Ayah 57:19کیا ہر مومن صدیق و شہید ہے ؟
(آیت) وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِهٖٓ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ ڰ وَالشُّهَدَا، اس آیت سے معلوم ہوا کہ صدیق و شہید ہر مومن کو کہا جاسکتا ہے اور حضرت قتادہ اور عمرو بن میمون نے اس آیت کی بنا پر فرمایا کہ ہر وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے وہ صدیق و شہید ہے۔
ابن جریر نے حضرت براء بن عازب سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومنوا امتی شھدآء، یعنی میری امت کے سب مومن شہید ہیں اور اس کی دلیل میں آپ نے آیت مذکورہ تلاوت فرمائی۔
ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ ایک روز ان کے پاس کچھ حضرات صحابہ جمع تھے، انہوں نے فرمایا کلکم صدیق و شھید، یعنی تم میں سے ہر ایک صدیق بھی ہے شہید بھی، لوگوں نے تعجب سے کہا کہ ابوہریرہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟.... تو حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ میری بات کا یقین نہیں آتا تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا باللّٰهِ وَرُسُلِهٖٓ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الصِّدِّيْقُوْنَ ڰ وَالشُّهَدَا۔
لیکن قرآن کریم کی ایک دوسری آیت سے بظاہر یہ مستفاد ہوتا ہے کہ صدیق و شہید ہر مومن نہیں بلکہ مومنین میں سے ایک اعلیٰ طبقہ کے لوگوں کو صدیق و شہید کہا جاتا ہے، آیت یہ ہے۔ (آیت) فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھد آء والصالحین، کیونکہ اس آیت میں انبیاء کے ساتھ عام مومنین میں تین طبقے خصوصیت سے ذکر کئے گئے ہیں، صدیقین، شہداء اور صالحین اور ظاہر اس سے یہ ہے کہ ان تینوں کے مفہوم اور مصداق میں فرق ہے، ورنہ تینوں کو الگ کہنے کی ضرورت نہ ہوتی، اسی لئے بعض حضرات نے فرمایا کہ صدیقین و شہداء تو دراصل مومنین کے مخصوص اعلیٰ طبقات کے لوگ ہیں، جو بڑی صفات عالیہ کے حامل ہیں، یہاں سب مومنین کو صدیق و شہید فرمانے کا حاصل یہ ہے کہ ہر مومن بھی ایک حیثیت سے صدیقین و شہداء کے حکم میں ہے اور ان کے زمرہ میں لاحق سمجھا جائے گا۔
اور روح المعانی میں ہے کہ مناسب یہ ہے کہ اس آیت میں الذین امنوا سے مراد وہ مومن لئے جاویں جو ایمان کامل رکھتے ہیں اور اطاعات کے پابند ہیں، ورنہ وہ مومن جو شہوات اور غفلت میں منہمک ہو اس کو صدیق و شہید نہیں کہا جاسکتا۔
اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللعانون لایکونون شھدآء، یعنی لوگوں پر لعنت کرنے والے شہداء میں شامل نہ ہوں گے اور حضرت فاروق اعظم نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا کہ ”تمہیں کیا ہوگیا کہ تم دیکھتے ہو کہ کوئی آدمی لوگوں کی عزت و آبرو کو مجروح کرتا ہے اور تم اس کو نہ روکتے ہو، نہ کوئی برا مانتے ہو، ان حضرات نے عرض کیا کہ ہم اس کی بدزبانی سے ڈرتے ہیں کہ ہم کچھ بولیں گے تو وہ ہماری بھی عزت و آبرو پر حملہ کرے گا، حضرت فاروق اعظم نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو تم لوگ شہداء نہیں ہو سکتے“ ابن اثیر نے یہ روایت نقل کر کے اس کا مطلب یہ بتلایا کہ ایسی مداہنت کرنے والے ان شہداء میں شامل نہیں ہوں گے جو قیامت کے روز انبیاء سابقین کی امتوں کے مقابلہ میں شہادت دیں گے (روح المعانی)
تفسیر مظہری میں ہے کہ اس آیت میں الذین امنوا سے مراد صرف وہ حضرات ہیں جو آنحضرت ﷺ کے عہد مبارک میں ایمان لائے اور آپ کی صحبت سے مشرف ہوئے۔
اور آیت میں لفظ ہم الصدیقون جو کلمہ حصر ہے یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ صدیقیت صحابہ کرام میں منحصر ہے، حضرت مجدد الف ثانی نے فرمایا کہ صحابہ کرام سب کے سب کمالات نبوت کے حامل تھے، جس شخص نے ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کو ایمان کے ساتھ دیکھ لیا، وہ کمالات نبوت میں مستغرق ہوگیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 57:20خلاصہ تفسیر
تم خوب جان لو کہ (آخرت کے مقابلہ میں) دنیوی حیات (ہرگز قابل اشتغال چیز نہیں کیونکہ) محض لہو و لعب اور (ایک ظاہری) زینت اور باہم ایک دوسرے پر فخر کرنا (قوت و جمال اور دنیوی ہنر و کمال میں) اور اموال اور اولاد میں ایک کا دوسرے سے اپنے کو زیادہ بتلانا ہے (یعنی مقاصد دنیا کے یہ ہیں کہ بچپن میں لہو و لعب کا غلبہ رہتا ہے اور جوانی میں زینت و تفاخر کا اور بڑھاپے میں مال و دولت آل واولاد کو گنوانا اور یہ سب مقاصد فانی اور خوب و خیال محض ہیں جس کی مثال ایسی ہے) جیسے مینہ (برستا) ہے کہ اس کی پیداوار (کھیتی) کاشتکاروں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر وہ (کھیتی) خشک ہوجاتی ہے سو اس کو تو زرد دیکھتا ہے پھر وہ چورا چورا ہوجاتی ہے (اسی طرح دنیا چند روزہ بہار ہے پھر زوال و اضمحلال، یہ تو دنیا کی حالت ہوئی) اور آخرت (کی کیفیت یہ ہے کہ اس) میں (دو چیزیں ہیں ایک تو کفار کے لئے) عذاب شدید ہے اور (دوسری اہل ایمان کے لئے) خدا کی طرف سے مغفرت اور رضا مندی ہے (اور یہ دونوں باقی ہیں، پس آخرت تو باقی ہے) اور دنیوی زندگانی محض (فانی ہے، جیسے فرض کرو کہ ایک) دھوکہ کا اسباب ہے (ومر تفسیرہ فی آل عمران قریباً من الاخیر، پس جب متاع دنیا فانی اور دولت آخرت باقی ہے جو ایمان کی بدولت نصیب ہوتی ہے تو تم کو چاہئے کہ) تم اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور (نیز) ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کے برابر ہے (یعنی اس سے کم کی نفی ہے، زیادہ کی نفی نہیں اور) وہ ان لوگوں کے واسطے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں (اور) یہ (مغفرت و رضوان) اللہ کا فضل ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہیں عنایت کریں اور اللہ بڑے فضل والا ہے (اس میں اشارہ ہے کہ اپنے اعمال پر کوئی مغرور نہ ہو اور اپنے اعمال پر استحقاق جنت کا مدعی نہ ہو، یہ محض فضل ہے جس کا مدار ہماری مشیت پر ہے، مگر ہم نے اپنی رحمت سے ان عملوں کے کرنے والوں کے ساتھ مشیت متعلق کرلی، اگر ہم چاہتے تو مشیت نہ کرتے کہ القدرة تتعلق بالضدین)
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں اہل جنت کے اور اہل جہنم کے حال کا بیان تھا، جو آخرت میں پیش آئے گا اور دائمی ہوگا اور آخرت کی نعمتوں سے محروم اور عذاب میں گرفتار ہونے کا بڑا سبب انسان کے لئے دنیا کی فانی لذتیں اور ان میں منہمک ہو کر آخرت سے غفلت ہونا ہے، اس لئے ان آیات میں دنیا فانی کا ناقابل اعتماد ہونا بیان کیا گیا ہے۔
پہلے ابتدا عمر سے آخر تک جو کچھ دنیا میں ہوتا ہے اور جس میں دنیا دار منہمک و مشغول اور اس پر خوش رہتے ہیں اس کا بیان ترتیب کے ساتھ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی کا خلاصہ بہ ترتیب چند چیزیں اور چند حالات ہیں پہلے لعب پھر لہو پھر زینت پھر تفاخر، پھر مال واولاد کی کثرت پر ناز و فخر۔
لعب وہ کھیل ہے جس میں فائدہ مطلق پیش نظر نہ ہو، جیسے بہت چھوٹے بچوں کی حرکتیں اور لہو وہ کھیل ہے جس کا اصل مقصد تو تفریح اور دل بہلانا اور وقت گزاری کا مشغلہ ہوتا ہے، ضمنی طور پر کوئی ورزش یا دوسرا فائدہ بھی اس میں حاصل ہوجاتا ہے جیسے بڑے بچوں کے کھیل، گیند، شن اوری یا نشانہ بازی وغیرہ، حدیث میں نشانہ بازی اور تیرنے کی مشق کو اچھا کھیل فرمایا ہے، زینت بدن اور لباس وغیرہ کی معروف ہے، ہر انسان اس دور سے گزرتا ہے کہ عمر کا بالکل ابتدائی حصہ تو خالص کھیل یعنی لعب میں گزرتا ہے، اس کے بعد لہو شروع ہوتا ہے، اس کے بعد اس کو اپنے تن بدن اور لباس کی زینت کی فکر ہونے لگتی ہے اس کے بعد ہم عصروں ہم عمروں سے آگے بڑھنے اور ان پر فخر جتلانے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے۔
اور انسان پر جتنے دور اس ترتیب سے آتے ہیں غور کرو تو ہر دور میں وہ اپنے اسی حال پر قانع اور اسی کو سب سے بہتر جانتا ہے، جب ایک دور سے دوسرے کی طرف منتقل ہوجاتا ہے تو سابقہ دور کی کمزوری اور لغویت سامنے آجاتی ہے، بچے ابتدائی دور میں جن کھیلوں کو اپنا سرمایہ زندگی اور سب سے بڑی دولت جانتے ہیں، کوئی ان سے چھین لے تو ان کو ایسا ہی صدمہ ہوتا ہے جیسا کہ کسی بڑے آدمی کا مال و اسباب اور کوٹھی بنگلہ چھین لیا جائے لیکن اس دور سے آگے بڑھنے کے بعد اس کو حقیقت معلوم ہوجاتی ہے کہ جن چیزوں کو ہم نے اس وقت مقصود زندگی بنایا ہوا تھا وہ کچھ نہ تھیں، سب خرافات تھیں، بچپن میں لعب، پھر لہو میں مشغولیت رہی جوانی میں زینت اور تفاخر کا مشغلہ ایک مقصد بنا رہا، بڑھاپا آیا، اب مشغلہ تکاثر فی الاموال والاود کا ہوگیا، کہ اپنے مال و دولت کے اعداد و شمار اور اولاد و نسل کی زیادتی پر خوش ہوتا رہے ان کو گنتا گناتا رہے، مگر جیسے جوانی کے زمانے میں بچپن کی حرکتیں لغو معلوم ہونے لگی تھیں بڑھاپے میں پہنچ کر جوانی کی حرکتیں لغو و ناقابل التفات نظر آنے لگیں، اب بڑے میاں کی آخری منزل بڑھاپا ہے، اس میں مال کی بہتات، اولاد کی کثرت و قوت اور ان کے جاہ و منصب پر فخر سرمایہ زندگی اور مقصود اعظم بنا ہوا ہے، قرآن کریم کہتا ہے کہ یہ حال بھی گزر جانے والا ہے اور فانی ہے، اگلا دور برزخ پھر قیامت کا ہے اس کی فکر کرو کہ وہ ہی اصل ہے، قرآن کریم نے اس ترتیب کے ساتھ ان سب مشاغل و مقاصد و دنیویہ کا زوال پذیر، ناقص، ناقابل اعتماد ہونا بیان فرما دیا اور آگے اس کو ایک کھیتی کی مثال سے واضح فرمایا۔
(آیت) كَمَثَلِ غَيْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ يَهِيْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُوْنُ حُطَامًا، غیث کے معنی بارش کے ہیں اور لفظ کفار جو مومنین کے مقابلہ میں آتا ہے اس کی یہ معنی تو معروف و مشہور ہی ہیں، اس کے ایک دوسرے لغوی معنی کاشتکار کے بھی آتے ہیں، آس آیت میں بعض حضرات نے یہی معنی مراد لئے ہیں اور مطلب آیت کا یہ قرار دیا ہے کہ جس طرح بارش سے کھیتی اور طرح طرح کی نباتات اگتی ہیں اور جب وہ ہری بھری ہوتی ہیں تو کاشتکار ان سے خوش ہوتا ہے اور بعض دوسرے حضرات مفسرین نے لفظ کفار کو اس جگہ بھی معروف معنی میں لیا ہے کہ کافر لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں اس پر جو یہ اشکال ہے کہ کھیتی ہری بھری دیکھ کر خوش ہونا تو کافر کے ساتھ مخصوص نہیں، مسلمان بھی اس سے خوش ہوتا ہے، اس کا جواب حضرات مفسرین نے یہ دیا ہے کہ مومن کی خوشی اور کافر کی خوشی میں بڑا فرق ہے، مومن خوش ہوتا ہے تو اس کی فکر کا رخ حق تعالیٰ کی طرف پھرجاتا ہے، وہ یقین کرتا ہے کہ یہ سب کچھ اس کی قدرت و حکمت اور رحمت کا نتیجہ ہے وہ اس چیز کو زندگی کا مقصود نہیں بناتا، پھر اس خوشی کے ساتھ اس کو آخرت کی فکر بھی ہر وقت لگی رہتی ہے، اس لئے جو مومن ایمان کے تقاضہ کو پورا کرتا ہے دنیا کی بڑی سے بڑی دولت پر بھی وہ ایسا خوش اور مگن اور مست نہیں ہوتا جیسا کافر ہوتا ہے، اس لئے یہاں خوشی کا اظہار کفار کی طرف منسوب ہے۔
آگے اس مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ کہ یہ کھیتی اور دوسری نباتات پھول پھلواریاں جب ہری بھری ہوتی ہیں تو سب دیکھنے والے خصوصاً کفار بڑے خوش اور مگن نظر آتے ہیں مگر آخر کار پھر وہ خشک ہونا شروع ہوتی ہے پہلے زرد پیلی پڑجاتی ہے پھر بالکل خشک ہو کر چورا چورا ہوجاتی ہے یہی مثال انسان کی ہے کہ شروع میں تروتازہ حسین خوبصورت ہوتا ہے، بچپن سے جوانی تک کے مراحل اسی حال میں طے کرتا ہے، مگر آخر کار بڑھاپا آجاتا ہے جو آہستہ آہستہ بدن کی تازگی اور حسن و جمال سب ختم کردیتا ہے اور بالآخر مر کر مٹی ہوجاتا ہے، دنیا کی بےثباتی اور زوال پذیر ہونے کا بیان فرمانے کے بعد پھر اصل مقصود آخرت کی فکر کی طرف توجہ دلانے کے لئے آخرت کے حال کا ذکر فرمایا۔
(آیت) وَفِي الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيْدٌ ۙ وَّمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَرِضْوَانٌ، یعنی آخرت میں انسان ان دو حالوں میں سے کسی ایک میں ضرور پہنچے گا، ایک حال کفار کا ہے ان کے لئے عذاب شدید ہے، دوسرا حال مومنین کا ہے ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رحمت ہے۔
یہاں عذاب کا ذکر پہلے کیا گیا کیونکہ دنیا میں مست و مغرور ہونا جو پہلی آیات میں مذکور ہے اس کا نتیجہ بھی عذاب شدید ہے اور عذاب شدید کے مقابلہ میں دو چیزیں ارشاد فرمائیں، مغفرت اور رضوان، جس میں اشارہ ہے کہ گناہوں اور خطاؤں کی معافی ایک نعمت ہے جس کے نتیجہ میں آدمی عذاب سے بچ جاتا ہے مگر یہاں صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عذاب سے بچ کر پھر جنت کی دائمی نعمتوں سے بھی سر فراز ہوتا ہے، جس کا سبب رضوان یعنی حق تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔
اس کے بعد دنیا کی حقیقت کو ان مختصر الفاظ میں بیان فرمایا (آیت) وَمَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَآ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ یعنی ان سب باتوں کو دیکھنے سمجھنے کے بعد ایک عاقل وبصیر انسان کے لئے اس کے سوا کوئی نتیجہ دنیا کے بارے میں نہیں رہ سکتا کہ وہ ایک دھوکہ کا سرمایہ اصلی سرمایہ نہیں جو آڑے وقت میں کام آسکے، پھر آخرت کے عذاب وثواب اور دنیا کی بےثباتی بیان فرمانے کا لازمی اثر یہ ہونا چاہئے کہ انسان دنیا کی لذتوں میں منہمک نہ ہو آخرت کی نعمتوں کی فکر زیادہ کرے اس کا بیان اگلی آیات میں اس طرح آیا۔
Ayah 57:21(آیت) سَابِقُوْٓا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ ، یعنی مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کا عرض آسمان و زمین کے عرض کے برابر ہے۔
مسابقت کرنے سے یہ مراد بھی ہو سکتی ہے کہ عمر اور صحت وقدرت کا کچھ بھروسہ نہیں، نیک اعمال میں سستی اور ٹال مٹول نہ کرو ایسا نہ ہو کہ پھر کوئی بیماری یا عذر آ کر تمہیں اس کام کے قابل نہ چھوڑے، یا موت ہی آجائے تو حاصل مسابقت کا یہ ہے کہ عجز و ضعف اور موت سے مسابقت کرو کہ ان کے آنے سے پہلے پہلے ایسے اعمال کا ذخیرہ کرلو جو جنت تک پہنچانے کا ذریعہ بن سکیں۔
اور مسابقت کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ نیک اعمال میں دوسروں سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو جیسا کہ حضرت علی نے اپنی نصائح میں فرمایا کہ ”تم مسجد میں سب سے پہلے جانے والے اور سب سے آخر میں نکلنے والے بنو“ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ جہاد کی صفوف میں سے پہلی صف میں رہنے کے لئے بڑھو، حضرت انس نے فرمایا کہ جماعت نماز میں پہلی تکبیر میں حاضر رہنے کی کوشش کرو (روح)
جنت کی تعریف میں فرمایا کہ اس کا عرض آسمان و زمین کے برابر ہوگا، سورة آل عمران میں بھی اسی مضمون کی آیت پہلے آ چکی ہے، اس میں لفظ سٰموٰت جمع کے ساتھ آیا ہے، جس سے معلوم ہوا کہ آسمان سے مراد ساتوں آسمان ہیں اور معنی یہ ہیں کہ ساتوں آسمانوں اور زمین کی وسعت کو ایک جگہ جمع کرلو تو وہ جنت کا عرض ہو، یعنی چوڑائی اور یہ ظاہر ہے کہ طول ہر چیز کا اس کے عرض سے زائد ہوتا ہے، اس سے ثابت ہوا کہ جنت کی وسعت ساتوں آسمانوں اور زمین کی وسعت سے بڑھی ہوئی ہے اور لفظ عرض کبھی مطلق و سعت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، اس میں طویل کا مقابلہ مقصود نہیں ہوتا، دونوں صورتوں میں جنت کی عظیم الشان وسعت کا بیان ہوگیا۔
(آیت) ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ يُؤْتِيْهِ مَنْ يَّشَاۗءُ ۭ وَاللّٰهُ ذو الْفَضْلِ الْعَظِيْمِ ، اس سے پہلی آیت میں جنت اور اس کی نعمتوں کے لئے مسابقت اور کوشش کا حکم تھا، اس سے کسی کو یہ خیال پیدا ہوسکتا تھا کہ جنت اور اس کی لازوال نعمتیں ہمارے عمل کا ثمرہ اور ہمارا عمل اس کے لئے کافی ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا کہ تمہارے اعمال حصول جنت کے لئے علت کافیہ نہیں ہیں، جن پر عطاء جنت کا مرتب ہونا لازمی ہی ہو، انسان کے عمر بھر کے اعمال تو ان نعمتوں کا بدلہ بھی نہیں ہو سکتے جو دنیا میں اس کو مل چکی ہیں، ہمارے یہ اعمال جنت کی لازوال نعمتوں کی قیمت نہیں بن سکتے، جنت میں جو بھی داخل ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان ہی سے داخل ہوگا، جیسے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ کی مرفوع حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کسی کو صرف اس کا عمل نجات نہیں دلا سکتا، صحابہ نے عرض کیا کہ کیا آپ بھی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں بھی اپنے عمل سے جنت حاصل نہیں کرسکتا بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت ہوجاوے (مظہری)
Ayah 57:22خلاصہ تفسیر
کوئی مصیبت نہ دنیا میں آتی ہے اور نہ خاص تمہاری جانوں میں مگر وہ (سب) ایک کتاب میں (یعنی لوح محفوظ میں) لکھی ہیں قبل اس کے کہ ہم ان جانوں کو پیدا کریں (یعنی تمام مصیبتیں خارجی ہوں یا داخلی، وہ سب مقدر ہیں اور) یہ اللہ کے نزدیک آسان کام ہے (کہ واقع ہونے سے پہلے لکھ دیا کیونکہ اس کو علم غیب حاصل ہے اور ہم نے یہ بات اس واسطے بتلا دی ہے) تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے (تندرستی یا اولاد یا مال) تم اس پر (اتنا) رنج نہ کرو (جو حق تعالیٰ کی مرضی کے طلب کرنے اور آخرت کے امور میں مشغول ہونے میں رکاوٹ ہوجاوے اور طبعی تکلیف کا مضائقہ نہیں) اور تاکہ جو چیز تم کو عطا فرمائی ہے (اس کی نسبت بھی یہی سمجھ کر کہ خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت و فضل سے عطا فرمانا تجویز کردیا تھا اور اسی نے ہم کو دی ہے) اس پر اتراؤ نہیں (کیونکہ اتراوے تو وہ جس کا استحقاق ذاتی ہو اور جب دوسرے کی مشیت و حکم سے ایک چیز ملی ہے، اس پر اترانے کا کیا حق ہے) اور (آگے اس اترانے پر و عید ہے کہ) اللہ تعالیٰ کسی اترانے والے شیخی باز کو پسند نہیں کرتا (اختیال کا لفظ اکثر اندرونی فضائل پر اترانے کے لئے اور فخر اکثر خارجی اشیاء مال و مرتبہ وغیرہ پر اترانے کے لئے مستعمل ہوتا ہے، آگے بخل کی مذمت ہے کہ) جو ایسے ہیں کہ (دنیا کی محبت کی وجہ سے) خود بھی (خدا کے نزدیک پسندیدہ حقوق میں صرف کرنے سے) بخل کرتے ہیں (گو اپنی خواہشات و گناہوں میں کتنا ہی اسراف کریں) اور (اس گناہ کے مرتکب بھی ہوتے ہیں کہ) دوسرے لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم کرتے ہیں (الذین الخ سے جو ترکیب میں بدل ہے یہ مقصود نہیں کہ وعید ان افعال کے مجموعہ کے ساتھ متعلق ہے، کیونکہ ظاہر ہے کہ ہر بری خصلت پر وعید ہے، بلکہ اشارہ اس طرف ہے کہ دنیا کی محبت ایسی ہے جس سے اکثر بری صفات جمع ہو ہی جاتی ہے، اختیال اور افتخار بھی اور بخل بھی وغیر ذالک) اور (یہی دنیا کی محبت کبھی حق سے رو گردانی کرنے تک پہنچا دیتی ہے، جس کے حق میں یہ وعید ہے کہ) جو شخص (دین حق سے جس کی ایک فرع انفاق فی سبیل اللہ بھی ہے) اعراض کرے گا تو اللہ تعالیٰ (کا کوئی نقصان نہیں، کیونکہ وہ سب کی عبادت اور اموال سے) بےنیاز ہیں (اور اپنی ذات وصفات میں کامل اور) سزاوار حمد ہیں۔
معارف و مسائل
دنیا کی دو چیزیں انسان کو اللہ کی یاد اور آخرت کی فکر سے غافل کرنے والی ہیں، ایک راحت و عیش جس میں مبتلا ہو کر انسان اللہ کو بھلا بیٹھتا ہے اس سے بچنے کی ہدایت سابقہ آیات میں آ چکی ہے دوسری چیز مصیبت و غم ہے، اس میں مبتلا ہو کر بھی بعض اوقات انسان مایوس اور خدا تعالیٰ کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے، آیات مذکورہ میں اس کا بیان ہے۔
(آیت) مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا، یعنی جو کوئی مصیبت تم کو زمین میں یا اپنی جانوں میں پہنچتی ہے وہ سب ہم نے کتاب یعنی لوح محفوظ میں مخلوقات کو پیدا کرنے سے بھی پہلے لکھ دیا تھا، زمین کی مصیبت سے مراد قحط، زلزلہ، کھیت اور باغ میں نقصان، تجارت میں گھاٹا، مال و دولت کا ضائع ہوجانا، دوست احباب کی موت سب داخل ہیں اور اپنی جانوں کی مصیبت میں ہر طرح کے امراض اور زخم اور چوٹ وغیرہ شامل ہیں۔
Ayahs 57:23–24(آیت) لِّكَيْلَا تَاْسَوْا عَلٰي مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰتٰىكُمْ ، مطلب اس آیت کا یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ مصیبت یا راحت، خوشی یا غم انسان کو پیش آتا ہے وہ سب حق تعالیٰ نے لوح محفوظ میں انسان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لکھ رکھا ہے، اس کی اطلاع تمہیں اس لئے دی گئی تاکہ تم دنیا کے اچھے برے حالات پر زیادہ دھیان نہ دو ، نہ یہاں کی تکلیف و مصیبت یا نقصان و فقدان کچھ زیادہ حسرت و افسوس کرنے کی چیز ہے اور نہ یہاں کی راحت و عیش یا مال و متاع اتنا زیادہ خوش اور مست ہونے کی چیز ہے جس میں مشغول ہو کر اللہ کی یاد اور آخرت سے غافل ہوجاؤ۔
حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ ہر انسان طبعی طور پر بعض چیزوں سے خوش ہوتا ہے بعض سے غمگین، لیکن ہونا یہ چاہئے کہ جس کو کوئی مصیبت پیش آوے وہ اس پر صبر کر کے آخرت کا اجر وثواب کمائے اور جو کوئی راحت و خوشی پیش آئے وہ اس پر شکر گزار ہو کر اجر وثواب حاصل کرے (رواہ الحاکم و صححہ، از روح)
اگلی آیت میں راحت و آرام یا مال و دولت پر اترانے والے اور فخر کرنے والوں کی مذمت بیان فرمائی، وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُـــوْرِ ، یعنی اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا اترانے والے، فخر کرنے والے کو اور یہ ظاہر ہے جس کو پسند نہیں کرتا اس سے بغض و نفرت رکھتا ہے، مطلب یہ ہے کہ دنیا کی نعمتوں پر اترانے اور فخر کرنے والے اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہیں، مگر عنوان تعبیر میں پسند نہ کرنا ذکر کر کے شاید اس طرف اشارہ ہے کہ عقلمند عاقبت اندیش انسان کا فرض یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے ہر کام میں اس کی فکر کرے وہ اللہ کے نزدیک پسند ہے یا نہیں، اس لئے یہاں ناپسند ہونے کا ذکر فرمایا گیا۔
Ayah 57:25خلاصہ تفسیر
ہم نے (اسی اصلاح آخرت کے لئے) اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے احکام دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور (اس کتاب میں بالخصوص) انصاف کرنے (کے حکم) کو (جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے) نازل کیا تاکہ لوگ (حقوق اللہ اور حقوق العباد میں) اعتدال پر قائم رہیں (اس میں ساری شریعت آگئی جو معتدل یعنی بین الافراط والتفریط ہے) اور ہم نے لوہے کو پیدا کیا جس میں شدید ہیبت ہے (تاکہ اس کے ذریعہ سے عالم کا انتظام رہے کہ ڈر سے بہت سی بےانتظامیاں بند ہوجاتی ہیں) اور (اس کے علاوہ) لوگوں کے اور بھی طرح طرح کے فائدے ہیں (چنانچہ اکثر آلات لوہے سے بنتے ہیں) اور (اس لئے لوہا پیدا کیا) تاکہ اللہ تعالیٰ (ظاہری طور پر) جان لے کہ بے (اس کے خدا کو) دیکھے اس کی اور اس کے رسولوں کی (یعنی دین کی) کون مدد کرتا ہے (کیونکہ جہاد میں بھی کام آتا ہے تو یہ بھی اخروی نفع ہوا اور جہاد کا حکم اس لئے نہیں کہ اللہ اس کا محتاج ہے کیونکہ) اللہ تعالیٰ (خود) قوی زبردست ہے (بلکہ تمہارے ثواب کے لئے ہے)۔
معارف و مسائل
آسمانی کتابوں اور انبیاء (علیہم السلام) کے بھیجنے کا اصل مقصد لوگوں کو عدل و انصاف پر قائم کرنا ہے
لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بالْبَيِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَالْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاس بالْقِسْطِ ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ الایة، لفظ بینٰت کے لغوی معنی واضح اور کھلی ہوئی چیزوں کے ہیں اس سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ واضح احکام ہوں، جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں یہی ترجمہ لیا گیا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے معجزات اور نبوت و رسالت پر واضح دلائل مراد ہوں (کمافسرہ بہ ابن کثیر وابن حیان) اور بینت کے بعد وَاَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ میں کتاب نازل کرنے کا علیحدہ ذکر بظاہر اسی تفسیر کا موید ہے کہ بینٰت سے مراد معجزات و دلائل ہوں اور احکام کی تفصیل کے لئے کتاب نازل کرنے کا ذکر فرمایا گیا۔
کتاب کے ساتھ ایک دوسری چیز میزان نازل کرنے کا بھی ذکر ہے میزان اصل میں اس آلہ کو کہا جاتا ہے جس سے کسی چیز کا وزن کیا جائے جس کی عام صورت ترازو ہے اور مروجہ ترازو کے علاوہ مختلف چیزوں کے وزن تولنے کے لئے جو دوسرے مختلف قسم کے آلات ایجاد ہوتے رہتے ہیں، وہ بھی میزان کے مفہوم میں داخل ہیں، جیسے آج کل روشنی، ہوا وغیرہ کے ناپنے والے آلات ہیں۔
اس آیت میں کتاب کی طرح میزان کے لئے بھی نازل کرنے کا ذکر فرمایا ہے، کتاب کا آسمان سے نازل ہونا اور فرشتوں کے ذریعہ پیغمبر تک پہنچنا تو معلوم و معروف ہے، میزان کے نازل کرنے کا کیا مطلب ہے اس کے متعلق تفسیر روح المعانی مظہری وغیرہ میں ہے کہ انزال میزان سے مراد ان احکام کا نزول ہے، جو ترازو استعمال کرنے اور انصاف کرنے کے متعلق نازل ہوئے اور قرطبی نے فرمایا کہ دراصل انزال تو کتاب ہی کا ہوا ہے، ترازو کے وضع کرنے اور ایجاد کرنے کو اس کے ساتھ لگا دیا گیا ہے، جیسا کہ عرب کے کلام میں اس کی نظائر موجود ہیں تو گویا مفہوم کلام کا یہ ہے کہ انزلنا الکتب و وضعنا المیزان ”یعنی ہم نے اتاری کتاب اور ایجاد کی ترازو“ اس کی تائید سورة رحمان کی (آیت) (والسمآء رفعھا و وضع المیزان) سے بھی ہوتی ہے کہ اس میں میزان کے ساتھ لفظ وضع استعمال فرمایا ہے۔
اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت نوح ؑ پر حقیقی معنی میں آسمان سے ترازو نازل کی گئی تھی اور حکم دیا گیا تھا کہ اس کا وزن کر کے حقوق پورے کرنا چاہئیں واللہ اعلم۔
کتاب اور میزان کے بعد ایک تیسری چیز کے نازل کرنے کا ذکر ہے، یعنی حدید (لوہا) اس کے نازل کرنے کا مطلب بھی اس کو پیدا کرنا، جیسا کہ قرآن کریم کی ایک آیت میں چوپایہ جانوروں کے متعلق بھی لفظ انزال استعمال فرمایا ہے، حالانکہ وہ کہیں آسمان سے نازل نہیں ہوتے، زمین پر پیدا ہوتے ہیں، آیت یہ ہے (آیت) وانزل لکم من الانعام ثمنیة ازواج، یہاں باتفاق انزلنا سے مراد خلقنا ہے یعنی تخلیق کو انزال کے لفظ سے تعبیر کردیا کہ جس میں اشارہ اس طرف پایا جاتا ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ سب اس اعتبار سے منزل من السماء ہے کہ اس کے پیدا ہونے سے بھی بہت پہلے وہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا تھا (روح)
حدید یعنی لوہے کو نازل کرنے کی دو حکمتیں آیت میں بیان فرمائی ہیں، اول یہ کہ مخالفین پر اس کا رعب پڑتا ہے اور سرکشوں کو اس کے ذریعہ احکام الٰہیہ اور عدل و انصاف کے احکام کا پابند بنایا جاسکتا ہے، دوسرے یہ کہ اس میں لوگوں کے لئے بہت منافع حق تعالیٰ نے رکھے ہیں کہ جس قدر صنعتیں اور ایجادات و مصنوعات دنیا میں ہوئی یا آئندہ ہو رہی ہیں ان سب میں لوہے کی ضرورت ہے، لوہے کے بغیر کوئی صنعت نہیں چل سکتی۔
فائدہ۔
یہاں یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس آیت میں اصل مقصد پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے اور میزان عدل ایجاد کرنے اور اس کے استعمال کرنے کا یہ بیان کیا ہے کہ لیقوم الناس بالقسط، یعنی لوگ انصاف پر قائم ہوجائیں، اس کے بعد ایک تیسری چیز یعنی لوہے کے نازل کرنے یعنی ایجاد کرنے کا بھی ذکر فرمایا گیا ہے، یہ بھی درحقیقت اسی عدل و انصاف کی تکمیل کیلئے جو پیغمبر اور کتاب کے نازل کرنے سے مقصود ہے کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابیں عدل و انصاف قائم کرنے کے واضح دلائل دیتے ہیں اور نہ کرنے کی صورت میں عذاب آخرت سے ڈراتے ہیں، میزان ان حدود کو بتلاتی ہے جن سے انصاف کیا جاتا ہے مگر سرکش معاند جو نہ کسی دلیل سے مانتا ہے نہ ترازو کی تقسیم کے مطابق عمل کرنے کو تیار ہے، اگر اس کو آزاد چھوڑ دیا جائے تو وہ دنیا میں عدل و انصاف قائم نہ ہونے دے گا، اس کو پابند کرنا لوہے اور تلوار کا کام ہے جو حکومت و سیاست کرنے والے آخر میں بدرجہ مجبوری استعمال کرتے ہیں۔
فائدہ ثانیہ
یہاں یہ بات بھی قابل نظر ہے کہ قرآن کریم نے دنیا میں عدل و انصاف کرنے کے لئے دو چیزوں کو تو اصل قرار دیا، ایک کتاب، دوسرے میزان، کتاب سے حقوق کی ادائیگی اور اس میں کمی بیشی کی ممانعت کے احکام معلوم ہوتے ہیں اور میزان سے وہ حصے متعین ہوتے ہیں جو دوسروں کے حقوق ہیں، انہی دونوں چیزوں کے نازل کرنے کا مقصد لیقوم الناس بالقسط قرار دیا ہے، حدید کا ذکر اس کے بعد آخر میں فرمایا جس میں اشارہ ہے کہ اقامت عدل و انصاف کیلئے لوہے کا استعمال بدرجہ مجبوری ہے، وہ اصل ذریعہ اقامت عدل و انصاف کا نہیں ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ خلق خدا کی اصل اصلاح اور ان کا عدل و انصاف پر قائم کرنا درحقیت ذہنوں کی تربیت اور تعلیم سے ہوتا ہے، حکومت کا زور زبردستی دراصل اس کام کے لئے نہیں، بلکہ راستہ سے رکاوٹ دور کرنے کے لئے بدرجہ مجبوری ہے، اصل چیز ذہنوں کی تربیت اور تعلیم و تلقین ہے۔
وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَرُسُلَهٗ بالْغَيْبِ ، یہاں ولیعلم حرف عطف کے ساتھ آیا ہے، روح المعانی میں ہے کہ یہ عطف ایک محذوف جملہ پر ہے، یعنی لینفعہم اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ ہم نے لوہا اس لئے پیدا کیا کہ مخالفوں پر اس کا رعب پڑے اور اس لئے کہ لوگ اس سے صنعت و حرفت میں فائدہ اٹھائیں اور اس لئے کہ قانونی اور ظاہری طور پر اللہ تعالیٰ یہ جان لیں کہ کون لوگ لوہے کے آلات حرب کے ذریہ اللہ اور اس کے رسولوں کے مددگار بنتے ہیں اور دین کے لئے جہاد کرتے ہیں، قانونی اور ظاہری طور پر اس لئے کہا گیا ہے کہ ذاتی طور پر تو حق تعالیٰ کو سب کچھ پہلے ہی سے معلوم ہے، مگر انسان جب عمل کرلیتا ہے تو وہ نامہ اعمال میں لکھا جاتا ہے، قانونی ظہور اس کا اسی سے ہوتا ہے۔
Ayah 57:26خلاصہ تفسیر
اور ہم نے (مخلوق کی اسی اصلاح آخرت کے لئے) نوح ؑ اور ابراہیم ؑ کو پیغمبر بنا کر بھیجا اور ہم نے ان کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب جاری رکھی (یعنی ان کی اولاد میں بھی بعضے پیغمبر اور ان میں سے بعضے صاحب کتاب بنائے) سو (جن جن لوگوں کے پاس یہ پیغمبر آئے) ان لوگوں میں بعضے تو ہدایت یافتہ ہوئے اور بہت سے ان میں نافرمان تھے (اور یہ مذکور پیغمبر تو صاحب شریعت مستقلہ تھے، ان میں بعضے صاحب کتاب بھی تھے جیسے موسیٰ ؑ ، جو حضرت نوح ؑ اور ابراہیم دونوں کی اولاد میں تھے اور بعض اگرچہ صاحب کتاب نہیں تھے جیسے ہود اور صالح ؑ کہ ان کا صاحب کتاب ہونا منقول نہیں مگر شریعت ان کی مستقل تھی، بہرحال بہت سے نبی تو صاحب شریعت مستقلہ بھیجے) پھر ان کے بعد اور رسولوں کو (جو کہ صاحب شریعت مستقلہ نہ تھے) یکے بعد دیگرے بھیجتے رہے (جیسے موسیٰ ؑ کے بعد تورات کے احکام کی تعمیل کرانے کے لئے بہت سے پیغمبر آئے) اور ان کے بعد (پھر ایک صاحب شریعت مستقلہ کو یعنی) عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور ہم نے ان کو انجیل دی اور (ان کی امت میں دو قسم کے لوگ ہوئے ایک ان کا اتباع کرنے والے یعنی ان پر ایمان لانے والے اور دوسرے انکار کرنے والے) اور جن لوگوں نے ان کا اتباع کیا تھا (یعنی قسم اول) ہم نے ان کے دلوں میں شفقت اور رحم (ایک دوسرے کے ساتھ جو کہ اخلاق حمیدہ میں سے ہے) پیدا کردیا (کقولہ تعالیٰ فی الصحابتہ (آیت) رحمآء بینہم اور شاید بوجہ اس کے کہ ان کی شریعت میں جہاد نہ تھا، اس کے مقابل کی صفت (آیت) اشدآء علی الکفار ذکر نہیں فرمائی، غرض غالب ان پر شفقت و رحمت تھی) اور (ہماری طرف سے تو ان لوگوں کو صرف احکام میں اتباع کرنے کا حکم ہوا تھا، لیکن ان متبعین میں بعضے وہ ہوئے کہ) انہوں نے رہبانیت کو خود ایجاد کرلیا (رہبانیت کا حاصل نکاح اور جائز لذتوں اور اختلاط کا چھوڑنا ہے اور اس کے ایجاد کا سبب یہ ہوا تھا کہ عیسیٰ ؑ کے بعد جب لوگوں نے احکام الٰہیہ کو چھوڑنا شروع کیا تو بعضے اہل حق بھی تھے جو اظہار حق کرتے رہتے تھے، یہ بات خواہش نفسانی والوں کو مشکل معلوم ہوئی اور انہوں نے اپنے بادشاہوں سے درخواست کی کہ ان لوگوں کو مجبور کیا جاوے کہ ہمارے ہم مشرب بن کر رہیں جب ان کو مجبور کیا گیا تو انہوں نے درخوست کی کہ ہم کو اجازت دی جاوے کہ ہم ان لوگوں سے کوئی تعلق و غرض نہ رکھیں اور آزاد انہ زندگی بسر کریں خواہ گوشہ میں بیٹھ کر یا سفر و سیاحت میں عمر گزار کر، چناچہ اسی پردہ چھوڑ دیئے گئے (کذافی الدرالمنثور) اس مقام پر یہی ذکر ہے کہ انہوں نے رہبانیت کو ایجاد کرلیا) ہم نے ان پر اس کو واجب نہ کیا تھا لیکن انہوں نے حق تعالیٰ کی رضا کے واسطے (اپنے دین کو محفوظ رکھنے کے لئے) اس کو اختیار کرلیا تھا سو (پھر ان راہبوں میں زیادہ وہ ہوئے کہ) انہوں نے اس (رہبانیت) کی پوری رعایت نہ کی (یعنی جس غرض سے اس کو اختیار کیا تھا اور وہ غرض اللہ کی رضا جوئی تھی اس کا اہتمام نہیں کیا یعنی اصل احکام کی بجا آوری نہ کی، گو صورةً رہبان اور احکام کی بجا آوری کا اظہار کرتے رہے، اس طرح رہبانوں میں دو قسم کے لوگ ہوگئے، احکام کی رعایت کرنے والے اور رعایت نہ کرنے والے اور ان میں جو رسول اللہ ﷺ کے معاصر تھے ان کے حق میں رعایت احکام کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ حضور ﷺ پر ایمان لاویں اس لئے عہد مبارک نبی کریم ﷺ میں احکام کی رعایت و اہتمام کرنے والے وہ لوگ ہوئے جو آپ پر ایمان لائے اور جنہوں نے آپ پر ایمان سے گریز کیا وہ احکام کی رعایت نہ کرنے والوں میں شامل ہوئے) سو ان میں سے جو (حضور ﷺ پر) ایمان لائے ہم نے ان کو ان کا اجر (وعدہ کیا ہوا) دیا (مگر ایسے کم تھے) اور زیادہ ان میں نافرمان ہیں (کہ آپ پر ایمان نہیں لائے اور چونکہ اکثریت نافرمانوں کی تھی اس لئے سب ہی کی طرف رعایت نہ کرنا منسوب کردیا گیا کہ فما رعوہا فرمایا، معلوم ہوا کہ یہ نفی رعایت اکثر کے اعتبار سے ہے اور قلیل جو ایمان لائے تھے ان کا بیان آخر آیت میں فَاٰتَيْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ میں بیان فرمایا۔
یہاں تک عیسائیوں میں سے ایمان لانے والوں اور نہ لانے والوں کی دو قسموں کا ذکر تھا آگے ایمان والوں کا حکم ہے کہ) اے (عیسیٰ ؑ پر) ایمان رکھنے والو ! تم اللہ سے ڈرو اور (اس ڈر کے مقتضیٰ پر عمل کرو یعنی) اس کے رسول ﷺ پر ایمان لاؤ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی رحمت سے (ثواب کے) دو حصے دے گا (جیسے سورة قصص میں (آیت) اولئک یوتون اجرہم مرتین الآیتہ ہے) اور تم کو ایسا نور عنایت کرے گا کہ تم اس کو لئے ہوئے چلتے پھرتے ہو گے (یعنی ایسا ایمان دے گا جو ہر وقت ساتھی رہے گا یہاں سے پل صراط تک) اور تم کو بخش دے گا (کیونکہ اسلام سے زمانہ کفر کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں) اور اللہ غفور رحیم ہے (اور یہ دولتیں تم کو اس لئے عنایت کرے گا) تاکہ (جس وقت ان عطایا کا ظہور ہو یعنی قیامت کے روز اس وقت) اہل کتاب کو (یعنی جو ایمان نہیں لائے ان کو) یہ بات معلوم ہوجاوے کہ ان لوگوں کو اللہ کے فضل کے کسی جزو پر بھی (بغیر ایمان لائے) دسترس نہیں اور یہ (بھی معلوم جاوے) کہ فضل اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جس کو چاہئے دیدے (چنانچہ اس کی مشیت اس کے فضل کے ساتھ مسلمانوں سے متعلق ہوئی تو انہی کو عنایت فرما دیا) اور اللہ بڑے فضل والا ہے (مطلب یہ کہ ان کا غرور اور زعم ٹوٹ جاوے کہ وہ حالت موجودہ میں بھی اپنے کو فضل کا مورد اور مغفرت کا محل سمجھتے ہیں)
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں اس عالم کی ہدایت اور اس میں قسط یعنی عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے انبیاء و رسول اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کرنے کا عمومی ذکر تھا، مذکور الصدر آیات میں ان میں سے خاص خاص انبیاء و رسل کا ذکر ہے، پہلے حضرت نوح ؑ کا کہ وہ آدم ثانی ہیں اور بعد طوفان نوح کے دنیا میں باقی رہنے والی سب مخلوق ان کی نسل سے ہے، دوسرے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کا جو ابوالانبیاء اور قدوة الخلائق ہیں ان دونوں کے ذکر کے ساتھ یہ اعلان فرمایا دیا کہ آئندہ جتنے انبیاء اور آسمانی کتابیں دنیا میں آئیں گی وہ سب انہی دونوں کی ذریت میں ہوں گی، یعنی حضرت نوح ؑ کی وہ شاخ اس فضیلت کے لئے مخصوص کردی گئی جس میں حضرت ابراہیم ؑ ہیں، یہی وجہ ہے کہ بعد میں جتنے انبیاء مبعوث ہوئے اور جتنی کتابیں نازل ہوئیں وہ سب حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد میں ہیں۔
Ayah 57:27ان کے خصوصی ذکر کے بعد پورے سلسلہ انبیاء کو ایک مختصر جملے میں بیان فرمایا (آیت) ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا، آخر میں خصوصیت کے ساتھ آخر انبیاء بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ ؑ کا ذکر کر کے حضرت خاتم الانبیاء ﷺ اور آپ کی شریعت کا ذکر فرمایا گیا حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے والے ان کے حواریین کی خاص صفت یہ بتلائی گئی (وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ۭ وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا) یعنی جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ ؑ یا انجیل کا اتباع کیا ہم نے ان کے دلوں میں رافت اور رحمت پیدا کردی، یعنی یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے پر مہربان و رحیم ہیں، یا پوری خلق خدا کے ساتھ ان کو شفقت و رحمت کا تعلق ہے، رافت و رحمت کے دونوں لفظ ایک دوسرے کے ہم معنی اور مرادف سمجھے جاتے ہیں، یہاں مقابلہ کی وجہ سے بعض حضرات نے فرمایا کہ رافت شدت رحمت کو کہا جاتا ہے گویا عام رحمت سے اس میں زیادہ مبالغہ ہے اور بعض نے فرمایا کہ کسی شخص پر رحمت و شفقت کے دو تقاضے عادةً ہوتے ہیں، ایک یہ کہ وہ اگر کسی تکلیف و مصیبت میں مبتلا ہے تو اس کی تکلیف کو دور کردیا جائے اس کو رافت کہا جاتا ہے، دوسرے یہ کہ اس کو کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ دے دیجائے، یہ رحمت ہے، غرض رافت کا تعلق دفع مضرت کے ساتھ ہے اور رحمت کا جلب منفعت کے ساتھ اور چونکہ دفع مضرت ہر اعتبار سے مقدم سمجھی جاتی ہے، اس لئے عموماً جب یہ دونوں لفظ یک جا بولے جاتے ہیں تو رافت کو رحمت پر مقدم بولا جاتا ہے۔
یہاں حضرت عیسیٰ ؑ کے اصحاب جن کو حواریین کہا جاتا ہے ان کی خصوصی صفت رافت و رحمت بیان فرمائی گئی ہے، جیسا کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ کرام کی چند صفات سورة فتح میں بیان فرمائی ہیں، جن میں ایک صفت رحمآء بینھم بھی ہے، مگر وہاں اس صفت سے پہلے صحابہ کرام کی خاص صفت اشدآء علی الکفار بھی بیان فرمائی ہے، وجہ فرق کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی شریعت میں کفار سے جہاد و قتال کے احکام نہ تھے، اس لئے کفار کے مقابلہ میں شدت ظاہر کرنے کا وہاں کوئی محل نہ تھا واللہ اعلم۔
رہبانیت کا مفہوم اور ضروری تشریح
وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا، رہبانیت، رہبان کی طرف منسوب ہے، راہب اور رہبان کے معنی ہیں ڈرنے والا، حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد جب بنی اسرائیل میں فسق و فجور عام ہوگیا، خصوصاً ملوک اور رؤسا نے احکام انجیل سے کھلی بغاوت شروع کردی، ان میں جو کچھ علماء و صلحاء تھے انہوں نے اس بدعملی سے روکا تو ان کو قتل کردیا گیا، جو کچھ بچ رہے انہوں نے دیکھا کہ اب منع کرنے اور مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں، اگر ہم ان لوگوں میں مل جل کر رہے تو ہمارا دین بھی برباد ہوگا، اس لئے ان لوگوں نے اپنے اوپر یہ بات لازم کرلی کہ اب دنیا کی سب جائز لذتیں اور آرام بھی چھوڑ دیں، نکاح نہ کریں، کھانے پینے کے سامان جمع کرنے کی فکر نہ کریں، رہنے سہنے کے لئے مکان اور گھر کا اہتمام نہ کریں، لوگوں سے دور کسی جنگل پہاڑ میں بسر کریں، یا پھر خانہ بدوشوں کی طرح زندگی سیاحت میں گزار دیں، تاکہ دین کے احکام پر آزادی سے پورا پورا عمل کرسکیں، ان کا یہ عمل چونکہ خدا کے خوف سے تھا، اس لئے ایسے لوگوں کو راہب یا رہبان کہا جانے لگا، ان کی طرف نسبت کر کے ان کے طریقہ کو رہبانیت سے تعبیر کرنے لگے۔
ان کا یہ طریقہ چونکہ حالات سے مجبور ہو کر اپنے دین کی حفاظت کے لئے تھا اس لئے اصالةً کوئی مذموم چیز نہ تھی، البتہ ایک چیز کو اللہ کے لئے اوپر لازم کرلینے کے بعد اس میں کوتاہی اور خلاف ورزی بڑا گناہ ہے، جیسے نذر اور منت کا حکم ہے کہ وہ اصل سے تو کسی پر لازم و واجب نہیں ہوتی، خود کوئی شخص اپنے اوپر کسی چیز کو نذر کر کے حرام یا واجب کرلیتا ہے تو پھر شرعاً اس کی پابندی واجب اور خلاف ورزی گناہ ہوجاتی ہے، مگر ان میں سے بعض لوگوں نے رہبانیت کا نام رکھ کر دنیا طلبی اور عیش و عشرت کا ذریعہ بنا لیا کیونکہ عام آدمی ایسے لوگوں کے معتقد ہوئے، تحفے تحائف اور نذرانے آنے لگے، لوگوں کا ان کی طرف رجوع ہوا تو فواحش کی نوبت آنے لگی۔
قرآن کریم نے آیت مذکورہ میں ان کی اسی بات نکیر فرمائی، کہ خود ہی تو اپنے اوپر ترک لذات کو لازم کیا تھا، جو منجانب اللہ ان پر لازم نہ کیا گیا تھا اور جب لازم کرلیا تو پھر اس کی پابندی ان کو کرنا چاہئے تھی، لیکن اس کی خلاف ورزی کی۔
ان لوگوں کا یہ طریقہ اصل سے مذموم نہ تھا، حضرت عبداللہ بن مسعود کی حدیث اس پر شاہد ہے ابن کثیر نے بروایت ابن ابی حاتم و ابن جریر ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں تقسیم ہوگئے تھے، جن میں سے صرف تین فرقوں کو عذاب سے نجات ملی، جنہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے بعد ظالم و جابر بادشاہوں اور دولت و قوت والے فاسق و فاجر لوگوں کو ان کے فسق و فجور سے روکا، ان کے مقابلہ میں حق کا کلمہ بلند کیا اور دین عیسیٰ ؑ کی طرف دعوت دی، ان میں سے پہلے فرقہ نے قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا، مگر ان کے مقابلہ میں مغلوب ہو کر قتل کردیئے گئے، تو پھر ان کی جگہ ایک دوسری جماعت کھڑی ہوئی، جن کو مقابلہ کی اتنی بھی قوت و طاقت نہیں تھی، مگر کلمہ حق پہنچانے کے لئے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر ان کو حق کی طرف بلایا، ان سب کو بھی قتل کردیا گیا، بعض کو آروں سے چیرا گیا، بعض کو زندہ آگ میں جلایا گیا، مگر انہوں نے اللہ کی رضا کے لئے ان سب مصائب پر صبر کیا، یہ بھی نجات پا گئے، پھر ایک تیسری جماعت ان کی جگہ کھڑی ہوئی، جن میں نہ مقابلہ کی قوت تھی نہ ان کے ساتھ رہ کر خود اپنے دین پر عمل کرنے کی صورت بنتی تھی، اس لئے ان لوگوں نے جنگلوں اور پہاڑوں کا راستہ لیا اور راہب بن گئے، یہی وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے، وَرَهْبَانِيَّةَۨ ابْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَيْهِمْ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل میں سے اصل رہبانیت اختیار کرنے والے جنہوں نے رہبانیت کے لوازم کی رعایت کی اور مصائب پر صبر کیا وہ بھی نجات یافتہ لوگوں میں سے ہیں
آیت مذکورہ کی اس تفسیر کا حاصل یہ ہوا کہ جس طرح کی رہبانیت ابتداً اختیار کرنے والوں نے اختیار کی تھی وہ اپنی ذات سے مذموم اور بری چیز نہ تھی، البتہ وہ کوئی حکم شرعی بھی نہیں تھا، ان لوگوں نے اپنی مرضی و خوشی سے اس کو اپنے اوپر لازم کرلیا تھا، برائی اور مذمت کا پہلو یہاں سے شروع ہوا کہ اس التزام کے بعد بعض لوگوں نے اس کو نبھایا نہیں اور چونکہ تعداد ایسے ہی لوگوں کی زیادہ ہوگئی تھی، اس لئے للاکثر حکم الکل، یعنی اکثریت کے عمل کو کل کی طرف منسوب کردینا عرف عام ہے، اس قاعدہ کے موافق قرآن نے عام بنی اسرائیل کی طرف یہ منسوب کیا کہ انہوں نے جس رہبانیت کو اپنے اوپر لازم کرلیا تھا اس کو نبھایا نہیں اور اس کی شرائط کی رعایت نہیں کی، اسی کو فرمایا (فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَــتِهَا)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس رہبانیت کے متعلق جو قرآن نے فرمایا ابتدعوہا یعنی اس کو انہوں نے ایجاد کرلیا، اس لفظ ابتداع جو بدعت سے مشتق ہے وہ اس جگہ اپنے لغوی معنی یعنی اختراع و ایجاد کے لئے بولا گیا ہے، شریعت کی اصطلاحی بدعت مراد نہیں ہے جس کے بارے میں حدیث میں ارشاد ہے کل بدعة ضلالة ”یعنی ہر بدعت گمراہی ہے“۔
قرآن کریم کے نسق و نظم میں غور کریں تو یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے سب سے پہلے تو اس جملے پر نظر ڈالے (آیت) وَجَعَلْنَا فِيْ قُلُوْبِ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّرَحْمَةً ۭ وَرَهْبَانِيَّةَۨ، جس میں حق تعالیٰ نے اپنی نعمت کے اظہار کے سلسلے میں فرمایا کہ ہم نے ان کے دلوں میں را فت، رحمت، رہبانیت پیدا کردی، نسق کلام بتلاتا ہے کہ جس طرح را فت و رحمت مذموم نہیں اسی طرح ان کی اختیار کردہ رہبانیت بھی اپنی ذات سے کوئی مذموم چیز نہ تھی ورنہ مقام امتنان میں را فت و رحمت کے ساتھ رہبانیت کا ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی، اسی لئے جن حضرات نے مطلقاً رہبانیت کو مذموم و ممنوع قرار دیا ان کو اسی جگہ رہبانیت کے عطف میں غیر ضروری تاویل کرنا پڑی کہ اس کو را فت و رحمت مذموم نہیں اسی طرح ان کی اختیار کردہ رہبانیت بھی اپنی ذات سے کوئی مذموم چیز نہ تھی ورنہ مقام امتنان میں را فت و رحمت کے ساتھ رہبانیت کا ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی اسی لئے جن حضرات نے مطلقاً رہبانیت کو مذموم و ممنوع قرار دیا ان کو اس جگہ رہبانیت کے عطف میں غیر ضروری تاویل کرنا پڑی کہ اس کو را فت و رحمت پر عطف نہیں مانا بلکہ ایک مستقل جملہ یہاں محذوف قرار دیا یعنی ابتداعوا (کما فعلہ القرطبی) لیکن مذکورہ تفسیر پر اس تاویل کی کوئی ضرورت نہیں رہتی، آگے بھی قرآن کریم نے ان کے اس ابتداع پر کوئی نکیر اور رد نہیں فرمایا بلکہ نکیر اس پر کی گئی کہ انہوں نے اس اختیار کردہ رہبانیت کو نبھاہا نہیں، اس کے حقوق و شرائط کی رعایت نہیں کی، یہ بھی جب ہی ہوسکتا ہے کہ ابتداع کو لغوی معنی میں لیا جائے، شرعی اور اصطلاحی معنی ہوتے تو قرآن خود اس پر بھی نکیر کرتا، کیونکہ بدعت اصطلاحی خود ایک گمراہی ہے۔
اور حضرت عبداللہ بن مسعود کی مذکورہ حدیث سے اور بھی یہ بات واضح ہوگئی کہ ترہب اختیار کرنے والی جماعت کو نجات یافتہ جماعتوں میں شمار فرمایا، اگر یہ بدعت اصطلاحی کے مجرم ہوتے تو نجات یافتہ میں شمار نہ ہوتے بلکہ گمراہوں میں شمار کئے جاتے۔
کیا رہبانیت مطلقاً مذموم و ناجائز ہے، یا اس میں کچھ تفصیل ہے ؟
صحیح بات یہ ہے کہ لفظ رہبانیت کا عام اطلاق ترک لذات و ترک مباحات کے لئے ہوتا ہے، اس کے چند درجے ہیں، ایک یہ کہ کسی مباح و حلال چیز کو اعتقاداً یا عملاً حرام قرار دے، یہ تو دین کی تحریف و تغیر ہے، اس معنی کے اعتبار سے رہبانیت قطعاً حرام ہے اور آیت قرآن (یایھا الذین امنوا لاتحرموا طیبت ما احل اللہ لکم) اور اس کی امثال میں اسی کی ممانعت و حرمت کا بیان ہے، اس آیت کا عنوان لاتحرموا خود یہ بتلا رہا ہے کہ اس کی ممانعت اس لئے ہے کہ یہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اعتقاداً یا عملاً حرام قرار دے رہا ہے جو احکام الٰہیہ میں تبدیل و تحریف کے مترادف ہے۔
دوسرا درجہ یہ ہے کہ مباح کے کرنے کو اعتقاداً یا عملاً حرام قرار نہیں دیتا، مگر کسی دنیوی یا دینی ضرورت کی وجہ سے اس کو چھوڑنے کی پابندی کرتا ہے، دنیوی ضرورت جیسے کسی بیماری کے خطرہ سے کسی مباح چیز سے پرہیز کرے اور دینی ضرورت یہ کہ یہ محسوس کرے کہ میں نے اس مباح کو اختیار کیا تو انجام کار میں کسی گناہ میں مبتلا ہوجاؤں گا، جیسے جھوٹ، غیبت وغیرہ سے بچنے کے لئے کوئی آدمی لوگوں سے اختلاط ہی چھوڑ دے، یا کسی نفسانی رذیلہ کے علاج کے لئے چند روز بعض مباحات کو ترک کر دے اور اس ترک کی پابندی بطور علاج و دوا کے اس وقت تک کرے جب تک یہ رذیلہ دور نہ ہوجائے، جیسے صوفیائے کرام مبتدی کو کم کھانے، کم سونے، کم اختلاط کی تاکید کرتے ہیں کہ یہ ایک مجاہدہ ہوتا ہے نفس کو اعتدال پر لانے کا جب نفس پر قابو ہوجاتا ہے کہ ناجائز تک پہنچنے کا خطرہ نہ رہے تو یہ پرہیز چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ درحقیقت رہبانیت نہیں، تقویٰ ہے جو مطلوب فی الدین اور اسلاف کرام صحابہ وتابعین اور ائمہ دین سے ثابت ہے۔
تیسرا درجہ یہ ہے کہ کسی مباح کو حرام تو قرار نہیں دیتا مگر اس کا استعمال جس طرح سنت سے ثابت ہے اس طرح کے استعمال کو بھی چھوڑنا ثواب اور افضل جان کر اس سے پرہیز کرتا ہے، یہ ایک قسم کا غلو ہے، جس سے احادیث کثیرہ میں رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا ہے اور جس حدیث میں لا رھبانیة فی الا سلام آیا ہے ”یعنی اسلام میں رہبانیت نہیں“ اس سے مراد ایسا ہی ترک مباحات ہے کہ ان کے ترک کو افضل وثواب سمجھے، بنی اسرائیل میں جو رہبانیت اول شروع ہوئی وہ اگر حفاظت دین کی ضرورت سے تھی تو دوسری قسم یعنی تقویٰ میں داخل ہے لیکن اہل کتاب میں غلو فی الدین کی آفت بہت تھی، وہ اس غلو میں پہلے درجہ سے تحریم حلال تک پہنچے تو حرام کے مرتکب ہوئے اور تیسرے درجہ تک رہے تو بھی ایک مذموم فعل کے مجرم بنے، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
Ayah 57:28(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ
اس آیت میں یایھا الذین امنوا سے مراد اہل کتاب ہیں جو عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے، قرآن کریم کی عام عادت یہ ہے کہ الذین امنوا کا لفظ صرف مسلمانوں کے لئے بولا جاتا ہے، یہود و نصاری کے لئے اہل کتاب کا لفظ آتا ہے، کیونکہ صرف حضرت موسیٰ و عیسیٰ (علیہما السلام) پر ان کا ایمان کافی اور معتبر نہیں جب تک آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لائیں، اس لئے وہ الذین امنوا کہلانے کے مستحق نہیں، مگر یہاں اس عام عادت کے خلاف یہ لفظ نصاریٰ کے لئے بولا گیا، شاید اس میں حکمت یہ ہو کہ آگے ان کو حکم کیا گیا ہے کہ عیسیٰ ؑ پر صحیح ایمان لانے کا تقاضا یہ ہے کہ خاتم الانبیاء ﷺ پر بھی ایمان لاؤ اور جب وہ ایسا کرلیں تو الذین امنوا کے خطاب کے مستحق ہوگئے۔
آگے اس تکمیل ایمان پر ان سے یہ وعدہ کیا گیا ہے کہ ان کو دوہرا اجر وثواب ملے گا، ایک پہلے نبی حضرت موسیٰ یا عیسیٰ (علیہما السلام) پر ایمان لانے اور ان کی شریعت پر عمل کرنے کا اور دوسرا خاتم الانبیاء ﷺ پر ایمان لانے کا اور آپ کی شریعت پر عمل کرنے کا، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ اگر یہود و نصاریٰ آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لانے کے وقت تک کافر تھے اور کافر کی کوئی عبادت مقبول نہیں ہوتی، اس کا مقتضا یہ تھا کہ پچھلی شریعت پر جو عمل کیا وہ سب اکارت ہوگیا، مگر اس آیت نے یہ بتلا دیا کہ اہل کتاب کافر جب مسلمان ہوجائے تو زمانہ کفر کے کئے ہوئے نیک اعمال بھی پھر اس کے بحال کردیئے جاتے ہیں، اس لئے دوہرا اجر ہوجاتا ہے۔
Ayah 57:29لِّئَلَّا يَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ ، اس میں لا زائدہ ہے، معنی لیعلم اہل الکتب کے ہیں اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ مذکور الصدر احکام اس لئے بیان کئے گئے تاکہ اہل کتاب سمجھ لیں کہ وہ اپنی موجودہ حالت میں ........ کہ صرف حضرت عیسیٰ ؑ پر تو ایمان ہے، رسول اللہ ﷺ پر نہیں، اس حالت میں وہ اللہ کے کسی فضل کے مستحق نہیں جب تک حضرت خاتم الانبیاء پر ایمان نہ لے آئیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
تمت سورة الحدید
بحمد اللہ تعالیٰ وعونہ للسادس و العشرین من الربیع الثانی
یوم الاثنین بعد العشاء و یتلوہ انشاء اللہ سورة المجادلتہ