Ayahs 55:41–45يُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِيْمٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَامِ ، سیماء کے معنی علامت کے ہیں، حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ اس روز مجرمین جن کو جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ ہوگا ان کی علامت یہ ہوگی کہ چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلگوں ہوں گی، رنج و غم سے چہرے فق ہوں گے، فرشتے اسی علامت کے ذریعہ ان کو پکڑیں گے۔
نواصی ناصیتہ کی جمع ہے پیشانی کے بالوں کو کہا جاتا ہے نواصی اور اقدام سے پکڑنے کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ کسی کو سر کے بال پکڑ کر گھسیٹا جائے گا، کسی کا ٹانگیں پکڑ کر یا کبھی اس طرح کبھی اس طرح گھسیٹا جائے گا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ پیشانی کے بالوں اور ٹانگوں کو ایک جگہ جکڑ دیا جائے گا (کذا قالہ الضحاک، روح) واللہ اعلم
Ayahs 55:46–47خلاصہ تفسیر
(ان آیتوں میں دو باغوں کا ذکر وَلِمَنْ خَافَ سے شروع ہوا ہے اور دو باغوں کا ذکر وَمِنْ دُوْنِهِمَا سے پہلے دو باغ خواص مقربین کے ہیں اور پچھلے دو باغ عامہ مومنین کے لئے، دلائل اس تعیین و تقسیم کے آگے لکھ دیئے جاویں گے، یہاں صرف تفسیر لکھی جاتی ہے، پچھلی آیات میں مجرمین کی سزاؤں کا ذکر تھا، یہاں سے مومنین صالحین کی جزا کا ذکر شروع ہوتا ہے) اور (اہل جنت کا حال یہ ہے کہ ان میں دو قسم ہیں، خواص اور عوام پس) جو شخص (خواص میں سے ہو اور) اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے (ہر وقت) ڈرتا رہتا ہو (اور ڈر کر شہوات و معاصی سے مجتنب رہتا ہو اور یہ شان خواص ہی کی ہے، کیونکہ عوام پر تو گاہ گاہ خوف طاری ہوجاتا ہے اور کبھی ان سے معاصی بھی سر زد ہوجاتے ہیں گو توبہ کرلیں، غرض جو شخص ایسا متقی ہو) اس کے لئے (جنت میں) دو باغ ہوں گے (یعنی ہر متقی کے لئے دو باغ اور غالباً اس تعدد میں حکمت ان کے تکرم اور تنعم کا اظہار ہوگا جس طرح دنیا میں اہل تنعم کے پاس اکثر چیزیں منقولات و غیر منقولات میں سے متعدد ہوتی ہیں) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور وہ) دونوں باغ کثیر شاخوں والے ہوں گے (اس میں سایہ کی گنجانی اور ثمرات کی کثرت کی طرف اشارہ ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے کہ (دور تک) بہتے چلے جاویں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان دو باغوں میں ہر میوہ کی دو قسمیں ہوں گی (کہ اس میں زیادہ تلذذ ہے، کبھی ایک قسم کا مزہ لے لیا کبھی دوسری قسم کا) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) وہ لوگ تکیہ لگائے ایسے فرشوں پر بیٹھے ہوں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے (اور قاعدہ ہے کہ اوپر کا کپڑا بہ نسبت استر کے زیادہ نفیس ہوتا ہے، پس جب استر استبرق ہوگا تو اوپر کا کیسا کچھ ہوگا) اور ان دونوں باغوں کا پھل بہت نزدیک ہوگا (کہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر طرح بلا مشقت ہاتھ آسکتا ہے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان (باغوں کے مکانات اور محلات) میں نیچی نگاہ والیاں (یعنی حوریں) ہوں گی کہ ان (جنتی) لوگوں سے پہلے ان پر نہ تو کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے (یعنی بالکل محفوظ و غیر مستعمل ہوں گی) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور رنگت اس قدر صاف و شفاف ہوگی کہ) گویا وہ یا قوت اور مرجان ہیں (اور ممکن ہے کہ تشبیہ سرخی میں بھی ہو اور تعدد مشبہ بہ کا غالباً اہتمام کیلئے ہے) سو اے جن وانس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (آگے مضمون مذکور کی تقریر و تاکید ہے کہ) بھلا غایت اطاعت کا بدلہ بجز غایت عنایت کے کچھ اور بھی ہوسکتا ہے (انہوں نے غایت اطاعت کی، اس لئے صلہ میں غایت عنایت کے مورد ہوئے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہ تو خواص کے باغوں کی صفت مذکور ہوئی) اور (آگے عامہ مؤمنین کے باغوں کا ذکر ہے یعنی) ان (مذکورہ) دونوں باغوں سے کم درجہ میں دو باغ اور ہیں (جو عامہ مؤمنین کے لئے ہیں اور ہر ایک کو دو دو ملیں گے) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور آگے ان باغوں کی صفت ہے کہ) وہ دونوں باغ گہرے سبز ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، ان دونوں باغوں میں دو چشمے ہوں گے کہ جوش مارتے ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (جوش مارنا بوجہ اس کے کہ چشمہ کے لوازم میں سے ہے اوپر کے چشموں میں بھی یہ صفت مشترک ہے اور وہاں تجرین بھی ہے اور یہاں نہیں پس یہ قرینہ ہے اس کا کہ یہ چشمے صفت جریان میں پہلے دو چشموں سے کم ہیں اور یہ باغ ان باغوں سے کم ہیں اور) ان دونوں باغوں میں میوے اور کجھوریں اور انار ہوں گے سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (یہاں مطلق فاکہہ اور پھر تفصیل میں نخل ورمان پر اکتفا فرمانا اور وہاں لفظ کل سے ہر قسم کے فواکہ کی تصریح اور پھر لفظ زوجان سے ان کے متعدد ہونے کا ذکر جس سے فواکہ کی کثرت معلوم ہوتی ہے، یہ سب قرائن اس کے ہیں کہ جنتین اولین ان اخریین سے افضل و اعلے ہیں اور) ان (باغوں کے مکانات) میں خوب سیرت خوب صورت عورتیں ہوں گی (یعنی حوریں) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے، وہ عورتیں گوری رنگت والی ہوں گی (اور) خیموں میں محفوظ ہوں گی سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اور) ان (جنتی) لوگوں سے پہلے ان پر نہ تو کسی آدمی نے تصرف کیا ہوگا اور نہ کسی جن نے (یعنی غیر مستعمل ہوں گی) سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (وہاں یا قوت و مرجان سے تشبیہ دینا جو کہ مفید مبالغہ ہے اور یہاں صرف حسان پر اکتفا فرمانا نیز قرینہ ہے کہ پہلے دو باغ دوسرے دو باغوں سے افضل ہیں اور یہاں کے سب صفات وہاں صراحۃً یا اشارةً مذکور ہیں مثلاً خوش سیرت ہونا، قصرت الطرف سے مفہوم ہوتا ہے، حور ہونا قرینہ مقام سے معلوم ہوتا ہے مقصورات سے زیادہ عصمت و عفت پر لفظ قصرت الطرف دلالت کرتا ہے، کہ جو ایسی ہوں گی وہ ضرور ہی گھر میں رہیں گی اور) وہ لوگ سبز مشجر اور عجیب خوبصورت کپڑوں (کے فرشوں) پر تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے، سو اے جن و انس (باوجود اس کثرت و عظمت نعم کے) تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاؤ گے (اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دو باغوں کے فرش بہ نسبت پہلے دو باغوں کے کم درجہ کے ہوں گے، کیونکہ وہاں تصریح ہے ریشمی ہونے کی، پھر دوہرے ہونے کی اور یہاں نہیں ہے آگے خاتمہ میں حق تعالیٰ کی ثنا و صفت ہے جس میں ان تمام مضامین کی جو سورة رحمن میں مفصل بیان ہوئے ہیں تائید و تاکید ہے کہ) بڑا بابرکت نام ہے آپ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا ہے (نام سے مراد صفات ہیں جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثنا ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کامل اور بابرکت ہوگا اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے)
معارف و مسائل
جس طرح سابقہ آیات میں مجرمین کی سخت سزاؤں کا ذکر تھا ان آیات میں ان کے بالمقابل مؤمنین صالحین کی عمدہ جزاؤں اور نعمتوں کا بیان ہے جن میں اہل جنت کے پہلے دو باغوں کا ذکر اور ان میں جو نعمتیں ہیں ان کا بیان ہے، اس کے بعد دوسرے دو باغوں کا اور ان میں مہیا کی ہوئی نعمتوں کا ذکر ہے۔
پہلے دو باغ جن حضرات کے لئے مخصوص ہیں ان کو تو متعین کر کے بتلا دیا ہے (وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ) یعنی ان دو باغوں کے مستحق وہ لوگ ہیں جو ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے قیامت کے روز کی پیشی اور حساب و کتاب سے ڈرتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں وہ کسی گناہ کے پاس نہیں جاتے، ظاہر ہے کہ ایسے لوگ سابقین اور مقربین خاص ہی ہو سکتے ہیں۔
دوسرے دو باغوں کے مستحق کون ہوں گے اس کی تصریح آیات مذکورہ میں نہیں کی گئی، مگر یہ بتلا دیا گیا ہے کہ یہ دونوں باغ پہلے دو باغوں کی نسبت کم درجہ کے ہوں گے (وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ) یعنی پہلے دو باغوں سے کمتر اور دو باغ ہیں، اس سے بقرینہ مقام معلوم ہوگیا کہ ان دو باغوں کے مستحق عام مؤمنین ہوں گے جو مقربین خاص سے درجہ میں کم ہیں۔
پہلے اور دوسرے دو باغوں کی تفسیر میں حضرات مفسرین نے اور بھی توجیہات بیان فرمائی ہیں، یہاں جو تفسیر اختیار کی گئی ہے کہ پہلے دو باغ سابقین اولین اور مقربین خاص کے لئے ہیں اور دوسرے دو باغ عامہ مؤمنین کے لئے اور یہ کہ یہ دوسرے دو باغ پہلے دو باغوں سے درجہ میں کم ہیں، روایات حدیث سے یہی تفسیر راجح معلوم ہوتی ہے جیسا کہ بیان القرآن میں بحوالہ در منثور یہ حدیث مرفوع نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِ اور وَمِنْ دُوْنِهِمَا جَنَّتٰنِ کی تفسیر میں فرمایا جنتان من ذھب للمقربین و جنتان من ورق لاصحب الیمین " یعنی دو باغ سونے کے بنے ہوئے ہیں مقربین کے لئے اور دو باغ چاندی کے اصحاب الیمین یعنی عام مؤمنین صالحین کے لئے " نیز در منثور میں حضرت براء بن عازب سے موقوفاً یہ روایت کیا ہے العینان التی تجریان خیر من النضاختن، یعنی پہلے دو باغوں کے دو چشمے جن کے بارے میں تجریان فرمایا ہے وہ بہتر ہیں دوسرے دو باغوں کے چشموں سے جن کے متعلق نضاختان فرمایا ہے، کیونکہ نضاختان کے معنی ہیں ابلنے والے دو چشمے، تو یہ صفت ہر چشمہ میں ہوتی ہے لیکن جن کو تجریان کے عنوان سے بیان کیا ہے، ان میں ابلنے کے علاوہ دور تک سطح زمین پر جاری رہنے کی صفت مزید ہے۔
یہ اجمالی بیان تھا ان چار چشموں کا جو اہل جنت کو ملیں گے، اب الفاظ آیات کے ساتھ ان کے معانی کو دیکھئے۔ وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ ، مقام رب سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک قیامت کے روز حق تعالیٰ کے سامنے حساب کے لئے پیشی ہے اور اس سے خوف کے معنی یہ ہیں کہ جلوت و خلوت میں اور ظاہر و باطن کے تمام احوال میں اس کو یہ مراقبہ دائمی رہتا ہو کہ مجھے ایک روز حق تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا اور اعمال کا حساب دینا ہے اور ظاہر ہے جس کو ایسا مراقبہ ہمیشہ رہتا ہو وہ گناہ کے پاس نہیں جائے گا۔
اور قرطبی وغیرہ بعض حضرات مفسرین نے مقام ربہ کی یہ تفسیر بھی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ہر قول و فعل اور خفیہ و علانیہ عمل پر نگراں اور قائم ہے، ہماری ہر حرکت اس کے سامنے ہے، حاصل اس کا بھی وہی ہوگا کہ حق تعالیٰ کا یہ مراقبہ اس کو گناہوں سے بچا دے گا۔
Ayahs 55:48–51ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ، یہ پہلے دو باغوں کی صف ہے کہ بہت شاخوں والے ہوں گے، جس کا یہ اثر لازمی ہے کہ ان کا سایہ بھی گھنا ہوگا اور پھل بھی زیادہ ہوگا، دوسرے دو باغ جن کا ذکر آ گے آتا ہے ان میں یہ صفت مذکور نہیں، جس سے اس معاملہ میں ان کی کمی کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔
Ayahs 55:52–55فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ ، پہلے دو باغوں کی صفت میں فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ کے الفاظ سے تمام انواع فواکہ کا ہونا بیان فرمایا ہے، اس کے بالمقابل دوسرے باغوں میں فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ کے بجائے صرف فَاكِهَةٍ کے الفاظ ہیں اور زوجان کے معنی یہ ہیں کہ ہر میوے کی دو دو قسمیں ہوں گی، یہ دو قسمیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ خشک و تر کی ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک تو عام معروف و مشہور اور مزے کی ہو اور دوسری غیر معمولی انداز کی (مظہری)
Ayahs 55:56–59لَمْ يَطْمِثْهُنَّ اِنْسٌ قَبْلَهُمْ وَلَا جَاۗنٌّ، لفظ طمث کئی معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے، حیض کے خون کو طمث کہتے ہیں اور حائضہ عورت کو طامث کہا جاتا ہے اور کنواری لڑکی سے مباشرت کو بھی طمث کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس جگہ یہی معنی مراد ہیں اور اس میں جو اس کی نفی کی گئی ہے کہ جن اہل جنت کے لئے یہ حوریں مقرر ہیں ان سے پہلے ان کو کسی انسان یا جن نے مس نہیں کیا ہوگا، اس کا مفہوم وہ بھی ہوسکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں بیان ہوا ہے کہ جو حوریں انسانوں کے لئے مقرر ہیں ان کو کسی انسان نے اور جو مومنین جنات کے لئے مقرر ہیں ان کو کسی جن نے ان سے پہلے مس نہیں کیا ہوگا اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ جیسے دنیا میں انسانی عورتوں پر کبھی جنات بھی مسلط ہوجاتے ہیں وہاں اس کا بھی کوئی امکان نہیں ہوگا۔
Ayahs 55:60–63هَلْ جَزَاۗءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ ، مقربین خاص کے دو باغوں کی کچھ تفصیل ذکر کرنے کے بعد یہ ارشاد فرمایا کہ احسان عمل کا بدلہ احسان جزا ہی ہوسکتا ہے اس کے سوا کوئی احتمال نہیں، ان حضرات نے احسان عمل یعنی ہمیشہ نیک عمل کرنے کی پابندی کی تو حق تعالیٰ کی طرف سے ان کو عمدہ جزا ہی کا بدلہ دیا جانا چاہئے تھا جو ان کو دیا گیا۔
Ayahs 55:64–69مُدْهَاۗمَّتٰنِ ، گہری سبزی کی وجہ سے جو سیاہی جھلکنے لگتی ہے اس کو ادہمام کہا جاتا ہے، مراد یہی ہے کہ ان دونوں باغوں کی سر سبزی ان کے سیاہی مائل ہونے کا سبب ہوگی، یہ صفت اگرچہ پہلے دو باغوں میں ذکر نہیں کی گئی ہے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان میں یہ صفت نہ ہو، بلکہ ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ جو وہاں کی صفت بتلائی ہے، اس میں مدہامتان کی صفت بھی شامل ہے۔
Ayahs 55:70–75فِيْهِنَّ خَيْرٰتٌ حِسَانٌ، خیرات سے مراد سیرت و کردار کی خوبی اور حسان سے مراد شکل و صورت کی خوبی ہے اور یہ امر بھی دونوں باغوں کی حوروں میں مشترک ہوگا جس کی طرف اشارہ سابقہ آیات میں موجود ہے۔
Ayahs 55:76–77مُتَّكِــــِٕيْنَ عَلٰي رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّعَبْقَرِيٍّ حِسَانٍ ، قاموس میں ہے کہ رفرف سبز رنگ کا ریشمی کپڑا ہے جس کے فرش اور تکئے اور دوسرا زینت کا سامان بنایا جاتا ہے اور صحاح میں ہے کہ اس پر نقش و نگار درختوں اور پھولوں کے ہوتے ہیں، جس کو اردو میں مشجر کہا جاتا ہے عبقری ہر عمدہ خوبصورت کپڑے کو کہا جاتا ہے حسان سے اسی کا وصف خوبصورتی بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 55:78تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ، سورة رحمن میں بیشتر حق تعالیٰ کی نعمتوں اور انسان پر احسانات کا ذکر ہے، اس کے خاتمہ پر خلاصہ کے طور پر یہ جملہ ارشاد ہوا کہ اس ذات پاک کا تو کہنا کیا ہے اس کا نام بھی بڑا بابرکت ہے، اس کے نام ہی سے یہ ساری نعمتیں قائم ہیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم
تمت
سورة الرحمن بحمد اللہ وعونہ
للحادی عشر من الربیع الثانی
س 1391 ھ یوم السبت