53. Surah An-Najm

النجمThe Star · 62 ayahsمعارف القرآن

Ayah 53:1

وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰىۙ Open ayah 53:1 in the Quran reader

قسم ہے تارے کی جب گرے

خلاصہ تفسیر قسم ہے ستارہ کی جب وہ غروب ہونے لگے (یعنی کوئی بھی ستارہ ہو اور اس قسم میں مضمون جواب قسم مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى کے ساتھ ایک خاص مناسبت ہے، یعنی جس طرح ستارہ طلوع سے غروب تک اس تمام تر مسافت میں اپنی باقاعدہ رفتار سے ادھر ادھر نہیں ہوا اسی طرح آپ اپنی عمر بھر ضلال وغوایت سے محفوظ ہیں اور نیز اشارہ ہے اس طرف کہ جیسے نجم سے ہدایت ہوتی ہے، اسی طرح آپ سے بھی بوجہ عدم ضلال و عدم غوایت کے ہدایت ہوتی ہے اور چونکہ ستاروں کے وسط سماء میں ہونے کے وقت کسی سمت کا اندازہ نہیں ہوتا، اس لئے اس وقت ستارے سے راستہ کا پتہ نہیں لگتا، اس لئے اس میں قید لگائی غروب کے وقت کی اور گو قرب من الافق طلوع کے وقت بھی ہوتا ہے لیکن غروب میں یہ بات زیادہ ہے کہ اس وقت طالبان اہتداء اس کو غنیمت سمجھتے ہیں اس خیال سے کہ اگر استدلال میں ذرا توقف کیا پھر غائب ہوجاوے گا، بخلاف طلوع کے کہ اس میں بےفکری رہتی ہے پس اس میں اس طرف بھی اشارہ ہوگیا کہ حضور ﷺ سے ہدایت حاصل کرلینے کو غنیمت سمجھو اور شوق سے دوڑو، آگے جواب قسم ہے کہ) یہ تمہارے (ہمہ وقت) ساتھ کے (اور سامنے) رہنے والے (پیغمبر جن کے عام احوال و افعال تم کو معلوم ہیں جن سے بشرط انصاف ان کی راستی اور حقانیت پر استدلال کرسکتے ہو یہ پیغمبر) نہ راہ (حق) سے بھٹکے اور نہ غلط راستے ہو لئے (ضلال یہ کہ بالکل راستہ بھول کر کھڑا رہ جاوے اور غوایت یہ کہ غیر راہ کو راہ سمجھ کر غلط سمت میں چلتا رہے کذا فی الخازن، یعنی تم جو ان کو دعوائے نبوت و دعوت الی الاسلام میں بےراہ سمجھتے ہو یہ بات نہیں ہے، بلکہ آپ نبی برحق ہیں) اور نہ آپ اپنی نفسیانی خواہش سے باتیں بناتے ہیں (جیسا تم لوگ کہتے ہو افتراہ بلکہ) ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے (خواہ الفاظ کی بھی وحی ہو جو قرآن کہلاتا ہے خواہ صرف معافی کی ہو جو سنت کہلاتی ہے اور خواہ وحی جزئی ہو یا کسی قاعدہ کلیہ کی وحی ہو، جس سے اجتہاد فرماتے ہوں، پس اس سے نفی اجتہاد کی نہیں ہوتی اور اصل مقصود مقام نفی ہے کفار کے اس خیال کی کہ آپ خدا کی طرف غلط بات کی نسبت فرماتے ہیں، آگے وحی آنے کا واسطہ بتلاتے ہیں کہ) ان کو ایک فرشتہ (اس وحی کی منجانب اللہ) تعلیم کرتا ہے جو بڑا طاقتور ہے (اور وہ اپنی کوشش و محنت سے طاقتور نہیں ہوا بلکہ) پیدائشی طاقتور ہے (جیسا کہ ایک روایت میں خود جبرئیل ؑ نے اپنی طاقت کا بیان فرمایا کہ میں نے قوم لوط کی بستیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر آسمان کے قریب اس کو لے جا کر چھوڑ دیا (رواہ فی تفسیر سورة التکویر من الدر المنثور) مطلب یہ کہ یہ کلام کسی شیطان کے ذریعہ سے آپ تک نہیں پہنچا کہ کاہن ہونے کا احتمال ہو بلکہ فرشتہ کے ذریعہ سے آیا اور شاید شدید القوی کا ذکر فرمانے میں یہ مقصود ہو کہ اس کا احتمال بھی نہ کیا جاوے کہ شاید اصل میں فرشتہ ہی لے کر چلا ہو مگر درمیان میں کوئی شیطانی تصرف ہوگیا ہو اس میں اشارہ ہوگیا جواب کی طرف کہ وہ نہایت شدید القویٰ ہیں شیطان کی مجال نہیں کہ ان کے پاس پھٹک سکے، پھر ختم وحی کے بعد خود حق تعالیٰ نے اس کے بعینہ ادا کردینے کا وعدہ فرمایا ہے اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَقُرْاٰنَه آگے اس شبہ کا جواب ہے کہ اس وحی لانے والے کا فرشتہ اور جبریل ہونا اس وقت معلوم ہوسکتا ہے، جب آپ ان کو پہچانتے ہوں اور پوزی صحیح پہچان موقوف ہے اصل صورت میں دیکھنے پر تو کیا آپ نے جبرئیل ؑ کو اپنی اصلی صورت پر دیکھا ہے اس کی نسبت فرماتے ہیں کہ ہاں یہ بھی ہوا ہے، جس کی کیفیت یہ ہے کہ چند بار تو دوسری صورت میں دیکھا) پھر (ایک بار ایسا بھی ہوا کہ) وہ فرشتہ (اپنی) اصلی صورت پر (آپ کے روبرو) نمودار ہوا ایسی حالت میں کہ وہ (آسمان کے) بلند کنارہ پر تھا (ایک روایت میں افق شرقی سے اس کی تفسیر آئی ہے، کما فی الدر المنثور، اور افق میں دکھلا دینے کی غالباً یہ حکمت ہے کہ وسط سماء میں دیکھنا خالی از مشقت و تکلف نہیں اور اعلیٰ میں غالباً یہ حکمت تھی کہ باکل نیچے افق پر بھی پوری چیز نظر نہیں آتی، اس لئے ذرا اونچے پر نظر آئے اور اس دیکھنے کا قصہ یہ ہوا تھا کہ ایک بار حضور ﷺ نے جبرئیل ؑ سے خواہش کی کہ مجھ کو اپنی اصلی صورت دکھلا دو ، انہوں نے حرا کے پاس وحسب روایت ترمذی محلہ جیاد میں وعدہ ٹھہرایا، آپ وہاں تشریف لے گئے تو ان کو افق مشرق میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں اور اس قدر پھیلے ہوئے ہیں کہ افق غربی تک گھیر رکھا ہے، آپ بیہوش ہو کر گر پڑے، اس وقت جبرئیل ؑ بصورت بشر ہو کر آپ کے پاس تسکین کے لئے اتر آئے جس کا آگے ذکر ہے کذا فی الجلالین، حاصل یہ کہ وہ فرشتہ اول صورت اصلیہ میں افق اعلیٰ پر نمو دار ہوا) پھر (جب آپ بےہوش ہوگئے تو) وہ فرشتہ (آپ کے) نزدیک آیا پھر اور نزدیک آیا سو (قرب کی وجہ سے) دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ (غایت قرب کی وجہ سے) اور بھی کم (فاصلہ رہ گیا، مطلب دو کمانوں کا یہ ہے کہ عرب کی عادت تھی کہ جب دو شخص باہم غایت درجہ کا اتفاق و اتحاد کرنا چاہتے تھے تو دونوں اپنی اپنی کمانیں لے کر ان کے چلے یعنی تانت کو باہم متصل کردیتے اور اس صفت میں بھی بعض اجزاء کے اعتبار سے کچھ فصل ضروری رہتا ہے، پس اس محاورہ کی وجہ سے یہ کنایہ ہوگیا قرب و اتحاد سے اور چونکہ یہ محض اتفاق صوری کی علامت تھی تو اگر روحانی و قلبی اتفاق بھی ہو تو وہاں اَو اَدنیٰ بھی صادق آسکتا ہے، پس اَو اَدنیٰ کے بڑھا دینے میں اشارہ ہوگیا کہ مجاورت صوریہ کے علاوہ آپ میں اور جبرئیل ؑ میں روحانی مناسبت بھی تھی جو مدار اعظم ہے معرفت تامہ اور حفظ صورت کا، غرض یہ کہ ان کی تسکین سے آپ کو تسکین ہوئی اور افاقہ ہوا) پھر (افاقہ کے بعد) اللہ تعالیٰ نے (اس فرشتہ کے ذریعہ سے) اپنے بندہ (محمد ﷺ پر وحی نازل فرمائی جو کچھ نازل فرمانا تھی (جس کی تعیین بالتخصیص معلوم نہیں اور نہ معلوم ہونے کی حاجت اور باوجودیکہ اصل مقصود اس وقت وحی نازل کرنا نہیں بلکہ جبرئیل کو ان کی اصلی صورت میں دکھلا کر ان کی پوری معرفت آپ کو عطا کرنی تھی مگر اس وقت اور بھی وحی نازل فرمانا شاید اس لئے ہو کہ یہ معرفت میں اور زیادہ معین ہو، کیونکہ اس وقت کی وحی کو جس کا منجانب اللہ ہونا جبرئیل ؑ کی اصل صورت میں ہونے کی وجہ سے قطعی اور یقینی ہے اور دوسرے اوقات کی وحی جو بواسطہ صورت بشریہ ہے جب آنحضرت ﷺ ان دونوں کو ایک شان پر دیکھیں گے تو زیادہ سے زیادہ یقین میں قوت ہوگی کہ دونوں حالتوں میں وحی لانے والا واسطہ یعنی فرشتہ ایک ہی ہے، جیسا کہ کسی شخص کی آواز کے لب و لہجہ اور طرز کلام سے خوب آگاہ ہوں تو اگر کبھی وہ صورت بدل کر بھی بولتا ہے تو صاف پہچانا جاتا ہے، آگے اس دیکھنے کے متعلق ایک شبہ کا جواب ہے وہ شبہ یہ ہے کہ صورت اصلیہ میں دیکھنے کے باوجود یہ بھی تو احتمال ہوسکتا ہے کہ قلب کے ادراک و احساس میں غلطی ہوجائے جیسا کہ احساسات میں غلطی ہوجانا اکثر مشاہدہ کیا جاتا ہے، مجنون باوجود سلامت جس کے بعض اوقات پہچانے ہوئے لوگوں کو دوسرا شخص بتلانے لگتا ہے، پس یہ رویت صحیحہ تھی یا نہیں، آگے اس شبہ کا جواب ہے یعنی وہ رویت صحیحہ تھی کہ اس کے دیکھنے کے وقت) قلب نے دیکھی ہوئی چیز میں غلطی نہیں کی (رہا یہ کہ اس کی کیا دلیل ہے کہ قلب نے غلطی نہیں کی سو بات یہ ہے کہ اگر مطلقاً ایسے احتمالات قابل التفات ہوا کریں تو محسوسات کا کبھی اعتبار نہ رہے، پھر تو ساری دنیا کے معاملات ہی مختلف ہوجاویں، ہاں کسی کے پاس کوئی منشا شبہ کا معتدبہ موجود ہو تو اس پر غور کیا جاتا ہے اور احتمال خطائے قلبی کا منشاء یہ ہوسکتا ہے کہ ادراک کرنے والا مختل العقل ہو اور حضور ﷺ کا صحیح العقل، فطین و ذہین، صاحب فراست ہونا مشاہد اور ظاہر تھا، چونکہ باوجود اس اثبات بلیغ کے پھر بھی معاندین جدال و خلاف سے باز نہ آتے تھے اسی لئے آگے بطور توبیخ و تعجیب کے ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم نے ایسے شافی کافی بیان سے معرفت و رویت کا ثبوت سن لیا) تو کیا ان (پیغمبر) سے ان کی دیکھی (بھالی) ہوئی چیز میں نزاع کرتے ہو (یعنی جن چیزوں کا علم و ادراک انسان کو ہوتا ہے ان میں محسوسات جیسی چیزیں شک و شبہ سے بالاتر ہوتی ہیں، غضب کی بات ہے کہ تم حیات میں بھی اختلاف کرتے ہو، پھر یوں تو تمہاری حسیات میں بھی ہزاروں خدشے نکل سکتے ہیں) اور (اگر یہ مہل خدشہ ہو کہ جس چیز کو ایک ہی بار دیکھا ہو تو اس کی پہچان کیسے ہو سکتی ہے تو جواب یہ ہے کہ اول تو یہ ضروری نہیں کہ ایک بار دیکھنے سے پہچان نہ ہو اور اگر علیٰ سبیل التنزل شناخت کے لئے تکرار مشاہدہ ہی کی ضروری ہے تو) انہوں نے (یعنی پیغمبر ﷺ نے) اس فرشتہ کو ایک اور دفعہ بھی (صورت اصلیہ میں) دیکھا ہے (پس اب تو وہ تو ہم بھی مدفوع ہوگیا، کیونکہ تطابق صورتین سے پوری تعیین ہوگئی کہ ہاں جبرئیل ؑ یہی ہیں، آگے اس دوبارہ دیکھنے کی جگہ بتلاتے ہیں کہ کہاں دیکھا یعنی شب معراج میں دیکھا ہے) سدرة المنتہیٰ کے پاس (سدرہ کہتے ہیں بیری کے درخت کو اور منتہیٰ کے معنی ہیں انتہا کی جگہ، حدیث میں آیا ہے کہ یہ ایک درخت ہے بیری کا، ساتویں آسمان میں عالم بالا سے جو احکام و ارزاق وغیرہ آتے ہیں وہ اول سدرة المنتہیٰ تک پہنچتے ہیں پھر وہاں سے ملائکہ زمین پر لاتے ہیں، اسی طرح یہاں سے جو اعمال صعود کرتے ہیں وہ بھی سدرة المنتہیٰ تک پہنچتے ہیں، پھر وہاں سے اوپر اٹھا لئے جاتے ہیں، دنیا میں اس کی مثال ڈاک خانہ کی سی ہے کہ آمد و برآمد خطوط وہاں سے ہوتی ہے اور عند سدرة المنتہیٰ میں تو امکان رویت بتلایا تھا، آگے اس مکان کا شرف بتلاتے ہیں کہ) اس (سدرة المنتہیٰ) کے قریب جنت الماوی ہے (ماویٰ کے معنی رہنے کی جگہ چونکہ جنت نیک بندوں کے رہنے کی جگہ ہے اس لئے جنت الماویٰ کہتے ہیں، حاصل یہ کہ وہ سدرة المنتہیٰ ایک ممتاز موقع پر ہے، اب بعد تعیین مکان رویت کے رویت کا زمانہ بتلاتے ہیں کہ رویت کب ہوئی، پس فرماتے ہیں کہ) جب اس سدرة المنتہیٰ کو لپٹ رہی تھیں جو چیزیں لپٹ رہی تھیں (ایک روایت میں ہے کہ سونے کے پروانے تھے، یعنی صورت پروانہ کی سی تھی اور ایک روایت میں ہے کہ وہ فرشتے تھے یعنی حقیقت ان کی یہ تھی اور ایک روایت میں ہے کہ ملائکہ نے حق تعالیٰ سے اجازت چاہی تھی کہ ہم بھی حضور ﷺ کی زیارت کریں ان کو اجازت ہوگئی، وہ اس سدرہ پر جمع ہوگئے تھے، (الروایات کلہا فی الدر المنثور) اس میں بھی اشارہ ہوسکتا ہے حضور ﷺ کے معزز و مکرم ہونے کی طرف اور باقی وہی تقریر ہے جو تقیید سابق میں بیان کی گئی، اب ایک احتمال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایسی حیرت انگیز چیزیں دیکھ کر نگاہ چکرا جاتی ہے پوری طرح ادراک پر قدرت نہیں رہتی، پس اس صورت میں جبرئیل ؑ کی صورت کا کیا ادراک ہوگا، جب یہ ادراک ثانی معتبر نہ ہوا تو پھر اس خدشہ مذکورہ کا جو جواب لقدراہ نزلتہ اخری سے دیا گیا ہے وہ کافی نہ ہوا اس احتمال کے رفع کے لئے فرماتے ہیں کہ آپ ان عجائب کو دیکھ کر ذرا نہیں چکرائے اور بالکل متحیر نہیں ہوئے، چناچہ جن چیزوں کی رویت کا حکم تھا ان کی طرف نظر کرنے سے آپ کی) نگاہ نہ تو ہٹی (بلکہ ان چیزوں کو خوب دیکھا) اور (جن چیزوں کے دیکھنے کا حکم جب تک نہ ہوا) نہ (ان کی طرف دیکھنے کو آپ کی نگاہ) بڑھی (یعنی قبل اذن نہیں دیکھا، کذا فی المدارک فی الفرق بین زاغ وطغی، یہ دلیل ہے آپ کے غایت استقلال کی، کیونکہ عجیب چیزوں میں آ کر آدمی یہی دو حرکتیں کیا کرتا ہے جن چیزوں کے دیکھنے کو کہا جاتا ہے ان کو تو دیکھتا نہیں اور جن کے لئے نہیں کہا گیا ان کو تکتا ہے، غرض اس میں انضباط نہیں رہتا، آگے آپ کے استقلال کی قوت بیان کرنے کے لئے فرماتے ہیں کہ) انہوں نے (یعنی پیغمبر ﷺ نے) اپنے پروردگار (کی قدرت) کے بڑے بڑے عجائبات دیکھے (مگر ہر چیز کے دیکھنے میں آپ کی یہی شان رہی مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى، وہ عجائبات احادیث معراج میں آئے ہیں، انبیاء (علیہم السلام) کو دیکھنا ارواح کو دیکھنا جنت وغیرہ کو دیکھنا، پس ثابت ہوا کہ آپ میں غایت استقلال ہے، پس متحیر ہوجانے کا احتمال نہیں پس خدشہ کا جو جواب وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى میں مذکور تھا وہ سالم رہا، غرض تمام تر تقریر سے رویت و معرفت جبرئیل کے متعلق شبہ مندفع ہو کر امر سالت ثابت اور متحقق ہوگیا جو کہ مقصود مقام تھا) معارف و مسائل سورة نجم کی خصوصیات سورة نجم پہلی سورت ہے جس کا رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ میں اعلان فرمایا (رواہ عبداللہ بن مسعود قرطبی) اور یہی سب سے پہلی سورت ہے جس میں آیت سجدہ نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے سجدہ تلاوت کیا اور اس سجدہ میں ایک عجیب صورت یہ پیش آئی کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ سورت مجمع عام میں تلاوت فرمائی، جس میں مسلمان اور کفار سب شریک تھے، جب آپ نے آیت سجدہ پر سجدہ ادا کیا تو مسلمان تو آپ کے اتباع میں سجدہ کرتے ہی، سب نے حضور کے ساتھ سجدہ کیا، تعجب کی چیز یہ پیش آئی کہ جتنے کفار و مشرکین موجود تھے وہ بھی سب سجدہ میں گر گئے، صرف ایک متکبر شخص جس کے نام میں اختلاف ہے، ایسا رہا جس نے سجدہ نہیں کیا، مگر زمین سے ایک مٹھی مٹی کی اٹھا کر پیشانی سے لگالی اور کہنے لگا کہ بس یہی کافی ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود راوی حدیث فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو کفر کی حالت میں مرا ہوا دیکھا ہے (رواہ البخاری و مسلم و اصحاب السنن، ابن کثیر ملخصاً) اس سورت کے شروع میں رسول اللہ ﷺ کے رسول برحق ہونے اور آپ پر نازل ہونے والی وحی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ ہونے کا بیان ہے۔ وَالنَّجْمِ اِذَا هَوٰى، لفظ نجم ستارے کے معنی میں آتا ہے، ہر ایک ستارے کو نجم اور جمع نجوم بولی جاتی ہے اور کبھی یہ لفظ خاص طور سے ثریا ستارے کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو چند ستاروں کا مجموعہ ہے، اس آیت میں بھی بعض حضرات نے نجم کی تفسیر ثریا سے کی ہے، فرا اور حضرت حسن بصری نے پہلی تفسیر یعنی مطلق ستارے کو ترجیح دی ہے (قرطبی) اسی کو اوپر خلاصہ تفسیر میں اختیار کیا گیا ہے۔ اِذَا هَوٰى لفظ ہوٰی، ساقط ہونے اور گرنے کے معنی میں آتا ہے، ستارے کا گرنا اس کا غروب ہونا ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے ستاروں کی قسم کھا کر رسول اللہ ﷺ کی وحی کا حق و صحیح و شکوک سے بالاتر ہونا بیان فرمایا ہے، سورة صافات میں مفصل گزر چکا ہے کہ حق تعالیٰ کو اختیار ہے کہ وہ خاص مصالح اور حکمتوں کے لئے اپنی خاص خاص مخلوقات کی قسم کھاتے ہیں، دوسروں کو اس کی اجازت نہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی قسم کھائے، یہاں حق تعالیٰ نے ستاروں کی قسم کھائی جس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ستارے اندھیری رات میں سمتیں اور راستے بتانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں اور ان سے سمت مقصود کی طرف ہدایت ہوتی ہے، ایسے ہی رسول اللہ ﷺ سے اللہ کے راستے کی طرف ہدایت ہوتی ہے۔
Ayah 53:2

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰىۚ Open ayah 53:2 in the Quran reader

بہکا نہیں تمہارا رفیق اور نہ بےراہ چلا

مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوٰى، یہ جواب قسم ہے یعنی وہ مضمون ہے جس کے لئے قسم کھائی گئی ہے معنی اس کے یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جس راستے کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں وہ صراط مستقیم اور منزل مقصود یعنی رضائے الٰہی کا صحیح راستہ ہے نہ آپ راستہ بھولے ہیں اور نہ غلط راستہ پر چلتے ہیں۔ آنحضرت کو لفظ صاحبکم سے تعبیر کرنے کی حکمت اس جگہ رسول اللہ ﷺ کا نام مبارک یا لفظ رسول و نبی ذکر کرنے کے بجائے آپ کی ذات کو لفظ صاحبکم سے تعبیر کرنے میں اشارہ اس طرف ہے کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کہیں باہر سے نہیں آئے، کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں جن کے صدق و کذب میں تمہیں اشتباہ رہے بلکہ وہ تمہارے ہر وقت کے ساتھ ہیں، تمہارے وطن میں پیدا ہوئے ہیں یہیں بچپن گزارا، یہیں جوان ہوئے ان کی زندگی کا کوئی گوشہ تم سے مخفی نہیں اور تم نے تجربہ کرلیا ہے کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا، کسی غلط اور برے کام میں تم نے ان کو بچپن میں بھی نہیں دیکھا، ان کے اخلاق و عادات، ان کی امانت و دیانت پر تم سب کو اتنا اعتماد تھا کہ پورے مکہ والے آپ کو امین کہا کرتے تھے، اب دعوائے نبوت کے وقت تم ان کی طرف جھوٹ کی نسبت کرنے لگے، جس نے انسانوں کے معاملہ میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، غضب ہے کہ اس پر یہ الزام لگانے لگے کہ اس نے خدا تعالیٰ کے معاملہ میں جھوٹ بولا ہے۔
Ayahs 53:3–4

وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰىؕ Open ayah 53:3 in the Quran reader

اور نہیں بولتا اپنے نفس کی خواہش سے

اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰىۙ Open ayah 53:4 in the Quran reader

یہ تو حکم ہے بھیجا ہوا

اس لئے آگے فرمایا وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى، یعنی رسول اللہ ﷺ اپنی طرف سے باتیں بنا کر اللہ کی طرف منسوب کریں اس کا قطعاً کوئی امکان نہیں، بلکہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کیا ہوا ہوتا ہے، وحی کی بہت سی اقسام احادیث بخاری سے ثابت ہیں، ان میں ایک قسم وہ ہے جس کے معنی اور الفاظ سب حق تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں، جس کا نام قرآن ہے، دوسری وہ کہ صرف معنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں، آنحضرت ﷺ اس معنی کو اپنے الفاظ میں ادا فرماتے ہیں اس کا نام حدیث اور سنت ہے، پھر حدیث میں جو مضمون حق تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے کبھی وہ کسی معاملہ کا صاف اور واضح فیصلہ اور حکم ہوتا ہے، کبھی کوئی قاعدہ کلیہ بتلایا جاتا ہے، جس سے احکام رسول اللہ ﷺ اپنے اجتہاد سے نکالتے اور بیان کرتے ہیں، اس اجتہاد میں اس کا امکان رہتا ہے کہ کوئی غلطی ہوجائے، مگر رسول اللہ ﷺ اور تمام انبیاء کی یہ خصوصیت ہے کہ جو احکام وہ اپنے اجتہاد سے بیان فرماتے ہیں ان میں اگر کوئی غلطی ہوجاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بذریعہ وحی اس کی اصلاح کردی جاتی ہے وہ اپنے غلط اجتہاد پر قائم نہیں رہ سکتے، بخلاف دوسرے علماء مجتہدین کے کہ ان سے اجتہاد میں خطا ہوجائے تو وہ اس پر قائم رہ سکتے ہیں اور ان کی یہ خطا بھی عند اللہ صرف معاف ہی نہیں بلکہ دین کے سمجھنے میں جو اپنی پوری توانائی وہ خوچ کرتے ہیں اس پر بھی ان کو ایک ثواب ملتا ہے (کمافی الاحادیث الصحیحتہ المعروفتہ) اس تقریر سے آیت مذکورہ پر اس شبہ کا جواب بھی ہوگیا کہ جب رسول اللہ ﷺ جو کچھ فرماتے ہیں وہ سب وحی من اللہ ہوتا ہے، تو اس سے لازم آتا ہے کہ آپ اپنی رائے اور اجتہاد سے کچھ نہیں فرماتے، حالانکہ احادیث صحیحہ میں متعدد واقعات ایسے مذکور ہیں کہ شروع میں آپ نے کوئی حکم دیا پھر بذریعہ وحی اس کو بدلا گیا، جو علامت اس کی ہے کہ یہ حکم اللہ کی طرف سے نہیں تھا، بلکہ آپ کی رائے اور اجتہاد سے تھا جواب اوپر آپ کا ہے کہ بعض اوقات وحی کسی قاعدہ کلیہ کی شکل میں آتی ہے، جس سے احکام کا استخراج کرنے میں پیغمبر کو اپنی رائے سے اجتہاد کرنا پڑتا ہے چونکہ یہ قاعدہ کلیہ اللہ کی طرف سے آیا ہے اس لئے ان سب احکام کو بھی وحی من اللہ کہا گیا ہے واللہ اعلم۔
Ayah 53:5

عَلَّمَهٗ شَدِیْدُ الْقُوٰىۙ Open ayah 53:5 in the Quran reader

اس کو سکھلایا ہے سخت قوتوں والے نے

عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى، یہاں سے سترہویں آیت (لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى) تک تمام آیات میں اس کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وحی میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، یہ اللہ کا کلام ہے، جو آپ کو اس طرح دیا گیا ہے کہ اس میں کسی التباس وتلبیس یا خطاء اور غلطی کا کوئی امکان نہیں رہتا۔ آیات نجم کی تفسیر میں ائمہ تفسیر کا اختلاف ان آیات کے بارے میں ائمہ تفسیر سے دو تفسیریں منقول ہیں، ایک کا حاصل یہ ہے کہ ان سب آیات کو واقعہ معراج کا بیان قرار دے کر حق تعالیٰ سے تعلیم بلا واسطہ اور رویت و قرب حق تعالیٰ کے ذکر پر محمول فرمایا، اور شَدِيْدُ الْقُوٰى، ۙذُوْ مِرَّةٍ ۭ فَاسْتَوٰى اور دَنَا فَتَدَلّٰى سب کو حق تعالیٰ کی صفات و افعال قرار دیا اور آگے جو رویت و مشاہدہ کا ذکر ہے اس سے بھی حق تعالیٰ کی رویت و زیارت مراد لی، صحابہ کرام میں حضرت انس اور ابن عباس سے یہ تفسیر منقول ہے، تفسیر مظہری میں اسی کو اختیار کیا ہے اور بہت سے حضرات صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر نے ان آیات کو جبرئیل ؑ کے ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کا بیان قرار دیا ہے اور شَدِيْدُ الْقُوٰى وغیرہ جبرئیل امین کی صفات بتلائی ہیں، اس کی بہت سی وجہ ہیں، تاریخی حیثیت سے بھی سورة نجم بالکل ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور حسب تصریح حضرت عبداللہ بن مسعود سب سے پہلی سورت جس کو آنحضرت ﷺ میں اعلاناً پڑھا ہے یہی سورت ہے اور ظاہر یہی ہے کہ واقعہ معراج اس سے موخر ہے لیکن اس میں کلام کیا جاسکتا ہے اصل وجہ یہ ہے کہ حدیث مرفوع میں خود رسول اللہ ﷺ سے ان آیات کی تفسیر رویت جبرئیل سے منقول ہے، جس کے الفاظ مسند احمد میں یہ ہیں عن الشعبی عن مسروق قال کنت عند عائشة فقلت الیس اللہ یقول (ولقد راہ بالافق، المبین و لقد راہ نزلة اخری) فقالت انا اول ھذہ الامة سالت رسول اللہ ﷺ عنھا فقال انما ذاک جبرئیل لم یرہ فی صورتہ التی خلق علیھا الا مرتین راہ منھبطا من السمآء الی الارض سادا عظم خلقہ ما بین السمآء والارض، اخرجاہ فی الصحیحین من حدیث الشعبی (ابن کثیر) " شعبی حضرت مسروق سے نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک روز حضرت صدیقہ عائشہ کے پاس تھے (رویت باری تعالیٰ کے مسئلہ میں گفتگو تھی) مسروق کہتے ہیں کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ولقد راہ بالافق المبین، و لقد راہ نزلة اخری) حضرت صدیقہ نے فرمایا کہ پوری امت میں سب سے پہلے میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کا مطلب دریافت کیا ہے آپ نے فرمایا کہ جس کے دیکھنے کا آیت میں ذکر ہے وہ جبرئیل ؑ ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے صرف دو مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے آیت میں جس رویت کا ذکر ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے جبرئیل امین کو آسمان سے زمین کی طرف اترتے ہوئے دیکھا کہ ان کے جثے نے زمین و آسمان کے درمیان کی فضا کو بھر دیا تھا "۔ صحیح مسلم میں بھی یہ روایت تقریباً انہی الفاظ سے منقول ہے اور فتح الباری کتاب التفسیر میں حافظ نے ابن مردویہ سے یہی روایت اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے، جس میں صدیقہ کے الفاظ یہ ہیں انا اول من سال رسول اللہ ﷺ عن ھذا، فقلت یا رسول اللہ ھل رایت ربک ؟ فقال لا انما رایت جبرئیل منھبطا (فتح الباری، ص 493 ج 8) " یعنی صدیقہ عائشہ فرماتی ہیں کہ اس آیت کے متعلق سب سے پہلے میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ میں نے جبرئیل کو اترتے ہوئے دیکھا ہے "۔ اور صحیح بخاری میں شیبانی سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت زر سے اس آیت کا مطلب پوچھا (فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى، الی عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى) انہوں نے جواب دیا کہ ہم سے حضرت عبداللہ بن مسعود نے حدیث بیان کی کہ محمد ﷺ نے جبرئیل امین کو اس حالت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو تھے اور ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود سے آیت (مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى) کی تفسیر میں یہ نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل امین کو دیکھا اس حالت میں کہ وہ رفرف کے لباس میں تھے اور زمین و آسمان کی درمیانی فضاء کو ان کے وجود نے بھر رکھا تھا۔ ابن کثیر کی تحقیق یہ سب روایات حدیث ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں نقل کر کے فرمایا ہے کہ سورة نجم کی آیات مذکورہ میں رویت اور قرب سے مراد جبرئیل کی رویت اور قرب ہے، یہ قول صحابہ کرام میں سے حضرت ام المومنین عائشہ اور عبداللہ بن مسعود، ابوذر غفاری، ابوہریرہ ؓ اجمعین کا ہے، اسی لئے ابن کثیر نے آیات مذکورہ کی تفسیر میں فرمایا کہ۔ ان آیات میں جس رویت اور قرب کا ذکر ہے وہ رویت و قرب جبرئیل امین کی مراد ہے جبکہ ان کو رسول اللہ ﷺ نے پہلی مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھا تھا، پھر دوسری مرتبہ شب معراج میں سدرة المنتہیٰ کے قریب دیکھا اور یہ پہلی رویت نبوت کے بالکل ابتدائی زمانہ میں ہوئی، جبکہ جبرئیل ؑ پہلی مرتبہ سورة اقراء کی ابتدائی آیتوں کی وحی لے کر آئے، اس کے بعد وحی میں فترت یعنی وقفہ پیش آیا جس سے رسول اللہ ﷺ کو سخت غم اور تکلیف تھی، بارہا یہ خیالات دل میں آئے کہ پہاڑ سے گر کر جان دیدیں مگر جب کبھی ایسی صورت ہوئی تو جبرئیل امین غائبانہ ہوا سے آواز دیتے کہ اے محمد آپ اللہ کے رسول ہیں برحق ہیں اور میں جبرئیل ہوں، ان کی آواز سے آپ کا دل ٹھہر جاتا اور سکون ہوجاتا تھا، جب کبھی ایسا خیال آیا اسی وقت جبرئیل نے اس آواز کے ذریعہ تسلی دی مگر یہ تسلیاں غائبانہ تھیں، یہاں تک کہ ایک روز جبرئیل امین بطحا کے کھلے میدان میں اپنی اصلی صورت میں اس طرح ظاہر ہوئے کہ ان کے چھ سو بازو تھے اور پورے افق کو گھیر رکھا تھا، پھر جبرئیل امین آپ کے قریب آئے اور آپ کو وحی الٰہی پہنچائی، اس وقت رسول اللہ ﷺ پر جبرئیل امین کی عظمت اور اللہ کے نزدیک جلالت قدر کی حقیقت روشن ہوئی (ابن کثیر) خلاصہ یہ ہے کہ امام ابن کثیر نے خود تفسیر مرفوع اور صحابہ کرام کے اقوال کی بنا پر سورة نجم کی آیات مذکورہ کی تفسیر یہی قرار دی ہے کہ اس میں رویت اور قرب جبرئیل کا مراد ہے اور یہ پہلی رویت ہے جو اسی عالم میں مکہ مکرمہ کے افق پر ہوئی، بعض روایات میں اس رویت کی یہ تفصیل آئی ہے کہ جبرئیل امین کو پہلی مرتبہ ان کی اصلی صورت میں دیکھ کر رسول اللہ ﷺ پر غشی طاری ہوگئی، تو پھر جبرئیل امین آدمی کی صورت میں آپ کے قریب آئے اور بہت قریب آگئے۔ دوسری رویت کا تذکرہ آگے سورة نجم ہی کی آیت وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى میں آیا ہے، جو شب معراج میں ہوئی، مذکور الصدر وجوہ کی بناء پر عامہ مفسرین حضرات نے اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے، ابن کثیر کا مضمون تو ابھی اوپر گزرا ہے، قرطبی، ابو حیان، امام رازی وغیرہ عموماً اسی تفسیر کو ترجیح دے رہے ہیں، سیدی حضرت حکیم الامت نے بھی اسی کو اختیار فرمایا ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر کے عنوان میں بیان ہوچکا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ سورة نجم کی ابتدائی آیات میں حق تعالیٰ کی رویت کا ذکر نہیں ہے بلکہ رویت جبرئیل ؑ مذکور ہے، نووی نے شرح مسلم میں اور حافظ نے فتح الباری میں بھی یہی تفسیر اختیار فرمائی ہے۔
Ayahs 53:6–7

ذُوْ مِرَّةٍ١ؕ فَاسْتَوٰىۙ Open ayah 53:6 in the Quran reader

زور آور نے، پھر سیدھا بیٹھا

وَ هُوَ بِالْاُفُقِ الْاَعْلٰىؕ Open ayah 53:7 in the Quran reader

اور وہ تھا اونچے کنارہ پر آسمان کے

ذُوْ مِرَّةٍ ۭ فَاسْتَوٰى وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى، مرہ کے معنی قوت کے ہیں، یہ بھی جبرئیل امین کی دوسری صفت قوت و طاقت کی زیادتی بیان کرنے کے لئے ہے، تاکہ کسی کو یہ وہم نہ ہو کہ وحی لانے والے فرشتے کے کام میں کوئی شیطان دخیل ہوسکتا ہے، کیونکہ جبرئیل امین اتنے قوی ہیں کہ شیطان ان کے پاس بھی نہیں پھٹک سکتا اور فاستویٰ کے معنی " برابر ہو گئے " مراد یہ ہے کہ اول جب جبرئیل امین کو دیکھا تو وہ آسمان سے اتر رہے تھے، اترنے کے بعد افق بلند پر مستوی ہو کر بیٹھ گئے، افق کے ساتھ اعلیٰ کی قید میں یہ حکمت ہے کہ افق کا وہ حصہ جو زمین کے ساتھ ملا ہوا نظر آتا ہے وہ عموماً نظروں سے مخفی رہتا ہے اس لئے افق بلند پر جبرئیل امین کو دکھلا یا گیا۔
Ayah 53:8

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰىۙ Open ayah 53:8 in the Quran reader

پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى، دنی کے معنی " قریب ہوگیا " اور تدلی کے لفظی معنی " لٹک گیا " مراد جھک کر قریب ہوجاتا ہے۔
Ayah 53:9

فَكَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰىۚ Open ayah 53:9 in the Quran reader

پھر رہ گیا فرق دو کمان کے برابر یا اس سے بھی نزدیک

فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى، قاب، کمان کی لکڑی جہاں دستہ پکڑنے کا ہوتا ہے اور اس کے مقابل کمان کی ڈور (تانت) ہوتی ہے، ان دونوں کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہا جاتا ہے، جس کا اندازہ تقریبی ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہے، قاب قوسین، یعنی دو کمانوں کی قاب فرمانے کی وجہ عرب کی ایک خاص عادت ہے کہ دو آدمی اگر آپس میں معاہدہ صلح اور دوستی کا کرنا چاہتے تو جیسی اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف مشہور ہے، اسی طرح دوسری علامت جس سے دوستی کا مظاہرہ کیا جاتا تھا یہ تھی کہ دونوں شخص اپنی اپنی کمانوں کی لکڑی تو اپنی طرف کرلیتے اور کمان کی ڈور دوسرے کی طرف، اس طرح جب دونوں کمانوں کی ڈوریں آپس میں مل جاتیں تو باہمی قرب و مودت کا اعلان سمجھا جاتا تھا، اس قرب کے وقت ان دونوں شخصوں کے درمیان دونوں قوسوں کے قاب کا فاصلہ رہتا تھا، یعنی تقریباً دو ہاتھ (یا ایک گز) اس کے بعد او ادنی کہہ کر یہ بھی بتلا دیا کہ یہ قرب و اتصال عام رسمی اتصال کی طرح نہیں تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ تھا۔ آیات مذکورہ میں جبر ئیل کا بغایت قریب ہوجانا اس لئے بیان فرمایا گیا کہ یہ ثابت ہوجاوے کہ جو وحی انہوں نے پہنچائی ہے اس کے سننے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور یہ کہ اس قرب و اتصال کی وجہ سے یہ بھی احتمال نہیں رہا کہ رسول اللہ ﷺ جبرئیل امین کو نہ پہچانیں اور کوئی شیطان مداخلت کرسکے۔
Ayah 53:10

فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰىؕ Open ayah 53:10 in the Quran reader

پھر حکم بھیجا اللہ نے اپنے بندہ پر جو بھیجا

فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى، اوحی کی ضمیر فاعل حق تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور عبدہ کی ضمیر بھی، معنی یہ ہیں کہ جبرئیل امین کو معلم کی حیثیت میں رسول اللہ ﷺ کے بالکل قریب بھیج کر حق تعالیٰ نے آپ کی طرف وحی نازل فرمائی۔ ایک علمی اشکال اور اس کا جواب یہاں جو ظاہری شکل میں ایک علمی اشکال یہ محسوس ہوتا ہے کہ اوپر کی آیات میں ضمیریں جمہور مفسرین و محدثین نے جبرئیل امین کی طرف راجع کی ہیں، فَاسْتَوٰى سے لے کر فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى تک سب ضمیریں جبرئیل ہی کی طرف راجع ہیں اور اگلی آیات میں بھی بقول جمہور مفسرین جبرئیل ؑ ہی کا ذکر ہے، تو صرف اس آیت میں اوحی اور عبدہ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع کرنا نظم و نسق عبارت کے خلاف اور انتشار ضمائر کا موجب ہے۔ اس کا جواب استاد محترم حضرت مولانا سید محمد انور شاہ نے یہ دیا ہے کہ نہ یہاں نظم کلام میں کوئی اختلال ہے نہ انتشار ضمائر بلکہ حقیقت یہ ہے کہ سورة نجم کی شروع آیت میں اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰی کا ذکر فرما کر جس مضمون کی ابتداء کی گئی ہے اسی کا نہایت منضبط بیان اس طرح کیا گیا کہ وحی بھیجنے والا تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں، مگر اس وحی کو پہنچانے میں ایک واسطہ جبرئیل کا تھا، چند آیات میں اس واسطہ کی توثیق پوری طرح کرنے کے بعد پھر اَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى فرمایا، تو یہ ابتدائی کلام کا تکملہ ہے اور اس میں انتشار ضمیر اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اوحی اور عبدہ کی ضمیر میں اس کے سوا کوئی احتمال ہی نہیں وہ حق تعالیٰ کی طرف راجع ہو، اس لئے یہ مرجع پہلے سے متعین ہے اور ما اوحیٰ یعنی " جو کچھ وحی فرمانا تھا " اس کو مبہم رکھ کر اس کی عظمت شان کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، صحیح بخاری باب بدا الوحی کی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت جو وحی کی گئی وہ سورة مدثر کی ابتدائی آیات ہیں، واللہ اعلم۔ اس پورے نظم کلام سے قرآن کریم کی حقانیت اور اس کا ٹھیک کلام حق ہونا ثابت ہوتا ہے کہ جس طرح حضرات محدثین احادیث رسول اللہ ﷺ کی سند اپنے سے لے کر رسول اللہ ﷺ تک مکمل بیان کرتے ہیں، ان آیات میں حق تعالیٰ نے قرآن کی سند اس طرح بیان فرما دی کہ موحی یعنی وحی کرنے والا خود حق تعالیٰ ہے اور معلم و مبلغ جو اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان واسطہ سند ہیں وہ جبرئیل امین ہیں، آیات مذکورہ میں جبرئیل کی جلالت شان اور شدید القویٰ ہونا گویا اس واسطہ سند کی تعدیل ہے۔
Ayahs 53:11–12

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى Open ayah 53:11 in the Quran reader

جھوٹ نہیں کہا رسول کے دل نے جو دیکھا

اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا یَرٰى Open ayah 53:12 in the Quran reader

اب کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو اس نے دیکھا

مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى، فواد کے معنی قلب اور مطلب آیت کا یہ ہے کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہے قلب نے بھی اس کے ادراک میں کوئی غلطی نہیں کی، اسی غلطی اور خطاء کو آیت میں لفظ کذب سے تعبیر کیا ہے جو " کچھ دیکھا " قرآن کے الفاظ نے یہ متعین نہیں کیا کہ کیا دیکھا، اس کی تفسیر میں صحابہ وتابعین اور ائمہ تفسیر کے وہی دو قول ہیں جو اوپر تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں کہ بعض کے نزدیک خود حق تعالیٰ کو دیکھنا مراد ہے (وہو قول ابن عباس) اور بعض کے نزدیک جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا مراد ہے (وہو قول عائشتہ و ابن عباس) اور بعض کے نزدیک جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنا مراد ہے (وہو قول عائشتہ و ابن مسعود وابی ہریرة وابی ذرالغفاری ؓ اس تفسیر کے مطابق لفظ رای اپنے حقیقی معنی کے مطابق آنکھ سے دیکھنے کے لئے بولا گیا اور دیکھنے کے بعد ادراک و فہم جو قلب کا کام ہے وہ قلب کی طرف منسوب ہوا، رویت کو مجازی طور پر رویت قلبیہ کے معنی میں لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی (کما فی القرطبی) رہا یہ سوال کہ آیت میں ادراک کی نسبت قلب کی طرف کی ہے، حالانکہ مشہور حکماء کا قول ہے کہ ادراک کا تعلق عقل یا نفس ناطقہ سے ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم کی بہت سی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ادراک و فہم کا اصل مرکز قلب ہے، اس لئے کبھی عقل کو بھی لفظ قلب سے تعبیر کردیا ہے، جیسے آیت (لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ) میں قلب سے مراد عقل لی گئی ہے، کیونکہ قلب مرکز عقل ہے، آیات قرآنیہ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وغیرہ اس پر شاہد ہیں۔
Ayahs 53:13–14

وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰىۙ Open ayah 53:13 in the Quran reader

اور اس کو اس نے دیکھا ہے اترتے ہوئے ایک بار اور بھی

عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى Open ayah 53:14 in the Quran reader

سدرة المنتہیٰ کے پاس

وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى، عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى، یہاں بھی رَاٰهُ کی ضمیر میں وہی دو قول ہیں کہ حق تعالیٰ مراد ہیں، یا جبرئیل امین نَزْلَةً اُخْرٰى کے معنی دوسری مرتبہ کا نزول ہے، راجح تفسیر کے مطابق یہ نزول بھی جبرئیل امین کا ہے اور جیسا کہ پہلی رویت کا مقام قرآن کریم نے اسی عالم دنیا میں مکہ مکرمہ کا افق اعلیٰ بتلایا تھا، اسی طرح اس دوسری رویت کا مقام ساتویں آسمان میں سدرة المنتہیٰ بتلایا اور یہ ظاہر ہے کہ ساتویں آسمان پر رسول اللہ ﷺ کا تشریف لے جانا شب معراج میں ہوا ہے، اس سے اس دوسری رویت کا وقت بھی فی الجملہ متعین ہوجاتا ہے، سدرہ لغت میں بیری کے درخت کو کہتے ہیں اور منتہیٰ کے معنی انتہا کی جگہ، ساتویں آسمان پر عرش رحمن کے نیچے یہ بیری کا درخت ہے، مسلم کی روایت میں اس کو چھٹے آسمان پر بتلایا اور دونوں روایتوں کی تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخین ساتویں آسمان پر پھیلی ہوئی ہیں (قرطبی) اور عام فرشتوں کی رسائی کی یہ آخری حد ہے، اسی لئے اس کو منتہیٰ کہتے ہیں، بعض روایات میں ہے احکام الٰہیہ اول عرش رحمن سے سدرة المنتہیٰ پر نازل ہوتے ہیں، یہاں سے متعلقہ فرشتوں کے سپرد ہوتے ہیں اور زمین سے آسمان پر جانے والے اعمال نامے وغیرہ بھی فرشتے یہیں تک پہنچاتے ہیں، وہاں سے حق تعالیٰ کے سامنے پیش کی اور کوئی صورت ہوتی ہے، مسند احمد میں یہ مضمون حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے (ابن کثیر)
Ayah 53:15

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰىؕ Open ayah 53:15 in the Quran reader

اس کے پاس ہے بہشت آرام سے رہنے کی

عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى، ماوی کے معنی ٹھکانا اور آرام کی جگہ، جنت کو ماوی اس لئے فرمایا کہ انسان کا اصل ٹھکانا اور مقام یہی ہے، یہیں آدم و حوا (علیہما السلام) کی تخلیق ہوئی ہے، یہیں سے ان کو زمین پر اتارا گیا اور پھر یہیں اہل جنت کا مقام ہوگا۔ جنت و دوزخ کا موجودہ مقام اس آیت نے یہ بھی بتلا دیا کہ جنت اس وقت بھی موجود ہے جیسا کہ جمہور امت کا عقیدہ یہی ہے کہ جنت و دوزخ قیامت کے بعد پیدا نہیں کی جائی گی، یہ دونوں مقام اس وقت بھی موجود ہیں، اس آیت نے جنت کا محل وقوع بھی بتلا دیا کہ وہ ساتویں آسمان کے اوپر، عرش رحمن کے نیچے ہے، گویا ساتواں آسمان جنت کی زمین اور عرش رحمن اس کی چھت ہے، دوزخ کا محل وقوع کسی آیت قرآن یا روایت حدیث میں صراحۃً نہیں بتلایا، سورة طور کی آیت والْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ سے بعض مفسرین نے یہ مفہوم نکالا ہے کہ دوزخ سمندر کے نیچے زمین کے قعر میں ہے جس پر اس وقت کوئی بھاری اور سخت غلاف چڑھا ہوا ہے، جو قیامت میں پھٹ جائے گا اور اس کی آگ پھیل کر پورے سمندر کو آگ میں تبدیل کر دے گی۔ زمانہ حال میں یورپ کے بہت سے ماہرین نے جو زمین کو برما کر ایک طرف سے دوسری طرف جانے کا راستہ بنانے کی کوشش سالہا سال جاری رکھی اور بڑی سے بڑی مشینیں اس کام کے لئے ایجاد کیں، مختلف جماعتوں نے اس پر محنت خرچ کی، سب سے زیادہ جو جماعت کامیاب ہوئی وہ مشینوں کے ذریعہ زمین کی گہرائی میں چھ میل تک پہنچ سکی، مگر چھ میل کے بعد سخت پتھر نے ان کو عاجز کردیا تو پھر دوسری جگہ سے کھدائی شروع کی، مگر وہی چھ میل کے بعد سخت پتھر سے سابقہ پڑا، متعدد جگہوں میں اس کا تجربہ کرنے کے بعد ان کی تحقیق یہ قرار پائی کہ چھ میل کی گہرائی کے بعد کوئی غلاف حجری پوری زمین پر چڑھا ہوا ہے، جس میں کوئی مشین کام نہیں کرسکتی، زمین کا قطر جو ہزاروں میل کا ہے اس میں سے سائنس کے اس عروج کے زمانہ میں سائنس کی رسائی صرف چھ میل تک ہوسکی، آگے غلاف حجری کا اقرار کر کے اپنی کوشش چھوڑنا پڑی، اس واقعہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ زمین پوری کسی غلاف حجری سے بند کی ہوئی ہے، اگر کسی روایت صحیحہ سے جہنم کا محل وقوع اس غلاف کے اندر ہونا ثابت ہوجائے تو کچھ بعید نہیں، واللہ سبحانہ، و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 53:16

اِذْ یَغْشَى السِّدْرَةَ مَا یَغْشٰىۙ Open ayah 53:16 in the Quran reader

جب چھا رہا تھا اس بیری پر جو کچھ چھا رہا تھا

اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى، یعنی جبکہ ڈھانپ لیا تھا سدرہ کو ڈھانپنے والی چیز نے، صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے یہ روایت ہے کہ اس وقت سدرة المنتہیٰ پر سونے کے بنے ہوئے پروانے ہر طرف گر رہے تھے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس روز سدرة المنتہیٰ کو خاص طور سے سجایا گیا تھا جس میں آنے والے مہمان حضرت نبی کریم ﷺ کا اعزاز تھا۔
Ayah 53:17

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى Open ayah 53:17 in the Quran reader

بہکی نہیں نگاہ اور نہ حد سے بڑھی

مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى، زاغ، زیغ سے مشتق ہے، جس کے معنی ٹیڑھا یا بےراہ ہوجانا اور طغیٰ طغیان سے مشتق ہے، جس کے معنی حد سے تجاوز کر جانے کے ہیں، مراد ان دونوں لفظوں سے یہ بیان کرنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو کچھ دیکھا اس میں نظر نے کوئی خطا یا غلطی نہیں کی، یہ اس شبہ کا جواب ہے کہ بعض اوقات انسان کی نظر بھی خطا کر جاتی ہے، خصوصاً جبکہ وہ کوئی عجیب غیر معمولی واقعہ دیکھ رہا ہو اس شبہ کے جواب میں قرآن کریم نے دو لفظ استعمال فرمائے کیونکہ نظر کی غلطی دو وجہ سے ہو سکتی ہے، ایک یہ کہ جس چیز کو دیکھنا چاہتا تھا نظر اس سے ہٹ کر دوسری طرف چلی گئی، لفظ ما زاغ سے اس قسم کی غلطی کی نفی کی گئی ہے کہ آپ کی نظر کسی دوسری چیز پر نہیں، بلکہ جس کو دیکھنا تھا ٹھیک اسی پر پڑی، دوسری وجہ نظر کی غلطی یہ ہو سکتی ہے کہ نظر پڑی تو اسی چیز پر جس کو دیکھنا مقصود تھا، مگر اس کے ساتھ وہ ادھر ادھر کی دوسری چیزوں کو بھی دیکھتی رہی، اس میں بھی بعض اوقات التباس ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے، اس قسم کی غلطی کے ازالہ کے لئے وماطغیٰ فرمایا۔ جن حضرات نے آیات سابقہ کی تفسیر رویت جبرئیل ؑ سے کی ہے، وہ اس آیت کا بھی یہی مفہوم قرار دیتے ہیں کہ جبرئیل امین کے دیکھنے میں آنکھ نے کوئی غلطی نہیں کی، اس کے بیان کی ضرورت اس وجہ سے ہوئی کہ جبرئیل ؑ واسطہ وحی ہیں، اگر آپ ان کو اچھی طرح نہ دیکھیں اور نہ پہچانیں تو وحی شبہ سے خالی نہیں رہتی۔ اور جن حضرات نے آیات سابقہ کی تفسیر رویت حق سبحانہ سے کی ہے وہ یہاں بھی یہی فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ سبحانہ کے دیدار میں آنحضرت ﷺ کی آنکھوں نے کوئی غلطی نہیں کی، بلکہ صحیح صحیح دیکھا، البتہ اس آیت نے اس بات کو اور مزید واضح کردیا کہ یہ رویت بچشم سر ہوئی ہے، صرف دل کی رویت نہیں تھی۔ آیات مذکورہ کی تفسیر میں ایک اور تحقیق مفید نمونہ اسلاف محدثین حضرت استاذ مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس اللہ سرہ جو بلاشبہ اس زمانہ میں آیة من آیات اللہ اور جحۃ اللہ فی الارض تھے، ان کے علوم بلاشبہ حافظ ابن حجر اور ذہبی جیسے ائمہ حدیث کے علوم کا نمونہ تھے اور مشکلات القرآن پر آپ کی ایک مستقل تصنیف نہایت دقیق علوم و معارف کا خزانہ ہے، سورة نجم کی آیات میں چونکہ صحابہ وتابعین سے لے کر ائمہ مجہتدین اور محدثین و مفسرین کے مختلف اقوال اور ان میں علمی اشکالات معروف و مشہور ہیں مشکلات القرآن میں آپ نے ان آیات کی تفسیر اس طرح فرمائی کہ بیشتر روایات میں تطبیق ہوجائے۔ پھر احقر کے دوسرے استاذ شیخ الاسلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے جب صحیح مسلم کی شرح فتح الملہم تحریر فرمائی اور اسراء و معراج کے بیان میں سورة نجم کی ان آیات کا حوالہ آیا تو مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر ان آیات کی تفسیر خود حضرت انور الاساتذہ قدس سرہ کے قلم سے لکھوا کر اس کو اپنی کتاب فتح الملہم کا جز بنایا اور اپنے فوائد القرآن میں بھی اسی کو اختیار فرمایا، اس طرح یہ تحقیق احقر کے دو بزرگ اساتذہ کی متفقہ تحقیق ہوگئی اس کے دیکھنے سے پہلے چند باتیں پیش نظر رہنا چاہئے جو تقریباً سب علماء و ائمہ کے نزدیک مسلم ہیں، اول یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا اور ان دونوں مرتبہ دیکھنے کا ذکر سورة نجم کی آیات مذکورہ میں موجود ہے، دوسری مرتبہ کس جگہ کس زمانہ میں دیکھا، اس کو تو انہی آیات میں متعین کر کے بتلا دیا ہے کہ یہ رویت ساتویں آسمان پر سدرة المنتہیٰ کے پاس ہوئی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ساتویں آسمان پر رسول اللہ ﷺ کا تشریف لے جانا صرف لیلتہ المعراج میں ہوا ہے، اس سے اس رویت کی جگہ بھی معلوم ہوگئی اور وقت بھی کہ وہ شب معراج میں ہوئی، پہلی رویت کے محل وقوع اور وقت کا تعین ان آیات میں نہیں ہے، مگر صحیح بخاری باب بدء الوحی میں حضرت جابر بن عبداللہ کی حدیث ذیل سے یہ دونوں چیزیں متعین ہوجاتی ہیں۔ قال وھو یحدث عن فترة الوحی فقال فی حدیثہ بینا انا امشی اذ سمعت صوتا من السمآء فرفعت بصری فاذا الملک الذی جاءنی بحراء جالس علیٰ کرسی بین السمآء والارض فرعبت منہ فرجعت فقلت زملونی فانزل اللہ تعالیٰ یا ایھا المدثر قم فانذر الیٰ قولہ والرجز فاھجر فحمی الوحی وتتابع۔ " رسول اللہ ﷺ نے وحی میں فترت یعنی وقفہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ (ایک روز) جبکہ میں چل رہا تھا اچانک آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے نظر اٹھائی تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جو حراء میں میرے پاس آیا تھا آسمان و زمین کے درمیان (معلق) ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے، میں اس سے مرعوب ہو کر گھر لوٹ آیا اور کہا کہ مجھے ڈھانپ دو ، اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورة مدثر کی آیات والرجز فاہجر تک نازل فرمائیں، اور اس کے بعد وحی آسمان مسلسل آنے لگی "۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دیکھنے کا پہلا واقعہ فترة وحی کے زمانہ میں مکہ معظمہ کے اندر اس وقت پیش آیا جب کہ آپ شہر مکہ میں کہیں جا رہے تھے، اس سے معلوم ہوا کہ پہلا واقعہ معراج سے پہلے زمین مکہ پر اور دوسرا واقعہ ساتویں آسمان پر شب معراج میں پیش آیا ہے۔
Ayah 53:18

لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰیٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى Open ayah 53:18 in the Quran reader

بیشک دیکھے اس نے اپنے رب کے بڑے نمونے۔

دوسری بات یہ بھی سب کے نزدیک مسلم ہے کہ سورة نجم کی ابتدائی آیات میں کم از کم آیت وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى سے لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى تک سب آیتیں واقعہ معراج کے متعلق ہیں۔ امور مذکورہ کے پیش نظر استاذ محترم حجۃ الاسلام حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری قدس سرہ نے سورة نجم کی ابتدائی آیات کی تفسیر اس طرح فرمائی ہے کہ قرآن کریم نے اپنے عام اسلوب کے مطابق سورة نجم کی ابتدائی آیتوں میں دو واقعات کا ذکر فرمایا ہے کہ واقعہ جبرئیل ؑ کو ان کی اصلی صورت میں اس وقت دیکھنے کا ہے جب کہ آپ فترت وحی کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں کسی جگہ جا رہے تھے اور یہ واقعہ اسراء و معراج سے پہلے کا ہے۔ دوسرا واقعہ شب معراج کا ہے جس میں جبرئیل امین کو ان کی اصلی صورت میں دوبارہ دیکھنے سے کہیں زیادہ دوسرے عجائب اور اللہ تعالیٰ کی آیات کبریٰ کا دیکھنا مذکور ہے، ان آیات کبریٰ میں خود حق تعالیٰ سبحانہ کی زیارت و رویت کا شامل ہونا بھی متحمل ہے۔ سورة نجم کی ابتدائی آیات کا اصل مضمون رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور آپ کی وحی میں شبہات نکالنے والوں کا جواب ہے کہ ستاروں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ ارشادات امت کو دیتے ہیں، نہ ان میں کسی غیر اختیاری غلطی کا امکان ہے نہ اختیاری غلطی کا اور یہ آپ جو کچھ فرماتے ہیں اپنی کسی نفسانی غرض سے نہیں کہتے بلکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجی ہوئی وحی ہوتی ہے، پھر چونکہ یہ وحی حضرت جبرئیل ؑ کے واسطے سے بھیجی جاتی ہے وہ بحیثیت معلم و مبلغ وحی پہنچاتے ہیں اس لئے جبرئیل امین کی مخصوص صفات اور عظمت شان کا بیان کئی آیتوں میں ذکر فرمایا، اس میں زیادہ تفصیل کی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ مشرکین مکہ اسرافیل، میکائیل فرشتوں سے تو واقف تھے، جبرئیل سے واقف نہ تھے، بہرحال جبرئیل کی صفات بیان کرنے کے بعد پھر اصل مضمون وحی کو بیان فرمایا فَاَوْحٰٓى اِلٰى عَبْدِهٖ مَآ اَوْحٰى، یہاں تک یہ سب گیارہ آیتیں ہیں جن میں وحی و رسالت کی توثیق کے ضمن میں جبرئیل امین کی صفات کا ذکر ہے اور غور کیا جائے تو یہ سب صفات جبرئیل امین پر بےتکلف صادق آتی ہیں، ان کو اگر اللہ تعالیٰ کی صفت قرار دیا جائے جیسا کہ بعض مفسرین نے کیا ہے تو تکلف و تاویل سے خالی نہیں، مثلاً شَدِيْدُ الْقُوٰى، ذُوْ مِرَّةٍ ، دَنَا فَتَدَلّٰى، ۙفَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى، ان کلمات کو تاویل کے ساتھ تو حق تعالیٰ کے لئے کہا جاسکتا ہے مگر بےتاویل و بےتکلف اس کا مصداق جبرئیل امین ہی ہو سکتے ہیں، اس لئے ان ابتدائی آیات میں جس رویت اور قرب و اتصال کا ذکر ہے وہ سب حضرت جبرئیل ؑ کی رویت سے متعلق قرار دینا ہی اقرب و اسلم معلوم ہوتا ہے۔ البتہ اس کے بعد بارہویں آیت مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى، سے لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى، تک جن میں واقعہ اسراء و معراج کا بیان ہو رہا ہے، اس میں بھی جبرئیل امین کا دوبارہ بصورت اصلیہ دیکھنا اگرچہ مذکور ہے، مگر دوسری آیات کبریٰ کے ضمن میں ہے، جن میں رویت باری تعالیٰ کے شامل ہونے کا احتمال بھی جو موید بالاحادیث الصحیحہ و اقوال صحابہ وتابعین ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، اس لئے مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى کی تفسیر یہ ہے کہ جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے آنکھ سے دیکھا آپ کے قلب مبارک نے اس کی تصدیق کی کہ صحیح دیکھا، اس تصدیق میں قلب مبارک نے کوئی غلطی نہیں کی، اسی کو ماکذب کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس میں " جو کچھ دیکھا " کے الفاظ عام ہیں، ان میں جبرئیل امین کا دیکھنا بھی شامل ہے اور جو کچھ شب معراج میں آپ نے دیکھا وہ سب شامل ہے اور اس میں سب سے اہم خود حق تعالیٰ کی رویت و زیارت ہے، اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اگلی آیت میں ارشاد ہے اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا يَرٰى، جس میں مشرکین مکہ کو خطاب ہے کہ آپ نے جو کچھ دیکھا یا آئندہ دیکھیں گے وہ جھگڑا اور اختلاف کرنے یا شک و شبہ میں پڑنے کی چیز نہیں عین حق و حقیقت ہے، اس آیت میں یہ نہیں فرمایا کہ اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰي مَا قَد رَاٰى، بلکہ عَلٰي مَا يَرٰى بصیغہ مستقبل فرمایا، جس میں اگلی رویت جو لیلتہ المعراج میں ہونے والی تھی اس کی طرف اشارہ اور اس کے بعد کی آیت وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى میں اس کی تصریح ہے اور اس آیت میں بھی دونوں رویتوں کا احتمال ہے، یعنی رویت جبرئیل ؑ اور رویت حق تعالیٰ ، جبرئیل ؑ کی رویت تو ظاہر ہے اور حق تعالیٰ کی رویت کی طرف اشارہ اس طرح پایا جاتا ہے کہ رویت کے لئے قرب عادةً ضروری ہے، جیسا کہ حدیث میں حق تعالیٰ کا نزول سماء دنیا کی طرف آخر شب میں مذکور ہے عند سدرة المنتھیٰ کا مفہوم یہ ہے کہ جس وقت آپ سدرة المنتہیٰ کے پاس تھے جو مقام قرب ہے حق تعالیٰ کے ساتھ اس وقت دیکھا، اس میں حق تعالیٰ کی زیارت بھی مراد ہونے پر یہ حدیث شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ و اتیت سدرة المنتھیٰ فغشیتنی ضبابة خررت لھا ساجدا وھذہ الضبابة ھی الظلل من الغمام التی یاتی فیھا اللہ ویتجلی۔ " میں سدرة المنتہیٰ کے پاس پہنچا تو مجھے بادل کی طرح کی کسی چیز نے گھیر لیا، میں اس کے لئے سجدہ میں گر پڑا، قیامت کے روز محشر میں حق تعالیٰ کا ظہور قرآن کریم کی ایک آیت میں اسی طرح مذکور ہے کہ بادلوں کے سایہ کی طرح کی کوئی چیز ہوگی اس میں حق تعالیٰ نزول اجلال فرمائیں گے "۔ اسی طرح اگلی آیت مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰى کا مفہوم بھی دونوں رویتوں کو شامل ہے اور اس سے یہ مزید ثابت ہوا کہ یہ رویت حالت بیداری میں آنکھوں سے ہوئی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جن آیات میں لیلتہ المعراج کا ذکر ہے ان میں رویت کے بارے میں جتنے الفاظ آئے ہیں ان سب میں رویت جبرئیل اور رویت حق سبحانہ دونوں محتمل ہیں اور بھی حضرات نے ان کی تفسیر رویت حق تعالیٰ سے کی ہے، اس کی گنجائش الفاظ قرآن میں موجود ہے۔ رویت باری کا مسئلہ تمام صحابہ وتابعین اور جمہور امت اس پر متفق ہیں کہ آخرت میں اہل جنت و عام مومنین حق تعالیٰ کی زیارت کریں گے، جیسا کہ احادیث صحیحہ اس پر شاہد ہیں، اس سے اتنا معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی رویت و زیارت کوئی امر محال یا ناممکن نہیں، البتہ عام دنیا میں انسانی نگاہ میں اتنی قوت نہیں جو اس کو برداشت کرسکے اس لئے دنیا میں کسی کو رویت و زیارت حق تعالیٰ کی نہیں ہو سکتی، آخرت کے معاملہ میں خود قرآن کریم کا ارشاد ہے فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ، یعنی آخرت میں انسان کی نگاہ تیز اور قوی کردی جائے گی اور پردے ہٹا دیئے جائیں گے، حضرت امام مالک نے فرمایا کہ دنیا میں کوئی انسان اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتا کیونکہ اس کی نگاہ فانی ہے اور اللہ تعالیٰ باقی، پھر جب آخرت میں انسان کو غیر فانی نگاہ عطا کردی جائے گی تو حق تعالیٰ کی رویت میں کوئی مانع نہ رہے گا، تقریباً یہی مضمون قاضی عیاض سے بھی منقول ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں اس کی تقریباً تصریح ہے جس کے الفاظ یہ ہیںواعلموا انکم لن تروا ربکم حتی تموتوا (فتح الباری، ص 493 ج 8) اس سے امکان تو اس کا بھی نکل آیا کہ عالم دنیا میں بھی کسی وقت خصوصی طور پر رسول اللہ ﷺ کی نگاہ میں وہ قوت بخش دی جائے جس سے وہ حق تعالیٰ کی زیارت کرسکیں، لیکن اس عالم سے باہر نکل کر جبکہ شب معراج میں آپ کو آسمانوں اور جنت و دوزخ اور اللہ تعالیٰ کی خاص آیات قدرت کا مشاہدہ کرانے ہی کے لئے امتیازی حیثیت سے بلایا گیا، اس وقت تو حق تعالیٰ کی زیارت اس عام ضابطہ سے بھی مستثنیٰ ہے کہ اس وقت آپ اس عالم دنیا میں نہیں ہیں، ثبوت امکان کے بعد مسئلہ یہ رہ جاتا ہے کہ کیا رویت واقع ہوئی یا نہیں ؟ اس معاملہ میں روایات حدیث مختلف اور آیات قرآن محتمل ہیں، اسی لئے صحابہ وتابعین اور ائمہ دین میں یہ مسئلہ ہمیشہ زیر اختلاف ہی رہا، ابن کثیر نے ان آیات کی تفسیر میں فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رسول اللہ ﷺ کے لئے رویت حق سبحانہ و تعالیٰ کو ثابت فرماتے ہیں اور سلف صالحین کی ایک جماعت نے ان کا اتباع کیا ہے اور صحابہ وتابعین کی بہت سی جماعتوں نے اس سے اختلاف کیا ہے، آگے دونوں جماعتوں کے دلائل وغیرہ بیان کئے ہیں۔ اسی طرح حافظ نے فتح الباری تفسیر سورة نجم میں اس اختلاف صحابہ وتابعین کے ذکر کرنے کے بعد بعض اقوال ایسے بھی نقل کئے جن سے ان دونوں مختلف اقوال میں تطبیق ہو سکے اور فرمایا کہ قرطبی نے مفہم میں اس بات کو ترجیح دی ہے کہ ہم اس معاملہ میں کوئی فیصلہ نہ کریں، بلکہ توقف اور سکوت اختیار کریں، کیونکہ یہ مسئلہ کوئی عملی مسئلہ نہیں جس کے کسی ایک رخ پر عمل کرنا ناگزیر ہو، بلکہ یہ مسئلہ عقیدہ کا ہے جس میں جب تک قطعی الثبوت دلائل نہ ہوں کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا اور جب تک کسی امر میں قطعی بات نہ معلوم ہو حکم ثبوت اور توقف کا ہے (فتح الباری، ص 494 ج 8) احقر کے نزدیک یہی اسلم و احوط ہے، اس لئے اس مسئلہ کے دو طرفہ دلائل و وجوہات کو ذکر نہیں کیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔