اوروں کو سنانا ہے جو ممنوع کی ہوئی سرگوشی سے باز نہ آتے تھے) کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے (اور اسی میں ان کی تناجی یعنی سرگوشی بھی داخل ہے پس) کوئی سرگوشی تین آدمیوں کی ایسی نہیں ہوتی جس میں چوتھا وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) نہ ہو اور نہ پانچ کی (سرگوشی) ہوتی ہے جس میں چھٹا وہ نہ ہو اور نہ اس (عدد) سے کم (میں ہوتی ہے جیسے دو یا چار آدمیوں میں) اور نہ اس سے زیادہ (میں ہوتی ہے، جیسے چھ سال یا زیادہ آدمیوں میں) مگر وہ (ہر حالت میں) ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے (خواہ) وہ لوگ کہیں بھی ہوں، پھر ان (سب) کو قیامت کے روز ان کے کئے ہوئے کام بتلا دے گا، بیشک اللہ تعالیٰ کو ہر بات کی پوری خبر ہے (اس آیت کا مضمون بعنوان کلی اگلے مضامین جزئیہ کی تمہید ہے یعنی یہ ایذاء مسلمین کے لئے باطل سرگوشی کرنے والے خدا سے ڈرتے نہیں کہ خدا کو سب خبر ہے اور ان کو سزا دے گا، آگے وہ جزئی مضامین ہیں، یعنی) کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جن کو سرگوشی سے منع کردیا گیا تھا (مگر) پھر (بھی) وہ وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کردیا گیا تھا اور گناہ اور ظلم اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی ایسی سرگوشی کرتے ہیں جس میں بوجہ منہی عنہ ہونے کے خود بھی گناہ ہے اور مسلمانوں کو غمگین کرنے کی وجہ سے عدوان یعنی ظلم بھی ہے اور بوجہ اس کے کہ حضور ﷺ منع فرما چکے تھے رسول کی نافرمانی بھی ہے جیسا واقعہ اول اور دوم میں بیان ہوا) اور وہ لوگ (ایسے ہیں کہ) جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ کو ایسے لفظ سے سلام کرتے ہیں جس سے اللہ نے آپ کو سلام نہیں فرمایا (یعنی اللہ تعالیٰ کے الفاظ تو یہ ہیں (آیت) سلم علی المرسلین، سلام علی عبادہ الذین اصطفے، صلوا علیہ وسلم وا تسلیما اور وہ کہتے ہیں السام علیک) اور اپنے جی میں (یا اپنے آپس میں) کہتے ہیں کہ (اگر یہ پیغمبر ہیں تو) اللہ تعالیٰ ہم کو ہمارے اس کہنے پر (جس میں سراسر آپ کی بےادبی ہے) سزا (فوراً) کیوں نہیں دیتا (جیسا واقعہ سوم و چہارم میں گزرا، آگے ان کے اس فعل کی وعید اور اس قول کا جواب ہے کہ جلدی عذاب بعض حکمتوں کے سبب نہ آنے سے مطلقاً عذاب نہ دینا لازم نہیں آتا) ان (کی سزا) کے لئے جہنم کافی ہے اس میں یہ لوگ (ضرور) داخل ہوں گے سو وہ راہ ٹھکانا ہے (آگے ایمان والوں کو خطاب ہے جس سے منافقین کے ساتھ مشابہت کرنے سے ان کو بھی ممانعت کی گئی ہے اور منافقین کو بھی سنانا منظور ہے کہ تم تو مدعی ایمان کے ہو تو مقتضائے ایمان پر عمل کرو پس ارشاد ہے کہ) اے ایمان والوں جب تم (کسی ضرورت سے) سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشیاں مت کرو (تفسیر ان الفاظ کی ابھی گزری ہے) اور نفع رسانی اور پرہیزگاری کی باتوں کی سرگوشیاں کرو (برعدو ان کا مقال ہے، اس سے مراد وہ نفع ہے جو دوسروں تک پہنچے اور تقویٰ ، اثم اور معصیت الرسول یعنی رسول کی نافرمانی کا مقابل ہے) اور اللہ سے ڈرو جس کے پاس تم سب جمع کئے جاؤ گے، ایسی سرگوشی محض شیطان کی طرف سے (یعنی اس کے بہکانے سے) ہے تاکہ مسلمانوں کو رنج میں ڈالے (جیسا واقعہ اول میں بیان ہوا) اور (آگے ان مسلمانوں کی تسلی ہے کہ رنجیدہ نہ ہوا کریں، کیونکہ) وہ (شیطان) بدون خدا کے ارادہ کے ان (مسلمانوں) کو کچھ ضرر نہیں پہنچا سکتا (مطلب یہ کہ اگر بالفرض وہ شیطان کے بہکانے سے تمہارے خلاف ہی کوئی تدبیر کر رہے ہیں تب بھی وہ ضرر بغیر مشیت ازلیہ کے تم کو نہیں پہنچ سکتا پھر کیوں فکر میں پڑتے ہو) اور مسلمانوں کو (ہر امر میں) اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے (آگے واقعہ پنجم کے متعلق حکم ہے، یعنی مجلس میں کچھ لوگ بعد میں آجائیں تو ان کے لئے جگہ کھولنے کا حکم ہے کہ) اے ایمان والو ! جب تم سے کہا جاوے (یعنی رسول اللہ ﷺ فرما دیں یا اولی الامر یا واجب الاطاعت لوگوں میں سے کوئی کہے) کہ مجلس میں جگہ کھول دو (جس میں آنے والے کو بھی جگہ مل جاوے) تو تم جگہ کھول دیا کرو (اور آنے والے کو جگہ دے دیاکرو) اللہ تعالیٰ تم کو (جنت میں) کھلی جگہ دے گا اور جب (کسی ضرورت سے) یہ کہا جاوے کہ (مجلس سے) اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہوا کرو (خواہ اٹھنے کے لئے اس غرض سے کہا جاوے کہ آنے والے کے لئے جگہ کھل جاوے اور خواہ اس وجہ سے کہا جاوے کہ صدر مجلس کو اس وقت کسی مصلحت، مشورہ خاص یا کسی ضرورت آرام یا عبادت وغیرہ سے تنہائی کی ضرورت ہو جو بغیر تنہائی کے مطلقاً حاصل نہ ہو سکیں یا کامل نہ ہو سکیں، بس صدر مجلس کے کھڑے ہونے کے حکم سے اٹھ جانا چاہئے اور یہ حکم غیر رسول اللہ ﷺ کے لئے بھی عام ہے، کذا فی الروح، پس صاحب مجلس کو ضرورت کے وقت اس کی اجازت ہے کہ کسی شخص کو اٹھ جانے کے لئے کہہ دے، البتہ آنے والے کو نہ چاہئے کہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ بیٹھ جائے، جیسا کہ حدیث میں ہے (رواہ الشیخان) غرض حکم یہ دیا گیا کہ صدر مجلس کے کہنے سے اٹھ جایا کرو) اللہ تعالیٰ (اس حکم کی اطاعت سے) تم میں ایمان والوں کے اور (ایمان والوں میں) ان لوگوں کے (اور زیادہ) جن کو علم (دین) عطا ہوا ہے (اخروی) درجے بلند کر دے گا (یعنی اس حکم کو بجا لانے والوں کی تین قسمیں ہیں، ایک کفار جو کسی مصلحت دنیویہ سے مان لیں جیسے منافقین وہ تو لفظ منکم کی بنا پر اس وعدہ سے خارج ہیں دوسرے اہل ایمان جو صحاب علم نہ ہوں ان کے لئے محض رفع درجات ہے، تیسرے وہ اہل ایمان جو اہل علم بھی ہوں، چونکہ بوجہ علم و معرفت ان کے عمل کا منشاء زیادہ خشیت و زیادہ خلوص ہے، جس سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے ان کے لئے مزید رفع درجات ہیں) اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے (کہ کس کا عمل ایمان کے ساتھ ہے اور کس کا بغیر ایمان کے، پھر اس میں کس کے عمل میں کم خلوص ہے اور کس کے عمل میں زیادہ خلوص ہے، اس لئے ہر ایک کی جزاء وثمرہ میں تفاوت رکھا، آگے واقعہ ششم کے متعلق حکم ہے جو واقعہ اول و دوم سے مربوط ہے یعنی) اے ایمان والو ! جب تم رسول ﷺ سے سرگوشی (کرنے کا ارادہ) کیا کرو تو اپنی اس سرگوشی سے پہلے کچھ خیرات (مساکین کو) دے دیا کرو (جس کی مقدار آیت میں منصوص نہیں اور روایات حدیث میں مختلف مقداریں آئی ہیں، ظاہراً مقدار غیر معین معلوم ہوتی ہے لیکن معتدبہ ہونا ضروری ہے) یہ تمہارے لئے (ثواب حاصل کرنے کے واسطے) بہتر ہے اور (گناہوں سے) پاک ہونے کا اچھا ذریعہ ہے (کیونکہ اطاعت سے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، یہ مصلحت مالدار مومنین کے اعتبار سے ہے اور فقراء مومنین کے اعتبار سے یہ ہے کہ ان کو نفع مالی پہنچے گا، جیسے لفظ صدقہ سے معلوم ہوتا ہے، کیونکہ صدقہ کے مصارف فقراء ہی ہیں اور رسول اللہ ﷺ کے اعتبار سے یہ ہے کہ اس میں آپ کی شان کی بلندی ہے اور منافقین کی سرگوشی سے آپ کو جو تکلیف ہوتی تھی اس سے نجات اور آرام ہے کیونکہ ان کی ضرورت تو تناجی یعنی سرگوشی کی تھی نہیں اور بےضرورت محض اس لئے مال خرچ کرنا ان کو از حد شاق تھا اور غالباً اس صدقہ میں حکم یہ ہوگا کہ سب کے سامنے صدقہ کریں تاکہ نہ کرنے والا دھوکہ نہ دے سکے، آگے فرماتے ہیں کہ یہ حکم تو مقدور کی حالت میں ہے) پھر اگر تم کو (صدقہ دینے کا) مقدور نہ ہو (اور ضرورت پڑے سرگوشی کی) تو اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے (اس صورت میں اس نے تم کو معاف کردیا ہے، اس سے ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم صدقہ کا واجب تھا، مگر ناداری کی صورت مستثنیٰ تھی، آگے واقعہ ہفتم کے متعلق جو کہ واقعہ ششم سے مربوط ہے ارشاد ہے کہ) کیا تم (یعنی تم میں سے بعض جن کا بیان واقعہ ہفتم کے ذیل ہوا ہے) اپنی سرگوشی کے قبل خیرات دینے سے ڈر گئے سو (خیر) جب تم (اس کو) نہ کرسکے اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے حال پر عنایت فرمائی (کہ بالکل اس کو منسوخ کر کے معاف فرما دیا جس کی حکمت ظاہر ہے کہ جس مصلحت کے واسطے یہ حکم واجب ہوا تھا وہ مصلحت حاصل ہوگئی کیونکہ مصلحت سد باب تھی جو بعد نسخ بھی باقی رہی کہ لوگ احتیاط کرنے لگے، غرض ارشاد ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس کو منسوخ فرما دیا) تو تم (دوسری عبادت کے پابند رہو یعنی) نماز کے پابند رہو اور زکوٰة دیا کرو اور اللہ رسول کا کہنا مانا کرو (مطلب یہ ہے کہ اس کے نسخ کے بعد تمہارے قرب و قبول نجات کے لئے احکام باقیہ پر استقامت و ہمیشگی ہی کافی ہے) اور اللہ کو تمہارے سب اعمال کی (اور ان کی حالت ظاہری و باطنی کی) پوری خبر ہے۔
معارف و مسائل
آیات مذکورہ اگرچہ خاص واقعات کی بنا پر نازل ہوئی ہیں جن کا ذکر اوپر شان نزول میں آ چکا ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ سبب نزول کچھ بھی ہو ہدایات قرآنی عام ہوتی ہیں، ان میں عقائد و عبادات اور معاملات و معاشرے کے متعلق تمام احکام ہوتے ہیں، ان آیات میں بھی باہمی سرگوشی اور مشورے کے متعلق چند ایسی ہی ہدایات ہیں۔
خفیہ مشوروں کے متعلق ایک ہدایت
خفیہ مشورہ عموماً مخصوص راز دار دوستوں میں ہوتا ہے، جن پر یہ اطمینان کیا جاتا ہے کہ اس راز کو کسی پر ظاہر نہ کریں گے، اس لئے ایسے موقع پر ایسے منصوبے بھی بنائے جاتے جن میں کسی پر ظلم کرنا، کسی کو قتل کرنا ہے، کسی کی املاک پر قبضہ کرلینا ہے، وغیر ذلک، حق تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا علم ساری کائنات پر حاوی ہے تم کہیں کیسا ہی چھپ کر مشورہ کرو اللہ تعالیٰ اپنے علم اور سمع و بصر کے اعتبار سے تمہارے پاس موجود ہوتا ہے اور تمہاری ہر بات کو دیکھتا سنتا اور جانتا ہے، اگر اس میں کوئی گناہ کرو گے تو سزا سے نہ بچوگے، اس میں بتلانا تو یہ ہے کہ تم کتنے ہی کم یا زیادہ آدمی مشورہ اور سرگوشی میں شریک ہو حق تعالیٰ ان میں موجود ہوتا ہے، مثال کے طور پر دو عدد بتلا دیئے گئے، تین اور پانچ، یعنی اگر تم تین آدمی مشورہ کر رہے ہو تو سمجھو کہ چوتھا اللہ تعالیٰ وہاں موجود ہے اور پانچ آدمی مشورہ کر رہے ہو تو سمجھو کہ چھٹا حق تعالیٰ موجود ہے، تین اور پانچ کے عدد کی تخصیص میں شاید اس طرف اشارہ ہو کہ جماعت کے لئے اللہ کے نزدیک طاق عدد پسند ہی (مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ الآیہ) کا یہی حاصل ہے۔
Ayah 58:8سرگوشی اور مشورہ کے متعلق ایک ہدایت
(آیت) اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى، واقعہ شان نزول میں بتلایا گیا ہے کہ جس زمانے میں یہود سے رسول اللہ ﷺ کا معاہدہ صلح ہوگیا تھا اس وقت وہ کھل کر تو مسلمانوں کے خلاف کوئی کام نہ کرسکتے تھے مگر اسلام اور مسلمانوں سے دل میں بھرا ہوا بغض نکالنے کا ایک یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ جب صحابہ کرام میں سے کسی کو اپنے قریب آتے دیکھتے تو باہم سرگوشی اور خفیہ مشورہ کی شکل بنا لیتے اور آنے والے مسلمانوں کی طرف کچھ اشارے کرتے جس سے ان کو یہ خیال پیدا ہوتا کہ ہمارے خلاف کوئی سازش کر رہے ہیں اور اس سے پریشانی اور رنج ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایسی سرگوشی سے منع فرمایا، نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى میں اسی ممانعت کا بیان ہے۔
اس ممانعت سے یہ حکم مسلمانوں کے لئے بھی نکل آیا کہ وہ بھی آپس میں کوئی سرگوشی اور مشورہ اس طرح نہ کریں جس سے دوسرے کسی مسلمان کو ایذاء پہنچے۔
بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اذا کنتم ثلثة فلا یتناجا رجلان دون الاخر حتی یختلطوا بالناس فان ذلک یحزنہ، یعنی جس جگہ تم تین آدمی جمع ہو تو دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر باہم سرگوشی اور خفیہ باتیں نہ کیا کرو جب تک دوسرے آدمی نہ آجائیں، کیونکہ اس سے اس کی دل شکنی ہوگی (غیریت اور اجنبیت کا احساس ہوگا اور ممکن ہے کہ ایسے شبہات پیدا ہوجائیں کہ شاید یہ دونوں کوئی بات میرے خلاف کر رہے ہیں جو مجھ سے چھپاتے ہیں) (از مظہری)
Ayahs 58:9–10(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ فَلَا تَتَـنَاجَوْا بالْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَمَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ وَتَنَاجَوْا بالْبِرِّ وَالتَّقْوٰى، سابقہ آیات میں کفار کو ناجائز سرگوشی پر تنبیہ کی گئی تھی، اس آیت میں مسلمانوں کو ہدایت ہے کہ اپنی سرگوشیوں اور مشوروں میں اس کا دھیان رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے سب حالات اور گفتگو کا علم ہے اور اس استحضار کے ساتھ یہ کوشش کریں کہ ان کے مشورے اور سرگوشی میں کوئی بات فی نفسہ گناہ کی یا دوسروں پر ظلم کرنے کی یا کسی خلاف شرع کام کی نہ ہو، بلکہ جب بھی آپس میں مشورہ کرو نیک کاموں کے لئے کرو۔
کفار کی شرارت پر بھی نرمی اور شریفانہ مدافعت کی ہدایت
سابقہ آیات کے ضمن میں یہودیوں اور منافقوں کی ایک شرارت یہ بھی ذکر کی گئی ہے کہ وہ جب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو بجائے السلام علیکم کے السام علیکم کہتے تھے، سام کے معنی موت کے ہیں اور لفظوں میں زیادہ فرق نہ ہونے کے سبب مسلمانوں کی اس طرف التفات نہ ہوتا تھا، ایک روز ایسا ہی ہوا، صدیقہ عائشہ بھی سن رہی تھیں جب انہوں نے حضور ﷺ کو السام علیکم کہا تو صدیقہ عائشہ نے جواب دیا السام علیکم و لعنکم اللہ و غضب علیکم یعنی ”ہلاکت تم پر ہو اور خدا کی لعنت و غضب“ آنحضرت ﷺ نے حضرت صدیقہ کو ایسا کہنے سے روکا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فحش کلام کو پسند نہیں فرماتے، آپ کو سختی و درشتی سے بچنا اور نرمی اختیار کرنا چاہئے، صدیقہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا آپ نے نہیں سنا کہ ان لوگوں نے آپ کو کیا کہا ہے، آپ نے فرمایا کہ ہاں سن بھی لیا اور اس کا معتدل بدلہ بھی لے لیا، کہ میں نے جواب میں کہہ دیا علیکم یعنی ”ہلاکت تم پر ہو“ اور یہ ظاہر ہے کہ ان کی دعا قبول ہوگی نہیں، میری دعا قبول ہوگی، اس لئے ان کی شرارت کا بدلہ ہوگیا (رواہ البخاری، از مظہری)
Ayah 58:11بعض آداب مجلس
(آیت) (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا فِي الْمَجٰلِسِ فَافْسَحُوْا) الایتہ،
یہ حکم عام مجلس کا ہے جہاں مسلمانوں کا اجتماع ہو کہ جب مجلس میں کچھ لوگ بعد میں آجائیں تو مسلمان ان کیلئے جگہ دینے کی کوشش کریں اور سمٹ کر بیٹھ جائیں، ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ وسعت پیدا فرما دیں گے، یہ وسعت آخرت میں تو ظاہر ہی ہے، کچھ بعید نہیں کہ دنیوی معیشت میں بھی یہ وسعت حاصل ہو۔
اس آیت میں دوسرا حکم آداب مجلس کے متعلق یہ کہ وَاِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا یعنی ”جب (تم میں سے کسی سے) کہا جائے کہ مجلس سے اٹھ جاؤ تو اسے اٹھ جانا چاہئے“ اس آیت میں لفظ قیل مجہول استعمال فرمایا ہے اس کا ذکر نہیں کہ یہ کہنے والا کون ہو، مگر احادیث صحیحہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خود آنے والے شخص کو اپنے لئے جگہ کرنے کے واسطے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھانا جائز نہیں۔
صحیحین اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا یقیم الرجل الرجل من مجلسہ فیجلس فیہ ولکن تفسحوا وتوسعوا یعنی ”کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر اس کی جگہ نہ بیٹھے، بلکہ مجلس میں کشادگی پیدا کر کے آنے والے کو جگہ دے دیا کرو (ابن کثیر)
اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لئے کہنا آنے والے شخص کے لئے تو جائز نہیں اس لئے ظاہر یہ ہے کہ اس کا کہنے والا امیر مجلس یا مجلس کا انتظام کرنے والے افراد ہو سکتے ہیں، تو مطلب آیت کا یہ ہوا کہ اگر امیر مجلس یا اس کی طرف سے مقرر کردہ منتظمین کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کیلئے کہیں تو ادب مجلس یہ ہے کہ ان سے مزاحمت نہ کرے، اپنی جگہ سے اٹھ جائے، کیونکہ بعض اوقات خود صاحب مجلس کسی ضرورت سے خلوت اختیار کرنا چاہتا ہے، یا کچھ مخصوص لوگوں سے کوئی راز کی بات کرنا چاہتا ہے، یا بعد میں آنے والے حضرات کے لئے اس کے سوا کوئی انتظام نہیں پاتا کہ بعض بےتکلف لوگوں کو مجلس سے اٹھاوے جن کے متعلق معلوم ہو کہ ان کا کوئی نقصان مجلس سے اٹھنے میں نہیں ہوگا، یہ دوسرے وقت میں استفادہ کرسکیں گے۔
البتہ صاحب مجلس یا منتظمین مجلس کے لئے یہ لازم ہے کہ طریقہ ایسا اختیار کریں کہ اٹھنے والا اپنی خفت محسوس نہ کرے، اس کو ایذا نہ پہنچے۔
اور جس واقعہ میں یہ آیت نازل ہوئی ہے کہ آنحضرت ﷺ صفہ مسجد میں تشریف رکھتے تھے، یہ جگہ حاضرین سے پر ہوچکی تھی، بعد میں بعض اکابر صحابہ جو شرکاء بدر ہونے کے سبب قابل احترام زیادہ تھے وہ پہنچے اور جگہ نہ ہونے کے سبب کھڑے رہے، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے پہلے تو عام حکم یہ دیا کہ ذرا کھسک کر مجلس میں کشادگی پیدا کرو اور ان کو جگہ دے دو اور بعض حضرات صحابہ کو اٹھ جانے کے لئے بھی فرمایا، جن کو مجلس سے اٹھایا ان میں یہ بھی احتمال ہے کہ وہ ہر وقت کے حاضر باش لوگ ہوں جن کے اس وقت کی مجلس سے اٹھ جانے میں کوئی بڑا نقصان نہیں تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے جب مجلس میں وسعت کرنے اور سمٹ کر بیٹھنے کا حکم دیا تو کچھ لوگوں نے اس پر عمل نہیں کیا، ان تادیباً مجلس سے اٹھ جانے کا حکم دیا ہو۔
بہرحال اس آیت اور احادیث واردہ سے آداب مجلس کے متعلق ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ اہل مجلس کو چاہئے کہ بعد میں آنے والوں کو جگہ دینے کی کوشش کریں اور دوسری بات آنے والوں کے لئے یہ ثابت ہوئی کہ وہ کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائیں، تیسری بات صاحب مجلس کے لئے یہ ثابت ہوئی کہ وہ ضرورت سمجھے تو بعض لوگوں کو مجلس سے اٹھا دینے کی بھی اس کو گنجائش ہے اور بعض دوسری روایات حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آنے والوں کے لئے ادب یہ ہے کہ پہلے سے بیٹھے ہوئے لوگوں میں گھسنے کے بجائے کسی کنارے پر بیٹھ جائے جیسا کہ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں تین آنے والے شخصوں کا ذکر ہے ان میں ایک وہ بھی ہے جو مجلس میں جگہ نہ پانے کی وجہ سے ایک گوشہ میں بیٹھ گیا، آنحضرت ﷺ نے اس کی پھر تعریف وثناء فرمائی۔
مسئلہمجلس کے آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دو شخصوں کے درمیان بغیر ان کی اجازت کے داخل نہ ہو کہ بعض اوقات دونوں کے یک جا بیٹھنے میں ان کی کوئی خاص مصلحت ہوتی ہے، حضرت اسامہ بن زید لیثی کی روایت ابوداؤد و ترمذی میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لایحل لرجل ان یفرق بین اثنین الا باذنھما یعنی ”کسی شخص کے لئے حلال نہیں کہ دو شخص جو ملے بیٹھے ہیں ان کے درمیان تفریق پیدا کرے جب تک کہ ان سے ہی اجازت نہ ملے“ (ابن کثیر)
Ayahs 58:12–13(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ الایة، رسول اللہ ﷺ تعلیم و اصلاح خلق کے کام میں تو شب و روز مشغول رہتے ہی تھے، مجالس عامہ میں سب حاضرین مجلس آپ کے ارشادات سے فائدہ اٹھاتے تھے، اس سلسلے میں ایک صورت یہ بھی تھی کہ بعض لوگ آپ سے علیحدگی میں خفیہ بات کرنا چاہتے اور آپ وقت دے دیتے تھے، یہ ظاہر ہے کہ ایک ایک شخص کو الگ وقت دینا بڑا وقت بھی چاہتا ہے اور محنت بھی، اس میں کچھ منافقین کی شرارت بھی شامل ہوگئی کہ مخلص مسلمانوں کو ایذاء پہنچانے کے لئے آپ سے علیحدگی اور سرگوشی کا وقت مانگتے اور اس میں مجلس کو طویل کردیتے تھے، بعض ناواقف مسلمان بھی بات لمبی کر کے مجلس طویل کردیتے تھے، حق تعالیٰ نے آپ سے یہ بوجھ ہلکا کرنے کے لئے ابتداً یہ حکم نازل فرمایا کہ جو آنحضرت ﷺ سے علیحدگی میں خفیہ بات کرنا چاہے وہ پہلے کچھ صدقہ کر دے، اس صدقہ کی کوئی مقدار قرآن میں منقول نہیں، مگر جب یہ آیت نازل ہوئی تو سب سے پہلے حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے اس پر عمل فرمایا اور ایک دینار صدقہ کر کے آپ سے علیحدگی میں بات کرنے کا وقت لیا۔
تو ظاہر ہے بعد میں نہ کرنا اس لئے کہ منسوخ ہوگئی وہ آیت یہی تقدیم صدقہ کی ہے (ابن کثیر)
یہ حکم اگرچہ منسوخ ہوگیا مگر جس مصلحت کے لئے جاری کیا گیا تھا وہ اس طرح حاصل ہوگئی کہ مسلمان تو اپنی دلی محبت کے تقاضہ سے ایسی مجلس طویل کرنے سے بچ گئے اور منافقین اس لئے کہ عام مسلمانوں کے طرز کے خلاف ہم نے ایسا کیا تو ہم پہچان لئے جاویں گے اور نفاق کھل جاوے گا، واللہ اعلم۔
Ayahs 58:14–21خلاصہ تفسیر
کیا آپ نے ان لوگوں پر نظر نہیں فرمائی جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب کیا ہے (پہلے لوگوں سے مراد منافقین ہیں اور دوسرے لوگوں سے مراد یہود و جمیع کفار مجاہرین، اور منافقین چونکہ یہودی تھے اس لئے ان کی دوستی یہود سے اور اسی طرح اور کفار سے بھی مشہور اور معلوم ہے) یہ (منافق) لوگ نہ تو (پورے پورے) تم میں ہیں اور نہ (پورے پورے) ان ہی میں (بلکہ ظاہر میں تو تم سے ملے ہوئے ہیں اور باطناً و عقیدةً کفار کے ساتھ ہیں) اور جھوٹی بات پر قسمیں کھا جاتے ہیں (وہ جھوٹی بات یہی ہے کہ ہم مسلمانوں میں شامل ہیں کقولہ تعالیٰ ویحلفون باللہ انہم لمنکم وماہم منکم) اور وہ (خود بھی) جانتے ہیں (کہ ہم جھوٹے ہیں، آگے ان کے لئے وعید ہے کہ) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے (کیونکہ) بیشک وہ برے برے کام کیا کرتے تھے (چنانچہ کفر و نفاق سے بدتر کونسا کام ہوگا ؟ اور انہی برے کاموں میں سے ایک برا کام یہ ہے کہ) انہوں نے اپنی (ان جھوٹی) قسموں کو (اپنے بچاؤ کے لئے) ڈھال بنا رکھا ہے (تاکہ مسلمان ہم کو مسلمان سمجھ کر ہماری جان و مال سے تعرض نہ کریں) پھر (اوروں کو بھی) خدا کی راہ (یعنی دین) سے روکتے رہتے ہیں (یعنی بہکاتے رہتے ہیں) سو (اس وجہ سے) ان کے لئے ذلت کا عذاب ہونے والا ہے (یعنی وہ عذاب جیسا شدید ہوگا ایسا ہی ذلیل کرنے والا بھی ہوگا اور جب وہ عذاب ہونے لگے گا تو) ان کے اموال اور اولاد اللہ (کے عذاب) سے ان کو ذرا نہ بچا سکیں گے (اور) یہ لوگ دوزخی ہیں (اس میں تعیین فرما دی اس عذاب شدید و مہین کی کہ وہ دوزخ ہے اور) وہ لوگ اس (دوزخ) میں ہمیشہ رہنے والے ہیں (آگے وقت عذاب کا بتلاتے ہیں کہ وہ عذاب اس روز ہوگا) جس روز اللہ تعالیٰ ان سب کو (مع دیگر مخلوقات کے) دوبارہ زندہ کرے گا سو یہ اس کے روبرو بھی (جھوٹی) قسمیں کھا جاویں گے جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھا جاتے ہیں (جیسا مشرکین کی جھوٹی قسم قیامت کے دن اس آیت میں مذکور ہے (آیت) واللہ ربنا ماکنا مشر کین) اور یوں خیال کریں گے کہ ہم کسی اچھی حالت میں ہیں (کہ اس جھوٹی قسم کی بدولت بچ جاویں گے) خوب سن لو یہ لوگ بڑے ہی جھوٹے ہیں (کہ خدا کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے نہ چوکے اور ان کی جو حرکات اوپر مذکور ہیں وجہ اس کی یہ ہے کہ) ان پر شیطان نے پورا تسلط کرلیا ہے (کہ اس کے کہنے پر عمل کر رہے ہیں) سو اس نے ان کو خدا کی یاد بھلا دی (یعنی اس کے احکام کو چھوڑ بیٹھے واقعی) یہ لوگ شیطان کا گروہ ہے، خوب سن لو کہ شیطان کا گروہ ضرور برباد ہونے والا ہے (آخرت میں تو ضرور اور گاہے دنیا میں بھی اور ان کی یہ حالت کیوں نہ ہو کہ یہ اللہ اور رسول کے مخالف ہیں اور قاعدہ کلیہ ہے کہ) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں یہ لوگ (اللہ کے نزدیک) سخت ذلیل لوگوں میں ہیں (جب اللہ کے نزدیک ذلیل ہیں تو آثار مذکورہ کا ترتب کیا مستبعد ہے اور جس طرح خدا تعالیٰ نے ان کے لئے ذلت تجویز فرما رکھی ہے اسی طرح مطیعین کے لئے عزت کیونکہ وہ لوگ اللہ اور رسولوں کے متبع ہیں اور) اللہ تعالیٰ نے یہ بات (اپنے حکم ازلی میں) لکھ دی ہے کہ میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے (جو کہ حقیقت ہے عزت کی، مقصود یہاں غلبہ بیان کرنا ہے انبیاء کا، اپنا ذکر تشریف انبیاء کے لئے فرما دیا، پس جب رسل ذی عزت ہیں تو ان کے متبعین بھی اور معنی غلبہ کے سورة مائدہ کی آیت (آیت) ان حزب اللہ ھم الغلبون اور سورة مومن کی (آیت) لننصر رسلنا الخ کے ذیل میں گزر چکے ہیں) بیشک اللہ تعالیٰ قوت والا غلبہ والا ہے (اس لئے وہ جس کو چاہے غالب کر دے، آگے دوستی کفار میں منافقین کے حال کے خلاف اہل ایمان کا حال بیان فرماتے ہیں کہ) جو لوگ اللہ پر اور قیامت کے دن پر (پورا پورا) ایمان رکھتے ہیں، آپ ان کو نہ دیکھیں گے کہ وہ ایسے شخصوں سے دوستی رکھیں جو اللہ اور رسول کے برخلاف ہیں گو وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبہ ہی کیوں نہ ہو ان لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور ان (کے قلوب) کو اپنے فیض سے قوت دی ہے (فیض سے مراد نور ہے، یعنی مقتضائے ہدایت پر ظاہراً عمل و باطناً سکون قلب وہو المذکور فی قولہ تعالیٰ (آیت) فہو علے ٰ نورمن ربہ، چونکہ یہ نور سبب ہے زیادت حیات معنویہ کا اس لئے اس کو روح سے تعبیر فرمایا، یہ دولت تو ان کو دنیا میں ملی، کقولہ تعالیٰ (آیت) اولٓئک علی ہدی من ربہم) اور (آخرت میں ان کو یہ نعمت ملے گی کہ) ان کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگا اور وہ اللہ سے راضی ہوں گے یہ لوگ اللہ کا گروہ ہے خوب سن لو کہ اللہ ہی کا گروہ فلاح پانے والا ہے (کقولہ تعالیٰ اولٓئک ہم المفلحون، بعد قولہ اولٓئک علیٰ ھدی من ربہم)
معارف و مسائل
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ، ان آیات میں حق تعالیٰ نے ان لوگوں کی بدحالی اور انجام کار عذاب شدید کا ذکر فرمایا ہے جو اللہ کے دشمنوں کافروں سے دوستی رکھیں، کفار خواہ مشرکین ہوں یا یہود و نصاریٰ یا دوسرے اقسام کے کفار کسی مسلمان کے لئے دلی دوستی کسی سے جائز نہیں اور وہ عقلاً ہو بھی نہیں سکتی، کیونکہ مومن کا اصل سرمایہ اللہ تعالیٰ کی محبت ہے کفار اللہ تعالیٰ کے مخالف اور دشمن ہیں اور جس شخص کے دل میں کسی شخص کی سچی محبت اور دوستی ہو اس سے یہ ممکن ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے دشمن سے بھی محبت اور دوستی رکھے، اسی لئے قرآن کریم کی بہت سی آیات میں موالات کفار کی شدید حرمت و ممانعت کے احکام آئے ہیں اور جو مسلمان کسی کافر سے دلی دوستی رکھے تو اس کو کفار ہی کے زمرہ میں شامل سمجھے جانے کی وعید آئی ہے لیکن یہ سب احکام دلی اور قلبی دوستی کے متعلق ہیں۔
کفار کے ساتھ حسن سلوک، ہمدردی، خیر خواہی، ان پر احسان، حسن اخلاق سے پیش آنا یا تجارتی اور اقتصادی معاملات ان سے کرنا، دوستی کے مفہوم میں داخل نہیں، یہ سب امور کفار کے ساتھ بھی جائز ہیں، رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کا کھلا ہوا تعامل اس پر شاہد ہے، البتہ ان سب چیزوں میں اس کی رعایت ضروری ہے کہ ان کے ساتھ ایسے معاملات رکھنا اپنے دین کے لئے مضر نہ ہو اپنے ایمان اور عمل میں سستی پیدا نہ کرے اور دوسرے مسلمانوں کے لئے بھی مضر نہ ہو۔
اس مسئلہ میں مولات اور مواسات اور معاملات کے فرق کی پوری تفصیل سورة آل عمران (آیت) لا یتخذ المومنون الکفرین اولیا کے تحت معارف القرآن جلد دوم صفحہ 45 تا 49 میں گزر چکی ہے وہاں مطالعہ کرلیا جائے۔
ویحلفون علے الکذب، بعض روایات میں ہے کہ یہ آیت عبداللہ ابن ابی اور عبداللہ بن نبتل منافق کے بارے میں نازل ہوئی جس کا واقعہ یہ ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ صحابہ کرام کے ساتھ تشریف رکھتے تھے تو فرمایا کہ اب تمہارے پاس ایک ایسا شخص آنے والا ہے جس کا قلب قلب جبار ہے اور جو شیطان کی آنکھوں سے دیکھتا ہے، اس کے بعد ہی عبداللہ بن نبتل منافق داخل ہوا جو نیلگوں چشم، گندم گوں، پست قد، خفیف اللحیہ تھا، آپ نے اس سے فرمایا کہ تم اور تمہارے ساتھی مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو ؟ اس نے حلف کھا کے کہا کہ میں نے ایسا نہیں کیا، پھر اپنے ساتھیوں کو بھی بلالیا انہوں نے بھی یہ جھوٹا حلف کرلیا، حق تعالیٰ نے اس آیت میں ان کے جھوٹ کی خبر دے دی (قرطبی)
Ayah 58:22مسلمان کی دلی دوستی کسی کافر سے نہیں ہو سکتی
(آیت) لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَاۗدُّوْنَ مَنْ حَاۗدَّ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ وَلَوْ كَانُوْٓا اٰبَاۗءَهُمْ الایتہ، پہلی آیات میں کفار و مشرکین سے دوستی کرنے والوں پر غضب الٰہی اور عذاب شدید کا ذکر تھا، اس آیت میں مومنین مخلصین کا حال ان کے مقابل بیان فرمایا کہ وہ کسی ایسے شخص سے دوستی اور دلی تعلق نہیں رکھتے جو اللہ کا مخالف یعنی کافر ہے، اگرچہ وہ ان کا باپ یا اولاد یا بھائی یا اور قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔
صحابہ کرام سب ہی کا حال یہ تھا، اس جگہ مفسرین نے بہت سے صحابہ کرام کے واقعات ایسے بیان کئے ہیں جن میں باپ بیٹے، بھائی وغیرہ سے جب کوئی بات اسلام یا رسول اللہ ﷺ کے خلاف سنی تو سارے تعلقات کو بھلا کر ان کو سزا دی بعض کو قتل کیا۔
عبداللہ بن ابی منافق کے بیٹے عبداللہ کے سامنے اس کے منافق باپ نے حضور کی شان میں گستاخانہ کلمہ بولا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اجازت طلب کی کہ میں اپنے باپ کو قتل کر دوں، آپ نے منع فرما دیا، حضرت ابوبکر کے سامنے ان کے باپ ابو قحافہ نے حضور کی شان میں کچھ کلمہ گستاخانہ کہہ دیا تو ارحم امت صدیق اکبر کو اتنا غصہ آیا کہ زور سے طمانچہ رسید کیا جس سے ابو قحافہ گر پڑے، آپ کو اس کی اطلاع ہوئی تو فرمایا کہ آئندہ ایسا نہ کرنا، حضرت ابوعبیدہ بن جراح کے والد جراح غزوہ احد میں کفار کے ساتھ مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے آئے تو میدان جہاد میں وہ بار بار حضرت ابو عبیدہ کے سامنے آتے وہ ان کے درپے تھے یہ سامنے سے ٹل جاتے جب انہوں نے یہ صورت اختیار کیے رکھی تو ابوعبیدہ نے ان کو قتل کردیا، یہ اور ان کے امثال بہت سے واقعات صحابہ کرام کے پیش آئے، ان پر آیات مذکورہ نازل ہوئیں (قرطبی)
مسئلہبہت سے حضرت فقہاء نے یہی حکم فساق و فجار اور دین سے عملاً منحرف مسلمان کا قرار دیا ہے کہ ان کے ساتھ دلی دوستی کسی مسلمان کی نہیں ہو سکتی، کام کاج کی ضرورتوں میں اشتراک یا مصاحبت بقدر ضرورت الگ چیز ہے، دل میں دوستی کسی فاسق و فاجر کی اسی وقت ہوگی جبکہ فسق و فجور کے جراثیم خود اس کے اندر موجود ہوں گے، اسی لئے رسول اللہ ﷺ اپنی دعاؤں میں فرمایا کرتے تھے اللھم لا تجعل لفاجر علی یدا، یعنی یا اللہ مجھ پر کسی فاجر آدمی کا احسان نہ آنے دیجئے، کیونکہ شریف النفس انسان اپنے محسن کی محبت پر طبعاً مجبور ہوتا ہے اس لئے فساق و فجار کا احسان قبول کرنا جو ذریعہ ان کی محبت کا بنے آنحضرت ﷺ نے اس سے بھی پناہ مانگی (قرطبی)
وَاَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ ۭ، یہاں روح کی تفسیر بعض حضرات نے نور سے کی ہے جو منجانب اللہ مومن کو ملتا ہے اور وہی اس کے عمل صالح کا اور قلب کے سکون و اطمیان کا ذریعہ ہوتا ہے اور یہ سکون و اطمینان ہی بڑی قوت اور بعض حضرات نے روح کی تفسیر قرآن اور دلائل قرآن سے کی ہے وہی مومن کی اصل طاقت و قوت ہے (قرطبی) واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
تمت
سورة المجادلة بحمدہ وعونہ لغرة
جمادی الاولیٰ س 1391 ھ یوم الجمعة
وللہ الحمد و یتلوہ انشآء اللہ تعالیٰ