Ayah 54:1خلاصہ تفسیر
(ان کفار کے لئے زاجر یعنی غلطی پر متنبہ کرنے والا امر تو اعلیٰ درجہ کا متحقق ہے، چنانچہ) قیامت نزدیک آپہنچی (جس میں تکذیب پر بڑی مصیبت آوے گی اور اس اخبار قرب ساعت کا مصداق بھی واقع ہوگیا چنانچہ) چاند شق ہوگیا (اور اس سے قرب قیامت کی تصدیق اس طرح ہوتی ہے کہ شق قمر معجزہ ہے رسول اللہ ﷺ کا، جس سے آپ کی نبوت ثابت ہوتی ہے اور نبی کا ہر قول صادق ہے، اس لئے ضروری ہے کہ قیامت کے قریب آنے کی خبر جو آپ نے دی ہے وہ بھی صادق ہے اس سے تحقق زاجر کا متعین ہوگیا) اور (اس کا مقتضا یہ تھا کہ) یہ لوگ (اس سے منزجر اور متاثر ہوتے لیکن ان کی یہ حالت ہے کہ) اگر کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو ٹال دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے جو ابھی ختم ہوا جاتا ہے (یہ کہنا یہ ہے اس کے باطل ہونے سے کہ باطل کا اثر دیر تک قائم نہیں رہا کرتا، جیسا کہ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ ، مطلب یہ کہ قرب قیامت سے نصیحت حاصل کرنا تو نبوت محمدیہ کے اعتقاد پر موقوف ہے، یہ لوگ خود اس کی دلیل ہی کو نظر تامل سے نہیں دیکھتے اور اس کو باطل سمجھتے ہیں تو پھر اس سے ان پر کیا اثر ہوتا) اور (اس اعراض اور بطلان دعویٰ معجزہ میں خود) ان لوگوں نے (باطل پر مصر ہو کر حق کو) جھٹلایا اور اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی (یعنی ان کا اعراض کسی دلیل صحیح کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ سبب اس اعراض کا ہوائے نفسانی کا اتباع اور از روئے عناد تکذیب حق ہے) اور (یہ معجزات کو جادو کہتے ہیں جس کا اثر جلد زائل ہوجایا کرتا ہے سو قاعدہ ہے کہ) ہر بات کو (بعد چندے اپنی اصلی حالت پر آ کر) قرار آجاتا ہے (یعنی حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا، اسباب و آثار سے عام طور پر متعین ہوجاتا ہے مطلب یہ کہ گو واقع میں تو فی الحال بھی حق متعین اور واضح ہے، اگر کم فہموں کی سمجھ میں اگر اب نہیں آتا تو بعد چندے تو ان کو بھی ظاہر ہوسکتا ہے، بشرطیکہ غور سے کام لیں تو چند روز کے بعد تم کو معلوم ہوجاوے گا کہ یہ سحر فانی ہے یا حق باقی ہے) اور (اس زاجر مذکور کے علاوہ) ان لوگوں کے پاس (تو امم ماضیہ کی بھی) خبریں اتنی پہنچ چکی ہیں کہ ان میں (کافی) عبرت یعنی اعلیٰ درجہ کی دانشمندی (حاصل ہو سکتی) ہے سو (ان کی یہ کیفیت ہے کہ) خوف دلانے والی چیزیں ان کو کچھ فائدہ ہی نہیں دیتیں (اور جب یہ حال ہے) تو آپ ان کی طرف سے کچھ خیال نہ کیجئے (جب وہ وقت قیامت اور عذاب کا جس سے ان کو ڈرا یا جاتا ہے آ جاوے گا تو خود معلوم ہوجاوے گا آگے اس روز کا بیان ہے، یعنی) جس روز ایک بلانے والا فرشتہ (ان کو) ایک ناگوار چیز کی طرف بلاوے گا ان کی آنکھیں (مارے ذلت اور ہیبت کے) جھکی ہوئی ہوں گی (اور) قبروں سے اس طرح نکل رہے ہوں گے جیسے ٹڈی پھیل جاتی ہے ، (اور پھر نکل کر) بلانے والے کی طرف (یعنی موقف حساب کی طرف جہاں جمع ہونے کے لئے بلانے والے نے پکارا ہے) دوڑے چلے جا رہے ہوں گے (اور وہاں کی سختیاں دیکھ کر کافر کہتے ہوں گے کہ یہ دن بڑا سخت ہے)
معارف و مسائل
پچھلی سورت (النجم) اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ الخ پر ختم ہوئی ہے جس میں قیامت کے قریب آجانے کا ذکر ہے، اس سورت کو شروع اسی مضمون سے کیا گیا ہے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ ، آگے قرب قیامت کی ایک دلیل معجزہ انشقاق قمر کا ذکر فرمایا گیا ہے، کیونکہ علامات قیامت جن کی بڑی تفصیل ہے ان میں سے ایک بڑی علامت تو خود حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی بعثت و نبوت ہے، جیسا کہ حدیث میں آپ کا ارشاد ہے کہ میرا آنا اور قیامت اس طرح ملے ہوئے ہیں جیسے ہاتھ کی دو انگلیاں، اور بھی چند روایات حدیث میں آپ کا قیامت کے قریب ہونا بیان فرمایا گیا ہے، اسی طرح ایک بڑی علامت قیامت کی یہ بھی ہے کہ آپ کے معجزہ کے طور پر چاند کے دو ٹکڑے ہو کر الگ الگ ہوجاویں گے پھر باہم جڑ جاویں گے، نیز معجزہ شق القمر اس حیثیت سے بھی قیامت کی علامت ہے کہ جس طرح اس وقت چاند کے دو ٹکڑے اللہ کی قدرت سے ہوگئے قیامت میں سارے ہی سیاروں اور ستاروں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجانا کوئی امر مستبعد نہیں۔
معجزہ شق القمر
کفار مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کی نبوت و رسالت کے لئے کوئی نشانی معجزہ کی طلب کی، حق تعالیٰ نے آپ کی حقانیت کے ثبوت کے لئے یہ معجزہ شق القمر ظاہر فرمایا، اس معجزہ کا ثبوت قرآن کریم کی اس آیت میں بھی موجود ہے وانْشَقَّ الْقَمَرُ ، اور احادیث صحیحہ جو صحابہ کرام کی ایک جماعت کی روایت سے آئی ہیں جن میں حضرت عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، جبیر بن مطعم، ابن عباس، انس بن مالک (ؓ اجمعین) وغیرہ شامل ہیں، اور حضرت عبداللہ بن مسعود خود اپنا اس وقت میں موجود ہونا اور معجزہ کا مشاہدہ کرنا بھی بیان فرماتے ہیں، امام طحادی اور ابن کثیر نے واقعہ شق القمر کی روایات کو متواتر قرار دیا ہے، اس لئے اس معجزہ نبوی کا وقوع دلائل سے ثابت ہے۔
واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ کے مقام منیٰ میں تشریف رکھتے تھے، مشرکین مکہ نے آپ سے نبوت کی نشانی طلب کی، یہ واقعہ ایک چاندنی رات کا ہے، حق تعالیٰ نے یہ کھلا ہوا معجزہ دکھلا دیا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہو کر ایک مشرق کی طرف دوسرا مغرب کی طرف چلا گیا اور دونوں ٹکڑوں کے درمیان میں پہاڑ حائل نظر آنے لگا، رسول اللہ ﷺ نے سب حاضرین سے فرمایا کہ دیکھو اور شہادت دو ، جب سب لوگوں نے صاف طور پر یہ معجزہ دیکھ لیا تو یہ دونوں ٹکڑے پھر آپس میں مل گئے، اس کھلے ہوئے معجزہ کا انکار تو کسی آنکھوں والے سے ممکن نہ ہوسکتا تھا، مگر مشرکین کہنے لگے کہ محمد ﷺ سارے جہان پر جادو نہیں کرسکتے، اطراف ملک سے آنے والے لوگوں کا انتظار کرو وہ کیا کہتے ہیں، بیہقی اور ابو داؤد طیالسی کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود سے ہے کہ بعد میں تمام اطراف سے آنے والے مسافروں سے ان لوگوں نے تحقیق کی تو سب نے ایسا ہی چاند کے دو ٹکڑے دیکھنے کا اعتراف کیا۔
بعض روایات میں ہے کہ یہ معجزہ شق القمر مکہ مکرمہ میں دو مرتبہ پیش آیا مگر روایات صحیحہ سے ایک ہی مرتبہ کا ثبوت ملتا ہے (بیان القرآن) اس معاملہ سے متعلق چند روایات حدیث یہ ہیں (جو تفسیر ابن کثیر سے لی گئی ہیں)
(1) صحیح بخاری میں حضرت انس بن مالک کی روایت سے نقل کیا ہے کہ
ان اھل مکۃ سالوا رسول اللہ ﷺ ان یریھم ایۃ فاراھم القمر شقین حتی راوا حراء بینھما (بخاری و مسلم)
" یعنی اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ اپنی نبوت کے لئے کوئی نشانی (معجزہ) دکھلائیں، تو اللہ تعالیٰ نے ان کو چاند کے دو ٹکڑے کر کے دکھلا دیا، یہاں تک کہ انہوں نے جبل حراء کو دونوں ٹکڑوں کے درمیان دیکھا "
(2) صحیح بخاری و مسلم اور مسند احمد میں حضرت عبداللہ ابن مسعود سے روایت ہے
انشق القمر علے ٰ عھد رسول اللہ ﷺ شقین حتی نظروا الیہ فقال رسول اللہ ﷺ اشھدوا۔
" رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں چاند شق ہوا اور دو ٹکڑے ہوگئے جس کو سب نے صاف طور سے دیکھا اور آنحضرت ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ دیکھو اور شہادت دو "۔
اور ابن جر پر نے بھی اپنی سند سے اس حدیث کو نقل کیا ہے، اس میں یہ بھی مذکور ہے کہ کنا مع رسول اللہ ﷺ بمنی فانشق القمر فاخذت فرقة خلف الجبل فقال رسول اللہ ﷺ اشھدوا اشھدوا (عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ ہم منیٰ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، اچانک چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے، اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا، تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ گواہی دو ، گواہی دو)
(3) حضرت عبداللہ بن مسعود ہی کی روایت سے ابو داؤد طیالسی نے اور بیہقی نے یہ بھی نقل کیا ہے
انشق القمر بمکة حتی صار فرقتین فقال کفار قریش اھل مکة ھذا سحر سحرکم بہ ابن ابی کبشتة انظروا السفار فان کانوا راوا ما رایتم فقد صدق و ان کانوا لم یروا مثل ما رایتم فھو سحر سحرکم بہ فسئل السفار قال وقدموا من کل جھة فقالو راینا (ابن کثیر)
" مکہ مکرمہ (کے قیام کے زمانہ) میں چاند شق ہو کردو ٹکڑے ہوگیا، کفار قریش کہنے لگے کہ یہ جادو ہے ابن ابی کبشہ (یعنی محمد ﷺ نے تم پر جادو کردیا ہے، اس لئے تم انتظار کرو باہر سے آنے والے مسافروں کا، اگر انہوں نے بھی یہ دو ٹکڑے چاند کے دیکھے ہیں تو انہوں نے سچ کہا ہے اور اگر باہر کے لوگوں نے ایسا نہیں دیکھا تو پھر یہ بیشک جادو ہی ہوگا، پھر باہر سے آنے والے مسافروں سے تحقیق کی جو ہر طرف سے آئے تھے، سب نے اعتراف کیا کہ ہم نے بھی یہ دو ٹکڑے دیکھے ہیں "۔
شق القمر کے واقعہ پر کچھ شبہات اور جواب
اس پر ایک شبہ تو یونانی فلسفہ کے اصول کی بنا پر کیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آسمان اور سیارات میں فرق اور التیام (یعنی شق ہونا اور جڑنا) ممکن نہیں، مگر یہ محض ان کا دعویٰ ہے اس پر جتنے دلائل پیش کئے گئے ہیں وہ سب لچر اور بےبنیاد ہیں، ان کا لغو و باطل ہونا متکلمین اسلام نے بہت واضح کردیا ہے، اور آج تک کسی عقلی دلیل سے شق قمر کا محال اور ناممکن ہونا ثابت نہیں ہوسکا، ہاں ناواقف عوام ہر مستبعد چیز کو ناممکن کہنے لگتے ہیں، مگر یہ ظاہر ہے کہ معجزہ تو نام ہی اس فعل کا ہے جو عام عادت کے خلاف اور عام لوگوں کی قدرت سے خارج حیرت انگیز و مستبعد ہو، ورنہ معمولی کام جو ہر وقت ہو سکے اسے کون معجزہ کہے گا ؟
دوسرا عامیانہ شبہ یہ کیا جاتا ہے کہ اگر ایسا عظیم الشان واقعہ پیش آیا ہوتا تو پوری دنیا کی تاریخوں میں اس کا ذکر ہوتا، مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ مکہ معظمہ میں رات کے وقت پیش آیا ہے، اس وقت بہت سے ممالک میں تو دن ہوگا وہاں اس واقعہ کے نمایاں اور ظاہر ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں ہوتا اور بعض ممالک میں نصف شب اور آخر شب میں ہوگا، جس وقت عام دنیا سوتی ہے اور جاگنے والے بھی تو ہر وقت چاند کو نہیں تکتے رہتے، زمین پر پھیلی ہوئی چاندنی میں اس کے دو ٹکڑے ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا جس کی وجہ سے کسی کو اس طرف توجہ ہوتی، پھر یہ تھوڑی دیر کا قصہ تھا، روز مرہ دیکھا جاتا ہے کہ کسی ملک میں چاند گرہن ہوتا ہے، اور آج کل تو پہلے سے اس کے اعلانات بھی ہوجاتے ہیں، اس کے باوجود ہزاروں لاکھوں آدمی اس سے بالکل بیخبر رہتے ہیں، ان کو کچھ پتہ نہیں چلتا، تو کیا اس کی یہ دلیل بنائی جاسکتی ہے کہ چاند گرہن ہوا ہی نہیں، اس لئے دنیا کی عام تاریخوں میں مذکور نہ ہونے سے اس واقعہ کی تکذیب نہیں ہو سکتی۔ اس کے علاوہ ہندوستان کی مشہور و مستند " تاریخ فرشتہ " میں اس کا ذکر بھی موجود ہے کہ ہندوستان میں مہاراجہ مالیبار نے یہ واقعہ بچشم خود دیکھا اور اپنے روزنامچہ میں لکھوایا اور یہی واقعہ ان کے مسلمان ہونے کا سبب بنا، اور اوپر ابوداؤ و طیالسی اور بیہقی کی روایات سے بھی یہ ثابت ہوچکا ہے کہ خود مشرکین مکہ نے بھی باہر کے لوگوں سے اس کی تحقیق کی تھی اور مختلف اطراف کے آنے والوں نے یہ واقعہ دیکھنے کی تصدیق کی تھی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 54:2وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ، مستمر کے مشہور معنی جو فارسی اردو میں بھی معروف ہیں، وہ دیر تک اور دائم رہنے کے ہیں، مگر عربی زبان میں یہ لفظ مَرَّ اور استَمَرَّ کبھی گزر جانے اور ختم ہوجانے کے معنی میں بھی آتا ہے، ائمہ تفسیر میں سے مجاہد اور قتادہ نے اس جگہ یہی معنی بیان کئے ہیں، اس پر مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ یہ جادو کا اثر ہے جو دیر تک نہیں چلا کرتا خود ہی گزر جائے گا اور ختم ہوجائے گا اور ایک معنی مستمر کے قوی و شدید کے بھی آتے ہیں، ابوالعالیہ اور ضحاک نے اس آیت میں مستمر کی یہی تفسیر کی ہے اور مراد یہ ہوگی کہ یہ بڑا قوی جادو ہے۔
Ayahs 54:3–7اہل مکہ جب اس مشاہدہ کی تکذیب نہ کرسکے تو اس کو جادو یا سخت جادو کہہ کر اپنے دلوں کو تسلی دینے لگے، وَكُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ، استقر کے لغوی معنی قرار پکڑنے کے ہیں، مفہوم آیت کا یہ ہے کہ ہر کام اور ہر چیز اپنی غایت پر پہنچ کر آخر کار صاف ہوجاتی ہے، کسی جعل سازی سے جو پردہ حقیقت پر ڈالا جاتا ہے وہ انجام کار کھل کر رہتا ہے اور حق کا حق اور باطل کا باطل ہونا واضح ہوجاتا ہے۔
Ayah 54:8مُّهْطِعِيْنَ اِلَى الدَّاعِ ، مہطعین کے لفظی معنی سر اٹھا ہونے کے ہیں، معنی آیت کے یہ ہیں کہ بلانے والے کی آواز کی سمت میں دیکھتے ہوئے محشر کی طرف دوڑیں گے اور اس سے پہلی آیت میں جو خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ آیا ہے جس کے معنی ہیں نگاہ اور سر جھکانے کے، ان دونوں میں تطبیق یہ ہے کہ محشر کے مواقف مختلف ہوں گے، کسی موقف میں ایسا بھی ہوگا کہ سب کے سر جھکے ہوئے ہوں گے۔
Ayahs 54:9–11خلاصہ تفسیر
ان لوگوں سے پہلے قوم نوح نے تکذیب کی یعنی ہمارے بندہ (خاص نوح ؑ کی تکذیب کی اور کہا کہ یہ مجنون ہیں اور (محض اس قول بیہودہ ہی پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ان سے ایک بیہودہ فعل بھی سرزد ہوا یعنی) نوح ؑ کو (ان کی طرف سے) دھمکی (بھی) دی گئی (جس کا ذکر سورة شعراء میں ہے لَىِٕنْ لَّمْ تَنْتَهِ يٰنُوْحُ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْمَرْجُوْمِيْنَ) تو نوح ؑ نے اپنے رب سے دعا کی کہ میں (محض) درماندہ ہوں ، (ان لوگوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا) سو آپ (ان سے) انتقام لے لیجئے (یعنی ان کو ہلاک کر دیجئے، کقولہ تعالیٰ (رَّبِّ لَا تَذَرْ عَلَي الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا) پس ہم نے کثرت سے برسنے والے پانی سے آسمان کے دروازے کھول دیئے اور زمین سے چشمے جاری کردیئے پھر (آسمان اور زمین کا) پانی اس کام کے (پورا ہونے کے) لئے مل گیا جو (علم الٰہی میں) تجویز ہوچکا تھا (مراد اس کام سے ہلاکت ہے کفار کی، یعنی دونوں پانی مل کر طوفان بڑھا، جس میں سب غرق ہوگئے) اور ہم نے نوح ؑ کو (طوفان سے محفوظ رکھنے کے لئے) تختوں اور میخوں والی کشتی پر جو کہ ہماری نگرانی میں (پانی کی سطح پر) رواں تھی (مع مومنین کے) سوار کیا یہ سب کچھ اس شخص کا بدلہ لینے کے لئے کیا جس کی بےقدری کی گئی تھی (مراد نوح ؑ ہیں اور چونکہ رسول اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں تلازم ہے، اس میں کفر باللہ بھی آ گیا، پس یہ شبہ نہ رہا کہ یہ غرق کفر باللہ کے سبب نہ ہوا تھا) اور ہم نے اس واقعہ کو عبرت کے واسطے (حکایات اور تذکروں میں) رہنے دیا، سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے (مقصود اس سے ترغیب ہے تذکر کی) پھر (دیکھو) میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا (یعنی جس چیز سے ڈرانا واقع ہوا تھا وہ کیسا پورا ہو کر رہا، تو اس ڈرانے کا حاصل بھی عذاب ہی ہوگیا، غرض عذاب الٰہی کے دو عنوان ہوگئے، ایک خود عذاب اور دوسرا وعدہ الٰہی کا پورا ہونا) اور ہم نے قرآن کو (جو کہ مشتمل ہے ایسے قصص مذکورہ پر) نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا (سب کے لئے عموماً بوجہ واضح ہونے بیان کے اور عرب کے لئے خصوصاً بوجہ عربی زبان کے) سو کیا (اس قرآن میں ایسے مضامین نصیحت کے دیکھ کر) کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے (یعنی کفار مکہ کو بالخصوص ان قصص سے ڈر جانا چاہئے)
معارف و مسائل
مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ ، وازدجر کے لفظی معنی ہیں ڈانٹ دیا گیا (اس کا عطف لفظ قالوا پر ہے اس لئے) مراد یہ ہے کہ ان لوگوں نے حضرت نوح ؑ کو مجنون بھی کہا اور پھر ان کو ڈانٹ دھمکا کر تبلیغ رسالت سے روکنا بھی چاہا، جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ہے کہ ان لوگوں نے نوح ؑ کو یہ دھمکی دی کہ اگر آپ اپنی تبلیغ و دعوت سے باز نہ آئے تو ہم آپ کو پتھراؤ کر کے مار دیں گے۔
عبد بن حمید نے مجاہد سے نقل کیا ہے کہ نوح ؑ کی قوم کے بعض لوگ جب حضرت نوح کو کہیں پاتے تو بعض اوقات ان کا گلا گھونٹ دیتے تھے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوجاتے، پھر جب افاقہ ہوتا تو اللہ سے یہ دعا کرتے تھے کہ " یا اللہ میری قوم کو معاف کر دے، وہ حقیقت سے ناواقف ہیں، ساڑھے نو سو سال قوم کی ایسی ایذاؤں کا جواب دعاؤں سے دے کر گزارنے کے بعد آخر میں عاجز ہو کر بددعا کی جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے، جس کے نتیجہ میں یہ پوری قوم غرق کی گئی۔
Ayah 54:12فَالْتَقَى الْمَاۗءُ عَلٰٓي اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ ، یعنی زمین سے ابلنے والا پانی اور آسمان سے برسنے والا پانی دونوں اس انداز پر مل گئے جس سے اللہ تعالیٰ کا مقدر کیا ہوا فیصلہ کہ پوری قوم غرق ہوجائے نافذ ہوگیا کہ پہاڑوں کی چوٹیوں تک بھی کسی کو پناہ نہ ملی۔
Ayahs 54:13–16ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ ، الواح لوح کی جمع ہے بمعنی تختی، اور دسر، دسار کی جمع ہے، جس کے معنی میخ اور مسمار کے بھی آتے ہیں اور اس ڈورے یا تار کو بھی کہا جاتا ہے جس سے کشتی کے تختے جوڑے جاتے ہیں۔
Ayah 54:17وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ، للذکر، ذکر کے معنی یاد کرنے اور حفظ کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی کلام سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے کے بھی، یہ دونوں معنی یہاں مراد ہو سکتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن کریم کو حفظ کرنے کے لئے آسان کردیا، یہ بات اس سے پہلے کسی کتاب کو حاصل نہیں ہوئی کہ پوری کتاب تورات یا انجیل یا زبور لوگوں کو برزباں یاد ہو اور یہ حق تعالیٰ ہی کی تفسیر اور آسانی کا اثر ہے کہ مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچے پورے قرآن کو ایسا حفظ کرلیتے ہیں کہ ایک زیر زبر کا فرق نہیں آتا، چودہ سو برس سے ہر زمانہ ہر طبقے ہر خطے میں ہزاروں لاکھوں حافظوں کے سینوں میں یہ اللہ کی کتاب محفوظ ہے۔
اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ قرآن کریم نے اپنے مضامین عبرت و نصیحت کو ایسا آسان کر کے بیان کیا ہے کہ جس طرح بڑے سے بڑا عالم و ماہر، فلسفی اور حکیم اس سے فائدہ اٹھاتا ہے، اسی طرح ہر عالم جاہل جس کو علوم سے کوئی مناسبت نہ ہو وہ بھی عبرت و نصیحت کے مضامین قرآنی کو سمجھ کر اس سے متاثر ہوتا ہے۔
حفظ کرنے کیلئے قرآن کو آسان کیا گیا ہے نہ کہ اجہتاد اور استباط احکام کیلئے
اس آیت میں یسرنا کے ساتھ للذکر کی قید لگا کر یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ قرآن کو حفظ کرنے اور اس کے مضامین سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی حد تک اس کو آسان کردیا گیا ہے، جس سے ہر عالم و جاہل، چھوٹا اور بڑا یکساں فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن کریم سے مسائل اور احکام کا استنباط بھی ایسا ہی آسان ہو، وہ اپنی جگہ ایک مستقل اور مشکل فن ہے جس میں عمریں صرف کرنے والے علماء راسخین کو ہی حصہ ملتا ہے ہر ایک کا وہ میدان نہیں۔
اس سے ان لوگوں کی غلطی واضح ہوگئی جو قرآن کریم کے اس جملے کا سہارا لے کر قرآن کی مکمل تعلیم، اس کے اصول و قواعد سے حاصل کئے بغیر مجہتد بننا اور اپنی رائے سے احکام و مسائل کا استخراج کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کھلی گمراہی کا راستہ ہے۔