Ayah 55:1ربط سورت اور جملہ فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا کے تکرار کی حکمت
اس سے پہلی سورت القمر میں زیادہ تر مضامین سرکش قوموں پر عذاب الٰہی آنے کے متعلق تھے اسی لئے ہر ایک عذاب کے بعد لوگوں کو متنبہ کرنے کے لئے ایک خاص جملہ بار بار استعمال فرمایا ہے، یعنی فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ ، اور اس کے متصل ایمان و اطاعت کی ترغیب کے لئے دوسرا جملہ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ بار بار لایا گیا ہے۔
سورة الرحمن میں اس کے مقابل بیشتر مضامین حق تعالیٰ کی دنیوی اور اخروی نعمتوں کے بیان میں ہیں اسی لئے جب کسی خاص نعمت کا ذکر فرمایا تو ایک جملہ لوگوں کو متنبہ کرنے اور شکر نعمت کی ترغیب دینے کے لئے فرمایا فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ، اور پوری سورت میں یہ جملہ اکتیس مرتبہ لایا گیا ہے، جو بظاہر تکرار معلوم ہوتا ہے اور کسی لفظ یا جملے کا تکرار بھی تاکید کا فائدہ دیتا ہے، اس لئے وہ بھی فصاحت و بلاغت کے خلاف نہیں خصوصاً قرآن کریم کی ان دونوں سورتوں میں جس جملے کا تکرار ہوا ہے وہ تو صورت کے اعتبار سے تکرار ہے، حقیقت کے اعتبار سے ہر ایک جملہ ایک نئے مضمون سے متعلق ہونے کی وجہ سے مکرر محض نہیں ہے، کیونکہ سورة قمر میں ہر نئے عذاب کے بعد اس کے متعلق (فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ) آیا ہے، اسی طرح سورة رحمن میں ہر نئی نعمت کے بیان کے بعد (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ) کا تکرار کیا گیا ہے جو ایک نئے مضمون کے متعلق ہونے کے سبب تکرار محض نہیں، علامہ سیوطی نے اس قسم کے تکرار کا نام تردید بتلایا ہے، وہ فصحاء و بلغاء عرب کے کلام میں مستحسن اور شیریں سمجھا گیا، نثر اور نظم دونوں میں استعمال ہوتا ہے، اور صرف عربی نہیں، فارسی، اردو وغیرہ زبانوں کے مسلم شعراء کے کلام میں بھی اس کی نظائر پائی جاتی ہیں، یہ موقع ان کو جمع کرنے کا نہیں، تفسیر روح المعانی وغیرہ میں اس جگہ متعدد نظائر بھی نقل کئے ہیں۔
خلاصہ تفسیر
رحمن (کی بیشمار نعمتیں ہیں ان میں سے ایک روحانی نعمت یہ ہے کہ اسی) نے (اپنے بندوں کو احکام) قرآن کی تعلیم دی (یعنی قرآن نازل کیا کہ اس کے بندے اس کے اوپر ایمان لائیں اور اس کا علم حاصل کر کے اس پر عمل کریں تاکہ دائمی عیش و راحت کا سامان حاصل ہو اور اس کی ایک نعمت جسمانی ہے وہ یہ کہ) اسی نے انسان کو پیدا کیا (پھر) اس کو گویائی سکھلائی (جس پر ہزاروں منافع مرتب ہوتے ہیں، منجملہ ان کے قرآن کا دوسرے کی زبان سے پہنچنا اور دوسروں کو پہنچانا ہے اور ایک نعمت جسمانی آفاقی یہ ہے کہ اس کے حکم سے) سورج اور چاند حساب کے ساتھ (چلتے) ہیں اور بےتنہ کے درخت اور تنہ دار درخت دونوں (اللہ کے) مطیع ہیں (سورج چاند کا چلنا تو اس لئے نعمت ہے کہ اس پر لیل و نہار سردی گرمی، ماہ و سال کا حساب مرتب ہوتا ہے اور ان کے منافع ظاہر ہیں اور درختوں کا سجدہ اس لئے نعمت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان میں انسان کے لئے بیشمار منافع کی تخلیق فرمائی ہے) اور (ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے آسمان کو اونچا کیا (جس سے علاوہ دوسرے منافع متعلقہ بالسماء کے بڑی منفعت یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر انسان اس کے بنانے والے کی عظمت شان پر استدلال کرے، کما قال تعالیٰ يَتَفَكَّرُوْنَ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ الخ) اور (ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے (دنیا میں) ترازو رکھ دی تاکہ تم تولنے میں کمی بیشی نہ کرو اور (جب یہ ایسی بڑی منفعت کے لئے موضوع ہے کہ یہ آلہ ہے حقوق کے لین دین کو پورا کرنے کا، جس سے ہزاروں مفاسد ظاہری و باطنی دور ہوجاتے ہیں، تو تم اس نعمت کا خصوصیت کے ساتھ شکر کرو اور اس شکریہ میں سے یہ بھی ہے کہ) انصاف (اور حق رسانی) کے ساتھ وزن کو ٹھیک رکھو اور تول کو گھٹاؤ مت اور (ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے خلقت کے (فائدہ کے) واسطے زمین کو (اس کی جگہ) رکھ دیا کہ اس میں میوے ہیں اور کجھور کے درخت ہیں جن (کے پھل) پر غلاف (چڑھا) ہوتا ہے اور (اس میں) غلہ ہے جس میں بھوسہ (بھی) ہوتا ہے اور (اس میں) اور غذا کی چیز (بھی ہے) (جیسے بہت سی ترکاریاں وغیرہ) سو اے جن وانس (باوجود نعمتوں کی اس کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤں گے (یعنی منکر ہونا بڑی ہٹ دھرمی اور بدیہیات بلکہ محسوسات کا انکار ہے اور ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے انسان (کی اصل اول یعنی آدم ؑ کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکرے کی طرح (کھن کھن) بجتی تھی پیدا کیا (جس کا اجمالا چند آیت میں اوپر ذکر کر آیا ہے) اور جناب (کی اصل اول) کو خالص آگ سے (جس میں دھواں نہ تھا) پیدا کیا (اور پھر دونوں نوع میں توالد و تناسل کے ذریعہ سے نسل چلی، شرح اس کو سورة حجر کے رکوع دوم میں آ چکی ہے) سو اے جن وانس (باوجود نعمتوں کی کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (مراد اس کی اوپر گزری ہے اور) وہ دونوں مشرق اور دونوں مغرب کا مالک (حقیقی) ہے (مراد اس سے سورج اور چاند کے طلوع و غروب کا افق ہے اس میں بھی وجہ نعمت ظاہر ہے کہ لیل و نہار کے افتتاح و اختتام کے ساتھ بہت سے اغراض متعلق ہیں) سو اے جن و انس (باوجود نعمتوں کی اس کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی نے دو دریاؤں کو (صورةً) ملایا کہ (ظاہر میں) باہم ملے ہوئے ہیں (اور حقیقۃ) ان دونوں کے درمیان میں ایک حجاب (قدرتی) ہے کہ (اس کی وجہ سے) دونوں (اپنے اپنے موقع سے) بڑھ نہیں سکتے (جس کی شرح سورة فرقان کے ختم سے ڈیڑھ رکوع قبل گزری ہے اور آب شور و آب شیریں کے منافع بھی ظاہر ہیں اور دونوں کے ملنے میں نعمت استدلال بھی ہے) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور بحرین کے متعلق ایک یہ نعمت ہے کہ) ان دونوں سے موتی اور مونگا برآمد ہوتا ہے (موتی ہوں گے کے منافع اور وجوہ نعمت ہونا ظاہر ہے) سو اے جن وانس (باوجود نعمتوں کی اس کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے اور (ایک نعمت یہ ہے کہ) اسی کے (اختیار اور ملک میں) ہیں جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے (نظر آتے) ہیں (ان کی منفعت بھی ظاہر بلکہ اظہر ہے) سو اے جن و انس (باوجود نعمتوں کی اس کثرت و عظمت کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔
معارف و مسائل
سورة رحمن کے مکی یا مدنی ہونے میں اختلاف ہے، امام قرطبی نے چند روایات حدیث کی وجہ سے مکی ہونے کو ترجیح دی ہے، ترمذی میں حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کچھ لوگوں کے سامنے سورة رحمن پوری تلاوت فرمائی، یہ لوگ سن کر خاموش رہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے لیلتہ الجن میں جنات کے سامنے یہ سورت تلاوت کی تو اثر قبول کرنے کے اعتبار سے وہ تم سے بہتر رہے، کیونکہ جب میں قرآن کے اس جملے پر پہنچتا تھا (فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ) تو جنات سب کے سب بول اٹھتے تھے (لا بشی من نعمک ربنا نکذب فلک الحمد) " یعنی اے ہمارے پروردگار ! ہم آپ کی کسی بھی نعمت کی تکذیب و ناشکری نہ کریں گے، آپ ہی کے لئے حمد ہے " اس حدیث سے معلوم ہوا کہ یہ سورت مکی ہے، کیونکہ لیلتہ الجن وہ رات جس میں آنحضرت ﷺ نے جناب کو تبلیغ وتعلیم فرمائی مکہ مکرمہ میں ہوئی ہے۔
اسی طرح کی اور بھی چند روایات قرطبی نے نقل کی ہیں جن سے اس سورت کا مکی ہونا معلوم ہوتا ہے اس سورت کو لفظ رحمن سے شروع کیا گیا اس میں ایک مصلحت یہ بھی ہے کہ کفار مکہ اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے رحمن سے واقف نہ تھے، اسی لئے کہتے تھے وما الرحمن کہ رحمن کیا چیز ہے، ان لوگوں کو واقف کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے یہاں رحمن کا انتخاب کیا گیا۔
دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ آگے جو کام رحمن کا ذکر کیا گیا ہے، یعنی تعلیم قرآن، اس میں یہ بھی بتلا دیا گیا کہ اس تعلیم قرآن کا مقتضی اور سبب داعی صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، ورنہ اس کے ذمہ کوئی کام واجب و ضروری نہیں، جس کا اس سے سوال کیا جاسکے اور نہ وہ کسی کا محتاج ہے۔
Ayah 55:2آگے پوری سورت میں حق تعالیٰ کی دنیوی اور دینی نعمتوں کا ذکر مسلسل ہوا ہے، عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں جو سب سے بڑی نعمت ہے اس کے ذکر سے ابتداء کی گئی اور سب سے بڑی نعمت قرآن ہے کیونکہ قرآن کریم انسان کے معاش اور معاد، دین اور دنیا دونوں کو خیرات و برکات کا جامع ہے، جنہوں نے قرآن کو لیا اور اس کا حق ادا کیا، جیسے صحابہ کرام حق تعالیٰ نے ان کو آخرت کے درجات اور نعمتوں سے تو سرفراز فرمایا ہی ہے دنیا میں بھی وہ درجہ اور مقام عطا فرمایا جو بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں۔
قاعدے کے مطابق لفظ علم کے دو مفعول ہوتے ہیں، ایک وہ علم جو سکھایا جائے، دوسرے وہ شخص جس کو سکھایا جائے، یہاں آیت میں وہ چیز تو بتلا دی گئی جو سکھائی گئی ہے، یعنی قرآن، دوسرا مفعول یعنی قرآن جس کو سکھایا گیا اس کا ذکر نہیں کیا، بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ بلاواسطہ حق تعالیٰ نے جن کو تعلیم دی، یعنی رسول اللہ ﷺ وہی مراد ہیں، پھر آپ کے واسطے سے ساری مخلوقات اس میں داخل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تنزیل قرآن کا مقصد ساری ہی خلق خدا کو راہ ہدایت دکھانا اور سب ہی کو اخلاق و اعمال صالحہ کا سکھانا ہے، اس لئے کسی خاص مفعول کی تخصیص نہیں کی گئی، دوسرا مفعول ذکر نہ کرنے سے اشارہ اسی عموم کی طرف ہے۔
Ayahs 55:3–4خَلَقَ الْاِنْسَانَ ، عَلَّمَهُ الْبَيَانَ ، انسان کی تخلیق خود حق تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہے، اور ترتیب طبعی کے اعتبار سے وہی سب سے مقدم ہے، یہاں تک کہ تعلیم قرآن جس کو پہلے ذکر کیا گیا ہے وہ بھی ظاہر ہے کہ تخلیق کے بعد ہی ہو سکتی ہے، مگر قرآن حکیم نے نعمت تعلیم قرآن کو مقدم اور تخلیق انسان کو موخر کر کے اس طرف اشارہ کردیا کہ تخلیق انسان کا اصل مقصد ہی تعلیم قرآن اور اس کے بتائے ہوئے راستہ پر چلنا ہے، جیسا کہ دوسری آیت میں ارشاد ہے، وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ " یعنی میں نے جن وانس کو صرف اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کیا کریں " اور ظاہر ہے کہ عبادت بغیر تعلیم الٰہی کے نہیں ہو سکتی، اسی کا ذریعہ قرآن ہے، اس لئے اس حیثیت میں تعلیم قرآن تخلیق انسان سے مقدم ہوگئی۔
تخلیق انسان کے بعد جو نعمتیں انسان کو عطا ہوئیں وہ بیشمار ہیں، ان میں خاص طور پر تعلیم بیان کو یہاں ذکر فرمانے کی حکمت یہ معلوم ہوتی ہے کہ جن نعمتوں کا تعلق انسان کے نشوونما اور وجود و بقا سے ہے مثلاً کھانا پینا، سردی گرمی سے بچنے کے سامان، رہنے بسنے کا انتظام وغیرہ ان نعمتوں میں تو ہر جان دار انسان اور حیوان شریک ہے، وہ نعمتیں جو انسان کے ساتھ مخصوص ہیں ان میں سے پہلے تو تعلیم قرآن کا ذکر فرمایا اس کے بعد تعلیم بیان کا، کیونکہ تعلیم قرآن کا افادہ استفادہ بیان پر موقوف ہے۔
اور بیان میں زبانی بیان بھی داخل ہے، تحریر و خط اور افہام و تفہیم کے جتنے ذرائع حق تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں وہ بیان کے مفہوم میں شامل ہیں اور پھر مختلف خطوں، مختلف قوموں کی مختلف زبانیں اور ان کے محاورات سب اسی تعلیم بیان کے اجزاء ہیں جو وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَاۗءَ كُلَّهَا کی عملی تفسیر ہے، فتبرک اللہ احسن الخلقین۔
Ayah 55:5اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْـبَانٍ ، انسان کے لئے حق تعالیٰ نے جو نعمتیں زمین و آسمان میں پیدا فرمائی ہیں اس آیت میں علویات میں سے شمس و قمر کا ذکر خصوصیت سے شاید اس لئے کیا ہے کہ عالم دنیا کا سارا نظام کار ان دونوں سیاروں کی حرکات اور ان کی شعاعوں سے وابستہ ہے اور لفظ حسبان بضم الحاء بعض حضرات نے فرمایا کہ حساب کے معنے میں مصدر ہے، جیسے غفران، سبحان، قرآن، اور بعض نے فرمایا کہ حساب کی جمع ہے اور مراد آیت کی یہ ہے کہ شمس و قمر کی حرکات جن پر انسانی زندگی کے تمام کاروبار موقوف ہیں، رات دن کا اختلاف، موسموں کی تبدیلی، سال اور مہینوں کی تعیین، ان کی تمام حرکات اور دوروں کا نظام محکم ایک خاص حساب اور اندازے کے مطابق چل رہا ہے، اور اگر حسبان کو حساب کی جمع قرار دیا جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ ان میں سے ہر ایک کے دورہ کا الگ الگ حساب ہے، مختلف قسم کے حسابوں پر یہ نظام شمسی اور قمری چل رہا ہے اور حساب بھی ایسا محکم و مضبوط کہ لاکھوں سال سے اس میں ایک منٹ، ایک سیکنڈ کا فرق نہیں آیا۔
یہ زمانہ سائنس کی معراج کا زمانہ کہا جاتا ہے اور اس کی حیرت انگیز نئی نئی ایجادوں نے عقلاء کو حیران کر رکھا ہے، لیکن انسانی مصنوعات اور ربانی تخلیقات کا کھلا ہوا فرق ہر دیکھنے والا دیکھتا ہے کہ انسانی مصنوعات میں بگاڑ اور سنوار کا سلسلہ ایک لازمی امر ہے، مشین کوئی کتنی ہی مضبوط و مستحکم ہو کچھ عرصہ کے بعد اس کو مرمت کی اور کم ازکم گریس وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت تک کے لئے وہ مشین معطل رہتی ہے، حق تعالیٰ کی جاری کی ہوئی یہ عظیم الشان مخلوقات نہ کبھی مرمت کی محتاج ہے نہ کبھی ان کی رفتار میں کوئی فرق آتا ہے۔
Ayah 55:6وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدٰنِ ، نجم اس درخت کو کہا جاتا ہے جس کی بیل پھیلتی ہے تنا نہیں ہوتا اور شجر تنہ دار درخت کو کہتے ہیں، یعنی ہر قسم کے درخت خواہ بیل والے ہوں یا تنے اور شاخوں والے سب کے سب اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں، سجدہ کرنا چونکہ انتہائی تعظیم اور اطاعت کی علامت ہے، اس سے مراد یہاں یہ ہے کہ ہر ایک درخت، پودے اور بیل اور اس کے پتوں اور پھلوں اور پھولوں کو حق تعالیٰ نے جن خاص خاص کاموں اور انسان کے فوائد کے لئے بنایا ہے اور گویا ہر ایک کی ایک ڈیوٹی مقرر کردی ہے کہ وہ فلاں کام کیا کرے، ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی ڈیوٹی پر لگا ہوا ہے اور حکم ربانی کے تابع، اس میں رکھے ہوئے فوائد اور خواص سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے، اسی تکوینی اور جبری اطاعت حق کو اس آیت میں سجدہ سے تعبیر کیا گیا ہے (روح، مظہری)
Ayah 55:7وَالسَّمَاۗءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ الْمِيْزَانَ ، رفع اور وضع دو متقابل لفظ ہیں، رفع کے معنی اونچا اور بلند کرنے کے ہیں اور وضع کے معنی نیچے رکھنے اور پست کرنے کے آتے ہیں، اس آیت میں اول آسمان کو بلند کرنے اور رفعت دینے کا ذکر ہے، جس میں ظاہری بلندی بھی داخل ہے اور معنوی یعنی درجہ اور رتبہ کی بلندی بھی کہ آسمان کا درجہ زمین کی نسبت بالا و برتر ہے، آسمان کا مقابل زمین سمجھی جاتی ہے اور پورے قرآن میں اسی تقابل کے ساتھ آسمان و زمین کا ذکر کیا گیا ہے اس آیت میں رفع سماء کا ذکر کرنے کے بعد وضع میزان کا ذکر کیا گیا ہے جو آسمان سے تقابل میں نہیں آتا، غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی درحقیقت آسمان کے تقابل میں زمین کو لایا گیا ہے جیسا کہ تین آیتوں کے بعد (وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ) آیا ہے، تو دراصل تقابل رفع سماء اور وضع ارض ہی کا ہے، مگر ان دونوں کے درمیان ایک تیسری چیز یعنی وضع میزان کا ذکر کسی خاص حکمت سے کیا گیا ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکمت اس میں یہ ہے کہ وضع میزان اور پھر اس کے بعد میزان کے صحیح صحیح استعمال کا حکم جو بعد کی تین آیتوں میں آیا ہے اس سب کا خلاصہ عدل و انصاف کا قائم کرنا ہے اور کسی کی حق تلفی اور ظلم وجور سے بچانا ہے، یہاں رفع سماء اور وضع ارض کے درمیان آیات میزان کے ذکر میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ آسمان و زمین کی تخلیق کی اصلی غایت و مقصود بھی عالم میں عدل و انصاف کا قیام ہے اور زمین میں امن وامان بھی عدل و انصاف ہی کے ساتھ قائم رہ سکتا ہے، ورنہ فساد ہی فساد ہوگا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
لفظ میزان کی تفسیر اس آیت میں حضرت قتادہ، مجاہد، سدی وغیرہ نے عدل سے کی ہے، کیونکہ میزان کا اصل مقصد عدل ہی ہے اور بعض حضرات مفسرین نے یہاں میزان کو اپنے معروف معنی میں لیا ہے اور حاصل اس کا بھی وہی ہے کہ حقوق میں عدل و انصاف سے کام لیا جائے اور میزان کے معنی میں ہر وہ آلہ داخل ہے جس سے کسی چیز کی مقدار معین کی جائے، خواہ وہ دو پلے والی ترازو ہو یا کوئی جدید آلہ پیمائش۔
Ayah 55:8اَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيْزَانِ ، پہلی آیت میں جو میزان پیدا کرنے کا ذکر تھا اس جملے میں اس کے مقصد کو واضح کیا گیا ہے، تطغوا، طغیان سے مشتق ہے، جس کے معنی بےانصافی اور ظلم کے ہیں، مراد یہ ہے کہ میزان کو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنایا کہ تم وزن میں کمی بیشی کر کے ظلم و جور میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔
Ayah 55:9وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ بالْقِسْطِ ، قسط کے لفظی معنی انصاف کے ہیں، مراد ظاہر ہے کہ وزن کو ٹھیک ٹھیک قائم کرو انصاف کے ساتھ۔ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيْزَانَ ، خسر کے معنی وزن میں کمی کرنے کے ہیں، جو بات پہلے جملے وَاَقِيْمُوا الْوَزْنَ میں مثبت انداز سے بیان کی گئی ہے، یہ اسی کا منفی پہلو ہے کہ وزن میں کم تولنا حرام ہے۔
Ayah 55:10وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ ، انام بالفتح بروزن سحاب، ہر جاندار کو کہا جاتا ہے جو زمین پر رہتا چلتا ہے، (قاموس) بیضاوی نے ہر ذی روح اس کا ترجمہ کیا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں انام سے مراد انسان اور جنات ہیں، کیونکہ کل ذی روح ارواح میں سے یہی دونوں احکام شرعیہ کے مکلف اور مامور ہیں اور اس سورت میں بار بار انہی دونوں کو خطاب بھی کیا گیا ہے، جیسا کہ فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ میں یہی دونوں جن وانس مخاطب ہیں۔
Ayah 55:11فِيْهَا فَاكِهَةٌ، فاکہہ ہر ایسے میوے اور پھل کو کہا جاتا ہے جو عادةً غذا کے بعد تفریحاً کھایا جاتا ہے۔ وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَكْمَامِ ، اکمام، کم بالکسر کی جمع ہے جس کے معنی اس غلاف کے ہیں جو کھجور وغیرہ کے پھلوں پر ابتداء میں چڑھا ہوتا ہے۔
Ayah 55:12وَالْحَبُّ ذو الْعَصْفِ ، لفظ حب بفتح حاء و تشدید باء دانے یعنی غلے کو کہا جاتا ہے، جیسے گندم، چنا، چاول، ماش، مسور وغیرہ اور عصف اس بھوسے کو کہتے ہیں جس کے اندر پیک کیا ہوا دانہ بقدرت خداوندی و حکمت بالغہ پیدا کیا جاتا ہے، عصف یعنی بھوسے کے غلاف میں پیک ہو کر خراب ہواؤں اور مکھی مچھر وغیرہ سے پاک و صاف رہتا ہے، دانے کی پیدائش کے ساتھ ذو الْعَصْفِ کا لفظ بڑھا کر غافل انسان کو اس طرف بھی متوجہ کیا گیا ہے کہ یہ روٹی، دال وغیرہ جو وہ دن میں کئی کئی مرتبہ کھاتا ہے اس کا ایک ایک دانہ مالک و خالق نے کیسی کیسی صنعت عجیبہ کے ساتھ مٹی اور پانی سے پیدا کیا اور پھر کس طرح اس کو حشرات الارض سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک ایک دانہ پر غلاف چڑھایا، جب وہ تمہارا لقمہ تر بنا، اس کے ساتھ شاید عصف کو ذکر کرنے سے ایک دوسری نعمت کی طرف بھی اشارہ ہو کہ یہ عصف (بھوسہ) تمہارے مویشی کی غذا بنتا ہے، جن کا تم دودھ پیتے ہو اور سواری و بار برداری کی خدمت ان سے لیتے ہو۔
وَالرَّيْحَانُ ، ریحان کے مشہور معنی خوشبو کے ہیں اور ابن زید نے یہی معنی آیت میں مراد لئے ہیں کہ اس نے زمین سے پیدا ہونے والے درختوں سے طرح طرح کی خوشبوئیں اور خوشبو دار پھول پیدا فرمائے اور کبھی لفظ ریحان بمعنی مغز اور رزق بھی استعمال کیا جاتا ہے، خرجت اطلب ریحان اللہ، ”یعنی میں نکلا اللہ کا رزق تلاش کرنے کے لئے“ حضرت ابن عباس نے اس آیت میں ریحان کی تفسیر رزق ہی سے کی ہے۔
Ayah 55:13فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ ، لفظ آلاء جمع ہے نعمتوں کے معنے میں اور مخاطب اس کا انسان اور جن ہیں، جس کا قرینہ سورة رحمن کی متعدد آیتوں میں جنات کا ذکر ہے۔
Ayah 55:14خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ، انسان سے مراد اس جگہ باتفاق آدم ؑ ہیں، جن کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے، صلصال پانی میں ملی ہوئی مٹی جبکہ وہ خشک ہوجائے اور فخار وہ پانی میں ملاتی ہوئی مٹی جس کو آگ پر پکا لیا جائے۔
Ayahs 55:15–16وَخَلَقَ الْجَاۗنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ ، جان، بتشدید نون، جنس جنات کو کہا جاتا ہے اور مارج آگ سے اٹھنے والا شعلہ ہے، جنات کی تخلیق کا بڑا عنصر آگ کا شعلہ ہے، جیسا کہ انسان کی تخلیق میں بڑا جز مٹی ہے۔
Ayahs 55:17–18رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ، سردی اور گرمی میں آفتاب کا مطلع بدلتا ہے، اس لئے سردی کے زمانے میں مشرق یعنی آفتاب کے نکلنے کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی کے زمانے میں دوسری، انہی دونوں جگہوں کو آیت میں مشرقین سے تعبیر فرمایا ہے، اسی طرح اس کے بالمقابل مغربین فرمایا کہ سردی میں غروب آفتاب کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی میں دوسری۔
Ayahs 55:19–21مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ، مرج کے لغوی معنی آزاد و بےقید چھوڑ دینے کے ہیں اور بحرین سے دو دریا شیریں اور نمکین مراد ہیں، زمین پر حق تعالیٰ نے دونوں قسم کے دریا پیدا فرمائے ہیں اور بعض جگہ یہ دونوں مل جاتے ہیں جس کی نظائر دنیا کے ہر خطے میں پائی جاتی ہیں مگر جہاں دو دریا شیریں اور نمکین مل کر بہتے ہیں وہاں کافی دور تک دونوں کا پانی الگ الگ ممتاز رہتا ہے، ایک طرف میٹھا دوسری طرف کھارا اور بعض جگہ یہ صورت اوپر نیچے بھی ہوتی ہے جہاں دریائے شور کسی شیریں دریا کے اوپر چڑھ آتا ہے وہاں بھی نیچے کا پانی اپنی جگہ شیریں ہوتا ہے اور اوپر کا نمکین اور کھاری، پانی باوجود رقیق اور لطیف ہونے کے ایک مسافت تک ایک دوسرے میں خلط ملط نہیں ہوتا، الگ الگ اپنے ذائقہ کے ساتھ چلتا ہے، اسی قدرت حق تعالیٰ کے بیان کے لئے فرمایا مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ ، یعنی دونوں دریا ملتے ہیں، مگر ان کے درمیان قدرت خداوندی کا ایک پردہ حائل رہتا ہے جو دور تک آپس میں ان کو ملنے نہیں دیتا۔
Ayahs 55:22–23يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ، لولو کے معنی موتی اور مر جان کے معنی مونگا، یہ بھی قیمتی جواہرات سے ہے، اس میں درخت کے مشابہ شاخیں ہوتی ہے، یہ دونوں چیزیں دریا سے نکلتی ہیں مگر معروف یہ ہے کہ موتی اور جواہرات دریائے شور سے نکلتے ہیں، شیریں دریا سے نہیں، اس آیت میں دونوں سے نکلنا بیان فرمایا ہے، اس کی توجیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ موتی دونوں ہی دریاؤں میں پیدا ہوتے مگر شیریں دریا سب جاری ہوتے ہیں ان سے موتی کا نکالنا آسان نہیں اور شیریں دریا سب جا کر دیائے شور میں گر جاتے ہیں، وہیں سے موتی نکالے جاتے ہیں، اس لئے موتیوں کا منبع دریائے شور کو کہا جاتا ہے۔
Ayahs 55:24–25وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٰٔتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ ، جواری، جاریہ کی جمع ہے، اس کے ایک معنی کشتی کے بھی آتے ہیں وہی یہاں مراد ہیں، منشئت، نشاء سے مشتق ہے جس کے معنی ابھرنے اور بلند ہونے کے ہیں، مراد کشتیوں کے بادبان ہیں جو جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں، اس میں کشتی کی صنعت اور اس کے پانی کے اوپر چلنے کی حکمت کا بیان ہے۔
Ayah 55:26خلاصہ تفسیر
(جتنی نعمتیں تم لوگوں نے سنی ہیں تم کو توحید و اطاعت سے ان کا شکر ادا کرنا چاہئے اور کفر معصیت سے ناشکری نہ کرنا چاہئے کیونکہ اس عالم کے فنا کے بعد ایک دوسرا عالم آنے والا ہے، جہاں ایمان و کفر پر جزا و سزا واقع ہوگی، جس کا بیان آیات آئندہ کے ضمن میں ہے، پس ارشاد ہے کہ) جتنے (جن و انس) روئے زمین پر موجود ہیں سب فنا ہوجائیں گے اور (صرف) آپ کے پروردگار کی ذات جو کہ عظمت (والی) اور (باوجود عظمت کے) احسان والی ہے باقی رہ جاوے گی (چونکہ مقصود تنبیہ کرنا ثقلین یعنی جن و انس کو ہے اور وہ سب زمین پر ہیں، اس لئے فنا میں اہل ارض کا ذکر کیا گیا، اس تخصیص ذکری سے دوسری چیزوں کی فنا کی نفی لازم نہیں آتی اور اس جگہ اللہ تعالیٰ کی دو صفتیں عظمت و احسان اس لئے ذکر کی گئیں کہ ایک صفت ذاتی دوسری اضافی ہے، حاصل اس کا یہ ہے کہ اکثر اہل عظمت دوسروں کے حل پر توجہ نہیں کیا کرتے، مگر حق تعالیٰ باوجود اس عظمت کے وہ اپنے بندوں پر رحمت و فضل فرماتے ہیں اور چونکہ یہ فناء عالم اور اس کے بعد جزا وسزا کی خبر دینا انسان کو دولت ایمان بخشتا ہے، اس لئے یہ مجموعہ بھی ایک بڑی نعمت ہے اس لئے فرمایا) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کونسی نعمتوں کی منکر ہوجاؤ گے (آگے ایک خاص طور پر اس کی عظمت و اکرام کے متعلق مضمون ہے یعنی وہ ایسا باعظمت ہے کہ) اسی سے (اپنی اپنی حاجتیں) سب آسمان و زمین والے مانگتے ہیں (زمین والوں کی حاجتیں تو ظاہر ہیں اور آسمان والے گو کھانے پینے کے محتاج نہ ہوں، لیکن رحمت و عنایت کے تو سب محتاج ہیں، آگے اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کو ایک دوسرے عنوان سے بیان کیا گیا ہے) وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں رہتا ہے (یہ مطلب نہیں کہ صدور افعال اس کے لوازم ذات سے ہے، ورنہ قدیم ہونا حادث کا لازم آئے گا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جتنے تصرفات عالم میں واقع ہو رہے ہیں وہ اسی کے تصرفات ہیں، جن میں اس کے انعامات و احسانات بھی داخل ہیں، جیسے ایجاد و ابقاء جو رحمت عامہ ہے اور اعطاء رزق و اولاد جو سب دنیوی رحمتیں ہیں اور ہدایت و اعطاء علم و توفیق عمل جو دینی رحمتیں ہیں پس باوجود عظمت کے ایسا اکرام و احسان فرمانا یہ بھی ایک نعمت عظیمہ ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہ مضمون جلال و اکرام کا بقا خالق کے متعلق فرما کر آگے پھر فنا خلق کے متعلق ارشاد ہے کہ تم لوگ یہ نہ سمجھنا کہ پھر وہ فنا مستمر رہے گی اور عذاب وثواب نہ ہوگا، بلکہ ہم تم کو دوبارہ زندہ کریں گے اور جزا وسزا دیں گے اسی کو اس طرح فرماتے ہیں کہ) اے جن و انس ہم عنقریب تمہارے (حساب و کتاب کے) لئے خالی ہوئے جاتے ہیں (یعنی حساب و کتاب لینے والے ہیں، مجازاً و مبالغۃً اس کو خالی ہونے سے تعبیر فرما دیا اور مبالغہ اس طرح ہے کہ انسان جب سب کاموں سے خالی ہو کر کسی طرف متوجہ ہوتا ہے تو پوری توجہ سمجھی جاتی ہے، انسانی فہم کے مطابق یہ عنوان اختیار کیا گیا، ورنہ حق تعالیٰ کی اصل شان یہ ہے کہ اس کو ایک مشغولیت کسی دوسری مشغولیت سے مانع نہیں ہوتی اور اس کی جس طرف جس وقت توجہ ہوتی ہے تام اور کامل ہی ہوتی ہے، وہاں ناقص توجہ کا احتمال ہی نہیں اور مثل سابق آگے ارشاد ہے کہ یہ حساب کتاب کی خبر دینا بھی ایک نعمت عظمیٰ ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (آگے تاکید وقوع حساب کے لئے یہ بتلاتے ہیں کہ اس وقت یہ بھی احتمال نہیں کہ کوئی کہیں بچ کر نکل جائے چناچہ ارشاد ہے کہ) اے گروہ جن اور انسانوں کے اگر تم کو یہ قدرت ہے کہ آسمان اور زمین کی حدود سے کہیں باہر نکل جاؤ تو (ہم بھی دیکھیں) نکلو (مگر) بدون زور کے نہیں نکل سکتے (اور زور ہے نہیں، پس نکلنے کا وقوع بھی ممکن نہیں اور یہی حالت بعینہ قیامت میں ہوگی بلکہ وہاں تو یہاں سے بھی زیادہ عجز ہوگا، غرض بھاگ نکلنے کا احتمال نہ رہا اور یہ بات بتلا دینا بھی موجب ہدایت و نعمت عظمیٰ ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (آگے بوقت عذاب انسان کے عجز کا ذکر فرماتے ہیں، جیسا اوپر حساب کے وقت اس کے عاجز ہونے کا ذکر تھا، یعنی اے جن و انس کے مجرمو !) تم دونوں پر (قیامت کے روز) آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑا جائے گا پھر تم (اس کو) ہٹا نہ سکو گے (یہ شعلہ اور دھواں غالباً وہ ہے جن کا ذکر سورة والمرسلٰت میں ہے اِنْـطَلِقُوْٓا اِلٰى ظِلٍّ ذِيْ ثَلٰثِ شُعَبٍ الیٰ قولہ اِنَّهَا تَرْمِيْ بِشَرَرٍ۔ فالظل ھود خان والشرر ھو الشواظ، واللہ اعلم، اور اس کا بتلانا بھی وجہ ذریعہ ہدایت ہونے کے ایک نعمت عظمیٰ ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے غرض (جب ہمارا حساب لینا اور تمہارا حساب و عقاب کے وقت عاجز ہونا معلوم ہوگیا تو اس سے قیامت کے روز حساب و عقاب کا وقوع ثابت ہوگیا، جس کا بیان یہ ہے کہ) جب (قیامت آوے گی جس میں) آسمان پھٹ جاوے گا اور ایسا سرخ ہوجاوے گا جیسے سرخ نری (یعنی چمڑا، شاید یہ رنگ اس لئے ہو کہ علامت غضب کی ہے کہ غضب میں چہرہ سرخ ہوجاتا ہے اور یہ آسمان کا پھٹنا وہ ہے جو شروع پارہ وَقَالَ الَّذِيْنَ لَا يَرْجُوْنَ میں آیا ہے، فی قولہ تعالیٰ وَيَوْمَ تَشَقَّقُ الخ اور یہ خبر دینا بھی نعمت ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہ تو حساب کا وقوع اور اس کا وقت بتلایا گیا آگے کیفیت حساب و طریق فیصلہ ارشاد فرماتے ہیں یعنی جس روز یہ واقعات ارسال شواظ و نحاس و انشقاق سماء وغیرہ ہوں گے) تو اس روز (اللہ تعالیٰ کے معلوم کرنے کے لئے) کسی انسان اور جن سے اس کے جرم کے متعلق نہ پوچھا جائے گا (کیونکہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے یعنی حساب اس غرض سے نہ ہوگا بلکہ خود ان کو معلوم کرانے اور جتلانے کے لئے سوال اور حساب ہوگا لقولہ تعالیٰ فَوَرَبِّكَ لَنَسْــَٔـلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ اور یہ خبر دینا بھی ایک نعمت ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہ تو حساب کی کیفیت ہوئی کہ بطور تحقیق نہ ہوگا بلکہ بطور توبیخ ہوگا، آگے یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو تو تعیین جرائم و مجرمین کی معلوم ہے، اس لئے تحقیق کی ضرورت نہ ہوگی لیکن فرشتوں کو مجرمین کی تعیین کیسے ہوگی، پس ارشاد فرماتے ہیں کہ) مجرم لوگ اپنے حلیہ سے (کہ چہرہ کی سیاہی اور آنکھوں کا نیلگوں ہونا ہے، کقولہ تعالیٰ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ۔ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًا) پہچانے جاویں گے سو (ان کے) سر کے بال اور پاؤں پکڑ لئے جاویں گے (اور ان کو گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جاوے گا، یعنی کسی کا سر کسی کی ٹانگ حسب اعمال یا کبھی سر کبھی ٹانگ بغرض اجتماع انواع عذاب و نکال اور یہ خبر دینا بھی ایک نعمت ہے) سوائے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (آگے مزید عذاب بتلاتے ہیں) یہ ہے وہ جہنم جس کو مجرم لوگ (یعنی تم) جھٹلاتے تھے وہ لوگ دوزخ کے اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکر لگاتے ہوں گے (یعنی کبھی آگ کا عذاب ہوگا کبھی کھولتے ہوئے پانی کا جس کی تحقیق سورة مومن رکوع ہشتم میں گزر چکی ہے اور یہ خبر دینا بھی نعمت ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے۔
معارف و مسائل
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ، ښوَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ۔ علیہا کی ضمیر ارض کی طرف راجع ہے، جس کا ذکر پہلے آ چکا ہے (وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ) اس کے علاوہ زمین ان عام اشیاء میں سے ہے جس کی طرف ضمیر راجع کرنے کے لئے پہلے مرجع کا ذکر لازم نہیں ہے، معنی اس کے یہ ہوئے کہ جو جنات اور انسان زمین پر ہیں سب فنا ہونے والے ہیں، اس میں جن و انس کے ذکر کی تحضیص اس لئے کی گئی ہے کہ اس سورت میں مخاطب یہی دونوں ہیں، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آسمان اور آسمان والی مخلوقات فانی نہیں ہیں کیونکہ دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے عام لفظوں میں پوری مخلوقات کا فانی ہونا بھی واضح فرما دیا ہے كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ۔
Ayahs 55:27–28وَجْهُ رَبِّكَ ، وجہ سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک ذات حق سبحانہ و تعالیٰ ہے اور ربک میں ضمیر خطاب رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے، یہ حضرت سید الانبیاء ﷺ کا خاص اعزازو اکرام ہے کہ آپ کو خاص مقام مدح میں کہیں تو عبدہ کا خطاب ہوا ہے اور کہیں رب الارباب نے اپنی ذات کی نسبت حضور کی طرف کر کے ربک سے خطاب فرمایا ہے۔
مشہور تفسیر کے مطابق معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہے جن میں جن و انس بھی داخل ہیں سب کے سب فانی ہیں، باقی رہنے والی ایک ہی ذات حق جل و علا شانہ کی ہے۔
فانی ہونے سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ سب چیزیں اس وقت بھی اپنی ذات میں فانی ہیں، ان میں دوام وبقاء کی صلاحیت نہیں اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ قیامت کے روز یہ سب چیزیں فنا ہوجائیں گی۔
اور بعض حضرات مفسرین نے وَجْهُ رَبِّكَ کی تفسیر جہت اور سمت سے کی ہے، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوجائیں گے کہ کل موجودات میں بقا صرف اس چیز کو ہے جو اللہ تعالیٰ کی جانب میں ہے اس میں اس کی ذات وصفات بھی داخل ہیں اور مخلوقات کے اعمال و احوال میں جس چیز کا تعلق حق تعالیٰ کے ساتھ ہے وہ بھی شامل ہے، جس کا حاصل یہ ہوگا کہ انسان اور جن اور فرشتے جو کام اللہ کے لئے کرتے ہیں وہ کام بھی باقی ہے وہ فنا نہیں ہوگا (کذا فی المظہری والقرطبی والروح) اور اس مفہوم کی تائید قرآن مجید کی ایک آیت سے بھی ہوتی ہے مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ " یعنی جو کچھ تمہارے پاس ہے مال و دولت ہو یا قوت و طاقت یا راحت و کلفت یا کسی کی محبت و عداوت یہ سب چیزیں فنا ہونے والی ہیں اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے " اللہ کے پاس انسان کے اعمال و احوال میں سے وہ چیز ہے جس کا تعلق حق تعالیٰ سے ہے کہ اس کو فنا نہیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ، یعنی وہ رب صاحب عظمت و جلال بھی ہے اور صاحب اکرام بھی، صاحب اکرام ہونے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ در حقیقت ہر اکرام و اعزاز کا مستحق تنہا وہی ہے اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ خود صاحب عظمت و جلال ہونے کے باوجود عام دنیا کے بادشاہوں اور عظمت والوں کی طرح نہیں کہ ان کو دوسروں کی اور غریبوں کی طرف التفات و توجہ نہ ہو، بلکہ وہ عظمت و جلال کے ساتھ اپنی مخلوقات کا بھی اکرام کرتا ہے، کہ ان کو عطاء وجود کے بعد طرح طرح کی بیشمار نعمتوں سے نوازتا ہے اور ان کی درخواستیں اور دعائیں سنتا ہے، اگلی آیت اسی دوسرے معنی کی شہادت دیتی ہے اور یہ لفظ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ حق تعالیٰ کی ان خاص صفات میں سے ہے کہ ان کو ذکر کر کے انسان جو دعا مانگتا ہے قبول ہوتی ہے، ترمذی، نسائی اور مسند احمد میں ربیعہ بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا الظوا بیا ذا الجلال والاکرام، الظوا، الظاظ سے مشتق ہے، جس کے معنی لازم پکڑنے کے ہیں، مراد حدیث کی یہ ہے کہ اپنی دعاؤں میں یا ذا الجلال والا کرام کو یاد رکھو اور اس کے ساتھ دعا کیا کرو (کیونکہ وہ اقرب الی القبول ہے (مظہری)
Ayahs 55:29–30يَسْـَٔـلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ ، " یعنی زمین و آسمان کی ساری مخلوقات حق تعالیٰ کی محتاج ہیں اور اسی سے اپنی حاجات مانگتی ہیں، زمین والے اپنے مناسب حاجات رزق اور صحت و عافیت اور آرام و راحت پھر آخرت کی مغفرت و راحت اور جنت مانگتے ہیں، آسمان والے اگرچہ کھاتے پیتے نہیں، مگر اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کے ہر وقت محتاج ہیں، وہ بھی رحمت و مغفرت وغیرہ اپنی حاجات کے طلب گار رہتے ہیں، آگے كُلَّ يَوْمٍ اسی يَسْـَٔـلُ کا ظرف ہے، یعنی ان کے سوالات اور درخواستیں حق تعالیٰ سے ہر روز رہتی ہیں اور یوم اور روز سے مراد بھی عرفی دن نہیں، بلکہ مطلقاً وقت مراد ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ ساری مخلوقات مختلف خطوں، مختلف زبانوں میں اس سے اپنی اپنی حاجات ہر وقت مانگتی رہتی ہیں اور یہ ظاہر ہے کہ پوری مخلوقات ارضی و سمائی اور ان کے ایک ایک فرد کی بیشمار حاجتیں اور وہ بھی ہر گھڑی ہر آن سوائے اس عظمت و جلال والے قادر مطلق کے کون سن سکتا ہے اور کون ان کو پورا کرسکتا ہے، اسی لئے كُلَّ يَوْمٍ کے ساتھ یہ بھی فرمایا هُوَ فِيْ شَاْنٍ یعنی ہر وقت ہر لحظہ حق تعالیٰ کی ایک خاص شان ہوتی ہے وہ کسی کو زندہ کرتا ہے، کسی کو موت دیتا ہے، کسی کو عزت دیتا ہے کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی تندرست کو بیمار اور کسی بیمار کو تندرست کرتا ہے، کسی مصیبت زدہ کو مصیبت سے نجات دیتا ہے کسی غم زدہ رونے والے کو ہنسا دیتا ہے، کسی سائل کو اس کی مانگی ہوئی چیز عطا کردیتا ہے، کسی کا گناہ معاف کر کے جنت میں داخل ہونے کا مستحق بنا دیتا ہے، کسی قوم کو بلندو صاحب اقتدار بنا دیتا ہے کسی قوم کو پست و ذلیل کردیتا ہے، غرض ہر آن ہر لمحہ حق تعالیٰ جل شانہ کی ایک خاص شان ہوتی ہے۔
Ayahs 55:31–32سَنَفْرُغُ لَكُمْ اَيُّهَا الثَّقَلٰنِ ، ثقلان ثقل کا تثنیہ ہے جس کے معنی وزن اور بوجھ کے ہیں، ثقلان دو بوجھ، مراد اس سے انسان اور جنات ہیں، لفظ ثقل عربی زبان میں ہر ایسی چیز کے لئے بولا جاتا ہے جس کا وزن اور قدر و قیمت معروف ہو، اسی لئے حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے، انی تارک فیکم الثقلین الخ یعنی میں اپنے بعد دو وزن دار قابل قدر چیزیں چھوڑتا ہوں، جو تمہاری ہدایت و اصلاح کا کام دیتی رہیں گی، ان دونوں چیزوں کا بیان بعض روایات میں کتاب اللہ و عترتی آیا ہے، بعض میں کتاب اللہ و سنتی اور حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کیونکہ عترت سے مراد اپنی اولاد ہے جس میں نسبی اور روحانی دونوں قسم کی اولاد شامل ہے، اس لئے مراد سب صحابہ کرام ہوئے اور معنی حدیث کے یہ ہوئے کہ رسول اللہ ﷺ کے بعد دو چیزیں مسلمانوں کی ہدایت و اصلاح کا ذریعہ ہوں گی، ایک اللہ کی کتاب دوسرے آپ کے صحابہ کرام اور معاملات و احکام میں ان کا تعامل اور جس روایت میں عترت کی جگہ سنت آیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات جو صحابہ کرام کے واسطے سے مسلمانوں کو پہنچی ہیں۔
بہر حال اس حدیث میں ثقلین سے مراد دو وزن دار قابل قدر چیزیں ہیں، آیت مذکورہ میں جن وانس کی دونوں نوعوں کو ثقلین اسی مفہوم کے اعتبار سے کہا گیا ہے کہ زمین پر بسنے رہنے والی سب ذی روح چیزوں میں جن وانس سب سے زیادہ وزن دار اور قابل قدر ہیں اور سنفرغ، فراغ سے مشتق ہے، جس کے معنی کسی شغل سے فارغ اور خالی ہونے کے ہیں، فراغ کا مقابل لغت میں شغل ہے اور لفظ فراغ دو چیزوں کی خبر دیتا ہے اول یہ کہ کسی شغل میں مشغول تھا، دوسرے یہ کہ اب اس شغل کو ختم کر کے فارغ ہوگیا، یہ دونوں باتیں مخلوقات میں تو معروف و مشہور ہیں، انسان کبھی ایک شغل میں لگا ہوا ہوتا ہے پھر اس سے فارغ ہوجاتا ہے مگر حق تعالیٰ جل شانہ ان دونوں سے بری ہیں، نہ ان کو ایک شغل دوسرے شغل سے مانع ہوتا ہے نہ وہ کبھی اس طرح فارغ ہوتے ہیں جس طرح انسان فارغ ہوا کرتا ہے۔
اس لئے آیت مذکورہ میں سنفرغ کا لفظ ایک تشبیہ و استعارہ کے طور پر لایا گیا ہے جو عام انسانوں میں رائج ہے کہ کسی کام کی اہمیت بتلانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ ہم اس کام کے لئے فارغ ہوگئے یعنی اب پوری توجہ اسی کام پر ہے اور جو آدمی کسی کام پر اپنی پوری توجہ خرچ کرتا ہے اس کے لئے محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ اس کو تو اس کے سوا کوئی کام نہیں۔
اس سے پہلی آیت میں جو یہ مذکور تھا کہ آسمان و زمین کی ساری مخلوقات اور ان کا ایک ایک فرد حق تعالیٰ سے اپنی حاجات مانگتا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر وقت ہر حال میں ان کی درخواست پورا کرنے کے لحاظ سے ایک خاص شان میں ہوتے ہیں، آیت سنفرغ لکم الخ میں یہ بتلایا گیا ہے کہ قیامت کے روز درخواستوں اور ان کے قبول اور ان پر عمل کا سب سلسلہ بند ہوجائے گا اس وقت کام صرف ایک رہ جائے گا اور شیون مختلفہ میں سے صرف ایک شان ہوگی، یعنی حساب و کتاب اور عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ (روح)
Ayahs 55:33–34يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ اِنِ اسْتَطَعْتُمْ اَنْ تَنْفُذُوْا مِنْ اَقْـطَار السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ فَانْفُذُوْا ۭ لَا تَنْفُذُوْنَ اِلَّا بِسُلْطٰنٍ ، پچھلی آیت میں جن وانس کو بلفظ ثقلین مخاطب کر کے بتلایا گیا تھا کہ قیامت کے روز ایک ہی کام ہوگا کہ سب جن و انس کے اعمال کا جائزہ لیا جائے گا اور اس کے ذرہ ذرہ پر جزاء و سزا ہوگی، اس آیت میں یہ بتلانا منظور ہے کہ روز جزاء کی حاضری اور حساب اعمال سے کوئی شخص راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا، کسی کی مجال نہیں جو موت سے یا روز قیامت کے حساب سے کہیں بھاگ کر بچ نکلے، اس آیت میں ثقلین کے بجائے يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ کے صریح نام ذکر فرمائے اور جن کو انس پر مقدم کیا، شاید اس میں اشارہ اس طرف ہو کہ آسمان و زمین کے اقطار سے پار نکل جانا بڑی قوت وقدرت چاہتا ہے، جنات کو حق تعالیٰ نے ایسے امور کی قوت انسان سے زیادہ بخشی ہے، اس لئے جن کے ذکر کو مقدم کیا گیا، مطلب آیت کا یہ ہے کہ اے جنات اور انسانو ! اگر تمہیں یہ گمان ہو کہ ہم کہیں بھاگ جائیں گے اور اس طرح ملک الموت کے تصرف سے بچ جائیں یا میدان حشر سے بھاگ کر نکل جائیں گے اور حساب کتاب سے بچ جائیں گے تو لو اپنی قوت آزما دیکھو، اگر تمہیں اس پر قدرت ہے کہ آسمان و زمین کے دائروں سے باہر نکل جاؤ تو نکل کر دکھلاؤ، یہ کوئی آسان کام نہیں، اس کے لئے تو بہت بڑی قوت وقدرت درکار ہے، جو جن و انس کی دونوں قوموں کو حاصل نہیں، اس کا حاصل ان کا اقطار سماء و ارض سے باہر نکلنے کا امکان و احتمال بتلانا نہیں، بلکہ بطور فرض محال ان کا عاجز ہونا دکھلانا ہے۔
آیت میں مراد اگر موت سے فرار ہے تو یہی دنیا اس کا مصداق ہے کہ کسی کے امکان میں نہیں کہ زمین سے آسمانوں تک کی حدود کو پھلانگ کر باہر نکل جائے اور موت سے بچ جائے، ان حدود کو پار کرنے کا ذکر بھی انسانی خیال کے مطابق کیا گیا ہے، ورنہ بالفرض کوئی آسمانوں کی حدود سے باہر نکل جائے تو اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت سے بھی باہر نہیں اور اگر مراد محشر کے حساب و کتاب اور جواب دہی سے فرار کا ناممکن ہونا بتلانا ہے، تو اس کی عملی صورت قرآن کریم کی دوسری آیات اور روایات حدیث میں یہ ہے کہ قیامت کے روز آسمان شق ہو کر سب فرشتے زمین کے کناروں پر آجائیں گے اور ہر طرف سے محاصرہ ہوگا جن و انس قیامت کی ہولناک چیزوں کو دیکھ کر مختلف سمتوں میں بھاگیں گے، ہر سمت میں فرشتوں کا محاصرہ دیکھ کر پھر اپنی جگہ لوٹ آئیں گے (روح)
فضائی سفر جو آج کل مصنوعی سیاروں اور راکٹوں سے ہو رہے ہیں ان کا اس آیت سے کوئی جوڑ نہیں
اس زمانہ جو زمین کی کشش سے باہر نکلنے اور خلا میں سیارات پر پہنچنے کے تجربات ہو رہے ہیں وہ سب ظاہر ہے کہ آسمان کے حدود سے باہر نہیں، بلکہ سطح آسمان سے بہت نیچے ہو رہے ہیں، اقطار السمٰوات سے باہر نکل جانے کا اس سے کوئی تعلق نہیں، یہ تو اقطار السمٰوات کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتے باہر نکلنا تو کجا، اس لئے اس آیت کے مفہوم سے ان خلائی سفروں اور سیارات پر پہنچنے کے واقعات کا کوئی تعلق نہیں، بعض سادہ لوح لوگ اس آیت ہی کو خلائی سفروں کے امکان و جواز کے لئے پیش کرنے لگے، جو معانی قرآن سے بالکل ناواقفیت کی دلیل ہے۔
Ayahs 55:35–38يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ ڏ وَّنُحَاسٌ فَلَا تَنْتَــصِرٰنِ ، حضرت ابن عباس اور دوسرے ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ شواظ بضم شین آگ کے اس شعلے کو کہا جاتا ہے جس میں دھواں نہ ہو اور نحاس اس دھویں کو کہا جاتا ہے جس میں آگ کی روشنی نہ ہو، اس آیت میں بھی جن و انس کو خطاب کر کے ان پر آگ کے شعلے اور دھواں چھوڑنے کا بیان ہے، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حساب کتاب کے بعد جو مجرمین کو جہنم میں ڈالا جائے گا اس میں یہ دو طرح کے عذاب ہوں گے، کہیں آگ ہی آگ اور شعلہ ہی شعلہ دھویں کا نام نہیں اور کہیں دھواں ہی دھواں جس میں آگ کی کوئی روشنی نہیں اور بعض مفسرین نے اس آیت کو پچھلی آیت کا تکملہ قرار دے کر یہ معنی کئے ہیں کہ اے جن و انس آسمانوں کے حدود سے نکل جانا تمہارے بس کی بات نہیں، اگر تم ایسا ارادہ کر بھی لو تو جس طرف بھاگ کر جاؤ گے آگ کے شعلے اور دھویں تمہیں گھیر لیں گے (ابن کثیر)
فَلَا تَنْتَــصِرٰنِ ، انتصار سے مشتق ہے، جس کے معنی کسی کی مدد کر کے مصیبت سے نکالنے کے ہیں مطلب یہ ہے کہ عذاب الٰہی سے بچنے کے لئے تم سب جن و انس میں سے کوئی کسی کی مدد نہ کرسکے گا کہ اس کے ذریعہ عذاب سے چھوٹ جائے۔
Ayahs 55:39–40فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔــلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖٓ اِنْسٌ وَّلَا جَاۗنٌّ، یعنی اس دن کسی انسان یا جن سے اس کا گناہ نہ پوچھا جائے گا، اس کا ایک مفہوم تو وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں لیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے قیامت میں یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں جرم کیا ہے یا نہیں، وہ تو فرشتوں کے لکھے ہوئے اعمالناموں میں محفوظ اور اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں اس سے پہلے سے موجود ہے، بلکہ سوال یہ ہوگا کہ فلاں جرم تم نے کیوں کیا، یہ تفسیر ابن عباس کی ہے، اور مجاہد نے فرمایا کہ فرشتے جو مجرمین کے عذاب پر مامور ہیں ان کو مجرمین سے پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی کہ تم نے یہ جرم کیا ہے یا نہیں بلکہ ہر جرم کی ایک خاص نشانی مجرمین کے چہروں سے ظاہر ہوگی، فرشتے وہ نشانی دیکھ کر ان کو جہنم میں دھکیل دیں گے، اگلی آیت میں یہی مضمون آیا ہے (يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ) ان دونوں تفسیروں کا حاصل یہ ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ محشر میں حساب کتاب کے بعد مجرمین کے جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ ہوچکے گا، تو اب ان سے ان کے گناہوں کے بارے میں کوئی گفتگو نہ ہوگی وہ علامت سے پہچان کر جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے۔
اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ یہ اس وقت کا حال ہے جب ایک مرتبہ ان سے ان کے جرائم کی پرسش ہوچکے گی اور وہ انکار کردیں گے، قسمیں اٹھالیں گے، تو ان کے مونہوں اور زبانوں پر مہر کردی جائے گی، ہاتھوں، پاؤں کی گواہی لی جائے گی، یہ تینوں تفسیریں ابن کثیر نے نقل کی ہیں، تینوں متقارب ہیں کوئی اختلاف نہیں۔