49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsمعارف القرآن

Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ٹھٹھا نہ کریں ایک لوگ دوسرے سے شاید وہ بہتر ہوں ان سے اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے شاید وہ بہتر ہوں ان سے اور عجیب نہ لگاؤ ایک دوسرے کو اور نام نہ ڈالو چڑانے کو ایک دوسرے کے برا نام ہے گنہگاری پیچھے ایمان کے اور جو کوئی توبہ نہ کرے تو وہی ہیں بےانصاف۔

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو ! نہ تو مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہئے کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستے ہیں) وہ ان (ہنسنے والوں) سے (خدا کے نزدیک) بہتر ہوں (پھر وہ تحقیر کیسے کرتے ہیں) اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہئے کیا عجب ہے کہ (جن پر ہنستی ہیں) وہ ان (ہنسنے والیوں) سے (خدا کے نزدیک) بہتر ہوں (پھر وہ تحقیر کیسے کرتی ہیں) اور نہ ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے لقب سے پکارو (کیونکہ یہ سب باتیں گناہ کی ہیں اور) ایمان لانے کے بعد (مسلمان پر) گناہ کا نام لگتا (ہی) برا ہے (یعنی یہ گناہ کر کے تمہاری شان میں یہ کہا جا سکنا کہ فلاں مسلمان جس سے تم مراد ہو گناہ یعنی خدا کی نافرمانی کرتا ہے نفرت کی بات ہے تو اس سے بچو) اور جو (ان حرکتوں سے) باز نہ آویں گے تو وہ ظلم کرنے والے (اور حقوق العباد کو تلف کرنے والے) ہیں (جو سزا ظالموں کو ملے گی وہی ان کو ملے گی)۔ سورة حجرات کے شروع میں نبی کریم ﷺ کے حقوق اور آداب کا بیان آیا پھر عام مسلمانوں کے باہمی حقوق و آداب معاشرت کا بیان شروع ہوا، سابقہ دو آیتوں میں ان کی اجتماعی و جماعتی اصلاح کے احکام بیان ہوئے، مذکور الصدر آیتوں میں اشخاص و افراد کے باہمی حقوق و آداب معاشرت کا ذکر ہے، ان میں تین چیزوں کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ اول کسی مسلمان کے ساتھ تمسخر و استہزاء کرنا، دوسرے کسی پر طعنہ زنی کرنا، تیسرے کسی کو ایسے لقب سے ذکر کرنا جس سے اس کی توہین ہوتی ہو یا وہ اس سے برا مانتا ہو۔ پہلی چیز سخریہ یا تمسخر ہے۔ قرطبی نے فرمایا کہ کسی شخص کی تحقیر و توہین کے لئے اس کے کسی عیب کو اس طرح ذکر کرنا جس سے لوگ ہنسنے لگیں اس کو سخریہ، تمسخر، استہزا کہا جاتا ہے اور یہ جیسے زبان سے ہوتا ہے ایسے ہی ہاتھوں پاؤں وغیرہ سے اس کی نقل اتارنے یا اشارہ کرنے سے بھی ہوتا ہے اور اس طرح بھی کہ اس کا کلام سن کر بطور تحقیر کے ہنسی اڑائی جائے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ سخریہ و تمسخر کسی شخص کے سامنے اس کا اسی طرح ذکر کرنا ہے کہ اس سے لوگ ہنس پڑیں اور یہ سب چیزیں بنص قرآن حرام ہیں۔ سخریہ کی ممانعت کا قرآن کریم نے اتنا اہتمام فرمایا کہ اس میں مردوں کو الگ مخاطب فرمایا عورتوں کو الگ، مردوں کو لفظ قوم سے تعبیر فرمایا کیونکہ اصل میں یہ لفظ مردوں ہی کے لئے وضع کیا گیا ہے اگرچہ مجازاً و تو سعاً عورتوں کو اکثر شامل ہوجاتا ہے اور قرآن کریم نے عموماً لفظ قوم مردوں عورتوں دونوں ہی کے لئے استعمال کیا ہے مگر یہاں لفظ قوم خاص مردوں کے لئے استعمال فرمایا اس کے بالمقابل عورتوں کا ذکر لفظ نساء سے فرمایا اور دونوں میں یہ ہدایت فرمائی کہ جو مرد کسی دوسرے مرد کے ساتھ استہزاء و تمسخر کرتا ہے اس کو کیا خبر ہے کہ شاید وہ اللہ کے نزدیک استہزاء کرنے والے سے بہتر ہو، اسی طرح جو عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ استہزاء و تمسخر کا معاملہ کرتی ہے اس کو کیا خبر ہے شاید وہی اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو۔ قرآن میں مردوں کا مردوں کے ساتھ اور عورتوں کا عورتوں کے ساتھ استہزاء کرنے اور اس کی حرمت کا ذکر فرمایا حالانکہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ یا کوئی عورت کسی مرد کے ساتھ استہزاء کرے تو وہ بھی اس حرمت میں داخل ہے مگر اس کا ذکر نہ کرنے سے اشارہ اس طرف ہے کہ عورتوں اور مردوں کا اختلاط ہی شرعاً ممنوع اور مذموم ہے جب اختلاط نہیں تو تمسخر کا تحقق ہی نہیں ہوگا۔ حاصل آیت کا یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے بدن یا صورت یا قد و قامت وغیرہ میں کوئی عیب نظر آوے تو کسی کو اس پر ہنسنے یا استہزاء کرنے کی جرات نہ کرنا چاہئے کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ شاید وہ اپنے صدق و اخلاص وغیرہ کے سبب اللہ کے نزدیک اس سے بہتر اور افضل ہو۔ اس آیت کو سن کر سلف صالحین کا حال یہ ہوگیا تھا کہ عمرو بن شرجیل نے فرمایا کہ میں اگر کسی شخص کو بکری کے تھنوں سے منہ لگا کر دودھ پیتے دیکھوں اور اس پر مجھے ہنسی آجائے تو میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں بھی ایسا ہی نہ ہوجاؤں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ میں اگر کسی کتے کے ساتھ بھی استہزاء کروں تو مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میں خود کتا نہ بنادیا جاؤں (قرطبی) صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی صورتوں اور ان کے مال و دولت پر نظر نہیں فرماتا بلکہ ان کے قلوب اور اعمال کو دیکھتا ہے قرطبی نے فرمایا کہ اس حدیث سے ایک ضابطہ اور اصل یہ معلوم ہوئی کہ کسی شخص کے معاملہ میں اس کے ظاہری حال کو دیکھ کر کوئی قطعی حکم لگا دینا درست نہیں، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جس شخص کے ظاہری اعمال و افعال کو ہم بہت اچھا سمجھ رہے ہیں اللہ تعالیٰ جو اس کے باطنی حالات اور قلبی کیفیات کو جانتا ہے وہ اس کے نزدیک مذموم ہو اور جس شخص کے ظاہری حال اور اعمال برے ہیں ہوسکتا ہے کہ اس کے باطنی حالات اور قلبی کیفیات اس کے اعمال بد کا کفارہ بن جائیں اس لئے جس شخص کو بری حالت یا برے اعمال میں مبتلا دیکھو تو اس کی اس حالت کو تو برا سمجھو مگر اس شخص کو حقیر و ذلیل سمجھنے کی اجازت نہیں، دوسری چیز جس کی ممانعت اس آیت میں کی گئی ہے وہ لمز ہے۔ لمز کے معنی کسی میں عیب نکالنے اور عیب ظاہر کرنے یا عیب پر طعنہ زنی کرنے کے ہیں آیت میں ارشاد فرمایا وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ، یعنی تم اپنے عیب نہ نکالو۔ یہ ارشاد ایسا ہی ہے جیسے قرآن کریم میں ہے لا تقتلوا انفسکم، جس کے معنی یہ ہیں کہ تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، دونوں جگہ اپنے آپ کو قتل کرنے یا اپنے عیب نکالنے سے مراد یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل نہ کرو، ایک دوسرے کو طعنہ نہ دو اور اس عنوان سے تعبیر کرنے میں حکمت یہ بتلانا ہے کہ کسی دوسرے کو قتل کرنا ایک حیثیت سے اپنے آپ ہی کو قتل کرنا ہے کیونکہ اکثر تو ایسا واقع ہو ہی جاتا ہے کہ ایک نے دوسرے کو قتل کیا دوسرے کے حمایتی لوگوں نے اس کو قتل کردیا اور اگر یہ بھی نہ ہو تو اصل بات یہ ہے کہ مسلمان سب بھائی بھائی ہیں اپنے بھائی کو قتل کرنا گویا خود اپنے آپ کو قتل کرنا اور بےدست و پا بنانا ہے یہی معنی یہاں وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَكُمْ میں ہیں کہ تم جو دوسروں کے عیب نکالو اور طعنہ دو تو یاد رکھو کہ عیب سے تو کوئی انسان عادةً خالی نہیں ہوتا، تم اس کے عیب نکالو گے تو وہ تمہارے عیب نکالے گا جیسا کہ بعض علماء نے فرمایا کہ وفیک عیوب و للناس اعین، یعنی تم میں بھی کچھ عیوب ہیں اور لوگوں کی آنکھیں ہیں جو ان کو دیکھتی ہیں تم کسی کے عیب نکالو گے اور طعنہ زنی کرو گے تو وہ تم پر یہی عمل کریں گے اور بالفرض اگر اس نے صبر بھی کیا تو بات وہی ہے کہ اپنے ایک بھائی کی بدنامی اور تذلیل پر غور کریں تو اپنی ہی تذلیل و تحقیر ہے۔ علماء نے فرمایا ہے کہ انسان کی سعادت اور خوش نصیبی اس میں ہے کہ اپنے عیوب پر نظر رکھے ان کی اصلاح کی فکر میں لگا رہے اور جو ایسا کرے گا اس کو دوسروں کے عیب نکالنے اور بیان کرنے کی فرصت ہی نہ ملے گی۔ ہندوستان کے آخری مسلمان بادشاہ ظفر نے خوب فرمایا ہے۔ نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنی خبر، رہے دیکھتے لوگوں کے عیب و ہنر پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو جہان میں کوئی برا نہ رہا تیسری چیز جس سے آیت میں ممانعت کی گئی ہے وہ کسی دوسرے کو برے لقب سے پکارنا ہے جس سے وہ ناراض ہوتا ہو، جیسے کسی کو لنگڑا لولا یا اندھا کانا کہہ کر پکارنا یا اس لفظ سے اس کا ذکر کرنا اسی طرح جو نام کسی شخص کی تحقیر کے لئے استعمال کیا جاتا ہو اس نام سے اس کو پکارنا، حضرت ابوجبیرہ انصاری نے فرمایا کہ یہ آیت ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو ہم میں اکثر آدمی ایسے تھے جن کے دو یا تین نام مشہور تھے اور ان میں سے بعض نام ایسے تھے جو لوگوں نے اس کو عار دلانے اور تحقیر و توہین کے لئے مشہور کردیئے تھے۔ آپ کو یہ معلوم نہ تھا بعض اوقات وہی برا نام لے کر آپ اس کو خطاب کرتے تو صحابہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ وہ اس نام سے ناراض ہوتا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ آیت میں تنابزو بالا لقاب سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے کوئی گناہ یا برا عمل کیا ہو اور پھر اس سے تائب ہوگیا ہو اس کے بعد اس کو اس برے عمل کے نام سے پکارنا، مثلاً چور یا زانی یا شرابی وغیرہ جس نے چوری، زنا، شراب سے توبہ کرلی ہو اس کو اس پچھلے عمل سے عار دلانا اور تحقیر کرنا حرام ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو شخص کسی مسلمان کو ایسے گناہ پر عار دلائے جس سے اس نے توبہ کرلی ہے تو اللہ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے کہ اس کو اسی گناہ میں مبتلا کر کے دنیا و آخرت میں رسوا کرے گا (قرطبی) بعض القاب کا استثناء بعض لوگوں کے ایسے نام مشہور ہوجاتے ہیں جو فی نفسہ برے ہیں مگر وہ بغیر اس لفظ کے پہچانا ہی نہیں جاتا تو اس کو اس نام سے ذکر کرنے کی اجازت پر علماء کا اتفاق ہے بشرطیہ ذکر کرنے والے کا قصد اس سے تحقیر و تذلیل کا نہ ہو جیسے بعض محدثین کے نام کے ساتھ اعرج یا احدب مشہور ہے اور خود رسول اللہ ﷺ نے ایک صحابی کو جس کے ہاتھ نسبتاً زیادہ طویل تھے ذوالیدین کے نام سے تعبیر فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مبارک سے دریافت کیا گیا کہ اسانید حدیث میں بعض ناموں کے ساتھ کچھ ایسے القاب آتے ہیں مثلاً حمید الطویل، سلیمان الاعمش، مروان الاصفر وغیرہ، تو کیا ان القاب کے ساتھ ذکر کرنا جائز ہے، آپ نے فرمایا جب تمہارا قصد اس کا عیب بیان کرنے کا نہ ہو بلکہ اس کی پہچان پوری کرنے کا ہو تو جائز ہے (قرطبی) سنت یہ ہے کہ لوگوں کو اچھے القاب سے یاد کیا جائے حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا حق دوسرے مومن پر یہ ہے کہ اس کا ایسے نام و لقب سے ذکر کرے جو اس کو زیادہ پسند ہو اس لئے عرب میں کنیت کا رواج عام تھا اور آنحضرت ﷺ نے بھی اس کو پسند فرمایا۔ خود آنحضرت ﷺ نے خاص خاص صحابہ کو کچھ لقب دیئے ہیں۔ صدیق اکبر کو عتیق اور حضرت عمر کو فاروق اور حضرت حمزہ کو اسد اللہ اور خالد بن ولید کو سیف اللہ فرمایا ہے۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بچتے رہو بہت تہمتیں کرنے سے مقرر بعضی تہمت گناہ ہے اور بھید نہ ٹٹولو کسی کا اور برا نہ کہو پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کا، بھلا خوش لگتا ہے تم میں کسی کو کہ کھائے گوشت اپنے بھائی کا جو مردہ ہو سو گھن آتا ہے تم کو اس سے اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ معاف کرنیوالا ہے مہربان۔

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو ! بہت سے گمانوں سے بچا کرو، کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں (اس لئے ظن و گمان کی جتنی قسمیں ہیں ان سب کے اقسام کے احکام کی تحقیق کرلو کہ کون سا گمان جائز ہے کون سا ناجائز، پھر جائز کی حد تک رہو) اور (کسی کے عیب کا) سراغ نہ لگایا کرو اور کوئی کسی کی غیبت بھی نہ کیا کرے (آگے غیبت کی مذمت ہے کہ) کیا تم میں کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھالے اس کو تو تم (ضرور) برا سمجھتے ہو (تو سمجھ لو کہ کسی بھائی کی غیبت بھی اسی کے مشابہ ہے) اور اللہ سے ڈرتے رہو (غیبت چھوڑ دو توبہ کرلو) بیشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ معارف و مسائل یہ آیت بھی باہمی حقوق اور آداب معاشرت کے متعلق احکام پر مشتمل ہے اس میں بھی تین چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ اول ظن جس کی تفصیل آگے آتی ہے۔ دوسرے تجسس یعنی کسی پوشیدہ عیب کا سراغ لگانا، تیسرا غیبت یعنی کسی غیرحاضر آدمی کے متعلق کوئی ایسی بات کہنا جس کو اگر وہ سنتا تو اس کو ناگوار ہوتی۔ پہلی چیز یعنی ظن کے معنی گمان غالب کے ہیں، اس کے متعلق قرآن کریم نے اول تو یہ ارشاد فرمایا کہ ”بہت سے گمانوں سے بچا کرو“ پر اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ ”بعض گمان گناہ ہوتے ہیں“ جس سے معلوم ہوا کہ ہر گمان گناہ نہیں تو یہ ارشاد سننے والوں پر اس کی تحقیق واجب ہوگئی کہ کون سے گمان گناہ ہیں تاکہ ان سے بچیں اور جب تک کسی گمان کا جائز ہونا معلوم نہ ہوجاوے اس کے پاس نہ جائیں۔ علماء و فقہا نے اس کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔ قرطبی نے فرمایا کہ ظن سے مراد اس جگہ تہمت ہے یعنی کسی شخص پر بغیر کسی قوی دلیل کے کوئی الزام عیب یا گناہ کا لگانا، امام ابوبکر جصاص نے احکام القرآن میں ایک جامع تفصیل اس طرح لکھی ہے کہ ظن کی چار قسمیں ہیں ایک حرام ہے دوسری ماموربہ اور واجب ہے، تیسری مستحب اور مندوب ہے چوتھی مباح اور جائز ہے، ظن حرام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بدگمانی رکھے کہ وہ مجھے عذاب ہی دے گا یا مصیبت ہی میں رکھے گا اس طرح کہ اللہ کی مغفرت اور رحمت سے گویا مایوس ہے حضرت جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ لا یموتن احد کم الا وھو یحسن اظن باللہ تم میں سے کسی کو اس کے بغیر موت نہ آنی چاہئے کہ اس کا اللہ کے ساتھ اچھا گمان ہو اور ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد آیا ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے کہ انا عند ظن عبدی بی، یعنی اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کرتا ہوں جیسا وہ میرے ساتھ گمان رکھتا ہے اب اس کو اختیار ہے کہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کے ساتھ حسن ظن فرض ہے اور بدگمانی حرام ہے۔ اسی طرح ایسے مسلمان جو ظاہری حالت میں نیک دیکھے جاتے ہیں، ان کے متعلق بلا کسی قوی دلیل کے بدگمانی کرنا حرام ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث، یعنی گمان سے بچو کیونکہ گمان جھوٹی بات ہے۔ یہاں ظن سے مراد باتفاق کسی مسلمان کے ساتھ بلا کسی قوی دلیل کے بدگمانی کرنا ہے اور جو کام ایسے ہیں کہ ان میں کسی جانب پر عمل کرنا شرعاً ضروری ہے اور اس کے متعلق قرآن و سنت میں کوئی دلیل واضح موجود نہیں، وہاں پر ظن غالب پر عمل کرنا واجب ہے۔ جیسے باہمی منازعات و مقدمات کے فیصلہ میں ثقہ گواہوں کی گواہی کے مطابق فیصلہ دینا کیونکہ حاکم اور قاضی جس کی عدالت میں مقدمہ دائر ہے اس پر اس کا فیصلہ دنیا واجب و ضروری ہے اور اس خاص معاملے کے لئے کوئی نص قرآن و حدیث میں موجود نہیں تو ثقہ آدمیوں کی گواہی پر عمل کرنا اس کے لئے واجب ہے اگرچہ یہ امکان و احتمال وہاں بھی ہے کہ شاید کسی ثقہ آدمی نے اس وقت جھوٹ بولا ہو اس لئے اس کا سچا ہونا صرف ظن غالب ہے اور اسی پر عمل واجب ہے۔ اسی طرح جہاں سمت قبلہ معلوم نہ ہو اور کوئی ایسا آدمی بھی نہ ہو جس سے معلوم کی جاسکے وہاں اپنے ظن غالب پر عمل ضروری ہے اسی طرح کسی شخص پر کسی چیز کا ضمان دینا واجب ہوا تو اس ضائع شدہ چیز کی قیمت میں ظن غالب ہی پر عمل کرنا واجب ہے اور ظن مباح ایسا ہے جیسے نماز کی رکعتوں میں شک ہوجاوے کہ تین پڑھی ہیں یا چار تو اپنے ظن غالب پر عمل کرنا جائز ہے اور اگر وہ ظن غالب کو چھوڑ کر امر یقینی پر عمل کرے یعنی تین رکعت قرار دے کر چوتھی پڑھ لے تو یہ بھی جائز ہے اور ظن مستحب و مندوب یہ ہے کہ ہر مسلمان کے ساتھ نیک گمان رکھے کہ اس پر ثواب ملتا ہے (جصاص ملخصاً) قرطبی نے فرمایا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) لولا اذسمعتموہ ظن المومنون و المومنت بانفسہم خیرا، اس میں حسن ظن بالمومنین کی تاکید آئی ہے اور یہ جو مشہور ہے کہ ان من الحزم سوء الظن یعنی احتیاط کی بات یہ ہے کہ ہر شخص سے بدگمانی رکھے اس کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ ایسا کرے جیسے بدگمانی کی صورت میں کیا جاتا ہے کہ بدون قوی اعتماد کے اپنی چیز کسی کے حوالہ نہ کرے نہ یہ کہ اس کو چور سمجھے اور اس کی تحقیر کرے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کسی شخص کو چور یا غدار سمجھے بغیر اپنے معاملہ میں احتیاط برتے۔ شیخ سعدی علیہ الرحمتہ کے اس قول کا بھی یہی مطلب ہے۔ نگہ دار وآں شوخ در کیسہ در کہ داند ہمہ خلق را کیسبہ بر دوسری چیز جس سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے تجسس یعنی کسی کے عیب کی تلاش اور سراغ لگانا ہے۔ اس میں قراتیں دور ہیں ایک لاتجسسوا بالجیم دوسرے لاتحسسوا بالحاء اور حدیث صحیحین میں جو حضرت ابوہریرہ سے منقول ہے یہ دونوں لفظ آئے ہیں ارشاد ہے لاتجسسوا ولا تحسسوا اور ان دونوں لفظوں کے معنی متقارب ہیں، اخفش نے دونوں میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ تجسس بالجیم کسی ایسے امر کی جستجو اور تلاش کو کہا جاتا ہے جس کو لوگوں نے آپ سے چھپایا ہو اور تجسس بالحاء مطلق تلاش اور جستجو کے معنی میں آیا ہے۔ سورة یوسف میں (آیت) تحسسوا من یوسف و اخیہ اسی معنی کے لئے آیا ہے اور معنی آیت کے یہ ہیں کہ جو چیز تمہارے سامنے آجائے اس کو پکڑ سکتے ہو اور کسی مسلمان کا جو عیب ظاہر نہ ہو اس کی جستجو اور تلاش کرنا جائز نہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ لاتغتابوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتھم فان من اتبع عوراتہم یتبع اللہ عورتہ و من یتبع اللہ عورتہ یفضحہ فی بیتہ (قرطبی) مسلمانوں کی غیبت نہ کرو اور ان کے عیوب کی جستجو نہ کرو کیونکہ جو شخص مسلمانوں کے عیوب کی تلاش کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے عیب کی تلاش کرتا ہے اور جس کے عیب کی تلاش اللہ تعالیٰ کرے اس کو اس کے گھر کے اندر بھی رسوا کردیتا ہے بیان القرآن میں ہے کہ چھپ کر کسی کی باتیں سننا یا اپنے کو سوتا ہوا بنا کر باتیں سننا بھی تجسس میں داخل ہے البتہ اگر کسی سے مضرت پہنچنے کا احتمال ہو اور اپنی یا دوسرے کسی مسلمان کی حفاظت کی غرض سے مضرت پہنچانے والے کی خفیہ تدبیروں اور ارادوں کا تجسس کرے تو جائز ہے۔ تیسری چیز جس سے اس آیت میں منع فرمایا گیا ہے وہ کسی کی غیبت کرنا ہے، یعنی اس کی غیر موجودگی میں اس کے متعلق کوئی ایسی بات کہنا جس کو وہ سنتا تو اس کو ایذا ہوتی اگرچہ وہ سچی بات ہی ہو کیونکہ جو غلط الزام لگائے وہ تمہمت ہے جس کی حرمت الگ قرآن کریم سے ثابت ہے اور غیبت کی تعریف میں اس شخص کی غیر موجودگی کی قید سے یہ نہ سمجھا جائے کہ موجودگی کی حالت میں ایسی رنجیدہ بات کہنا جائز ہے کیونکہ وہ غیبت تو نہیں مگر لمز میں داخل ہے جس کی حرمت اس سے پہلی آیت میں آ چکی ہے۔ (آیت) اَيُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ يَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِيْهِ مَيْتًا، اس آیت نے کسی مسلمان کی آبرو ریزی اور توہین و تحقیر کو اس کا گوشت کھانے کی مثال و مشابہ قرار دیا ہے اگر اس کے وہ شخص سامنے ہو تو ایسا ہے جیسے کسی زندہ انسان کا گوشت نوچ کر کھایا جائے، اس کو قرآن میں بلفظ لمز تعبیر کر کے حرام قرار دیا ہے جیسا کہ ابھی گزرا لا تلمزوا انفسکم اور آگے آئے گا (آیت) ویل لکل ھمزة لمزة اور وہ آدمی غائب ہو اس کے پیچھے اس کے متعلق ایسی بات کہنا جس سے اس کی آبرو میں خلل آئے اور اس کی تحقیر ہو یہ ایسا ہے جیسے کسی مردہ انسان کا گوشت کھایا جائے کہ جیسے مردہ کا گوشت کھانے سے مردے کو کوئی جسمانی اذیت نہیں ہوتی ایسے ہی اس غائب کو جب تک غیبت کی خبر نہیں ہوتی اس کو بھی کوئی اذیت نہیں ہوتی مگر جیسا کسی مردہ مسلمان کا گوشت کھاناحرام اور بڑی خست و دناءت کا کام ہے اسی طرح غیبت حرام بھی ہے اور خست و دناءت بھی کہ پیٹھ پیچھے کسی کو برا کہنا کوئی بہادری کا کام نہیں۔ اس آیت میں ظن اور تجسس اور غیبت تین چیزوں کی حرمت کا بیان ہے مگر غیبت کی حرمت کا زیادہ اہتمام فرمایا کہ اس کو کسی مردہ مسلمان کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس کی حرمت اور خست و دنائت کو واضح فرمایا، حکمت اس کی یہ ہے کہ کسی کے سامنے اس کے عیوب ظاہر کرنا بھی اگرچہ ایذا رسانی کی بنا پر حرام ہے مگر اس کی مدافعت وہ آدمی خود بھی کرسکتا ہے اور مدافعت کے خطرہ سے ہر ایک کی ہمت بھی نہیں ہوتی اور وہ عادةً زیادہ دیر رہ بھی نہیں سکتا بخلاف غیبت کے کہ وہاں کوئی مدافعت کرنے والا نہیں ہر کمتر سے کمتر آدمی بڑے سے بڑے کی غیبت کرسکتا ہے اور چونکہ کوئی مدافعت نہیں ہوتی اس لئے اس کا سلسلہ بھی عموماً طویل ہوتا ہے اور اس میں ابتلاء بھی زیادہ ہے اس لئے غیبت کی حرمت زیادہ موکد کی گئی اور عام مسلمانوں پر لازم کیا گیا کہ جو سنے وہ اپنے غائب بھائی کی طرف سے بشرط قدرت مدافعت کرے اور مدافعت پر قدرت نہ ہو تو کم از کم اس کے سننے پر پرہیز کرے کیونکہ غیبت کا بقصد و اختیار سننا بھی ایسا ہی ہے جیسے خود غیبت کرنا۔ غیبت کے متعلق مسائل حضرت میمون ؒ نے فرمایا کہ ایک روز خواب میں میں نے دیکھا کہ ایک زنگی کا مردہ جسم ہے اور کوئی کہنے والا ان کو مخاطب کر کے یہ کہہ رہا ہے کہ اس کو کھاؤ، میں نے کہا کہ اے خدا کے بندے میں اس کو کیوں کھاؤں تو اس شخص نے کہا اس لئے کہ تو نے فلاں شخص کے زنگی غلام کی غیبت کی ہے۔ میں نے کہا کہ خدا کی قسم میں نے تو اس کے متعلق کوئی اچھی بری بات کی ہی نہیں تو اس شخص نے کہا کہ ہاں، لیکن تو نے اس کی غیبت سنی تو ہے اور تو اس پر راضی رہا، حضرت میمون کا حال اس خواب کے بعد یہ ہوگیا کہ نہ خود کبھی کسی کی غیبت کرتے اور نہ کسی کو اپنی مجلس میں کسی کی غیبت کرنے دیتے تھے۔ حدیث میں حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ شب معراج کی حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے لیجایا گیا تو میرا گزر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے اور وہ اپنے چہروں اور بدن کا گوشت نوچ رہے ہیں، میں نے جبرئیل امین سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائی کی غیبت کرتے اور ان کی آبرو ریزی کرتے تھے (رواہ البغوی، مظہری) اور حضرت ابوسعید اور جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، الغیبتہ اشدمن الزنا، یعنی غیبت زنا سے بھی زیادہ سخت گناہ ہے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یہ کیسے، تو آپ نے فرمایا کہ ایک شخص زنا کرتا ہے پھر توبہ کرلیتا ہے تو اس کا گناہ معاف ہوجاتا ہے اور غیبت کرنے والے کا گناہ اس وقت تک معاف نہیں ہوتا جب تک وہ شخص معاف نہ کرے جس کی غیبت کی گئی ہے (رواہ الترمذی و ابوداؤد، از مظہری) اس حدیث سے ثابت ہوا کہ غیبت ایک ایسا گناہ ہے جس میں حق اللہ کی بھی مخالفت ہے اور حق العبد بھی ضائع ہوتا ہے اس لئے جس کی غیبت کی گئی ہے اس سے معاف کرانا ضروری ہے اور بعض علماء نے فرمایا کہ غیبت کی خبر جب تک صاحب غیبت کو نہ پہنچے اس وقت تک وہ حق العبد نہیں ہوتی اس لئے اس سے معافی کی ضرورت نہیں (نقلہ فی الروح عن الحسن و الخیاطی و ابن الصباغ و النووی و ابن الصلاح و الزرکشی و ابن عبدالبر عن ابن المبارک) مگر بیان القرآن میں اس کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ اس صورت میں گو اس شخص سے معافی مانگنا ضروری نہیں مگر جس شخص کے سامنے یہ غیبت کی تھی اس کے سامنے اپنی تکذیب کرنا یا اپنے گناہوں کا اقرار کرنا ضروری ہے اور اگر وہ شخص مر گیا ہے یا اس کا پتہ نہیں تو اس کا کفارہ حضرت انس کی حدیث میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان من کفارة الغیبة ان یستغفر لن اغتابہ تقول اللھم اغفرلنا ولہ (رواہ البیہقی، مظہری) یعنی کفارہ غیبت کا یہ ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائے مغفرت کرے اور یوں کہے کہ یا اللہ ہمارے اس کے گناہوں کو معاف فرما۔ مسئلہبچے اور مجنون اور کافر ذمی کی غیبت بھی حرام ہے کیونکہ اس کی ایذا بھی حرام ہے اور جو کافر حربی ہیں اگرچہ ان کی ایذا حرام نہیں مگر اپنا وقت ضائع کرنے کی وجہ سے پھر بھی غیبت مکروہ ہے۔ مسئلہغیبت جیسے قول اور کلام سے ہوتی ہے ایسے ہی فعل یا اشارہ سے بھی ہوتی ہے جیسے کسی لنگڑے کی چال بنا کر چلنا جس سے اس کی تحقیر ہو۔ مسئلہبعض روایات سے ثابت ہے کہ آیت میں جو غیبت کی عام حرمت کا حکم ہے یہ مخصوص البعض ہے یعنی بعض صورتوں میں اس کی اجازت ہوئی ہے مثلاً کسی شخص کی برائی کسی ضرورت یا مصلحت سے کرنا پڑے تو وہ غیبت میں داخل نہیں بشرطیکہ وہ ضرورت و مصلحت شرعاً معتبر ہو جیسے کسی ظالم کی شکایت کسی ایسے شخص کے سامنے کرنا جو ظلم کو دفع کرسکے، یا کسی کی اولاد و بیوی کی شکایت اس کے باپ اور شوہر سے کرنا جو ان کی اصلاح کرسکے، یا کسی واقعہ کے متعلق فتویٰ حاصل کرنے کے لئے صورت واقعہ کا اظہار یا مسلمانوں کو کسی شخص کے دینی یا دنیوی شر سے بچانے کے لئے کسی کا حال بتلانا، یا کسی معاملے کے متعلق مشورہ لینے کے لئے اس کا حال ذکر کرنا، یا جو شخص سب کے سامنے کھلم کھلا گناہ کرتا ہے اور اپنے فسق کو خود ظاہر کرتا پھرتا ہے اس کے اعمال بد کا ذکر بھی غیبت میں داخل نہیں مگر بلا ضرورت اپنے اوقات ضائع کرنے کی بنا پر مکروہ ہے (یہ سب مسائل بیان القرآن میں بحوالہ روح المعانی بیان کئے گئے ہیں) اور ان سب میں قدر مشترک یہ ہے کہ کسی کی برائی اور عیب ذکر کرنے سے مقصود اس کی تحقیر نہ ہو بلکہ کسی ضرورت و مجبوری سے ذکر کیا گیا ہو۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے آدمیو ! ہم نے تم کو بنایا ایک مرد اور ایک عورت سے اور رکھیں تمہاری ذاتیں اور قبلے تاکہ آپس کی پہچان ہو تحقیق عزت اللہ کے یہاں اسی کو بڑی جس کو ادب بڑا اللہ سب کچھ جانتا ہے خبردار۔

خلاصہ تفسیر اے لوگو ! ہم نے (سب) کو ایک مرد اور ایک عورت (یعنی آدم و حوا) سے پیدا کیا (اس لئے اس میں تو سب انسان برابر ہیں) اور (پھر جس بات میں فرق رکھا ہے کہ) تم کو مختلف قومیں اور (پھر ان قوموں میں) مختلف خاندان بنایا (یہ محض اس لئے) تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرسکو (جس میں بہت سی مصلحتیں ہیں نہ اس لئے کہ ایک دوسرے پر تفاخر کرو کیونکہ) اللہ کے نزدیک تم سب میں بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو (اور پرہیزگاری ایسی چیز ہے جس کا پورا حال کسی کو معلوم نہیں بلکہ اس کے حال کو محض) اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور پورا خبردار ہے (اس لئے کسی نسب اور قومیت پر فخر نہ کرو) معارف و مسائل اوپر کی آیات میں انسانی اور اسلامی حقوق اور آداب معاشرت کی تعلیم کے سلسلے میں چھ چیزوں کو حرام و ممنوع کیا گیا ہے جو باہمی منافرت اور عداوت کا سبب ہوتی ہیں۔ اس آیت میں ایک جامع تعلیم انسانی مساوات کی ہے کہ کوئی انسان دوسرے کو کمتر یا رذیل نہ سمجھے اور اپنے نسب اور خاندان یا مال و دولت وغیرہ کی بنا پر فخر نہ کرے کیونکہ یہ چیزیں درحقیقت تفاخر کی ہیں نہیں، پھر اس تفاخر سے باہمی منافرت اور عداوت کی بنیادیں پڑتی ہیں اس لئے فرمایا کہ تمام انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہونے کی حیثیت سے بھائی بھائی ہیں اور خاندان اور قبائل یا مال و دولت کے اعتبار سے جو فرق اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ تفاخر کے لئے نہیں بلکہ تعارف کے لئے ہے۔ شان نزول یہ آیت فتح مکہ کے موقع پر اس وقت نازل ہوئی جبکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال حبشی ؓ کو اذان کا حکم دیا تو قریش مکہ جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ان میں سے ایک نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ میرے والد پہلے ہی وفات پا گئے ان کو یہ روز بد دیکھنا نہیں پڑا اور حارث بن ہشام نے کہا کہ کیا محمد ﷺ کو اس کالے کوے کے سوا کوئی آدمی نہیں جڑا کہ جو مسجد حرام میں اذان دے۔ ابوسفیان بولے کہ میں کچھ نہیں کہتا کیونکہ مجھے خطرہ ہے کہ میں کچھ کہوں گا تو آسمانوں کا مالک ان کو خبر کر دے گا، چناچہ جبرئیل امین تشریف لائے اور آنحضرت ﷺ کو اس تمام گفتگو کی اطلاع دی، آپ نے ان لوگوں کو بلا کر پوچھا کہ تم نے کیا کہا تھا انہوں نے اقرار کرلیا اسی پر یہ آیت نازل ہوئی جس نے بتلایا کہ فخر و عزت کی چیز درحقیقت ایمان اور تقویٰ ہے جس سے تم لوگ خالی اور حضرت بلال آراستہ ہیں اس لئے وہ تم سب سے افضل و اشرف ہیں (مظہری عن البغوی) حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر طواف فرمایا (تاکہ سب لوگ دیکھ سکیں) طواف سے فارغ ہو کر آپ نے یہ خطبہ دیا۔ الحمد للہ الذی اذھب عنکم عبیة الجاھلیة وتکبرھا۔ الناس رجلان بر تقی کریم علی اللہ و فاجر شقی ھین علی اللہ ثم تلا۔ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ لآیتہ (ترمذی و بغوی) شکر ہے اللہ کا جس نے فخر جاہلیت کو اور اس کے تکبر کو تم سے دور کردیا، اب تمام انسانوں کی صرف دو قسمیں ہیں ایک نیک اور متقی وہ اللہ کے نزدیک شریف اور محترم ہے، دوسرا فاجر شقی وہ اللہ کے نزدیک ذلیل و حقیر ہے اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی جو اوپر مذکور ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ دنیا کے لوگوں کے نزدیک عزت مال و دولت کا نام ہے اور اللہ کے نزدیک تقویٰ کا۔ شُعُوْبًا وَّقَبَاۗىِٕلَ ، شعوب، شعب کی جمع ہے بہت بڑی جماعت کو شعب کہتے ہیں جو کسی ایک اصل پر مجتمع ہوں پھر ان میں مختلف قبائل اور خاندان ہوتے ہیں، پھر خاندانوں میں بھی بڑے خاندان اور اس کے مختلف حصوں کے عربی زبان میں الگ الگ نام ہیں، سب سے بڑا حصہ شعب اور سب سے چھوٹا حصہ عشیرہ کہلاتا ہے او ابورواق کا قول ہے کہ شعب اور شعوب عجمی قوموں کے لئے بولا جاتا ہے جس کے انساب محفوظ نہیں اور قبائل عرب کے لوگوں کے لئے جن کے انساب محفوظ چلے آتے ہیں اور اسباط بنی اسرائیل کے لئے۔ نسبی اور وطنی یا لسانی امتیاز میں حکمت و مصلحت تعارف کی ہے قرآن کریم نے اس آیت میں واضح کردیا کہ حق تعالیٰ نے اگرچہ سب انسانوں کو ایک ہی باپ اور ماں سے پیدا کر کے سب کو بھائی بھائی بنادیا ہے مگر پھر اس کی تقسیم مختلف قوموں قبیلوں میں جو حق تعالیٰ ہی نے فرمائی ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ لوگوں کا تعارف اور شناخت آسان ہوجائے مثلاً ایک نام کے دو شخص ہیں تو خاندان کے تفاوت میں ان میں امتیاز ہوسکتا ہے اور اس سے دور اور قریب کے رشتوں کا علم ہوسکتا ہے اور نسبی قرب و بعد کی مقدار پر ان کے حقوق شرعیہ ادا کئے جاتے ہیں۔ عصبات کا قرب و بعد معلوم ہوتا ہے جس کی ضرورت تقسیم میراث میں پیش آتی ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ نسبی تفاوت کو تعارف کیلئے استعمال کرو تفاخر کے لئے نہیں۔
Ayahs 49:14–18

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

کہتے ہیں گنوار کہ ہم ایمان لائے تو کہہ تم ایمان نہیں لائے پر تم کہو ہم مسلمان ہوئے اور ابھی نہیں گھسا ایمان تمہارے دلوں میں اور اگر حکم پر چلو گے اللہ کے اور اس کے رسول کے کاٹ نہ لے گا تمہارے کاموں میں سے کچھ اللہ بخشتا ہے مہربان ہے

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

ایمان والے وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسول پر پھر شبہ نہ لائے اور لڑے اللہ کی راہ میں اپنے مال اور اپنی جان سے وہ لوگ جو ہیں وہی ہیں سچے

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

تو کہہ کیا تم جتلاتے ہو اللہ کو اپنی دینداری اور اللہ کو تو خبر ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور اللہ ہر چیز کو جانتا ہے

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

تجھ پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوئے تو کہہ مجھ پر احسان نہ رکھو اپنے اسلام لانے کا بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو راہ دی ایمان کی اگر سچ کہو

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

اللہ جانتا ہے چھپے بھید آسمانوں کے اور زمین کے اور اللہ دیکھتا ہے جو تم کرتے ہو۔

خلاصہ تفسیر یہ (بعضے) گنوار (بنی اسد وغیرہ کے آپ کے پاس آ کر جو ایمان لانے کے مدعی ہوتے ہیں یہ اس میں کئی گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں ایک تو کذب کہ بلا تصدیق قلب محض زبان سے) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے، آپ فرما دیجئے کہ تم ایمان تو نہیں لائے (کیونکہ وہ موقوف ہے، تصدیق قلبی پر، اور وہ موجود نہیں جیسا عنقریب آتا ہے (آیت) ولما یدخل الایمان) لیکن (ہاں) یوں کہو کہ (ہم مخالفت چھوڑ کر) مطیع ہوگئے (اور اطاعت بمعنی ترک مخالفت محض ظاہری موافقت سے بھی متحقق ہوجاتی ہے) اور (باقی) ابھی تک ایمان تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا (اس لئے ایمان کا دعویٰ مت کرو) اور (گو اب تک تم ایمان نہیں لائے لیکن اب بھی) اگر تم اللہ و رسول کا (سب باتوں میں) کہنا مان لو (جس میں یہ بھی داخل ہے کہ دل سے ایمان لے آؤ) تو اللہ تمہارے اعمال میں سے (جو کہ بعد ایمان کے ہوں گے محض اس وقت کے کفر و کذب کی وجہ سے جو کہ اس وقت کے اعتبار سے گزشتہ ہوگا) ذرا بھی کم نہ کرے گا (بلکہ سب کا پورا پورا ثواب دے گا کیونکہ) بیشک اللہ غفور رحیم ہے (اب ہم سے سنو کہ کامل مومن کون ہیں تاکہ اگر تم کو مومن بننا ہے تو ویسے بنو سو) پورے مومن وہ ہیں جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے پھر (ایمان پر مستمر بھی رہے یعنی عمر بھر کبھی) شک نہیں کیا اور اپنے مال اور جان سے خدا کے راستہ میں (یعنی دین کے لئے) محنت اٹھائی (جس میں جہاد وغیرہ سب آ گیا سو) یہ لوگ ہیں سچے (یعنی پورے سچے اور یوں اگر صرف تصدیق ہی ہو تب بھی نفس صدق ہوجائے گا، بخلاف تمہارے کہ ادنیٰ درجہ کا ایمان کہ تصدیق ہے وہ تک حاصل نہیں اور دعویٰ کرتے ہیں ایمان کامل کا، پس ایک امر قبیح تو ان سے یہ صادر ہوا یعنی کذب کماقال تعالیٰ (آیت) ومن الناس من یقول امنا الی قولہ ماھم بمومنین، اور دوسرا امر قبیح یہ ہے کہ یہ دھوکہ دیتے ہیں کماقال تعالیٰ (یخدعون اللہ سو) آپ (ان سے) فرما دیجئے کہ کیا خدا تعالیٰ کو اپنے دین (قبول کرنے) کی خبر دیتے ہو (یعنی اللہ تعالیٰ تو جانتے ہیں کہ تم نے ایمان قبول نہیں کیا باوجود اس کے جو تم دعوے قبول کرنے کا کرتے ہو تو لازم آتا ہے کہ خلاف علم خداوندی خدا تعالیٰ کو ایک بات بتلاتے ہو) حالانکہ (یہ محال ہے کیونکہ) اللہ کو تو سب آسمان اور زمین کی سب چیزوں کی (پوری) خبر ہے اور (علاوہ سمٰوٰت والارض کے) اللہ (اور بھی) سب چیزوں کو جانتا ہے (تو اس کو کوئی کیا بتلاوے گا اس سے معلوم ہوا کہ حق تعالیٰ کو جو تمہارے متعلق علم ہے کہ تم ایمان نہیں لائے وہی صحیح ہے اور تیسرا امر قبیح جس کے یہ مرتکب ہوتے ہیں یہ ہے کہ) یہ لوگ اپنے اسلام لانے کا آپ پر احسان رکھتے ہیں (جو نہایت درجہ گستاخی ہے کہ دیکھئے ہم نے لڑے نہ بھڑے مسلمان ہوگئے اور دوسرے لوگ بہت پریشان کر کر کے مسلمان ہوئے ہیں سو) آپ کہہ دیجئے کہ مجھ پر اپنے اسلام لانے کا احسان نہ رکھو (اس لئے کہ قطع نظر گستاخی کے تمہارے اسلام سے میرا کیا نفع ہوگیا اور اسلام نہ لانے سے میرا کیا ضرر ہوگیا اگر تم سچے ہوتے تو تمہاری ہی آخرت کا نفع تھا اور جھوٹے ہونے میں بھی تمہارا ہی دنیا کا نفع ہے کہ قتل و قید سے بچ گئے سو مجھ سے احسان رکھنا محض جہل ہے) بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تم کو ایمان کی ہدایت دی بشرطیکہ تم (اس دعویٰ ایمان میں) بچے ہو (کیونکہ ایمان بڑی نعمت ہے اور بدون تعلیم و توفیق حق تعالیٰ کے نصیب نہیں ہوتا تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ ایسی بڑی نعمت عطا فرما دی، پس دھوکے اور احسان جتلانے سے باز آؤ اور یہ یاد رکھو کہ) اللہ تعالیٰ آسمان اور زمین کی سب مخفی باتوں کو جانتا ہے اور (اسی علم محیط کی وجہ سے) تمہارے سب اعمال کو بھی جانتا ہے (اور ان ہی کے موافق تم کو جزا دے گا پھر اس کے سامنے باتیں بنانے سے کیا فائدہ)۔ معارف و مسائل سابقہ آیات میں بتلایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت و شرافت کا مدار تقویٰ پر ہے جو ایک باطنی چیز ہے اللہ تعالیٰ ہی اس کو جانتے ہیں کسی شخص کے لئے اپنے تقدس کا دعویٰ جائز نہیں، مذکور الصدر آیات میں ایک خاص واقعہ کی بنا پر یہ بتلایا گیا ہے کہ ایمان کا اصل مدار قلبی تصدیق پر ہے اس کے بغیر محض زبان سے اپنے کو مومن کہنا صحیح نہیں، اس پوری سورت میں اول نبی کریم ﷺ کے حقوق تعظیم و تکریم کا پھر باہمی حقوق اور آداب معاشرت کا ذکر آیا ہے ختم سورت پر یہ بتلایا گیا کہ آخرت میں سب اعمال کی مقبولیت کا مدار ایمان اور تصدیق قلبی اور اللہ و رسول کی اطاعت پر ہے۔ شان نزول واقعہ اس آیت کے نزول کا امام بغوی کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ قبیلہ بنی اسد کے چند آدمی مدینہ طیبہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک قحط شدید کے زمانے میں حاضر ہوئے، یہ لوگ دل سے تو مومن تھے نہیں محض صدقات حاصل کرنے کے لئے اپنے اسلام لانے کا اظہار کیا اور چونکہ واقع میں مومن نہ تھے اسلامی احکام و آداب سے بیخبر اور غافل تھے انہوں نے مدینہ کے راستوں پر غلاظت و نجاست پھیلا دی اور بازاروں میں اشیاء ضرورت کی قیمت بڑھا دی اور حضور ﷺ کے سامنے ایک تو جھوٹا دعویٰ ایمان لانے کا کیا، دوسرے آپ کو دھوکا دینا چاہا، تیسرے آپ پر احسان جتلایا کہ دوسرے لوگ تو ایک زمانہ تک آپ سے بر سر پیکار رہے آپ کے خلاف جنگیں لڑیں پھر مسلمان ہوئے ہم بغیر کسی جنگ کے خود آپ کے پاس حاضر ہو کر مسلمان ہوگئے اس لئے ہماری قدر کرنی چاہئے جو شان رسالت میں ایک طرح کی گستاخی بھی تھی کہ اپنے مسلمان ہوجانے کا احسان آپ پر جتلایا اور مقصود اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ مسلمانوں کی صدقات سے اپنی مفلسی دور کریں اور اگر یہ واقعی اور سچے مسلمان ہی ہوجاتے تو رسول اللہ ﷺ پر کیا احسان تھا خود اپنا ہی نفع تھا اس پر آیات مذکورہ نازل ہوئیں جن میں ان کے جھوٹے دعوے کی تکذیب اور احسان جتلانے پر مذمت کی گئی ہے۔ (آیت) وَلٰكِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا، چونکہ ان کے دلوں میں ایمان نہ تھا جھوٹا دعویٰ صرف ظاہری افعال کی بناء پر کر رہے تھے اس لئے قرآن نے ان کے ایمان کی نفی اور دعوائے ایمان کے غلط ہونے کو بیان کر کے یہ فرمایا کہ تمہارا آمنا کہنا تو جھوٹ ہے تم زیادہ سے زیادہ اسلمنا کہہ سکتے ہو کیونہ اسلام کے لفظی معنی ظاہری افعال میں اطاعت کرنے کے ہیں اور یہ لوگ اپنے دعوائے ایمان کو سچا ثابت کرنے کے لئے کچھ اعمال مسلمانوں جیسے کرنے لگے تھے اس لئے لفظی اعتبار سے ایک درجہ کی اطاعت ہوگئی اس لئے لغوی معنی کے اعتبار سے اسلمنا کہنا صحیح ہوسکتا ہے۔ اسلام و ایمان ایک ہیں یا کچھ فرق ہے ؟: اوپر کی تقریر سے معلوم ہوگیا کہ اس آیت میں اسلام کے لغوی معنی مراد ہیں اصطلاحی معنی مراد ہی نہیں اس لئے اس آیت سے اسلام اور ایمان میں اصطلاحی فرق پر کوئی استدلال نہیں ہوسکتا اور اصطلاحی ایمان اور اصطلاحی اسلام اگرچہ مفہوم و معنی کے اعتبار سے الگ الگ ہیں کہ ایمان اصطلاح شرع میں تصدیق قلبی کا نام ہے یعنی اپنے دل سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور رسول کی رسالت کو سچا ماننا اور اسلام نام ہے اعمال ظاہرہ میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے کا لیکن شریعت میں تصدیق قلبی اس وقت تک قابل اعتبار نہیں جب تک اس کا اثر جوارح کے اعمال و افعال تک نہ پہنچ جائے جس کا دانیٰ درجہ یہ ہے کہ زبان سے کلمہ اسلام کا اقرار کرے۔ اس طرح اسلام اگرچہ اعمال ظاہرہ کا نام ہے لیکن شریعت میں وہ اس وقت تک معتبر نہیں جب تک کہ دل میں تصدیق نہ آجائے ورنہ وہ نفاق ہے۔ اس طرح اسلام و ایمان مبدا اور منہتی کے اعتبار سے تو الگ الگ ہیں کہ ایمان باطن اور قلب سے شروع ہو کر ظاہر اعمال تک پہنچتا ہے اور اسلام افعال ظاہرہ سے شروع ہو کر باطن کی تصدیق تک پہنچتا ہے مگر مصداق کے اعتبار سے ان دونوں میں تلازم ہے کہ ایمان اسلام کے بغیر معتبر نہیں اور اسلام ایمان کے بغیر شرعاً معتبر نہیں، شریعت میں یہ نہیں ہوسکتا کہ ایک شخص مسلم تو ہو مومن نہ ہو یا مومن ہو مسلم نہ ہو مگر یہ کلام اصطلاحی ایمان و اسلام میں ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص مسلم ہو مومن نہ ہو جیسے تمام منافقین کا یہی حال تھا کہ ظاہری اطاعت احکام کی بنا پر مسلم کہلاتے تھے مگر دل میں ایمان نہ ہونے کے سبب مومن نہ تھے واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ تمت بحمداللہ تعالیٰ وعونہ سورة الحجرات للثامن من شعبان 92 ھ 13 یوم الاحد وللہ الحمد و المنة