Ayahs 54:18–42خلاصہ تفسیر
عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے، ثمود نے (بھی) پیغمبروں کی تکذیب کی (کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب مستلزم ہے سب پیغمبروں کی تکذیب کو) اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کا اتباع کریں گے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور (چشم و خدم سے) اکیلا ہے (یعنی یا تو فرشتہ ہوتا تو ہم دین میں اتباع کرتے یا صاحب خدم و حشم ہوتا تو دنیوی امور میں اتباع کرتے جبکہ بشر ہے اور وہ بھی اکیلا، نہ تو اتباع فی الدنیا کو کوئی امر مقتضی ہے نہ اتباع فی الدین کو اور اگر ہم اس حالت میں اتباع کریں) تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور (بلکہ) جنون میں پڑجاویں کیا ہم سب میں سے (منتخب ہو کر) اسی (شخص) پر وحی نازل ہوئی ہے (ہرگز ایسا نہیں) بلکہ یہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے (شیخی یعنی تکبر کے مارے ایسی باتیں بڑائی کی کرتا ہے، کہ لوگ مجھ کو سردار قرار دے لیں، حق تعالیٰ نے صالح ؑ سے فرمایا کہ تم ان کے بکنے پر رنج مت کرو) ان کو عنقریب (مرتے ہی) معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا شیخی باز کون تھا (یعنی یہی لوگ تھے کہ انکار نبوت میں کاذب تھے اور اتباع نبی سے بوجہ شیخی کے عار کرتے تھے، اور یہ لوگ جو اونٹنی کا معجزہ طلب کرتے تھے تو) ہم (ان کی درخواست کے موافق پتھر میں سے) اونٹنی کو نکالنے والے ہیں، ان کی آزمائش (ایمان) کے لئے سو ان (کی حرکتوں) کو دیکھتے بھالتے رہنا اور صبر سے بیٹھے رہنا اور ان لوگوں کو (جب اونٹنی پیدا ہو تو) یہ بتلا دینا کہ پانی (کنویں کا) بانٹ دیا گیا ہے، (یعنی تمہارے مویشی اور اونٹنی کی باری مقرر ہوگئی ہے) ہر ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے (یعنی اونٹنی اپنی باری میں پانی پیوے اور مویشی اپنی باری میں، چناچہ اونٹنی پیدا ہوئی اور صالح ؑ نے اسی طرح فرما دیا) سو (اس باری سے وہ لوگ تنگ آگئے اور) انہوں نے (اس کے قتل کرنے کی غرض سے) اپنے رفیق (قدار) کو بلایا سو اس نے (اونٹنی پر) وار کیا اور (اس کو) مار ڈالا سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا (جس کا بیان آگے آتا ہے وہ یہ کہ) ہم نے ان پر ایک ہی نعرہ (فرشتہ کا) مسلط کیا سو وہ (اس سے) ایسے ہوگئے جیسے کانٹوں کی باڑ لگانے والے (کی باڑ) کا چورا (یعنی کھیت یا مویشی وغیرہ کی حفاظت کے لئے جیسے کانٹوں وغیرہ کی باڑ لگا دیتے ہیں اور چند روز بعد سب چورا چورا ہوجاتا ہے اسی طرح وہ ہلاک و تباہ ہوگئے، عرب کے لوگ اس مشبہ بہ کو یعنی کھیت کے گرد کی باڑ کو شب و روز دیکھتے تھے تو وہ اس تشبیہ کو خوب سمجھتے تھے) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے قوم لوط نے (بھی پیغمبروں کی تکذیب کی (کیونکہ ایک نبی کی تکذیب مستلزم ہے سب کی تکذیب کو) ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا بجز متعلقین لوط ؑ کے (یعنی بجز مومنین کے) کہ ان کو اخیر شب میں (بستی سے باہر کر کے عذاب سے) بچا لیا اپنی جانب سے فضل کر کے جو شکر کرتا ہے (یعنی ایمان لاتا ہے) ہم اس کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (کہ قہر سے بچا لیتے ہیں) اور (قبل عذاب آنے کے) لوط ؑ نے ان کو ہماری دارو گیر سے ڈرایا تھا، سو انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے (یعنی یقین نہ لائے) اور (جب لوط ؑ کے پاس ہمارے فرشتے بشکل مہمان آئے اور ان لوگوں کو حسین لڑکوں کا آنا معلوم ہوا تو یہاں آ کر) ان لوگوں نے لوط ؑ سے ان کے مہمانوں کو بری نیت سے لینا چاہا (جس سے لوط ؑ اول گھبرائے مگر وہ فرشتے تھے) سو ہم نے (ان فرشتوں کو حکم دے کر) ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں (یعنی جبرائیل ؑ نے اپنے پر ان کی آنکھوں پر پھیر دیئے جس سے اندھے بھٹ ہوگئے، کذا فی الدر عن قتادة اور بزبان قال یا حال ان سے کہا گیا کہ) لو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو (پہلے تو یہ واقعہ طمس یعنی اندھے کرنے کا پیش آیا) اور (پھر) صبح سویرے ہی ان پر دائمی عذاب آپہنچا (اور ارشاد ہوا) کہ لو میرے ڈرانے اور عذاب کا مزہ چکھو (یہی جملہ پہلے اندھے ہونے کے عذاب پر کہا گیا تھا یہاں ہلاکت کے عذاب پر ہے، اس لئے کوئی تکرار نہیں) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے اور (فرعون اور) فرعون والوں کے پاس بھی ڈرانے کی بہت سی چیزیں پہنچیں (مراد موسیٰ ؑ کے ارشادات اور معجزات ہیں کہ ارشادات سے تشریعی طور پر اور معجزات سے تکوینی طور پر ان کو ڈرایا گیا مگر) ان لوگوں نے ہماری تمام (ان) نشانیوں (کو جو ان کے پاس آئی تھیں وہ آیات تسعہ (نو آیتیں) مشہور ہیں) جھٹلایا (یعنی ان کے مدلول و مقتضا توحید الٰہی اور نبوت موسیٰ ؑ کو جھٹلایا، ورنہ واقعات کے وقوع کی تکذیب تو ہو نہیں سکتی) سو ہم نے ان کو زبردست صاحب قدرت کا پکڑنا پکڑا (یعنی جب ہم نے ان کو قہر اور غلبہ سے پکڑا تو اس پکڑ کو کوئی دفع نہیں کرسکا، پس عزیز مقتدر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے)
معارف و مسائل
بعض لغات کی تشریح
سُعُر، یہ لفظ آیات مذکورہ میں دو جگہ آیا ہے، اول قوم ثمود کے ذکر میں ان کا اپنا قول ہے، اس میں سعر کا لفظ جنون کے معنی میں آیا ہے، دوسری جگہ یہی لفظ آگے آنے والی آیات میں حق تعالیٰ کی طرف سے عذاب مجرمین کے ذکر میں آیا ہے، فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ، یہاں سعر کے معنی جہنم کی آگ کے ہیں، حسب تصریح اہل لغت لفظ سعر ان دونوں معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔
رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ ، مراودت کے معنی کسی کو اپنی نفسانی شہوت پورا کرنے کے لئے بہلانا پھسلانا ہے، مراد یہ ہے کہ قوم لوط ؑ چونکہ اپنی خباثت سے لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کے خوگر تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے امتحان ہی کے لئے فرشتوں کو حسین امرد لڑکوں کی صورت میں بھیجا تھا، یہ شیاطین ان کو اپنی خواہش کا نشانہ بنانے کے لئے لوط ؑ کے مکان پر چڑھ آئے، لوط ؑ نے دروازہ بند کرلیا تو یہ دروازہ توڑ کر یا اوپر سے چھلانگ کر اندار آنے لگے، حضرت لوط ؑ پریشان ہوئے تو اس وقت فرشتوں نے اپنا راز ظاہر کیا کہ آپ کچھ فکر نہ کریں، یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ہم اللہ کے فرشتے ان کو عذاب دینے ہی کے لئے آئے ہیں۔
سورة قمر کو قرب قیامت کے ذکر سے شروع کیا گیا، تاکہ کفار و مشرکین جو دنیا کی ہوا وہوس میں مبتلا اور آخرت سے غافل ہیں وہ ہوش میں آئیں، پہلے قیامت کے عذاب کا بیان کیا گیا، اس کے بعد دنیا میں بھی ان کے انجام بد کو بتلانے کے لئے پانچ مشہور عالم اقوام کے حالات اور انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت پر ان کے انجام بد اور دنیا میں بھی طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونا بیان کیا گیا ہے۔
سب سے پہلے قوم نوح ؑ کا ذکر کیا گیا، کیونکہ یہی سب سے پہلی دنیا کی قوم ہے جو عذاب الٰہی میں پکڑی گئی، یہ قصہ سابقہ آیات میں آ چکا ہے، مذکور الصد آیات میں چار اقوام کا ذکر ہے، عاد، ثمود، قوم لوط، قوم فرعون ان کے واقعات اور مفصل قصے قرآن کریم کے متعدد مقامات میں بیان ہوئے ہیں، یہاں ان کا اجمالی ذکر ہے۔
یہ پانچوں اقوام دنیا کی قوی ترین اور قابو یافتہ قومیں تھیں، جن کو کسی طاقت سے رام کرنا کسی کے لئے آسان نہ تھا، آیات مذکورہ میں ان پر اللہ کا عذاب آنا دکھلایا گیا اور ہر ایک قوم کے انجام پر قرآن کریم نے ایک جملہ ارشاد فرمایا (فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ) یعنی اتنی بڑی قوی اور بھاری تعداد والی قوم پر جب اللہ کا عذاب آیا تو دیکھو کہ وہ کس طرح اس عذاب کے سامنے مکھیوں، مچھروں کی طرح مارے گئے اور اس کے ساتھ ہی مومنین و کفار کی عام نصیحت کے لئے اس جملے کو بار بار دھرایا گیا، وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ، یعنی اللہ کے اس عذاب عظیم سے بچنے کا راستہ قرآن ہے اور قرآن کو نصیحت و عبرت حاصل کرنے کی حد تک ہم نے بہت آسان کردیا ہے، بڑا بدنصیب اور محروم ہے جو اس سے فائدہ نہ اٹھائے، آگے آنے والی آیات میں زمانہ نبوت کے موجودین کو خطاب کر کے یہ بتلایا گیا ہے کہ اس زمانے کے منکرین و کفار دولت و ثروت، تعداد، طاقت قوت میں عاد وثمود اور قوم فرعون وغیرہ سے کچھ زیادہ نہیں ہیں، پھر یہ کیسے بےفکر بیٹھے ہیں۔
Ayahs 54:43–48خلاصہ تفسیر
یہ کفار کے قصے اور کفر کی وجہ سے ان پر عذاب ہونے کے واقعات تو تم نے سن لئے اب جبکہ تم بھی اسی جرم کفر کے مرتکب ہو تو تمہارے عذاب سے بچنے کی کوئی وجہ نہیں کیا تم میں جو کافر ہیں ان میں ان (مذکورہ پچھلے لوگوں سے کچھ فضیلت ہے (جس کی وجہ سے تم باوجود ارتکاب جرم کے سزا یاب نہ ہو) تمہارے لئے (آسمانی) کتابوں میں کوئی معافی (نامہ لکھ دیا) ہے (گو کوئی خاص فضیلت نہ ہو) یا (ان میں کوئی ایسی قوت ہے جو ان کو عذاب سے بچالے جیسا) یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری ایسی جماعت ہے جو غالب ہی رہیں گے (اور جب کہ ان کے مغلوب ہونے کے دلائل واضح موجود ہیں اور خود بھی اپنی مغلوبیت کا ان کو یقین ہے تو پھر ایسی بات کہنا اس کو مستلزم ہے کہ ان میں کوئی ایسی قوت ہے جو عذاب کو روک سکتی ہے، یہ تین احتمال ہیں عذاب سے بچنے کے بتاؤ کہ ان میں سے کون سی صورت واقع میں ہے، پہلے دو احتمالوں کو بطلان تو ظاہر و باہر ہے، رہا تیسرا احتمال سو اسباب عادیہ کے اعتبار سے گو فی نفسہ ممکن ہے مگر بدلالت دلائل وقوع اس کا نہ ہوگا، بلکہ اس کے عکس کا وقوع ہوگا، جس سے ان کا کذب ظاہر ہوجاوے گا اور وہ عکس کا وقوع اس طرح ہوگا کہ) عنقریب (ان کی) یہ جماعت شکست کھاوے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے (اور یہ پیشین گوئی بدر و احزاب وغیرہ میں واقع ہوئی اور یہی نہیں کہ اس دنیوی عذاب پر بس ہو کر رہ جاوے گا) بلکہ (عذاب اکبر) قیامت (میں ہوگا کہ) ان کا (اصل) وعدہ (وہی) ہے اور قیامت (کو کوئی ہلکی چیز نہ سمجھو بلکہ وہ) بڑی سخت اور ناگوار چیز ہے (اور یہ موعود ادھیٰ وَ اَمر ضرور واقع ہونے والا ہے اور اس کے وقوع کے انکار میں) یہ مجرمین (یعنی کفار) بڑی غلطی اور بےعقلی میں (پڑے) ہیں (اور وہ غلطی ان کو عنقریب جب علم الیقین مبدل بہ عین الیقین ہوگا ظاہر ہوجاوے گی اور وہ اس طرح ہوگا کہ) جس روز یہ لوگ اپنے مونہوں کے بل جہنم میں گھسیٹے جاویں گے تو ان سے کہا جاوے گا کہ دوزخ (کی آگ) کے لگنے کا مزہ چکھو (اور اگر ان کو اس سے شبہ ہو کہ قیامت ابھی کیوں نہیں واقع ہوتی تو وجہ اس کی یہ ہے کہ) ہم نے ہر چیز کو (باعتبار زمان وغیرہ کے ایک خاص) انداز سے پیدا کیا ہے (جو ہمارے علم میں ہے، یعنی زمانہ وغیرہ اس کا اپنے علم میں معین و مقدر کیا ہے، اسی طرح قیامت کے وقوع کے لئے بھی ایک وقت معین ہے، پس اس کا عدم وقوع فی الحال بوجہ اس کے وقت نہ آنے کے ہے، یہ دھوکہ نہ کھانا چاہئے کہ قیامت کا وقوع ہی نہ ہوگا) اور (جب اس کا وقت آجائے گا تو اس وقت) ہمارا حکم (اس وقوع کے متعلق) بس ایسا یکبارگی ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکانا (غرض وقوع کی نفی تو باطل ٹھہری) اور (اگر تم کو یہ شبہ ہو کہ ہمارا طریقہ اللہ کے نزدیک ناپسند اور مبغوض نہیں ہے تو اگر قیامت کا وقوع بھی ہو تب بھی ہم کو کوئی فکر نہیں، تو اس باب میں سن رکھو کہ) ہم تمہارے ہم طریقہ لوگوں کو (اپنے عذاب سے) ہلاک کرچکے ہیں (جو دلیل ہے اس طریقہ کی مبغوض ہونے کی اور وہی تمہارا طریقہ ہے اس لئے مبغوض ہے اور یہ دلیل نہایت واضح ہے) سو کیا (اس دلیل سے) کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے اور (یہ بھی نہیں ہے کہ ان کے اعمال علم الٰہی سے غائب رہ جاویں، جس کی وجہ سے اللہ کے نزدیک ان کے طریقہ کے مبغوض ہونے کے باوجود سزا سے بچ جانے کا احتمال ہو بلکہ) جو کچھ بھی یہ لوگ کرتے ہیں سب (حق تعالیٰ کو معلوم ہے) اعمال ناموں میں (بھی مندرج) ہے اور (یہ نہیں کہ کچھ لکھ لیا گیا ہو کچھ رہ گیا ہو بلکہ) ہر چھوٹی اور بڑی بات (اس میں) لکھی ہوئی ہے (پس وقوع عذاب میں کوئی شبہ نہ رہا یہ تو کفار کا حال ہوا اور جو) پرہیزگار لوگ (ہیں وہ بہشت کے) باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے، ایک عمدہ مقام میں قدرت والے بادشاہ کے پاس (یعنی جنت کے ساتھ قرب حق تعالیٰ بھی ہوگا)
معارف و مسائل
بعض لغات کی تشریح
زُبُر زبور کی جمع ہے، لغت میں ہر لکھی ہوئی کتاب کو زبور کہتے ہیں اور اس خاص کتاب کا نام بھی زبور ہے جو حضرت داؤد ؑ پر نازل ہوئی تھی۔
اَدْهٰى وَاَمَرُّ ، ادھی کے معنی زیادہ ہیبت ناک اور اَمَر مُرُّ سے ماخوذ ہے، جس کے اصلی معنی کڑوے کے ہیں اور ہر سخت اور تکلیف دہ چیز کو بھی مر اور امر کہہ دیا جاتا ہے، فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ، ضلال کے معنی معروف ہیں گمراہی اور سعر کے معنی اس جگہ جہنم کی آگ کے ہیں، اَشْيَاعَكُمْ ، اشیاع، شیعہ کی جمع ہے، جس کی معنی متبع اور پیروکار کے ہیں، مراد وہ لوگ ہیں جو عمل میں ان کے متبع یا مثل ہیں، مَقْعَدِ صِدْقٍ ، مقعد کے معنی مجلس اور مقام کے ہیں اور صدق بمعنی حق ہے، مراد یہ ہے کہ یہ مجلس حق ہوگی جس میں کوئی لغو و بیہودہ بات نہ ہوگی۔
Ayahs 54:49–55اِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنٰهُ بِقَدَرٍ ، قدر کے لغوی معنی اندازہ کرنے اور کسی چیز کو حکمت و مصلحت کے مطابق اندازے سے بنانے کے ہیں، اس آیت میں یہ لغوی معنی بھی مراد ہوسکتے ہیں کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے عالم کی تمام مخلوقات کو اور اس کی ہر نوح و صنف کو ایک حکیمانہ اندازہ سے بڑا چھوٹا اور مختلف ہیئت و صورت میں بنایا ہے، پھر ہر نوع و صنف کے ہر فرد کی تخلیق میں بھی حکیمانہ انداز بڑی حکمت کے ساتھ رکھا ہے، انگلیاں سب یکساں نہیں بنائیں، طول میں فرق رکھا، ہاتھوں پاؤں کے طول و عرض اور ان کے کھلنے بند ہونے سمٹنے اور پھیلنے کے لئے اسپرنگ لگائے، ایک ایک عضو کے ایک ایک جز کو دیکھو تو قدرت و حکمت خداوندی کے عجیب و غریب دروازے کھلتے نظر آنے لگیں۔
اور اصطلاح شرع میں لفظ قدر بمعنی تقدیر الٰہی بھی استعمال ہوتا ہے اور اکثر ائمہ تفسیر نے بعض روایات حدیث کی بناء پر اس آیت میں قدر سے تقدیر الٰہی مراد لی ہے۔
مسند احمد، مسلم، ترمذی میں حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ مشرکین قریش ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ تقدیر کے متعلق مخاصمت کرنے لگے، تو اس پر یہ آیت قرآن نازل ہوئی، اس معنی کے اعتبار سے مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ ہم نے تمام عالم کی ایک ایک چیز کو اپنی تقدیر ازلی کے مطابق بنایا ہے، یعنی ازل میں پیدا ہونے والی چیز اور اس کی مقدار زمانہ و مکان اور اس کے بڑہنے گھٹنے کا پیمانہ عالم کے پیدا ہونے سے پہلے ہی لکھ دیا گیا تھا جو کچھ عالم میں پیدا ہوتا ہے وہ اسی تقدیر ازلی کے مطابق ہوتا ہے۔
تقدیر کا یہ مسئلہ اسلام کا قطعی عقیدہ ہے اس کا منکر کافر، اور جو فرقے بتاویل انکار کرتے ہیں وہ فاسق ہیں امام احمد، ابو داؤد، طبرانی نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہر امت میں کچھ لوگ مجوسی ہوتے ہیں، اس امت محمدیہ کے مجوسی وہ لوگ ہیں جو تقدیر کا انکار کرتے ہیں، ایسے لوگ بیمار پڑیں تو ان کی بیمار پرسی کو نہ جاؤ اور مر جائیں تو ان کے کفن دفن میں شریک نہ ہو (از روح المعانی) واللہ سبحانہ، و تعالیٰ اعلم۔
تمت
بعون اللہ سبحانہ وبحمدہ سورة القمر
یوم الثلاثاء لستة من الربیع الثانی س 1391 ھ