Ayahs 56:79–80لَّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ ، یہاں دو مسئلے غور طلب اور ائمہ تفسیر میں مختلف فیہ ہیں، اول یہ کہ نحوی ترکیب کے اعتبار سے اس جملے میں دو احتمال ہیں، ایک یہ کہ جس کتاب کی ایک صفت مکنون آئی یہ جملہ اسی کتاب کی دوسری صفت ہے اور ضمیر لا یمسہ کی اسی کتاب کی طرف راجع ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوتے ہیں کتاب مکنون یعنی لوح محفوظ کو سوائے پاک لوگوں کے اور کوئی نہیں چھو سکتا اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں مطہرون کی مراد صرف فرشتے ہی ہو سکتے ہیں، جن کی رسائی لوح محفوظ تک ہو سکے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اس صورت میں لفظ مس اپنے حقیقی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں نہیں لیا جاسکتا، بلکہ مس کرنے اور چھونے کے مجازی اور لازمی معنی مراد لینے ہوں گے، یعنی لوح محفوظ میں لکھے ہوئے مضامین پر مطلع ہونا کیونکہ لوح محفوظ کو ہاتھ سے چھونا کسی مخلوق فرشتے وغیرہ کا کام نہیں (قرطبی) بیان القرآن کے مذکور الصدر خلاصہ تفسیر میں یہی ترکیب اور مفہوم اختیار کر کے تفسیر کی گئی ہے۔
دوسرا احتمال اس جملے کی ترکیب نحوی میں یہ ہے کہ اس کو قرآن کی صفت بنایا جائے جو اوپر اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ میں مذکور ہے اس صورت میں لا یمسہ کی ضمیر قرآن کی طرف راجع ہوگی اور اس سے مراد وہ صحیفہ ہوگا جس میں قرآن لکھا ہوا ہو اور لفظ مس اپنے حقیقی معنی ہاتھ سے چھونے کے مفہوم میں رہے گا، مجاز کی ضرورت نہ ہوگی، اسی لئے قرطبی وغیرہ مفسرین نے اس کو ترجیح دی ہے اور امام مالک نے فرمایا کہ آیت لّا يَمَسُّهٗٓ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ کی تفسیر میں کچھ میں نے سنا ہے ان سب میں بہتر یہ قول ہے کہ اس کا وہی مفہوم ہے جو سورة عبس کی آیت کا ہے یعنی فِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۢ بِاَيْدِيْ سَفَرَةٍ كِرَامٍۢ بَرَرَةٍ (قرطبی و روح المعانی) اور اس کا حاصل یہ ہے کہ یہ جملہ کتاب مکنون کی صفت نہیں بلکہ قرآن کی صفت ہے اور قرآن سے مراد وہ صحیفے ہیں جو وحی لانے والے فرشتوں کے ہاتھ میں دیئے جاتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ غور طلب اور مختلف فیہ اس آیت میں یہ ہے کہ مطہرون سے کون مراد ہیں، صحابہ وتابعین اور مفسرین کی ایک بڑی جماعت کے نزدیک مطہرون سے مراد فرشتے ہیں جو معاصی اور رذائل سے پاک و معصوم ہیں، یہ قول حضرت انس اور سعید بن جبیر سے منقول ہے (قرطبی) حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے (ابن کثیر) امام مالک نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے (قرطبی)
اور بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ قرآن سے مراد وہ مصحف ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے اور مطہرون سے مراد وہ لوگ ہیں جو نجاست ظاہری اور معنوی یعنی حدث اصغر و اکبر سے پاک ہوں، حدث اصغر کے معنی بےوضو ہونے کے ہیں، اس کا ازالہ وضو کرنے سے ہوجاتا ہے اور حدث اکبر جنابت اور حیض و نفاس کو کہا جاتا ہے جس سے پاکی کے لئے غسل ضروری ہے، یہ تفسیر حضرت عطاء، طاؤس، سالم اور حضرت محمد باقر سے منقول ہے (روح) اس صورت میں جملہ لا یمسہ اگرچہ جملہ خبریہ ہے مگر اس خبر کو بحکم انشاء یعنی نہی و ممانعت کے معنی میں قرار دیا جائے گا اور مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ مصحف قرآن کو چھونا بغیر طہارت کے جائز نہیں اور طہارت کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ ظاہری نجاست سے بھی اس کا ہاتھ پاک ہو اور بےوضو بھی نہ ہو اور حدث اکبر یعنی جنابت بھی نہ ہو، قرطبی نے اسی تفسیر کو اظہر فرمایا ہے، تفسیر مظہری میں اسی کی ترجیح پر زور دیا ہے۔
حضرت فاروق اعظم کے اسلام لانے کے واقعہ میں جو مذکور ہے کہ انہوں اپنی بہن کو قرآن پڑھتے ہوئے پایا تو اوراق قرآن کو دیکھنا چاہا، ان کی بہن نے یہی آیت پڑھ کر اوراق قرآن ان کے ہاتھ میں دینے سے انکار کیا کہ اس کو پاک لوگوں کے سوا کوئی نہیں چھو سکتا، فاروق اعظم نے مجبور ہو کر غسل کیا، پھر یہ اوراق پڑھے، اس واقعہ سے بھی اسی آخری تفسیر کی ترجیح ہوتی ہے اور روایات حدیث جن میں غیر طاہر کو قرآن کے چھونے سے منع کیا گیا ہے، ان روایات کو بھی بعض حضرات نے اس آخری تفسیر کی ترجیح کے لئے پیش کیا ہے۔
مگر چونکہ اس مسئلے میں حضرت ابن عباس اور حضرت انس وغیرہ کا اختلاف ہے جو اوپر آ چکا ہے، اس لئے بہت سے حضرات نے بےوضو قرآن کو ہاتھ لگانے کی ممانعت کے مسئلے میں آیت مذکورہ سے استدلال چھوڑ کر صرف روایات حدیث کو پیش کیا (روح المعانی) وہ احادیث یہ ہیں۔
امام مالک نے مؤطاء میں رسول اللہ ﷺ کا وہ مکتوب گرامی نقل کیا ہے جو آپ نے حضرت عمرو بن حزم کو لکھا تھا، جس میں ایک جملہ یہ بھی ہے لا یمس القران الا طاھر (ابن کثیر) یعنی قرآن کو وہ شخص نہ چھوئے جو طاہر نہ ہو۔
اور روح المعانی میں روایت مسند عبدالرزاق، ابن ابی داؤد اور ابن المنذر سے بھی نقل کی ہے اور طبرانی و ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا یمس القران الا طاہر (روح المعانی) یعنی قرآن کو ہاتھ نہ لگائے بجز اس شخص کے جو پاک ہو۔
مسئلہ
روایات مذکورہ کی بنا پر جمہور امت اور ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ قرآن کریم کو ہاتھ لگانے کے لئے طہارت شرط ہے اس کے خلاف گناہ ہے، ظاہری نجاست سے ہاتھ کا پاک ہونا، باوضو ہونا، حالت جنابت میں نہ ہونا سب اس میں داخل ہے، حضرت علی مرتضیٰ ، ابن مسعود، سعد بن ابی وقاص، سعید ابن زید، عطاء اور زہری، نخعی، حکم، حماد، امام مالک، شافعی، ابوحنیفہ سب کا یہی مسلک ہے، اوپر جو اختلاف اقوال نقل کیا گیا ہے وہ صرف اس بات میں ہے کہ یہ مسئلہ جو احادیث مذکورہ سے ثابت اور جمہور امت کے نزدیک مسلم ہے، کیا یہ بات قرآن کی آیت مذکورہ سے بھی ثابت ہے یا نہیں، بعض حضرات نے اس آیت کا مفہوم اور احادیث مذکورہ کا مفہوم ایک قرار دیا اور اس آیت اور احادیث مذکورہ کے مجموعہ سے اس مسئلہ کو ثابت کیا، دوسرے حضرات نے آیت کو استدلال میں پیش کرنے سے بوجہ اختلاف صحابہ احتیاط کی، لیکن احادیث مذکورہ کی بناء پر مسلک سب نے یہی اختیار کیا کہ بےوضو و بےطہارت قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں، اس لئے خلاف مسئلے میں نہیں، بلکہ اس کی دلیل میں ہوا ہے۔
مسئلہ
قرآن مجید کا غلاف جو جلد کے ساتھ سلا ہوا ہو وہ بھی بحکم قرآن ہے، اس کو بھی بغیر وضو و بغیر طہارت کے ہاتھ لگانا باتفاق ائمہ اربعہ ناجائز ہے، البتہ قرآن مجید کا جز دان جو علیحدہ کپڑے کا ہوتا ہے اگر اس میں قرآن بند ہے تو اس جزدان کے ساتھ قرآن کریم کو ہاتھ لگنا بلا وضو ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے، مگر امام مالک اور شافعی کے نزدیک یہ بھی ناجائز ہے (مظہری)
مسئلہ
جو کپڑا آدمی نے پہنا ہوا ہے اس کی آستین یا دامن سے قرآن مجید کو بلا وضو چھونا بھی جائز نہیں، البتہ علیحدہ رومال یا چادر سے چھوا جاسکتا ہے (مظہری)
مسئلہ
علماء نے فرمایا کہ اسی آیت سے بدرجہ اولیٰ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں قرآن کی تلاوت بھی جائز نہیں، جب تک غسل نہ کرے کیونکہ مصحف میں لکھے ہوئے حروف و نقوش کی جب یہ تعظیم واجب ہے تو اصل حروف جو زبان سے ادا ہوتے ہیں ان کی تعظیم اس سے زیادہ اہم اور واجب ہونا چاہئے، اس کو مقتضی تو یہ تھا کہ بےوضو آدمی کو بھی تلاوت قرآن جائز نہ ہو، مگر حضرت ابن عباس کی حدیث جو بخاری و مسلم میں ہے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حدیث میں مسند احمد میں ہے اس سے بغیر وضو کے تلاوت قرآن فرمانا رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے، اس لئے فقہاء نے بلا وضو تلاوت کی اجازت دی ہے (تفسیر مظہری)
Ayahs 56:81–82اَفَبِھٰذَا الْحَدِيْثِ اَنْتُمْ مُّدْهِنُوْنَ ، مدہنون، ادہان سے مشتق ہے، جس کے لغوی معنی تیل کی مالش کرنے کے ہیں اور تیل مالش سے اعضاء نرم ہوجاتے ہیں اس لئے نرم کرنے اور ناجائز مواقع میں نرمی برتنے کے معنی اور نفاق کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا، آیت مذکورہ میں یہ لفظ آیات الٰہیہ کی تصدیق میں نفاق یا تکذیب کے معنی میں استعمال ہے۔
Ayahs 56:83–87سابقہ آیات میں پہلے عقلی دلائل سے پھر حق تعالیٰ کی طرف سے ستاروں کی قسم کھا کر اور ان کے مقہور و مغلوب ہونے کی کیفیت کی طرف اشارہ کر کے دو باتیں ثابت کی گئی ہیں، اول یہ کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اس میں کسی شیطان و جن وغیرہ کا کوئی تصرف نہیں ہو سکتا، جو کچھ اس میں ہے وہ حق ہے، دوسرا مسئلہ جو قرآن کے مسائل میں خاص اہمیت رکھتا ہے، وہ قیامت کا آنا اور سب مردوں کا زندہ ہو کر رب العزت کے سامنے حساب کے لئے پیش ہونا ہے اور اس کے آخر میں کفار و مشرکین کا ان سب دلائل واضحہ کے خلاف قرآن کی حقانیت اور قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے سے انکار کا ذکر کیا گیا تھا۔
قیامت اور مرنے کے بعد زندہ ہونے سے انکار گویا ان کی طرف سے اس کا دعویٰ ہے کہ ان کی جان اور روح خود ان کے قبضہ میں ہے اور ان کی اپنی زندگی میں ان کو بھی کچھ دخل ہے، ان کے اس خیال باطل کی تردید کے لئے آیات مذکورہ میں ایک قریب الموت انسان کی مثال دے کر بتلایا کہ جب اس کی روح حلق میں پہنچتی ہے اور تم یعنی مرنے والے کے عزیز، دوست و احباب سب اس کے حال کو دیکھ رہے ہوتے ہیں اور بتقاضائے محبت وتعلق یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس کی روح نہ نکلے، یہ زندہ رہے، مگر اس وقت سب کو اپنی بیچارگی اور عاجزی کا احساس و اقرار ہوتا ہے کہ کوئی اس مرنے والے کی جان نہیں بچا سکتا اس پر حق تعالیٰ نے فرمایا کہ اس وقت اپنے علم وقدرت کے لحاظ سے ہم تمہاری نسبت اس مرنے والے سے زیادہ قریب ہوتے ہیں، قریب ہونے سے مراد اس کے اندرونی اور ظاہری حالات سے واقفیت اور اس پر پوری قدرت ہے اور فرمایا کہ مگر تم ہمارے اس قرب کو اور مرنے والے کے زیر تصرف ہونے کو آنکھوں سے نہیں دیکھتے، خلاصہ یہ ہے کہ تم سب مل کر اس کی زندگی اور روح کی حفاظت چاہتے ہو مگر تمہاری بات نہیں چلتی، ہم اپنے علم وقدرت کے اعتبار سے اس کے زیادہ قریب ہیں، وہ ہمارے زیر تصرف اور مشیت و حکم کے تابع ہے، جس لمحہ میں اس کی روح نکالنا ہم طے کرچکے ہیں، اس کو کوئی روک نہیں سکتا، اس مثال کو سامنے کر کے ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ مرنے کے بعد تمہیں زندہ نہیں کیا جاسکتا اور تم اتنے قوی اور بہادر ہو کر خدا تعالیٰ کی گرفت سے باہر ہو تو ذرا اپنی قوت وقدرت کا امتحان یہیں کر دیکھو کہ اس مرنے والے کی روح کو نکلنے سے بچا لو، یا نکلنے کے بعد اس میں لوٹا دو اور جب تم سے اتنا بھی نہیں ہوسکتا تو پھر اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی گرفت سے باہر سمجھنا اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے سے انکار کرنا کس قدر بےعقلی کی علامت ہے۔
Ayahs 56:88–94فَاَمَّآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ ، سابقہ آیات میں مختلف دلائل اور مختلف عنوانات سے یہ واضح کردیا گیا کہ دنیا کی موجودہ زندگی کا ایک روز ختم ہوجانا اور مرنے کے وقت سب عزیزوں، دوستوں، طبیبوں کا عاجز ہوجانا روز مشاہدہ میں آتا ہے اسی طرح اس کو بھی یقینی سمجھو کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اپنے اعمال کا حساب بھی دینا ہے اور حساب کے بعد جزا و سزا بھی یقینی ہے اور جزا و سزا میں کل مخلوق کا تین گروہوں میں تقسیم ہوجانا اور ہر ایک کی جزا الگ الگ ہونا جو شروع سورت میں بیان ہوچکا ہے، اس کا اجمال پھر یہاں ذکر کردیا گیا کہ مرنے کے بعد اگر یہ شخص مقربین یعنی سابقین کے گروہ میں سے ہے تو راحت ہی راحت آرام ہی آرام ہے اور اگر سابقین مقربین میں نہیں مگر اصحاب الیمین یعنی عام مومنین صالحین میں سے ہے تو بھی جنت کی نعمتوں سے سر فراز ہوگا اور اگر تیسرے گروہ یعنی اصحاب شمال کفار و مشرکین میں سے ہوا تو جہنم کی آگ اور کھولتے ہوئے پانی سے اس کو سابقہ پڑے گا۔
Ayah 56:95آخر میں فرمایا اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِيْنِ ، یعنی یہ جزا و سزا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے حق اور بالکل یقینی امر ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔
Ayah 56:96فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ ، ختم سورة پر نبی کریم ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ اپنے رب کے نام کی تسبیح پڑھتے رہئے، یعنی اس کی پاکی تمام ان چیزوں سے جو اس کے لائق شان ہیں بیان کرتے رہئے، اس میں نماز کی تسبیحات بھی داخل ہیں اور خارج نماز کی تسبیحات بھی اور خود نماز کو بھی بعض اوقات تسبیح سے تعبیر کردیا جاتا ہے تو یہ حکم نماز کے اہتمام کا بھی ہوگیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
تمت
سورة الواقعة بحمد اللہ وعونہ
لیلة الثلاثاء لعشرین من ربیع الثانی
س 1391 ھ ویتلوہ انشآء اللہ تعالیٰ سورة الحدید