Ayahs 51:38–46قوم لوط کے بعد قوم موسیٰ ؑ اور فرعون وغیرہ کا ذکر فرمایا، اس میں فرعون کو موسیٰ ؑ نے پیغام حق دیا تو فرعون کا عمل یہ ذکر فرمایا (آیت) فَتَوَلّٰى بِرُكْنِهٖ یعنی فرعون موسیٰ ؑ کی طرف سے رخ پھیر کر اپنی قوت یعنی اپنی فوج اور امرا دولت کی طرف متوجہ ہوگیا، رکن کے لفظی معنی قوت کے ہیں، حضرت لوط ؑ کے کلام میں (آیت) (او اوی الیٰ رکن شدید) اسی معنی کے لئے آیا ہے۔
اس کے بعد قوم عاد وثمود اور آخر میں قوم نوح کا واقعہ بیان فرمایا، یہ واقعات اس سے پہلے کئی مرتبہ گزر چکے ہیں۔
Ayahs 51:47–49خلاصہ تفسیر
اور ہم نے آسمان کو (اپنی) قدرت سے بنایا اور ہم وسیع القدرت ہیں اور ہم نے زمین کو فرش (کے طور پر) بنایا سو ہم (کیسے) اچھے بچھانے والے ہیں (یعنی اس میں کیسے کیسے منافع رکھے ہیں) اور ہم نے ہر چیز کو دو دو قسم کا بنایا (اس قسم سے مراد مقابل ہے، سو ظاہر ہے کہ ہر شے میں کوئی نہ کوئی صفت ذاتیہ یا عرضیہ ایسی معتبر ہوتی ہے جس سے دوسری چیز جس میں اس صفت کی نقیض یا ضد ملحوظ ہو، اس کے مقابل شمار کی جاتی ہے، جیسے آسمان و زمین، جوہر و عرض، گرمی و سردی، شیریں و تلخ، چھوٹی و بڑی، خوش نما و بدنما، سفیدی و سیاہی، روشنی و تاریکی، وعلیٰ ہذا) تاکہ تم (ان مصنوعات سے توحید کو) سمجھو (اور اے پیغمبر ﷺ ان سے فرما دیجئے کہ جب یہ مصنوعات وحدت صانع پر دلالت کر رہی ہیں) تو تم (کو چاہئے کہ ان سے استدلال کر کے) اللہ ہی کی (توحید کی) طرف دوڑو (اور اول تو بوجہ دلائل مذکورہ کے خود عقل ہی اعتقاد توحید کو ضروری بتلا رہی ہے، پھر اوپر سے) میں (بھی) تمہارے (سمجھانے کے) واسطے اللہ کی طرف سے صاف طور پر ڈرانے والا (ہو کر آیا) ہوں (کہ منکر توحید کو عذاب ہوگا، پس خوف عذاب کے اعتبار سے اعتقاد توحید اور بھی ضروری ہوگیا) اور (پھر اور زیادہ توضیح سے کہتا ہوں کہ) خدا کے ساتھ کوئی اور معبود قرار نہ دو (پھر تغیر عنوان کے ساتھ مضمون توحید کی وجہ سے انذار کی پھر تاکید ہے کہ) میں تمہارے (سمجھانے کے) واسطے اللہ کی طرف سے کھلا ڈرانے والا (ہو کر آیا) ہوں (آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ آپ واقع میں بلاشبہ نذیر مبین ہیں جیسا ابھی مذکور ہوا، لیکن یہ آپ کے مخالفین ایسے جاہل ہیں کہ نعوذ باللہ آپ کو کبھی ساحر کبھی مجنون بتلاتے ہیں، سو آپ صبر کیجئے کیونکہ جس طرح یہ آپ کو کہہ رہے ہیں) اس طرح جو (کافر) لوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں ان کے پاس کوئی پیغمبر ایسا نہیں آیا جس کو انہوں نے (یعنی کل نے یا بعض نے) ساحر یا مجنون نہ کہا ہو (آگے کفار کے اس قول (ساحر او مجنون) پر متفق ہونے سے تعجب دلاتے ہیں کہ) کیا اس بات کی ایک دوسرے کی وصیت کرتے چلے آئے تھے (یعنی یہ اجماع تو ایسا ہوگیا جیسے ایک دوسرے کو کہتے چلے آئے ہوں کہ دیکھو جو رسول آوے تم بھی ہماری طرح کہنا، آگے .... حقیقت واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ تواصی واقع نہ ہوئی تھی کیونکہ بعض قوموں سے ملی بھی نہیں) بلکہ (وجہ اس اجماع و اتفاق کی یہ ہوئی کہ) یہ سب کے سب سرکش لوگ ہیں (یعنی سبب اس قول کا سرکشی ہے چونکہ وہ ان سب میں مشترک ہے اس لئے قول بھی مشترک ہوگیا) سو (جب پہلے لوگ ایسے گزرے ہیں اور سبب اس کا معلوم ہوگیا کہ انہی کا طغیان ہے تو) آپ ان کی طرف التفات نہ کیجئے (یعنی ان کی تکذیب کی پروا اور غم نہ کیجئے) کیونکہ آپ پر کسی طرح کا الزام نہیں (کقولہ تعالیٰ ولا تسئل عن اصحب الجیحم) اور (اطمینان کے ساتھ اپنے منصبی کام میں لگے رہئے فقط) سمجھاتے رہئے کیونکہ سمجھانا (جن کی قسمت میں ایمان نہیں ان پر تو اتمام حجت ہوگا اور جن کی قسمت میں ایمان ہے ان) ایمان (لانے) والوں کو (بھی جو پہلے مومن ہیں ان کو بھی) نفع دے گا (بہرحال تذکیر میں عام فوائد اور حکمتیں سب کے اعتبار سے ہیں، آپ اس کو کئے جایئے اور کسی کے ایمان نہ لانے کا غم نہ کیجئے)
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں قیامت و آخرت کا بیان اور اس کو نہ ماننے والوں پر عذاب کا ذکر تھا، ان آیات میں بھی حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا بیان ہے جس سے قیامت اور اس میں مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر جو تعجب منکرین کی طرف سے کیا جاتا ہے اس کا ازالہ ہے، نیز توحید کا اثبات اور رسالت پر ایمان کی تاکید ہے۔
بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ ، لفظ اید، قوت وقدرت کے معنی میں آتا ہے، اس جگہ حضرت ابن عباس نے اید کی یہی تفسیر فرمائی ہے۔
Ayahs 51:50–55فَفِرُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ ، یعنی " دوڑو اللہ کی طرف " حضرت ابن عباس نے فرمایا مراد یہ ہے کہ اپنے گناہوں سے بھاگو اللہ کی طرف توبہ کے ذریعہ، ابوبکر دراق او جنید بغدادی نے فرمایا کہ نفس و شیطان معاصی کی طرف دعوت دینے والے ہیں اور بہکانے والے ہیں، تم ان سے بھاگ کر اللہ کی طرف پناہ لو تو وہ تمہیں ان کے شر سے بچا لیں گے (قرطبی)
Ayah 51:56خلاصہ تفسیر
اور میں نے جن اور انسان کو (دراصل) اسی واسطے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کیا کریں (اور تبعاً و تکمیلاً للعبادة جن وانس کی پیدائش پر دوسرے منافع کا مرتب ہونا اس کے منافی نہیں اور اسی طرح بعض جن و انس سے عبادت کا صادر نہ ہونا بھی اس مضمون کے منافی نہیں، کیونکہ حاصل اس لیعبدون کا ارادہ تشریعیہ ہے یعنی ان کو عبادت کا حکم دینا نہ کہ ارادہ تکوینیہ یعنی عبادت پر مجبور کرنا اور تخصیص جن و انس کی اس لئے ہے کہ عبادت سے مراد عبادت بالاختیار و ابتلاء ہے اور ملائکہ میں اگرچہ عبادت ہے ابتلاء نہیں اور دوسری مخلوقات حیوانات و نباتات وغیرہ میں اختیار نہیں، حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ مجھ کو مطلوب شرعی ان سے عبادت کرانا ہے باقی) میں ان سے (مخلوق کی) رزق رسانی کی درخواست نہیں کرنا اور نہ یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھ کو کھلایا کریں اللہ خود ہی سب کو رزق پہنچانے والا ہے (تو ہم کو اس کی ضرورت ہی کیا تھی کہ ہم مخلوقات کی روزی رسانی ان کے متعلق کرتے اور وہ) قوت والا نہایت قوت والا ہے (کہ اس میں عجز و ضعف اور کسی قسم کی احتیاج کا عقلی احتمال بھی نہیں تو ان سے کھانا مانگنے کا کوئی امکان ہی نہیں، یہ ترغیب ہوگئی، آگے ترہیب ہے کہ جب عبادت کا وجوب ثابت ہوگیا اور عبادت کا اہم رکن ایمان ہے تو اگر یہ لوگ اب بھی شرک و کفر پر مصر رہیں گے) تو (سن رکھیں کہ) ان ظالموں کی (سزا کی) بھی باری (علم الٰہی میں مقرر ہے) جیسے ان کے (گزشتہ) ہم مشربوں کی باری (مقرر) تھی (یعنی ہر مجرم ظالم کے لئے اللہ کے علم میں خاص خاص وقت مقرر ہے، اس طرح نوبت بہ نوبت ہر مجرم کی باری آتی ہے تو وہ عذاب میں پکڑا جاتا ہے، کبھی دنیا و آخرت دونوں میں اور کبھی صرف آخرت میں) سو مجھ سے (عذاب) جلدی طلب نہ کریں (جیسا کہ ان کی عادت ہے، کہ وعیدیں سن کر تکذیب کے طور پر استعجال کرنے لگتے ہیں) غرض (جب وہ باری کے دن آویں گے جن میں سب سے اشد یوم موعود یعنی قیامت ہے تو) ان کافروں کے لئے اس دن کے آنے سے بڑی خرابی ہوگی جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے (چنانچہ خود سورت بھی اسی وعدے سے شروع ہوتی ہے اِنَّمَا تُوْعَدُوْنَ لَصَادِقٌ۔ وَّاِنَّ الدِّيْنَ لَوَاقِــعٌ، اور اس سے سورت کے آغاز و انجام کا حسن ظاہر ہے)
معارف و مسائل
جن و انس کی تخلیق کا مقصد
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ، یعنی ہم نے جنات اور انسان کو عبادت کے سوا کسی کام کے لئے نہیں پیدا کیا، اس میں دو اشکال ظاہر نظر میں پیدا ہوتے ہیں، اول یہ کہ جس مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے کسی خاص کام کے لئے پیدا کیا اور اس کا ارادہ یہی ہے کہ یہ مخلوق اس کام کو کرے تو عقلی طور پر یہ ناممکن و محال ہوگا کہ پھر وہ مخلوق اس کام سے انحراف کرسکے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ و مشیت کے خلاف کوئی کام محال ہے، دوسرا اشکال یہ ہے کہ اس آیت میں انسان اور جن کی تخلیق کو صرف عبادت میں منحصر کردیا گیا ہے، حالانکہ ان کی پیدائش میں علاوہ عبادت کے دوسرے فوائد اور حکمتیں بھی موجود ہیں۔
پہلے اشکال کے جواب میں بعض حضرات مفسرین نے اس مضمون کو صرف مومنین کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے، یعنی ہم نے مومن جنات اور مومن انسانوں کو بجز عبادت کے اور کسی کام کے لئے نہیں بنایا اور مومنین ظاہر ہے کہ عبادت کے کم و بیش پابند ہوتے ہیں، یہ قول ضحاک اور سفیان وغیرہ کا ہے اور حضرت ابن عباس کی ایک قرات آیت مذکورہ میں لفظ مومنین مذکور بھی ہے اور قرات اس طرح ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ مِنَ المُومِنِینَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ اس قرات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ یہ مضمون صرف مومنین کے حق میں آیا ہے اور خلاصہ تفسیر میں اس اشکال کو رفع کرنے کے لئے یہ کہا گیا ہے کہ اس آیت میں ارادہ الٰہی سے مراد ارادہ تکوینی نہیں ہے جس کے خلاف کا وقوع محال ہوتا ہے بلکہ ارادہ تشریعی ہے، یعنی یہ کہ ہم نے ان کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم ان کو عبادت کے لئے مامور کریں، امر الٰہی چونکہ انسانی اختیار کے ساتھ مشروط رکھا گیا ہے، اس کے خلاف کا وقوع محال نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے تو حکم عبادت کا سب کو دیا ہے مگر ساتھ ہی اختیار بھی دیا ہے اس لئے کسی نے اپنے خداداد اختیار کو صحیح خرچ کیا، عبادت میں لگ گیا، کسی نے اس اختیار کو غلط استعمال کیا، عبادت سے منحرف ہوگیا، یہ قول حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بغوی نے نقل کیا ہے اور زیادہ بہتر اور بےغبار توجیہ وہ ہے جو تفسیر مظہری میں کی گئی ہے کہ مراد آیت کی یہ ہے کہ ہم نے ان کی تخلیق اس انداز پر کی ہے کہ ان میں استعداد اور صلاحیت عبادت کرنے کی ہو، چناچہ ہر جن و انس کی فطرت میں یہ استعداد قدرتی موجود ہے، پھر کوئی اس استعداد کو صحیح مصرف میں خرچ کر کے کامیاب ہوتا ہے، کوئی اس استعداد کو اپنے معاصی اور شہوات میں ضائع کردیتا ہے اور اس مضمون کی مثال وہ حدیث ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، کل مولود یولد علی الفطرة فابواہ یھودانہ او یمجسانہ (یعنی ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اس کو (اس فطرت سے ہٹا کر کوئی) یہودی بنا دیتا ہے کوئی مجوسی، فطرت پر پیدا ہونے سے مراد اکثر علماء کے نزدیک دین اسلام پر پیدا ہونا ہے، تو جس طرح اس حدیث میں یہ بتلایا گیا ہے کہ ہر انسان میں فطری اور خلقی طور پر اسلام و ایمان کی استعداد و صلاحیت رکھی جاتی ہے، پھر کبھی اس کے ماں باپ اس صلاحیت کو ضائع کر کے کفر کے طریقوں پر ڈالتے ہیں، اسی طرح اس آیت میں (اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ) کا یہ مفہوم ہوسکتا ہے کہ جن و انس کے ہر فرد میں اللہ تعالیٰ نے استعداد اور صلاحیت عبادت کی رکھی ہے۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔
اور دوسرے اشکال کا جواب خلاصہ تفسیر میں یہ آچکا ہے کہ کسی مخلوق کو عبادت کے لئے پیدا کرنا اس سے دوسرے منافع اور فوائد کی نفی نہیں کرتا۔
Ayahs 51:57–58مَآ اُرِيْدُ مِنْهُمْ مِّنْ رِّزْقٍ الایة۔ یعنی میں جن و انس کو پیدا کر کے ان سے عام انسانوں کی عادت کے مطابق اپنا کوئی نفع نہیں چاہتا، کہ وہ رزق پیدا کریں، میرے لئے یا اپنے لئے یا میری دوسری مخلوق کے لئے اور یا یہ کہ وہ مجھے کما کر کھلائیں، یہ سب کلام انسان کی عام عادت پر کیا گیا ہے کیونکہ بڑے بڑے انسان جو غلام خریدتا اور اس پر خرچ کرتا ہے تو اس کا مصداق ان غلاموں سے اپنے کام لینا اپنی ضروریات اور کاموں میں مدد لینا اور کمائی کر کے آقا کو دینا ہوتا ہے، حق تعالیٰ ان سب چیزوں سے پاک اور بالا و برتر ہیں، اس لئے فرمایا کہ ان کو پیدا کرنے سے میرا اپنا کوئی نفع مقصود نہیں۔
Ayahs 51:59–60ذَنُوْبًا، لفظ ذنوب بفتح الذال اصل میں بڑے ڈول کو کہا جاتا ہے اور بستی کے عام کنوؤں پر پانی بھرنے کے لئے بغرض سہولت بھرنے والوں کے نمبر اور باری مقرر کرلی جاتی ہے، ہر ایک پانی بھرنے والا اپنی باری میں پانی بھرتا ہے، اس لئے یہاں لفظ ذنوب کے معنی باری اور حصہ کے لئے گئے ہیں، مراد یہ ہے کہ جس طرح پچھلی امتوں کو اپنے اپنے وقت میں عمل کرنے کا موقع اور باری دی گئی جن لوگوں نے اپنی باری میں کام نہیں کیا وہ ہلاک و برباد اور گرفتار عذاب ہوئے، اسی طرح موجودہ مشرکین کی بھی باری اور وقت مقرر ہے، اگر اس وقت تک یہ اپنے کفر سے باز نہ آئے تو خدا کا عذاب ان کو کبھی تو اسی دنیا میں اور نہیں تو آخرت میں ضرور پکڑے گا، اس لئے ان کو فرما دیجئے کہ اپنی جلد بازی سے باز آجاؤ یعنی یہ کفار جو بطور تکذیب و انکار کے یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم واقعی مجرم ہیں اور مجرمین پر عذاب آنا آپ کے قول سے ثابت ہے تو پھر ہم پر عذاب کیوں نہیں آجاتا ؟ ان کا جواب یہ ہے کہ عذاب اپنے مقررہ وقت پر اور اپنی باری پر آتا ہے، تمہاری باری بھی آنے والی ہے جلد بازی نہ کرو۔
الحمد للہ سورة ذاریات آج دو شنبہ 21 ربیع الاول 1391 ھ کو پوری ہوگئی۔