56. Surah Al-Waaqia

الواقعةThe Inevitable · 96 ayahsمعارف القرآن

Ayah 56:1

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُۙ Open ayah 56:1 in the Quran reader

جب ہو پڑے ہو پڑنے والی

خلاصہ تفسیر جب قیامت آوے گی جس کے واقع ہونے میں کوئی خلاف نہیں (بلکہ اس کا واقع ہونا بالکل صحیح اور حق ہے) تو وہ (بعض کو) پست کر دے گی (اور بعض کو) بلند کر دے گی (یعنی کفار کی ذلت کا اور مومنین کی رفعت کا اس روز ظہور ہوگا) جبکہ زمین کو سخت زلزلہ آوے گا اور پہاڑ بالکل ریزہ ریزہ ہوجاویں گے پھر وہ پراگندہ غبار (کی طرح) ہوجاویں گے اور تم (سب آدمی جو اس وقت موجود ہو یا پہلے گزر چکے ہیں یا آئندہ آنے والے ہیں) تین قسم ہوجاؤ گے (جن کی تفصیل آگے آتی ہے، خواص مومنین اور عوام مومنین اور کفار کہ سورة رحمن میں بھی یہی تین قسمیں مذکور ہیں اور آئندہ آیات میں خواص کو مقربین اور سابقین کہا ہے اور عوام مومنین کو اصحاب الیمین اور کفار کو اصحاب الشمال اور ان آیات اذا وقعت سے ثلتہ تک میں بعض واقعات نفخہ اولیٰ یعنی پہلے صور کے وقت کے بیان فرمائے ہیں جسے رجت، جیسا شروع سورة حجر میں آیا ہے اور بست اور بعض واقعات نفخہ ثانیہ یعنی دوسرے صور کے وقت کے جیسے خافضتہ رافعتہ اور کنتم ازواجا اور بعض مشترک جیسے اذا وقعت اور لیس لوقعتہا، چونکہ نفخہ اولیٰ سے نفخہ ثانیہ تک کا تمام وقت ایک وقت کے حکم میں ہے اس لئے ہر جز وقت کو ہر واقعہ کا وقت کہا جاتا ہے، آگے ان تینوں قسموں میں تقسیم بیان کرنے کے بعد تینوں کے احکام الگ الگ ذکر کئے ہیں، اول اجمالاً پھر تفصیلاً کہ تین قسمیں جو مذکور ہیں) سو (ان میں ایک قسم یعنی) جو داہنے والے ہیں وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں (مراد اس سے جن کے نامہ اعمال داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے اور گویہ مفہوم مقربین میں بھی مشترک ہے، لیکن اسی صفت پر اکتفا کرنے سے اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ ان میں اصحاب الیمین سے زائد کوئی اور صفت قرب خاص کی نہیں پائی جاتی، اس طرح مراد اس سے عوام مؤمنین ہوگئے، اور اس میں اجمالاً ان کی حالت کا اچھا ہونا بتلا دیا، آگے فی سدر مخضود الخ سے اس اجمال کی تفصیل کی گئی ہے) اور (دوسری قسم یعنی) جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں (مراد اس سے جن کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جاویں گے یعنی کفار اور اس میں اجمالاً ان کی حالت کا برا ہونا بتلا دیا آگے فی سموم الخ سے اس اجمال کی تفصیل کی گئی ہے) اور (تیسری قسم یعنی) جو اعلیٰ درجہ کے ہی ہیں (اور) وہ (خدا تعالیٰ کے ساتھ) خاص قرب رکھنے والے ہیں (اس میں تمام اعلیٰ درجہ کے بندے داخل ہیں، انبیاء اور اولیاء و صدیقین اور کامل متقی اور اس میں اجمالا ان کی حالت کا عالی ہونا بتلا دیا، آگے فی جنت النعم الخ سے اس اجمال کی تفصیل کی جاتی ہے یعنی) یہ (مقرب) لوگ آرام کے باغوں میں ہوں گے (جس کی مزید تفصیل علیٰ سرر سے آتی ہے اور درمیان میں ان مقربین خاص میں بہت سی جماعتوں کا شامل ہونا بتلاتے ہیں کہ) ان (مقربین) کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے (اگلوں سے مراد متقدمین ہیں آدم ؑ سے لے کر حضور ﷺ کے قبل تک اور پچھلوں سے مراد حضور کے وقت سے لے کر قیامت تک، کذا فی الدر عن جابر مرفوعاً اور متقدمین میں کثرت سابقین اور متاخرین میں قلت سابقین کی وجہ یہ ہے کہ خواص ہر زمانہ میں کم ہوتے ہیں اور متقدمین یعنی آدم ؑ سے زمانہ خاتم الانبیاء تک کا زمانہ بہت طویل ہے، بہ نسبت امت محمدیہ کے جو قرب قیامت میں پیدا ہوئی ہے، تو باقتضاء عادت زمانہ اس طویل زمانہ کے خواص بہ نسبت امت محمدیہ کے مختصر زمانے کے خواص کے زیادہ ہوں گے کیونکہ اس طویل زمانہ میں لاکھ دو لاکھ تو انبیاء ہی ہیں اور خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانہ میں کوئی اور نبی نہیں، اس لئے خواص مقربین کا بڑا گروہ متقدمین کا ہوگا اور متاخرین یعنی امت محمدیہ میں اس سے کم ہوگا، آگے مقربین خواص کے لئے جو نعمتیں مقرر ہیں ان کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ (مقرب) لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے (در منثور میں حضرت ابن عباس سے لفظ موضونہ کی یہی تفسیر نقل کی ہے اور) ان کے پاس ایسے لڑکے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے، یہ چیزیں لے کر آمد و رفت کیا کریں گے آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جاوے گا (اس کی تحقیق سورة صافات میں گزر چکی ہے) نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا (یہ بھی سورة صافات میں گزر چکا ہے) اور میوے جن کو وہ پسند کریں اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہو اور ان کے لئے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی (مراد حوریں ہیں جن کی رنگت ایسی صاف شفاف ہوگی) جیسے (حفاظت سے) پوشیدہ رکھا ہوا موتی، یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا (اور) وہاں نہ بک بک سنیں گے اور نہ وہ کوئی اور بیہودہ بات (سنیں گے، یعنی شراب پی کر یا ویسے بھی ایسی چیزیں نہ پائی جاویں گے جن سے عیش مکدر ہوتی ہے) بس (ہر طرف سے) سلام ہی سلام کی آواز آوے گی (کقولہ تعالیٰ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْهِمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ ، سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ ، وقولہ تعالیٰ وَتَحِيَّتُھُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ جو کہ دلیل اکرام و اعزاز کی ہے، غرض روحانی و جسمانی ہر طرح کی لذت و مسرت اعلیٰ درجہ کی ہوگی، یہ اجر سابقین کا بیان کیا گیا) اور (آگے اصحاب الیمین کی جزا کی تفصیل ہے یعنی) جو داہنے والے ہیں وہ داہنے والے کیسے اچھے ہیں (اس اجمال کا اعادہ تفصیل کے قبل اس لئے کیا گیا کہ اس اجمال کو فصل ہوگیا تھا آگے ان کے اچھے ہونے کا بیان ہے کہ) وہ ان باغوں میں ہوں گے جہاں بےخار بیریاں ہوں گی اور تہہ بتہ کیلے ہوں گے اور لمبا لمبا سایہ ہوگا اور چلتا ہوا پانی ہوگا اور کثرت سے میوے ہوں گے جو نہ ختم ہوں گے (جیسے دنیا کے میوے کہ فصل تمام ہونے سے تمام ہوجاتے ہیں) اور ان کی روک ٹوک ہوگی (جیسے دنیا میں باغ والے اس کی روک تھام کرتے ہیں) اور اونچے اونچے فرش (کیونکہ جن درجوں میں وہ بچھے ہیں وہ درجے بلند) ہوں گے (اور چونکہ مقام خوش عیشی کا ہے اور خوشی عیشی بدون عورتوں کے کامل نہیں ہوتی، اس طور پر ان اسباب عیش کے ذکر ہی سے عورتوں کا ہونا معلوم ہوگیا، لہٰذا آگے بہشتی عورتوں کی طرف انشانھن کی ضمیر راجع کر کے ان کا ذکر فرمایا جاتا ہے کہ) ہم نے (وہاں کی) ان عورتوں کو (جن میں جنت کی حوریں بھی شامل ہیں اور دنیا کی عورتیں بھی، جیسا کہ روح المعانی میں ترمذی کے حوالہ سے یہ حدیث مرفوع نقل کی ہے کہ اس آیت میں جن عورتوں کی تخلیق جدید کا ذکر ہے ان سے مراد وہ عورتیں ہیں جو دنیا میں بوڑھی یا بدشکل تھیں ان کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ان عورتوں کو) خاص طور پر بنایا ہے (جن کی تفصیل آگے ہے) یعنی ہم نے ان کو ایسا بنایا کہ وہ کنواریاں ہیں (یعنی بعد مقاربت کے پھر کنواری ہوجاویں گی، جیسا کہ درمنثور میں حضرت ابو سعید خدری کی مرفوع حدیث سے ثابت ہے اور) محبوبہ ہیں (یعنی حرکات و شمائل و ناز و انداز و حسن و جمال سب چیزیں ان کی دلکش ہیں اور اہل جنت کی) ہم عمر ہیں (اس کی تحقیق سورة ص میں گزر چکی ہے) یہ سب چیزیں داہنے والوں کے لئے ہیں (آگے یہ بتلاتے ہیں کہ داہنے والے بھی مختلف قسم کے لوگ ہوں گے یعنی) ان (اصحاب الیمین) کا ایک بڑا گروہ اگلے لوگوں میں سے ہوگا اور ایک بڑا گروہ پچھلے لوگوں میں سے ہوگا (بلکہ متاخرین میں اصحاب الیمین بہ نسبت متقدمین کے تعداد میں زیادہ ہوں گے، چناچہ احادیث میں تصریح ہے کہ اس امت کے مؤمنین کا مجموعہ پچھلی تمام امتوں کے مؤمنین کے مجموعہ سے زیادہ ہوگا اور اس کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ اصحاب الیمین اس امت میں زیادہ ہوں کیونکہ خواص مقربین کی اکثریت تو متقدمین میں خود آیت بالا سے ثابت ہوچکی ہے اور جب اصحاب الیمین مرتبہ میں مقربین سے کم ہیں تو ان کی جزا بھی کم ہوگی سو اس کی توجیہ یہ ہے کہ مقربین کی جزا میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو اہل شہر کو زیادہ مرغوب ہے اور اصحاب الیمین کی جزا میں وہ سامان عیش زیادہ مذکور ہے جو دیہات و قصبات والوں کو مرغوب ہے، اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان دونوں میں ایسا تفاوت ہوگا جیسا اہل شہر و اہل قریہ میں ہوا کرتا ہے، (کذافی الروح) اور (آگے کفار کا اور ان کے عقاب و عذاب کا ذکر ہے، یعنی) جو بائیں والے ہیں وہ بائیں والے کیسے برے ہیں (اور اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ لوگ آگ میں ہوں گے اور کھولتے ہوئے پانی میں اور سیاہ دھویں کے سیا یہ میں جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ فرحت بخش ہوگا (یعنی سایہ سے ایک جسمانی نفع ہوتا ہے راحت برودت اور ایک روحانی نفع ہوتا ہے لذت و فرحت، وہاں دونوں نہ ہوں گے، یہ وہی دھواں ہے جس کا ذکر اوپر سورة رحمن میں بلفظ نحاس آیا ہے، آگے اس عذاب کی وجہ ارشاد ہے کہ) وہ لوگ اس کے قبل (یعنی دنیا میں) بڑی خوشحالی میں رہتے تھے اور (اس خوشحالی کے غرہ میں) بڑے بھاری گناہ (یعنی شرک و کفر) پر اصرار کیا کرتے تھے (مطلب یہ کہ ایمان نہیں لائے تھے) اور (آگے ان کے کفر کا بیان ہے جس کو زیادہ دخل ہے طلب حق نہ ہونے میں یعنی وہ) یوں کہا کرتے تھے کہ جب ہم مر گئے اور مٹی اور ہڈیاں (ہو کر) رہ گئے تو کیا (اس کے بعد) ہم دوبارہ زندہ کئے جاویں گے اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی (زندہ ہوں گے، چونکہ منکرین قیامت میں بعض کفار پیغمبر ﷺ کے زمانہ میں بھی تھے اس لئے اس کے متعلق ارشاد ہے کہ) آپ کہہ دیجئے کہ سب اگلے اور پچھلے جمع کئے جاویں گے ایک معین تاریخ کے وقت پر پھر (جمع ہونے کے بعد) تم کو اے گمراہو ! جھٹلانے والو ! درخت زقوم سے کھانا ہوگا پھر اس سے پیٹ بھرنا ہوگا، پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا پھر پینا بھی پیاسے اونٹوں کا سا (غرض) ان لوگوں کی قیامت کے روز یہ مہمانی ہوگی۔ معارف و مسائل سورة واقعہ کی خصوصی فضیلت مرض وفات میں عبداللہ بن مسعود کی سبق آموز ہدایات ابن کثیر نے بحوالہ ابن عساکر ابوظبیہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کے مرض وفات میں حضرت عثمان غنی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، حضرت عثمان نے پوچھا ما تشتکی (تمہیں کیا تکلیف ہے) تو فرمایا، ذنوبی (یعنی اپنے گناہوں کی تکلیف ہے) پھر پوچھا ما تشتھی (یعنی آپ کیا چاہتے ہیں) تو فرمایا رحمة ربی (یعنی اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں) ، پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے کسی طبیب (معالج) کو بلاتا ہوں تو فرمایا الطبیب امرضی (یعنی مجھے طبیب ہی نے بیمار کیا ہے) پھر حضرت عثمان نے فرمایا کہ میں آپ کے لئے بیت المال سے کوئی عطیہ بھیج دوں تو فرمایا لا حاجة لی فیھا (مجھے اس کی کوئی حاجت نہیں) حضرت عثمان نے فرمایا کہ عطیہ لے لیجئے وہ آپ کے بعد آپ کی لڑکیوں کے کام آئے گا تو فرمایا کہ کیا آپ کو میری لڑکیوں کے بارے میں یہ فکر ہے کہ وہ فقروقاقہ میں مبتلا ہوجائیں گی، مگر مجھے یہ فکر اس لئے نہیں کہ میں نے اپنی لڑکیوں کو تاکید کر رکھی ہے کہ ہر رات سورة واقعہ پڑھا کریں، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے من قرا سورة الواقعة کل لیلة لم تصبہ فاقة ابدا (ابن کثیر) " جو شخص ہر رات میں سورة واقعہ پڑھا کرے وہ کبھی فاقہ میں مبتلا نہیں ہوگا "۔ ابن کثیر نے یہ روایت بسند ابن عساکر نقل کرنے کے بعد اس کی تائید دوسری سندوں اور دوسری کتابوں سے بھی پیش کی ہے۔ اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ، ابن کثیر نے فرمایا کہ واقعہ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے، کیونکہ اس کے وقوع میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
Ayah 56:2

لَیْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌۘ Open ayah 56:2 in the Quran reader

نہیں ہے اس کے ہو پڑنے میں کچھ جھوٹ

لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ، کاذبہ مصدر ہے جیسے عافیۃ اور عاقبۃ اور معنی یہ ہیں کہ اس کے وقوع میں کوئی کذب نہیں ہوسکتا، بعض حضرات نے کاذبہ کو بمعنی تکذیب قرار دیا ہے، معنی ظاہر ہیں کہ اس کی تکذیب نہیں ہو سکتی۔
Ayahs 56:3–6

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌۙ Open ayah 56:3 in the Quran reader

پست کرنے والی ہے بلند کرنے والی

اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّاۙ Open ayah 56:4 in the Quran reader

جب لرزے زمین کپکپا کر

وَّ بُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّاۙ Open ayah 56:5 in the Quran reader

اور ریزہ ریزہ ہوں پہاڑ ٹوٹ پھوٹ کر

فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْۢبَثًّاۙ Open ayah 56:6 in the Quran reader

پھر ہوجائیں غبار اڑتا ہوا

خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ، یعنی واقعہ قیامت بہت سی بلند رتبہ قوموں اور افراد کو پست و ذلیل کر دے گا اور بہت سی پست و حقیر قوموں اور افراد کو سر بلند کر دے گا، حضرت ابن عباس سے اس جملہ کی یہی تفسیر منقول ہے اور مقصد اس کا ہولناک ہونا اور اس میں عجیب قسم کے انقلابات پیش آنے کا بیان ہے، جیسا کہ سلطنتوں اور حکومتوں کے انقلاب کے وقت مشاہدہ ہوا کرتا ہے کہ اوپر والے نیچے اور نیچے والے اوپر ہوجاتے ہیں، فقیر مالدار ہوجاتے ہیں مالدار فقیر ہوجاتے ہیں (روح)
Ayahs 56:7–9

وَّ كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةًؕ Open ayah 56:7 in the Quran reader

اور تم ہوجاؤ تین قسم پر

فَاَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِؕ Open ayah 56:8 in the Quran reader

پھر داہنے والے کیا خوب ہیں داہنے والے

وَ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَةِؕ Open ayah 56:9 in the Quran reader

اور بائیں والے برے ہیں بائیں والے

میدان حشر میں حاضرین کی تین قسمیں وَّكُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً ، ابن کثیر نے فرمایا کہ قیامت کے روز تمام لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوجاویں گے، ایک قوم عرش کے داہنی جانب ہوگی، یہ وہ ہوں گے جو آدم ؑ کی داہنی جانب سے پیدا ہوئے اور ان کے اعمال نامے ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے جائیں گے اور ان کو عرش کی داہنی جانب میں جمع کردیا جائے گا، یہ سب لوگ جنتی ہیں۔ دوسری قوم عرش کے بائیں جانب میں جمع ہوگی جو آدم ؑ کے بائیں جانب سے پیدا ہوئی اور جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں دیئے گئے، ان سب کو بائیں جانب میں جمع کردیا جائے گا اور یہ سب لوگ جہنمی ہیں (نعوذ باللہ من صنیعھم) اور تیسری قسم طائفہ سابقین کا ہوگا جو رب عرش کے سامنے خصوصی امتیاز اور قرب کے مقام میں ہوگا، جن میں انبیاء ورسل، صدیقین، شہداء اور اولیاء اللہ شامل ہوں گے، ان کی تعداد بہ نسبت اصحاب الیمین کے کم ہوگی۔ آخر سورة میں ان تینوں کا ذکر پھر اس سلسلے میں آئے گا کہ انسانوں کی موت کے وقت سے ہی آثار اس کے محسوس ہوجائیں گے کہ یہ ان تینوں گروہوں میں سے کس گروہ میں شامل ہونے والا ہے۔
Ayahs 56:10–12

وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ Open ayah 56:10 in the Quran reader

اور اگاڑی والے تو اگاڑی والے

اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَۚ Open ayah 56:11 in the Quran reader

وہ لوگ ہیں مقرب

فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 56:12 in the Quran reader

باغوں میں نعمت کے

وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ، امام احمد نے حضرت صدیقہ عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ قیامت کے روز ظل اللہ کی طرف سبقت کرنے والے کون لوگ ہوں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ و رسولہ اعلم۔ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق کی طرف دعوت دی جائے تو اس کو قبول کریں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو ادا کردیں اور لوگوں کے معاملات میں وہ فیصلہ کریں جو اپنے حق میں کرتے ہیں۔ مجاہد نے فرمایا کہ سابقین سے مراد انبیاء ہیں، ابن سیرین نے فرمایا کہ جن لوگوں نے دونوں قبلوں یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی ہے وہ سابقین ہیں اور حضرت حسن و قتادہ نے فرمایا کہ ہر امت میں سابقین ہوں گے، بعض مفسرین نے فرمایا کہ مسجد کی طرف سب سے پہلے جانے والے سابقین ہوں گے۔ ابن کثیر نے ان تمام اقوال کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ سب اقوال اپنی اپنی جگہ صحیح و درست ہیں، ان میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ سابقین وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں نیک کاموں کی طرف مسابقت کی ہوگی تو جو آدمی اس دنیا میں اعمال صالحہ کے اندر دوسروں سے آگے بڑھا رہا وہ آخرت میں بھی سابقین میں سے ہوگا کیونکہ آخرت کی جزا عمل کے مناسب دی جائے گی۔
Ayahs 56:13–14

ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَۙ Open ayah 56:13 in the Quran reader

انبوہ ہے پہلوں میں سے

وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَؕ Open ayah 56:14 in the Quran reader

اور تھوڑے ہیں پچھلوں میں سے

ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، لفظ ثلہ بضم ثاء جماعت کو کہتے ہیں اور زمخشری نے کہا کہ بڑی جماعت کو ثلہ کہا جاتا ہے (روح) اولین و آخرین سے کیا مراد ہے یہاں اولین و آخرین کی تقسیم کا دو جگہ ذکر آیا ہے، اول سابقین مقربین کے سلسلہ میں، دوسرا اصحاب الیمین یعنی عامہ مومنین کے سلسلے میں، پہلی جگہ یعنی سابقین میں تو یہ فرق کیا گیا ہے کہ یہ سابقین مقربین اولین میں سے ثلہ یعنی بڑی جماعت ہوگی اور آخرین میں سے کم ہوں گے، جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے اور دوسری جگہ اصحاب الیمین کے بیان میں اولین و آخرین دونوں میں لفظ ثلہ وارد ہوا ہے، جس کے معنی یہ ہوئے کہ اصحاب یمین اولین میں سے بڑی جماعت ہوگی، اسی طرح آخرین میں سے بھی بڑی جماعت ہوگی (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ) اب قابل غور یہ امر ہے کہ اولین سے مراد کون ہیں اور آخرین سے کون، اس میں حضرات مفسرین کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ آدم ؑ سے لے کر قرب زمانہ خاتم الانبیاء تک کی تمام مخلوقات اولین میں داخل ہیں اور خاتم الانبیاء ﷺ سے لے کر قیامت تک آنے والی مخلوق آخرین میں داخل ہے، یہ تفسیر مجاہد اور حسن بصری سے ابن ابی حاتم نے سند کے ساتھ نقل کی ہے اور ابن جریر نے بھی اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے، بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر میں بھی اسی کو اختیار کیا گیا ہے، جو اوپر بیان ہوچکا ہے اور اس کی دلیل میں حضرت جابر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے، یہ حدیث ابن عساکر نے اپنی سند کے ساتھ اس طرح نقل کی ہے کہ جب پہلی آیت جو سابقین مقربین کے سلسلے میں آئی ہے نازل ہوئی ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، تو حضرت عمر بن خطاب نے عجب کے ساتھ عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا پچھلی امتوں میں سابقین زیادہ ہوں گے اور ہم میں کم ہوں گے ؟ اس کے بعد سال بھر تک اگلی آیت نازل نہیں ہوئی، جب ایک سال کے بعد آیت نازل ہوئی ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اسمع یا عمر ما قد انزل اللہ ثلة من الاولین وثلة من الاخرین الا و ان من ادم الی ثلة و امتی ثلة الحدیث (ابن کثیر) " اے عمر ! سنو ! جو اللہ نے نازل فرمایا کہ اولین میں سے بھی ثلہ یعنی بڑی جماعت ہوگی اور آخرین میں سے بھی ثلہ یعنی بڑی جماعت ہوگی اور یاد رکھو کہ آدم ؑ سے مجھ تک ایک ثلہ ہے اور میری امت دوسرا ثلہ " اور اس مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ جب آیت ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ نازل ہوئی تو صحابہ کرام پر شاق ہوا کہ ہم بہ نسبت امم سابقہ کے کم رہیں گے، اس وقت دوسری آیت نازل ہوئی، ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم یعنی امت محمدیہ جنت میں ساری مخلوق کے مقابلہ میں چوتھائی، تہائی، بلکہ نصف اہل جنت ہو گے اور باقی نصف میں بھی کچھ تمہارا حصہ ہوگا ، (ابن کثیر) جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مجموعی طور پر اہل جنت میں اکثریت امت محمدیہ کی ہوجائے گی، مگر ان دونوں حدیثوں سے استدلال میں ایک اشکال یہ ہے کہ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ تو سابقین مقربین کے متعلق آیا ہے اور دوسری آیت میں جو ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ آیا ہے وہ سابقین مقربین کے متعلق نہیں بلکہ اصحاب الیمین کے متعلق ہے۔ اس کا جواب روح المعانی میں یہ دیا ہے کہ صحابہ کرام اور حضرت عمر کو جو پہلی آیت سے رنج و غم ہوا، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے یہ خیال کیا ہوگا کہ جو نسبت سابقین میں ہے وہی شاید اصحاب الیمین اور عام اہل جنت میں ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کل اہل جنت میں ہماری تعداد بہت کم رہے گی، جب اصحاب الیمین کی تشریح میں اولین و آخرین دونوں میں لفظ ثلتہ نازل ہوا تو اس شبہ کا ازالہ ہوگیا کہ مجموعی اعتبار سے اہل جنت میں امت محمدیہ کی اکثریت رہے گی، اگرچہ سابقین اولین میں ان کی تعداد مجموعہ امم سابقہ کے مقابلہ میں کم رہے خصوصاً اس وجہ سے کہ مجموعہ امم سابق میں ایک بھاری تعداد انبیاء (علیہم السلام) کی ہے، ان کے مقابلہ میں امت محمدیہ کے لوگ کم رہیں تو کوئی غم کی چیز نہیں۔ لیکن ابن کثیر، ابو حیان، قرطبی، روح المعانی، مظہری وغیرہ نے سب تفسیروں میں دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ اولین و آخرین دونوں طبقے اسی امت کے مراد ہیں، اولین اس امت کے قرون اولیٰ یعنی صحابہ وتابعین وغیرہ ہیں، جن کو حدیث میں خیر القرون فرمایا ہے اور آخرین قرون اولیٰ کے بعد والے حضرات ہیں۔ ابن کثیر نے حضرت جابر کی مرفوع حدیث جو پہلی تفسیر کی تائید میں اوپر لکھی گئی ہے، اس کی سند کے متعلق کہا ہے ولکن فی اسنادہ نظر، دوسری تفسیر کے لئے استدلال میں، وہ آیات قرآنی پیش کی ہیں جن میں امت محمدیہ کا خیر الامم ہونا مذکور ہے جیسے کنتم خیر امۃ وغیرہ اور فرمایا کہ یہ بات بہت مستبعد ہے کہ سابقین مقربین کی تعداد خیر الامم میں دوسری امتوں کی نسبت سے کم ہو، اس لئے راج یہ ہے کہ ثـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ سے مراد اسی امت کے قرون اولیٰ ہیں، اور قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ سے مراد بعد کے لوگ ہیں کہ ان میں مسابقین مقربین کی تعداد کم ہوگی۔ اس قول کی تائید میں ابن کثیر نے حضرت حسن بصری کا قول بروایت ابن ابی حاتم یہ پیش کیا ہے کہ حضرت حسن نے یہ آیت السابقون السابقون تلاوت کر کے فرمایا کہ سابقین تو ہم سے پہلے گزر چکے، لیکن یا اللہ ہمیں اصحاب الیمین میں داخل فرما دیجئے اور حضرت حسن سے دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ ثلتہ من الاولین کی تفسیر میں فرمایا ثلتہ ممن مضے من ہذہ الامۃ یعنی اولین سے مراد اسی امت کے سابقین ہیں۔ اسی طرح محمد بن سیرین نے فرمایا کہ ثـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ کے متعلق علماء یہ کہتے اور توقع کرتے تھے کہ یہ اولین و آخرین سب اسی امت میں سے ہوں (ابن کثیر) اور روح المعانی میں اس دوسری تفسیر کی تائید میں ایک حدیث مرفوع بسند حسن حضرت ابوبکرہ کی روایت سے یہ نقل کی ہے۔ اخرج مسدد فی مسندہ وابن المنذر و الطبرانی و ابن مردویہ بسند حسن عن ابی بکرة عن النبی ﷺ فی قولہ سبحانہ ثلة من الاولین و ثلة من الاخرین قال ھما جمیعا من ھذہ الامة " مسدد نے اپنی مسند میں اور ابن المنذر، طبرانی اور ابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوبکرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ دونوں جماعتیں اسی امت محمدیہ میں سے ہوں گی " اور حضرت ابن عباس سے بھی سند ضعیف کے ساتھ حدیث مرفوع بہت سے حضرات محدثین نے نقل کی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں ھما جمیعا من امتی، یعنی یہ دونوں اولین و آخرین میری ہی امت میں سے ہوں گے۔ اس تفسیر کے مطابق شروع آیت میں كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً کا مخاطب امت محمدیہ ہی ہوگی اور یہ تینوں قسمیں امت محمدیہ ہی کی ہوں گی (روح المعانی) تفسیر مظہری میں پہلی تفسیر کو اس لئے بہت بعید قرار دیا ہے کہ آیات قرآن کی واضح دلالت اس پر ہے کہ امت محمدیہ تمام امم سابقہ سے افضل ہے اور ظاہر یہ ہے کہ کسی امت کی فضیلت اس کے اندر اعلیٰ طبقہ کی زیادہ تعداد ہی سے ہوتی ہے، اس لئے یہ بات بعید ہے کہ افضل الامم کے اندر سابقین مقربین کی تعداد کم ہو آیات قرآن کنتم خیر امة اخرجت للناس اور لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا سے امت محمدیہ کی افضلیت سب امتوں پر ثابت ہے۔ اور ترمذی، ابن ماجہ و دارمی نے حضرت بہز بن حکیم سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں۔ انتم تتمون سبعین امة انتم اخیرھا واکرمھا علی اللہ تعالیٰ " تم ستر سابقہ امتوں کا تتمہ ہوگے جن میں تم سب سے آخر میں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ اکرم و افضل ہو گے " اور امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کے چوتھائی تم لوگ ہوجاؤ گے، ہم نے عرض کیا کہ بیشک ہم اس پر راضی ہیں تو آپ نے فرمایا والذی نفسی بیدہ انی لارجو ان تکونوا نصف اہل الجنة (از مظہری) " قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے یہ امید ہے کہ تم (یعنی امت محمدیہ) اہل جنت کے نصف ہو گے " اور ترمذی، حاکم و بیہقی نے حضرت بریدہ سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کی سند کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے، الفاظ حدیث کے یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اہل الجنتہ مائة وعشرون صفا ثمانون منہا من ھذہ الامۃ و اربعون من سائر الامم (مظہری) " اہل جنت کل ایک سو بیس صفوں میں ہوں گے جن میں سے اسی صفیں اس امت کی ہوں گی باقی چالیس صفوں میں ساری امتیں شریک ہوں " مذکور الصدر روایات میں اس امت کے اہل جنت کی نسبت دوسری امتوں کے اہل جنت سے کہیں چوتھائی کہیں نصف اور اس آخری روایت میں دو تہائی مذکور ہے، اس میں کوئی تعارض اس لئے نہیں کہ یہ آنحضرت ﷺ کا اندازہ بیان کیا گیا ہے اس اندازہ میں مختلف اوقات میں زیادتی ہوتی رہی۔ واللہ اعلم
Ayahs 56:15–17

عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ Open ayah 56:15 in the Quran reader

بیٹھے ہیں جڑاؤ تختوں پر

مُّتَّكِئِیْنَ عَلَیْهَا مُتَقٰبِلِیْنَ Open ayah 56:16 in the Quran reader

تکیہ لگائے ان پر ایک دوسرے کے سامنے

یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ Open ayah 56:17 in the Quran reader

لئے پھرتے ہیں ان کے پاس لڑکے سدا رہنے والے

عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ، موضونۃ کے متعلق حضرت ابن عباس سے ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ نے یہ نقل کیا ہے کہ وہ کپڑا جس پر سونے کے تاروں سے کام بنایا گیا ہو۔ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ یہ لڑکے ہمیشہ اسی حالت میں لڑکے ہی رہیں گے، ان میں کوئی تغیر عمر وغیرہ کا نہ ہوگا، ان جنت کے غلمان کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ حوروں کی طرح یہ بھی جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گے، روایات حدیث سے ثابت ہے کہ ایک ایک جنتی کے پاس ہزاروں خادم ہوں گے (مظہری)
Ayah 56:18

بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِیْقَ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِیْنٍۙ Open ayah 56:18 in the Quran reader

آبخورے اور کوزے اور پیالہ نتھری شراب کا

بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ ڏ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ ، اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی وغیرہ پینے کے ایسے برتن کو کہتے ہیں، جیسے ہمارے عرف میں گلاس ہوتے ہیں، اور اباریق ابریق کی جمع ہے، ٹونٹی دار لوٹے کو کہتے ہیں، کاس خاص شراب کے پیالے کو کہا جاتا ہے، معین سے مراد یہ ہے کہ یہ شراب ایک چشمہ جاریہ سے لائی گئی ہوگی۔
Ayahs 56:19–20

لَّا یُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا یُنْزِفُوْنَۙ Open ayah 56:19 in the Quran reader

جس سے نہ سر دکھے اور نہ بکواس لگے

وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا یَتَخَیَّرُوْنَۙ Open ayah 56:20 in the Quran reader

اور میوہ جونسا پسند کرلیں

لَّا يُصَدَّعُوْنَ ، صداع سے مشتق ہے جس کے معنی درد سر کے ہیں، دنیا میں شراب زیادہ پینے سے سر میں درد اور چکر جیسے ہوتے ہیں، جنت کی یہ شراب اس سے پاک ہوگی۔ لَا يُنْزِفُوْنَ ، نزف کے اصلی معنی کنویں کا تمام پانی سینچ لینے کے ہیں، یہاں مراد عقل سے خالی ہوجانا ہے۔
Ayahs 56:21–26

وَ لَحْمِ طَیْرٍ مِّمَّا یَشْتَهُوْنَؕ Open ayah 56:21 in the Quran reader

اور گوشت اڑتے جانوروں کا جس قسم کو جی چاہے

وَ حُوْرٌ عِیْنٌۙ Open ayah 56:22 in the Quran reader

اور عورتیں گوری بڑی آنکھوں والیاں

كَاَمْثَالِ اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ Open ayah 56:23 in the Quran reader

جیسے موتی کے دانے اپنے غلاف کے اندر

جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 56:24 in the Quran reader

بدلہ ان کاموں کا جو کرتے تھے

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًاۙ Open ayah 56:25 in the Quran reader

نہیں سنیں گے وہاں بکواس اور نہ گناہ کی بات

اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا Open ayah 56:26 in the Quran reader

مگر ایک بولنا سلام سلام

وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ ، یعنی پرندوں کا گوشت جیسی ان کی خواہش ہو، حدیث میں ہے کہ اہل جنت جس وقت کسی پرندے کے گوشت کی طرف رغبت کریں گے تو اس کا گوشت جس طرح کھانے کی رغبت دل میں آوے گی کہ کباب ہو یا دوسری طرح کا پکا ہوا، اسی طرح کا فوراً تیار ہو کر اس کے سامنے آجائے گا (مظہری)
Ayah 56:27

وَ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِ١ۙ۬ مَاۤ اَصْحٰبُ الْیَمِیْنِؕ Open ayah 56:27 in the Quran reader

اور داہنے والے کیا کہنے داہنے والوں کے

وَاَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ڏ مَآ اَصْحٰبُ الْيَمِيْنِ ، اصحاب یمین، دراصل مومنین متقین اور اولیاء اللہ میں گناہ گار مسلمان بھی ان کے ساتھ مل جائیں گے، بعض تو محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے بعض کسی نبی ولی کی شفاعت سے مغفرت اور معافی ہوجانے کے بعد اور بعض کو عذاب ہوگا، مگر اپنے گناہ کا عذاب بھگتنے کے بعد یہ بھی گناہ سے پاک صاف ہو کر اصحاب الیمین کے گروہ میں شامل ہوجائیں گے، کیونکہ گناہ گار مومن کے لئے جہنم کی آگ درحقیقت عذاب نہیں بلکہ کھوٹ سے پاک صاف کرنے کی ایک تدبیر ہے (مظہری)
Ayahs 56:28–31

فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍۙ Open ayah 56:28 in the Quran reader

رہتے ہیں بیری کے درختوں میں جن کانٹا نہیں

وَّ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 56:29 in the Quran reader

اور کیلے تہہ پر تہہ

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ Open ayah 56:30 in the Quran reader

اور سایہ لمبا

وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ Open ayah 56:31 in the Quran reader

اور پانی بہتا ہوا

فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ۔ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۔ وَّظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ۔ وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ ، جنت کی نعمتیں بیشمار اور بےمثال و بےقیاس ہیں، ان میں سے جو نعمتیں قرآن کریم ذکر کرتا ہے وہ مخاطبین کے انداز فکر اور ان کی محبوب و پسندیدہ چیزوں کا ذکر کرتا ہے، عرب کے لوگ جن تفریحات اور جن پھلوں کے خوگر تھے، یہاں ان میں سے چند کا ذکر کیا گیا ہے۔ فِيْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ، سدر بیری کے درخت کو کہتے ہیں، مخضود وہ بیری جس کے کانٹے قطع کردیئے گئے ہوں اور پھل کے بوجھ سے شاخ جھکی ہوئی ہو اور یہ جنت کے بیر دنیا کے بیروں کی طرح نہیں ہوں گے، بلکہ یہ بیر مٹکوں کے برابر بڑے اور ذائقہ میں بھی دنیا کے بیر سے اس کی کوئی نسبت نہیں (کذا فی الحدیث) طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ، طلح کیلے کا درخت۔ منضود، جس کے پھل تہہ بر تہہ ہوں، جیسے کیلے کے چرخوں میں ہوتے ہیں، ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ، دراز سایہ۔ صحیحین کی حدیث میں ہے کہ جنت کے بعض درختوں کا سایہ اتنا دراز ہوگا کہ گھوڑے سوار آدمی اس کو سو سال میں بھی قطع نہ کرسکے گا، وَّمَاۗءٍ مَّسْكُوْبٍ جاری پانی جو سطح زمین پر بہتا ہو۔
Ayahs 56:32–33

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ Open ayah 56:32 in the Quran reader

اور میوہ بہت

لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ Open ayah 56:33 in the Quran reader

نہ اس میں سے ٹوٹا اور نہ روکا ہوا

وَّفَاكِهَةٍ كَثِيْرَةٍ ، کثیرة کے معنی میں یہ بھی داخل ہیں کہ پھلوں کی تعداد بہت ہوگی اور یہ بھی کہ ان کے اقسام و اجناس بیشمار ہوں گے، لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّلَا مَمْنُوْعَةٍ ، مقطوعہ سے مراد جو فصل ختم ہونے پر ختم ہوجاویں جیسے دنیا کے عام پھلوں کا یہی حال ہے کوئی گرمی میں ہوتا ہے، موسم ختم ہونے پر ختم ہوجاتا ہے، کوئی سردی یا برسات میں ہوتا ہے اور موسم کے ختم پر اس کا نام و نشان نہیں رہتا، جنت کا ہر پھل دائمی ہر وقت ہر موسم میں موجود رہے گا ممنوعہ سے مراد بھی یہ ہے کہ دنیا میں جس طرح درختوں پر لگے ہوئے پھلوں کے نگراں ان کو توڑنے سے منع کرتے ہیں جنت کے پھل اس سے بھی آزاد ہوں گے، ان کو توڑنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہوگی۔
Ayah 56:34

وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ Open ayah 56:34 in the Quran reader

اور بچھونے اونچے

وَّفُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ ، فرش، فراش کی جمع ہے، جس کے معنی ہیں بسترہ یا فرش، فرش کی بلندی اول تو اس لئے ہے کہ یہ مقام خود ہی بلند ہے، دوسرے خود یہ فرش زمین پر نہیں بلکہ تختوں اور چارپائیوں کے اوپر ہوں گے، تیسرے خود فرش بھی دبیز ہوگا اور بعض مفسرین نے اس جگہ فراش سے مراد عورت کو قرار دیا ہے کیونکہ عورت کو بھی لفظ فراش سے تعبیر کیا جاتا ہے، حدیث میں ہے الولد للفراش، اس میں فراش سے بیوی مراد ہے اور اگلی آیتوں میں جو جنتی عورتوں کی صفات مذکور ہیں وہ بھی اس معنی کا قرینہ ہیں (مظہری) اس صورت میں لفظ مرفوعہ رفعت درجہ کے اعتبار سے ہوگا بمعنی بلند پایہ۔
Ayah 56:35

اِنَّاۤ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَآءًۙ Open ayah 56:35 in the Quran reader

ہم نے اٹھایا ان عورتوں کو ایک اچھے اٹھان پر

اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ اِنْشَاۗءً ، انشاء کے معنی پیدا کرنے کے ہیں، ہُنَّ کی ضمیر جنت کی عورتوں کی طرف راجع ہے، اگرچہ سابقہ قریبی آیات میں ان کا ذکر نہیں ہے، مگر ذرا فاصلہ سے سابقون کے بیان میں ان کا ذکر آ چکا ہے، اس لئے ضمیر ان کی طرف راجع ہو سکتی ہے اور اگر آیت مذکورہ میں فراش سے مراد جنت کی عورتیں ہیں، تو ضمیر ان کی طرف ہونا ظاہر ہے، نیز فرش و بستر وغیرہ عیش کی چیزوں کے ذکر میں خود ایک دلالت عورت کی طرف پائی جاتی ہے، اس لئے بھی ضمیر اس طرف راجع ہو سکتی ہے۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ ہم نے جنت کی عورتوں کی پیدائش و تخلیق ایک خاص انداز سے کی ہے یہ خاص انداز حوران جنت کے لئے تو اس طرح ہے کہ وہ جنت ہی میں بغیر ولادت کے پیدا کی گئی ہیں اور دنیا کی عورتیں جو جنت میں جائیں گی ان کی خاص تخلیق سے مطلب یہ ہوگا کہ جو دنیا میں بدشکل، سیاہ رنگ یا بوڑھی تھی اب اس کو حسین شکل و صورت میں جوان رعنا کردیا جائے گا، جیسا کہ ترمذی اور بیہقی حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (اِنَّآ اَنْشَاْنٰهُنَّ) کی تفسیر میں فرمایا کہ جو عورتیں دنیا میں بوڑھی چندھی، سفید بال، بد شکل تھیں انہیں یہ نئی تخلیق حسین نوجوان بنا دے گی اور بیہقی نے حضرت صدیقہ عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ گھر میں تشریف لائے میرے پاس ایک بوڑھیا بیٹھی ہوئی تھی، آپ نے دریافت فرمایا یہ کون ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ میری رشتہ کی ایک خالہ ہے، آنحضرت ﷺ نے بطور مزاح کے فرمایا لا تدخل الجنة عجوز، یعنی جنت میں کوئی بڑھیا نہ جائے گی، یہ بیچاری سخت غمگین ہوئی، بعض روایات میں ہے کہ رونے لگی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو تسلی دی اور اپنی بات کی حقیقت یہ بیان فرمائی کہ جس وقت یہ جنت میں جائے گی تو بوڑھی نہ ہوگی بلکہ جوان ہو کر داخل ہوگی اور یہی آیت تلاوت فرمائی (مظہری)
Ayah 56:36

فَجَعَلْنٰهُنَّ اَبْكَارًاۙ Open ayah 56:36 in the Quran reader

پھر کیا ان کو کنواریاں

اَبْكَارًا۔ بکر، بکسر الباء کی جمع ہے، کنواری لڑکی کو کہا جاتا ہے، مراد یہ ہے کہ جنت کی عورتوں کی تخلیق اس شان کی ہوگی کہ ہر صحبت و مباشرت کے بعد پھری کنواری جیسی ہوجاویں گی۔
Ayahs 56:37–38

عُرُبًا اَتْرَابًاۙ Open ayah 56:37 in the Quran reader

پیار دلانے والیاں ہم عمر

لِّاَصْحٰبِ الْیَمِیْنِ٢ؕ۠ Open ayah 56:38 in the Quran reader

واسطے داہنے والوں کے

عُرُبًا، بضم عین و راء، عروبہ کی جمع ہے، اس عورت کو کہتے ہیں جو اپنے شوہر کی عاشق اور اس کی من پسند محبوبہ ہو۔ اتراب، ترب بکسر تاء کی جمع، جس کے معنی ہم عمر کے ہیں، جو مٹی میں ساتھ کھیلا ہو، جنت میں مرد و عورت سب ہم عمر کردیئے جاویں گے، بعض روایات حدیث میں ہے کہ سب کی عمر 33 سال ہوگی (مظہری)