Ayahs 53:19–21خلاصہ تفسیر
(اے مشرکو بعد اس کے کہ رسول ﷺ کا ناطق بالحق و متبع للوحی ہونا ثابت ہوگیا اور آپ اس وحی سے توحید کا حکم فرماتے ہیں، جو کہ دلائل عقلیہ سے بھی ثابت ہے، اور تم پھر بھی بتوں کی پرستش کرتے ہو تو) بھلا تم نے (کبھی ان بتوں کے مثلاً) لات اور عزی اور ایک تیسرے منات کے حال میں غور بھی کیا ہے (تاکہ تم کو معلوم ہوتا کہ وہ قابل پرستش ہیں یا نہیں، پس کلمہ فاء سے یہ فائدہ ہوا کہ آپ کی تنبیہ کے بعد متنبہ ہونا چاہئے تھا اور توحید کے متعلق ایک اور بات قابل غور ہے کہ تم جو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر معبود کہتے ہو تو) کیا تمہارے لئے تو بیٹے (تجویز) ہوں اور خدا کے لئے بیٹیاں (تجویز ہوں یعنی جن لڑکیوں کو تم عار و ننگ و قابل نفرت سمجھتے ہو وہ خدا کی طرف نسبت کی جاویں) اس حالت میں تو یہ بہت بےڈھنگی تقسیم ہوئی (کہ اچھی چیز تمہارے حصے میں اور بری چیز خدا کے حصہ میں، نعوذ باللہ منہ، یہ بنا علی العرف فرمایا اور نہ خدا تعالیٰ کے لئے بیٹا تجویز کرنا بھی بےڈھنگی بات ہے) یہ (معبودات مذکورہ اصنام و ملائکہ بعقیدہ مذکورہ) نرے نام ہی نام ہیں ، (یعنی یہ مسمیات خدا ہونے کی حیثیت سے کوئی موجود چیز ہی نہیں بلکہ مثل ان اسماء کے ہیں جن کا کہیں کوئی مصداق نہ ہو) جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے (آپ ہی) ٹھہرا لیا ہے، خدا تعالیٰ نے تو ان (کے معبود ہونے) کی کوئی دلیل (عقلی یا نقلی) بھیجی نہیں (بلکہ) یہ لوگ (اس اعتقاد الوہیتہ غیر اللہ میں) صرف بےاصل خیالات پر اور اپنے نفس کی خواہش پر (جو کہ ان بےاصل خیالات سے پیدا ہوتی ہے) چل رہے ہیں (دونوں میں فرق یہ ہوا کہ ہر عمل سے پہلے ایک عقیدہ ہوتا ہے، اور ایک عزم و ارادہ جو عمل کے لئے محرک ہوتا ہے، پس دونوں سے دونوں کی طرف اشارہ ہے) حالانکہ ان کے پاس ان کے رب کی جانب سے (بواسطہ رسول ﷺ کے جو حق گو اور وحی الٰہی کے پیرو ہیں آپ سے) ہدایت (امر واقعی کی) آ چکی ہے (یعنی خود اپنے دعوے پر تو کوئی دلیل نہیں رکھتے، اور اس دعوت کی تفصیل پر رسول کے ذریعہ سے دلیل سنتے ہیں، اور پھر نہیں مانتے، یہ گفتگو تھی اللہ کے سوا کسی کے معبود ہونے کے ابطال میں، آگے اس کا بیان ہے کہ تم نے جو بتوں کو اس غرض سے معبود مانا ہے کہ یہ اللہ کے پاس تمہاری شفاعت کریں گے یہ غرض بھی محض دھوکہ اور باطل ہے، سوچو کہ) کیا انسان کو اس کی ہر تمنا مل جاتی ہے (واقعہ ایسا نہیں ہے، کیونکہ ہر تمنا) سو خدا ہی کے اختیار میں ہیں، آخرت (کی بھی) اور دنیا (کی بھی پس وہ جس کو چاہیں پورا فرما دیں، اور نص قطعی میں یہ بتلا دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس تمنائے باطل کو پورا کرنا نہیں چاہیں گے نہ دنیا میں ان کی دنیوی حاجات میں شفاعت کریں نہ آخرت میں کہ وہاں عذاب سے نجات کی شفاعت کریں اس لئے یقینا وہ پوری نہ ہوگی) اور (بیچارے بت تو کیا شفاعت کرتے کہ ان میں خود اہلیت ہی شفاعت کی نہیں، اس دربار میں تو جو لوگ اہل ہیں ان کی بھی بلا اجازت حق کچھ نہیں چلتی چنانچہ) بہت سے فرشتے آسمانوں میں موجود ہیں (شاید اس میں اشارہ ہو علو شان کی طرف مگر باوجود اس علو شان کے) ان کی سفارش ذرا بھی کام نہیں آسکتی (بلکہ خود شفاعت ہی نہیں پائی جاسکتی) مگر بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ ٰجس کے لئے چاہیں اجازت دیدیں اور (اس کے لئے شفاعت کرنے سے) راضی ہوں (یرضیٰ اس لئے بڑھایا تاکہ کبھی مخلوق کا اذن بلا رضا بھی کسی دباؤ یا مصلحت سے ہوجاتا ہے، اللہ جل شانہ کے معاملہ میں اس کا بھی دور کا کوئی احتمال نہیں کہ وہ کسی دباؤ سے مجبور ہو کر راضی ہوجاویں، آگے اس کا بیان ہے کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیدینا کفر ہے کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے (بلکہ اس کے انکار کی وجہ سے کافر ہیں) وہ فرشتوں کو (خدا کی) بیٹی کے نام سے نامزد کرتے ہیں (ان کی تعبیر بالکفر میں آخرت کی تخصیص سے شاید اس طرف اشارہ ہو کہ یہ سب ضلالتیں آخرت کی بےفکری سے پیدا ہوئی ہیں، ورنہ معتقد آخرت کو اپنی نجات کی ضرور فکر رہتی ہے اور یہاں انثیٰ بمعنے دختر کے ہیں، کما فی قولہ تعالیٰ وَاِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بالْاُنْثٰى، اور جب ملائکہ کو خدا کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے کفر ہونے کی تصریح فرما دی تو بتوں کے شریک ٹھہرانے کا کفر ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوگیا اس لئے صرف اسی پر اکتفا کیا گیا، آگے اس کا بیان ہے کہ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی لڑکیاں قرار دینے کا عقیدہ باطل ہے) حالانکہ ان کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں صرف بےاصل خیالات پر چل رہے ہیں، اور یقینا بےاصل خیالات امر حق (کے اثبات) میں ذرا بھی مفید نہیں ہوتے۔
معارف و مسائل
سابقہ آیات میں رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت اور آپ کی وحی کے محفوظ ہونے کے دلائل کا تفصیلی ذکر تھا، ان آیات میں اس کے بالمقابل مشرکین عرب کے اس فعل کی مذمت ہے کہ انہوں نے بغیر کسی دلیل کے مختلف بتوں کو اپنا معبود و کارساز بنا رکھا ہے اور فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہتے ہیں اور بعض روایات میں ہے کہ ان بتوں کو بھی وہ خدا تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے۔
مشرکین عرب کے بت جن کی وہ پرستش کرتے تھے بیشمار ہیں، مگر ان میں سے تین زیادہ مشہور ہیں، اور ان کی عبادت پر عرب کے بڑے بڑے قبائل لگے ہوئے تھے، لات، عزی، منات، لات قبیلہ ثقیف (اہل طائف) کا بت تھا، عزی قریش کا اور منات بنی ہلال کا، ان بتوں کے مقامات پر مشرکین نے بڑے بڑے شاندار مکانات بنا رکھے تھے، جن کو کعبہ کی حیثیت دیتے تھے، فتح مکہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو منہدم کرا دیا (قرطبی ملخصاً)
Ayah 53:22قِسْمَةٌ ضِيْزٰى، صنوز سے مشتق ہے، جس کے معنی ظلم کرنے اور حق تلفی کرنے کے ہیں، اسی لئے ابن عباس نے قِسْمَةٌ ضِيْزٰى کے معنی ظالمانہ تقسیم کے کئے ہیں۔
Ayahs 53:23–28ظن کے مختلف اقسام اور ان کے احکام
وَاِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِيْ مِنَ الْحَقِّ شَـيْــــًٔا، لفظ ظن عربی زبان میں مختلف معانی کے لئے بولا جاتا ہے، ایک معنی یہ بھی ہیں کہ بےبنیاد خیالات کو ظن کہا جاتا ہے، آیت میں یہی مراد ہے اور یہی مشرکین مکہ کی بت پرستی کا سبب تھا، اسی کے ازالہ کے لئے یہ فرمایا گیا ہے، دوسرے معنی ظن کے وہ ہیں جو یقین کے بالمقابل آتے ہیں، یقین کہا جاتا ہے اس علم قطعی مطابق للواقع کو جس میں کسی شک و شبہ کی راہ نہ ہو، جیسے قرآن کریم یا احادیث متواترہ سے حاصل شدہ علم، اس کے مقابل ظن اس علم کو کہا جاتا ہے جو بےبنیاد خیالات تو نہیں دلیل کی بنیاد پر قائم ہے، مگر یہ دلیل اس درجہ قطعی نہیں جس میں کوئی دوسرا احتمال ہی نہ رہے، جیسے عام روایات حدیث سے ثابت ہونے والے احکام، اسی لئے قسم اول کے مسائل کو قطعیات اور یقینیات کہا جاتا ہے، اور دوسری قسم کو ظنیات، اور یہ ظن شریعت میں معتبر ہے، قرآن و حدیث میں اس کے معتبر ہونے کے شواہد موجود ہیں اور تمام امت کے نزدیک واجب العمل ہے، آیت مذکورہ میں ظن کو جو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے اس سے مراد ظن بمعنی بےبنیاد بےدلیل خیالات ہیں، اس لئے کوئی اشکال نہیں۔
Ayahs 53:29–31خلاصہ تفسیر
(جب اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ اور جَاۗءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى سے مشرکین عرب کا معاند ہونا معلوم ہوگیا کہ باجود نزول قرآن اور ہدایت کے یہ اپنے گمان اور ہویٰ پر چلتے ہیں، اور معاند سے قبول حق کی امید نہیں ہوتی) تو آپ ایسے شخص سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری نصیحت کا خیال نہ کرے اور بجز دنیوی زندگی کے اس کو کوئی (اخروی مطلب) مقصود نہ ہو (جس کی وجہ عدم ایمان بالآخرة ہے جو لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ سے اوپر مفہوم ہوا ہے اور) ان لوگوں کے فہم کی رسائی کی حد بس یہی (دنیوی زندگی) ہے (جب ان کی بدفہمی اور بےفکری کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو ان کی فکر نہ کیجئے، ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کیجئے بس) تمہارا پروردگار خوب جانتا ہے کہ کون اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہ ہی اس کو بھی خوب جانتا ہے جو راہ راست پر ہے (اس سے تو اس کا علم ثابت ہوا) اور (اس سے قدرت ثابت ہے کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ سب اللہ ہی کے اختیار میں ہے (جب وہ علم اور قدرت دونوں کا کامل ہے اور اس کے قانون اور احکام پر عمل کرنے کے اعتبار سے لوگوں کی دو قسمیں ہیں گمراہ اور ہدایت پر عمل کرنے والے تو) انجام کار یہ ہے کہ برا کام کرنے والوں کو ان کے (برے) کام کے عوض میں (خاص طور کی) جزاء دے گا اور نیک کام کرنے والوں کو ان کے نیک کاموں کے عوض میں (خاص طور کی) جزا دے گا (اس کا مقتضا یہ ہے کہ اسی کے حوالہ کیجئے آگے ان لوگوں کا بیان ہے جو نیکوں کار محسنین ہیں) وہ لوگ ایسے ہیں کہ کبیرہ گناہوں سے اور (ان میں) بےحیائی کی باتوں سے (بالخصوص زیادہ) بچتے ہیں مگر ہلکے ہلکے گناہ (کبھی کبھار ہوجائیں تو جس نیکو کاری کا یہاں ذکر ہے اس میں ان سے خلل نہیں آتا، مطلب استثناء کا یہ ہے کہ الذین احسنوا یعنی محسنین جن کی اس آیت میں مدح کی گئی ہے اور ان کے محبوب عنداللہ ہونے کا اظہار کیا گیا ہے اس کا مصداق بننے کے لئے کبیرہ گناہوں سے بچنا تو شرط ہے، لیکن صغائر کا کبھی کبھی صدور اس محبوبیت کے منافی نہیں، البتہ صغیرہ گناہوں میں بھی یہ شرط ہے کہ ان کی عادت نہ ڈال لے اور ان پر اصرار نہ کرے، کبھی اتفاقی طور پر ہوجائے ورنہ اصرار اور عادت سے صغیر گناہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے اور استثناء کا یہ مطلب نہیں کہ صغائر کی اجازت ہے اور کبائر سے اجتناب کی شرط کا یہ مطلب ہے کہ محسنین کو ان کے نیک عمل کی اچھی جزا ملنا کبائر سے اجتناب پر موقوف ہے، کیونکہ مرتکب کبائر بھی جو حسنہ کرے گا اس کی جزا پاوے گا، لقولہ تعالیٰ فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ ، جس پر عنوان احسنوا دلالت کرتا ہے خوب سمجھ لو اور اوپر جو بدکاروں کو سزا دینے کا بیان آیا اس سے گناہ گاروں کو ناامید کرنے کا وہم ہوسکتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا کہ ایمان و توبہ سے ہمت ہار دیں اور محسنین کو جرائے حسنہ دینے کے وعدہ سے ان کے عجب و غرور میں مبتلا ہونے کا ایہام اور خطرہ تھا، آگے ان دونوں ایہاموں کو رد کیا گیا ہے) بلاشبہ آپ کے رب کی مغفرت بڑی وسیع ہے (گناہ گاروں کو تدارک گناہ سے ہمت نہ ہارنی چاہئے، وہ اگر چاہے تو بجز کفر و شرک کے اور سیئات کو محض فضل سے معاف کردیتا ہے تو تدارک سے کیوں معاف نہ کرے گا اور اسی طرح محسنین کو عجب اور فخر نہ کرنا چاہئے، کیونکہ حسنات میں بعض اوقات ایسے مخفی نقائص مل جاتے ہیں، جس کے سبب وہ قابل قبول نہیں رہتے اور عامل کو اس طرف التفات نہ ہونے سے ان کی اطلاع بھی نہیں ہوتی اور حق تعالیٰ کو تو علم ہوتا ہے جب وہ حسنہ مقبول نہیں تو ان کا کرنے والا محسن اور محبوب نہیں، پھر عجب و غرور کیسا، اور یہ بات کہ تمہاری کسی حالت کی خود تم کو اطلاع نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کو اطلاع ہو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے بلکہ ابتداء ہی سے اس کا وقوع ہو رہا ہے، چنانچہ) وہ تم کو (اور تمہارے احوال کو اس وقت سے) خوب جانتا ہے، جب تم کو (یعنی تمہارے جد امجد آدم ؑ کو) زمین (کی خاک) سے پیدا کیا تھا (جن کے ضمن میں بواسطہ تم بھی مٹی سے مخلق ہوئے) اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے (اور ان دونوں حالتوں میں تم کو خود اپنا کوئی علم نہ تھا اور ہم کو علم تھا پس اسی طرح اب بھی تمہارا خود اپنے سے ناواقف ہونا اور ہمارا عالم و واقف ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں، جب یہ بات ہے) تو تم اپنے کو مقدس مت سمجھا کرو (کیونکہ) تقویٰ والوں کو وہی خوب جانتا ہے (کہ فلاں متقی ہے فلاں نہیں، گو صورةً افعال تقویٰ کے دونوں سے صادر ہوتے ہوں)۔
معارف و مسائل
فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى ڏ عَنْ ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ اِلَّا الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا۔ ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ ، یعنی آپ ایسے لوگوں سے اپنا خیال ہٹا لیجئے جو ہماری یاد سے رخ پھیر لیں اور دنیوی زندگی کے سوا ان کا کوئی مقصد نہ ہو، یہی ان کا انتہائی علم و ہنر ہے۔
ضروری تنبیہ
قرآن کریم نے یہ ان کفار کا حال بیان کیا ہے جو آخرت و قیامت کے منکر ہیں، افسوس ہے کہ انگریزوں کی تعلیم اور دنیا کی ہواؤ ہوس نے آج کل ہم مسلمانوں کا یہی حال بنادیا ہے کہ ہمارے سارے علوم و فنون اور علمی ترقی کی ساری کوششیں صرف معاشیات کے گرد گھومنے لگیں، معادیات (معاملات آخرت) کا بھول کر بھی دہیان نہیں آتا۔ ہم رسول اللہ ﷺ کا نام لیتے ہیں، اور آپ کی شفاعت کی امید لگائے ہوئے ہیں، مگر حالت یہ ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو ایسی حالت والوں سے رخ پھیر لینے کی ہدایت کرتا ہے، نعوذ باللہ منہ۔
Ayah 53:32اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰۗىِٕرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَ ، اس آیت میں ہدایت ربانی کی پیروی کرنے والے محسنین (نیک لوگوں) کا ذکر مقام مدح میں فرما کر ان کی پہچان یہ بتلائی گئی ہے کہ وہ کبیرہ گناہوں سے عموماً اور فحش و بےحیائی کے کاموں سے بالخصوص دور رہتے ہیں، اس میں ایک استثناء، بلفظ لمم فرمایا گیا ہے (جس کی تشریح آگے آتی ہے) اور حاصل استثناء کا وہی ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں لکھا گیا کہ ان لوگوں کو جو محسن یعنی نیکوں کار کا خطاب دیا گیا ہے، لمم میں ابتلاء ان کو اس خطاب سے محروم نہیں کرتا۔
لَمَمَ کی تفسیر میں صحابہ وتابعین سے دو قول منقول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد صغیرہ گناہ ہیں جن کو سورة نساء کی آیت میں سیئات سے تعبیر فرمایا ہے، اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ ، یہ قول حضرت ابن عباس و ابوہریرہ سے ابن کثیر نے نقل کیا ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ گناہ ہے جو انسان سے اتفاقی طور پر کبھی سرزد ہوگیا، پھر اس سے توبہ کرلی، اور توبہ کے بعد اس کے پاس نہیں گیا، یہ قول بھی ابن کثیر نے بروایت ابن جریر اول حضرت مجاہد سے نقل کیا ہے اور پھر ابن جریر ہی کی دوسری روایات میں یہ قول بواسطہ عطاء حضرت ابن عباس سے اور بروایت حضرت حسن بصری حضرت ابوہریرہ بھی نقل کیا ہے، اس کا بھی حاصل یہ ہے کہ کسی نیک آدمی سے کبھی اتفاقاً گناہ کبیرہ بھی سر زد ہوگیا اور اس نے توبہ کرلی تو یہ شخص بھی صالحین اور متقین کی فہرست سے خارج نہیں ہوگا، سورة آل عمران کی ایک آیت میں یہی مضمون بالکل واضح اور صریح آیا ہے، وہ یہ ہے کہ متقین کی صفات بیان کرنے کے ذیل میں فرمایا والَّذِيْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْٓا اَنْفُسَھُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ڞ وَلَمْ يُصِرُّوْا عَلٰي مَا فَعَلُوْا وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ (یعنی وہ لوگ بھی متقین ہی میں داخل ہیں جن سے کوئی فحش کبیرہ گناہ سرزد ہوگیا یا وہ گناہ کر کے اپنی جان پر ظلم کر بیٹھے تو فوراً ان کو اللہ کی یاد آئی اور اپنے گناہوں سے مغفرت مانگی اور اللہ کے سوا گناہوں کو معاف بھی کون کرسکتا ہے اور جو کچھ گناہ ہوگیا تھا اس پر جمے نہیں رہے) اور یہ بھی جمہور علماء کے نزدیک متفق علیہ ہے کہ جس صغیرہ گناہ پر اصرار کیا جائے اور اس کی عادت ڈال لی جائے وہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے، اس لئے خلاصہ تفسیر مذکور میں لَمَمَ کی تفسیر ان صغیرہ گناہوں سے کی گئی ہے جس پر اصرار نہ کیا گیا ہو۔
صغیرہ اور کبیرہ گناہ کی تعریف
یہ مضمون پوری تفصیل کے ساتھ سورة نساء کی آیت اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَاۗىِٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ کی تفسیر میں معارف القرآن جلد دوم، ص 381 سے 386 تک لکھ دیا گیا ہے، وہاں ملاحظہ فرما لیا جائے۔
هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّةٌ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ ، اجنہ جنین کی جمع ہے، بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں ہے اس کو جنین کہا جاتا ہے، اس آیت میں حق تعالیٰ نے انسان کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ وہ خود اپنی جان کا بھی اتنا علم نہیں رکھتا، جتنا اس کے خالق سبحانہ کو ہے، کیونکہ ماں کے پیٹ میں جو تخلیق کے مختلف دور اس پر گزرے ہیں اس وقت وہ کوئی علم و شعور ہی نہ رکھتا تھا، مگر اس کا بنانے والا خوب جانتا تھا جس کی حکیمانہ تخلیق اس کو بنا رہی تھی، اس میں انسان کو عجز و کم علمی پر متنبہ کر کے یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جو بھی کوئی اچھا اور نیک کام کرتا ہے وہ اس کا ذاتی کمال نہیں، خدا تعالیٰ کا بخشا ہوا انعام ہی ہے کہ کام کرنے کے لئے اعضاء وجوارح اس نے بنائے، ان میں حرکت کی قوت اس نے بخشی، پھر دل میں نیک کام کرنے کا داعیہ اور پھر اس پر عزم و عمل اسی کی توفیق سے ہوا، تو کسی بڑے سے بڑے نیک، صالح اور متقی و پرہیزگار انسان کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ اپنے عمل پر فخر کرے، اور اس عمل کو اپنا کمال قرار دے کر غرور میں مبتلا ہوجائے، اس کے علاوہ سب چیزوں کا مدار خاتمہ اور انجام پر ہے، ابھی اس کا حال معلوم نہیں کہ خاتمہ کس حال پر ہوتا ہے تو فخر و غرور کرنا کس بات پر، اس ہدایت کو اگلی آیت میں اس طرح بیان فرمایا۔
فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى، یعنی تم اپنے نفس کی پاکی کا دعویٰ نہ کرو، کیونکہ اس کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ کون کیسا ہے اور کس درجہ کا ہے، کیونکہ مدار فضیلت تقویٰ پر ہے، ظاہری اعمال پر نہیں اور تقویٰ بھی وہ معتبر ہے جو موت تک قائم رہے۔
حضرت زینب بنت ابی سلمہ کا نام ان کے والدین نے برہ رکھا تھا جس کے معنی ہیں نیکو کار، آنحضرت ﷺ نے آیت مذکورہ فَلَا تُزَكُّوْٓا اَنْفُسَكُمْ تلاوت فرما کر اس نام سے منع کیا، کیونکہ اس میں اپنے نیک ہونے کا دعویٰ ہے اور نام بدل کر زینب رکھ دیا (رواہ مسلم فی صحیحہ، ابن کثیر)
امام احمد نے عبدالرحمن بن بکرہ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک دوسرے آدمی کی مدح و تعریف کی، آپ نے منع فرمایا اور فرمایا کہ تمہیں کسی کی مدح وثناء کرنا ہی ہو تو ان الفاظ سے کرو کہ میرے علم میں یہ شخص نیک متقی ہے، ولا ازکی علی اللہ احداً یعنی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ کے نزدیک بھی وہ ایسا ہی پاک صاف ہے جیسا میں سمجھ رہا ہوں۔
Ayah 53:33شان نزول
در منثور میں بروایت ابن جریر یہ نقل کیا ہے کہ کوئی شخص اسلام لے آیا تھا، اس کے کسی ساتھی نے اس کو ملامت کی کہ تو نے اپنے باپ دادا کے دین کو کیوں چھوڑ دیا ؟ اس نے کہا کہ میں اللہ کے عذاب سے ڈرتا ہوں وہ بولا کہ تو مجھے کچھ دیدے تو میں آخرت کا تیرا عذاب اپنے سر پر رکھ لوں گا، تو عذاب سے بچ جائے گا، چناچہ اس نے کچھ دیدیا، اس نے اور مانگا تو کچھ کشا کشی کے بعد کچھ اور بھی دے دیا اور بقیہ کی دستاویز مع گواہوں کے لکھ دی، روح المعانی میں اس شخص کا نام ولید بن مغیرہ لکھا ہے، جس کا اسلام کی طرف میلان ہوگیا تھا، اس کے دوست نے ملامت کی اور عذاب کی ذمہ داری اپنے سر لے لی۔
خلاصہ تفسیر
(آپ نے نیکوں کی صفات تو سن لیں) تو بھلا آپ نے ایسے شخص کو بھی دیکھا جس نے (دین حق سے) روگردانی کی (یعنی اسلام سے ہٹ گیا) اور تھوڑا مال دیا اور (پھر) بند کردیا (یعنی جس شخص سے مال دینے کا وعدہ اپنے مطلب کے واسطے کیا تھا، وہ بھی پورا نہ دیا اور اسی سے مفہوم ہوا کہ ایسا شخص دوسروں کی نفع رسانی کے لئے کیا خرچ کرے گا جب اپنے ہی مطلب کے لئے پورا خرچ نہ کرسکا جس کا حاصل اس کا بخیل ہونا ہے) کیا اس شخص کے پاس (کسی صحیح ذریعہ سے) علم غیب ہے کہ اس کو دیکھ رہا ہے (جس کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا کہ فلاں شخص میری طرف سے میرے گناہوں کا عذاب اپنے سر لے کر مجھے عذاب سے بچا دے گا) کیا اس کو اس مضمون کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ ؑ کے صحیفوں میں ہے (اور حسب روایت در منثور در تفسیر سورة اعلیٰ موسیٰ ؑ کے یہ دس صحیفے علاوہ توریت کے ہیں) اور نیز ابراہیم ؑ کے (صحیفوں میں ہے وسیاتی فی سورة الاعلیٰ) جنہوں نے احکام کی پوری بجا آوری کی (اور وہ مضمون) یہ (ہے) کہ کوئی شخص کسی کا گناہ اپنے اوپر (ایسے طور سے) نہیں لے سکتا (کہ گناہ کرنے والا بری ہوجاوے، پھر یہ شخص کیسے سمجھ گیا کہ میرا سارا گناہ یہ شخص اپنے سر رکھ لے گا) اور یہ (مضمون ہے) کہ انسان کو (ایمان کے بارے میں) صرف اپنی ہی کمائی ملے گی (یعنی کسی دوسرے کا ایمان اس کے کام نہ آوے گا، پس اگر اس ملامت کرنے والے شخص کے پاس ایمان ہوتا تب بھی اس شخص کے کام نہ آتا، چہ جائے کہ وہاں بھی ایمان ندارد ہے) اور یہ (مضمون ہے) کہ انسان کی سعی بہت جلد دیکھی جائے گی پھر اس کو پورا بدلہ دیا جاوے گا (باوجود اس کے یہ شخص اپنی فلاح کی سعی سے کیسے غافل ہوگیا) اور یہ (مضمون ہے) کہ (سب کو) آپ کے پروردگار ہی کے پاس پہنچنا ہے (پھر وہ شخص کیسے نڈر ہوگیا) اور یہ (مضمون ہے) کہ وہی ہنساتا اور رلاتا ہے اور یہ کہ وہی مارتا ہے اور جلاتا ہے اور یہ کہ وہی دونوں قسم یعنی نر اور مادہ کو نطفہ سے بناتا ہے جب (وہ رحم میں) ڈالا جاتا ہے (یعنی مالک تمام تصرفات کا خدا ہی ہے، دوسرا نہیں، پھر وہ شخص کیسے سمجھ گیا کہ قیامت کے روز یہ تصرف کہ مجھ کو عذاب سے بچا لے کسی دوسرے کے قبضہ میں ہوجاوے گا) اور یہ (مضمون ہے) کہ دوبارہ پیدا کرنا (حسب وعدہ) اس کے ذمہ ہے (یعنی ایسا ضروری ہونے والا ہے جیسے کسی کے ذمہ ہو تو اس شخص کے نڈر ہونے کی وجہ یہ بھی نہ ہونا چاہئے کہ قیامت نہ آوے گی) اور یہ (مضمون ہے) کہ وہی غنی کرتا ہے (یعنی سرمایہ دیتا ہے) اور سرمایہ (دے کر محفوظ اور) باقی رکھتا ہے اور یہ کہ وہی مالک ہے ستارہ شعریٰ کا بھی (جس کی عبادت جاہلیت میں بعض لوگ کرتے تھے، یعنی ان تصرفات و اشیاء کا مالک بھی وہی ہے جیسے پہلے تصرفات کا مالک وہی ہے اور اوپر کے تصرفات خود انسان کے وجود میں ہیں اور بعد کے تصرفات متعلقات انسان میں ہیں، چناچہ مال اور ستارہ دونوں خارج ہیں اور شاید ان دو کے ذکر میں اشارہ ہو کہ جس کو تم اپنا مددگار سمجھتے ہو اس کے رب بھی ہم ہی ہیں، پھر دوسرے کو قیامت میں اس شخص کے گمان کے موافق کیا تصرف پہنچ سکتا ہے) اور یہ (مضمون ہے) کہ اس نے قدیم قوم عاد کو (اس کے کفر کی وجہ سے) ہلاک کیا اور ثمود کو بھی کہ (ان میں سے) کسی کو باقی نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح ؑ کو (ہلاک کیا) بیشک وہ سب سے بڑھ کر ظالم اور شریر تھے (کہ ساڑھے نو سو برس کی دعوت میں بھی راہ پر نہ آئے) اور (قوم لوط ؑ کی) الٹی ہوئی بستیوں کو بھی پھینک مارا تھا، پھر ان بستیوں کو گھیر لیا جس چیز نے کہ گھیر لیا (یعنی اوپر سے پتھر برسنا شروع ہوئے، پس یہ شخص اگر ان قصوں میں غور کرتا تو عذاب کفر سے ڈرتا اور بےفکر نہ ہوتا، آگے ان سب مضامین پر تفریع فرماتے ہیں کہ اے انسان جب ایسے ایسے مضامین سے تجھ کو آگاہ کیا جاتا ہے جو بوجہ ہدایت ہونے کے ہر مضمون بجائے خود ایک نعمت ربانی ہے) تو تو اپنے رب کی کون کونسی نعمت میں شک (و انکار) کرتا رہے گا (اور ان مضامین کی تصدیق کر کے منتفع نہ ہوگا) یہ (پیغمبر) بھی پہلے پیغمبروں کی طرح ایک پیغمبر ہیں (ان کو مان لو کیونکہ) وہ جلدی آنے والی چیز قریب آپہنچی ہے (مراد قیامت ہے اور جب وہ آوے گی تو) کوئی غیر اللہ اس کا ہٹانے والا نہیں (پس کسی کے بھروسہ بےفکری کی گنجائش ہی نہیں) سو کیا (ایسی خوف کی باتیں سن کر بھی) تم لوگ اس کلام (الٰہی) سے تعجب کرتے اور (استہزاءً) ہنستے ہو اور (خوف عذاب سے) روتے نہیں ہو اور تم (اطاعت سے) تکبر کرتے ہو سو (اس کبر و غفلت سے باز آؤ اور حسب تعلیم ان پیغمبر کے) اللہ کی اطاعت کرو اور (اس کی بلا شرکت) عبادت کرو (تاکہ تم کو نجات ہو)
معارف و مسائل
اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى، تولی کے لفظی معنی منہ پھیر لینے کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منہ پھیرے۔
Ayah 53:34وَاَعْطٰى قَلِيْلًا وَّاَكْدٰى، اکدی، کُدیَہ سے مشتق ہے، کدیہ اس سخت پتھر کو کہا جاتا ہے جو کوئی کنواں یا بنیاد کھودتے ہوئے زمین میں نکل آوے اور کھدائی کے لئے رکاوٹ بن جاوے، اس لئے اکدی کے معنی یہ ہوئے کہ پہلے کچھ دیا پھر دینے سے رک گیا، آیت کے شان نزول میں جو ایک واقعہ اوپر بیان ہوچکا ہے اس کے مطابق تو معنی ظاہر ہیں اور اس سے قطع نظر کی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ وہ شخص جس نے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کیا پھر چھوڑ دیا، یا شروع میں کچھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی طرف مائل ہوا، کچھ کرنے لگا پھر چھوڑ بیٹھا، اس لفظ کی یہ تفسیر حضرت مجاہد، سعید بن جبیر، قتادہ وغیرہ سے منقول ہے (ابن کثیر)
Ayah 53:35اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى، شان نزول میں جو قصہ بیان ہوا ہے اس کے مطابق تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے اسلام کو اس لئے چھوڑ دیا کہ اس کے کسی ساتھی نے اس سے کہہ دیا تھا کہ آخرت کا تیرا عذاب میں اپنے سر لے کر تجھ کو بچا دوں گا، اس احمق نے اس کا یقین کیسے کرلیا، کیا اس کو علم غیب حاصل ہے ؟ جس سے وہ دیکھ رہا ہے کہ بیشک کفر کی صورت میں وہ جس عذاب کا مستحق ہوگا وہ عذاب یہ ساتھی اپنے سر لے لے گا اور مجھے بچا دے گا، جو ظاہر ہے کہ سراسر دھوکہ ہے نہ اس کو علم غیب ہے نہ کوئی دوسرا آدمی کسی کا عذاب آخرت اپنے سر لے کر اس کو بچا سکتا ہے، اور اگر اس قصہ سے قطع نظر کی جائے تو معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ وہ شخص جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا کرتا رک گیا ہے اور خرچ کرنا چھوڑ دیا ہے تو اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ اس کو یہ خیال ہوا ہوگا کہ موجودہ مال خرچ کر دوں گا تو پھر کہاں سے آئے گا، اس خیال کی تردید میں فرمایا کہ کیا اس کو غیب کا علم ہے جس کے ذریعہ گویا وہ یہ دیکھ رہا ہے کہ یہ مال ختم ہوجائے گا اور اس کے بجائے اور مال اس کو نہ مل سکے گا، یہ غلط ہے، کیونکہ نہ اس کو غیب کا علم ہے اور نہ یہ بات صحیح ہے، کیونکہ قرآن کریم میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے (ۭ وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ) یعنی تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کا بدل تمہیں دیدیتے ہیں اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والے ہیں۔ انسان غور کرے تو قرآن کا یہ ارشاد صرف مال اور پیسہ کے معاملہ میں نہیں، بلکہ ہر قوت و توانائی جو وہ دنیا میں خرچ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدن میں اس کا بدل ما یتحلل پیدا کرتے رہتے ہیں، ورنہ انسان کے بدن کا ایک ایک عضو اگر فولاد کا بھی بنا ہوتا تو ساٹھ ستر سال کام لینے سے کبھی کا گھس گھسا کر برابر ہوجاتا، جس طرح اللہ تعالیٰ انسان کے تمام اعضاء میں جو کچھ محنت سے تحلیل ہوجاتا ہے خود کار مشین کی طرح اس کا بدل اندر سے پیدا کردیتے ہیں، اسی طرح مال کا بھی معاملہ یہی ہے کہ انسان خرچ کرتا رہتا ہے اس کا بدل آتا رہتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال کو فرمایاانفق یا بلالو لا تخش من ذی العرش اقلالا، " یعنی بلال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور عرش والے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا خطرہ نہ رکھو کہ وہ تمہیں مفلس کر دے گا "۔ (ابن کثیر)
Ayahs 53:36–37اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ ، اس آیت میں حضرت ابراہیم ؑ کی ایک خاص صفت وَفّٰی بیان فرمائی گئی، وفا کے معنی کسی وعدہ یا معاہدے کو پورا کردینے کے آتے ہیں۔
حضرت ابراہیم ؑ کی خاص صفت ایفائے عہد کی کچھ تفصیل
مراد یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے جو اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے اور اس کا پیغام مخلوق کو پہنچا دیں گے، انہوں نے اس معاہدہ کو ہر حیثیت سے پورا کر دکھایا، جس میں ان کو بہت سخت آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑا، وفی کی یہی تفسیر ابن جریر، ابن کثیر وغیرہ نے اختیار کی ہے۔
بعض روایات حدیث میں حضرت ابراہیم ؑ کے خاص خاص اعمال کو لفظ وفی کا سبب بنایا گیا ہے وہ اس کے منافی نہیں، کیونکہ اصل وفاء عہد عام ہے، تمام احکام الٰہیہ کی تعمیل و اطاعت جس میں اپنے اعمال بھی داخل ہیں، اور فرائض رسالت و نبوت کے ذریعہ عام خلق اللہ کی اصلاح بھی، انہیں اعمال میں یہ عمل بھی ہیں جن کا ذکر ان روایات حدیث میں ہے۔
مثلاً ابن ابی حاتم نے حضرت ابو امامہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَاِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّيٰٓ) اور پھر ان سے فرمایا کہ تم جانتے ہو کہ و فی کا مطلب کیا ہے ؟ ابوامامہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ مراد یہ ہے کہ۔
وفی عمل یومہ باربع رکعات فی اول النھار (ابن کثیر)
" یعنی انہوں نے اپنے دن کے اعمال کی تکمیل اس طرح کردی کہ شروع دن میں چار رکعت (نماز اشراق کی) پڑھ لیں "۔
اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو ترمذی نے حضرت ابوذر سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔
ابن ادم ارکع لی اربع رکعات من اول النھار اکفک اخرہ (ابن کیثر)
" یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے آدم کے بیٹے ! تو شروع دن میں میرے لئے چار رکعتیں پڑھ لیا کر تو میں آخر دن تک تیرے سب کاموں کی کفالت کروں گا "۔
اور ابن ابی حاتم ہی نے ایک روایت حضرت معاذ بن انس سے یہ نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہیں بتلاؤں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ کو الذی و فی کا خطاب کیوں دیا، پھر فرمایا کہ وجہ یہ ہے کہ وہ روزانہ صبح شام ہونے کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے (فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ ، وَلَهُ الْحَمْــدُ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِـيًّا وَّحِيْنَ تُظْهِرُوْنَ) ابن کثیر
Ayah 53:38صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کی خاص ہدایات وتعلیمات
انبیائے سابقین میں سے جب کسی کا قول یا کوئی تعلیم قرآن میں ذکر کی جاتی ہے تو اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ اس امت کے لئے بھی وہ واجب العمل ہے، جب تک اس کے خلاف کوئی نص شرعی نہ ہو، آگے اٹھارہ آیتوں میں ان خاص تعلیمات کا ذکر ہے جو حضرت موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کے صحیفوں میں تھیں، ان میں عملی احکام جن کا تعلق سابقہ آیات کے ساتھ ہے وہ صرف دو ہیں، باقی تعلیمات عبرت و نصیحت اور حق تعالیٰ کی آیات قدرت سے متعلق ہیں، وہ دو یہ ہیں۔
اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى اور وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى، وزر کے معنی دراصل بوجھ کے ہیں اور پہلی آیت کے معنی یہ ہیں کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا اپنے سوا کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا بوجھ سے مراد گناہ کا بوجھ اور اس کا عذاب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز ایک شخص کا عذاب دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا، نہ کسی کو اس کا اختیار ہوگا کہ وہ دوسرے کا عذاب اپنے سر لے لے، قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں اس کا بیان اس طرح آیا ہے (وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ) یعنی اگر کوئی گناہوں کے بوجھ سے لدا ہوا شخص لوگوں سے درخواست کرے گا کہ میرا کچھ بوجھ تم اٹھا لو تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ اس کے بوجھ کا کوئی حصہ اٹھا سکے۔
ایک کے گناہ میں دوسرا نہیں پکڑا جائے گا
اس آیت میں اس شخص کے خیال کی بھی تردید ہوگئی جس کا ذکر شان نزول میں آیا ہے کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا یا ہونے والا تھا، اس کے ساتھی نے ملامت کی اور اس کی ضمانت لی کہ قیامت میں تجھ پر کوئی عذاب ہوا تو وہ میں اپنے سر پر لے کر تجھے بچا دوں گا، اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایسے معاملہ کا اللہ کے یہاں کوئی امکان نہیں کہ کسی کے گناہ میں کسی دوسرے کو پکڑ لیا جائے۔
اور ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ جس میت پر اس کے گھر والے ناجائز نوحہ و بکا کرتے ہیں تو ان کے اس فعل سے میت کو عذاب ہوتا ہے (کما ورد فی الصحیحین عن ابن عمر) تو یہ اس شخص کے بارے میں جو خود بھی میت پر نوحہ خوانی، گریہ زاری کا عادی ہو، یا جس نے اپنے وارثوں کو اس کی وصیت کی ہو کہ میرے بعد نوحہ و بکا کا انتظام کیا جائے (مظہری) اس صورت میں اس پر عذاب خود اس کے اپنے عمل کا ہوا، دوسروں کے عمل کا نہیں۔
Ayah 53:39دوسرا حکم ہے (وَاَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى) اس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح کوئی دوسرے کا عذاب اپنے سر نہیں لے سکتا، اسی طرح کسی کو یہ بھی حق نہیں کہ کسی دوسرے کے عمل کے بدلے خود عمل کرے لے اور وہ اس عمل سے سبکدوش ہوجائے، مثلاً ایک شخص دوسرے کی طرف سے نماز فرض ادا کر دے یا دوسرے کی طرف سے فرض روزہ رکھ لے اور وہ دوسرا اپنے فرض نماز و روزے سے سبکدوش ہوجائے، یا یہ کہ ایک شخص دوسرے کی طرف سے ایمان قبول کرلے اور اس سے اس کو مومن قرار دیا جائے۔
آیت مذکورہ کی اس تفسیر پر کوئی فقہی اشکال اور شبہ عائد نہیں ہوتا، کیونکہ زیادہ سے زیادہ شبہ حج اور زکوٰة کے مسئلہ میں یہ ہوسکتا ہے کہ ضرورت کے وقت شرعاً ایک شخص دوسرے کی طرف سے حج بدل کرسکتا ہے یا دوسرے کی زکوٰة اس کی اجازت سے ادا کرسکتا ہے، مگر غور کیا جائے تو یہ اشکال اس لئے صحیح نہیں کہ کسی کو اپنی جگہ حج بدل کے لئے بھیج دینا اور اس کے مصارف خود ادا کرنا، یا کسی شخص کو اپنی طرف سے زکوٰة ادا کردینے کے لئے مامور کردینا بھی در حقیقت اس شخص کے اپنے عمل اور سعی کا جز ہے، اس لئے لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى کے منافی نہیں۔
ایصال ثواب کا مسئلہ
جبکہ اوپر یہ معلوم ہوچکا کہ آیت مذکورہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے فرائض ایمان و نماز و روزہ کو ادا کر کے دوسرے کو سبکدوش نہیں کرسکتا، تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ایک شخص کے نفلی عمل کا کوئی فائدہ اور ثواب دوسرے شخص کو نہ پہنچ سکے، ایک شخص کی دعا اور صدقہ کا ثواب دوسرے شخص کو پہنچنا نصوص شرعیہ سے ثابت اور تمام امت کے نزدیک اجماعی مسئلہ ہے (ابن کثیر)
صرف اس مسئلہ میں امام شافعی کا اختلاف ہے کہ تلاوت قرآن کا ثواب کسی دوسرے کو بخشا اور پہنچایا جاسکتا ہے یا نہیں، امام شافعی اس کا انکار کرتے ہیں اور آیت مذکورہ کا مفہوم عام لے کر اس سے استدلال فرماتے ہیں، جمہور ائمہ اور امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک جس طرح دعا اور صدقہ کا ثواب دوسرے کو پہنچایا جاسکتا ہے اسی طرح تلاوت قرآن اور ہر نفلی عبادت کا ثواب دوسرے شخص کو بخشا جاسکتا ہے اور وہ اس کو ملے گا، قرطبی نے اپنی تفسیر میں فرمایا کہ احادیث کثیرہ اس پر شاہد ہیں کہ مومن کو دوسرے شخص کی طرف سے عمل صالح کا ثواب پہنچتا ہے، تفسیر مظہری میں اس جگہ ان احادیث کو جمع کردیا ہے جن سے ایصال ثواب کا فائدہ دوسرے کو پہنچنا ثابت ہوتا ہے۔
اوپر صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کے حوالے سے جو دو مسئلے بیان کئے گئے ہیں، ایک یہ کہ ایک شخص کے گناہ کا عذاب کسی دوسرے کو نہیں پہنچے گا اور ایک کے گناہ میں دوسرا کوئی نہ پکڑا جائے گا، دوسرا یہ کہ ہر شخص پر جن اعمال کی شرعی ذمہ داری ہے اس سے سبکدوشی خود اسی کے اپنے عمل سے ہوگی، دوسرے کا عمل اس کو سبکدوش نہ کرے گا۔
یہ دونوں حکم اگرچہ دوسرے انبیاء کی شریعتوں میں بھی تھے مگر حضرت موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کی خصوصیات شاید اس بناء پر کی گئی کہ ان کے زمانہ میں یہ جاہلانہ رسم جاری ہوگئی تھی کہ باپ کے بدلے میں بیٹے کو اور بیٹے کے بدلے میں باپ کو یا بھائی بہن وغیرہ کو قتل کردیا جاتا تھا، ان دونوں بزرگوں کی شریعتوں نے اس رسم جاہلیت کو مٹایا تھا۔
Ayahs 53:40–41وَاَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى، یعنی صرف ہر شخص کی ظاہری سعی کافی نہیں، اللہ تعالیٰ کے دربار میں سعی کی اصل حقیقت بھی دیکھی جائے گی کہ وہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے لئے کی ہے یا دوسری اغراض دنیویہ اس میں شامل ہیں، جیسا کہ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے انما الاعمال بالنیات، یعنی صرف صورت عمل کافی نہیں، عمل میں نیت خالص اللہ تعالیٰ کی رضا اور تعمیل حکم کی ہونا ضروری ہے۔
Ayah 53:42وَاَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى، مراد یہ ہے کہ آخر کار سب کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے اور اعمال کا حساب دینا ہے۔
بعض حضرات مفسرین نے اس جملہ کا یہ مطلب قرار دیا ہے کہ انسانی غور و فکر کا سلسلہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر پہنچ کر ختم ہوجاتا ہے، اس کی ذات وصفات کی حقیقت کسی غور و فکر سے نہ حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ اس میں غور و فکر کی اجازت، جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں غور و فکر کرو اس کی ذات میں غور و فکر نہ کرو بلکہ اس کو علم الٰہی کے سپرد کرو وہ تمہارے بس کا نہیں۔
Ayahs 53:43–47وَاَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَاَبْكٰى، یعنی نوع انسان میں خوشی اور غم اور اس کے نتیجہ میں ہنسنے اور رونے کا سلسلہ ہر شخص دیکھتا ہے اور ان دونوں چیزوں کو ان کے ظاہری طور پر پیش آنے والے اسباب کی طرف منسوب کر کے معاملہ ختم کردیتا ہے، یہاں غور و فکر کی جگہ ہے، گہری نظر سے جو دیکھے گا کہ کسی کی خوشی یا غم اور ہنسنا یا رونا خود اس کے یا کسی دوسرے کے قبضہ میں نہیں، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، وہ اسباب کو پیدا کرتا ہے وہی اسباب میں تاثیر دیتا ہے وہ جب چاہتا ہے تو رونے والوں کو ایک لمحہ میں ہنسا دیتا ہے، اور ہنسنے والوں کو ایک منٹ میں رلا دیتا ہے، ولنعم ما قیل
بگوش گل چہ سخن گفتہ کہ خندان ست بعندلیب چہ فرمودہ کہ نالان ست
Ayah 53:48وَاَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَاَقْنٰى، غنا کے معنی مالداری کے معروف ہیں، اغناء کے معنی دوسرے کو مالدار بنادینا، اور اقنیٰ ، قنیہ سے مشتق ہے، جس کے معنی محفوظ اور ریزرو سرمایہ کے ہیں، مراد آیت کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کو مالدار اور غنی بناتا ہے وہی جس کو چاہے اتنا سرمایہ دیتا ہے کہ اس کو محفوظ رکھ سکے۔
Ayah 53:49وَاَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى، شعریٰ بکسر شین، ایک ستارے کا نام ہے جو جوزا کے پیچھے ہے، عرب کی بعض اقوام اس ستارے کی پرستش کرتی تھیں، اس لئے خصوصیت سے اس کا نام لے کر بتلایا کہ اس ستارے کا مالک اور پروردگار بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے، اگرچہ وہ سارے ہی ستاروں، آسمانوں، زمینوں کا خالق ومالک اور پروردگار ہے۔
Ayahs 53:50–52وَاَنَّهٗٓ اَهْلَكَ عَادَۨا الْاُوْلٰى، وَثَمُوْدَا۟ فَمَآ اَبْقٰى، قوم عاد دنیا کی قوی اور سخت ترین قوم ہے، ان کے دو طبقے یکے بعد دیگرے اولیٰ اور اخریٰ کے نام سے موسوم ہیں، ان کی طرف حضرت ہود ؑ کو رسول بنا کر بھیجا گیا، نافرمانی پر ہوا کے طوفان کا عذاب آیا، پوری قوم ہلاک ہوئی، قوم نوح ؑ کے بعد عذاب سے ہلاک ہونے والی یہ پہلی قوم ہے (مظہری) اور ثمود بھی انہی کی نظیر دوسری شاخ ہے، جن کی طرف حضرت صالح ؑ کو بھیجا گیا، ان کی نافرمانی کرنے والوں پر سخت آواز کا عذاب آیا، جس سے ان کے کلیجے پھٹ کر ہلاک ہوگئے۔
Ayah 53:53وَالْمُؤْتَفِكَةَ اَهْوٰى، موتفکہ کے لفظی معنے موتلفہ کے ہیں، یہ چند بستیاں اور شہر متصل تھے حضرت لوط ؑ ان کی طرف مبعوث ہوئے، نافرمانی اور بےحیائی کے اعمال کی سزا میں ان کی بستیاں جبرئیل امین نے الٹ دیں۔
Ayah 53:54فَغَشّٰـىهَا مَا غَشّٰى، یعنی ڈھانپ لیا ان بستیوں کو جس چیز نے ڈھانپ لیا، مراد وہ پتھراؤ ہے جو بستیاں الٹنے کے بعد ان پر کیا گیا، یہاں تک صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) کے حوالہ سے جو تعلیمات بیان کرنی تھیں وہ ختم ہوگئیں۔
Ayah 53:55فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكَ تَتَـمَارٰى، تماری کے معنی جھگڑا اور مخالفت کرنا ہے، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ خطاب ہر انسان کو ہے، کہ سابقہ آیات اور صحف موسیٰ و ابراہیم (علیہما السلام) میں آئی ہوئی آیات ربانی میں کوئی ذرا بھی غور و فکر کرے تو اس کو رسول اللہ ﷺ اور آپ کی وحی اور تعلیمات کے حق ہونے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہتی اور اقوام سابقہ کی ہلاکت و عذاب کے واقعات سن کر مخالفت سے باز آجانے کا اچھا موقع ملتا ہے جو حق تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، اس کے باوجود تم اللہ تعالیٰ کی کس کس نعمت میں جھگڑا اور خلاف کرتے رہو گے۔
Ayah 53:56ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى، ہذا کا اشارہ رسول اللہ ﷺ یا قرآن کی طرف ہے کہ یہ بھی پچھلے رسولوں اور پچھلی کتابوں کی طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نذیر بنا کر بھیجے گئے ہیں جو صراط مستقیم اور دین و دنیا کی فلاح پر مشتمل ہدایات لے کر آئے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراتے ہیں۔
Ayahs 53:57–58اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ ، لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ، ازف بمعنے قرب آتا ہے، معنی یہ ہیں کہ قریب آنے والی چیز قریب آپہنچی، جس کو خدا تعالیٰ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں، مراد اس سے قیامت ہے اس کا قریب آ پہنچنا پوری دنیا کی عمر کے اعتبار سے ہے کہ امت محمدیہ اس کے بالکل آخر میں قیامت کے قریب ہے۔