Ayah 52:1خلاصہ تفسیر
قسم ہے طور (پہاڑ) کی اور اس کتاب کی جو کھلے ہوئے کاغذ میں لکھی ہے (مراد اس سے نامہ اعمال ہے جس کی نسبت دوسری آیت میں آیا ہے كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا اور جس چیز میں وہ لکھا ہوا ہے اس کو تشبیہاً کاغذ کہہ دیا) اور (قسم ہے) بیت المعمور کی (کہ ساتویں آسمان میں عبادت خانہ ہے فرشتوں کا، کما فی الدر مرفوعاً) اور (قسم ہے) اونچی چھت کی (مراد آسمان ہے، قال تعالیٰ وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا و قال تعالیٰ اَللّٰهُ الَّذِيْ رَفَعَ السَّمٰوٰتِ ، وصرح بھذا التفسیر عن علی بسند صحیح کنز العمال عن مستدرک الحاکم) اور (قسم ہے) دریائے شور کی جو (پانی سے) پر ہے (آگے جواب قسم ہے) کہ بیشک آپ کے رب کا عذاب ضرور ہو کر رہے گا کوئی اس کو ٹال نہیں سکتا (اور یہ اس روز واقع ہوگا) جس روز آسمان تھر تھرانے لگے گا اور پہاڑ (اپنی جگہ سے) ہٹ جاویں گے (مراد قیامت کا دن ہے اور تھرانا یا تو باعتبار معنی متبادر کے ہو، یا مراد اس سے انشقاق ہو جو دوسری آیت میں مذکور ہے فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَاۗءُ روح المعانی میں ابن عباس سے دونوں تفسیریں نقل کی ہیں اور دونوں میں کوئی تعارض نہیں، آگے پیچھے دونوں کا تحقق ہوسکتا ہے اور یہاں پہاڑوں کا ہٹنا مذکور ہے اور دوسر آیتوں میں ریزہ ریزہ ہونا پھر اڑ جانا مذکور ہے قولہ، يَنْسِفُهَا رَبِّيْ ، قولہ، وَّبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا فَكَانَتْ هَبَاۗءً ، اور ان قسموں میں اس مقصد کو ذہن کے قریب لانا ہے جس کے لئے قسم کھائی گئی اور وہ یہ کہ قیامت کے وقوع کی اصل وجہ جزا و سزا ہے اور مجازاة میں مدار کار احکام شرعیہ ہیں، پس طور کی قسم کھانے پر اشارہ ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ صاحب کلام و احکام ہے، پھر ان احکام کی مخالفت یا موافقت مبنیٰ ہے مجازاة کا، نامہ اعمال کی قسم کھانے میں اشارہ ہوگیا اس موافقت یا مخالفت کے محفوظ و منضبط ہونے کی طرف مجازاة اس پر بھی موقوف ہے کہ احکام الٰہیہ کی اطاعت ضروری ہو، بیت المعمور کی قسم میں اشارہ ہوگیا کہ عبادت ایسا ضروری امر ہے کہ فرشتوں کو بھی باوجود اس کے کہ ان کے لئے جزا و سزا نہیں اس سے نہیں چھوڑا گیا، پھر نتیجہ مجازاة دو چیزیں ہیں، جنت اور دوزخ، سماء کی قسم میں اشارہ ہوگیا کہ جنت ایسی ہی رفعت کا مکان ہے، جیسے آسمان اور بحر مسجور کی قسم میں اشارہ ہوگیا کہ دوزخ بھی ایسی ہی خوفناک چیز ہے، جیسے سمندر، یہ وجہ تخصیص تقسیم اقسام کی ہو سکتی ہے اور نفس قسم کی توجیہ سورة حجر کی آیت لعمرک کے ذیل میں اور غایت و غرض کی شروع سورة صافات میں گزر چکی ہے، آگے اس یوم کے بعض واقعات ارشاد فرماتے ہیں کہ جب یہ ثابت ہوا کہ مستحقین عذاب کے لئے عذاب ضرور واقع ہوگا) تو جو لوگ (قیامت کے اور دیگر امور حقہ توحید و رسالت کے) جھٹلانے والے ہیں (اور) جو تکذیب کے مشغلہ میں بیہودگی کے ساتھ لگ رہے ہیں (جس سے وہ مستحق عذاب ہوگئے ہیں) ان کی اس روز بڑی کم بختی آوے گی جس روز کہ ان کو آتش دوزخ کی طرف دھکے دے دے کر لاویں گے (کیونکہ خوشی سے ایسی جگہ کون آتا ہے، پھر جب ان کے ڈالنے کا وقت ہوگا تو اس حالت سے پکڑ کے ڈال دیئے جاویں گے فَيُؤْخَذُ بالنَّوَاصِيْ وَالْاَقْدَام اور ان کو دوزخ دکھلا کر زجراً کہا جاوے گا کہ) یہ وہی دوزخ ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے (یعنی جن آیتوں میں اس کی خبر تھی ان کو جھٹلاتے تھے اور نیز ان آیات کو سحر کہا کرتے تھے، خیر وہ تو تمہارے نزدیک سحر تھا) تو کیا یہ (بھی) سحر ہے (دیکھ کر بتلاؤ) یا یہ کہ تم کو (اب بھی) نظر نہیں آتا (جیسا دنیا میں نظر نہ آنے کی وجہ سے منکر ہوگئے تھے اچھا تو اب) اس میں داخل ہو پھر خواہ (اس کی) سہار کرنا یا سہار نہ کرنا تمہارے حق میں دونوں برابر ہیں (نہ یہی ہوگا کہ تمہاری ہائے واویلا سے نجات ہوجاوے اور نہ یہی ہوگا کہ تمہاری تسلیم وانقیاد و سکوت پر رحم کر کے نکال دیا جاوے بلکہ ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا اور) جیسا تم کرتے تھے ویسا ہی بدلہ تم کو دیا جائے گا (تم کفر کیا کرتے تھے جو سب سے بڑی نافرمانی اور اللہ تعالیٰ کے حقوق اور کمالات غیر متناہیہ کی ناشکری ہے، پس بدلہ میں دوزخ کا خلود نصیب ہوگا جو کہ عذاب اشد و غیر متناہی ہے، آگے ان کے اضداد کا بیان ہے یعنی) متقی لوگ بلاشبہ (بہشت کے) باغوں اور سامان عیش میں ہوں گے (اور) ان کو جو چیزیں (عیش و آرام کی) ان کے پروردگار نے دی ہوں گی اس سے خوشدل ہوں گے اور ان کا پروردگار ان کو عذاب دوزخ سے محفوظ رکھے گا (اور جنت میں داخل کر کے فرما دے گا کہ) خوب کھاؤ اور پیو مزہ کے ساتھ اپنے (ان نیک) عملوں کے بدلہ میں (جو دنیا میں کیا کرتے تھے) تکیہ لگائے ہوئے تختوں پر جو برابر بچھائے ہوئے ہیں اور ہم ان کا گوری گوری بڑی آنکھوں والیوں سے (یعنی حوروں سے) بیاہ کردیں گے (یہ حال تو سب اہل ایمان کا ہوا) اور (آگے ان خاص مومنین کا ذکر ہے جن کی اولاد بھی موصوف بالایمان تھی پس ارشاد ہے کہ) جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے بھی ایمان میں ان کا ساتھ دیا (یعنی وہ بھی ایمان لائے گو اعمال میں وہ اپنے آباء کے رتبہ کو نہیں پہنچے، جیسا کہ عدم ذکر اعمال اس کا قرینہ ہے، ونیز احادیث میں مصرح ہے کانوا دونہ فی العمل، وکانت منازل ابائھم ارفع، ولم یبلغوا درجتک و عملک، رواھا فی الدر المنثور، تو گو ان کے عمل میں کمی کا مقتضا یہ تھا کہ ان کا درجہ بھی کم ہو، لیکن ان آباء مومنین کے اکرام اور ان کو خوش کرنے کے لئے) ہم ان کی اولاد کو بھی (درجہ میں) ان کے ساتھ شامل کردیں گے اور (اس شامل کرنے کے لئے) ہم ان (اہل جنت متبوعین) کے عمل میں سے کوئی چیز کم نہیں کریں گے، یعنی یہ نہ کریں گے کہ ان متبوعین کے بعض اعمال لے کر ان کی ذریت کو دے کر دونوں کو برابر کردیں، جیسے مثلاً ایک شخص کے پاس چھ سو روپے ہوں اور ایک کے پاس چار سو اور دونوں کا برابر کرنا مقصود ہو تو اس کی ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ چھ سو روپے والے سے ایک سو روپے لے کر اس چار سو والے کو دے دیے جائیں کہ دونوں کے پاس پانچ پانچ سو ہوجائیں اور دوسری صورت جو کریموں کی شان کے لائق ہے یہ ہے کہ چھ سو والے سے کچھ نہ لیا جائے بلکہ اس چار سو والے کو دو سو روپے اپنے پاس سے دیدیں اور دونوں کو برابر کردیں، پس مطلب یہ ہے کہ وہاں پہلی صورت واقع نہ ہوگی جس کا اثر یہ ہوتا کہ متبوع کو بوجہ کم ہوجانے اعمال کے اس کے درجہ سے کچھ نیچے لاتے اور تابع کو کچھ اوپر لے جاتے اور دونوں ایک متوسط درجہ میں رہتے یہ نہ ہوگا، بلکہ دوسری صورت واقع ہوگی اور متبوع اپنے درجہ عالیہ میں بدستور رہے گا اور تابع کو وہاں پہنچا دیا جائے گا اور متبوع اور ذریت میں ایمان کی شرط اس لئے ہے کہ اگر وہ ذریت مومن نہیں تو آباء مومنین کے ساتھ الحاق نہیں ہوسکتا، کیونکہ کافروں میں سے ہر شخص اپنے اعمال (کفریہ) میں محبوس (فی النار اور ماخوذ) رہے گا (کقولہ تعالیٰ اکل نفس بما کسبت رہینتہ الا اصحب الیمین، فسرہ ابن عباس کما فی الدر، یعنی نجات کی کوئی صورت نہیں، لہٰذا ان کا الحاق آباء مومنین کے ساتھ متصور نہیں، اس لئے الحاق میں ایمان ذریت شرط ہے) اور (آگے پھر مطلق اہل ایمان و اہل جنت کا بیان ہے کہ) ہم ان کو میوے اور گوشت جس قسم کا ان کو مرغوب ہو روز افزوں دیتے رہیں گے (اور) وہاں آپس میں (بطور خوش طبعی کے) جام شراب میں چھینا جھپٹی بھی کریں گے کہ اس (شراب) میں نہ بک بک لگے گی (کیونکہ نشہ نہ ہوگا) اور نہ کوئی بیہودہ بات (عقل و متانت کے خلاف) ہوگی اور ان کے پاس (فواکہ وغیرہ لانے کے لئے) ایسے لڑکے آئیں جائیں گے (یہ لڑکے کون ہوں گے اس کی تحقیق تفسیر سورة واقعہ میں آئے گی) جو خاص انہی (کی خدمت) کے لئے ہوں گے (اور غایت حسن و جمال سے ایسے ہوں گے کہ) گویا وہ حفاظت سے رکھے ہوئے موتی ہیں (کہ ان پر ذرا گرد و غبار نہیں ہوتا اور آب و تاب اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے) اور (ان کو روحانی مسرت بھی ہوگی، چناچہ اس میں سے ایک کا بیان یہ ہے کہ) وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے (اور اثنائے گفتگو میں) یہ بھی کہیں گے کہ (بھائی) ہم تو اس سے پہلے اپنے گھر (یعنی دنیا میں انجام کار سے) بہت ڈرا کرتے تھے سو خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا اور ہم کو عذاب دوزخ سے بچا لیا (اور) ہم اس سے پہلے (یعنی دنیا میں) اس سے دعائیں مانگا کرتے تھے (کہ ہم کو دوزخ سے بچا کر جنت میں لے جاوے سو اللہ نے دعا قبول کرلی) واقعی وہ بڑا محسن مہربان ہے (اور اس مضمون سے مسرت ہونا ظاہر ہے اور چونکہ یہ امر دو حیثیت سے نعمت تھا، ایک فی نفسہ عذاب سے بچانا، دوسرے ہم ناکاروں کی ناچیز عرض قبول کرلینا، اس لئے دو عنوانوں سے تعبیر کیا گیا)
معارف و مسائل
وَالطُّوْرِ ، طور کے معنی عبرانی زبان میں پہاڑ کے ہیں جس پر درخت اگتے ہوں، یہاں طور سے مراد وہ طور سینین ہے جو ارض مدین میں واقع ہے، جس پر حضرت موسیٰ ؑ کو حق تعالیٰ سے شرف ہم کلامی نصیب ہوا، بعض روایات حدیث میں ہے کہ دنیا میں چار پہاڑ جنت کے ہیں ان میں سے ایک طور ہے (قرطبی) طور کی قسم کھانے میں اس کی خاص تعظیم و تشریف کی طرف بھی اشارہ ہے اور اس کی طرف بھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لئے کچھ کلام اور احکام آئے ہیں جن کی پابندی ان پر فرض ہے۔
Ayahs 52:2–3وَكِتٰبٍ مَّسْطُوْرٍ فِيْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ ، لفظ رق دراصل پتلی باریک کھال کے لئے بولا جاتا ہے، جو لکھنے کے واسطے کاغذ کی جگہ بنائی جاتی تھی، مراد اس سے وہ چیز ہے جس پر لکھا گیا ہو، اس لئے اس کا ترجمہ کاغذ سے کردیا جاتا ہے اور کتاب مسطور سے مراد تو انسان کا نامہ اعمال ہے جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا ہے اور بعض مفسرین نے اس سے مراد قرآن کریم قرار دیا ہے (قرطبی)
Ayahs 52:4–5آسمانی کعبہ بیت معمور
وَّالْبَيْتِ الْمَعْمُوْرِ ، بیت معمور آسمان میں فرشتوں کا کعبہ ہے، دنیا کے کعبہ کے بالمقابل ہے، صحیحین کی احادیث میں ثابت ہے کہ شب معراج رسول اللہ ﷺ جب ساتویں آسمان پر پہنچے تو آپ کو بیت معمور کی طرف لے جایا گیا جس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت کے لئے داخل ہوتے ہیں، پھر کبھی ان کو دوبارہ یہاں پہنچنے کی نوبت نہیں آتی (کیونکہ ہر روز دوسرے نئے فرشتوں کا نمبر ہوتا ہے) ابن کثیر
بیت معمور ساتویں آسمان کے رہنے والے فرشتوں کا کعبہ ہے، اسی لئے شب معراج میں رسول اللہ ﷺ جب بیت معمور پر پہنچے تو دیکھا کہ ابراہیم ؑ اس کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں چونکہ وہ دنیا کے کعبہ کے بانی تھے، اللہ تعالیٰ نے اس کی جزا میں آسمان کے کعبہ سے بھی ان کا خاص تعلق قائم کردیا (ابن کثیر)
Ayah 52:6وَالْبَحْرِ الْمَسْجُوْرِ ، بحر سے مراد سمندر اور مسجور سجر سے مشتق ہے جو کئی معنی کے لئے استعمال ہوتا ہے، ایک معنی آگ بھڑکانے کے بھی ہیں، بعض حضرات مفسرین نے اس جگہ یہی معنی لئے کہ قسم ہے سمندر کی جو آگ بنادیا جائے گا، اس میں اشارہ اس طرف ہے کہ قیامت کے روز سارا سمندر آگ بن جائے گا جیسا کہ دوسری آیت میں ہے (وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ) یعنی چاروں طرف کے سمندر آگ بن کر میدان حشر میں جمع ہونے والے انسانوں کے محیط ہوجائیں گے، یہی معنی حضرت سعید بن مسیب نے حضرت علی سے نقل کئے ہیں، حضرت ابن عباس اور سعید بن مسیب، مجاہد، عبید اللہ بن عمیر نے بھی یہی تفسیر کی ہے (ابن کثیر)
حضرت علی سے کسی یہودی نے پوچھا کہ جہنم کہاں ہے ؟ تو آپ نے فرمایا سمندر ہے، یہودی نے بھی جو کتب سابقہ کا عالم تھا اس کی تصدیق کی (قرطبی) اور حضرت قتادہ وغیرہ نے مسجور کے معنی مملو کے کئے ہیں، یعنی پانی سے بھرا ہوا، ابن جریر نے اسی معنی کو اختیار کیا (ابن کثیر) یہی معنی خلاصہ تفسیر میں اوپر بیان ہوئے ہیں۔
Ayahs 52:7–8اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ (بیشک آپ کے رب کا عذاب واقع ہو کر رہے گا اس کو کوئی دفع کرنے والا نہیں) یہ جواب قسم ہے اور طور، صحائف، اعمال، بیت المعمور، آسمان، سمندر کی جس مضمون کے لئے قسم کھائی ہے اس کا یہ بیان ہے کہ کفار کے اوپر اللہ کا عذاب ضرور واقع ہوگا۔
واقعہ فاروق اعظم
حضرت فاروق اعظم نے ایک روز سورة طور پڑھی جب اس آیت پر پہنچے تو ایک آہ سرد بھری، جس کے بعد بیس روز تک بیمار رہے، لوگ عیادت کو آتے، مگر یہ کسی کو معلوم نہ ہوسکا کہ بیماری کیا ہے (ابن کثیر)
حضرت جبیر بن مطعم فرماتے ہیں کہ میں مسلمان ہونے سے پہلے ایک مرتبہ مدینہ طیبہ اس لئے آیا کہ رسول اللہ ﷺ سے بدر کے قیدیوں کے متعلق گفتگو کروں، میں پہنچا تو رسول اللہ ﷺ مغرب کی نماز میں سورة طور پڑھ رہے تھے اور آواز مسجد سے باہر تک پہنچ رہی تھی، جب یہ آیت پڑھی اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍ ، اچانک میری یہ حالت ہوئی کہ گویا میرا دل خوف سے پھٹ جائے گا، میں نے فوراً اسلام قبول کیا، مجھے اس وقت یہ محسوس ہو رہا تھا کہ میں اس جگہ سے ہٹ نہیں سکوں گا کہ مجھ پر عذاب آجائے گا (قرطبی)
Ayahs 52:9–20يَّوْمَ تَمُوْرُ السَّمَاۗءُ مَوْرًا، لغت میں مضطربانہ حرکت کو مور کہا جاتا ہے، آسمان کی اضطرابی حرکت جو قیامت کے روز ہوگی یہ اس کا بیان ہے۔
Ayahs 52:21–28بزرگوں کے ساتھ نسبی تعلق آخرت میں بھی نفع دے گا، بشرط ایمان
وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّــتُهُمْ بِاِيْمَانٍ اَلْحَـقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ (یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی ایمان میں ان کے تابع رہی یعنی مومن ہوئی تو ہم ان کی اولاد کو بھی جنت میں انہیں کے ساتھ ملحق کردیں گے) حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنین صالحین کی ذریت و اولاد کو بھی ان کے بزرگ آباء کے درجہ میں پہنچا دیں گے اگرچہ وہ عمل کے اعتبار سے اس درجہ کے مستحق نہ ہوں تاکہ ان بزرگوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں (رواہ الحاکم و البیہقی فی سننہ و النبرار وابو نعیم فی الحلیتہ و ابن المنذر و ابن جریر وابن ابی حاتم، از مظہری)
اور طبرانی نے حضرت سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ابن عباس نے فرمایا اور میرا گمان یہ ہے کہ انہوں نے اس کو رسول اللہ ﷺ سے روایت کیا ہے کہ جب کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا تو اپنے ماں باپ اور بیوی اور اولاد کے متعلق پوچھے گا (وہ کہاں ہی) اس سے کہا جائے گا کہ وہ تمہارے درجہ کو نہیں پہنچے (اس لئے ان کا جنت میں الگ مقام ہے) یہ شخص عرض کرے گا اے میرے پروردگار ! میں نے جو کچھ عمل کیا وہ اپنے لئے اور ان سب کے لئے کیا تھا تو حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے حکم ہوگا کہ ان کو بھی اسی درجہ جنت میں ان کے ساتھ رکھا جائے (ابن کثیر)
حافظ ابن کثیر نے روایات مذکورہ نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ آخرت میں ان روایات سے تو یہ ثابت ہوا کہ آباء صالحین کی برکت سے ان کی اولاد کو فائدہ پہنچے گا اور عمل میں ان کا درجہ کم ہونے کے باوجود اپنے آباء صالحین کے درجے میں پہنچا دیئے جائیں گے، اس کا دوسرا رخ کہ اولاد صالحین کی وجہ سے والدین کو نفع پہنچے یہ بھی حدیث سے ثابت ہے، مسند احمد حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بعض نیک بندوں کا درجہ جنت میں اس کے عمل کی مناسبت سے بہت اونچا کردیں گے، تو یہ دریافت کرے گا کہ میرے پروردگار مجھے یہ مقام اور درجہ کہاں سے مل گیا (میرا عمل تو اس قابل نہ تھا) تو جواب یہ دیا جائے گا کہ تمہاری اولاد نے تمہارے لئے استغفار و دعا کی اس کا یہ اثر ہے (رواہ الامام احمد وقال ابن کثیر اسنادہ صحیح و لم یخرجوہ ولکن لہ شاہد فی صحیح مسلم عن ابی ہریرہ)
وَمَآ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَيْءٍ ، الت اور ایلات کے لفظی معنی کم کرنے کے ہیں (قرطبی) معنی آیت کے یہ ہیں کہ صالحین کی اولاد کو ان کے درجہ عمل سے بڑھا کر صالحین کے ساتھ ملحق کرنے کے لئے ایسا نہیں کیا گیا کہ صالحین کے عمل میں سے کچھ کم کر کے ان کی اولاد کا عمل پورا کیا جاتا بلکہ اپنے فضل سے ان کے برابر کردیا گیا۔r
ۭ كُلُّ امْرِی بِمَا كَسَبَ رَهِيْنٌ، یعنی ہر انسان اپنے عمل میں محبوس ہوگا ایسا نہیں ہوگا کہ کسی دوسرے کا گناہ اس کے سر ڈال دیا جائے یعنی جس طرح آیت سابقہ میں اولاد صالحین کو صالحین کی خاطر سے درجہ بڑھا دیا گیا یہ عمل حسنات میں تو ہوگا سیئات میں ایک کے گناہ کا کوئی اثر دوسرے پر نہ پڑے گا (ابن کثیر)