Ayah 49:1خلاصہ تفسیر
ربط سورت و شان نزول
اس سے پہلی دو سورتوں میں جہاد کے احکام تھے جس سے اصلاح عام و آفاق مقصود ہے۔ اس سورت میں اصلاح نفس کے احکام و آداب مذکور ہیں، خصوصاً وہ احکام جو آداب معاشرت سے تعلق رکھتے ہیں اور قصہ ان آیتوں کے نزول کا یہ ہے کہ ایک مرتبہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ بات زیر غور تھی کہ اس قبیلہ پر حاکم کس کو بنایا جائے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے قعقاع ابن معبد کی نسبت رائے دی اور حضرت عمر نے اقرع بن حابس کے متعلق رائے دی، اس معاملہ میں حضرت ابوبکر و عمر ؓ کے مابین آپ کی مجلس میں گفتگو ہوگئی اور گفتگو بڑھ کر دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ (رواہ البخاری)
اے ایمان والو ! اللہ اور رسول ﷺ (کی اجازت) سے پہلے تم (کسی قول یا فعل میں) سبقت نہ کیا کرو (یعنی جب تک قرائن قویہ سے یا بالتصریح گفتگو کی اجازت نہ ہو گفتگو مت کرو جیسا کہ واقعہ مذکورہ جو سبب نزول ان آیات کا ہوا اس میں انتظار کرنا چاہئے تھا کہ یا تو آپ خود کچھ فرماتے یا آپ حاضرین مجلس سے پوچھتے بدون انتظار کے از خود گفتگو شروع کردینا درست نہیں تھا کیونکہ گفتگو کا جواز اذن شرعی پر موقوف تھا خواہ یہ اذن قطعی ہو یعنی صریح طور پر یا ظنی قرائن قویہ کے ذریعہ غلطی یہ ہوئی انتظار نہیں کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی) اور اللہ سے ڈرتے رہو بیشک اللہ تعالیٰ (تمہارے سب اقوال کو) سننے والا (اور تمہارے افعال کو) جاننے والا ہے (اور) اے ایمان والو ! تم اپنی آوازیں پیغمبر ﷺ کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں کھل کر ایک دوسرے سے بولا کرتے ہو (یعنی نہ بلند آواز سے بولو جبکہ آپ کے سامنے آپس میں کوئی بات کرنا ہو اور نہ برابر کی آواز سے بولو جبکہ خود آپ سے خطاب کرنا ہو) کبھی تمہارے اعمال برباد ہوجاویں اور تم کو خبر بھی نہ ہو (اس کا مطلب یہ ہے کہ آواز کا بلند کرنا جو صورةً بےباکی اور بےپروائی ہے اور بلند آواز سے اس طرح باتیں کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بےتکلف باتیں کرتے ہیں یہ ایک قسم کی گستاخی ہے اپنے تابع اور خادم سے اس طرح کی گفتگو ناگوار اور ایذادہ ہو سکتی ہے اور اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانا تمام اعمال خیر کو برباد کردینے والا ہے۔ البتہ بعض اوقات جبکہ طبیعت میں زیادہ انبساط ہو یہ امور ناگوار نہیں ہوتے اس وقت عدم ایذا رسول کی وجہ سے یہ گفتگو حبط اعمال کا موجب نہیں ہوگی، لیکن متکلم کو یہ معلوم کرنا کہ اس وقت ہماری ایسی گفتگو ناگوار خاطر اور موجب ایذا نہیں ہوگی آسان نہیں ہوسکتا ہے کہ متکلم تو یہ سمجھ کر کلام کرے کہ اس سے آنحضرت ﷺ کو ایذا نہیں ہوگی مگر واقع میں اس سے ایذا پہنچ جائے تو گفتگو اس کے اعمال کو حبط اور برباد کر دے گی اگرچہ اس کو گمان بھی نہ ہوگا کہ میری اس گفتگو سے مجھے کتنا بڑا خسارہ ہوگیا، اس لئے آواز بلند کرنے اور جہربالقول کو مطلقاً ممنوع کردیا گیا کیونکہ ایسی گفتگو کے بعض افراد اگرچہ موجب ایذا و حبط اعمال نہیں ہوں گے مگر اس کی تعیین کیسے ہوگی اس لئے مطلقاً جہر بالقول کے تمام افراد کو ترک کردینا چاہئے یہاں تک تو آواز بلند کرنے سے ڈرایا گیا ہے آگے آواز پست کرنے کی ترغیب ہے
بیشک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے پست رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لئے خالص کردیا ہے (یعنی ان کے قلوب میں تقویٰ کے خلاف کوئی چیز آتی ہی نہیں، مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس خاص معاملہ میں یہ حضرات کمال تقویٰ کے ساتھ متصف ہیں کیونکہ ترمذی کی حدیث مرفوع میں کمال تقویٰ کا بیان ان الفاظ میں آیا ہے لایبلغ العبد ان یکون من المتقین حتی یدع ما لا باس بہ حذراً لما بہ باس، یعنی بندہ کمال تقویٰ کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ کچھ ایسی چیزوں کو بھی جن میں کوئی گناہ نہیں اس احتیاط کی بناء پر چھوڑ دے کہ یہ جائز کام کہیں مجھے کسی ناجائز کام میں مبتلا نہ کردے۔ مراد وہ مشتبہ امور ہیں جن میں گناہ کا خطرہ اور شبھہ ہو، جیسا کہ آواز بلند کرنے کی ایک فرد ایسی ہے جس میں گناہ نہیں، یعنی وہ جس میں مخاطب کو ایذا نہ ہو اور ایک فرد وہ ہے جس میں گناہ ہے یعنی جس سے ایذا پہنچے، تو کمال تقویٰ اس میں ہے کہ آدمی مطلقاً آواز بلند کرنے کو چھوڑ دے، آگے ان کے عمل کے اخروی فائدہ کا بیان ہے) ان لوگوں کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے اور اگلی آیتوں کا قصہ یہ ہے کہ وہ ہی بنو تمیم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ باہر تشریف فرما نہ تھے بلکہ ازواج مطہرات کے حجرات میں سے کسی مکان میں تھے۔ یہ لوگ غیر مہذب گاؤں والے تھے باہر ہی سے کھڑے ہو کر آپ کا نام لے کر پکارنے لگے کہ یا محمد اخرج الینا، یعنی اے محمد ہمارے لئے باہر آئیے، اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں (کذافی الدرا لمنثور بروایتہ ابن اسحاق عن ابن عباس) جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ کو پکارتے ہیں ان میں اکثروں کو عقل نہیں ہے (کہ عقل ہوتی تو آپ کا ادب کرتے اس طرح نام لے کر باہر سے پکارنے کی جرات نہ کرتے اور اکثرہم فرمانے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ بعض پکارنے والے فی نفسہ جری نہ ہوں گے، دوسروں کے ساتھ دیکھا دیکھی لگ گئے اس طرح ان سے بھی یہ غلطی ہوگئی اور یا اگرچہ سب ایک ہی طرح کے ہوں مگر اکثرہم کا لفظ فرمانے سے کسی کو اشتعال نہیں ہوگا کیونکہ ہر شخص یہ خیال کرسکتا ہے کہ شاید مجھ کو کہنا مقصود نہ ہو وعظ و نصیحت کا یہی طریقہ ہے کہ ایسے کلمات سے احتیاط کی جائے جن سے مخاطب کو اشتعال پیدا ہو) اور اگر یہ لوگ (ذرا) صبر (اور انتظار) کرتے یہاں تک کہ آپ خود باہر ان کے پاس آجاتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا (کیونکہ یہ ادب کی بات تھی) اور (اگر اب بھی توبہ کرلیں تو معاف ہوجاوے کیونکہ) اللہ غفور رحیم ہے۔
معارف و مسائل
ان آیات کے نزول کے متعلق روایات حدیث میں بقول قرطبی چھ واقعات منقول ہیں اور قاضی ابوبکر بن عربی نے فرمایا کہ سب واقعات صحیح ہیں کیونکہ وہ سب واقعات مفہوم آیات کے عموم میں داخل ہیں ان میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو خلاصہ تفسیر میں بروایت بخاری ذکر کیا گیا ہے۔
(آیت) يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ، بین الیدین کے اصل معنے دو ہاتھوں کے درمیان کے ہیں مراد اس سے سامنے کی جہت ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کے سامنے تقدم اور پیش قدمی نہ کرو کس چیز میں پیش قدمی کو منع فرمایا ہے قرآن کریم نے اس کو ذکر نہیں کیا جس میں اشارہ عموم کی طرف ہے کہ کسی قول یا فعل میں آنحضرت ﷺ سے پیش قدمی نہ کرو بلکہ انتظار کرو کہ رسول اللہ ﷺ کیا جواب دیتے ہیں، ہاں آپ ہی کسی کو جواب کے لئے مامور فرما دیں تو وہ جواب دے سکتا ہے۔ اسی طرح اگر آپ چل رہے ہیں تو کوئی آپ سے آگے نہ بڑھے، کھانے کی مجلس ہے تو آپ سے پہلے کھانا شروع نہ کرے مگر یہ کہ آپ تصریح یا قرائن قویہ سے یہ ثابت ہوجائے کہ آپ خود ہی کسی کو آگے بھیجنا چاہتے ہیں جیسے سفر اور جنگ میں کچھ لوگوں کو آگے چلنے پر مامور کیا جاتا تھا۔
علمائے دین اور دینی مقتداؤں کے ساتھ بھی یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہئے
بعض علماء نے فرمایا ہے کہ علماء و مشائخ دین کا بھی یہی حکم ہے کیونکہ وہ وارث انبیاء ہیں اور دلیل اس کی یہ واقعہ ہے کہ ایک دن حضرت ابوالدردا کو رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت ابوبکر کے آگے چل رہے ہیں تو آپ نے تنبیہ فرمائی اور فرمایا کہ کیا تم ایسے شخص کے آگے چلتے ہو جو دنیا و آخرت میں تم سے بہتر ہے اور فرمایا کہ دنیا میں آفتاب کا طلوع و غروب کسی ایسے شخص پر نہیں ہوا جو انبیاء کے بعد ابوبکر سے بہتر و افضل ہو (روح البیان ازکشف الاسرار) اس لئے علماء نے فرمایا کہ اپنے استاد اور مرشد کے ساتھ بھی یہی ادب ملحوظ رکھنا چاہئے۔
Ayahs 49:2–3(آیت) وَلَا تَرْفَعُوْٓا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ، یہ دوسرا ادب مجلس نبوی کا بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے آپ کی آواز سے زیادہ آواز بلند کرنا یا بلند آواز سے اس طرح گفتگو کرنا جیسے آپس میں ایک دوسرے سے بےمحابا کیا کرتے ہیں ایک قسم کی بےادبی گستاخی ہے، چناچہ اس آیت کے نزول سے صحابہ کرام کا یہ حال ہوگیا کہ حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ قسم ہے کہ اب مرتے دم تک آپ سے اس طرح بولوں گا جیسے کوئی کسی سے سرگوشی کرتا ہو (در منشور عن البیہقی) اور حضرت عمر اس قدر آہستہ بولنے لگے کہ بعض اوقات دوبارہ پوچھنا پڑتا تھا (کذا فی الصحاح) اور حضرت ثابت بن قیس طبعی طور پر بہت بلند آواز تھے، یہ آیت سن کر وہ بہت ڈرے اور روئے اور اپنی آواز کو گھٹایا (بیان القرآن از در منشور)
روضہ اقدس کے سامنے بھی بہت بلند آواز سے سلام و کلام کرنا ممنوع ہے
قاضی ابوبکر ابن عربی نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم اور ادب آپ کی وفات کے بعد بھی ایسا ہی واجب ہے جیسا حیات میں تھا، اسی لئے بعض علماء نے فرمایا کہ آپ کی قبر شریف کے سامنے ہی زیادہ بلند آواز سے سلام و کلام کرنا ادب کے خلاف ہے، اسی طرح جس مجلس میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث پڑھیں یا بیان کی جا رہی ہوں اس میں بھی شور و شغب کرنا بےادبی ہے کیونکہ آپ کا کلام جس وقت آپ کی زبان مبارک سے ادا ہو رہا ہو اس وقت سب کے لئے خاموش ہو کر اس کا سننا واجب و ضروری ہے اسی طرح بعد وفات جس مجلس میں آپ کا کلام سنایا جاتا ہو وہاں شور و شغب کرنا بےادبی ہے۔
مسئلہجس طرح تقدم علی النبی کی ممانعت میں علمائے دین بحیثیت وارث انبیاء ہونے کے داخل ہیں اسی طرح رفع صوت کا بھی یہی حکم ہے کہ اکابر علماء کی مجلس میں اتنی بلند آواز سے نہ بولے جس سے ان کی آواز دب جائے (قرطبی)
(آیت) اَنْ تَحْبَــطَ اَعْمَالُكُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ ، لفظ ان تحبط مفعول ہے لا ترفعوا کا جس میں حکم کی علت بتلائی گئی ہے۔ بخدف مصدر یعنی خشیتہ ان تحبط معنے آیت کے یہ ہوئے کہ اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو بسبب اس خطرہ اور خوف کے کہ کہیں تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ اس جگہ کلیات شرعیہ اور اصول مسلمہ کے اعتبار سے چند سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ حبط اعمال یعنی اعمال صالحہ کو ضائع کردینے والی چیز تو باتفاق اہل سنت والجماعت صرف کفر ہے۔ کسی ایک معصیت اور گناہ سے دوسرے اعمال صالحہ ضائع نہیں ہوتے اور یہاں خطاب مومنین اور صحابہ کرام کو ہے اور لفظ یایھا الذین امنوا کے ساتھ ہے جس سے اس فعل کا کفر نہ ہونا ثابت ہوتا ہے تو حبط اعمال کیسے ہوا۔ دوسرے یہ کہ جس طرح ایمان ایک فعل اختیاری ہے جب تک کوئی شخص اپنے اختیار سے ایمان نہ لائے مومن نہیں ہوتا اسی طرح کفر بھی امر اختیاری ہے جب تک کوئی شخص اپنے قصد سے کفر کو اختیار نہ کرے وہ کافر نہیں ہوسکتا اور یہاں آیت کے آخر میں یہ تصریح ہے کہ انتم لاتشعرون، یعنی تمہیں خبر بھی نہ ہو تو حبط اعمال جو خالص کفر کی سزا ہے وہ کیسے جاری ہوئی۔
سیدی حضرت حکیم الامت نے بیان القرآن میں اس کی توجیہ ایسی بیان فرمائی ہے جس سے یہ سب اشکالات و سوالات ختم ہوجاتے ہیں وہ یہ ہے کہ معنی آیت کے یہ ہیں کہ مسلمانو ! تم رسول اللہ ﷺ کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے اور بےمحابا جہر کرنے سے بچو کیونکہ ایسا کرنے میں خطرہ ہے کہ تمہارے اعمال حبط اور ضائع ہوجائیں اور وہ خطرہ اس لئے ہے کہ رسول سے پیش قدمی یا ان کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کر کے غالب کرنا ایک ایسا امر ہے جس سے رسول کی شان میں گستاخی اور بےادبی ہونے کا بھی احتمال ہے جو سبب ہے ایذائے رسول کا اگرچہ صحابہ کرام سے یہ وہم بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ بالقصد کوئی ایسا کام کریں جو آپ کی ایذا کا سبب بنے لیکن بعض اعمال و افعال جیسے تقدم اور رفع صوت اگرچہ بقصد ایذا نہ ہوں پھر بھی ان سے ایذا کا احتمال ہے اسی لئے ان کو مطلقاً ممنوع اور معصیت قرار دیا ہے اور بعض معصیتوں کا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے کرنے والے سے توبہ اور اعمال صالحہ کی توفیق سلب ہوجاتی ہے اور وہ گناہوں میں منہمک ہو کر انجام کار کفر تک پہنچ جاتا ہے جو سبب ہے حبط اعمال کا، کسی اپنے دینی مقتداء استاد یا مرشد کی ایذا رسانی ایسی ہی معصیت ہے جس سے سلب توفیق کا خطرہ ہوتا ہے، اس طرح یہ افعال یعنی تقدم علی النبی اور رفع الصوت ایسی معصیت ٹھہریں کہ جن سے خطرہ ہے کہ توفیق سلب ہوجائے اور یہ خذلان آخر کار کفر تک پہنچا دے جس سے تمام اعمال صالحہ ضائع ہوجاتے ہیں اور کرنے والے نے چونکہ قصدا ایذا کا نہ کہا تھا اس لئے اس کو اس کی خبر بھی نہ ہوگی کہ اس ابتلاء کفر اور حبط اعمال کا اصل سبب کیا تھا۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اگر کسی صالح بزرگ کو کسی نے اپنا مرشد بنایا ہو اس کے ساتھ گستاخی و بےادبی کا بھی یہی حال ہے کہ بعض اوقات وہ سلب توفیق اور خذلان کا سبب بن جاتی ہے جو انجام کار متاع ایمان کو بھی ضائع کردیتی ہے نعوذ باللہ منہ۔
Ayahs 49:4–5(آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ يُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَاۗءِ الْحُـجُرٰتِ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ ، اس آیت میں نبی کریم ﷺ کا ایک تیسرا ادب سکھلایا گیا ہے کہ جس وقت آپ اپنے مکان اور آرام گاہ میں تشریف فرما ہوں اس وقت باہر کھڑے ہو کر آپ کو پکارنا خصوصاً گنوارپن کے ساتھ کہ نام لے کر پکارا جائے یہ بےادبی ہے عقل والوں کے لیے یہ کام نہیں۔ حجرات، حجرہ کی جمع ہے اصل لغت میں حجرہ ایک چار دیواری سے گھرے ہوئے مکان کو کہتے ہیں جس میں کچھ صحن ہو کچھ مسقف عمارت ہو۔ نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات مدینہ طیبہ میں نو تھیں ان میں سے ہر ایک کے لئے ایک حجرہ الگ الگ تھا جن میں آپ باری باری تشریف فرما ہوتے تھے۔
حجرات امہات المومنین
ابن سعد نے بروایت عطا خراسانی لکھا ہے کہ یہ حجرات کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے اور ان کے دروازوں پر موٹے سیاہ اون کے پردے پڑے ہوئے تھے۔ امام بخاری نے ادب المفرد میں اور بیہقی نے داؤد بن قیس سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ان حجرات کی زیارت کی ہے میرا گمان یہ ہے کہ حجرہ کے دروازہ سے مسقف بیت تک چھ سات ہاتھ ہوگا اور بیت (کمرہ) دس ہاتھ اور چھت کی اونچائی سات آٹھ ہاتھ ہوگی۔ یہ حجرات امہات المومنین ولید بن عبدالملک کی حکومت میں ان کے حکم سے مسجد نبوی میں شامل کردیئے گئے۔ مدینہ میں اس روز لوگوں پر گریہ و وبکا طاری تھی۔
سبب نزول
امام بغوی نے بروایت قتادہ ذکر کیا ہے کہ قبیلہ بنو تمیم کے لوگ جو آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے جن کا ذکر اوپر آیا ہے۔ یہ دوپہر کے وقت مدینہ میں پہنچے جبکہ آپ کسی حجرہ میں آرام فرما رہے تھے۔ یہ لوگ اعراب آداب معاشرت سے ناواقف تھے۔ انہوں نے حجرات کے باہر ہی سے پکارنا شروع کردیا، اخرج الینا یا محمد اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں اس طرح پکارنے کی ممانعت اور انتظار کرنے کا حکم دیا گیا۔ مسند احمد۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ روایت مختلف الفاظ سے آئی ہے (مظہری)
تنبیہ
صحابہ وتابعین نے اپنے علماء و مشائخ کے ساتھ بھی اسی ادب کا استعمال کیا ہے۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ جب میں کسی عالم صحابی سے کوئی حدیث دریافت کرنا چاہتا تھا تو ان کے مکان پر پہنچ کر ان کو آواز یا دروازہ پر دستک دینے سے پرہیز کرتا اور دروازہ کے باہر بیٹھ جاتا تھا کہ جب وہ خود ہی باہر تشریف لاویں گے اس وقت ان سے دریافت کروں گا، وہ مجھے دیکھ کر فرماتے کہ اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی، آپ نے دروازہ پر دستک دے کر کیوں نہ اطلاع کردی تو ابن عباس نے فرمایا کہ عالم اپنی قوم میں مثل نبی کے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے نبی کی شان میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ان کے باہر آنے کا انتظار کیا جائے۔ حضرت ابوعبیدہ نے فرمایا کہ میں نے کبھی کسی عالم کے دروازہ پر جا کر دستک نہیں دی بلکہ اس کا انتظار کیا کہ وہ خود ہی جب باہر تشریف لاویں گے اس وقت ملاقات کروں گا (روح المعانی)
مسئلہآیت مذکورہ میں حتی تخرج الیہم میں الیہم کی قید بڑھانے سے یہ ثابت ہوا کہ صبر و انتظار اس وقت تک کرنا ہے جب تک کہ آپ لوگوں سے ملاقات و گفتگو کے لئے باہر تشریف لائیں، اس سے معلوم ہوا کہ آپ کا باہر تشریف لانا کسی دوسری ضرورت سے ہو اس وقت بھی آپ سے اپنے مطلب کی بات کرنا مناسب نہیں بلکہ اس کا انتظار کریں کہ جب آپ ان کی طرف متوجہ ہوں اس وقت بات کریں
Ayah 49:6خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو ! اگر کوئی شریر آدمی تمہارے پاس کوئی خبر لائے (جس میں کسی کی شکایت ہو) تو (بدون تحقیق کے اس پر عمل نہ کیا کرو بلکہ اگر عمل کرنا مقصود ہو تو) خوب تحقیق کرلیا کرو کبھی کسی قوم کو نادانی سے کوئی ضرر نہ پہنچا دو پھر اپنے کئے پر پچھتانا پڑے۔
معارف و مسائل
شان نزول
اس آیت کے نزول کا واقعہ ابن کثیر نے بحوالہ مسند احمد یہ نقل کیا ہے کہ قبیلہ بنی المصطلق کے رئیس حارث بن ضرار بن ابی ضرار جن کی صاحبزادی حضرت جویریہ بنت حارث امہات المومنین میں سے ہیں یہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے اسلام کی دعوت دی اور زکوٰة ادا کرنے کا حکم دیا، میں نے اسلام کو قبول کیا اور زکوٰة ادا کرنے کا اقرار کیا اور عرض کیا کہ اب میں اپنی قوم میں جا کر ان کو بھی اسلام اور ادائے زکوٰة کی طرف دعوت دوں گا۔ جو لوگ میری بات مان لیں گے اور زکوٰة ادا کریں گے میں ان کی زکوٰة جمع کرلوں گا اور آپ فلاں مہینہ کی فلاں تاریخ تک اپنا کوئی قاصد میرے پاس بھیج دیں تاکہ جو رقم زکوٰة کی میرے پاس جمع ہوجائے اس کو سپرد کر دوں، پھر جب حارث نے حسب وعدہ ایمان لانے والوں کی زکوٰة جمع کرلی اور وہ مہینہ اور تاریخ جو قاصد بھیجنے کے لئے طے ہوئی تھی گزر گئی اور آپ کا کوئی قاصد نہ پہنچا تو حارث کو یہ خطرہ پیدا ہوا کہ شاید رسول اللہ ﷺ ہم سے کسی بات پر ناراض ہیں ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ آپ وعدے کے مطابق اپنا آدمی نہ بھیجتے۔ حارث نے اس خطرہ کا ذکر اسلام قبول کرنے والوں کے سرداروں سے کیا اور ارادہ کیا کہ یہ سب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوجاویں۔ ادھر واقعہ یہ ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے مقررہ تاریخ پر ولید بن عقبہ کو اپنا قاصد بنا کر زکوٰة وصول کرنے کے لئے بھیج دیا تھا مگر ولید بن عقبہ کو راستہ میں یہ خیال آیا کہ اس قبیلہ کے لوگوں سے میری پرانی دشمنی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ مجھے قتل کر ڈالیں اس خوف کے سبب وہ راستہ ہی سے واپس ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ سے جا کر یہ کہا کہ ان لوگوں نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا اور میرے قتل کا ارادہ کیا اس پر رسول اللہ ﷺ کو غصہ آیا اور حضرت خالد بن ولید کی سر کردگی میں ایک دستہ مجاہدین کا روانہ کیا، ادھر یہ دستہ مجاہدین کا روانہ ہوا ادھر سے حارث مع اپنے ساتھیوں کے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضری کے لئے نکلے، مدینہ کے قریب دونوں کی ملاقات ہوئی۔ حارث نے ان لوگوں سے پوچھا کہ آپ کن لوگوں کی طرف بھیجے گئے ہو۔ ان لوگوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں۔ حارث نے سبب پوچھا تو ان کو واقعہ ولید بن عقبہ کے بھیجنے کا اور ان کی واپسی کا بتلایا گیا اور یہ کہ ولید بن عقبہ نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے یہ بیان دیا ہے کہ بنی المصطلق نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا اور میرے قتل کا منصوبہ بنایا۔ حارث نے یہ سن کر کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد ﷺ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ہے میں نے ولید بن عقبہ کو دیکھا تک نہیں اور نہ وہ میرے پاس آئے۔ اس کے بعد حارث جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے زکوٰة دینے سے انکار کیا اور میرے قاصد کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حارث نے کہا کہ ہرگز نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو پیغام حق دے کر بھیجا ہے نہ وہ میرے پاس آئے نہ میں نے ان کو دیکھا۔ پھر جب مقررہ وقت پر آپ کا قاصد نہ پہنچا تو مجھے خطرہ ہوا کہ شاید مجھ سے کوئی قصور ہوا جس پر حضور ناراض ہوئے اس لئے میں حاضر خدمت ہوا۔ حارث فرماتے ہیں کہ اس پر سورة حجرات کی آیت نازل ہوئی (ابن کثیر)
اور بعض روایات میں ہے کہ ولید بن عقبہ حسب الحکم بنی المصطلق میں پہنچے، اس قبیلہ کے لوگوں کو چونکہ یہ معلوم تھا کہ اس تاریخ پر حضور کا قاصد آوے گا یہ تعظیماً بستی سے باہر نکلے کہ ان کا استقبال کریں۔ ولید بن عقبہ کو شبہ ہوگیا کہ یہ شاید پرانی دشمنی کی وجہ سے مجھے قتل کرنے آئے ہیں یہیں سے واپس ہوگئے اور جا کر حضور ﷺ سے اپنے گمان کے مطابق یہ عرض کردیا کہ وہ لوگ زکوٰة دینے کے لئے تیار نہیں، بلکہ میرے قتل کے در پے ہوئے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا اور یہ ہدایت فرمائی کہ خوب تحقیق کرلیں اس کے بعد کوئی اقدام کریں۔ خالد بن ولید نے بستی سے باہر رات کو پہنچ کر قیام کیا اور تحقیق حال کے لئے چند آدمی بطور جاسوس کے خفیہ بھیج دیئے۔ ان لوگوں نے آ کر خبر دی کہ یہ سب لوگ اسلام و ایمان پر قائم، نماز و زکوٰة کے پابند ہیں اور کوئی بات خلاف اسلام نہیں پائی گئی، خالد بن ولید نے واپس آ کر آنحضرت ﷺ کو یہ سارا واقعہ بتلایا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (یہ ابن کثیر کی متعدد روایات کا خلاصہ ہے)
اس آیت سے یہ ثابت ہوا کہ کوئی شریر فاسق آدمی اگر کسی شخص یا قوم کی شکایت کرے ان پر کوئی الزام لگائے تو اس کی خبر یا شہادت پر بغیر مکمل تحقیق کے عمل کرنا جائز نہیں
آیت سے متعلقہ احکام و مسائل
امام جصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ اس آیت سے ثابت ہوا کہ کسی فاسق کی خبر کو قبول کرنا اور اس پر عمل کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک دوسرے ذرائع سے تحقیق کر کے اس کا صدق ثابت نہ ہوجائے، کیونکہ اس آیت میں ایک قرات تو فتثبتوا کی ہے جس کے معنی ہیں کہ اس پر عمل کرنے اور اقدام میں جلدی نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو جب تک دوسرے ذرائع سے اس کا صدق ثابت نہ ہوجائے اور جب فاسق کی خبر کو قبول کرنا جائز نہ ہوا تو شہادت کو قبول کرنا بدرجہ اولیٰ ناجائز ہوگا کیونکہ ہر شہادت ایک خبر ہوتی ہے جو حلف و قسم کے ساتھ موکد کی جاتی ہے، اسی لئے جمہور علماء کے نزدیک فاسق کی خبر یا شہادت شرعاً مقبول نہیں، البتہ بعض معاملات اور حالات میں فاسق کی خبر اور شہادت کو بھی قبول کرلیا جاتا ہے وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ آیت قرآن میں اس حکم کی ایک خاص علت منصوص ہے یعنی اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَــهَالَةٍ ، تو جن معاملات میں یہ علت موجود نہیں وہ آیت کے حکم میں داخل نہیں یا مستثنیٰ ہیں۔ مثلاً یہ کہ کوئی فاسق بلکہ کافر بھی کوئی چیز لائے اور یہ کہے کہ فلاں شخص نے یہ آپ کو ہدیہ بھیجا ہے تو اس کی خبر پر عمل جائز ہے اس کی مزید تفصیل کتب فقہ معین الحکام وغیرہ میں ہے اور احقر نے احکام القرآن عربی ضرب سادس میں اس کی تفصیل لکھ دی ہے اہل علم اس میں دیکھ سکتے ہیں۔
ایک اہم سوال و جواب متعلقہ عدالت صحابہ
اس آیت کا ولید بن عقبہ کے متعلق نازل ہونا صحیح روایات سے ثابت ہے اور آیت میں ان کو فاسق کہا گیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ میں کوئی فاسق بھی ہوسکتا ہے اور یہ اس مسلمہ اور متفق علیہ ضابطہ کے خلاف ہے کہ الصحابة کلہم عدول، یعنی صحابہ کرام سب کے سب ثقہ ہیں ان کی کسی خبر و شہادت پر کوئی گرفت نہیں کی جاسکتی۔ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں فرمایا کہ اس معاملے میں حق بات وہ ہے جس کی طرف جمہور علماء گئے ہیں کہ صحابہ کرام معصوم نہیں ان سے گناہ کبیرہ بھی سر زد ہوسکتا ہے جو فسق ہے اور اس گناہ کے وقت ان کے ساتھ وہی معاملہ کیا جائے گا جس کے وہ مستحق ہیں یعنی شرعی سزا جاری کی جائے گی اور اگر کذب ثابت ہوا تو ان کی خبر و شہادت رد کردی جائے گی لیکن عقیدہ اہل سنت والجماعت کا نصوص قرآن و سنت کی بنا پر یہ ہے کہ صحابی سے گناہ تو ہوسکتا ہے مگر کوئی صحابی ایسا نہیں جو گناہ سے توبہ کر کے پاک نہ ہوگیا ہو۔ قرآن کریم نے علی الاطلاق ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا فیصلہ صادر فرما دیا ہے ؓ و رضواعنہ الآیتہ، اور رضائے الٰہی گناہ ہونے کی معافی کے بغیر نہیں ہوتی، جیسا کہ قاضی ابویعلی نے فرمایا کہ رضا اللہ تعالیٰ کی ایک صفت قدیمہ ہے وہ اپنی رضا کا اعلان صرف انہی کے لئے فرماتے ہیں جن کے متعلق وہ جانتے ہیں کہ ان کی وفات موجبات رضا پر ہوگی (کذا فی الصارم المسلول الابن تیمیہ)
خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ کرام کی عظیم الشان جماعت میں سے گنے چنے چند آدمیوں سے کبھی کوئی گناہ سرزد بھی ہوا ہے تو ان کو فوراً توبہ نصیب ہوئی ہے۔ حق تعالیٰ نے ان کو رسول کریم ﷺ کی صحبت کی برکت سے ایسا بنادیا تھا کہ شریعت ان کی طبیعت بن گئی تھی۔ خلاف شرع کوئی کام یا گناہ سرزد ہونا انتہائی شاذ و نادر تھا ان کے اعمال صالحہ، نبی کریم ﷺ اور اسلام پر اپنی جانیں قربان کرنا اور ہر کام میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے اتباع کو وظیفہ زندگی بنانا اور اس کے لئے ایسے مجاہدات کرنا جن کی نظیر پچھلی امتوں میں نہیں ملتی۔ ان بیشمار اعمال صالحہ اور فضائل و کمالات کے مقابلے میں عمر بھر میں کسی گناہ کا سرزد ہوجانا اس کو خود ہی کالعدم کردیتا ہے۔ دوسرے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت و عظمت اور ادنیٰ سے گناہ کے وقت ان کا خوف خشیت اور فوراً توبہ کرنا بلکہ اپنے آپ کو سزا کے لئے خود پیش کردینا، کہیں اپنے آپ کو مسجد کے ستون سے باندھ دیا وغیرہ روایات حدیث میں معروف مشہور ہیں اور بحکم حدیث گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہوجاتا ہے کہ جیسے گناہ کیا ہی نہیں۔ تیسرے حسب ارشاد قرآن اعمال صالحہ اور حسنات خود بھی گناہوں کا کفارہ ہوجاتے ہیں (آیت) ان الحسنت یذھبن السیات خصوصاً جبکہ ان کے حسنات عام لوگوں کی طرح نہیں بلکہ ان کا حال وہ ہے جو ابوداؤ و ترمذی نے حضرت سعید بن زید سے نقل کیا ہے کہ (آیت) واللہ لمشھد رجل منھم مع النبی ﷺ یغبر فیہ وجھہ خیر من عمل احدکم و لو عمر عمر نوح، یعنی خدا کی قسم ان میں سے کسی شخص کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی جہاد میں شریک ہونا جس میں ان کے چہرہ پر غبار پڑگیا ہو تمہاری عمر بھر کی اطاعت و عبادت سے افضل ہے اگرچہ اس کو عمر نوح ؑ دے دیگئی ہو۔ اس لئے ان سے صدور گناہ کے وقت اگرچہ سزا وغیرہ میں معاملہ وہی کیا گیا جو اس جرم کے لئے مقرر تھا مگر اس کے باوجود بعد میں کسی کے لئے جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کو فاسق قرار دے، اس لئے اگر آنحضرت ﷺ کے عہد میں کسی صحابی سے کوئی گناہ موجب فسق سر زد بھی ہو اور اس وقت ان کو فاسق کہا بھی گیا تو اس سے یہ جائز نہیں ہوجاتا کہ اس فسق کو ان کے لئے مستمر سمجھ کر معاذ اللہ فاسق کہا جائے (کذافی الروح)
اور آیت مذکورہ میں تو قطعاً یہ ضروری نہیں کہہ ولید بن عقبہ کو فاسق کہا گیا ہو سبب نزول خواہ ان کا معاملہ ہی سہی مگر لفظ فاسق ان کے لئے استعمال کیا گیا یہ ضروری نہیں، وجہ یہ ہے کہ اس واقعہ سے پہلے تو ولید بن عقبہ سے کوئی ایسا کام ہوا نہ تھا جس کے سبب ان کو فاسق کہا جائے اور اس واقعہ میں بھی جو انہوں نے بنی المصطلق کے لوگوں کی طرف ایک بات غلط منسوب کی وہ بھی اپنے خیال کے مطابق صحیح سمجھ کر کی اگرچہ واقع میں غلط تھی اس لئے آیت مذکورہ کا مطلب بےتکلف وہ بن سکتا ہے جو خلاصہ تفسیر میں اوپر گزرا ہے کہ اس آیت نے قاعدہ کلیہ فاسق کی خبر کے نامقبول ہونے کے متعلق بیان کیا ہے اور واقعہ مذکورہ پر اس آیت کے نزول سے اس کی مزید تاکید اس طرح ہوگئی کہ ولید بن عقبہ اگرچہ فاسق نہ تھے مگر ان کی خبر قرائن قویہ کے اعتبار سے ناقابل قبول نظر آئی تو رسول اللہ ﷺ نے محض ان کی خبر پر کسی اقدام سے گریز کر کے خالد بن ولید کو تحقیقات پر مامور فرما دیا تو جب ایک ثقہ اور صالح آدمی کی خبر میں قرائن کی بنا پر شبہ ہوجانے کا معاملہ یہ ہے کہ اس پر قبل از تحقیق عمل نہیں کیا گیا تو فاسق کی خبر کو قبول نہ کرنا اور اس پر عمل نہ کرنا اور زیادہ واضح ہے۔ عدالت صحابہ کی مکمل بحث احقر نے اپنی کتاب مقام صحابہ میں بیان کردی جو شائع ہوچکی ہے اور اس کا کچھ حصہ اگلی آیت (آیت) وان طآئفتن من المومنین الآیة کے تحت میں بھی آجائے گا۔
Ayahs 49:7–8خلاصہ تفسیر
اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ ﷺ تشریف فرما) ہیں (جو خدا کی بڑی نعمت ہیں کما قال تعالیٰ (آیت) لقد من اللہ الخ اس نعمت کا شکر یہ ہے کہ کسی بات میں تم آپ کے خلاف مت کرو گو دنیوی ہی کیوں نہ ہو اور اس فکر میں مت پڑو کہ امور دنیویہ میں خود حضور ہماری رائے کی موافقت فرمایا کریں کیونکہ) بہت سی باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ اگر وہ اس میں تمہارا کہنا مانا کریں تو تم کو بڑی مضرت پہنچے (کیونکہ وہ مصلحت کے خلاف ہو تو ضرور اس کے موافق عمل کرنے میں مضرت ہو بخلاف اس کے کہ آپ کی رائے پر عمل کیا جائے کیونکہ امر دنیوی ہونے کے باوجود اس میں خلاف مصلحت ہونے کا احتمال گو فی نفسہ مستبعد اور خلاف شان نبوت نہیں لیکن اول تو ایسے امور جن میں ایسا احتمال ہو شاذو نادر ہوں گے پھر اگر ہوں بھی اور ان میں مصلحت فوت ہو بھی جاوے تو یہ کتنی بڑی بات ہے کہ اس مصلحت کا نعم البدل یعنی اجر وثواب اطاعت رسول کا ضرور ہی میسر ہوگا بخلاف اس کے تمہاری رائے پر عمل ہو کہ گو شاذو نادر ایسے امور بھی نکلیں گے جن میں مصلحت تمہاری رائے کے موافق ہو لیکن متعین تو ہیں نہیں اور پھر بہت ہی کم ہوں گے زیادہ احتمال مضرت ہی کا ہے پھر اس مضرت کا کوئی تدارک نہیں اور اس تقریر سے فائدہ کثیر کی قید کا ہونا بھی معلوم ہوگیا، بہرحال اگر آپ تم لوگوں کی منافقت کرتے تو تم بڑی مصیبت میں پڑتے) لیکن اللہ تعالیٰ نے (تم کو مصیبت سے بچا لیا اس طرح سے کہ) تم کو ایمان (کامل) کی محبت دی اور اس (کی تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر و فسق (یعنی گناہ کبیرہ) اور (مطلق) عصیان (یعنی گناہ صغیرہ) سے تم کو نفرت دے دی (جس سے تم کو ہر وقت رضائے رسول کی جستجو رہتی ہے اور جس سے تم ان احکام کو مان لیتے ہو جو رضائے رسول کے موجبات ہیں چناچہ جب تم کو یہ معلوم ہوگیا کہ امور دنیویہ میں بھی اطاعت رسول کی واجب ہے اور بدون اطاعت مطلقہ کے ایمان کامل نہیں ہوتا اور ایمان کامل کی تحصیل کی رغبت پہلے سے موجود ہے پس تم نے فوراً اس حکم کو بھی قبول کرلیا اور قبول کر کے ایمان کی اور تکمیل کرلی) ایسے لوگ (جو کہ تکمیل ایمان کے محب ہیں) خدا تعالیٰ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں اور اللہ تعالیٰ (نے جو یہ احکام فرمائے ہیں تو وہ ان کی مصلحتوں کو) جاننے والا (ہے اور چونکہ) حکمت والا ہے (اس لئے ان احکام کو واجب کردیا ہے)۔
معارف و مسائل
اس سے پہلی آیت میں واقعہ حضرت ولید بن عقبہ اور قبیلہ بنی المصطلق کا مذکور تھا جس میں ولید بن عقبہ نے بنی المصطلق کے متعلق یہ خبر دی تھی کہ وہ مرتد ہوگئے اور زکوٰة دینے سے انکار کردیا اس پر صحابہ کرام میں بھی اشتعال پیدا ہوا، ان کی رائے یہ تھی کہ ان لوگوں پر جہاد کے لئے مجاہدین کو بھیج دیا جائے مگر آنحضرت ﷺ نے ولید بن عقبہ کی خبر کو قرائن قویہ کے خلاف سمجھ کر قبول نہ کیا اور تحقیقات کے لئے حضرت خالد بن ولید کو مامور فرما دیا۔ پچھلی آیت میں قرآن کریم نے اس کو قانون بنادیا کہ جس شخص کی خبر میں قرائن قویہ سے کوئی شبہ ہوجاوے تو قبل از تحقیق اس پر عمل جائز نہیں۔ اس آیت میں صحابہ کرام کو ایک اور ہدایت کی گئی ہے کہ اگرچہ بنی المصطلق کے متعلق خبر ارتداد سن کر تمہارا جوش غیرت دینی کے سبب تھا مگر تمہاری رائے صحیح نہ تھی۔ اللہ کے رسول نے جو صورت اختیار کی وہ ہی بہتر تھی (مظہری)
مقصد یہ ہے کہ مشورہ طلب امور میں کوئی رائے دے دینا تو درست ہے لیکن یہ کوشش کرنا کہ رسول اللہ ﷺ تمہاری رائے کے مطابق ہی عمل کریں یہ درست نہیں کیونکہ امور دنیویہ میں اگرچہ شاذ و نادر رسول کی رائے خلاف مصلحت ہونے کا امکان ضرور ہے جو شان نبوت کے خلاف نہیں لیکن حق تعالیٰ نے جو فراست اور دانش اپنے رسول کو عنایت فرمائی ہے وہ تمہیں حاصل نہیں ہے اس لئے اگر رسول اللہ ﷺ تمہاری رائے پر چلا کریں تو بہت سے معالات میں نقصان و مصیبت میں پڑجاؤ گے اور کہیں شاذ و نادر تمہاری رائے ہی میں مصلحت ہو اور تم اطاعت رسول کیلئے اپنی رائے کو چھوڑ دو جس سے تمہیں کچھ دنیوی نقصان بھی پہنچ جاوے تو اس میں اتنی مضرت نہیں جتنی تمہاری رائے کے تابع ہو کر چلنے میں ہے کیونکہ اس صورت میں اگر کچھ دنیوی نقصان ہو بھی گیا تو اطاعت رسول کا اجر وثواب اس کا بہتر بدل موجود ہے اور لفظ عنتم، عنت سے مشتق ہے جس کے معنی گناہ کے بھی آتے ہیں اور کسی مصیبت میں مبتلا ہونے کے بھی یہاں دونوں معنی مراد ہو سکتے ہیں (قرطبی)
Ayahs 49:9–10خلاصہ تفسیر
اور اگر مسلمانوں میں دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان اصلاح کردو (یعنی جھگڑے کی بنیاد کو رفع کر کے لڑائی موقوف کرا دو) پھر اگر (اصلاح کی کوشش کے بعد بھی) ان میں کا ایک گروہ دوسرے پر زیادتی کرے (اور لڑائی بند نہ کرے) تو اس گروہ سے لڑو جو زیادتی کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف رجوع ہوجاوے (حکم خدا سے مراد لڑائی بند کرنا ہے) پھر اگر وہ (زیادتی کرنے والا فرقہ حکم خدا کی طرف) رجوع ہوجاوے (یعنی لڑائی بند کر دے) تو ان دونوں کے درمیان عدل کے ساتھ اصلاح کردو (یعنی حدود شرعیہ کے موافق اس معاملہ کو طے کردو محض لڑائی بند کرنے پر اکتفا نہ کرو اگر صلح مصالحت نہ ہوئی تو پھر بھی لڑائی کا احتمال رہے گا) اور انصاف کا خیال رکھو (یعنی کسی نفسانی غرض کو غالب نہ ہونے دو) بیشک اللہ تعالیٰ انصاف والوں کو پسند کرتا ہے (اور باہمی اصلاح کا حکم اس لئے دیا گیا ہے کہ) مسلمان تو سب (دینی اشتراک جو روحانی اور معنوی رشتہ ہے اس رشتہ سے ایک دوسرے کے) بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان اصلاح کردیا کرو (تاکہ یہ اسلامی برادری قائم رہے) اور (اصلاح کے وقت) اللہ سے ڈرتے رہا کرو (یعنی حدود شرعیہ کی رعایت رکھا کرو) تاکہ تم پر رحمت کی جاوے۔
معارف و مسائل
ربط
سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کے حقوق اور آداب اور ایسے اعمال سے پرہیز کا بیان تھا جن سے آنحضرت ﷺ کو ایذا پہنچے، آگے عام معاشرت کے آداب و احکام ہیں جن میں اجتماعی اور انفرادی دونوں طرح کے آداب اور باہمی حقوق کا بیان ہے اور سب میں قدر مشترک ایذا رسانی سے اجتناب ہے۔
سبب نزول
ان آیات کے سبب نزول میں مفسرین نے متعدد واقعات بیان فرمائے ہیں جن میں خود مسلمانوں کے دو گروہوں میں باہم تصادم ہوا اور کوئی بعید نہیں کہ یہ سبھی واقعات کا مجموعہ سبب نزول ہوا ہو یا نزول کسی ایک واقعہ میں ہوا، دوسرے واقعات کو اس کے مطابق پا کر ان کو بھی سبب نزول میں شریک کردیا گیا، اس آیت کے اصل مخاطب وہ اولوالا مر اور ملوک ہیں جن کو قتال و جہاد کے وسائل حاصل ہیں (کذا قال ابوحیان فی البحر و اختارہ فی روح المعانی) اور بالواسطہ تمام مسلمان اس کے مخاطب ہیں کہ وہ اس معاملے میں اولوالامر کی اعانت کریں اور جہاں کوئی امام و امیر یا بادشاہ و رئیس نہیں وہاں حکم یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو دونوں کو فہمائش کر کے ترک قتال پر آمادہ کیا جائے اور دونوں نہ مانیں تو دونوں لڑنے والے فرقوں سے الگ رہے نہ کسی کے خلاف کرے نہ موافقت، کذافی بیان القرآن۔
مسائل متعلقہ
مسلمانوں کے دو گروہوں کی باہمی لڑائی کی چند صورتیں ہوتی ہیں، ایک یہ کہ دونوں جماعتیں امام المسلمین کے تحت ولایت ہیں یا دونوں نہیں، یا ایک ہے ایک نہیں، پہلی صورت میں عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ فہمائش کر کے ان کو باہمی جنگ سے روکیں، اگر فہمائش سے باز نہ آئیں تو امام المسلمین پر اصلاح کرنا واجب ہے اگر حکومت اسلامیہ کی مداخلت سے دونوں فریق جنگ سے باز آگئے تو قصاص و دیت کے احکام جاری ہوں گے اور باز نہ آئیں تو دونوں فریق کے ساتھ باغیوں کا سا معاملہ کیا جائے اور ایک باز آ گیا دوسرا ظلم وتعدی پر جما رہا تو دوسرا فریق باغی ہے اس کے ساتھ باغیوں کا معاملہ کیا جائے اور جس نے اطاعت قبول کرلی وہ فریق عادل کہلائے گا اور باغیوں کے احکام کی تفصیل کتب فقہ میں دیکھی جاسکتی ہے اور مختصر جامع حکم یہ ہے کہ قبل قتال ان کے ہتھیار چھین لئے جاویں گے اور ان کو گرفتار کر کے توبہ کرنے کے قوت تک قید رکھیں گے اور عین قتال کی حالت میں اور قتال کے بعد ان کی ذریت کو غلام یا لونڈی نہ بنادیں گے اور ان کا مال مال غنیمت نہیں ہوگا البتہ توبہ کرنے تک اموال کو محبوس رکھا جائے گا توبہ کے بعد واپس دے دیا جائے گا، آیات مذکورہ میں جو یہ ارشاد ہوا ہے (آیت) فَاِنْ فَاۗءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بالْعَدْلِ وَاَقْسِطُوْا، یعنی اگر بغاوت کرنے والا فرقہ بغاوت اور قتال سے باز آجائے تو صرف جنگ بند کردینے پر اکتفا نہ کرو بلکہ اسباب جنگ اور باہمی شکایات کے ازالہ کی فکر کرو تاکہ دلوں سے بغض و عداوت نکل جاوے اور ہمیشہ کے لئے بھائی چارے کی فضا قائم ہوجائے اور چونکہ یہ لوگ امام المسلمین کے خلاف بھی جنگ کرچکے ہیں اس لئے ہوسکتا تھا کہ ان کے بارے میں پورا انصاف نہ ہو اس لئے قرآن نے تاکید فرمائی کہ دونوں فریق کے حقوق میں عدل و انصاف کی پابندی کی جائے (یہ سب تفصیل بیان القرآن سے لی گئی ہے اور اس میں ہدایہ کے حوالہ سے ہے)
مسئلہاگر مسلمان کی کوئی بڑی طاقتور جماعت امام المسلمین کی اطاعت سے نکل جائے تو امام المسلمین پر لازم ہے کہ اول ان کی شکایات سنے ان کو کوئی شبہ یا غلط فہمی پیش آئی ہے تو اس کو دور کرے اور اگر وہ اپنی مخالفت کی ایسی وجوہ پیش کریں جن کی بنا پر کسی امام و امیر کی مخالفت شرعاً جائز ہے یعنی جن سے خود امام المسلمین کا ظلم و جور ثابت ہو تو عام مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اس جماعت کی مدد کریں تاکہ امام اپنے ظلم سے باز آجائے بشرطیکہ اس کے ظلم کا ثبوت یقینی بلا کسی اشتباہ کے ثابت ہوجائے (کذا قال ابن الہمام، مظہری) اور اگر کوئی ایسی واضح وجوہ اپنی بغاوت اور عدم اطاعت کی بیان نہ کرسکیں اور امام المسلمین کے خلاف جنگ کے لئے تیار ہوجائیں تو مسلمانوں کو ان سے قتال کرنا حلال ہے اور امام شافعی نے فرمایا کہ جب تک وہ خود قتال شروع نہ کردیں اس وقت تک مسلمانوں کو ان سے قتال کی ابتدا کرنا جائز نہیں (مظہری) یہ حکم اس وقت ہے جبکہ اس جماعت کا باغی اور ظالم ہونا بالکل یقینی اور واضح ہو اور اگر صورت ایسی ہے کہ دونوں فریق کوئی شرعی حجت رکھتے ہیں اور یہ متعین کرنا مشکل ہے کہ ان میں کون باغی ہے کون عادل وہاں جس شخص کو کسی ایک کے عادل ہونے کا ظن غالب ہو وہ اس کی مدد کرسکتا ہے اور جس کو کسی جانب رجحان نہ ہو وہ دونوں سے الگ رہے جیسا کہ مشاجرات صحابہ کرام کے وقت جنگ جمل اور صفین میں پیش آیا۔
مشاجرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین
امام ابوبکر بن العربی نے فرمایا کہ یہ آیت قتال بین المسلمین کی تمام صورتوں کو حاوی اور شامل ہے اس میں وہ صورت بھی داخل ہے جس میں دونوں فریق کسی حجت شرعی کے تحت جنگ کے لئے آمادہ ہوجاتے ہیں۔ صحابہ کرام کے مشاجرات اسی قسم میں داخل ہیں۔ قرطبی نے ابن عربی کا یہ قول نقل کر کے اس جگہ مشاجرات صحابہ جنگ جمل اور صفین وغیرہ کی اصل حقیقت بیان کی ہے اور مشاجرات صحابہ کے بارے میں بعد کے آنے والے مسلمانوں کے عمل کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ احقر نے یہ سب مضامین احکام القرآن میں بزبان عربی اور بزبان اردو اپنے رسالہ مقام صحابہ میں تفصیل کے ساتھ لکھ دیئے ہیں یہاں اس کا خلاصہ جو تفسیر قرطبی ص 322 ج 16 کے حوالہ سے اس رسالہ میں دیا گیا ہے نقل کرنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔
”یہ جائز نہیں ہے کہ کسی بھی صحابی کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے اس لئے کہ ان سب حضرات نے اپنے اپنے طرز عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کف لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے پر کریں کیونکہ صحابیت بڑی حرمت کی چیز ہے اور نبی ﷺ نے ان کو برا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی کہ اللہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے“ اس کے علاوہ متعدد سندوں سے یہ حدیث ثابت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت طلحہ کے بارے میں فرمایا۔
ان طلحة شھید یمشی علی وجہ الارض، یعنی طلحہ روئے زمین پر چلنے والے شہید ہیں۔
اب اگر حضرت علی کے خلاف حضرت طلحہ کا جنگ کے لئے نکلنا کھلا گناہ اور عصیان تھا تو اس جنگ میں مقتول ہو کر وہ ہرگز شہادت کا رتبہ حاصل نہ کرتے، اسی طرح حضرت طلحہ کا یہ عمل تاویل کی غلطی اور ادائے واجب میں کوتاہی قرار دیا جاسکتا تو بھی آپ کو شہادت کا مقام حاصل نہ ہوتا، کیونکہ شہادت تو صرف اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی شخص اطاعت ربانی میں قتل ہوا ہو۔ لہٰذا ان حضرات کے معاملہ کو اسی عقیدہ پر محمول کرنا ضروری ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔
اس بات کی دوسری دلیل وہ صحیح اور معروف و مشہور احادیث ہیں جو خود حضرت علی سے مروی ہیں اور جن میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”زبیر کا قاتل جہنم میں ہے“۔
نیز حضرت علی فرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ”صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خبر دے دو“ جب یہ بات ہے تو ثابت ہوگیا کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اس لڑائی کی وجہ سے عاصی اور گنہگار نہیں ہوئے، اگر ایسا نہ ہوتا تو حضور حضرت طلحہ کو شہید نہ فرماتے اور حضرت زبیر کے قاتل کے بارے میں جہنم کی پیشین گوئی نہ کرتے۔ نیز ان کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہے جن کے جنتی ہونے کی شہادت تقریباً متواتر ہے۔
اسی طرح جو حضرات صحابہ ان جنگوں میں کنارہ کش رہے، انہیں بھی تاویل میں خطا کار نہیں کہا جاسکتا، بلکہ ان کا طرز عمل بھی اس لحاظ سے درست تھا کہ اللہ نے ان کو اجتہاد میں اسی رائے پر قائم رکھا جب یہ بات ہے تو اس وجہ سے ان حضرات پر لعن طعن کرنا ان سے برات کا اظہار کرنا اور انہیں فاسق قرار دینا، ان کے فضائل و مجاہدات اور ان عظیم دینی مقامات کو کالعدم کردینا کسی طرح درست نہیں، بعض علماء سے پوچھا گیا کہ اس خون کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے جو صحابہ کرام کے باہمی مشاجرات میں بہایا گیا تو انہوں نے جواب میں یہ آیت پڑھ دی کہ (آیت) تلک امتہ قد خلت لھا ماکسبت ولکم ما کسبتم ولا تسئلون عما کانوا یعملون، یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، اس کے اعمال اس لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور تم سے ان کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا۔
کسی اور بزرگ سے یہی سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ”ایسے خون ہیں کہ اللہ نے میرے ہاتھوں کو ان میں (رنگنے سے) بچایا، اب میں اپنی زبان کو ان سے آلودہ نہیں کروں گا“ مطلب یہی تھا کہ میں کسی ایک فریق کو کسی ایک معاملے میں یقینی طور پر خطا کار ٹھہرانے کی غلطی میں مبتلا نہیں ہونا چاہتا۔
علامہ ابن فورک فرماتے ہیں۔
”ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ صحابہ کرام کے درمیان جو مشاجرات ہوئے ان کی مثال ایسی جیسے حضرت یوسف ؑ اور ان کے بھائیوں کے درمیان پیش آنے والے واقعات کی، وہ حضرات آپس کے ان اختلافات کے باوجود ولایت اور نبوت کی حدود سے خارج نہیں ہوئے بالکل یہی معاملہ صحابہ کے درمیان پیش آنے والے واقعات کا بھی ہے“۔
اور حضرت محاسبی فرماتے ہیں کہ
”جہاں تک اس خونریزی کا معاملہ ہے تو اس کے بارے میں ہمارا کچھ کہنا مشکل ہے، کیونکہ اس میں خود صحابہ کے درمیان اختلاف تھا“ اور حضرت حسن بصری سے صحابہ کے باہمی قتال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ
”ایسی لڑائی تھی جس میں صحابہ موجود تھے اور ہم غائب وہ پورے حالات کو جانتے تھے اور ہم نہیں جانتے، جس معاملہ پر تمام صحابہ کا اتفاق ہے ہم اس میں ان کی پیروی کرتے ہیں اور جس معاملہ میں ان کے درمیان اختلاف ہے اس میں سکوت اختیار کرتے ہیں“۔
حضرت محاسبی فرماتے ہیں کہ ہم بھی وہی بات کہتے ہیں جو حسن بصری نے فرمائی ہم جانتے ہیں کہ صحابہ کرام نے جن چیزوں میں دخل دیا ان سے وہ ہم سے کہیں بہتر طریقے پر واقف تھے لہٰذا ہمارا کام یہی ہے کہ جس پر وہ سب حضرات متفق ہوں اس کی پیروی کریں اور جس میں ان کا اختلاف ہو اس میں خاموشی اختیار کریں اور اپنی طرف سے کوئی نئی رائے پیدا نہ کریں ہمیں یقین ہے کہ ان سب نے اجتہاد سے کام لیا تھا اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہی تھی اس لئے کہ دین کے معاملہ میں وہ سب حضرات شک و شبہ سے بالا تر ہیں۔