Ayahs 51:1–6خلاصہ تفسیر
قسم ہے ان ہواؤں کی جو غبار وغیرہ کو اڑاتی ہیں پھر ان بادلوں کی جو بوجھ (یعنی بارش کو) اٹھاتے ہیں پھر ان کشتیوں کی جو نرمی سے چلتی ہیں پھر ان فرشتوں کی جو (حکم کے موافق اہل ارض میں) چیزیں تقسیم کرتے ہیں (مثلاً جہاں جس قدر بارش کا حکم ہوتا ہے جو مادہ ہے رزق کا وہاں بادلوں کے ذریعہ اسی قدر پہنچاتے ہیں، اسی طرح حسب حدیث رحم مادر میں بچے کی صورت میں مذکر و مونث پوچھ کر بناتے ہیں اور سکینہ اور رعب بھی تقسیم کرتے ہیں، آگے ان قسموں کا جواب ہے کہ) تم سے جس (قیامت) کا وعدہ کیا جاتا ہے وہ بالکل سچ ہے اور (اعمال کی) جزا (و سزا) ضرور ہونے والی ہے (ان قسموں میں اشارہ ہے استدلال کی طرف یعنی یہ سب تصرفات عجیبہ قدرت الٰہیہ سے ہونا دلیل ہے عظمت قدرت کی، پھر ایسی عظیم القدرت ذات کو قیامت کا واقع کرنا کیا مشکل ہے اور تفسیر ان کلمات کی جن کی آیات مذکورہ میں قسم کھائی گئی ہے درمنثور میں حدیث مرفوع سے اسی طرح نقل کی ہے جو آگے آتی ہے اور تخصیص ان چیزوں کی شاید اس لئے ہو کہ اس میں اشارہ ہوگیا مخلوق کی اصناف مختلفہ کی طرف چناچہ ملائکہ سماویات میں سے ہیں اور ریاح و سفن (کشتیاں) ارضیات میں سے اور سحاب کائنات جو یعنی فضائی مخلوقات میں سے اور ارضیات میں دو چیزیں جن میں ایک آنکھ سے نظر آتی ہے دوسری نظر نہیں آتی، شاید اس لئے آئی ہوں کہ قیامت کے متعلق ایک مضمون پر خود آسمان کی قسم ہے جیسے اوپر سماویات کی تھی یعنی) قسم ہے آسمان کی جس میں (فرشتوں کے چلنے کے) راستے ہیں (کقولہ تعالیٰ (آیت) ولقد خلقنا فوقکم سبع طرآئق، آگے جواب قسم ہے) کہ تم (یعنی سب) لوگ (قیامت کے بارے میں) مختلف گفتگو میں ہو (کوئی تصدیق کرتا ہے، کوئی تکذیب کرتا ہے، وہذا کقولہ تعالیٰ ”(آیت) عن النبا العظیم الذی ہم فیہ مختلفون“ الذی فسرہ قتادة کما فی الدر بقول مصدق بہ و مکذب اور آسمان کی قسم سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ جنت آسمان میں ہے اور آسمان میں راستہ بھی ہے مگر جو حق میں اختلاف کرے گا اس کے لئے راہ بند ہوجاوے گی اور ان اختلاف والوں میں) اس (وقوع قیامت و جزا کے اعتقاد) سے وہی پھرتا ہے جس کو (بالکلیہ خیر وسعادت ہی سے) پھرنا ہوتا ہے (جیسا کہ حدیث میں ہے من حرمہ فقد حرم الخیر کلہ رواہ ابن ماجہ یعنی جو شخص اس سے محروم رہا وہ ہر خیر سے محروم رہا اور اختلاف والوں کے دوسرے فریق کا یعنی تصدیق کرنے والوں کا حال اسی کے مقابلہ سے معلوم ہوگیا کہ وہ خیر وسعادت سے پھرے ہوئے نہیں، اب آگے ان پھرنے والوں کی مذمت ہے کہ) غارت ہوجائیں بےسند باتیں کرنے والے (یعنی جو قیامت کا انکار کرتے ہیں بلا اس کے کہ ان کے پاس کوئی اس کی دلیل ہو) جو کہ جہالت میں بھولے ہوئے ہیں (بھولنے سے مراد اختیاری غفلت ہے اور وہ لوگ بطور استہزا و استعجال کے) پوچھتے ہیں کہ روز جزا کب ہوگا (آگے جواب ہے کہ وہ اس دن ہوگا) جس دن (کہ) وہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے (اور کہا جاوے گا کہ) اپنی اس سزا کا مزہ چکھو یہی ہے جس کی تم جلدی مچایا کرتے تھے (یہ جواب (آیت) یوم ہم علی النار یفتنون اس طرز کا ہے جیسے کسی مجرم کے لئے پھانسی کا حکم ہوجاوے، مگر وہ احمق باوجود قیام براہین کے محض اس وجہ سے کہ اس کو تاریخ نہیں بتلائی گئی تکذیب ہی کئے جاوے اور کہے جاوے کہ اچھا وہ دن کب آوے گا، چونکہ یہ سوال محض کج روی کی راہ سے ہے اس لئے جواب میں بجائے تاریخ بتلانے کے یہ کہنا نہایت مناسب ہوگا کہ وہ دن اس وقت آوے گا جب تم پھانسی پر لٹکا دیئے جاؤ گے، آگے دوسرے فریق یعنی مومنین و مصدقین کے ثواب کا ذکر ہے کہ) بیشک متقی لوگ بہشتوں اور چشموں میں ہوں گے (اور کیوں نہ ہو ؟) وہ لوگ اس کے قبل (یعنی دنیا میں) نیکوکار تھے (پس حسب وعدہ ہل جزآء الاحسان الا الاحسان کے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا گیا، آگے ان کی نیکوکاری کی قدرے تفصیل ہے کہ) وہ لوگ (فرائض و واجبات سے ترقی کر کے نوافل و تطوعات کے ایسے التزام کرنے والے تھے کہ) رات کو بہت کم سوتے تھے (یعنی زیادہ حصہ رات کا عبادت میں صرف کرتے تھے) اور (پھر باوجود اس کے اپنی عبادت پر نظر نہ کرتے تھے بلکہ) اخیر شب میں (اپنے کو عبادت میں کوتاہی کرنے والا سمجھ کر) استغفار کیا کرتے تھے (یہ تو عبادت بدنیہ میں ان کی حالت تھی) اور (عبادت مالیہ کی یہ کیفیت تھی کہ) ان کے مال میں سوالی اور غیر سوالی سب کا حق تھا (یعنی ایسے التزام سے دیتے تھے جیسے ان کے ذمہ ان کا کچھ آتا ہو، مراد اس سے غیر زکوٰة ہے (ہکذا فی الدر عن ابن عباس و مجاہد و ابراہیم) اور یہ مطلب نہیں ہے کہ جنات و عیون کا ملنا نوافل پر موقوف ہے بلکہ یہاں اہل درجات عالیہ کا ذکر فرمایا گیا ہے) اور (چونکہ کفار قیامت کی صحت کا انکار کرتے تھے اس لئے آگے اس کی دلیل کی طرف اشارہ ہے کہ) یقین لانے (کی کوشش اور طلب کرنے) والوں کے لئے (قیامت کے ممکن اور واقع ہونے پر) زمین (کے کائنات) میں بہت نشانیاں (اور دلیلیں) ہیں اور خود تمہاری ذات میں بھی (یعنی تمہارے ظاہری و باطنی احوال مختلفہ بھی دلائل ہیں قیامت کے ممکن ہونے کے، کیونکہ امور آفاقیہ و انفسیہ بالیقین داخل تحت القدرت ہیں اور قدرت ذاتیہ کی نسبت تمام ممکنات کے ساتھ یکساں ہے، اور جب کہ قیامت کے ناممکن ہونے کی کوئی دلیل نہیں تو قیامت بھی ممکنات سے ہے، پس وہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے اور چونکہ ان دلائل کی دلالت بہت واضح تھی، اس لئے توبیخاً فرماتے ہیں کہ جب ایسے دلائل موجود ہیں) تو کیا تم کو (مطلوب پھر بھی) دکھلائی نہیں دیتا اور (رہا تعین وقت وقوع کا جس کے عدم سے استدلال عدم وقوع پر کرتے تھے، سو اس کی نسبت یہ ہے کہ) تمہارا رزق اور جو تم سے (قیامت کے متعلق) وعدہ کیا جاتا ہے (ان) سب (کا معین وقت) آسمان میں (جو لوح محفوظ ہے اس میں درج) ہے (زمین پر اس کا یقینی علم کسی مصلحت سے نازل نہیں کیا گیا چناچہ وینزل الغیث میں بھی نہیں بتلایا گیا اور مشاہدہ بھی ہے کہ یقینی تعیین کسی کو نہیں معلوم لیکن جب باوجود تعیین وقت کا علم نہ ہونے کے رزق کا وجود یقینی ہے پھر اس عدم تعیین تاریخ سے قیامت کا عدم کیسے لازم آ گیا اور ایسے استدلال کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ما تو عدون کے ساتھ رزقکم بڑھا دیا، آگے اسی پر تفریع فرماتے ہیں کہ جب نفی کی کوئی دلیل نہیں اور اثبات کی دلیل ہے) تو قسم ہے آسمان اور زمین کے پروردگار کی کہ وہ (روز جزا) برحق ہے (اور ایسا یقینی) جیسا تم باتیں کر رہے ہو (کبھی اس میں شک نہیں ہوتا، اس طرح اس کو یقینی سمجھو)
معارف و مسائل
سورة ذاریات میں بھی اس سے پہلی سورت ق کی طرح زیادہ تر مضامین آخرت و قیامت اور اس میں مردوں کے زندہ ہونے، حساب کتاب اور ثواب و عذاب کے متعلق ہیں۔
پہلی چند آیات میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ قیامت کے متعلق جن چیزوں کا وعدہ کیا گیا ہے وہ سچا وعدہ ہے، جن چیزوں کی قسم کھائی ہے وہ چار ہیں، وَالذّٰرِيٰتِ ذَرْوًا، فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا، فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًا، فَالْمُقَسِّمٰتِ اَمْرًا۔ ایک حدیث مرفوع میں جس کو ابن کثیر نے ضعیف کہا ہے اور حضرت فاروق اعظم اور علی مرتضیٰ سے موقوفاً ان چاروں چیزوں کے معنی اور مفہوم یہ بتلایا گیا ہے کہ ذاریات سے مراد وہ ہوائیں ہیں جن کے ساتھ غبار ہوتا ہے اور حاملات و قراً کے لفظی معنی بوجھ اٹھانے والے کے ہیں، اس سے مراد بادل ہیں جو پانی کا بوجھ اٹھائے ہوتے ہیں اور جاریات یسرا سے مراد کشتیاں ہیں جو پانی میں آسانی سے ساتھ چلتی ہیں اور مقسمات امرا سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عام مخلوقات میں رزق اور بارش کا پانی اور تکلیف و راحت کی مختلف اقسام تقدیر الٰہی کے مطابق تقسیم کرتے ہیں، تفسیر ابن کثیر، قرطبی اور در منثور میں یہ روایات موقوفہ و مرفوعہ مذکور ہیں۔
Ayahs 51:7–8(آیت) وَالسَّمَاۗءِ ذَاتِ الْحُبُكِ ، اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ ، حبک، حبیکہ کی جمع ہے، کپڑے کی بناوٹ میں جو دھاریاں ہوجاتی ہیں ان کو حبک کہا جاتا ہے، وہ چونکہ راستہ اور سڑک کے مشابہ ہوتی ہیں اس لئے راستوں کو بھی حبک کہہ دیا جاتا ہے، بہت سے حضرات مفسرین نے اس جگہ یہی معنی مراد لئے ہیں کہ قسم ہے آسمان کی جو راستوں والا ہے، راستوں سے وہ راستے بھی مراد ہو سکتے ہیں جن سے فرشتے آتے جاتے ہیں اور اس سے مراد ستاروں اور سیاروں کے راستے اور ان کے مدار بھی ہو سکتے ہیں جو دیکھنے والوں کو آسمان میں نظر آتے ہیں
اور چونکہ یہ بناوٹ کی دھاریاں کپڑے کی زینت اور حسن بھی ہوتی ہیں، اس لئے بعض حضرات مفسرین نے یہاں حبک کے معنی زینت اور حسن کیلئے ہیں کہ قسم ہے آسمان کی جو حسن وزینت والا ہے، یہ قسم جس مضمون کے لئے آئی ہے وہ (اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ) میں مذکور ہے، بظاہر اس کے مخاطب مشرکین مکہ ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے متعلق مختلف اور متضاد باتیں کہا کرتے تھے، کبھی مجنون، کبھی جاو و گر، کبھی شاعر وغیرہ کے لغو خطابات دیتے تھے اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس کے مخاطب عام امت کے لوگ مسلم و کافر سب ہوں اور قول مختلف سے مراد یہ ہو کہ بعض تو رسول اللہ ﷺ پر ایمان لاتے اور تصدیق کرتے ہیں، بعض انکار و مخالفت سے پیش آتے ہیں (ذکرہ فی المظہری)
Ayah 51:9(آیت) يُّؤْفَكُ عَنْهُ مَنْ اُفِكَ ، افک کے لفظی معنی پھرجانے، منحرف ہوجانے کے ہیں اور عنہ کی ضمیر میں دو احتمال ہیں، دونوں کے معنی الگ الگ ہیں، ایک احتمال تو یہ ہے کہ ضمیر قرآن اور رسول کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ قرآن اور رسول سے وہی بدنصیب منحرف ہوتا ہے جس کے لئے محرومی مقدر ہوچکی ہے۔
اور دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ ضمیر قول مختلف کی طرف راجع ہو اور معنی یہ ہوں کہ تمہارے مختلف اور متضاد اقوال کی وجہ سے وہی شخص قرآن و رسول کا منکر ہوتا ہے جو بدنصیب محروم ہی ہو۔
Ayahs 51:10–16(آیت) قُتِلَ الْخَــرّٰصُوْنَ ، خراص کے لفظی معنی اندازہ لگانے والے اور ظن و تخمینہ سے بات کرنے والے کے ہیں مراد اس سے وہ قول مختلف والے کفار و منکرین ہیں جو بغیر کسی دلیل اور وجہ کے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں متضاد باتیں کہتے ہیں، اس لئے یہاں خراصون کا ترجمہ کذابون سے بھی کردیا جائے تو بعید نہیں ان کے لئے اس جملے میں بد دعا ہے جو درحقیقت لعنت کے معنے میں ہے (مظہری) کفار کے ذکر کے بعد مومنین متقین کا ذکر کئی آیتوں میں آیا ہے۔
Ayah 51:17عبادت میں شب بیداری اور اس کی تفصل
(آیت) كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ ، یہجعون، ہجوع سے مشتق ہے جس کے معنی رات کو سونے کے آتے ہیں، اس میں مومنین متقین کی یہ صفت بیان فرمائی ہے کہ وہ رات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزارتے ہیں، سوتے کم ہیں جاگتے زیادہ ہیں اور وقت نماز و عبادت میں گزارتے ہیں، یہ تفسیر ابن جریر نے اختیار کی ہے اور حضرت حسن بصری سے یہی منقول ہے کہ متقین حضرات رات کو جاگنے اور عبادت کرنے کی مشقت اٹھاتے ہیں اور بہت کم سوتے ہیں اور حضرت ابن عباس، قتادہ، مجاہد وغیرہ ائمہ تفسیر نے اس جملے کا مطلب حرف ما کو اس میں نفی کے لئے قرار دے کر یہ بتلایا گیا ہے کہ رات کو تھوڑا سا حصہ ان پر ایسا بھی آتا ہے جس میں وہ سوتے نہیں بلکہ عبادت نماز وغیرہ میں مشغول رہتے ہیں، اس مفہوم کے اعتبار سے وہ سب لوگوں اس کا مصداق ہوجاتے ہیں، جو رات کے کسی بھی حصہ میں عبادت کرلیں، خواہ شروع میں یا آخر میں یا درمیان میں، اسی لئے حضرت انس اور ابوالعالیہ نے اس کا مصداق ان لوگوں کو قرار دیا جو مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں اور امام ابوجعفر باقر نے فرمایا کہ جو لوگ عشاء کی نماز سے پہلے نہ سوویں وہ بھی اس میں داخل ہیں (ابن کثیر)
حضرت حسن بصری نے احنف بن قیس سے نقل کیا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ میں نے اپنے عمل کا اہل جنت کے اعمال سے موازنہ کیا تو یہ دیکھا کہ وہ ایک ایسی قوم ہے جو ہم سے بہت بلند وبالا اور ممتاز ہے وہ ایک ایسی قوم ہے کہ ہمارے اعمال ان کے درجہ تک نہیں پہنچتے کیونکہ وہ لوگ راتوں میں سوتے کم ہیں عبادت زیادہ کرتے ہیں، پھر میں نے اپنے اعمال کا اہل جہنم کے اعمال سے موازنہ کیا تو دیکھا کہ وہ اللہ و رسول کی تکذیب کرنے والے قیامت کا انکار کرنے والے ہیں (جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا) اس لئے ہمارے اعمال موازنہ کے وقت نہ اصل اہل جنت کے درجہ کو پہنچتے ہیں اور نہ (بحمد اللہ) اہل جہنم کے ساتھ ملتے ہیں، تو معلوم ہوا کہ ہمارا درجہ عمل کے اعتبار سے وہ ہے جن کا قرآن کریم نے ان الفاظ سے ذکر فرمایا ہےخلطوا عملاً صالحا واخر سیئا، یعنی وہ لوگ جنہوں نے اچھے برے اعمال خلط ملط کر رکھے ہیں، تو ہم میں بہتر آدمی وہ ہے جو کم از کم اس طبقے کی حدود میں رہے
اور عبدالرحمن بن زید بن اسلم فرماتے ہیں کہ بنی تمیم کے ایک شخص نے میرے والد سے کہا کہ اے ابو اسامہ ہم اپنے اندر وہ صفت نہیں پاتے جو اللہ تعالیٰ نے متقین کے لئے ذکر فرمائی ہے، یعنی (كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُوْنَ) کیونکہ ہمارا حال تو یہ ہے کہ قلیلاً من الیل ما نقوم ،”یعنی رات میں بہت کم جاگتے اور عبادت کرتے ہیں، میرے والد نے اس کے جواب میں فرمایا
طوبی لمن رقد اذا نعس واتقی اللہ اذا استیقظ (ابن کثیر)
”بشارت ہے اس شخص کے لئے جس کو نیند آوے تو سو جاوے مگر جب بیدار ہو تو تقویٰ اختیار کرے یعنی خلاف شرع کوئی کام نہ کرے“
مطلب یہ ہے کہ مقبولیت عند اللہ صرف رات کو بہت جاگنے میں منحصر نہیں، جو شخص نیند سے مجبور ہو اور رات میں زیادہ نہ جاگے، مگر بیداری میں گناہ و معصیت سے بچے وہ بھی قابل مبارک باد ہے۔
یایھا الناس اطعموا الطعام و صلوا الارحام وافشوا السلام وصلوابالیل والناس نیام قد خلوا الجنة بسلام (ابن کثیر)
”اے لوگو ! تم لوگوں کو کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو اور سلام ہر شخص مسلمان کو کرو اور رات کو اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے“
Ayah 51:18استغفار سحری کی برکات و فضائل
وَبِالْاَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ ، (یعنی مومنین متقین سحرگاہ کے وقت اپنے گناہوں سے استغفار کرتے ہیں، اسحار، سحر کی جمع ہے، رات کے آخری چھٹے حصے کو سحر کہا جاتا ہے اس آخری حصہ شب میں استغفار کرنے کی فضیلت اس آیت میں بھی ہے، اور دوسری آیت (آیت) والمستغفرین بالاسحار میں بھی، صحاح حدیث کی سب کتابوں میں یہ حدیث مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات کو آخری تہائی حصہ میں آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں (جو ان کی شان کے مناسب ہے، اس کی حقیقت کسی کو معلوم نہیں) اور اعلان فرماتے ہیں کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا جس کی میں توبہ قبول کروں، ہے کوئی استغفار کرنے والا کہ میں اس کی مغفرت کروں (ابن کثیر)
یہاں یہ بات قابل نظر ہے کہ اس استغفار سحری میں ان متقین کا بیان ہو رہا ہے جن کا حال اس سے پہلی آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ رات کو اللہ کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں، بہت کم سوتے ہیں، ان حالات میں استغفار کرنے کا بظاہر کوئی جوڑ معلوم نہیں ہوتا کیونکہ طلب مغفرت تو گناہ سے کی جاتی ہے، جن لوگوں نے ساری رات عبادت میں گزار دی وہ آخر میں استغفار کس گناہ سے کرتے ہیں۔
جواب یہ ہے کہ ان حضرات کو چونکہ حق تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کو پہچانتے ہیں اور اپنی ساری عبادت کو اس کے شایان شان نہیں دیکھتے، اس لئے اپنی اس تقصیر و کوتاہی سے استغفار کرتے ہیں (مظہری)
Ayah 51:19صدقہ و خیرات کرنیوالوں کو خاص ہدایت
(آیت) وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّاۗىِٕلِ وَالْمَحْرُوْمِ ، سائل سے مراد وہ غریب حاجت مند ہے جو اپنی حاجت لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہے اور لوگ اس کی مدد کرتے ہیں اور محروم سے مراد وہ شخص ہے کہ فقیر و مفلس اور حاجت مند ہونے کے باوجود شرافت نفس کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتا، اس لئے لوگوں کی امداد سے محروم رہتا ہے، اس آیت میں مومنین متقین کی یہ صفت بتلائی گئی کہ وہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے وقت صرف سائلین یعنی اپنی حاجات ظاہر کرنے والوں ہی کو نہیں دیتے بلکہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے اور حالات کی تحقیق سے باخبر رہتے ہیں جو اپنی حاجت کسی سے کہتے نہیں
اور ظاہر ہے کہ مقصد آیت کا یہ ہے کہ یہ مومنین متقین صرف بدنی عبادت نماز اور شب بیداری پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ مالی عبادت میں بھی ان کا بڑا حصہ رہتا ہے کہ سائلین کے علاوہ ایسے لوگوں پر بھی نظر رکھتے ہیں جو شرافت کے سبب اپنی حاجت کسی پر ظاہر نہیں کرتے مگر اس مالی عبادت کا ذکر قرآن کریم نے اس عنوان سے فرمایا (وَفِيْٓ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ) یعنی یہ لوگ جن فقراء و مساکین پر خرچ کرتے ہیں ان پر کوئی احسان نہیں جتلاتے، بلکہ یہ سمجھ کردیتے ہیں کہ ہمارے اموال خدا داد میں ان کا بھی حق ہے اور حق دار کا حق اس کو پہنچا دینا کوئی احسان نہیں ہوا کرتا، بلکہ ایک حق اور ذمہ داری سے اپنی سبکدوشی ہوتی ہے۔
Ayah 51:20آفاق دانفس دونوں میں قدرت کی نشانیاں
(آیت) وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ ، (یعنی زمین میں بہت نشانیاں قدرت کی ہیں، یقین کرنے والوں کے لئے) پچھلی آیات میں اول کفار و منکرین کا حال اور انجام بد بتلایا گیا ہے، پھر مومنین متقین کے حالات وصفات اور ان کے درجات عالیہ کا ذکر فرمایا، اب پھر کفار و منکرین قیامت کے حال کی طرف غور اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کی نشانیاں ان کے پیش نظر کر کے انکار سے باز آجانے کی ہدایت ہے، تو اس جملہ کا تعلق مذکورہ سابق جملے (اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ) سے ہوا، جس میں قرآن و رسول سے انکار کا ذکر ہے۔
اور تفسیر مظہری میں اس کو بھی مومنین متقین ہی کی صفات میں داخل کیا، اور موقنین سے مراد وہی متقین ہیں اور اس میں ان کا یہ حال بتلایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات قدرت جو زمین و آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں ان میں غور و فکر اور تدبر سے کام لیتے ہیں جس کے نتیجہ میں ان کا ایمان و ایقان بڑھتا ہے جیسا کہ ایک دوسری آیت میں ان کے بارے میں ارشاد ہے (آیت) ویتفکرون فی خلق السموت وا لارض)۔
اور زمین میں جن آیات قدرت کا ذکر فرمایا ہے وہ بیشمار ہیں، زمین میں نباتات اور اشجار و باغات ہی کو دیکھو ان کے اقسام و انواع ان کے رنگ و بو ایک ایک پتہ کی تخلیق میں کمال حسن پھر ان میں سے ہر ایک کے خواص و آثار میں اختلاف کی ہزاروں قسمیں، اسی طرح زمین میں نہریں، کنویں اور پانی کے دوسرے مرکز اور ان سے تیار ہونے والی لاکھوں انواع مخلوقات، زمین کے پہاڑ اور غار، زمین میں پیدا ہونے والے حیوانات اور ان کی ان گنت اقسام و انواع، ہر ایک کے حالات اور منافع مختلف، زمین میں پیدا ہونے والے انسانوں کے حالات مختلف قبائل اور مختلف خطوں کے انسانوں میں رنگ اور زبان کا امتیاز، اخلاق و عادات کا اختلاف وغیرہ جن میں آدمی غور کرے تو ایک ایک چیز میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے اتنے مظاہر پائے گا کہ شمار کرنا بھی مشکل ہے
Ayah 51:21(آیت) وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ ، اس جگہ آیات قدرت کے بیان میں آسمان اور فضائی مخلوقات کا ذکر چھوڑ کر صرف زمین کا ذکر فرمایا ہے جو انسان کے بہت قریب ہے، جس پر انسان بستا اور چلتا پھرتا ہے، اس آیت میں اس سے بھی زیادہ قریب یعنی خود انسان کی ذات کی طرف توجہ دلائی کہ زمین اور زمین کی مخلوقات کو بھی چھوڑو خود اپنے وجود اپنے جسم اور اس کے اعضاء وجوارح ہی میں غور کرلو تو ایک ایک عضو کو حکمت حق تعالیٰ کا ایک دفتر پاؤ گے اور سمجھ لوگے کہ سارے عالم میں جو آیات قدرت حق تعالیٰ کی ہیں انسان کے اپنے چھوٹے سے وجود میں وہ سب گویا سمٹ آئی ہیں، اسی لئے انسان کے وجود کو عالم اصغر کہا جاتا ہے کہ سارے عالم دنیا کی مثالیں انسان کے وجود میں موجود ہیں، انسان اگر اپنی ابتدا پیدائش سے لے کر موت تک کے پیش آنے والے حالات میں ہی غور و تدبر کرنے لگے تو اس کو حق تعالیٰ گویا اپنے سامنے نظر آنے لگیں۔
کہ کس طرح ایک انسانی نطفہ دنیا کے مختلف خطوں کی غذاؤں اور دنیا میں بکھرے ہوئے اجزاء لطیفہ کا خلاصہ بن کر رحم میں قرار پایا، پھر کس طرح نطفہ سے ایک منجمد خون علقہ بنا، پھر علقہ سے مضغہ (گوشت کا ٹکڑا) بنا، پھر کس طرح اس میں ہڈیاں بنائی گئیں، پھر ان پر گوشت چڑھایا گیا، پھر کس طرح اس بےجان پتلے میں جان ڈالی گئی اور اس کی تخلیق کی تکمیل کر کے اس دنیا میں لایا گیا، پھر کس طرح تدریجی ترقی کر کے ایک بےعلم بےشعور بچے سے ایک دانشمند فعال انسان بنایا گیا اور کس طرح ان کی صورتیں اور شکلیں مختلف بنائی گئیں کہ اربوں پدموں انسانوں میں ایک کا چہرہ دوسرے سے بالکل ممتاز نظر آتا ہے، اس چند انچ کے رقبہ میں ایسے امتیازات رکھنا کس کے بس کی بات ہے، پھر ان کی طبائع اور مزاجوں میں اختلاف اور اس اختلاف کے باوجود ایک وحدت یہ سب اس قدرت کاملہ کی کرشمہ سازی ہے جو بےمثل و بےمثال ہے۔ (آیت) فتبرک اللہ احسن الخلقین۔
یہ وہ چیزیں ہیں جن کا ہر انسان کہیں باہر اور دور نہیں خود اپنے ہی وجود میں دن رات مشاہدہ کرتا ہے اس کے باوجود بھی اگر وہ اللہ جل شانہ اور اس کی قدرت کا ملہ کا اعتراف نہ کرے تو کوئی اندھا ہی ہوسکتا ہے جس کو کچھ نہ سوجھے، اسی لئے آخر میں فرمایا افلاتبصرون ”یعنی کیا تم دیکھتے نہیں“ اشارہ اس طرف ہے کہ اس میں کچھ زیادہ عقل و سمجھ کا بھی کام نہیں، بینائی ہی درست ہو تو اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔
Ayah 51:22(آیت) وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ، (یعنی آسمان میں ہے تمہارا رزق اور جو کچھ تم سے وعدہ کیا جاتا ہے) اس کے بےغبار و بےتکلف تفسیر وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں اختیار کی گئی، یعنی آسمان میں ہونے سے مراد آسمان میں لوح محفوظ کے اندر لکھا ہونا مراد ہے اور یہ ظاہر ہے کہ ہر انسان کا رزق اور جو کچھ اس سے وعدے کئے گئے اور اس کا جو کچھ انجام ہونا ہے وہ سب لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔
حدیث میں حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے مقررہ رزق سے بچنے اور بھاگنے کی بھی کوشش کرے تو رزق اس کے پیچھے پیچھے بھاگے گا جیسے موت سے انسان بھاگ نہیں سکتا ایسے ہی رزق سے بھی فرار ممکن نہیں (قرطبی)
اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ رزق سے مراد بارش ہے، اس صورت میں اس کا آسمان میں ہونا بایں صورت ہوگا کہ آسمان سے مراد یہاں جرم سٰموٰت نہ ہو بلکہ مافوق مراد ہو جس میں فضائے آسمانی بھی داخل ہے تو بارش جو بادلوں سے برستی ہے اس کو بھی فی السماء کہا جاسکتا ہے اور ماتوعدون سے مراد جنت اور اس کی نعمتیں ہیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
Ayah 51:23اِنَّهٗ لَحَقٌّ مِّثْلَ مَآ اَنَّكُمْ تَنْطِقُوْنَ ، یعنی جس طرح تمہیں اپنے اپنے کلام کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اسی طرح قیامت کا آنا بھی ایسا ہی واضح ہے اور کھلا ہوا ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، انسان کے محسوسات جو دیکھنے، سننے، چکھنے، چھونے اور سونگھنے سے متعلق ہیں، ان سب میں سے اس جگہ نطق یعنی بولنے کو خاص طور سے انتخاب شاید اس لئے کیا کہ مذکورہ سب محسوسات میں کبھی کبھی کسی مرض وغیرہ کے سبب سے التباس ہوجاتا ہے، دیکھنے سننے میں فرق ہوجانا معروف ہے، بیماری میں ذائقہ بعض اوقات خراب ہو کر میٹھے کو کڑوا بتلانے لگتا ہے، مگر نطق و گویائی ایسی چیز ہے کہ اس میں کسی دھوکہ اور تلبیس کا شائبہ نہیں ہوسکتا (قرطبی)
Ayah 51:24خلاصہ تفسیر
(اے محمد ﷺ کیا ابراہیم ؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت آپ تک پہنچی ہے (معزز یا تو اس لئے کہا کہ وہ ملائکہ تھے جن کی شان میں ہے (آیت) بل عباد مکرمون۔ اور یا اس لئے کہا کہ ابراہیم ؑ نے اپنی عادت کے موافق ان کا اکرام کیا تھا اور مہمان کہنا بنا بر ظاہری حالت کے ہے کہ بشکل انسان آئے تھے اور یہ قصہ اس وقت ہوا تھا) جبکہ وہ (مہمان) ان کے پاس آئے پھر ان کو سلام کیا، ابراہیم ؑ نے بھی (جواب میں) کہا سلام (اور کہنے لگے کہ) انجان لوگ (معلوم ہوتے) ہیں (ظاہر تو یہی ہے کہ دل میں سوچا قرینہ اس کا یہ ہے کہ آگے جواب فرشتوں کا مذکور نہیں اور احتمال بعید یہ بھی ہے کہ بطور پوچھنے کے انہی سے کہہ دیا ہو کہ آپ لوگوں کو پہچانا نہیں اور انہوں نے جواب نہ دیا ہو اور ابراہیم ؑ نے جواب کا انتظار نہ کیا ہو غرض یہ سلام و کلام ہو کر) پھر اپنے گھر کی طرف چلے اور ایک فربہ بچھڑا (تلا ہوا لقولہ تعالیٰ (آیت) بعجل حنیذ) لائے اور اس کو ان کے پاس (یعنی سامنے) لا کر رکھا (چونکہ وہ فرشتے تھے، کیوں کھاتے اس وقت ابراہیم ؑ کو شبہ ہوا اور) کہنے لگے کہ آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں (جب پھر بھی نہ کھایا) تو ان سے دل میں خوف زدہ ہوئی (کہ یہ لوگ کہیں مخالفین اور اعدا میں سے نہ ہوں، کما مر فی سورة ہود) انہوں نے کہا کہ تم ڈرو مت (ہم آدمی نہیں ہیں فرشتے ہیں) اور (یہ کہہ کر) ان کو ایک فرزند کی بشارت دی جو بڑا عالم (یعنی نبی) ہوگا، کیونکہ مخلوق میں سب سے زیادہ علم انبیاء کو ہوتا ہے اور مراد اس سے اسحاق ؑ ہیں، یہ گفتگو ان سے ہو رہی تھی کہ اتنے میں ان کی بی بی (حضرت سارہ جو کہیں کھڑی سن رہی تھیں لقولہ تعالیٰ (آیت) وامراتہ قائمة۔ اولاد کی خبر سن کر) بولتی پکارتی آئیں پھر (جب فرشتوں نے ان کو بھی یہ خبر سنائی لقولہ تعالیٰ (آیت) فبشرناہا باسحق تو تعجب سے) ماتھے پر ہاتھ مارا اور کہنے لگیں کہ (اول تو میں) بڑھیا (پھر) بانجھ (اس وقت بچہ پیدا ہونا بھی عجیب بات ہے) فرشتے کہنے لگے کہ (تعجب مت کرو لقولہ تعالیٰ (آیت) اتعجبین) تمہارے پروردگار نے ایسا ہی فرمایا ہے (اور) کچھ شک نہیں کہ وہ بڑا حکمت والا بڑا جاننے والا ہے (یعنی گو فی نفسہ یہ بات تعجب کی ہے مگر تم کہ خاندان نبوت میں رہتی ہو اور علم و فہم سے مشرف ہو، یہ معلوم کر کے کہ خدا کا ارشاد ہے تعجب نہ رہنا چاہئے) ابراہیم ؑ کو فراست نبوت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علاوہ بشارت کے ان کے آنے سے اور بھی کچھ مقصود ہے تو ان سے کہنے لگے (کہ) اچھا تو (یہ بتلاؤ کہ) تم کو بڑی مہم کیا درپیش ہے، اے فرشتو ! فرشتوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم (یعنی قوم لوط) کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ہم ان پر کنکر کے پتھر برسائیں جن پر آپ کے رب کے پاس (یعنی عالم غیب میں) خاص نشان بھی ہے (جس کا بیان سورة ہود میں ہوا ہے اور وہ) حد سے گزرنے والوں کے لئے (ہیں، آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جب ان بستیوں پر عذاب کا وقت قریب آیا) تو ہم نے جتنے ایمان دار تھے سب کو وہاں سے علیحدہ کردیا، سو بجز مسلمانوں کے ایک گھر کے اور کوئی گھر (مسلمانوں کا) ہم نے نہیں پایا ، (یہ کنایہ ہے کہ وہاں کوئی اور گھر مسلمانوں کا تھا ہی نہیں، کیونکہ جس چیز کا وجود اللہ کے علم میں نہ ہو وہ موجودہ ہو ہی نہیں سکتی) اور ہم نے اس واقعہ میں (ہمیشہ کے واسطے) ایسے لوگوں کے لئے ایک عبرت رہنے دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں اور (آگے موسیٰ ؑ اور فرعون کا قصہ سنو کہ) موسیٰ ؑ کے قصہ میں بھی عبرت ہے جب کہ ہم نے ان کو فرعون کے پاس ایک کھلی ہوئی دلیل (یعنی معجزہ) دے کر بھیجا سو اس نے مع اپنے ارکان سلطنت کے سرتابی کی اور کہنے لگا کہ یہ ساحر یا مجنون ہیں سو ہم نے اس کو اور اس کے لشکر کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (یعنی غرق کردیا) اور اس نے کام ہی ملامت کا کیا تھا اور (آگے عاد کا قصہ سنو کہ) عاد کے قصہ میں بھی عبرت ہے جب کہ ہم نے ان پر نامبارک آندھی بھیجی جس چیز پر گزرتی تھی (یعنی ان اشیاء میں سے کہ جن کے اہلاک کا حکم تھا جس پر گزرتی تھی) اس کو ایسا کر چھوڑتی تھی جیسے کوئی چیز گل کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے اور (آگے ثمود کا قصہ سنو) ثمود کے قصہ میں بھی عبرت ہے جبکہ ان سے کہا گیا (یعنی صالح ؑ نے فرمایا کہ) اور تھوڑے دنوں چین کرلو (یعنی کفر سے باز نہیں آؤ گے تو عبد چندے ہلاک ہوگئے) سو (اس ڈرانے پر بھی) ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی، سو ان کو عذاب نے آ لیا اور وہ (اس عذاب کے آثار کو) دیکھ رہے تھے (یعنی یہ عذاب کھلے طور پر آیا) سو نہ تو کھڑے ہی ہو سکے، (بلکہ اوندھے منہ گر گئے لقولہ تعالیٰ جاثمین) اور نہ (ہم سے) بدلہ لے سکے اور ان سے پہلے قوم نوح کا یہی حال ہوچکا تھا (یعنی اس سبب سے کہ) وہ بڑے نافرمان لوگ تھے (ان کو بھی ہلاک کیا تھا)
Ayah 51:25معارف و مسائل
یہاں سے رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے گزری ہوئی امتوں میں سے چند انبیاء کے واقعات بیان کئے گئے ہیں
(آیت) فَقَالُوْا سَلٰمًا ۭ قَالَ سَلٰمٌ، فرشتوں نے سلاماً کہا تھا، خلیل اللہ نے جواب میں سلام رفع کے ساتھ کہا کیونکہ مرفوع ہونے کی صورت میں یہ جملہ اسمیہ بنا جس میں دوام و استمرار اور قوت زیادہ ہے، تو جیسا قرآن کریم میں حکم ہے کہ سلام کا جواب سلام کرنے والے کے الفاظ سے بہتر الفاظ میں ہو اس کی تعمیل فرمائی
قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ ، منکر، بضم مم و فتح کاف، اوپرے اور اجنبی کو کہا جاتا ہے، چونکہ گناہ کے کام بھی اسلام میں اوپرے اور اجنبی ہوتے ہیں، اس لئے گناہ کو بھی منکر کہہ دیا جاتا ہے، مراد جملے کی یہ ہے کہ یہ حضرات فرشتے بشکل بشر آئے تھے، ابراہیم ؑ نے ان کو پہچانا نہیں، اس لئے اپنے دل میں یہ کہا کہ یہ اجنبی لوگ ہیں جن کو ہم نہیں پہچانتے اور ممکن ہے کہ خود مہمانوں کے سامنے ہی اس کا ذکر بطور استفہام کے کردیا ہو اور مقصد ان کا تعارف دریافت کرنا ہو۔
Ayahs 51:26–27فَرَاغَ اِلٰٓى اَهْلِهٖ ، راغ، روغ سے مشتق ہے، جس کے معنی کسی جگہ سے کھسک جانے اور خفیہ طور پر چلے جانے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ ابراہیم ؑ مہمانوں کے لئے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے گھر میں اس طرح گئے کہ مہمانوں کو ان کے اٹھ جانے کی خبر نہ ہو، ورنہ وہ کھانا اور مہمانی لانے سے انکار کرتے۔
آداب مہمانی
ابن کثیر نے فرمایا کہ اس آیت میں مہمان کے لئے چند آداب میزبانی کی تعلیم ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ پہلے مہمانوں سے پوچھا نہیں کہ میں آپ کے لئے کھانا لاتا ہوں، بلکہ چپکے سے کھسک گئے اور ان کی مہمانی کے لئے اپنے پاس جو سب سے اچھی چیز کھانے کی تھی یعنی بچھڑا ذبح کیا، اس کو بھونا اور لے آئے اور دوسرے یہ کہ لانے کے بعد مہمانوں کو اس کی تکلیف نہیں دی کہ ان کو کھانے کی طرف بلاتے، بلکہ جہاں وہ بیٹھے تھے وہیں لا کر ان کے سامنے پیش کردیا (فقربہ الیہم) تیسرے یہ کہ مہمانی پیش کرنے کے وقت انداز گفتگو میں کھانے پر اصرار نہ تھا بلکہ فرمایا الا تاکلون (کیا آپ کھائیں گے نہیں) اشارہ اس طرف ہوا کہ اگرچہ آپ کو حاجت کھانے کی نہ ہو، مگر ہماری خاطر سے کچھ کھایئے۔
Ayah 51:28فَاَوْجَسَ مِنْهُمْ ، یعنی ابراہیم ؑ ان کے کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ان سے خطرہ محسوس کرنے لگے جس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت شرفاء کا تعامل تھا کہ مہمان کچھ نہ کچھ مہمانی قبول کرتا اور کھاتا تھا جو مہمانی اتنی بھی قبول نہ کرے اس سے خطرہ ہوتا تھا کہ یہ شاید کوئی دشمن نہ ہو جو تکلیف پہنچانے آیا ہو، اس وقت کے چوروں ظالموں میں بھی شرافت تھی کہ جس کا کچھ کھالیا پھر اس کو نقصان نہیں پہنچاتے تھے، اس لئے نہ کھانا سبب خطرہ کا بنتا تھا۔
Ayah 51:29(آیت) فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ۔ صرة کے معنی غیر معمولی آواز کے ہیں صریر قلم سے نکلنے والی آواز کو کہا جاتا ہے، مراد یہ ہے کہ حضرت سارہ نے جب سنا کہ فرشتے ابراہیم ؑ کو بچے کی پیدائش کی خوشخبری دے رہے ہیں اور یہ ظاہر تھا کہ بچہ بیوی سے پیدا ہوتا ہے، بیوی حضرت سارہ ہی تھیں تو سمجھیں کہ یہ خوشخبری ہم دونوں ہی کے لئے ہے، تو غیر اختیاری طور پر ان کے منہ سے کچھ الفاظ حیرت و تعجب کے نکلے اور کہا عَجُوْزٌ عَقِيْمٌ کہ اول تو میں بڑھیا، پھر بانجھ یعنی جوانی میں بھی اولاد کے قابل نہیں تھی، اب بڑھاپے میں یہ کیسے ہوگا جس کے جواب میں فرشتوں نے فرمایا کذلک، یعنی اللہ تعالیٰ کو سب قدرت ہے، یہ کام یونہی ہوگا، چناچہ جس وقت اس بشارت کے مطابق حضرت اسحاق ؑ پیدا ہوئے تو حضرت سارہ کی عمر ننانوے سال اور حضرت ابراہیم ؑ کی عمر سو سال کی تھی (قرطبی)
Ayahs 51:30–33اس گفتگو میں جب حضرت ابراہیم ؑ کو یہ معلوم ہوگیا کہ یہ مہمان اللہ کے فرشتے ہیں تو پوچھا کہ آپ کس مہم پر تشریف لائے ہیں، انہوں نے حضرت لوط ؑ کی قوم پر عذاب نازل کرنے کا تذکرہ کیا کہ ان کی قوم پر پتھراؤ کیا جائے گا اور پتھراؤ بھی کچھ بڑے بڑے پتھروں سے نہیں، بلکہ مٹی سے بنی ہوئی کنکریوں سے ہوگا۔
Ayahs 51:34–37(آیت) مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ ، یعنی کنکریاں اللہ کی طرف سے خاص علامت لگی ہوئی ہوں گی، بعض مفسرین نے فرمایا کہ ہر کنکری پر اس شخص کا نام لکھا تھا جس کو ہلاک کرنے کے لئے یہ بھیجی گئی تھی اور وہ جس طرف بھاگا اس کنکری نے اس کا تعاقب کیا اور دوسری آیات میں جو اس قوم کا عذاب یہ ذکر کیا گیا ہے کہ جبرائیل امین نے اس پورے شہر کو اٹھا کر پلٹ دیا تو یہ اس کے منافی نہیں کہ پہلے یہ پتھراؤ کیا گیا ہو اس کے بعد پوری زمین کا تختہ الٹا دیا گیا ہو۔