57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 57:1–2

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 57:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 57:2 in the Quran reader

اسی کے لئے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا جلاتا ہے اور مارتا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے

خلاصہ تفسیر اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں سب جو کچھ آسمانوں اور زمین میں (مخلوقات) ہیں (زبان قال سے یا زبان حال سے) اور وہ زبردست (اور) حکمت والا ہے اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی وہی حیات دیتا ہے اور (وہی) موت دیتا ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے وہی (سب مخلوق سے) پہلے ہے اور وہی (سب کے فناء ذاتی یا صفاتی سے) پیچھے (بھی رہے گا، یعنی اس پر نہ پہلے کبھی عدم طاری ہوا اور نہ آئندہ کسی درجہ میں اس پر عدم طاری ہونے کا امکان ہے، اس لئے سب سے آخر میں وہی ہے) اور وہی (مطلق وجود کے اعتبار سے ازروئے دلائل نہایت) ظاہر ہے اور وہی (کنہ ذات کے اعتبار سے نہایت) مخفی ہے (یعنی کوئی اس کی ذات کا ادراک نہیں کرسکتا) اور (گو وہ خود تو ایسا ہے کہ مخلوق کو ایک حیثیت سے معلوم ہے اور ایک حیثیت سے غیر معلوم لیکن مخلوق سب من کل الوجوہ اس کو معلوم ہے اور) وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے (اور) وہ ایسا (قادر) ہے کہ اس نے آسمان اور زمین کو چھ روز (کی مقدار زمانہ) میں پیدا کیا پھر عرش پر (جو کہ مشابہ ہے تخت سلطنت کے اس طرح) قائم (اور جلوہ فرما) ہوا (جو اس کی شان کے لائق ہے اور) وہ سب کچھ جانتا ہے جو چیز زمین کے اندر داخل ہوتی ہے (مثلاً بارش) اور جو چیز اس میں سے نکلتی ہے (مثلاً نباتات) اور جو چیز آسمان سے اترتی ہے اور جو چیز اس میں چڑھتی ہے (مثلاً ملائکہ کہ نزول و عروج کرتے ہیں اور مثلاً احکام جن کا نزول ہوتا ہے اور اعمال عباد جن کا صعود ہوتا ہے) اور (جس طرح ان چیزوں کا اس کو علم ہے اسی طرح تمہارے تمام احوال کا بھی اس کو علم ہے چنانچہ) وہ (علم و اطلاع کے اعتبار سے) تمہارے سب اعمال کو بھی دیکھتا ہے اسی کی سلطنت ہے آسمانوں اور زمین کی اور اللہ ہی کی طرف سب امور (جو ہریہ و عرضیہ) لوٹ جاویں گے (یعنی قیامت میں پیش ہوجاویں گے، اسی میں توحید کے ساتھ ضمناً قیامت کا بھی اثبات ہوگیا) وہی رات (کے اجزاء) کو دن میں داخل کرتا ہے (جس سے دن بڑا ہوجاتا ہے) اور وہی دن (کے اجزاء) کو رات میں داخل کرتا ہے (جس سے رات بڑی ہوجاتی ہے) اور (اس قدرت کے ساتھ اس کا علم ایسا ہے کہ) وہ دل کی باتوں (تک) کو جانتا ہے۔ معارف و مسائل سورة حدید کی بعض خصوصیات پانچ سورتوں کو حدیث میں مسبحات سے تعبیر کیا گیا ہے، جن کے شروع میں سَبَّحَ یا یُسَبِّحُ آیا ہے، ان میں سے پہلی یہ سورت حدید ہے، دوسری حشر، تیسری صف، چوتھی جمعہ، پانچویں تغابن، ابوداؤد، ترمذی، نسائی میں حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو سونے سے پہلے یہ مسبحات پڑھا کرتے تھے اور آپ نے ارشاد فرمایا کہ ان میں ایک آیت ایسی ہے جو ہزار آیتوں سے افضل ہے، ابن کثیر نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ وہ افضل آیت سورة حدید کی یہ آیت ہے، (هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ) ان پانچ سورتوں میں سے تین یعنی حدید، حشر، صف میں تو لفظ سبح بصیغہ ماضی آیا ہے اور آخری دو یعنی جمعہ اور تغابن میں یسبح بصیغہ مضارع، اس میں اشارہ اس طرف ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور ذکر ہر زمانے ہر وقت ماضی و مستقبل اور حال میں جاری رہنا چاہئے (مظہری)
Ayah 57:3

هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 57:3 in the Quran reader

وہی ہے سب سے پہلا اور سب سے پچھلا اور باہر اور اندر اور وہ سب کچھ جانتا ہے

وساوس شیطانیہ کا علاج حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ اگر کبھی تمہارے دل میں اللہ تعالیٰ اور دین حق کے معاملے میں شیطان کوئی وسوسہ ڈالے تو یہ آیت آہستہ سے پڑھ لیا کرو۔ هُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۚ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ (ابن کثیر) اس آیت کی تفسیر اور اول و آخر، ظاہر و باطن کے معنی میں حضرات مفسرین کے اقوال دس سے زیادہ منقول ہیں، جن میں کوئی تعارض نہیں، سبھی کی گنجائش ہے، لفظ اول کے معنی تو تقریباً متعین ہیں، یعنی وجود کے اعتبار سے تمام موجودات و کائنات سے مقدم اور پہلا ہے، کیونکہ ساری موجودات اسی کی پیدا کی ہوئی ہیں اس لئے وہ سب سے اول ہے اور آخر کے معنی بعض حضرات نے یہ کئے ہیں کہ تمام موجودات کے فنا ہونے کے بعد بھی وہ باقی رہے گا، جیسا کہ آیت (كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ) میں اس کی تصریح ہے، اور فنا سے مراد عام ہے خواہ فنا و عدم کا وقوع ہوجائے، جیسا قیامت کے روز عام مخلوقات فنا ہوجاوے گی، یا فنا کا وقوع نہ ہو، مگر اس کی فنا و عدم کا وقوع ہوجائے، جیسا قیامت کے روز عام مخلوقات فنا ہوجاوے گی، یا فنا کا وقوع نہ ہو، مگر اس کی فنا و عدم ممکن ہو اور وہ اپنی ذات میں عدم کے خطرہ سے خالی نہ ہو، اس کو موجود ہونے کے وقت بھی فانی کہہ سکتے ہیں، اس کی مثال جنت و دوزخ اور ان میں داخل ہونے والے اچھے برے انسان ہیں کہ ان کا وجود فنا نہیں ہوگا مگر باوجود وقوعاً فنا نہ ہونے کے امکان و احتمال فنا سے پھر بھی خالی نہیں، صرف حق تعالیٰ کی ذات ہے جس پر کسی حیثیت اور کسی مفہوم سے نہ پہلے کبھی عدم طاری ہوا اور نہ آئندہ کبھی اس کا امکان ہے، اس لئے اس کو سب سے آخر کہہ سکتے ہیں۔ اور امام غزالی نے فرمایا کہ حق تعالیٰ کو آخر باعتبار معرفت کے کہا گیا ہے کہ سب سے آخر معرفت اس کی ہے انسان علم و معرفت میں ترقی کرتا رہتا ہے، مگر یہ سب درجات جو اس کو حاصل ہوئے راستہ کی مختلف منزلیں ہیں اس کی انتہا اور آخری حد حق تعالیٰ کی معرفت ہے (از روح المعانی) اور ظاہر سے مراد وہ ذات جو اپنے ظہور میں ساری چیزوں سے فائق اور برتر ہو اور ظہور چونکہ وجود کی فرع ہے، تو جب حق تعالیٰ کا وجود سب موجودات پر فائق اور مقدم ہے اس کا ظہور بھی سب پر فائق ہے کہ اس سے زیادہ اس عالم میں کوئی چیز ظاہر نہیں کہ اس کی حکمت وقدرت کے مظاہر دنیا کے ہر ہر ذرہ میں نمایاں ہیں اور باطن اپنی ذات کی کنہ اور حقیقت کے اعتبار سے ہے کہ اس کی حقیقت تک کسی عقل و خیال کی رسائی نہیں ہو سکتی۔ اے برتر از قیاس و گمان و خیال و وہم اے بروں از جملہ قال و قیل من و زہرچہ دیدہ ایم و شنیدیم و خواندہ ایم خاک بر فرق من و تمثیل من
Ayahs 57:4–6

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ؕ یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَ مَا یَخْرُجُ مِنْهَا وَ مَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَ مَا یَعْرُجُ فِیْهَا١ؕ وَ هُوَ مَعَكُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 57:4 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بنائے آسمان اور زمین چھ دن میں پھر قائم ہوا تخت پر جانتا ہے جو اندر جاتا ہے زمین کے اور جو اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو اور اللہ جو تم کرتے ہو اس کو دیکھتا ہے

لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ Open ayah 57:5 in the Quran reader

اسی کے لئے ہے راج آسمانوں کا اور زمین کا اور اللہ ہی تک پہنچتے ہیں سب کام

یُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّهَارِ وَ یُوْلِجُ النَّهَارَ فِی الَّیْلِ١ؕ وَ هُوَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 57:6 in the Quran reader

داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور داخل کرتا ہے دن کو رات میں اور اس کو خبر ہے جیوں کی بات کی۔

وَهُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ ،" یعنی اللہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں کہیں بھی " اس معیت کی حقیقت اور کیفیت کسی مخلوق کے احاطہ علم میں نہیں آسکتی، مگر اس کا وجود یقینی ہے، اس کے بغیر انسان کا نہ وجود قائم رہ سکتا ہے نہ کوئی کام اس سے ہوسکتا ہے، اس کی مشیت وقدرت ہی سے سب کچھ ہوتا ہے، جو ہر حال اور ہر جگہ میں ہر انسان کے ساتھ ہے واللہ اعلم
Ayah 57:7

اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْهِ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ اَنْفَقُوْا لَهُمْ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 57:7 in the Quran reader

یقین لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اس میں سے جو تمہارے ہاتھ میں دیا ہے اپنا نائب کر کر سو جو لوگ تم میں یقین لائے ہیں اور خرچ کرتے ہیں ان کو بڑا ثواب ہے

خلاصہ تفسیر تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور (ایمان لا کر) جس مال میں تم کو اس نے دوسروں کا قائم مقام بنایا ہے اس میں سے (اس کی راہ میں) خرچ کرو (اس عنوان استخلاف میں اس طرف اشارہ ہے کہ یہ مال تم سے پہلے اور کسی کے پاس تھا اور اسی طرح تمہارے بعد کسی اور کے ہاتھ میں چلا جاوے گا، بس جب یہ سدا رہنے والی چیز نہیں تو اس کو اس طرح جوڑ جوڑ کر رکھنا کہ ضروری مصرف میں بھی خرچ نہ کیا جاوے حماقت کے سوا کیا ہے) سو (اس حکم کے موافق) جو لوگ تم میں سے ایمان لے آویں اور (ایمان لا کر اللہ کی راہ میں) خرچ کریں ان کو بڑا ثواب ہوگا اور (جو لوگ ایمان نہ لاویں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ) تمہارے لئے اس کا کون سبب ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے (اسی میں ایمان بالرسل بھی آگیا) حالانکہ (دواعی قویہ ایمان لانے کے موجود ہیں وہ یہ کہ) رسول ﷺ جن کی رسالت دلائل سے ثابت ہے) تم کو اس بات کی طرف بلا رہے ہیں کہ تم اپنے رب پر (اسی کی دی ہوئی تعلیم کے مطابق) ایمان لاؤ (ایک داعی تو یہ ہوا) اور (دوسرا داعی یہ کہ) خود خدا نے تم سے (ایمان لانے کا میثاق الست بربکم میں) عہد لیا تھا (جس کا اجمالی اثر تمہاری فطرت میں بھی موجود ہے اور اللہ کے رسول جو معجزات اور دلائل لے کر آئے انہوں نے بھی اس کی یاد دہانی کی سو) اگر تم کو ایمان لانا ہو (تو یہ دواعی کافی ہیں ورنہ پھر ایمان لانے کے لئے کس داعی کا انتظار ہے کقولہ تعالیٰ (آیت) فبای حدیث بعد اللہ وایاتہ یومنون، آگے اس مضمون والرسول الخ کی اور شرح ہے کہ) وہ ایسا (رحیم) ہے کہ اپنے بندہ (خاص محمد ﷺ پر صاف صاف آیتیں بھیجتا ہے (جو حسن عبارت اور اعجاز خاص کی وجہ سے مقصود پر واضح دلالت کرتی ہے) تاکہ وہ (بندہ خاص) تم کو (کفر و جہل کی) تاریکیوں سے (ایمان اور علم حقائق کی) روشنی کی طرف لاوے (کقولہ تعالیٰ (آیت) لتخرج الناس من الظلمت الی النور باذن ربہم) اور بیشک اللہ تمہارے حال پر بڑا شفیق مہربان ہے (کہ اس نے ایسا اندھیریوں سے نکالنے والا تمہاری طرف بھیجا) اور (اس مضمون میں تو ایمان نہ لانے پر سوال تھا، اب اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے پر سوال ہے کہ ہم پوچھتے ہیں کہ) تمہارے لئے اس کا کون سبب ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ (اس کا بھی ایک قوی داعی ہے وہ یہ کہ) سب آسمان و زمین اخیر میں اللہ ہی کا رہ جاوے گا (جب سب مالک مر جاویں گے اور وہی رہ جاوے گا پس جب سب مال ایک روز چھوڑنا ہے تو خوشی سے کیوں نہ دیا جاوے کہ ثواب بھی ہو اور آسمان کا ذکر کرنا باوجودیکہ کوئی مخلوق اس کی مالک نہیں شاید اس نکتہ کے لئے ہو کہ جیسے آسمان بلا شرکت اس کی ملک ہے اسی طرح زمین بھی حقیقت کے اعتبار سے تو فی الحال بھی اس کی ملک ہے اور آخر کار ظاہری طور پر بھی اسی کی ملک رہ جاوے گی، یہ مضمون لفظ مستخلفین کی شرح کے طور پر ہوگیا آگے خرچ کرنے والوں کے درجات کا تفاضل بتلاتے ہیں کہ گو خرچ کرنا بوجہ مامور بہ ہونے کے ہر ایک کے لئے جو ایمان لا کر خرچ کرے موجب اجر ہے، لیکن پھر بھی تفاوت ہے وہ یہ کہ) جو لوگ فتح مکہ سے پہلے (فی سبیل اللہ) خرچ کرچکے اور (فی سبیل اللہ) لڑ چکے (اور جو کہ بعد فتح مکہ کے لڑے اور خرچ کیا دونوں) برابر نہیں (بلکہ) وہ لوگ درجہ میں ان لوگوں سے بڑے ہیں جنہوں نے (فتح مکہ کے) بعد میں خرچ کیا اور لڑے اور (یوں) اللہ تعالیٰ نے بھلائی (یعنی ثواب) کا وعدہ سب سے کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کو تمہارے سب اعمال کی پوری خبر ہے (اس لئے ثواب دونوں وقت کے عمل پر دیں گے، اس لئے جن لوگوں کو موقع فتح مکہ کے قبل خرچ کا نہیں ملا ہم ان کو بھی ترغیباً کہتے ہیں کہ) کوئی شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھی طرح (یعنی خلوص کے ساتھ) قرض کے طور پر دے پھر خدا تعالیٰ اس (دیئے ہوئے ثواب) کو اس شخص کے لئے بڑھاتا چلا جاوے اور (مضاعفت کے ساتھ) اس کے لئے اجر پسندیدہ (تجویز کیا گیا) ہے (مضاعفت سے تو مقدار بڑھا دینے کو بیان کیا گیا اور لفظ کریم سے اس جزا کی کیفیت بہتر ہونے کی طرف اشارہ ہے)
Ayahs 57:8–9

وَ مَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ١ۚ وَ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّكُمْ وَ قَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 57:8 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا کہ یقین نہیں لاتے اللہ پر اور رسول بلاتا ہے تم کو کہ یقین لاؤ اپنے رب پر اور لے چکا ہے تم سے عہد پکا اگر ہو تم ماننے والے

هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ عَلٰى عَبْدِهٖۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ لِّیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ بِكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 57:9 in the Quran reader

وہی ہے جو اتارتا ہے اپنے بندے پر آیتیں صاف کہ نکال لائے تم کو اندھیروں سے اجالے میں اور اللہ تم پر نرمی کرنے والا ہے مہربان

معارف و مسائل وَقَدْ اَخَذَ مِيْثَاقَكُمْ ، اس سے میثاق ازل بھی مراد ہوسکتا ہے، جب کہ حق تعالیٰ نے مخلوقات کے پیدا ہونے سے پہلے ہی وجود میں آنے والی تمام ارواح کو جمع کر کے ان سے ربوبیت یعنی اللہ تعالیٰ کے رب العالمین ہونے کا اقرار اور عہد لیا تھا جس کا ذکر قرآن میں (الست بربکم قالو ابلیٰ) کے الفاظ سے آیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس میثاق سے وہ عہد و میثاق مراد ہو جو پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں سے خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانے اور ان کی مدد کرنے کے متعلق لیا گیا ہے، جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے (آیت) (ثُمَّ جَاۗءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَلَتَنْصُرُنَّهٗ ۭ قَالَ ءَاَقْرَرْتُمْ وَاَخَذْتُمْ عَلٰي ذٰلِكُمْ اِصْرِيْ ۭ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا ۭ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَاَنَا مَعَكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ) اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ، یعنی اگر تم مومن ہو، یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کلام ان کفار سے ہو رہا ہے جن کے مومن نہ ہونے پر تنبیہ اس سے پہلے آ چکی ہے وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ ، پھر ان کو یہ کہنا کیسے درست ہوگا کہ " اگر تم مومن ہو "۔ جواب یہ ہے کہ کفار و مشرکین بھی اللہ تعالیٰ پر تو ایمان کے مدعی تھے، بتوں کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ ہم ان کی پرستش اس لئے کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری سفارش کریں گے (آیت) ما نعبدھم الا لیقربونا الی اللہ زلفی، تو مطلب آیت کا یہ ہوا کہ تم جو اللہ پر ایمان رکھنے کے مدعی ہو اگر تمہارا یہ دعویٰ سچا ہے تو پھر ایمان باللہ کی صحیح اور معتبر صورت اختیار کرو جو اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ اللہ پر ایمان لانے کے ساتھ اس کے رسول پر بھی ایمان لاؤ۔
Ayahs 57:10–11

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا یَسْتَوِیْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَ قٰتَلَ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَةً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ قٰتَلُوْا١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 57:10 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور اللہ ہی کو بچ رہتی ہے ہر شے آسمانوں اور زمین میں برابر نہیں تم میں جس نے کہ خرچ کیا فتح (مکہ) سے پہلے اور لڑائی کی ان لوگوں کا درجہ بڑا ہے ان سے جو کہ خرچ کریں اس کے بعد اور لڑائی کریں اور سب سے وعدہ کیا ہے اللہ نے خوبی کا اور اللہ کو خبر ہے جو کچھ تم کرتے ہو

مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗ وَ لَهٗۤ اَجْرٌ كَرِیْمٌۚ Open ayah 57:11 in the Quran reader

کون ہے ایسا کہ قرض دے اللہ کو اچھی طرح پھر وہ اس کو دونا کر دے اس کے واسطے اور اس کو ملے ثواب عزت کا۔

وَلِلّٰهِ مِيْرَاث السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ، میراث اصل میں اس ملکیت کو کہا جاتا ہے جو پچھلے مالک کے انتقال کے بعد اس کے بعد زندہ رہنے والے وارثوں کو ملا کرتی ہے اور یہ ملک جبری ہوتی ہے مرنے والا چاہے یا نہ چاہے جو وارث ہوتا ہے ملکیت اس کی طرف منتقل ہوجاتی ہے یہاں حق تعالیٰ کی ملکیت آسمان و زمین کو میراث کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ تم چاہو یا نہ چاہو جس جس چیز کے مالک آج تم سمجھے جاتے ہو وہ سب بالآخر حق تعالیٰ کی ملکیت خاصہ میں منتقل ہوجائے گی، مراد یہ ہے کہ اگرچہ حقیقی مالک تمام اشیاء عالم کا پہلے بھی حق تعالیٰ ہی تھا مگر اس نے اپنے فضل سے کچھ اشیاء کی ملکیت تمہارے نام کردی تھی اور اب وہ ظاہری ملکیت بھی تمہاری باقی نہیں رہے گی بلکہ حقیقۃً اور ظاہراً ہر طرح اللہ تعالیٰ ہی کی ملکیت ہوجائے گی، اس لئے اس وقت جبکہ تمہیں ظاہری ملکیت حاصل ہے اگر تم اللہ کے نام پر خرچ کردو گے تو اس کا بدل تمہیں آخرت میں مل جائے گا، اس طرح گویا اللہ کی راہ میں خرچ کی ہوئی چیز کی ملکیت تمہارے لئے دائمی ہوجائے گی۔ ترمذی میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک روز ہم نے ایک بکری ذبح کی جس کا اکثر حصہ تقسیم کردیا، صرف ایک دست گھر کے لئے رکھ لیا، آنحضرت ﷺ نے مجھ سے دریافت کیا کہ اس بکری کے گوشت میں سے تقسیم کے بعد کیا باقی رہا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ ایک دست رہ گیا ہے، تو آپ نے فرمایا کہ یہ ساری بکری باقی رہی صرف یہ دست باقی نہیں رہا، جس کو تم باقی سمجھ رہی ہو، کیونکہ ساری بکری اللہ کی راہ میں خرچ کردی گئی، وہ اللہ کے یہاں تمہارے لئے باقی رہے گی اور یہ دست جو اپنے کھانے کے لئے رکھا ہے، اس کا آخرت میں کوئی معاوضہ نہیں اس لئے یہ یہیں فنا ہوجائے گا (مظہری) گزشتہ آیات میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تاکید بیان فرمانے کے بعد اگلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں جو کچھ جس وقت بھی خرچ کیا جائے ثواب تو ہر ایک پر ہر ایک حال میں ملے گا، لیکن ثواب کے درجات میں ایمان و اخلاص اور مسابقت کے اعتبار سے فرق ہوگا، اس کے لئے فرمایا لَا يَسْتَوِيْ مِنْكُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰتَلَ ، یعنی مسلمانوں میں فی سبیل اللہ مال خرچ کرنے والے دو قسم کے لوگ ہیں، ایک وہ جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لے آئے اور مومن ہو کر اللہ کی راہ میں مال خرچ کیا، دوسرے وہ جو فتح مکہ کے بعد جہاد میں شریک ہوئے اور فی سبیل اللہ خرچ میں بھی یہ دونوں قسمیں اللہ کے نزدیک برابر نہیں، بلکہ درجات ثواب کے اعتبار سے ان میں تفاضل ہے، فتح مکہ سے پہلے ایمان لانے والے اور جہاد کرنے والے اور خرچ کرنے والے درجہ ثواب کے اعتبار سے بڑھے ہوئے ہیں، دوسری قسم سے یعنی جن لوگوں نے فتح مکہ کے بعد اسلامی خدمات میں شرکت کی۔ فتح مکہ کو صحابہ کرام کے درجات متعین کرنے کے لئے حد فاصل قرار دینے کی حکمت آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ نے صحابہ کرام کے دو طبقے قرار دیئے ہیں، ایک وہ جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہو کر اسلامی خدمات میں حصہ لیا، دوسرے وہ لوگ جنہوں نے فتح مکہ کے بعد یہ کام کیا ہے، پہلے لوگوں کا مقام بہ نسبت دوسرے لوگوں کے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بلند ہونے کا اعلان اس آیت میں فرمایا گیا ہے۔ فتح مکہ میں ان دونوں طبقوں میں حد فاصل قرار دینے کی ایک بڑی حکمت تو یہ ہے کہ فتح مکہ مکرمہ سے پہلے سیاسی حالات اور اسباب ظاہرہ کے اعتبار سے مسلمانوں کی بقا و فنا اور اسلام کے آگے بڑھنے پھیلنے یا بہت سی تحریکات کی طرح مردہ ہوجانے کے احتمالات ظاہر میں نظروں میں یکساں انداز سے گردش کرتے رہتے تھے، دنیا کے ہوشیار لوگ کسی ایسی جماعت یا تحریک میں شرکت نہیں کیا کرتے جس کے شکست کھا جانے یا ختم ہوجانے کا خطرہ سامنے ہو، انجام کا انتظار کرتے رہتے ہیں، جب کامیابی کے امکانات روشن ہوجائیں تو شریک ہوجاتے ہیں اور بعض لوگ اگرچہ اس کو حق و صحیح سمجھتے ہوں لیکن مخالفین کی ایذاؤں کے خوف اور اپنے ضعف کے سبب شرکت کرنے کی ہمت نہیں کرتے، لیکن باعزم و ہمت لوگ جو کسی نظریہ اور عقیدہ کو صحیح اور حق سمجھ کر قبول کرتے ہیں وہ فتح و شکست اور جماعت کی قلت و کثرت پر نظر کئے بغیر اس کے قبول کی طرف دوڑتے ہیں۔ فتح مکہ سے پہلے جو لوگ ایمان لائے ان کے سامنے مسلمانوں کی قلت اور ضعف اور اس کی وجہ سے مشرکین کی ایذاؤں کا سلسلہ تھا، خصوصاً ابتداء اسلام کے وقت ایمان کا اظہار کرنا اپنی جان کی بازی لگانے اور اپنے گھر بار کو ہلاکت کے لئے پیش کردینے کے مترادف تھا، یہ ظاہر ہے کہ ان حالات میں جنہوں نے اسلام قبول کر کے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈالا اور پھر رسول اللہ ﷺ کی نصرت اور دین کی خدمت میں اپنے جان و مال کو لگایا ان کی قوت ایمان اور اخلاص عمل کو دوسرے لوگ نہیں پہنچ سکتے۔ رفتہ رفتہ حالات بدلتے گئے مسلمان کو قوت حاصل ہوتی گئی، یہاں تک کہ مکہ مکرمہ فتح ہو کر پورے عرب پر اسلام کی حکومت قائم ہوگئی، اس وقت جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے (آیت) یدخلون فی دین اللہ افواجا، یعنی لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج ہو کر داخل ہوں گے اس کا ظہور ہوا کیونکہ بہت سے لوگ اسلام کی حقانیت پر تو یقین رکھتے تھے مگر اپنے ضعف اور مخالفین اسلام کی قوت و شوکت اور ان کی ایذاؤں کے خوف سے اسلام و ایمان کا اظہار کرتے ہوئے جھجکتے تھے، اب ان کی راہ سے یہ رکاوٹ دور ہوگئی، تو فوج در فوج ہو کر اسلام میں داخل ہوگئے، قرآن کریم کی اس آیت نے ان کا بھی اکرام و احترام کیا ہے اور ان کے لئے بھی مغفرت و رحمت کا وعدہ دیا ہے، لیکن یہ بتلا دیا کہ ان کا درجہ اور مقام ان لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتا جنہوں نے اپنی ہمت و اولو العزمی اور قوت ایمان کے سبب مخالفتوں اور ایذاؤں کے خوف و خطر سے بالاتر ہو کر اسلام کا اعلان کیا اور آڑے وقت میں اسلام کے کام آئے۔ خلاصہ یہ ہے کہ عزم و ہمت اور قوت ایمان کے درجات متعین کرنے کے لئے فتح مکہ سے پہلے اور بعد کے حالات ایک حد فاصل کی حیثیت رکھتے ہیں، اسی لئے آیت مذکورہ میں فرمایا کہ یہ دونوں طبقے برابر نہیں ہو سکتے۔ تمام صحابہ کرام کے لئے مغفرت و رحمت کی بشارت اور صحابہ کا باقی امت سے امتیاز آیات مذکورہ میں اگرچہ صحابہ کرام میں باہمی درجات کا تفاضل ذکر کیا گیا ہے لیکن آخر میں فرمایا وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى، یعنی باوجود باہمی فرق مراتب کے اللہ تعالیٰ نے حسنیٰ یعنی جنت و مغفرت کا وعدہ سب ہی کے لئے کرلیا ہے، یہ وعدہ صحابہ کرام کے ان دونوں طبقوں کے لئے ہے جنہوں نے فتح مکہ سے پہلے یا بعد میں اللہ کی راہ میں خرچ کیا اور مخالفین اسلام کا مقابلہ کیا، اس میں تقریباً صحابہ کرام کی پوری جماعت شامل ہوجاتی ہے کیونکہ ایسے افراد تو شاذ و نادر ہی ہو سکتے ہیں جنہوں نے مسلمان ہوجانے کے باوجود اللہ کے لئے کچھ خرچ بھی نہ کیا ہو اور مخالفین اسلام کے مقابلہ و مقاتلہ میں بھی شریک نہ ہوئے ہوں، اس لئے قرآن کریم کا یہ اعلان مغفرت و رحمت پوری جماعت صحابہ کرام کے لئے عام اور شامل ہے۔ ابن حزم نے فرمایا کہ اس کے ساتھ قرآن کی دوسری آیت سورة انبیاء کو ملاؤ جس میں فرمایا ہے اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى ۙ اُولٰۗىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ۔ لَا يَسْمَعُوْنَ حَسِيْسَهَا ۚ وَهُمْ فِيْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰلِدُوْنَ۔ " یعنی جن لوگوں کے لئے ہم نے حسنیٰ کو مقرر کردیا ہے وہ جہنم سے ایسے دور رہیں گے کہ اس کی تکلیف دہ آوازیں بھی ان کے کانوں تک نہ پہنچیں گی اور اپنی دلخواہ نعمتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے "۔ آیات زیر بحث میں وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى، مذکور ہے اور اس آیت میں جن کے لئے حسنیٰ کا وعدہ ہوا ان کے لئے جہنم کی آگ سے بہت دور رہنے کا اعلان ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کریم نے اس کی ضمانت دے دی کہ حضرات صحابہ سابقین و آخرین میں سے کسی سے بھی اگر عمر بھر میں کوئی گناہ سرزد ہو بھی گیا تو وہ اس پر قائم نہ رہے گی توبہ کرلے گا یا پھر نبی کریم ﷺ کی صحبت و نصرت اور دین کی خدمات عظیمہ اور ان کی بیشمار حسنات کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دے گا اور ان کی موت اس سے پہلے نہ ہوگی کہ ان کا گناہ معاف ہو کر وہ صاف و بیباق ہوجائیں، یا دنیا کے مصائب و آفات اور زیادہ سے زیادہ برزخ میں کوئی تکلیف ان کے سیئات کا کفارہ ہوجائے۔ اور جن احادیث میں بعض صحابہ کرام پر مرنے کے بعد عذاب کا ذکر آیا ہے وہ عذاب آخرت و عذاب جہنم کا نہیں برزخی یعنی قبر کا عذاب ہے، یہ کوئی بعید نہیں ہے کہ صحابہ کرام میں سے اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہو اور اتفاقاً توبہ کر کے اس سے پاک ہوجانے کا بھی موقع نہیں ہوا تو ان کو برزخی عذاب کے ذریعہ پاک کردیا جائے گا، تاکہ آخرت کا عذاب ان پر نہ رہے۔ صحابہ کرام کا مقام قرآن و حدیث سے پہچانا جاتا ہے تاریخی روایات سے نہیں خلاصہ یہ ہے کہ حضرات صحابہ کرام عام امت کی طرح نہیں وہ رسول اللہ ﷺ اور امت کے درمیان اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا ایک واسطہ ہیں، ان کے بغیر نہ امت کو قرآن پہنچنے کا کوئی راستہ ہے اور نہ معانی قرآن اور تعلیمات رسول اللہ ﷺ کا، اس لئے اسلام میں ان کا ایک خاص مقام ہے ان کے مقامات کتب تاریخ کی رطب و یابس روایات سے نہیں پہچانے جاتے، بلکہ قرآن و سنت کے ذریعہ پہچانے جاتے ہیں۔ ان میں سے اگر کسی سے کوئی لغزش اور غلطی بھی ہوتی ہے تو اکثر وہ اجتہادی خطا ہوتی ہے جس پر کوئی گناہ نہیں، بلکہ حسب تصریح احادیث صحیحہ ایک اجر ہی ملتا ہے اور اگر فی الواقع کوئی گناہ ہی ہوگیا تو اول وہ ان کے عمر بھر کے اعمال حسنہ اور رسول اللہ ﷺ اور اسلام کی نصرت و خدمت کے مقابلہ میں صفر کی حیثیت رکھتا ہے، پھر ان میں خشیت اور خوف خدا کا یہ عالم تھا کہ معمولی سے گناہ سے بھی لرز جاتے اور فوراً توبہ کرتے اور اپنے نفس پر اس کی سزا جاری کرنے کے لئے کوشش کرتے تھے، کوئی اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیتا اور جب تک توبہ قبول ہوجانے کا یقین نہ ہوجائے بندھا کھڑا رہتا تھا اور پھر ان میں سے ہر ایک کی حسنات اتنی ہیں کہ وہ خود گناہوں کا کفارہ ہوجاتی ہیں، ان سب پر مزید یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی خطاؤں کی مغفرت کا عام اعلان اس آیت میں اور دوسری آیات میں فرما دیا اور صرف مغفرت ہی نہیں بلکہ رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ فرما کر اپنی رضا کی بھی سند دیدی، اس لئے ان کے آپس میں جو اختلافات اور مشاجرات پیش آئے ان کی وجہ سے ان میں سے کسی کو برا کہنا یا اس پر طعن وتشنیع کرنا قطعاً حرام اور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق موجب لعنت اور اپنے ایمان کو خطرہ میں ڈالنا ہے، نعوذ باللہ منہ آج کل تاریخ کی جھوٹی سچی، قوی ضعیف روایات کی بناء پر جو بعض لوگوں نے بعض حضرات صحابہ کو مورد طعن و الزام بنایا ہے، اول تو اس کی بنیاد جو تاریخی روایات پر ہے وہ بنیاد ہی متزلزل ہے اور اگر کسی درجہ میں ان روایات کو قابل التفات مان بھی لیا جائے تو قرآن و حدیث کے کھلے ہوئے ارشادات کے خلاف ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، وہ سب مغفور ہیں۔ صحابہ کرام کے بارے میں پوری امت کا اجماعی عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام کی تعظیم و تکریم، ان سے محبت رکھنا، ان کی مدح وثناء کرنا واجب ہے اور ان کے آپس میں جو اختلافات اور مشاجرات پیش آئے ان کے معاملے میں سکوت کرنا، کسی کو مورد الزام نہ بنانا لازم ہے، عقائد اسلامیہ کی تمام کتابوں میں اس اجماعی عقیدہ کی تصریحات موجود ہیں، امام احمد کا رسالہ جو بروایت اصطخری معروف ہے اس کے بعض الفاظ یہ ہیں۔ لا یجوز لاحد ان یذکر شیئا من مساویھم ولا یطعن علیٰ احد منھم بعیب ولا نقص فمن فعل ذلک وجب تادیبہ (شرح العقیدة الواسطیتہ معروف بہ الدرة المفیتہ، ص 389) " کسی کے لئے جائز نہیں کہ صحابہ کرام کی کسی برائی کا ذکر کرے، یا ان میں سے کسی برطعن کرے یا کوئی عیب یا نقصان ان کی طرف منسوب کرے اور جو ایسا کرے اس کو سزا دینا واجب ہے " اور ابن تیمیہ نے الصارم المسلول میں صحابہ کرام کے متعلق فضائل و خصوصیات کی بہت سی آیات اور روایات حدیث لکھنے کے بعد لکھا ہے۔ وھذا مما لا نعلم فیہ خلافا بین اہل الفتہ والعلم من اصحاب رسول اللہ ﷺ والتابعین لھم باحسان وسائر اہل السنة والجماعة فانھم مجمعون علیٰ ان الواجب الثناء علیھم و الاستغفار لھم والترحم علیھم والترضی عنھم و اعتقاد محبتھم وموالاتھم وعقوبة من اساء فیھم القول۔ " جہاں تک ہمارے علم میں ہے ہم اس معاملہ میں علماء، فقہاء، صحابہ وتابعین اور تمام اہل السنۃ و الجماعۃ کے درمیان کوئی اختلاف نہیں پاتے کیونکہ سب کا اس پر اجماع ہے کہ امت پر واجب یہ ہے کہ سب صحابہ کرام کی مدح وثناء کرے اور ان کے لئے استغفار کرے اور ان کو اللہ کی رحمت و رضا کے ساتھ ذکر کرے، ان کی محبت اور دوستی پر ایمان رکھے اور جو ان کے معاملہ میں بےادبی کرے اس کو سزا دے " اور ابن تیمیہ نے شرح عقیدہ واسطیہ میں تمام امت محمدیہ اہل السنتہ و الجماعتہ کا عقیدہ بیان کرتے ہوئے مشاجرات صحابہ کے متعلق لکھا ہے ویمسکون عما شجر بین الصحابۃ ویقولون ھذہ الاثار المرویة فی مساویھم منھا ما ھو کذب و منھا ما زید فیھا ونقص و غیر وجھہ والصحیح منہ ھم فیہ معذورون اما مجتھدون مصیبون واما مجتھدون مخطئون، وہم مع ذلک لا یعتقدون ان کل واحد من الصحابة معصوم من کبائر الاثم وصغائرہ بل یجوز علیھم الذنوب فی الجملة ولھم من الفضائل و السوابق ما یوجب مغفرة ما یصدر منھم حتی انھم یغفرلھم من السیئات مالا یغفر لمن بعدھم۔ " اہل السنتہ و الجماعتہ سکوت اختیار کرتے ہیں ان اختلافی معاملات سے جو صحابہ کرام کے درمیان پیش آئے اور کہتے ہیں کہ جو روایات ان میں سے کسی پر عیب لگانے والی ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ بعض تو بالکل جھوٹ ہے اور بعض میں کتربیونت کر کے ان کی اصل حقیقت بگاڑ دی گئی ہے اور جو کچھ صحیح ہے وہ اس میں معذور ہیں کیونکہ (انہوں نے جو کچھ کیا اللہ کے لئے کیا اجہتاد سے کیا) اس اجہتاد میں یا وہ صحیح بات پر تھے (تو دوہرے ثواب کے مستحق تھے) یا خطاء پر تھے (تو معذور اور ایک ثواب کے مستحق تھے) ان تمام باتوں کے ساتھ وہ اس کے معتقد نہیں کہ ہر صحابی چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم ہے بلکہ ان سے گناہ کا صدور ممکن ہے، مگر ان کے فضائل اور اسلام کی عظیم الشان خدمات ایسی ہیں جو ان سب کی مغفرت کی مقتضی ہیں یہاں تک کہ ان کی مغفرت و معافی اتنی وسیع ہوگی جو امت میں دوسروں کے لئے نہ ہوگی " مقام صحابہ اور ان کے درجات و فضائل پر مفصل بحث سورة فتح کی آیات (والذین معہ الخ) کے تحت گزر چکی ہے اور احقر نے اس بحث پر ایک مفصل رسالہ (مقام صحابہ) کے نام سے لکھ دیا ہے جو جداگانہ شائع ہوچکا ہے، جس میں عدالت صحابہ، مشاجرات صحابہ اور ان کے بارے میں تاریخی روایات کی حیثیت اور درجہ کی مکمل تحقیق ہے اس کو دیکھ لیا جائے۔
Ayah 57:12

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۚ Open ayah 57:12 in the Quran reader

جس دن تو دیکھے ایمان والے مردوں کو اور ایمان والی عورتوں کو دوڑتی ہوئے چلتی ہے ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے داہنے خوشخبری ہے تم کو آج کے دن باغ ہیں کہ نیچے بہتی ہیں جن کے نہریں سدا رہو ان میں یہ جو ہے یہی ہے بڑی مراد ملنی

خلاصہ تفسیر (وہ دن بھی یاد کرنے کے قابل ہے) جس دن آپ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑتا ہوگا (یہ نور پل صراط پر سے گزرنے کے لئے ان کے ہمراہ ہوگا اور ایک روایت میں ہے کہ بائیں طرف بھی ہوگا، کذا فی الدر المنثور، تو تخصیص داہنی طرف کی شاید اس لئے ہو کہ اس طرف نور زیادہ قوی ہو اور نکتہ اس تخصیص میں شاید یہ ہو کہ یہ علامت ہو ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جانے کا اور سامنے نور ہونا تو ایسے موقع پر عادت عامہ ہے اور ان سے کہا جاوے گا کہ) آج تم کو بشارت ہے ایسے باغوں کی جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے (اور) یہ بڑی کامیابی ہے (ظاہر یہ ہے کہ یہ بات بھی اسی وقت کہی جاوے گی اور اس وقت بطور خبر دینے کے کہی جا رہی ہے اور بُشْرٰىكُمُ کہنے والے غالباً فرشتے ہیں، لقولہ تعالیٰ تَـتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰۗىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا الخ باحق تعالیٰ خود اس خطاب سے مشرف فرما دیں اور یہ وہ دن ہوگا) جس روز منافق مرد اور منافق عورتیں مسلمانوں سے (پل صراط پر) کہیں گے کہ (ذرا) ہمارا انتظار کرلو کہ ہم بھی تمہارے نور سے کچھ روشنی حاصل کرلیں (یہ اس وقت ہوگا جبکہ مسلمان اپنے اعمال و ایمان کی برکت سے بہت آگے بڑھ جاویں گے اور منافقین جو کہ پل صراط پر مسلمانوں کے ساتھ چڑھائے جاویں گے پیچھے اندھیرے میں رہ جاویں گے، خواہ ان کے پاس پہلے ہی سے نور نہ ہو، یا جیسا کہ در منثور کی ایک روایت میں ہے کہ ان کے پاس بھی قدرے نور ہو اور پھر وہ گل ہوجاوے اور حکمت عطاء نور میں یہ ہو کہ دنیا میں ظاہری اعمال کے اعتبار سے وہ مسلمانوں کے ساتھ رہا کرتے تھے مگر باعتبار اعتقاد کے دل سے جدا تھے، اس لئے ان کو اولاً ان اعمال ظاہری کی وجہ سے نور مل جاوے مگر پھر دل میں ایمان و تصدیق نہ ہونے کے سبب وہ نور مفقود ہوجاوے، و نیز ان کے خداع اور دھوکہ کی جزا بھی یہی ہے کہ اول ان کو نور مل گیا پھر خلاف گمان مفقود ہوگیا، غرض وہ مسلمانوں سے ٹھہرنے کو کہیں گے) ان کو جواب دیاجاوے گا (یہ جواب دینے والے خواہ فرشتے ہوں یا مومنین ہوں) کہ تم اپنے پیچھے لوٹ جاؤ پھر (وہاں سے) روشنی تلاش کرو (حسب روایت در منثور اس پیچھے سے مراد وہ جگہ ہے جہاں ظلمت شدیدہ کے بعد پل صراط پر چڑھنے کے وقت نور تقسیم ہوا تھا یعنی نور تقسیم ہونے کی جگہ وہ ہے وہاں جا کرلو، چناچہ وہ ادھر جاویں گے جب وہاں بھی کچھ نہ ملے گا، پھر ادھر ہی آویں گے) پھر (مسلمانوں کے پاس نہ پہنچ سکیں گے بلکہ) ان (فریقین) کے درمیان میں ایک دیوار قائم کردی جاوے گی جس میں ایک دروازہ (بھی) ہوگا (جس کی کیفیت یہ ہے کہ) اس کے اندرونی جانب میں رحمت ہوگی اور بیرونی جانب کی طرف عذاب ہوگا (حسب روایت در منثور یہ دیوار اعراف ہے اور اندرونی جانب سے مومنین کی طرف والی جانب اور بیرونی جانب سے مراد کافروں کی طرف والی جانب اور رحمت سے مراد جنت اور عذاب سے مراد دوزخ ہے اور شاید یہ دروازہ بات چیت کے لئے ہو یا اسی دروازہ میں سے جنت کا راستہ ہو اور زیادہ تحقیق اعراف کی سورة اعراف کے رکوع پنجم میں گزری ہے، غرض جب ان میں اور مسلمانوں میں دیوار حائل ہوجاوے گی اور یہ خود تاریکی میں رہ جاویں گے تو اس وقت) یہ (منافق) ان (مسلمانوں) کو پکاریں گے کہ کیا (دنیا میں) ہم تمہارے ساتھ نہ تھے (یعنی اعمال اور طاعات میں تمہارے شریک رہا کرتے تھے، تو آج بھی رفاقت کرنا چاہئے) وہ (مسلمان) کہیں گے کہ (ہاں) تھے تو سہی لیکن (ایسا ہونا کس کام کا کیونکہ محض ظاہر میں ساتھ تھے اور باطنی حالت تمہاری یہ تھی کہ) تم نے اپنے کو گمراہی میں پھنسا رکھا تھا اور (وہ گمراہی یہ تھی کہ تم پیغمبر اور مسلمانوں سے عداوت رکھتے تھے اور ان پر حوادث واقع ہونے کے) تم منتظر (اور متمنی) رہا کرتے تھے اور (اسلام کے حق ہونے میں) تم شک رکھتے تھے اور تم کو تمہاری بیہودہ تمناؤں نے دھوکہ میں ڈال رکھا تھا، یہاں تک کہ تم پر خدا کا حکم آپہنچا (مراد بیہودہ تمناؤں سے یہ ہے کہ اسلام مٹ جاوے گا اور یہ کہ ہمارا مذہب حق ہے اور موجب نجات ہے اور مراد حکم خدا سے موت ہے، یعنی عمر بھر ان ہی کفریات پر مصر رہے توبہ بھی نہ کی) اور تم کو دھوکہ دینے والے (یعنی شیطان) نے اللہ کے ساتھ دھوکہ میں ڈال رکھا تھا (وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ہم پر مواخذہ نہ کرے گا حاصل مجموعہ کا یہ ہے کہ ان کفریات کی وجہ سے تمہاری معیت ظاہریہ نجات کے لئے کافی نہیں) غرض آج نہ تم سے کوئی معاوضہ لیا جاوے گا اور نہ کافروں سے (یعنی اول تو معاوضہ دینے کے واسطے تمہارے پاس کوئی چیز ہے نہیں، لیکن بالفرض اگر ہوتی بھی تب بھی مقبول نہ ہوتی کیونکہ دار الجزاء ہے دار العمل نہیں اور) تم سب کا ٹھکانا دوزخ ہے وہی تمہاری (ہمیشہ کے لئے) رفیق ہے اور وہ (واقعی) برا ٹھکانا ہے (یہ قول فالیوم الخ یا تو مومنین کا ہو یا حق تعالیٰ کا اس تمام تر بیان سے ثابت ہوگیا کہ جس ایمان میں طاعات ضروریہ کی کمی ہو وہ گو کالعدم نہیں، لیکن کامل بھی نہیں، اس لئے اگلی آیات میں اس کی تکمیل کے لئے بصورت عتاب کے مسلمانوں کو حکم فرماتے ہیں کہ) کیا ایمان والوں (میں سے جو لوگ طاعات ضروریہ میں کمی کرتے ہیں جیسے گناہ گار مسلمانوں کی حالت ہوتی ہے تو کیا ان) کے لئے (اب بھی) اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل خدا کی نصیحت کے اور جو دین حق (منجانب اللہ) نازل ہوا ہے (کہ وہی نصیحت خداوندی ہے) اس کے سامنے جھک جاویں (یعنی دل سے عزم پابندی طاعات ضروریہ و ترک معاصی کا کرلیں اور اس کو خشوع بمعنی سکون اس لئے کہا کہ دل کا حالت مطلوبہ پر رہنا سکون ہے اور معصیت کی طرف جانا مشابہ حرکت کے ہے) اور (خشوع بالمعنی المذکور میں دیر کرنے سے جس کا حاصل توبہ میں دیر کرنا ہے وہ) ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان کے قبل کتاب (آسمانی) ملی تھی (یعنی یہود و نصاریٰ کہ انہوں نے بھی برخلاف مقتضائے اپنی کتابوں کے شہوات و معاصی میں انہماک شروع کیا) پھر (اسی حالت میں) ان پر ایک زمانہ دراز گزر گیا (اور توبہ نہ کی) پھر (اس توبہ نہ کرنے سے) ان کے دل (خوب ہی) سخت ہوگئے (کہ ندامت و ملامت اضطراری بھی نہ ہوتی تھی) اور (اس کی نوبت یہاں تک پہنچی کہ اسی قساوت کی بدولت) بہت سے آدمی ان میں سے (آج) کفار ہیں (کیونکہ معصیت پر اصرار اور اس کو اچھا سمجھنا اور نبی برحق کی عداوت اکثر سبب کفر بن جاتا ہے، مطلب یہ کہ مسلمان کو جلدی توبہ کرلینا چاہئے، کیونکہ بعض اوقات پھر توبہ کی توفیق نہیں رہتی اور بعض اوقات کفر تک نوبت پہنچ جاتی ہے، آگے فرماتے ہیں کہ اگر تم لوگوں کے دلوں میں معاصی سے کوئی خرابی کم و بیش پیدا ہوگئی ہو تو اس کو اس وہم کی بناء پر توبہ سے مانع نہ سمجھو کہ اب توبہ سے کیا اصلاح ہوگی بلکہ) یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ (کی ایسی شان ہے کہ وہ) زمین کو اس کے خشک ہوئے پیچھے زندہ کردیتا ہے (بس اسی طرح توبہ کرنے پر اپنی رحمت سے قلب مردہ کو زندہ اور درست کردیتا ہے، پس مایوس نہ ہونا چاہئے کیونکہ) ہم نے تم سے (اس کے) نظائر بیان کردیئے ہیں تاکہ تم سمجھو (نمونہ سے مراد جیسا مدارک میں ہے احیاء ارض ہے اور شاید جمع لانا بوجہ تکرار وقوع کے ہو، آگے فضیلت انفاق مذکورہ بالا کی ارشاد ہے یعنی) بلاشبہ صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور یہ (صدقہ دینے والے) اللہ کو خلوص کے ساتھ قرض دے رہے ہیں وہ صدقہ (باعتبار ثواب کے) ان کے لئے بڑھا دیا جائے گا اور (مضاعفتہ کے ساتھ) ان کے لئے اجر پسندیدہ (تجویز کیا گیا) ہے (تفسیر اس کی ابھی گزر چکی ہے) اور (آگے فضیلت ایمان مذکورہ بالا کی ارشاد ہے کہ) جو لوگ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر (پورا) ایمان رکھتے ہیں (یعنی جن میں ایمان اور تصدیق اور پابندی اطاعت مکمل درجہ میں ہو) ایسے ہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں (جس کا بیان سورة نساء کے رکوع نہم میں آ چکا ہے، یعنی یہ مراتب کمال ایمان کامل ہی کی بدولت نصیب ہوتے ہیں اور شہید کا حاصل باذل نفس فی اللہ ہے، یعنی جو اپنی جان کو اللہ کی راہ میں پیش کر دے گو قتل نہ ہو کیونکہ وہ اختیار سے خارج ہے) ان کے لئے (جنت میں) ان کا اجر (خاص) اور (صراط پر) ان کا نور (خاص) ہوگا اور (آگے کفار کا ذکر فرماتے ہیں کہ) جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخی ہیں۔ معارف و مسائل يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ يَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ ، یعنی وہ دن یاد رکھنے کے قابل ہے جس دن آپ مومن مرد اور مومن عورتوں کو دیکھیں گے کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور داہنی طرف ہوگا الخ۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے اور یہ نور عطا ہونے کا معاملہ پل صراط پر چلنے سے کچھ پہلے پیش آئے گا، اس کی تفصیل ایک حدیث میں ہے جو حضرت ابو امامہ باہلی سے مروی ہے، ابن کثیر نے اس کو بحوالہ ابن ابی حاتم نقل کیا ہے، حدیث طویل ہے جس میں ابو امامہ کا دمشق میں ایک جنازہ میں شریک ہونا اور فارغ ہونے کے بعد لوگوں کو موت اور آخرت کی یاد دلانے کے لئے موت اور قبر پھر حشر کے کچھ حالات بیان فرمانا مذکور ہے، اس کے چند جملوں کا ترجمہ یہ ہے کہ۔ " پھر تم قبروں سے میدان حشر کی طرف منتقل کئے جاؤ گے، جس میں مختلف مراحل اور مواقف ہوں گے، ایک مرحلہ ایسا آئے گا کہ بحکم خداوندی کچھ چہرے سفید اور روشن کردیئے جاویں گے اور کچھ چہرے کالے سیاہ کردیئے جاویں گے، پھر ایک مرحلہ ایسا آوے گا کہ میدان حشر میں جمع ہونے والے سب لوگوں پر جن میں مومن و کافر سب ہوں گے، ایک شدید ظلمت اور اندھیری طاری ہوجائے گی، کسی کو کچھ نظر نہ آئے گا، اس کے بعد نور تقسیم کیا جائے گا ہر مومن کو نور عطا کیا جائے گا (ابن ابی حاتم ہی کی دوسری روایت میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ مومن میں یہ نور بقدر ان کے اعمال کے تقسیم ہوگا، کسی کا نور مثل پہاڑ کے، کسی کا کجھور کے درخت کے مثل، کسی کا قامت انسانی کے برابر ہوگا، سب سے کم نور اس شخص کا ہوگا جس کے صرف انگوٹھے میں نور ہوگا اور وہ بھی کبھی روشن ہوجائے گا کبھی بجھ جائے گا، ابن کثیر) پھر حضرت ابوامامہ باہلی نے فرمایا کہ منافقین اور کفار کو کوئی نور نہ دیا جائے گا اور فرمایا کہ اسی واقعہ کو قرآن کریم نے ایک مثال کے عنوان سے اس آیت میں بیان فرمایا ہے (اَوْ كَظُلُمٰتٍ فِيْ بَحْرٍ لُّـجِّيٍّ يَّغْشٰـىهُ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ مَوْجٌ مِّنْ فَوْقِهٖ سَحَابٌ ۭ ظُلُمٰتٌۢ بَعْضُهَا فَوْقَ بَعْضٍ ۭ اِذَآ اَخْرَجَ يَدَهٗ لَمْ يَكَدْ يَرٰىهَا ۭ وَمَنْ لَّمْ يَجْعَلِ اللّٰهُ لَهٗ نُوْرًا فَمَا لَهٗ مِنْ نُّوْرٍ) (النور40) اور فرمایا کہ مومنین کو جو نور عطا ہوگا (اس کا حال دنیا کے نور کی طرح نہیں ہوگا کہ جہاں کہیں نور ہو اس کے پاس والے بھی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں) بلکہ جس طرح کوئی اندھا آدمی دوسرے بصیر آدمی کے نور بصر سے نہیں دیکھ سکتا اسی طرح مومنین کے اس نور سے کوئی کافر یا فاسق فائدہ نہیں اٹھا سکے گا (ابن کثیر) حضرت ابو امامہ باہلی کی اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس موقف میں ظلمت شدیدہ کے بعد حق تعالیٰ کی طرف مومن مردوں اور مومن عورتوں میں نور تقسیم ہوگا اسی وقت سے کافر اور منافق اس نور سے محروم رہیں گے، ان کو کسی قسم کا نور ملے ہی گا نہیں۔ مگر طبرانی نے حضرت ابن عباس سے ایک مرفوع روایت یہ نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ۔ پل صراط کے پاس اللہ تعالیٰ ہر مومن کو نور عطا فرما دیں گے اور ہر منافق کو بھی مگر جس وقت یہ پل صراط پر پہنچ جائیں گے تو منافقین کا نور سلب کرلیا جائے گا (ابن کثیر) اس سے معلوم ہوا کہ منافقین کو بھی ابتداء میں نور دیا جائے گا، مگر پل صراط پر پہنچ کر یہ نور سلب ہوجاوے گا، بہرحال خواہ ابتداء ہی سے ان کو نور نہ ملا ہو یا مل کر بجھ گیا ہو، اس وقت وہ مومنین سے درخواست کریں گے کہ ذرا ٹھہرو ہم بھی تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھا لیں کیونکہ ہم دنیا میں بھی نماز، زکوٰة، حج، جہاد سب چیزوں میں تمہارے شریک رہا کرتے تھے، تو ان کو اس درخواست کا جواب نامنظوری کی شکل میں دیا جائے گا، جس کا بیان آگے آتا ہے اور منافقین کے مناسب حال تو یہی ہے کہ پہلے ان کو بھی مسلمانوں کی طرح نور ملے پھر اس کو سلب کرلیا جائے جس طرح وہ دنیا میں خدا و رسول کو دھوکا دینے کی ہی کوشش میں لگے رہے تھے، ان کے ساتھ قیامت میں معاملہ بھی ایسا ہی کیا جائے گا جیسے کسی کو دھوکہ دینے کے لئے کچھ روشنی دکھلا کر بجھا دی جائے، جیسا کہ ان کے بارے میں قرآن کریم کا یہ ارشاد ہے يُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَھُوَ خَادِعُھُمْ " یعنی منافقین اللہ کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اور اللہ ان کو دھوکہ دینے والا ہے " امام بغوی نے فرمایا کہ اس دھوکہ سے یہی مراد ہے کہ پہلے نور دے دیا جائے گا مگر عین اس وقت جب نور کی ضرورت ہوگی سلب کرلیا جائے گا اور یہی وہ وقت ہوگا جبکہ مومنین کو بھی یہ اندیشہ لگ جائے گا کہ کہیں ہمارا نور بھی سلب نہ ہوجائے، اس لئے وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ہمارے نور کو آخر تک پورا کردیئے جس کا ذکر اس آیت میں ہے (يَوْمَ لَا يُخْزِي اللّٰهُ النَّبِيَّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ ۚ نُوْرُهُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَبِاَيْمَانِهِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا الایتہ) (مظہری) مسلم، احمد اور دار قطنی میں حضرت جابر بن عبداللہ کی مرفوع حدیث میں بھی آیا ہے کہ شروع میں مومن و منافق دونوں کو نور دیا جائے گا پھر پل صراط پر پہنچ کر منافقین کا نور سلب ہوجائے گا۔ اور تفسیر مظہری میں ان دونوں روایتوں کی تطبیق اس طرح بیان کی ہے کہ اصل منافقین جو آنحضرت ﷺ کے زمانے میں تھے ان کو تو شروع ہی سے کفار کی طرح کوئی نور نہ ملے گا، مگر وہ منافقین جو اس امت میں بعد رسول اللہ ﷺ کے ہوں گے جن کو منافقین کا نام تو اس لئے نہیں دیا جاسکے گا کہ وحی کا سلسلہ رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوچکا اور کسی کے بارے میں بغیر وحی قطعی کے یہ حکم نہیں لگایا جاسکتا کہ وہ دل سے مومن نہیں، صرف زبان کا اقرار ہے، اس لئے امت میں کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی کو منافق کہے، علم میں منافق ہیں گو ظاہر میں ان کی منافقت نہیں کھلی ان کے ساتھ یہ معاملہ ہوگا کہ شروع میں ان کو بھی نور دے دیا جائے گا بعد میں سلب کرلیا جائے۔ اس قسم کے منافقین امت کے وہ لوگ ہیں جو قرآن و حدیث میں تحریف کر کے ان کے معانی کو بگاڑتے اور اپنے مطلب کے موافق بناتے ہیں، نعوذ باللہ منہ۔ میدان حشر میں نور اور ظلمت کے اسباب اس جگہ تفسیر مظہری میں قرآن و حدیث سے محشر کی ظلمت و نور کے اسباب بھی بیان کردیئے ہیں جو علمی تحقیقات سے زیادہ اہم ہیں وہ نقل کرتا ہوں (لعل اللہ تعالیٰ یرزقنا نوراً) (1) ابوداؤد و ترمذی نے حضرت بریدہ اور ابن ماجہ نے حضرت انس سے یہ مرفوع حدیث روایت کی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ۔ " خوشخبری سنا دو ان لوگوں کو جو اندھیری راتوں میں مسجد کی طرف جاتے ہیں، قیامت کے روز مکمل نور کی " اور اسی مضمون کی روایات حضرت سہل بن سعد، زید بن حارثہ، ابن عباس، ابن عمر، حارثہ ابن وہب، ابوامامہ، ابوالدردا، ابوسعید، ابوموسیٰ ، ابوہریرہ، عائشہ صدیقہ وغیرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بھی منقول ہیں (مظہری) (2) مسند احمد اور طبرانی میں حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (من حافظ علی الصلوات کانت لہ نورا و برھانا ونجاة یوم القیمة و من لم یحافظ علیھا لم یکن لہ نورا ولابرھانا ولا نجاة و کان یوم القیامة مع قارون وھامان و فرعون) جو شخص پانچوں نمازوں کی محافظت کرے گا (یعنی ان کے اوقات اور آداب کو پابندی کے ساتھ بجا لائے گا) اس کے لئے یہ نماز قیامت کے روز نور اور برہان اور نجات بن جائے گی اور جو اس پر محافظت نہ کرے گا تو اس کے لئے نور ہوگا نہ برہان اور نہ نجات اور وہ قارون اور ہامان اور فرعون کے ساتھ ہوگا۔ (3) اور طبرانی نے حضرت ابوسعید سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو سورة کہف پڑھے گا قیامت کے روز اس کے لئے اتنا نور ہوگا جو اس کی جگہ سے مکہ مکرمہ تک پھیلے گا اور ایک روایت میں ہے کہ جو شخص جمعہ کے روز سورة کہف پڑھے گا قیامت کے روز اس کے قدموں سے آسمان کی بلندی تک نور چمکے گا۔ (4) امام احمد نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص قرآن کی ایک آیت بھی تلاوت کرے گا وہ آیت اس کے لئے قیامت کے روز نور ہوگی۔ (5) دیلمی نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ مجھ پر درود بھیجنا پل صراط پر نور کا سبب بنے گا۔ (6) طبرانی نے حضرت عبادہ بن صامت سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حج کے احکام بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حج وعمرہ کے احرام سے فارغ ہونے کے لئے جو سر منڈایا جاتا ہے تو اس میں جو بال زمین پر گرتا ہے وہ قیامت کے روز نور ہوگا۔ (7) مسند بزار میں حضرت ابن مسعود سے مرفوعاً روایت ہے کہ منیٰ میں جمرات کی رمی کرنا قیامت کے روز نور ہوگا۔ (8) طبرانی نے بسند جید حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جس شخص کے بال حالت اسلام میں سفید ہوجاویں وہ اس کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا۔ (9) بزار نے بسند جید حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد میں ایک تیر بھی پھینکے گا اس کے لئے قیامت میں نور ہوگا۔ (10) بیہقی نے شعب الایمان میں بسند منقطع حضرت ابن عمر سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ بازار میں اللہ کا ذکر کرنے والے کو اس کے ہر بال کے مقابلے میں قیامت کے روز ایک نور ملے گا۔ (11) طبرانی نے حضرت ابوہریرہ سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کی مصیبت و تکلیف کو دور کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے پل صراط پر نور کے دو شعبے بنا دے گا جس سے ایک جہان روشن ہوجائے گا جس کی تعداد اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا۔ (12) بخاری و مسلم نے حضرت ابن عمر سے اور مسلم نے حضرت جابر سے اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عمر سے اور طبرانی نے ابن زیاد سے روایت کیا ہے کہ ان سب نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (ایاکم والظلم فانہ ھو الظلمت یوم القیمة) یعنی تم ظلم سے بہت بچو، کیونکہ ظلم ہی قیامت کے روز ظلمات اور اندھیری ہوگی۔ نعوذ باللہ من الظلمات و نسالہ النور التام یوم القیامتہ
Ayahs 57:13–15

یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ١ۚ قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا١ؕ فَضُرِبَ بَیْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ١ؕ بَاطِنُهٗ فِیْهِ الرَّحْمَةُ وَ ظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُؕ Open ayah 57:13 in the Quran reader

جس دن کہیں گے دغا باز مرد اور عورتیں ایمان والوں کو راہ دیکھو ہماری ہم بھی روشنی لے لیں تمہارے نور سے کوئی کہے گا لوٹ جاؤ پیچھے پھر ڈھونڈلو روشنی پھر کھڑی کردی جائے ان کے بیچ میں ایک دیوار جس میں ہوگا دروازہ اس کے اندر رحمت ہوگی اور باہر کی طرف عذاب

یُنَادُوْنَهُمْ اَلَمْ نَكُنْ مَّعَكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى وَ لٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَكُمْ وَ تَرَبَّصْتُمْ وَ ارْتَبْتُمْ وَ غَرَّتْكُمُ الْاَمَانِیُّ حَتّٰى جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ غَرَّكُمْ بِاللّٰهِ الْغَرُوْرُ Open ayah 57:14 in the Quran reader

یہ ان کو پکاریں گے کیا ہم نے تھے تمہارے ساتھ کہیں گے کیوں نہیں لیکن تم نے بچلا دیا اپنے آپ کو اور راہ دیکھتے رہے اور دھوکے میں پڑے اور بہک گئے اپنے خیالوں پر یہاں تک کہ آپہنچا حکم اللہ کا اور تم کو بہکا دیا اللہ کے نام سے اس دغا باز نے

فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْیَةٌ وَّ لَا مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ١ؕ هِیَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 57:15 in the Quran reader

سو آج تم سے قبول نہ ہوگا فدیہ دینا اور نہ منکروں سے تم سب کا گھر دوزخ ہے وہی ہے رفیق تمہاری اور بری جگہ جا پہنچے

(آیت) يَوْمَ يَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِكُمْ ، یعنی اس روز جب منافق مرد اور منافق عورتیں مومنین سے کہیں گے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو ہم بھی تمہارے نور سے فائدہ اٹھا لیں۔ (آیت) قِيْلَ ارْجِعُوْا وَرَاۗءَكُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا، ان سے کہا جائے گا کہ پیچھے لوٹو جہاں یہ نور تقسیم ہوا تھا وہیں نور تلاش کرو، یہ بات یا تو مومنین ان کے جواب میں کہیں گے یا فرشتے جواب دیں گے (کماروی عن ابن عباس وقتادة قولین) (آیت) فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب یعنی مومنین یا فرشتوں کا جواب سن کر منافقین اسی جگہ کی طرف لوٹیں گے جہاں نور تقسیم ہوا تھا، وہاں کچھ نہ پاویں گے تو پھر اس طرف آویں گے، اس وقت یہ مومنین تک پہنچنے نہ پاویں گے بلکہ ان کے اور مومنین کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی، جس کے پرلی طرف جہاں مومنین ہوں گے رحمت ہوگی اور اس طرف جہاں منافقین ہوں گے عذاب ہوگا۔ روح المعانی میں ابن زید کا قول نقل کیا ہے کہ یہ دیوار اعراف ہوگی جو مومنین و کفار کے درمیان حائل کردی جائے گی اور بعض دوسرے مفسرین نے دیوار اعراف کے علاوہ کوئی دوسری دیوار قرار دی ہے اور اس دیوار میں جو دروازہ رکھا جائے گا یا تو اس لئے کہ اس کے راستہ میں مومنین و کفار میں باہم گفتگو ہو سکے، یا مومنین کو اسی دروازے سے گزارنے کے بعد بند کردیا جائے گا۔ فائدہ اس نور کے معاملے میں کفار کا کہیں ذکر نہیں آیا، کیونکہ ان میں نور کا کوئی احتمال ہی نہ تھا، منافقین کے نور کے بارے میں دو روایتیں آئیں کہ اول ہی سے ان کو نور نہ ملے گا، یا ملنے کے بعد پل صراط پر جانے کے وقت بجھا دیا جائے گا اور ان کے اور مومنین کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی، اس مجموعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پل صراط کے ذریعہ جہنم کو پار کرنا یہ صرف مومنین کے لئے ہوگا کفار و مشرکین پل صراط پر نہیں چڑھیں گے، وہ جہنم کے دروازوں کے راستے جہنم میں ڈال دیئے جاویں گے اور مومنین پل صراط کے راستے سے گزریں گے، پھر گناہ گار مومن جن کے لئے ان کے اعمال کی سزا چند روز جہنم میں رہنا، وہ اس پل سے گر کر جہنم میں پہنچیں گے، باقی مومنین صحیح سالم گزر کر جنت میں داخل ہوں گے، وصرح بہ الشاہ عبدالقادر الدہلوی ویویدہ مافی الدرہٰہنا واللہ اعلم۔
Ayahs 57:16–18

اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ١ۙ وَ لَا یَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:16 in the Quran reader

کیا وقت نہیں آیا ایمان والوں کو کہ گڑ گڑائیں ان کے دل اللہ کی یاد سے اور جو اترا ہے سچا دین اور نہ ہوں ان جیسے جن کو کتاب ملی تھی اس سے پہلے پھر دراز گزری ان پر مدت پھر سخت ہوگئے ان کے دل اور بہت ان میں نافرمان ہیں

اِعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 57:17 in the Quran reader

جان رکھو کہ اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اس کے مر جانے کے بعد ہم نے کھول کر سنا دیئے تم کو پتے اگر تم کو سمجھ ہے

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

تحقیق جو لوگ خیرات کرنے والے ہیں مرد اور عورتیں اور قرض دیتے ہیں اللہ کو اچھی طرح ان کو ملتا ہے دونا اور ان کو ثواب ہے عزت کا

(آیت) اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ، یعنی کیا اب بھی وقت نہیں آیا ایمان والوں کے لئے کہ ان کے قلوب اللہ کے ذکر کے لئے جھک جائیں اور نرم ہوجائیں اور اس قرآن کے لئے جو ان پر نازل کیا گیا۔ خشوع قلب سے مراد دل کا نرم ہونا اور وعظ و نصیحت کو قبول کرنا اور اس کی اطاعت کرنا ہے (ابن کثیر) قرآن کے لئے خشوع یہ ہے کہ اس کے احکام اور امر ونواہی کی مکمل اطاعت کے لئے تیار ہوجائے اور اس پر عمل کرنے میں کسی سستی اور کمزوری کو راہ نہ دے (روح المعانی) یہ عتاب و تنبیہ مومنین کو ہے، حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض مومنین کے قلوب میں عمل کے اعتبار سے کچھ سستی معلوم کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی (ابن کثیر) امام اعمش نے فرمایا کہ مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد صحابہ کرام کو کچھ معاشی سہولتیں اور آرام ملا تو بعض حضرات میں عمل کی جدوجہد جو ان کی عادت تھی اس میں کچھ کمی اور سستی پائی گئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی (روح المعانی) حضرت ابن عباس کی مذکورہ روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ آیت عتاب نزول قرآن سے تیرہ سال بعد نازل ہوئی (رواہ عنہ ابن ابی حاتم) اور صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود کی روایت ہے کہ ہمارے اسلام لانے کے چار سال بعد اس آیت کے ذریعہ ہم پر عتاب و تنبیہ نازل کی گئی۔ واللہ اعلم بہرحال حاصل اس عتاب و تنبیہ کا مومنین کو مکمل خشوع اور عمل صالح کے لئے مستعد رہنے کی تعلیم ہے اور خشوع قلب ہی پر تمام اعمال کا مدار ہے۔ حضرت شداد بن اوس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جو چیز لوگوں سے اٹھا لی جائے گی وہ خشوع ہے (ابن کثیر)