50. Surah Qaaf

قThe letter Qaaf · 45 ayahsمعارف القرآن

Ayahs 50:1–3

قٓ١ۚ۫ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِیْدِۚ Open ayah 50:1 in the Quran reader

ق قسم ہے اس قرآن بڑی شان والے کی

بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَیْءٌ عَجِیْبٌۚ Open ayah 50:2 in the Quran reader

بلکہ ان کو تعجب ہوا کہ آیا ان کے پاس ڈر سنانے والا انہی میں کا تو کہنے لگے منکر یہ تعجب کی چیز ہے

ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا١ۚ ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِیْدٌ Open ayah 50:3 in the Quran reader

کیا جب ہم مر چکیں اور ہوجائیں مٹی یہ پھر آنا بہت دور ہے

خلاصہ تفسیر ق (اس کے معنی اللہ کو معلوم ہیں) قسم ہے قرآن مجید کی (یعنی جس کو دوسری کتابوں پر فضیلت و شرف ہے کہ ہم نے آپ کو عذاب قیامت سے ڈرانے کے لئے بھیجا ہے مگر ان لوگوں نے نہ مانا) بلکہ ان کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ان کے پاس انہی (کی جنس) میں سے (یعنی انسانوں میں سے) ایک ڈرانے والا (پیغمبر) آ گیا (جس نے ان کو قیامت کے دن سے ڈرایا) سو (اس پر) کافر لوگ کہنے لگے کہ (اول تو خود) یہ (ایک) عجیب بات ہے (کہ بشر پیغمبر ہو، دوسرے پھر دعویٰ بھی عجیب بات کا کرے کہ دوبارہ زندہ ہوں گے بھلا) جب ہم مر گئے اور مٹی ہوگئے تو کیا دوبارہ زندہ ہوں گے یہ دوبارہ زندہ ہونا (امکان سے) بہت ہی بعید ہے (خلاصہ یہ ہے کہ اول تو وہ ہم جیسے انسان ہیں ان کو پیغمبری کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں، پھر وہ اپنے دعوے میں ایک محال چیز کا دعویٰ کرتے ہیں، کہ مرنے اور مٹی ہونے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جاویں گے، اس کے جواب میں حق تعالیٰ مرنے کے بعد زندہ ہونے کا امکان ثابت کر کے ان کے محال کہنے کو رد فرماتے ہیں جس کا حاصل یہ ہے کہ دوبارہ زندہ ہونے کو تم جو غیر ممکن کہتے ہو اس کی دو وجہ ہو سکتی ہیں، یا تو یہ کہ جن چیزوں کے زندہ ہونے کو کہا گیا ہے ان میں زندہ ہونے کی صلاحیت ہی نہ ہو، یہ تو مشاہدہ سے غلط ہے، کیونکہ وہ اس وقت تمہارے سامنے زندہ موجود ہیں، اگر زندگی کی صلاحیت ہی نہ ہوتی تو اس وقت کیسے زندہ ہیں، دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ فاعل یعنی اللہ تعالیٰ کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت اس لئے نہ ہو کہ جو اجزاء میت کے مٹی ہو کر منتشر ہوگئے وہ اس کو معلوم نہ ہوں کہ کہاں بکھرے ہیں، تو اس کے جواب میں فرمایا کہ ہمارے علم کی تو یہ شان ہے کہ) ہم ان کے ان اجزاء کو جانتے ہیں جن کو مٹی (کھاتی ہے اور) کم کرتی ہے اور (یہ نہیں کہ آج سے جانتے ہیں بلکہ ہمارا علم تو قدیم ہے، حتیٰ کہ ہم نے قبل و قوع ہی سب اشیاء کے سب حالات اپنے علم قدیم سے ایک کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھ دیئے تھے اور اب تک) ہمارے پاس (وہ) کتاب (یعنی لوح) محفوظ (موجود) ہے (جس میں ان اجزاء منتشر کا مکان اور وضع اور مقدار اور وصف سب کچھ ہے، سو اگر علم قدیم کسی کی سمجھ میں نہ آوے تو یوں ہی سمجھ لے کہ وہ دفتر جس میں سب کچھ ہے، حق تعالیٰ کے سامنے حاضر ہے مگر یہ لوگ پھر بھی بلاوجہ تعجب ہی میں ہیں اور صرف تعجب ہی نہیں) بلکہ سچی بات کو (جس میں مسئلہ نبوت اور آخرت کی دوبارہ زندگی بھی ہے) جبکہ وہ ان کو پہنچتی ہے جھٹلاتے ہیں، غرض یہ کہ وہ ایک متزلزل حالت میں ہیں (کہ کبھی تعجب ہے، کبھی تکذیب ہے، یہ درمیان میں بطور جملہ معترضہ کے تھا، آگے بیان ہے قدرت کا یعنی) کیا ان لوگوں (کو ہماری قدرت کا علم نہیں ہے اور کیا انہوں) نے اپنے اوپر کی طرف آسمان کو نہیں دیکھا کہ ہم نے اس کو کیسا (اونچا اور بڑا) بنایا اور (ستاروں سے) اس کو آراستہ کیا اور اس میں (بوجہ مکمل استحکام کے) کوئی رخنہ تک نہیں (جیسا کہ اکثر تعمیرات سے زمانہ کے دراز ہونے کے بعد رخنہ پڑجایا کرتا ہے، یہ تو آسمان میں ہماری قدرت نمایاں ہے) اور زمین (میں یہ قدرت ظاہر ہے کہ اس) کو ہم نے پھیلایا اور اس میں پہاڑوں کو جما دیا اور اس میں ہر قسم کی خوش نما چیزیں اگائیں جو ذریعہ دانائی اور بینائی کا (یعنی ہماری قدرت کی معرفت کا) ہر رجوع ہونے والے بندے کے لئے (یعنی ایسے شخص کے لئے جو مصنوعات کو اس نظر سے دیکھے کہ ان کو کس نے بنایا ہے) اور (ہماری قدرت اس سے ظاہر ہے کہ) ہم نے آسمان سے برکت والا پانی برسایا پھر اس سے بہت سے باغ اگائے اور کھیتی کا غلہ اور لمبی لمبی کجھور کے درخت جن کے گچھے خوب گندھے ہوئے ہوتے ہیں، بندوں کے رزق دینے کے لئے اور (دوسری نباتات مثل گھاس وغیرہ کے جمانے کے لئے بھی) ہم نے اس (بارش) کے ذریعہ سے مردہ زمین کو زندہ کیا (پس) اسی طرح (سمجھ لو کہ مردوں کا) زمین سے نکلنا ہوگا (کیونکہ قدرت ذاتیہ کے اعتبار سے تمام مقدورات برابر ہیں بلکہ جو ذات بڑی چیزوں پر قادر ہے اس کا چھوٹی چیزوں پر قادر ہونا اور زیادہ ظاہر ہے، اسی لئے آسمان و زمین کا یہاں ذکر کیا گیا، کہ ان کی تخلیق ایک مردہ کو دوبارہ زندہ کرنے سے بہت بڑی بات ہے کماقال تعالیٰ (آیت) لخلق السٰموٰت والارض اکبر) تو جب ان بڑے بڑے کاموں پر اللہ تعالیٰ کی قدرت ثابت ہوگئی تو مردہ کو زندہ کردینے پر کیوں نہ ہوگی، تو معلوم ہوا کہ مردوں کو زندہ کرنا محال نہیں، ممکن ہے اور زندہ کرنے والا فاعل مختار بڑی قدرت والا ہے، پھر اس میں تعجب یا تکذیب کی کیا بات ہے، آگے تکذیب کرنے والوں کو ڈرانے کے لئے پچھلی امتوں کے واقعات بتلا کر وعید کی گئی ہے کہ جس طرح یہ لوگ انکار قیامت سے رسول کی تکذیب کرتے ہیں اسی طرح) ان سے پہلے قوم نوح اور اصحاب الرس اور ثمود اور عاد اور فرعون اور قوم لوط اور اصحاب ایکہ اور قوم تبع تکذیب کرچکے ہیں (یعنی) سب نے پیغمبروں کو (یعنی اپنے اپنے پیغمبر کو توحید اور رسالت اور قیامت کے معاملہ میں) جھٹلایا سو میری وعید (ان پر) محقق ہوگئی (کہ ان سب پر غذاب نازل ہوا، اسی طرح ان مکذبین پر عذاب آوے گا، خواہ دنیا میں بھی یا صرف آخرت میں، وعید کے بعد پھر مضمون اول کی طرف دوسرے طور پر عود ہے کہ) کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے میں تھک گئے (کہ دوبارہ زندہ نہ کرسکیں، یعنی ایک مانع یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کام بھی ممکن ہو اور کرنے والے کو قدرت بھی پوری ہو، مگر کوئی عارضی مانع پیش آجائے جیسے کرنے والا تھک گیا ہو، اس لئے یہ کام نہیں کرسکا، اس آیت میں اس کی بھی نفی فرما دی کہ اللہ تعالیٰ اس طرح کے عیوب سے پاک ہے اور وہ کسی چیز سے متاثر نہیں ہوتا، نہ اس کو تکان ہونے کا کوئی امکان ہے، اس لئے قیامت میں دوبارہ زندہ ہونا دلائل سے ثابت ہوگیا اور یہ لوگ جو انکار کر رہے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ از سر نو پیدا کرنے کی طرف سے (محض بےدلیل) شبہ میں (پڑے ہوئے) ہیں (جو دلائل کے سامنے کسی طرح قابل التفات نہیں۔ معارف و مسائل سورة ق کی خصوصیات سورة ق میں بیشتر مضامین آخرت اور قیامت اور مردوں کے زندہ ہونے اور حساب و کتاب سے متعلق ہیں اور یہی مناسبت ہے اس کو اس سے پہلی سورة حجرات سے کہ اس کے آخر میں انہی مضامین کا ذکر تھا۔ سورة ق کی ایک خاص اہمیت اس حدیث سے معلوم ہوتی ہے کہ ام ہشام بنت حارثہ بن النعمان کہتی ہے کہ (رسول اللہ ﷺ کے بہت قریب میرا مکان تھا) دو سال کے قریب ہمارا اور رسول اللہ ﷺ کا تنور (جس میں روٹی پکتی تھی) ایک ہی تھا، مجھے سورة ق پوری اس طرح حفظ ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ یہ سورت ہر جمعہ کو منبر پر خطبہ میں تلاوت فرماتے تھے (رواہ مسلم از قرطبی) اور حضرت عمر بن خطاب نے ابو واقد لیثی سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کی نمازوں میں کونسی سورت پڑھا کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایاقۗ وَالْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ ، اور اقتربت الساعتہ اور حضرت جابر سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں بکثرت سورة ق تلاوت فرماتے تھے ، (یہ سورت خاصی بڑی ہے) مگر اس کے باوجود نماز ہلکی رہتی تھی (قرطبی) یہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کی تلاوت کا خاص اثر تھا کہ بڑی سے بڑی سورت اور طویل سے طویل نماز بھی پڑھنے والوں پر ہلکی رہتی تھی۔
Ayahs 50:4–5

قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ١ۚ وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِیْظٌ Open ayah 50:4 in the Quran reader

ہم کو معلوم ہے جتنا گھٹاتی ہے زمین ان میں سے اور ہمارے پاس کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے

بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ فَهُمْ فِیْۤ اَمْرٍ مَّرِیْجٍ Open ayah 50:5 in the Quran reader

کوئی نہیں جھٹلاتے ہیں سچے دین کو جب ان تک پہنچا سو وہ پڑ رہے ہیں الجھی ہوئی بات میں

احیاء بعد الموت پر مشہور شبہ کا جواب (آیت) قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ ، کفار و مشرکین جو قیامت میں بعث بعد الموت (یعنی مردوں کے زندہ ہونے) کا انکار کرتے ہیں ان کی سب سے بڑی دلیل یہ تعجب ہے کہ مرنے کے بعد انسان کے اکثر اجزاء جسم مٹی ہوجاتے ہیں، پھر وہ مٹی منتشر ہو کر دنیا میں پھیل جاتی ہے، پانی اور ہوا اس کے ذرات کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں، قیامت میں دوبارہ زندہ کرنے کے لئے ساری دنیا میں بکھرے ہوئے اجزاء کو معلوم رکھنا کہ یہ جز فلاں کا ہے، یہ فلاں کا اور پھر ہر ایک کے اجزاء کو الگ الگ جمع کردینا کس کے بس کی بات ہے ؟ قرآن کریم نے اس کا جواب دیا کہ انسان اپنے محدود علم و بصیرت پر اللہ تعالیٰ کے غیر محدود و لامتناہی علم کو قیاس کر کے اس گمراہی میں پڑتا ہے (قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ) اللہ تعالیٰ کا علم تو اتنا وسیع اور محیط ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا ایک ایک جز اس کی نظر میں ہے، وہ جانتا ہے کہ مردے کے کس کس حصہ کو زمین نے کھالیا ہے، کیونکہ اس کی کچھ ہڈیاں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی بنائی ہیں کہ ان کو زمین نہیں کھاتی اور جن کو زمین کھا کر مٹی کردیتی ہے پھر وہ مٹی دنیا جہان کے جس گوشہ میں پہنچتی ہے وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نظر میں ہے، جب وہ چاہے گا سب کو ایک جگہ جمع کر دے گا اور ذرا غور کرو تو اس وقت ہر انسان کا جسم جن اجزاء سے مرکب چلتا پھرتا نظر آتا ہے اس میں بھی تو ساری دنیا کے مختلف گوشوں کے اجزاء جمع ہیں، کوئی غذا کی صورت میں کوئی دوا کی صورت میں سارے عالم کے مختلف شہروں اور جنگلوں کے اجزاء ہی تو ہیں جن سے یہ موجودہ جسم مرکب ہوا ہے، پھر اس کے لئے کیا دشوار ہے کہ دوبارہ ان اجزاء کو دنیا میں منتشر کرنے کے بعد پھر ایک جگہ جمع کر دے اور صرف یہی نہیں کہ اب مرنے اور مٹی ہونے کے بعد انسان کے یہ اجزاء اس کے علم میں آئے ہوں، بلکہ انسان کے پیدا کرنے سے پہلے ہی اس کی زندگی کا ہر ہر لمحہ اور اس میں پیدا ہونے والے تغیرات اور پھر مرنے کے بعد اس پر کیا کیا حالات پیش آئیں گے وہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس پہلے سے لکھا ہوا لوح محفوظ میں موجود ہے۔ پھر جو ایسا علیم وبصیر ہے اور جس کی قدرت اتنی کامل اور سب چیزوں پر حاوی ہے اس کے متعلق یہ تعجب کرنا خود قابل تعجب ہے، مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ کی یہ تفسیر حضرت ابن عباس اور مجاہد اور جمہور مفسرین سے منقول ہے (بحرمحیط) فی امر مریج، لفظ مریج کے معنی لغت میں مختلط کے ہیں، جس میں مختلف چیزوں کا اختلاط اور التباس ہو اور ایسی چیز عموماً فاسد ہوتی ہے، اسی لئے حضرت ابوہریرہ نے مریج کا ترجمہ فاسد سے فرمایا اور ضحاک اور قتادہ اور حسن بصری وغیرہ نے مختلط اور ملتبس سے فرمایا ہے، مراد یہ ہے کہ یہ کفار و منکرین رسالت اپنے انکار میں بھی کسی ایک بات پر نہیں جمتے، کبھی آپ کو ساحر و جادوگر بناتے ہیں، کبھی شاعر کہتے ہیں، کبھی کاہن و نجومی کہتے ہیں، ان کا کلام خود ملتبس اور فاسد ہے جواب کس کا دیا جائے۔ آگے حق تعالیٰ کی قدرت مطلقہ کاملہ کا بیان ہے جو آسمان و زمین اور ان کے اندر پیدا ہونے والی بڑی بڑی چیزوں کی تخلیق کے حوالہ سے کیا گیا ہے اس میں آسمان کے متعلق فرمایا (آیت) وَمَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ ، فروج، فرج کی جمع ہے جس کے معنی شق کے آتے ہیں، مراد یہ ہے کہ آسمان کا اتنا بڑا عظیم الشان کرہ حق تعالیٰ نے بنایا ہے اگر انسان کی بنائی ہوئی چیز ہوتی تو اس میں ہزار جوڑ و پیوند اور شقوق کے نشانات پائے جاتے مگر تم آسمان کو دیکھتے ہو اس میں نہ کوئی پیوند لگا ہوا ہے نہ کسی جگہ سے جڑائی اور سلائی کے نشان نظر آتے ہیں اس سے اس کی نفی نہیں ہوتی کہ آسمان میں اللہ تعالیٰ نے دروازے بنائے ہیں، دروازے کو شق نہیں کہا جاتا۔
Ayahs 50:6–11

اَفَلَمْ یَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ فَوْقَهُمْ كَیْفَ بَنَیْنٰهَا وَ زَیَّنّٰهَا وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ Open ayah 50:6 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھتے آسمان کو اپنے اوپر کیسا ہم نے اس کو بنایا اور رونق دی اور اس میں نہیں کوئی سوراخ

وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا وَ اَلْقَیْنَا فِیْهَا رَوَاسِیَ وَ اَنْۢبَتْنَا فِیْهَا مِنْ كُلِّ زَوْجٍۭ بَهِیْجٍۙ Open ayah 50:7 in the Quran reader

اور زمین کو پھیلایا اور ڈالے اس میں بوجھ اور اگائی اس میں ہر قسم کی رونق کی چیز

تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى لِكُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ Open ayah 50:8 in the Quran reader

سمجھانے کو اور یاد دلانے کو اس بندہ کیلئے جو رجوع کرے

وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِیْدِۙ Open ayah 50:9 in the Quran reader

اور اتارا ہم نے آسمان سے پانی برکت کا پھر اگائے ہم نے اس سے باغ اور اناج جس کا کھیت کاٹا جاتا ہے

وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ لَّهَا طَلْعٌ نَّضِیْدٌۙ Open ayah 50:10 in the Quran reader

اور کھجوریں لمبی ان کا خوشہ ہے تہہ پر تہہ

رِّزْقًا لِّلْعِبَادِ١ۙ وَ اَحْیَیْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا١ؕ كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ Open ayah 50:11 in the Quran reader

روزی دینے کو بندوں کے اور زندہ کیا ہم نے اس سے ایک مردہ دیس کو، یونہی ہوگا نکل کھڑے ہونا

کیا آسمان نظر آتا ہے ؟ (آیت) اَفَلَمْ يَنْظُرُوْٓا اِلَى السَّمَاۗءِ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آسمان نظر آتا اور مشہور یہ ہے کہ یہ نیلگوں رنگ جو نظر آتا ہے یہ ہوا کا رنگ ہے مگر اس کی نفی کی بھی کوئی دلیل نہیں کہ یہی رنگ آسمان کا بھی ہو، اس کے علاوہ آیت میں نظر سے مراد نظر عقلی بمعنی غور و فکر بھی مراد ہو سکتی ہے . (بیان القرآن)
Ayah 50:12

كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوْدُۙ Open ayah 50:12 in the Quran reader

جھٹلاچکے ہیں ان سے پہلے نوح کی قوم اور کنویں والے اور ثمود

(آیت) كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ۔ سابقہ آیات میں کفار کی تکذیب رسالت و آخرت کا ذکر تھا، جس سے رسول اللہ ﷺ کو ایذا پہنچنا ظاہر ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے آپ کی تسلی کے لئے پچھلے انبیاء اور ان کی امتوں کے حالات بتلائے ہیں کہ ہر پیغمبر کو منکرین و کفار کی طرف سے ایسی ایذائیں پیش آتی ہی ہیں، یہ سنت انبیاء ہے، اس سے آپ شکستہ خاطر نہ ہوں، قوم نوح ؑ کا قصہ قرآن میں بار بار آیا ہے کہ ساڑھے نو سو برس نوح ؑ ان کی اصلاح کی کوشش کرتے رہے مگر ان کی طرف سے نہ صرف انکار بلکہ طرح طرح کی ایذائیں پہنچتی رہیں اصحاب الرس کون لوگ ہیں ؟ اَصْحٰبُ الرَّسِّ ، لفظ رس عربی زبان میں مختلف معنی کے لئے آتا ہے، مشہور معنی یہ ہیں کہ کچے کنویں کو رس کہا جاتا ہے، جو اینٹ پتھر وغیرہ سے پختہ نہ کیا گیا ہو، اصحاب الرس سے مراد قوم ثمود کے باقی ماندہ لوگ ہیں جو عذاب کے بعد باقی رہے، ضحاک وغیرہ مفسرین نے ان کا قصہ یہ لکھا ہے کہ جب حضرت صالح ؑ کی قوم (ثمود) پر عذاب آیا تو ان میں سے چار ہزار آدمی جو حضرت صالح ؑ پر ایمان لا چکے تھے وہ عذاب سے محفوظ رہے، یہ لوگ اپنے مقام سے منتقل ہو کر حضرموت میں جا کر مقیم ہوگئے، حضرت صالح ؑ بھی ان کے ساتھ تھے، ایک کنویں پر جا کر یہ لوگ ٹھہر گئے اور حضرت صالح ؑ کی وفات ہوگئی، اسی لئے اس جگہ کا نام حضرموت (یعنی موت حاضر ہوگئی) ہے، یہ لوگ یہیں رہ پڑے، پھر ان کی نسل میں بت پرستی شروع ہوگئی، ان کی اصلاح کے لئے حق تعالیٰ نے ایک نبی کو بھیجا، جس کو انہوں نے قتل کر ڈالا، ان پر خدا تعالیٰ کا عذاب آیا، ان کا کنواں جس پر ان کی زندگی کا انحصار تھا وہ بیکار ہوگیا اور عمارتیں ویران ہوگئیں، قرآن کریم نے اسی کا ذکر اس آیت میں فرمایا ہے(آیت) وبئر معطلة و قصر مشید، یعنی چشم عبرت والوں کے لئے ان کا بیکار پڑا ہوا کنواں اور پختہ بنے ہوئے محلات ویران پڑے ہوئے عبرت کے لئے کافی ہیں۔ ثمودحضرت صالح ؑ کی امت ہیں ان کا واقعہ قرآن میں بار بار پہلے گزر چکا ہے۔
Ayah 50:13

وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوْطٍۙ Open ayah 50:13 in the Quran reader

اور عاد اور فرعون اور لوط کے بھائی

عادقوم عاد اپنے ڈیل ڈول اور قوت و شجاعت میں ضرب المثل تھی، حضرت ہود ؑ ان کی طرف مبعوث ہوئے، ان کو ستایا ان کی نافرمانی کی، آخر کار ہوا کے طوفان کا عذاب آیا اور سب فنا ہوئے۔ فرعونبہت ہی معروف و مشہور مصر کے بادشاہ کا نام ہے۔ وَاِخْوَانُ لُوْطٍ حضرت لوط ؑ کی امت ہے، جن کا قصہ کئی مرتبہ پہلے گزر چکا ہے۔
Ayahs 50:14–15

وَّ اَصْحٰبُ الْاَیْكَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ١ؕ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیْدِ Open ayah 50:14 in the Quran reader

اور بن کے رہنے والے اور تبع کی قوم ان سب نے جھٹلایا رسولوں کو پھر ٹھیک پڑا میرا ڈرانا

اَفَعَیِیْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ١ؕ بَلْ هُمْ فِیْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۠ Open ayah 50:15 in the Quran reader

اب کیا ہم تھک گئے پہلی بار بنا کر کوئی نہیں ان کو دھوکا ہے ایک نئے بنانے میں۔

اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِایکہ گھنے جنگل اور بن کو کہتے ہیں، یہ لوگ ایسے ہی مقام پر آباد تھے، حضرت شعیب ؑ ان کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے، انہوں نے نافرمانی کی، بالآخر عذاب الٰہی سے تباہ و برباد ہوئے۔ وَقَوْمُ تُبَّعٍتبع یمن کے ایک بادشاہ کا لقب ہے، جس کی ضروری تحقیق جلد ہفتم میں سورة دخان کے تحت گزر چکی ہے۔
Ayah 50:16

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ١ۖۚ وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ Open ayah 50:16 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے بنایا انسان کو اور ہم جانتے ہیں جو باتیں آتی رہتی ہیں اس کے جی میں اور ہم اس سے نزدیک ہیں دھڑکتی رگ سے زیادہ

خلاصہ تفسیر (اوپر قیامت میں مردوں کے زندہ ہونے کا امکان ثابت ہوچکا ہے آگے اس کے وقوع کا بیان ہے اور وقوع موقوف ہے علم کامل اور قدرت کاملہ پر، اس لئے اول اس کو بتلاتے ہیں کہ) اور ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے (جو اعلیٰ درجہ کی دلیل ہے قدرت پر) اور اس کی جی میں جو خیالات آتے ہیں ہم ان (تک) کو (بھی) جانتے ہیں (تو جو افعال ان کے ہاتھ پاؤں اور زبان سے صادر ہوں ان کو جاننا تو بدرجہ اولیٰ ہے) اور (بلکہ ہم کو تو اس کے احوال کا ایسا علم ہے کہ اس کو خود بھی اپنے احوال کا ایسا علم نہیں پس باعتبار علم کے) ہم انسان کے اس قدر قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ (جس کے قطع ہونے سے انسان مر جاتا ہے، اور چونکہ لوگوں کی عام عادت میں جانور کی روح نکالنے کے لئے گردن کاٹنے ہی کا طریقہ رائج ہے، اس لئے یہ تعبیر اختیار کی گئی اور یہ گردن کی رگیں ورید اور شریان دونوں کو محتمل ہیں، مگر شریان مراد لینا زیادہ مناسب ہے کیونکہ ان میں روح غالب اور خون مغلوب رہتا ہے، اور ورید میں بالعکس اور یہاں جس کو روح میں زیادہ دخل ہو اس کا مراد لینا مناسب ہے اور سورة حاقہ میں لفظ و تین بمعنی رگ دل سے تعبیر کرنا اس کا موید ہے، کیونکہ جو رگیں دل سے نکتی ہیں وہ شرائین ہیں اور گو قرآن میں لفظ ورید ہے مگر معنی لغوی اس کے عام ہیں جس میں دل سے نکلنے والی رگیں شرائین بھی داخل ہیں اور جگر سے نکلنے والی رگیں ورید بھی، پس مطلب یہ ہوا کہ ہم باعتبار علم کے اس کی روح اور نفس سے بھی نزدیک تر ہیں، یعنی جیسا علم انسان کو اپنے احوال کا ہے ہم کو اس کا علم خود اس سے بھی زیادہ ہے، چناچہ انسان کو اپنی بہت سی حالتوں کا تو علم ہی نہیں ہوتا اور جن کا علم ہوتا ہے ان میں بھی بعض اوقات نسیان یا ان سے ذہول ہوجاتا ہے اور حق تعالیٰ میں ان احتمالات کی گنجائش ہی نہیں اور ظاہر ہے کہ جو علم ہر حالت میں ہو اس کا تعلق بہ نسبت اس کے کہ ایک حالت میں ہو زیادہ ہوگا، غرض علم الٰہی کا جمیع احوال انسانیہ کے ساتھ متعلق ہونا بھی ثابت ہوگیا، آگے اس کی مزید تاکید کے لئے یہ بیان فرمایا کہ انسان کے اعمال و احوال صرف یہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں محفوظ ہوں بلکہ ظاہری حجت تمام کرنے کے لئے وہ اعمال فرشتوں کے ذریعہ لکھوا کر بھی محفوظ کئے گئے، ارشاد ہے) جب دو اخذ کرنے والے فرشتے (انسان کے اعمال کو جب وہ اس سے صادر ہوتے ہیں) اخذ کرتے رہتے ہیں جو کہ داہنی اور بائیں طرف بیٹھے رہتے ہیں (اور برابر ہر عمل کو لکھتے رہتے ہیں، لقولہ تعالیٰ (آیت) ان رسلنا یکتبون ما تمکرون وقولہ تعالیٰ انا کنا نستنسخ ماکنتم تعملون۔ یہاں تک کہ سب اعمال میں خفیف انسان کی گفتگو اور کلام ہے، مگر اس کی یہ کیفیت ہے کہ) وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالنے پاتا مگر اس کے پاس ہی ایک تاک لگانے والا تیار (موجود ہوتا) ہے (اگر وہ نیکی کا کلام ہو تو داہنے والا اس کو ضبط اور تحریر میں لاتا ہے، اگر بدی کا کلام ہو تو بائیں والا اور جب زبان سے نکلنے والا ایک ایک کلمہ محفوظ و مکتوب ہے تو دوسرے اعمال کیوں نہ ہوں گے) اور (چونکہ آخرت کی زندگی اور اعمال کی جزا و سزا سب کا مقدمہ موت ہے، اس لئے انسان کو منتبہ کرنے کے لئے آگے اس کا ذکر ہے، کیونکہ قیامت سے انکار و حقیقت موت سے غفلت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے، ارشاد ہے کہ تو ہوشیار ہوجاؤ) موت کی سختی حقیقتہ (قریب) آپہنچی (یعنی ہر شخص کی موت قریب ہے چناچہ ظاہر ہے) یہ (موت) وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا (اور بھاگتا) تھا (موت سے بھاگناطبعی طور پر تو ہر نیک و بد میں یکساں ہے اور کافر فاجر کا موت سے بھاگنا بوجہ حب دنیا کے اور بھی زیادہ واضح ہے، کسی خاص بندہ پر اللہ سے ملنے کے شوق کا غلبہ ہو کر موت کا لذیذ اور مطلوب ہوجانا اس کے منافی نہیں کیونکہ وہ عالم عادت انسانی سے مافوق حالت ہے) اور (اس مقدمہ یعنی ذکر موت کے بعد اب وقوع قیامت کا بیان ہے، جو کہ مقصود تھا یعنی قیامت کے دن دوبارہ) صور پھونکا جائے گا (جس سے سب زیادہ ہوجائیں گے یہی دن ہوگا وعید کا (جس سے لوگوں کو ڈرایا جاتا تھا) اور (آگے قیامت کے ہولناک واقعات اور حالات کا بیان ہے) ہر شخص اس طرح (میدان قیامت میں) آوے گا کہ اس کے ساتھ (دو فرشتے ہوں گے جن میں) ایک (تو میدان قیامت کی طرف) اس کو اپنے ہمراہ لاوے گا اور ایک (اس کے اعمال کا) گواہ ہوگا (حدیث مرفوع میں ہے کہ یہ سائق اور شہید وہی دو فرشتے ہیں جو زندگی میں انسان کے دائیں اور بائیں اس کے اعمال کو لکھتے تھے (رواہ فی الدر) اور اگر یہ حدیث موافق شرائط محدثین کے قوی نہ ہو تو احتمال ہے کہ دو فرشتے اور ہوں جیسا کہ بعض قائل ہوئے ہیں گو اس صورت میں بھی بوجہ موافقت حدیث کے راجح احتمال اول ہی ہوگا اور جب وہ میدان قیامت میں حاضر ہوں گے تو ان میں جو کافر ہوں گے ان سے خطاب ہوگا کہ) تو اس دن سے بیخبر تھا (یعنی اس کا قائل نہ تھا) سو اب ہم نے تجھ پر سے تیرا پردہ (غفلت اور انکار کا) ہٹا دیا (اور قیامت کا معائنہ کرا دیا) سو آج (تو) تیری نگاہ بڑی تیز ہے (کہ کوئی امر مانع ادراک نہیں، کاش تو دنیا میں بھی اس مانع غفلت کو رفع کردیا تو تیرے دن بھلے ہوتے) اور (اس کے بعد) فرشتہ (کاتب اعمال) جو اس کے ساتھ رہتا تھا (اور اب بھی ایک قول پر سالق یا شاہد بن کر آیا ہے نامہ اعمال حاضر کر کے) عرض کرے گا کہ یہ وہ (روزنامچہ) ہے جو میرے پاس تیار ہے (کذا فسر ہذا القرین بالملک ابن جریج والقرین الذی یلیہ یا لشیطان رواہ فی الدر) چناچہ اس روزنامچہ کے موافق کافروں کے بارے میں دو فرشتوں کو خواہ وہ سائق و شہید مذکور ہوں یا اور دو فرشتے ہوں، حکم ہوگا کہ) ہر ایسے شخص کو جہنم میں ڈال دو جو کفر کرنے والا ہو اور (حق سے) ضد رکھتا ہو اور نیک کام سے روکتا ہو اور حد (عبدیت) سے باہر ہوجانے والا ہو اور (دین میں) شبہ پیدا کرنے والا ہو، جس نے خدا کے ساتھ دوسرا معبود تجویز کیا ہو سو ایسے شخص کو سخت عذاب میں ڈال دو (جب کفار کو معلوم ہوگا کہ اب خسارہ ابدی میں پڑنے والے ہیں اس وقت اپنے بچاؤں کے واسطے گمراہ کرنے والوں کے ذمہ الزام رکھیں گے کہ ہمارا قصور نہیں ہمیں تو دوسروں نے گمراہ کیا ہے اور چونکہ ان گمراہ کرنے والوں میں شیاطین بھی داخل ہیں، اس لئے فرمایا کہ) وہ شیطان جو اس کے ساتھ رہتا تھا کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو (جبراً) گمراہ نہیں کیا تھا جیسا کہ اس کے الزام رکھنے سے مفہوم ہوتا ہے کہ اس کے اپنے اختیار کو بالکل دخل نہ ہو) لیکن (بات یہ ہے کہ) یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں (باختیار خود) تھا (گو اغواء میں نے بھی کیا جس میں کوئی جبر نہ تھا، اس لئے اس کی گمراہی کا اثر مجھ پر نہ ہونا چاہئے) ارشاد ہوگا کہ میرے سامنے جھگڑے کی باتیں مت کرو (کہ بےسود ہیں) اور میں تو پہلے ہی تمہارے پاس وعید بھیج چکا تھا (کہ جو کفر کرے گا از خود یا کسی کے اغواء سے اور جو کفر کا حکم کرے گا خواہ اپنی مرضی سے یا کسی کے جبر سے سب کو جہنم کی سزا علیٰ تفاوت المراتب دوں گا سو) میرے ہاں (وہ) بات (وعید مذکور کی) نہیں بدلی جاوے گی (بلکہ تم سب دوزخ میں جھونکے جاؤ گے) اور میں (اس تجویز میں) بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں (بلکہ بندوں نے خود ایسے ناشائستہ کام کئے جس کی سزا آج بھگت رہے ہیں) معارف و مسائل سابقہ آیات میں منکرین حشر و نشر اور مردوں کے زندہ ہونے کو بعید از عقل و قیاس کہنے والوں کے شبہات کا ازالہ اس طرح کیا تھا کہ تم نے حق تعالیٰ کے علم کو اپنے علم و بصیرت پر قیاس کر رکھا ہے اس لئے یہ اشکال ہے کہ مردے کے اجزا مٹی ہو کر دنیا میں بکھرنے کے بعد ان کو کس طرح جمع کیا جاسکتا ہے، مگر حق تعالیٰ نے بتلایا کہ کائنات کا ذرہ ذرہ ہمارے علم میں ہے، ہمارے لئے ان سب کو جب چاہیں جمع کردینا کیا مشکل ہے، آیات مذکورہ میں بھی علم الٰہی کی وسعت اور ہمہ گیری کا بیان ہے کہ انسان کے اجزائے منتشرہ کا علم ہونے سے بھی زیادہ بڑی بات تو یہ ہے کہ ہم ہر انسان کے دل میں آنے والے خیالات کو بھی ہر وقت ہر حال میں جانتے ہیں اور اس کی وجہ دوسری آیت میں یہ بیان فرمائی کہ ہم انسان سے اتنے قریب ہیں کہ اس کی رگ گردن جس پر اس کی زندگی کا مدار ہے وہ بھی اتنی قریب نہیں، اس لئے ہم اس کے حالات کو خود اس سے بھی زیادہ جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انسان سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں اس کی تحقیق (آیت) وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ ، کا جمہور مفسرین نے یہی مطلب قرار دیا ہے کہ قرب سے مراد قرب علمی اور احاطہ علمی ہے قرب مسافت مراد نہیں۔ لفظ ورید عربی زبان میں ہر جاندار کی وہ رگیں ہیں جن سے خون کا سیلان تمام بدن میں ہوتا ہے، طبی اصطلاح میں یہ دو قسم کی رگیں ہیں، ایک وہ جو جگر سے نکلتی ہیں اور خالص خون سارے بدن انسانی میں پہنچاتی ہیں، طبی اصطلاح میں صرف انہی رگوں کو ورید اور جمع کو اور دہ کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ رگیں جو حیوان کے قلب سے نکلتی ہیں اور خون کی وہ لطیف بھاپ جس کو طبی اصطلاح میں روح کہا جاتا ہے وہ اسی طرح تمام بدن انسانی میں پھیلاتی اور پہنچاتی ہیں ان کو شریان اور شرائین کہا جاتا ہے، پہلی قسم کی رگیں موٹی اور دوسری باریک ہوتی ہیں آیت مذکورہ میں یہ ضروری نہیں کہ ورید کا لفظ طبی اصطلاح کے مطابق اس رگ کے لئے لیا جائے جو جگر سے نکلتی ہے، بلکہ قلب سے نکلنے والی رگ کو بھی لغت کے اعتبار سے ورید کہا جاسکتا ہے، کیونکہ اس میں بھی ایک قسم کا خون ہی دوران کرتا ہے اور اس جگہ چونکہ مقصود آیت کا انسان کے قلبی خیالات اور احوال سے مطلع ہونا ہے، اس لئے وہ زیادہ انسب ہے اور بہرحال خواہ ورید باصطلاح طب جگر سے نکلنے والی رگ کے معنی میں ہو یا قلب سے نکلنے والی شریان کے معنی میں، بہر دو صورت جاندار کی زندگی اس پر موقوف ہے، یہ رگیں کاٹ دی جائیں تو جاندار کی روح نکل جاتی ہے، تو خلاصہ یہ ہوا کہ جس چیز پر انسان کی زندگی موقوف ہے ہم اس چیز سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں یعنی اس کی ہر چیز کا علم رکھتے ہیں اور صوفیائے کرام کے نزدیک قرب سے مراد اس جگہ صرف قرب علمی اور احاطہ علمی ہی نہیں بلکہ ایک خاص قسم کا اتصال ہے، جس کی حقیقت اور کیفیت تو کسی کو معلوم نہیں ہو سکتی، مگر یہ قرب و اتصال بلا کیف موجود ضرور ہے، قرآن کریم کی متعدد آیات اور احادیث صحیحہ اس پر شاہد ہیں، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) واسجد واقترب، یعنی ”سجدہ کرو اور ہمارے قریب ہوجاؤ“ اور ہجرت کے واقعہ میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق سے فرمایا اللہ معنا ”یعنی اللہ ہمارے ساتھ ہے“ اور حضرت موسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل سے فرمایا ان معی ربی ”یعنی میرا رب میرے ساتھ ہے“ اور حدیث میں ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب کہ وہ سجدہ میں ہو، اسی طرح حدیث میں ہے کہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ”میرا بندہ میرے ساتھ نفلی عبادات کے ساتھ تقرب حاصل کرتا رہتا ہے“۔ یہ قرب و تقرب جو عبادات کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے اور انسان کے لئے کسب و عمل کا نتیجہ ہوتا ہے وہ صرف مومن کے لئے مخصوص ہے اور ایسے مومنین اولیاء اللہ کہلاتے ہیں جن کو حق تعالیٰ کے ساتھ یہ تقرب حاصل ہو یہ اتصال و قرب اس قرب کے علاوہ ہے جو حق تعالیٰ کو ہر انسان مومن و کافر کی جان کے ساتھ یکساں ہے، غرض مذکورہ آیا و روایات اس پر شاہد ہیں کہ انسان کو اپنے خالق ومالک کے ساتھ ایک خاص قسم کا اتصال حاصل ہے گو ہم اس کی حقیقت اور کیفیت کا ادراک نہ کرسکیں، مولانا رومی نے اسی کو فرمایا ہے۔ اتصالے بےمثال و بےقیاس، ہست رب الناس رابا جان ناس یہ قرب و اتصال آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ فراست ایمانی سے معلوم کیا جاسکتا ہے تفسیر مظہری میں اسی قرب و اتصال کو اس آیت کا مفہوم قرار دیا ہے اور جمہور مفسرین کا قول پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ اتصال سے مراد اتصال علمی اور احاطہ علمی ہے اور ابن کثیر نے ان دونوں معنی سے الگ ایک تیسری تفسیر یہ اختیار کی ہے کہ آیت میں لفظ سخن سے خود حق تعالیٰ کی ذات مراد نہیں بلکہ اس کے فرشتے مراد ہیں جو انسان کے ساتھ ہر وقت رہتے ہیں، وہ انسان کی جان سے اتنے باخبر ہوتے ہیں کہ خود انسان بھی اپنی جان سے اتنا باخبر نہیں ہوتا، واللہ اعلم۔
Ayah 50:17

اِذْ یَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ Open ayah 50:17 in the Quran reader

جب لیتے جاتے ہیں دو لینے والے داہنے بیٹھا اور بائیں بیٹھا

ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے (آیت) اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ ، تلقی کے لغوی معنی اخذ کرنے لے لینے اور حاصل کرلینے کے آتے ہیں (آیت) فتلقی آدم من ربہ کلمت ”یعنی لے لئے اور حاصل کر لئے آدم ؑ نے اپنے رب سے چند کلمات“ اس آیت میں متلقیان سے مراد وہ دو فرشتے ہیں جو ہر انسان کے ساتھ اس کے اعمال لکھنے کے لئے ہر وقت اس کے ساتھ رہتے ہیں اور اس کے اعمال کو اپنے صحیفوں میں لکھتے رہتے ہیں، عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ ”یعنی ان میں ایک اس کے داہنی طرف رہتا ہے (جو اس کے اعمال صالحہ کو لکھتا ہے) دوسرا اس کے بائیں جانب (جو اس کی سیئات کو لکھتا ہے) قعید بمعنی القاعدہ ہے مفرد و جمع دونوں کے لئے لفظ قعید استعمال ہوتا ہے اگرچہ قعید بمعنی قاعد ہے، جیسے جلیس بمعنی جالس، مگر ایک فرق یہ ہے کہ قاعد اور جالس تو صرف بیٹھنے کی حالت میں بولا جاتا ہے اور قعید و جلیس عام ہے جو کسی کے ساتھ ہو خواہ بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے یا چلتے پھرتے ہوئے ان کو قعید و جلیس کہیں گے، ان دونوں فرشتوں کا یہی حال ہے کہ وہ ہر وقت ہر حال میں انسان کے ساتھ رہتے ہیں، وہ بیٹھا ہو یا کھڑا، چلتا پھرتا ہو یا سو رہا ہو، صرف ایسی حالت میں جب کہ یہ پیشاب، پاخانہ یا جماع کی ضرورت سے ستر کھولے ہوتا ہے تو یہ فرشتے ہٹ جاتے ہیں، مگر اللہ نے ان کو اس کا ملکہ دے دیا ہے کہ اس حالت میں بھی وہ کوئی گناہ کریں تو ان کو معلوم ہوجاتا ہے۔ ابن کثیر نے احنف بن قیس کی روایت سے لکھا ہے کہ ان دو فرشتوں میں سے صاحب یمین نیک اعمال لکھتا ہے اور وہ صاحب شمال یعنی بائیں جانب کے فرشتے کا بھی نگران و امین ہے، اگر انسان کوئی گناہ کرتا ہے تو صاحب یمین صاحب شمال سے کہتا ہے کہ ابھی اس کو اپنے صحیفہ میں نہ لکھو اس کو مہلت دو اگر توبہ کرلی تو رہنے دو ورنہ پھر اعمالنامہ میں درج کرو (رواہ ابن ابی حاتم) اعمالنامہ لکھنے والے فرشتے حضرت حسن بصری نے آیت مذکورہ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ تلاوت فرما کر کہا۔ ”اے ابن آدم ! تیرے لئے نامہ اعمال بچھا دیا گیا اور تجھ پر دو معزز فرشتے مقرر کردیئے گئے ہیں، ایک تیری داہنی جانب دوسرا بائیں جانب، داہنی جانب والا تیری حسنات کو لکھتا ہے اور بائیں جانب والا تیری سیئات اور گناہوں کو، اب اس حقیقت کو سامنے رکھ کر جو تیرا جی چاہے عمل کر اور کم کر یا زیادہ، یہاں تک کہ جب تو مرے گا تو یہ صحیفہ یعنی نامہ اعمال پیٹ دیا جائے گا اور تیری گردن میں ڈال دیا جائے گا، جو تیرے ساتھ قبر میں جائے گا اور رہے گا، یہاں تک کہ جب تو قیامت کے روز قبر سے نکلے گا تو اس وقت حق تعالیٰ فرمائے گا (آیت) (وکل انسان الزمنہ طٓئرہ فی عنقہ و نخرج لہ یوم القیمة کتبا یلقہ منشورا اقرا کتبک کفی بنفسک الیوم علیک حسیبا) یعنی ہم نے ہر انسان کا اعمالنامہ اس کی گردن میں لگا دیا ہے اور قیامت کے روز وہ اس کو کھلا ہوا پائے گا، اب اپنا اعمالنامہ خود پڑھ لے تو خود ہی اپنا حساب لگانے کے لئے کافی ہے“۔ پھر حضرت حسن بصری نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! اس ذات نے بڑا عدل و انصاف کیا، جس نے خود تجھ کو ہی تیرے اعمال کا محاسب بنادیا (ابن کثیر) یہ ظاہر ہے کہ اعمال نامہ کوئی دنیوی کاغذ تو ہے نہیں جس کے قبر میں ساتھ جانے اور قیامت تک باقی رہنے پر اشکال ہو ایک معنوی چیز ہے جس کی حقیقت حق تعالیٰ ہی جانتے ہیں، اس لئے اس کا ہر انسان کے گلے کا ہار بننا اور قیامت تک باقی رہنا کوئی تعجب کی چیز نہیں۔
Ayah 50:18

مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْهِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ Open ayah 50:18 in the Quran reader

نہیں بولتا کچھ بات جو نہیں ہوتا اس کے پاس ایک راہ دیکھنے والا تیار

انسان کا ہر قول ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ (یعنی انسان کوئی کلمہ زبان سے نہیں نکالتا جس کو یہ نگران فرشتہ محفوظ نہ کرلیتا ہو، حضرت حسن بصری اور قتادہ نے فرمایا کہ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب ہو یا نہ ہو، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ صرف وہ کلمات لکھے جاتے ہیں جن پر کوئی ثواب یا عتاب ہو، ابن کثیر نے یہ دونوں قول نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ آیت قرآن کے عموم سے پہلی ہی بات کی ترجیح معلوم ہوتی ہے، کہ ہر ہر لفظ لکھا جاتا ہے، پھر علی بن ابی طلحہ کی ایک روایت ابن عباس ہی سے ایسی نقل فرمائی جس میں یہ دونوں قول جمع ہوجاتے ہیں) اس روایت میں یہ ہے کہ پہلے تو ہر کلمہ لکھا جاتا ہے، خواہ گناہ وثواب اس میں ہو یا نہ ہو، مگر ہفتہ میں جمعرات کے روز اس پر فرشتے نظر ثانی کر کے صرف وہ رکھ لیتے ہیں جن میں ثواب یا عتاب ہو یعنی خیر یا شر ہو، باقی کو نظر انداز کردیتے ہیں، قرآن کریم میں (آیت) یمحوا اللہ ما یشآء و یبثت و عندہ ام الکتب کے مفہوم میں یہ محو و اثبات بھی داخل ہے۔ امام احمد نے حضرت بلال بن حارث مزنی سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ۔ انسان بعض اوقات کوئی کلمہ خیر بولتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، مگر یہ اس کو معمولی بات سمجھ کر بولتا ہے، اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کا ثواب کہاں تک پہنچا کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے اپنی رضائے دائمی قیامت تک کی لکھ دیتے ہیں، اسی طرح انسان کوئی کلمہ اللہ کی ناراضگی کا (معمولی سمجھ کر) زبان سے نکال دیتا ہے اور اس کو گمان نہیں ہوتا کہ اس کا گناہ و وبال کہاں تک پہنچے گا، اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص سے اپنی دائمی ناراضگی قیامت تک کے لئے لکھ دیتے ہیں (از ابن کثیر) حضرت علقمہ حضرت بلال بن حارث کی یہ حدیث نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ اس حدیث نے مجھے بہت سی باتیں زبان سے نکالنے کو روک دیا ہے (ابن کثیر)
Ayahs 50:19–20

وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِیْدُ Open ayah 50:19 in the Quran reader

اور وہ آئی بیہوشی موت کی تحقیق یہ وہ ہے جس سے تو ٹلتا رہتا تھا

وَ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْوَعِیْدِ Open ayah 50:20 in the Quran reader

اور پھونکا گیا صور یہ ہے دن ڈرانے کا

سکرات الموت (آیت) وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ، سکرة الموت کے معنی موت کی شدت اور غشی جو موت کے وقت پیش آتی ہے، ابوبکر بن الانباری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت مسروق سے روایت یہ کی ہے کہ جب حضرت صدیق اکبر پر موت کے آثار شروع ہوئے تو صدیقہ عائشہ کو بلایا، وہ پہنچیں تو یہ حالت دیکھ کر بےساختہ ایک شعر زبان سے نکلا۔ اذا حشرجت یوما و ضاق بھا الصدر ”یعنی جب روح ایک دن مضطرب ہوگی اور سینہ اس سے تنگ ہوجائے گا“ حضرت صدیق اکبر نے سنا تو فرمایا کہ تم نے فضول یہ شعر پڑھا، یوں کیوں نہ کہا (وَجَاۗءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بالْحَقِّ ۭ ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ) رسول اللہ ﷺ کو جب یہ حالت پیش آئی تو آپ پانی میں ہاتھ ڈال کر چہرہ مبارک پر ملتے اور فرماتے تھے لا الہ الا اللہ ان للموت سکرات، یعنی کلمہ طیبہ پڑھتے ہوئے فرمایا کہ موت کی بڑی شدتیں ہوتی ہیں۔ بالحق، اس میں حرف باء تعدیہ کے لئے ہے، معنی یہ ہیں کہ لے آئی شدت موت امر حق کو یعنی موت کی شدت نے وہ چیزیں سامنے کردیں جو حق و ثابت ہیں اور کسی کو ان سے فرار کی گنجائش نہیں (مظہری) ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ ، تحید حید سے مشتق ہے، جس کے معنی مائل ہونے، جگہ سے ہٹ جانے اور اقرار کرنے کے ہیں، معنی آیت کے یہ ہیں کہ موت وہ چیز ہے جس سے تو بدکتا اور بھاگتا تھا۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ خطاب عام انسان کو ہے، موت سے بدکنا اور بھاگنا طبعی طور پر پوری نوح انسانی میں پایا جاتا ہے، ہر شخص زندگی کو مرغوب اور موت کو آفت و مصیبت سمجھ کر اس سے بچنے کی تدبیریں کرتا ہے، جو شرعاً کوئی گناہ بھی نہیں، لیکن آیت میں بتلانا یہ منظور ہے کہ انسان کی یہ طبعی اور فطری خواہش مکمل طور پر ہرگز پوری نہیں ہو سکتی، ایک نہ ایک دن تو بہرحال موت آنا ہی ہے، خواہ تم اس سے کتنا ہی بھاگنا چاہو۔
Ayah 50:21

وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآئِقٌ وَّ شَهِیْدٌ Open ayah 50:21 in the Quran reader

اور آیا ہر ایک جی اس کے ساتھ ہی ایک ہانکنے والا اور ایک احوال بتلانے والا

انسان کو میدان حشر میں لانے والے دو فرشتے (آیت) وَجَاۗءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَاۗىِٕقٌ وَّشَهِيْدٌ، اس آیت سے اوپر قیامت قائم ہونے کا ذکر ہے، اس آیت میں میدان حشر میں تمام انسانوں کے حاضر ہونے کی ایک خاص کیفیت بیان کی گئی ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک سائق ہوگا، سائق کہتے ہیں اس شخص کو جو جانوروں کے یا کسی جماعت کے پیچھے رہ کر اس کو کسی خاص جگہ پر پہنچانا چاہتا ہے اور شہید کے معنی گواہ کے ہیں، سائق کا فرشتہ ہونا تو باتفاق روایات سے ثابت ہے، شہید کے بارے میں علماء تفسیر کے اقوال مختلف ہیں، بعض کے نزدیک وہ بھی ایک فرشتہ ہی ہوگا، اس طرح سائق اور شہید دو فرشتے ہوگئے، ایک کا کام اس کو میدان حشر میں پہنچانا ہے، دوسرے کا کام یہ ہے کہ جب اس کے اعمال پیش ہوں تو وہ اس پر گواہی دیں یہ دو فرشتے وہ بھی ہو سکتے ہیں جو انسان کے داہنے اور بائیں اعمال کی کتابت کے لئے ہر وقت دنیا میں ساتھ رہتے ہیں، یعنی کراما کاتبین اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے علاوہ اور دو ہوں۔ اور شہید کے متعلق بعض حضرات نے فرمایا کہ وہ انسان کا عمل ہوگا اور بعض نے خود اسی انسان کو شہید فرمایا، ابن کثیر فرماتے ہیں کہ ظاہر آیت سے یہی ہے کہ وہ بھی ایک فرشتہ ہی ہوگا جو اس کے اعمال پر شہادت دے گا، حضرت عثمان غنی نے خطبہ میں یہ آیت تلاوت فرما کر یہی تفسیر فرمائی ہے اور حضرت مجاہد، قتادہ، ابن زید مفسرین سے بھی یہی منقول ہے، ابن جریر نے اسی کو ترجیح دی ہے۔
Ayah 50:22

لَقَدْ كُنْتَ فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ فَبَصَرُكَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ Open ayah 50:22 in the Quran reader

تو بیجز رہا اس دن سے اب کھول دی ہم نے تجھ پر سے تیری اندھیری سو تیری نگاہ آج تیز ہے

مرنے کے بعد آنکھیں وہ سب کچھ دیکھیں گی جو زندگی میں نہ دیکھ سکتی تھیں (آیت) فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاۗءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيْدٌ (یعنی ہم نے تمہاری آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا آج تمہاری نگاہ بڑی تیز ہے) اس کا مخاطب کون ہے، اس میں بھی مفسرین کے اقوال مختلف ہیں، مگر راجح یہی ہے کہ عام انسان مخاطب ہیں، جن میں مومن، کافر، متقی، فاسق، سب داخل ہیں، اسی تفسیر کو ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ نے اختیار فرمایا ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ دنیا کی مثال خواب کی سی زندگی کی ہے اور آخرت کی مثال بیداری کی، جیسے خواب میں آدمی کی آنکھیں بند ہوتی ہیں کچھ نہیں دیکھتا اسی طرح انسان ان حقائق کو جن کا تعلق عالم آخرت سے ہے دنیا میں آنکھوں سے نہیں دیکھتا مگر یہ ظاہری آنکھیں بند ہوتے ہی وہ خواب کا عالم ختم ہو کر بیداری کا عالم آتا ہے جس میں وہ سارے حقائق سامنے آجاتے ہیں اسی لئے بعض علماء نے فرمایا الناس نیام فاذا ماتوا انتبھوا (یعنی آج کی دنیا کی زندگی میں سب انسان سو رہے ہیں جب مریں گے اس وقت جاگیں گے)
Ayah 50:23

وَ قَالَ قَرِیْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیْدٌؕ Open ayah 50:23 in the Quran reader

اور بولا (فرشتہ) اس کے ساتھ والا یہ ہے جو میرے پاس تھا حاضر

(آیت) قَالَ قَرِيْنُهٗ ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ، یہاں قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جو انسان کے ساتھ اس کے اعمال لکھنے کے لئے رہتا تھا اور پہلے معلوم ہوچکا ہے کہ کاتب اعمال دو فرشتے ہوتے ہیں، مگر قیامت میں انسان کی حاضری کے وقت ایک کو سائق دوسرے کو شہید اس سے پہلی آیت میں فرمایا ہے، اس لئے نسق کلام سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ کاتب اعمال دو فرشتوں کو میدان حشر میں اس کی حاضری کے وقت دو کام سپرد کردیئے گئے ہیں ایک کے ذمہ اس کے پیچھے رہ کر اس کو میدان حشر میں پہنچانا لگایا گیا، جس کو آیت میں سائق کا نام دیا گیا ہے دوسرے کے سپرد اس کے نامہ اعمال کردیئے گئے جس کو شہید کے نام سے تعبیر کیا گیا، تو میدان حشر میں پہنچنے کے بعد نامہ اعمال والا فرشتہ یعنی شہید یہ عرض کرے گا ھٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ یعنی اس کے اعمال میرے پاس لکھے ہوئے موجود ہیں اور ابن جریر نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ یہاں لفظ ”قرین“ سائق اور شہید دونوں کو شامل ہے۔
Ayahs 50:24–26

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍۙ Open ayah 50:24 in the Quran reader

ڈال دو تم دونوں دوزخ میں ہر ناشکر مخالف کو

مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِۙ Open ayah 50:25 in the Quran reader

نیکی سے روکنے والا حد سے بڑھنے والا شبہ ڈالنے والا

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَاَلْقِیٰهُ فِی الْعَذَابِ الشَّدِیْدِ Open ayah 50:26 in the Quran reader

جس نے ٹھہرایا اللہ کے ساتھ اور کو پوجنا سو ڈال دو اس کو سخت عذاب میں

(آیت) اَلْقِيَا فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ ، لفظ القیا تثنیہ کا صیغہ ہے جو دو شخصوں کے لئے بولا جاتا ہے اس آیت میں جن دو فرشتوں کو خطاب ہے وہ کون ہیں، ظاہر یہ ہے کہ یہی دو فرشتے جن کو پہلے سائق اور شہید کہا گیا ہے اس کے مخاطب ہیں، بعض حضرات مفسرین نے دوسری توجیہات بھی لکھی ہیں (از ابن کثیر)
Ayah 50:27

قَالَ قَرِیْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَیْتُهٗ وَ لٰكِنْ كَانَ فِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 50:27 in the Quran reader

بولا (شیطان) اس کا ساتھی اے رب ہمارے میں نے اس کو شرارت میں نہیں ڈالا پر یہ تھا راہ کو بھولا دور پڑا ہوا

(آیت) قَالَ قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا مَآ اَطْغَيْتُهٗ ، لفظ قرین کے اصلی معنی پاس رہنے والے اور ملے ہوئے کے ہیں اس معنی کے اعتبار سے پچھلی آیت میں قرین سے مراد وہ فرشتہ یا فرشتے لئے گئے ہیں جو انسان کے اعمال لکھتے ہیں اور انسان کے ساتھ جیسے دو فرشتے قرین بنائے گئے ہیں اسی طرح ایک شیطان بھی ہر انسان کا قرین رہتا ہے، جو اس کو گمراہی اور گناہوں کی طرف بلاتا ہے، اس آیت میں قری سے یہی شیطان مراد ہے، جب اس شخص کو جہنم میں ڈالنے کا حکم ہوجائے گا تو یہ شیطان اس سے اپنی برات کا اظہار کرے گا کہ اس کو میں نے گمراہ نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی گمراہ تھا کہ گمراہی کی بات کو قبول کرتا اور نیک بات پر کان نہ دھرتا تھا ظاہر کلام سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جہنم میں جانے والا اس وقت یہ عذر کرے گا کہ مجھے تو اس شیطان نے بہکایا تھا، ورنہ میں نیک کام کرتا، اس کے جواب میں شیطان اپنی برات ظاہر کرے گا، ان دونوں کے جھگڑے کے جواب میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہوگا۔
Ayah 50:28

قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْكُمْ بِالْوَعِیْدِ Open ayah 50:28 in the Quran reader

فرمایا جھگڑا نہ کرو میرے پاس اور میں پہلے ہی ڈرا چکا تھا تم کو عذاب سے

(آیت) لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَيَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بالْوَعِيْدِ ،”یعنی میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، میں تو پہلے ہی انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعہ تمہارے فضول عذر کا جواب دے چکا ہوں اور آسمانی کتابوں کے ذریعہ دلائل واضح کرچکا ہوں، یہ فضول عذر تراشی اور جھگڑا آج نہ چلے گا“۔
Ayah 50:29

مَا یُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ۠ Open ayah 50:29 in the Quran reader

بدلتی نہیں بات میرے پاس اور میں ظلم نہیں کرتا بندوں پر۔

(آیت) مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَمَآ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ ”میرے پاس قول بدلا نہیں کرتا جو فیصلہ کردیا ہے وہ نافذ ہوگا اور ہم نے کوئی کسی پر ظلم نہیں کیا، عین انصاف کا فیصلہ ہے“۔
Ayahs 50:30–31

یَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ Open ayah 50:30 in the Quran reader

جس دن ہم کہیں دوزخ کو تو بھر بھی چکی اور وہ بولے کچھ اور بھی ہے

وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ Open ayah 50:31 in the Quran reader

اور نزدیک لائی جائے بہشت ڈرانیوالوں کے واسطے دور نہیں

خلاصہ تفسیر (یہاں سے محشر کے بقیہ واقعات کا بیان ہے کہ وہ دن لوگوں کو یاد دلایئے) جس دن کہ ہم دوزخ سے (کفار کو اس میں داخل کرنے کے بعد) کہیں گے کہ تو بھر بھی گئی اور وہ کہے گی کہ کچھ اور بھی ہے (یہ پوچھنا شاید کفار کو اور زیادہ ڈرانے کے لئے ہو کہ جواب سن کر ان کے دل میں دوزخ کی اور بھی زیادہ ہول پیدا ہوجاوے کہ ہم کیسے غضب کے ٹھکانے پر پہنچنے ہیں جو سب کو کھا جانا چاہتا ہے اور جہنم کی طرف سے هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ کا جواب میں غالباً اسی غیظ و غضب کا مظاہرہ ہے جو جہنم کو خدا کے دشمن کفار کے ساتھ ہے جس کا ذکر سورة ملک میں ان الفظ سے آیا ہے (آیت) وھی تفور تکاد تمیز من الغیظ، جہنم نے جواب میں یہ نہیں کہا کہ میرا پیٹ نہیں بھرا بلکہ مزید کی فرمائش بوجہ غیظ و غضب کے کی، اس لئے قرآن میں دوسری جگہ جو حق تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے (آیت) لاملئن جھنم من الجنة والناس اجمعین (یعنی میں بھر دوں گا جہنم کو جنات اور انسانوں سے) یہ اس کے منافی نہیں اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ سابقہ لاملئن کے لئے جنات اور انسانوں کو جہنم میں ڈالتے جاویں گے اور وہ یہی کہتا رہے گا کہ کچھ اور بھی ہے (ابن کثیر) اور (جنت کا بیان یہ ہے کہ وہ) جنت متقیوں کے قریب کردی جاوے گی کہ کچھ دور نہ رہے گی (اور متقیول سے کہا جاوے گا کہ) یہ وہ چیز ہے جس کا تم سے (بایں عنوان) وعدہ کیا جاتا تھا وہ ہر ایسے شخص کے لئے ہے جو (خدا کی طرف دل سے) رجوع ہونے والا (اور رجوع ہو کر اعمال و طاعات کی) پابندی کرنے والا ہو (غرض یہ کہ) جو خدا سے بےدیکھے ڈرتا ہوگا اور (اللہ کے پاس) رجوع ہونے والا دل لے کر آوے گا (ان کو حکم ہوگا کہ) اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہوجاؤ، یہ دن ہے ہمیشہ رہنے (کے لئے حکم ہونے) کا ان کو بہشت میں سب کچھ ملے گا جو جو چاہیں گے اور ہمارے پاس (ان کی چاہی ہوئی چیزوں سے) اور بھی زیادہ (نعمت) ہے (کہ وہاں تک جنتی کا ذہن بھی نہ پہنچے گا جیسا کہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی نعمتوں کے متعلق فرمایا کہ وہ ایسی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی بشر کے دل میں اس کا خیال آیا، ان نعمتوں میں سے ایک نعمت حق تعالیٰ کا دیدار ہے)۔
Ayah 50:32

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍۚ Open ayah 50:32 in the Quran reader

یہ ہے جس کا وعدہ ہوا تھا تم سے ہر ایک رجوع رہنے والے یاد رکھنے والے کے واسطے

معارف و مسائل اواب کون لوگ ہیں ؟ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ ، یعنی جنت کا وعدہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو اواب اور حفیظ ہو، اواب کے معنی رجوع ہونے والے کے ہیں، مراد وہ شخص ہے جو معاصی سے اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور شعبی اور مجاہد نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کرے اور ان سے استغفار کرے اور حضرت عبید بن عمیر نے فرمایا کہ اواب وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس اور ہر نشست میں اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت مانگے اور فرمایا کہ ہمیں یہ بتلایا گیا ہے کہ اواب اور حفیظ وہ شخص ہے جو اپنی ہر مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعا پڑھے، سبحان اللہ وبحمدہ اللھم انی استغفرک مما اصبت فی مجلسی ھذا (پاک ہے اللہ اور اسی کی حمد ہے، یا اللہ میں مغفرت مانگتا ہوں اس برائی سے جو میں نے اس مجلس میں کی ہو) اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی مجلس سے اٹھنے کے وقت یہ دعا پڑھے اللہ تعالیٰ اس کے وہ سب گناہ معاف فرما دیں گے جو اس مجلس میں سرزد ہوئے، دعا یہ ہے سبحانک اللھم وبحمدک لآ الہ الا انت استغفرک واتوب الیک (یعنی یا اللہ تو پاک ہے اور تیری حمد و ثنا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے مغفرت مانگتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں اور حفیظ کے معنی حضرت ابن عباس نے یہ بتلائے کہ جو شخص اپنے گناہوں کو یاد رکھے تاکہ ان سے رجوع کر کے تلافی کرے اور ان سے ایک روایت میں حفیظ کے معنی ہوالحافظ لامر اللہ کے بھی منقول ہیں، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کو یاد رکھے اور حضرت ابوہریرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص شروع دن میں چار رکعتیں (اشراق کی) پڑھ لے وہ اواب اور حفیظ ہے (قرطبی)
Ayahs 50:33–34

مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِۙ Open ayah 50:33 in the Quran reader

جو ڈرا رحمٰن سے بن دیکھے اور لایا دل رجوع ہونے والا

اِ۟دْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ Open ayah 50:34 in the Quran reader

چلے جاؤ اس میں سلامت یہ دن ہے ہمیشہ رہنے کا

(آیت) وَجَاۗءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبِ ، ابوبکر وراق فرماتے ہیں کہ منیب کی علامت یہ ہے کہ وہ حق تعالیٰ جل شانہ کے ادب کو ہر وقت مستحضر رکھے اور اس کے سامنے تواضع اور عاجزی سے رہے اور اپنے نفس کی خواہشات کو چھوڑ دے۔
Ayah 50:35

لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ فِیْهَا وَ لَدَیْنَا مَزِیْدٌ Open ayah 50:35 in the Quran reader

ان کے واسطے ہے وہاں جو وہ چاہیں اور ہمارے پاس ہے کچھ زیادہ بھی۔

(آیت) لَهُمْ مَّا يَشَاۗءُوْنَ فِيْهَا (یعنی اہل جنت کو جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے) یعنی اہل جنت جس چیز کی خواہش کریں گے وہ فوراً حاضر تیار ملے گی، دیر و انتظار کی زحمت نہ ہوگی مسند احمد میں حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں اگر کسی شخص کو اولاد کی خواہش ہوگی تو حمل اور وضع حمل، پھر بچے کا بڑھنا یہ سب ایک ساعت میں ہوجائے گا (ابن کثیر) وَلَدَيْنَا مَزِيْدٌ، یعنی ہمارے پاس ایسی نعمتیں بھی ہیں جن کی طرف انسان کا وہم و خیال بھی نہیں جاسکتا اس لئے وہ ان کی خواہش بھی نہیں کرسکتا، حضرت انس اور جابر نے فرمایا کہ یہ مزید نعمت حق تعالیٰ کی زیارت بلا کیف ہے جو اہل جنت کو حاصل ہوگی، اس مضمون کی احادیث خود رسول اللہ ﷺ سے بھی آیت للذین احسنوا الحسنی و زیادة کی تفسیر میں روایت کی گئی ہے اور بعض روایات میں ہے کہ اہل جنت کو زیارت حق سبحانہ و تعالیٰ جمعہ کے روز ہوا کرے گی۔ (قرطبی)
Ayah 50:36

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَشَدُّ مِنْهُمْ بَطْشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلَادِ١ؕ هَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 50:36 in the Quran reader

اور کتنی تباہ کرچکے ہم ان سے پہلے جماعتیں کہ ان کی قوت زبردست تھی ان سے پھر لگے کریدنے شہروں میں کہیں ہے بھاگ جانے کو ٹھکانا

خلاصہ تفسیر اور ہم ان (اہل مکہ) سے پہلے بہت سی امتوں کو (ان کے کفر کی شامت سے) ہلا کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے (کہیں) زیادہ تھے اور (دنیا کا سامان بڑھانے کے لئے) تمام شہروں کو چھانتے پھرتے تھے (یعنی قوت کے ساتھ اسباب معیشت میں بھی بڑی ترقی کی تھی، لیکن جب ہمارا عذاب نازل ہوا تو ان کو) کہیں بھاگنے کی جگہ بھی نہ ملی (یعنی کس طرح بچ نہ سکے) اس (واقعہ اہلاک) میں اس شخص کیلئے بڑی عبرت ہے، جس کے پاس (فہیم) دل ہو یا (اگر فہیم نہ ہو تو کم از کم یہی ہو کہ) وہ (دل سے) متوجہ ہو کر (بات کی طرف) کان ہی لگا دیتا ہو (اور سننے کے بعد اجمالاً حقانیت کا معتقد ہو کر اس بات کو قبول کرلیتا ہو) اور (اگر قیامت کا انکار اس بنا پر ہے کہ تم اللہ کی قدرت کو اس سے قاصر سمجھتے ہو تو وہ اس لئے باطل ہے کہ ہماری قدرت ایسی ہے کہ) ہم نے آسمانوں کو اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے اس سب کو چھ دن (کی مقدار کے موافق زمانہ) میں پیدا کیا اور ہم کو تکان نے چھوا تک نہیں (پھر آدمی کا دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہے، وھذا کقولہ تعالیٰ فی الاحقاف (آیت) اولم یرو ان اللہ الذی خلق السمٰوٰت والارض و لم یعی بخلقہن بقدر علی ان یحی الموتی۔ اور باوجود ان قاطع شبہات جوابوں کے یہ لوگ پھر انکار ہی پر اڑے ہیں) سو ان کی باتوں پر صبر کیجئے (یعنی رنج نہ کیجئے) اور چونکہ بدون اس کے کہ کسی طرف دل کو مشغول کیا جاوے وہ غم کی بات دل سے نہیں نکلتی اور بار بار یاد آ کر دل کو مخزون کرتی ہے، اس لئے ارشاد فرماتے ہیں کہ) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کرتے رہیے (اس میں نماز بھی داخل ہے) آفتاب نکلنے سے پہلے (مثلاً صبح کی نماز) اور (اس کے) چھپنے سے پہلے (مثلاً ظہر و عصر) اور رات میں بھی اس کی تسبیح (وتحمید) کیا کیجئے (اس میں مغرب اور عشاء آگئیں) اور (فرض) نمازوں کے بعد بھی (اس میں نوافل و اوراد آگئے، حاصل یہ ہوا کہ ذکر اللہ میں اور اس کی فکر میں لے رہئے تاکہ ان کے اقوال کفریہ کی طرف دھیان ہی نہ ہوا) معارف و مسائل (آیت) فَنَقَّبُوْا فِي الْبِلَادِ ۭ هَلْ مِنْ مَّحِيْصٍ ، نقبو، تنقیب سے مشتق ہے، اس کے اصلی معنی سوراخ کرنے اور پھاڑنے کے ہیں، محاورات میں زمین میں دور دراز ملکوں تک پھرنے چلنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے (ذکرہ فی القاموس) اور محیص کے معنی جائے پناہ کے ہیں، معنی آیت کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے کتنی قوموں اور جماعتوں کو ہلاک کردیا ہے جو قوت و طاقت میں تم سے کہیں زیادہ تھیں اور جو مختلف ملکوں اور خطوں میں تجارت وغیرہ کے لئے پھرتی رہیں، مگر دیکھو کہ انجام کار ان کو موت آئی اور ہلاک ہوئیں کوئی خطہ زمین یا مکان ان کو موت سے پناہ نہیں دے سکا۔
Ayahs 50:37–38

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَ هُوَ شَهِیْدٌ Open ayah 50:37 in the Quran reader

اس میں سوچنے کی جگہ ہے اس کو جس کے اندر دل ہے یا لگائے کان دل لگا کر

وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ١ۖۗ وَّ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ Open ayah 50:38 in the Quran reader

اور ہم نے بنائے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے بیچ میں ہے چھ دن میں اور ہم کو نہ ہوا کچھ تکان

حصول علم کے دو طریقے (آیت) لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہاں قلب سے مراد عقل ہے چونکہ عقل کا مرکز قلب ہی ہے اس لئے اس کو قلب سے تعبیر کردیا گیا، بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہاں قلب سے مراد حیات ہے، وہ بھی اسی لئے کہ حیات کا مدار قلب ہے، معنی آیت کے یہ ہوئے کہ اس سورت قرآن میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے نصیحت و عبرت کا فائدہ اسی شخص کو پہنچ سکتا ہے جس میں عقل ہو یا زندگی ہو بےعقل یا مردے کو کیا فائدہ پہنچے گا۔ (آیت) اَوْ اَلْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيْدٌ، القاء سمع کے معنی کسی بات کی طرف کان لگانے کے آتے ہیں شہید بمعنی حاضر، معنی یہ ہیں کہ آیات مذکورہ کا فائدہ دو شخصوں کو پہنچتا ہے، ایک وہ جو خود عقل رکھتا ہے، اپنی عقل سے ان سب مضامین کی تصدیق کرتا ہے، یا پھر وہ آدمی جو آیات الٰہیہ کو کان لگا کر سنے اور اس طرح سنے کہ وہ خود حاضر بھی ہو یعنی ایسا نہ ہو کہ کان تو سن رہے ہیں دل حاضر نہیں ہے تفسیر مظہری میں فرمایا کہ پہلی قسم کا ملین امت کی ہے اور دوسری ان کے متبعین اور مریدین مخلصین کی جو ان کے اعتقاد سے دین کی باتیں مان لیتے ہیں۔
Ayah 50:39

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ الْغُرُوْبِۚ Open ayah 50:39 in the Quran reader

سو تو سہتارہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اور پاکی بولتا رہ خوبیاں اپنے رب کی پہلے سورج کے نکلنے سے اور پہلے ڈوبنے سے

(آیت) وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ ، سبح تسبیح سے مشتق ہے، اس کے حقیقی معنی اللہ کی تسبیح کرنا یعنی پاکی بیان کرنا ہے، وہ زبانی تسبیح کو بھی شامل ہے اور عبادت نماز کو بھی اسی لئے بعض حضرات نے فرمایا کہ تسبیح قبل طلوع الشمس سے مراد نماز فجر ہے اور تسبیح قبل الغروب سے مراد نماز عصر ہے، حضرت جریربن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک طویل حدیث کے ضمن میں) فرمایا ان استطعتم ان لا تغلبوا علیٰ صلوٰة قبل طلوع الشمس و قبل غروبھا یعنی العصر و الفجر ثم قرا جریر وَسَبِّــحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ (بخاری و مسلم و الفظ لمسلم) ”کوشش کرو کہ تم سے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے کی نمازیں چھوٹنے نہ پائیں یعنی نماز فجر اور عصر اور اس پر استدلال کرنے کے لئے آیت مذکورہ تلاوت فرمائی“ (قرطبی) اور آیت کے مفہوم میں وہ عام تسبیحات بھی داخل ہیں جن کی صبح شام پڑھنے کی ترغیب احادیث صحیحہ میں وارد ہوئی ہے، صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص صبح کے وقت اور شام کے وقت سو سو مرتبہ سبحان اللہ پڑھا کرے قیامت کے روز کوئی آدمی اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا، بجز اس کے کہ وہ بھی یہ تسبیح اتنی یا اس سے زیادہ پڑھتا ہو اور صحیح بخاری و مسلم ہی کی ایک روایت حضرت ابوہریرہ ہی سے یہ بھی ہے کہ جس شخص نے دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا اس کے گناہ معاف کردیئے جاویں گے، اگرچہ وہ سمندر کی موجوں سے بھی زیادہ ہوں (مظہری)
Ayah 50:40

وَ مِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْهُ وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ Open ayah 50:40 in the Quran reader

اور کچھ رات میں بول اس کی پاکی اور پیچھے سجدہ کے۔

(آیت) وَاَدْبَار السُّجُوْدِ ، حضرت مجاہد نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ سجود سے مراد فرض نمازیں ہیں اور ادبار السجود، سے مراد وہ تسبیحات پڑھنا ہے جس کی فضیلت ہر نماز کے بعد حدیث مرفوع میں آئی ہے حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ہر فرض نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ ، 33 مرتبہ الحمد للہ، 33 مرتبہ اللہ اکبر اور ایک مرتبہ لا الہٰ الا اللہ وحدہ، لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علیٰ کل شی قدیر، پڑھ لیا کرے تو اس کی خطائیں معاف کردی جائیں گی، اگرچہ وہ دریا کی موجوں کے برابر ہوں (رواہ البخاری و مسلم) اور ادبار السجود سے مراد وہ سنتیں بھی ہو سکتی ہیں جو فرض نمازوں کے بعد احادیث صحیحہ میں آئی ہیں (مظہری)