Ayahs 56:39–56ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، ثلة میں معنی بڑی جماعت اور اولین و آخرین کی تفسیر میں حضرات مفسرین کے دو قول اوپر سابقون کے بیان میں مذکور ہوچکے ہیں، اگر اولین سے مراد حضرت آدم ؑ سے خاتم الانبیاء ﷺ کے زمانے تک کے حضرات اور آخرین سے آپ کی امت تا قیامت ہے، جیسا کہ بعض مفسرین نے فرمایا تو اس آیت کا حاصل یہ ہوگا کہ اصحاب الیمین یعنی مومنین متقین کی تعداد پچھلی امتوں کے مجموعہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی اور تنہا امت محمدیہ میں ایک بڑی جماعت ہوگی، اس صورت میں اول تو امت محمدیہ کی فضیلت کے لئے یہ بھی کچھ کم نہیں کہ پچھلے لاکھوں انبیاء (علیہم السلام) کی امتوں کی برابر یہ امت ہوجائے جس کا زمانہ بہت مختصر ہے، اس کے علاوہ لفظہ ثلہ میں اس کی بھی گنجائش ہے کہ یہ ثلہ آخرین تعداد اولین سے بڑھ جائے گا۔
اور اگر دوسری تفسیر مراد لی جائے کہ اولین و آخرین دونوں اسی امت کے مراد ہیں، جیسا کہ حضرت ابن عباس سے بغوی نے اور حضرت ابوبکرہ سے مسدد، طبرانی اور ابن مردویہ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ ہما من امتی یعنی یہ اولین و آخرین میری امت ہی کے دو طبقے ہیں، اس معنی کے لحاظ سے ثابت ہوتا ہے کہ سابقین اولین صحابہ وتابعین وغیرہ جیسے حضرات سے بھی یہ امت آخر تک بالکل محروم نہ ہوگی اگرچہ آخری دور میں ایسے لوگ کم ہوں گے اور مومنین و متقین و اولیاء اللہ تو اس پوری امت کے اول و آخر میں بھاری تعداد میں رہیں گے اور امت محمدیہ کا کوئی دور کوئی طبقہ اصحاب الیمین سے خالی نہ رہے گا اس کی شہادت اس حدیث سے بھی ملتی ہے جو صحیح بخاری و مسلم میں حضرت معاویہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی اور ہزاروں مخالفتوں کے نرغے میں بھی وہ اپنا رشد و ہدایت کا کام کرتی رہے گی، اس کو کسی کی مخالفت نقصان نہ پہنچا سکے گی، یہاں تک کہ قیامت قائم ہونے تک یہ جماعت اپنے کام میں لگی رہے گی۔
Ayahs 56:57–62خلاصہ تفسیر
ہم نے تم کو (اول بار) پیدا کیا ہے (جس کو تم بھی تسلیم کرتے ہو) تو پھر تم (باعتبار اس کے نعمت ہونے کے توحید کی اور باعتبار اس کے دلیل قدرت علی الاعادہ ہونے کے قیامت کی) تصدیق کیوں نہیں کرتے (آگے اس تخلیق کی پھر اس کے اسباب بقاء کی تفصیل و تذکیر ہے یعنی) اچھا پھر یہ بتلاؤ تم جو (عورتوں کے رحم میں) منی پہنچاتے ہو اس کو تم آدمی بناتے ہو یا ہم بنانے والے ہیں (اور ظاہر ہے کہ ہم ہی بناتے ہیں اور) ہم ہی نے تمہارے درمیان میں موت کو (معین وقت پر) ٹھہرا رکھا ہے (مطلب یہ کہ بنانا اور اس بنائے ہوئے کو ایک وقت خاص تک باقی رکھنا یہ سب ہمارا ہی کام ہے، آگے یہ بتلاتے ہیں کہ جیسا انسان کی ذات کا پیدا کرنا اور باقی رکھنا ہمارا فعل ہے، اسی طرح تمہاری موجودہ صورت کو باقی رکھنا بھی ہمارا ہی فعل ہے) اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں کہ تمہاری جگہ تو تم جیسے اور (آدمی) پیدا کردیں اور تم کو ایسی صورت بنادیں جن کو تم جانتے بھی نہیں (یعنی مثلاً آدمی سے جانور کی صورت میں مسخ کردیں جس کا گمان بھی نہیں) اور (آگے تنبیہ ہے اس کی دلیل پر یعنی) تم کو اول پیدائش کا علم حاصل ہے (کہ وہ ہماری قدرت سے ہے) پھر تم کیوں نہیں سمجھتے (کہ سمجھ کر اس نعمت کا شکر ادا کرو اور توحید کا اقرار کرو اور قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے پر بھی استدلال کرو، آگے ایک دوسری تنبیہ ہے یعنی) اچھا پھر یہ بتلاؤ تم جو کچھ (تخم وغیرہ) بوتے ہو اس کو تم اگاتے ہو یا ہم اگانے والے ہیں (یعنی زمین میں بیج ڈالنے میں تو تم کو کچھ دخل ہے بھی، لیکن اس کو زمین سے نکالنا یہ کس کا فعل ہے، آگے یہ بتلاتے ہیں کہ زمین سے درخت اگانا جیسا ہمارا کام ہے آگے اس درخت سے تمہارا فائدہ اٹھانا بھی ہماری قدرت و حکمت پر موقوف ہے، جیسا اوپر بھی فرمایا تھا یعنی) اگر ہم چاہیں تو اس (پیداوار) کو چورا چورا کردیں (یعنی دانہ کچھ نہ پڑے، پتی خشک ہو کر ریزہ ہوجاوے) پھر تم متعجب ہو کر رہ جاؤ کہ (اب کے تو) ہم پر تاوان ہی پڑگیا (یعنی سرمایہ میں نقصان آ گیا، اور نقصان کیا) بلکہ بالکل ہی محروم رہ گئے (یعنی سارا ہی سرمایہ گیا گزرا، آگے تیسری تنبیہ ہے یعنی) اچھا پھر یہ بتلاؤ کہ جس پانی کو تم پیتے ہو اس کو بادل سے تم برساتے ہو یا ہم برسانے والے ہیں (پھر اس پانی کو پینے کے قابل بنانا ہماری دوسری نعمت ہے کہ) اگر ہم چاہیں اس کو کڑوا کر ڈالیں، تو تم شکر کیوں نہیں کرتے (اور بڑا شکر عقیدہ توحید و ترک کفر ہے، آگے چوتھی تنبیہ ہے یعنی) اچھا پھر یہ بتلاؤ جس آگ کو تم سلگاتے ہو اس کے درخت کو (جس میں سے یہ آگ جھڑتی ہے جس کا بیان آخر سورة یٰس میں آ چکا ہے اور اسی طرح جن ذرائع سے یہ آگ پیدا ہوتی ہے ان ذرائع کو) تم نے پیدا کیا ہے یا ہم پیدا کرنے والے ہیں ہم نے اس کو (آتش دوزخ کی یا اپنی قدرت عجیبہ کی) یاد دہانی کی چیز اور مسافروں کے لئے فائدہ کی چیز بنایا ہے (یاد دہانی ایک دینی فائدہ ہے اور دوسرا دنیوی فائدہ آگ سے کھانا پکانے کا ہے اور تخصیص مسافر کی حصر کے لئے نہیں بلکہ سفر میں آگ کمیاب ہونے کے سبب ایک شے عجیب ہوتی ہے اور متاعاً میں اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ آگ سے فائدہ اٹھانا بھی ہماری قدرت سے ہے) سو (جس کی ایسی قدرت ہے) اپنے (اس) عظیم الشان پروردگار کے نام کی تسبیح (وتحمید) کیجئے ، (کہ کمال ذات وصفات مقتضی استحقاق حمد و ثنا ہیں اور نام کی تسبیح وغیرہ کی تحقیق آیتہ آخر سورة رحمن میں گزر چکی ہے)
معارف و مسائل
شروع سورت سے یہاں تک محشر میں انسانوں کی تین قسمیں اور تینوں قسموں کے احکام اور جزا و سزا کا بیان تھا، مذکور الصدر آیات میں ان گمراہ لوگوں کو تنبیہ ہے جو سرے سے قیامت قائم ہونے اور دوبارہ زندہ ہونے ہی کے قائل نہیں، یا اللہ تعالیٰ کی عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں، انسان کی اس غفلت اور جہالت کا پردہ چاک کرنا ہے جس نے اس کو بھول میں ڈال رکھا ہے، توضیح اس کی یہ ہے کہ اس عالم کائنات میں جو کچھ موجود ہے یا وجود میں آ رہا ہے یا آئندہ آنے والا ہے اس کی تخلیق پھر اس کو باقی رکھنا اور پھر اس کو انسان کے مختلف کاموں میں لگا دینا یہ سب درحقیت حق تعالیٰ جل شانہ کی قدرت و حکمت کے کرشمے ہیں، اگر اسباب کے پردے درمیان میں نہ ہوں اور انسان ان سب چیزوں کی تخلیق بلا واسطہ اسباب کے مشاہدہ کرلے تو ایمان لانے پر مجبور ہوجائے، مگر حق تعالیٰ نے دنیا کو دار الامتحان بنایا ہے، اس لئے یہاں جو کچھ وجود و ظہور میں آتا ہے وہ اسباب کے پردوں میں آتا ہے۔
اور حق تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ان اسباب اور مسببات میں ایک ایسا رابطہ مستحکم قائم فرما دیا ہے کہ جہاں کہیں سبب موجود ہوجاتا ہے تو مسبب ساتھ ساتھ وجود میں آجاتا ہے، جس کو دیکھنے والا لازم و ملزوم سمجھتا ہے اور ظاہر بین نظریں اسی سلسلہ اسباب میں الجھ کر رہ جاتی ہیں اور تخلیق کائنات کو انہی اسباب کی طرف منسوب کرنے لگتی ہیں، اصل قدرت اور حقیقی قوت فاعلہ جو ان اسباب و مسببات کو گردش دینے والی ہے اس کی طرف التفات نہیں رہتا۔
آیات مذکورہ میں حق تعالیٰ نے اول خود انسان کی تخلیق کی حقیقت کو واضح فرمایا، پھر انسانی ضروریات کی تخلیق کی حقیقت سے پردہ اٹھایا، خود انسان کو مخاطب کر کے سوالات کئے، ان سوالات کے ذریعہ اصل جواب کی طرف رہنمائی فرمائی، کیونکہ سوالات میں ان اسباب کی کمزوری اور ان کی علت تخلیق نہ ہونا واضح فرما دیا۔
آیات مذکورہ میں پہلی آیت نَحْنُ خَلَقْنٰكُمْ ایک دعویٰ ہے اور اگلی آیات اس کے دلائل ہیں، سب سے پہلے خود انسان کی تخلیق پر ایک سوال کیا گیا، کیونکہ غافل انسان چونکہ روز مرہ اس کا مشاہدہ کرتا رہتا ہے کہ مرد و عورت کے اختلاط سے حمل قرار پاتا ہے اور پھر وہ رحم مادر میں بڑھتا اور تیار ہوتا رہتا ہے اور نو مہینے کے بعد ایک مکمل انسان کی صورت میں پیدا ہوجاتا ہے، اس روز مرہ کے مشاہدہ سے غفلت شعار انسان کی نظر بس یہیں تک رہ جاتی ہے، کہ مرد و عورت کے باہمی اختلاط ہی کو تخلیق انسانی کی علت حقیقی سمجھنے لگتا ہے، اس لئے سوال یہ کیا گیا اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تُمْـنُوْنَ ءَاَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَهٗٓ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ ، یعنی اے انسان ! ذرا غور تو کر کہ بچے کی پیدائش میں تیرا دخل اس کے سوا کیا ہے کہ تو نے ایک قطرہ منی ایک خاص محل میں پہنچا دیا، اس کے بعد کیا تجھے کچھ خبر ہے کہ اس نطفہ پر کیا کیا دور گزرے، کیا کیا تغیرات آئے کس کس طرح اس میں ہڈیاں اور گوشت پوست پیدا ہوئے اور کس کس طرح اس عالم اصغر کے وجود میں کیسی نازک نازک مشینیں غذا حاصل کرنے، خون بنانے اور روح حیوانی پیدا کرنے کی پھر دیکھنے، بولنے، سننے چکھنے اور سوچنے سمجھنے کی قوت اس کے وجود میں نصب فرمائیں کہ ایک انسان کا وجود ایک متحرک فیکٹری بن گیا، نہ باپ کو خبر ہے نہ ماں کو جس کے پیٹ میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے، آخر اگر عقل دنیا میں کوئی چیز ہے تو وہ یہ کیوں نہیں سمجھتی کہ عجیب و غریب حکمتوں پر مشتمل انسانی وجود کیا خود بخود بغیر کسی کے بنائے بن گیا ؟ اور اگر کوئی بنانے والا ہے تو وہ کون ہے ؟ ماں باپ کو تو خبر بھی نہیں کہ کیا بنا کس طرح بنا ؟ ان کو تو وضع حمل تک یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ حمل لڑکا ہے یا لڑکی، پھر آخر وہ کونسی قدرت ہے جس نے پیٹ کی پھر رحم کی پھر بچے کے اوپر پیک کی ہوئی جھلی کی تین اندھیریوں میں یہ حسین و جمیل، سمیع وبصیر، سوچنے سمجھنے والا وجود تیار کردیا، یہاں جو تبارک اللہ احسن الخا یقین بول اٹھنے پر مجبور نہ ہوجائے وہ عقل کا اندھا ہی ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد کی آیات میں یہ بھی بتلا دیا کہ اے انسانو ! تم پیدا ہوجانے اور چلتا پھرتا فعال آدمی بن جانے کے بعد بھی اپنے وجود و بقا اور تمام کاروبار میں ہمارے ہی محتاج ہو، ہم نے تمہاری موت کا بھی ابھی سے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اور اس وقت مقرر سے پہلے پہلے جو عمر تمہیں ملی اس میں تم اپنے آپ کو خود مختار پاتے ہو، یہ بھی تمہارا مغالطہ ہی ہے، ہمیں اس پر بھی قدرت ہے کہ ابھی ابھی تمہیں فنا کر کے تمہاری جگہ کوئی دوسری قوم پیدا کردیں اور یہ بھی قدرت ہے کہ تمہیں فنا کرنے کے بجائے کسی دوسری صورت حیوانی یا جماداتی میں تمہیں تبدیل کردیں، یہ مضمون ان آیات کا ہے نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ ، عَلٰٓي اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ وَنُنْشِـىَٔـكُمْ فِيْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ۔ موت کے مقدر اور وقت معین پر آنے میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ تم اپنی بقا میں آزاد و خود مختار نہیں، بلکہ تمہاری بقا ایک معین وقت تک ہے تمہیں حق تعالیٰ نے ایک خاص قوت وقدرت اور عقل و حکمت کا حامل بنایا ہے، اس سے کام لے کر تم بہت کچھ کرسکتے ہو، وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِيْنَ کا حاصل یہ ہے کہ ہمارے ارادے پر سبقت کرنے والا ہماری مشیت پر غالب آنے والا کوئی نہیں، ہم اس وقت بھی جو چاہیں کرسکتے ہیں کہ اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَكُمْ ، یعنی تمہاری جگہ تمہارے مثل کوئی اور قوم لے آئیں، وَنُنْشِـىَٔـكُمْ فِيْ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ اور تمہاری وہ شکل بنادیں جس کو تم جانتے بھی نہیں، اس کی یہ شکل بھی ہو سکتی ہے کہ مر کر مٹی ہوجاؤ، یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کسی جانور کی شکل میں تبدیل ہوجاؤ، جیسے پچھلی امتوں پر صورتیں مسخ ہو کر بندر اور خنزیر بن جانے کا عذاب آ چکا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمہیں پتھروں اور جمادات کی شکل میں تبدیل کردیا جائے۔
Ayahs 56:63–72اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ، تخلیق انسانی کے معاملے میں انسان کی غفلت اور اسباب طبعیہ کے پردہ میں الجھ کر اصل خالق ومالک سے بیخبر ہونے کا پردہ چاک کرنے کے بعد اس کی غذا جو اس کی زندگی کا مدار ہے اس کی حقیقت اسی انداز سے ظاہر فرمائی کہ سوال کیا کہ تم جو کچھ زمین میں بیج بوتے ہو ذرا غور تو کرو کہ اس بیج میں سے درخت پیدا کرنے میں تمہارے عمل کا کیا اور کتنا دخل ہے، غور کرو گے تو جواب اس کے سوا نہ ملے گا کہ کاشتکار کا دخل اس میں اس سے زیادہ نہیں کہ اس نے زمین کو ہل چلا کر پھر کھاد ڈال کر نرم کردیا کہ جو ضعیف کونپل اس دانہ سے پیدا ہو کر اوپر آنا چاہئے اس کی راہ میں زمین کی سختی رکاوٹ نہ بنے بیج بونے والے انسان کی ساری کوشش اسی ایک نقطہ کے گرد دائر ہے اور جب درخت نمودار ہوجائے تو اس کی حفاظت پر یہ کوشش لگ جاتی ہے، لیکن ایک دانہ کے اندر سے درخت نکال لانا نہ اس کے بس کا ہے، نہ یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ میں نے یہ درخت بنایا ہے، تو پھر وہی سوال آتا ہے کہ منوں مٹی کے چھیر میں پڑے ہوئے دانے کے اندر سے یہ خوبصورت اور ہزاروں فوائد پر مشتمل درخت کس نے بنایا ؟ تو جواب اس کے سوا کیا ہے کہ وہی مالک و خالق کائنات کی قدرت کاملہ اور صنعت عجیبہ اس کی بنانے والی ہے۔
اس کے بعد اسی طرح پانی جس کو پی کر انسان زندہ رہتا ہے، آگ جس پر اپنا کھانا پکاتا ہے اور اپنی صنعتوں کو اس سے چلاتا ہے ان سب کی تخلیق پر ایسے ہی سوال و جواب کا ذکر فرمایا، اور آخر میں سب کا خلاصہ یہ بیان فرمایا۔
Ayah 56:73نَحْنُ جَعَلْنٰهَا تَذْكِرَةً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِيْنَ ، مقوین، اقواء سے مشتق ہے اور وہ قواء بمعنی صحرا سے مشتق ہے، مقوی کے معنے ہوئے صحرا میں اترنے والا، مراد اس سے مسافر ہے جو جنگل میں کہیں ٹھہر کر اپنے کھانے کے انتظام میں لگا ہو اور مراد آیت کی یہ ہے کہ یہ سب تحقیقات ہماری ہی قدرت و حکمت کا نتیجہ ہیں۔
Ayah 56:74فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ ، اس کا لازمی اور عقلی نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ انسان حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور توحید پر ایمان لائے اور اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح پڑھا کرے کہ یہی اس کی نعمتوں کا شکر ہے۔
Ayahs 56:75–76خلاصہ تفسیر
(اور دلائل عقلیہ سے بعث یعنی مر کر زندہ ہونے کا امکان ثابت ہونے کے بعد قرآن سے جو اس کا وقوع ثابت ہے اور تم اس قرآن کو نہیں مانتے) سو میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے چھپنے کی اور اگر تم غور کرو تو یہ ایک بڑی قسم ہے (اور قسم اس بات کی کھاتا ہوں) کہ یہ (قرآن جو پیغمبر ﷺ پر نازل ہوتا ہے بوجہ منزل من اللہ ہونے کے) ایک مکرم قرآن ہے جو ایک محفوظ کتاب (یعنی لوح محفوظ) میں (پہلے سے) درج ہے (اور وہ لوح محفوظ ایس ہے) کہ بجز اس کو پاک فرشتوں کے (کہ گناہوں سے بالکلیہ پاک ہیں) کوئی (شیطان وغیرہ) ہاتھ نہیں لگانے پاتا (اس کے مضامین پر مطلع ہونا دور کی بات ہے، پس وہاں سے یہاں خاص طور پر آنا فرشتے ہی کے ذریعے سے ہے اور یہی نبوت ہے اور شیاطین اس کو لا ہی نہیں سکتے، کہ احتمال کہانت وغیرہ سے نبوت میں شبہ ہو، کقولہ تعالیٰ نزل بہ الروح الامین، وقولہ تعالیٰ و ما تنزلت بہ الشیطین، اس سے ثابت ہوا کہ) یہ رب العالمین کی طرف سے بھیجا ہوا ہے (جو کہ اشارة کریم کا مدلول تھا، یہاں ستاروں کے چھپنے کی قسم اپنے مفہوم و مقصد کے اعتبار سے ایسی ہے جیسے شروع سورة النجم میں ہے جس کا وہاں بیان ہوچکا ہے جس میں ستاروں کا باعتبار غروب کے حضور ﷺ کے موصوف بالنبوة اور منار الہدیٰ ہونے کا نظیر ہونا بھی بیان ہوا ہے جو کہ مقصود مقام ہے اور قسمیں جتنی قرآن میں ہیں بوجہ دلالت علی المطلوب کے سب ہی عظیم ہیں، لیکن کہیں کہیں مطلوب کے خاص اہتمام اور اس پر زیادہ متنبہ کرنے کے لئے عظیم ہونے کی تصریح بھی فرما دی ہے، جیسا کہ اس جگہ اور سورة الفجر میں حاصل مقام کا اجمالاً وہ ہے جو تفصیلاً اخیر رکوع میں سورة شعراء کے ارشاد ہوا ہے) سو (جب اس کا منزل من اللہ ہونا ثابت ہے تو) کیا تم لوگ اس کلام کو سرسری بات سمجھتے ہو (یعنی اس کو واجب التصدیق نہیں جانتے) اور (اس مداہنت سے بڑھ کر یہ کہ) تکذیب کو اپنی غذا بنا رہے ہو (اور اس لئے توحید و وقوع قیامت کا بھی انکار کرتے ہو) سو (اگر یہ انکار حق ہے تو) جس وقت (مرنے کے قریب کسی شخص کی) روح حلق تک آپہنچتی ہے اور تم اس وقت (بیٹھے حسرت آلودہ نگاہ سے) تکا کرتے ہو اور ہم (اس وقت) اس (مرنے والے) شخص کے تم سے بھی زیادہ نزدیک ہوتے ہیں (یعنی تم سے بھی زیادہ اس شخص کے حال سے واقف ہوتے ہیں، کیونکہ تم صرف ظاہری حالت دیکھتے ہو اور ہم اس کی باطنی حالت پر بھی مطلع ہوتے ہیں) لیکن (ہمارے اس قرب علمی کو بوجہ اپنے جہل و کفر کے) تم سمجھتے نہیں ہو تو (فی الواقع) اگر تمہارا حساب کتاب ہونے والا نہیں ہے (جیسا تمہارا خیال ہے) تو تم اس روح کو (بدن کی طرف) پھر کیوں نہیں لوٹا لاتے ہو (جس کی اس وقت تم کو تمنا بھی ہوا کرتی ہے) اگر (اس انکار قیامت و حساب میں) تم سچے ہو (مطلب یہ کہ قرآن صادق ہے اور وقوع بعث کا ناطق ہے، پس مقتضی وقوع متحقق ہوا اور مانع کوئی امر ہی نہیں پس وقوع ثابت ہوگیا اور اس پر بھی تمہارا انکار اور نفی کئے چلا جانا بدلالت حال اس کو مستلزم ہے کہ گویا تم روح کو اپنے بس میں سمجھتے ہو کہ گو قیامت میں خدا دوبارہ روح ڈالنا چاہئے جیسا کہ مقتضے ٰ قرآن کا ہے مگر ہم نہ ڈالنے دیں گے اور بعث نہ ہونے دیں گے، جب ہی تو ایسے زور سے نفی کرتے ہو، ورنہ جو اپنے کو عاجز جانے وہ دلائل وقوع کے بعد ایسے زور کی بات کیوں کہے، سو اگر تم اپنے بس میں سمجھتے ہو تو ذرا اپنا زور اسی وقت دکھلا دو جبکہ کسی قریب الموت انسان کے بقاء حیات کے متمنی بھی ہوتے ہو اور دیکھ دیکھ کر رحم بھی آتا ہے دل گیر بھی ہوتے ہو اور وہ زور دکھلانا یہ کہ اس روح کو نکلنے نہ دو بدن میں لوٹا دو جب اس پر بس نہیں کہ روح کو بدن سے نکلنے نہ دو تو اس کو دوبارہ پیدا کرنے سے روکنے پر کیسے تمہارا بس چلے گا، پس ایسے لاطائل دعوے کیوں کرتے ہو اور چونکہ مقام ہے نفی قدرت کا اور نفی علم مستلزم ہے نفی تعلق قدرت کو، اس لئے نحن اقرب جملہ معترضہ میں ان کے علم تام کی نفی فرما دی اور چونکہ یہ دلیل کافی ان کے لئے شافی نہ ہوئی، اس لئے لا تبصرون میں توبیخ بھی فرما دی اور چونکہ اس تقدیر سے اثبات قدرت بھی ہوا اس لئے بعث کے ساتھ یہ توحید کی بھی دلیل ہے، آگے کیفیت مجازاة کی ارشاد ہے، یعنی یہ تو ثابت ہوچکا کہ قیامت اپنے وقت پر ضروری آوے گی) پھر (جب قیامت واقع ہوگی تو) جو شخص مقربین میں سے ہوگا (جن کا ذکر اوپر آیا ہے والسابقون الخ) اس کے لئے تو راحت ہے اور (فراغت کی) غذائیں ہیں اور آرام کی جنت ہے اور جو شخص داہنے والوں میں سے ہوگا (جن کا ذکر اوپر آیا ہے واصحب الیمین الخ) تو اس سے کہا جاوے گا کہ تیرے لئے (ہر آفت اور خطرہ سے) امن وامان ہے کہ تو داہنے والوں میں سے ہے (اور یہ کہنا خواہ ابتداً ہو اگر فضل یا توبہ کے سبب اول ہی مغفرت ہوجاوے یا انتہاً ہو اگر بعد سزا کے مغفرت ہو اور یہاں روح و ریحان کا ذکر نہ فرمانا نفی کے لئے نہیں بلکہ اشارہ اس طرف ہے کہ یہ سابقین سے ان امور میں کم ہوگا) اور جو شخص جھٹلانے والوں (اور) گمراہوں میں سے ہوگا تو کھولتے ہوئے پانی سے اس کی دعوت ہوگی اور دوزخ میں داخل ہونا ہوگا، بیشک یہ (جو کچھ مذکور ہوا) تحقیقی یقینی بات ہے سو (جس کے یہ تصرفات ہیں) اپنے (اس) عظیم الشان پروردگار کے نام کی تسبیح (وتحمید) کیجئے (وقد مر آنفاً)۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں عقلی دلائل سے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونے کا ثبوت حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس دنیاوی تخلیق کے ذریعہ دیا گیا تھا، آگے نقلی دلیل اسی پر حق تعالیٰ کی طرف سے قسم کے ساتھ دی گئی ہے۔
فَلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ ، لفظ لا قسم کے شروع میں ایک عام محاورہ ہے، جیسے لا واللہ اور جاہلیت کی قسموں میں لا وابیک مشہور ہے، بعض حضرات نے اس حرف لا کو زائد قرار دیا ہے اور بعض نے اس کی توجیہ یہ کی کہ اس موقع پر حرف لا مخاطب کے گمان کی نفی کے لئے ہوتا ہے، یعنی لیس کما تقول، یعنی جیسا تم کہتے اور سمجھتے ہو وہ بات نہیں، بلکہ حقیقت وہ ہے جو آگے قسم کھا کر بتلائی جاتی ہے۔
مواقع، موقع کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ستاروں کے غروب ہونے کی جگہ یا وقت، اس آیت میں ستاروں کی قسم کو غروب کے وقت کے ساتھ مقید کیا گیا ہے، جیسے سورة نجم میں بھی والنَّجْمِ اِذَا هَوٰى میں بھی وقت غروب کی قید ہے، اس قید کی حکمت یہ ہے کہ غروب کے وقت ہر ستارے کے عمل کا اس افق سے انقطاع نظر آتا ہے اور اس کے آثار کی فنا کا مشاہدہ ہوتا ہے جس سے ان کا حادث اور قدرت الٰہیہ کا محتاج ہونا ثابت ہوتا ہے۔
Ayah 56:77اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ لَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ، سابقہ آیات میں مواقع النجوم کی قسم کھا کر جو مضمون جواب قسم کا بیان کرنا ہے، وہ ان آیات میں مذکور ہے، جس کا حاصل قرآن کریم کا مکرم و محفوظ ہونا اور مشرکین کے اس خیال کی تردید ہے کہ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا یا معاذ اللہ شیطان کا القاء کیا ہوا کلام ہے۔
Ayah 56:78كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ کے لفظی معنی چھپی ہوئی مستور کتاب، مراد اس سے لوح محفوظ ہے ،