Ayah 60:11وَاِنْ فَاتَكُمْ شَيْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُم الایة، عاقبتم، معاقبہ سے مشتق ہے جس کے ایک معنی انتقام اور بدلہ لینے کے بھی ہیں، یہاں یہ معنی بھی مراد ہو سکتے ہیں (کماروی عن قتادة و مجاہد، قرطبی) اس صورت میں مطلب آیت کا یہ ہوگا کہ مسلمان کی کچھ عورتیں اگر کفار کے قبضہ میں آجائیں تو شرط صلح کے ماتحت اوروں پر لازم تھا کہ ان کے مسلمان شوہروں کو ان کا دیا ہوا مہر وغیرہ واپس کریں جیسا کہ مسلمانوں کی طرف سے مہاجرات کے کافر شوہروں کو ان کا مہر واپس کیا گیا، لیکن جب کفار نے ایسا نہ کیا اور مسلمانوں عورتوں کے مہران کو ادا نہ کئے تو ان کے ال عمل کا اگر تم انتقام اور بدلہ لے لو اس طرح کہ کفار مکہ کو جو رقم مہاجرات کے مہر کی ادا کرنا تھی تم بھی وہ اپنے حق کے مطابق روک لو تو اس کا حکم یہ ہے کہ ْ فَاٰتُوا الَّذِيْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَآ اَنْفَقُوْا ۭ، یعنی تم اس رقم میں سے جو مہاجرات کے مہر کی روک لی گئی، ان مسلمان شوہروں کے خرچ کئے ہوئے مہر وغیرہ ادا کردو جن کی عورتیں کفار مکہ کے قبضہ میں آگئی ہیں۔
دوسرے معنی عاقبتم، عقبتم، اعقبتم کے جنگ میں مال غنیمت حاصل کرنے کے بھی ہیں اور اس آیت میں لفظ عاقبتم کی یہ تینوں قراتیں بھی مختلف قراء سے منقول ہیں اور حضرت قتادہ ؒ و مجاہد ؒ سے ان تینوں لفظوں کے معنی عنیمت کے بھی منقول ہیں، اس صورت میں معنی آیت کے یہ ہوں گے کہ جن مسلمان شوہروں کی عورتیں کفار کے قبضہ میں چلی گئیں اور شرط صلح کے مطابق کفار نے ان کے مہر مسلمان شوہروں کو ادا نہیں کیا پھر مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل ہوا تو ان شوہروں کا حق مال غنیمت سے ان کو ادا کردیا جائے (قرطبی)
کیا مسلمانوں کی کچھ عورتیں مرتد ہو کر مکہ چلی گئی تھیں ؟:
اس آیت میں جس معاملے کا حکم بیان کیا گیا ہے اس کا واقعہ بعض حضرات کے نزدیک صرف ایک ہی پیش آیا تھا کہ حضرت عیاض بن غنم قریشی کی بیوی ام الحکم بنت ابی سفیان مرتد ہو کر مکہ مکرمہ چلی گئی تھی اور پھر یہ بھی اسلام کی طرف لوٹ آئی۔
اور حضرت ابن عباس نے کل چھ عورتوں کا اسلام سے انحراف اور کفار کے ساتھ مل جانا ذکر فرمایا ہے، جن میں سے ایک تو یہی ام الحکم بنت ابی سفیان تھیں اور باقی پانچ عورتیں وہ تھیں جو ہجرت کے وقت ہی مکہ مکرمہ میں رک گئیں اور پہلے ہی سے کافر تھیں، جب قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی جس نے مسلم و کافرہ کے نکاح کو توڑ دیا، اس وقت بھی وہ مسلمان ہونے کے لئے تیار نہ ہوئیں، اس کے نتیجہ میں یہ بھی ان عورتوں میں شمار کی گئیں، جن کا مہران کے مسلمان شوہروں کو کفار مکہ کی طرف سے واپس ملنا چاہئے تھا، جب انہوں نے نہیں دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت سے ان کا یہ حق ادا کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ مدینہ سے مکہ چلے جانے اور مرتد ہونے کا تو صرف ایک ہی کا واقعہ تھا، باقی پانچ عورتیں پہلے ہی سے کفر پر تھیں اور کفر پر قائم رہنے کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے نکاح سے اس آیت کی بناء پر نکل گئیں، اس لئے ان کو بھی اس ضمن میں شمار کیا گیا ہے اور ایک عورت جس کو مرتد ہو کر مکہ چلے جانا مذکور ہوا ہے یہ بھی بعد میں پھر مسلمان ہوگئیں (قرطبی) اور بغوی نے بروایت ابن عباس نقل کیا ہے کہ باقی پانچ عورتیں جو اس میں شمار کی گئی ہیں وہ بھی بعد میں مسلمان ہوگئیں (مظہری)
Ayahs 60:12–13عورتوں کی بیعت
يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا جَاۗءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ يُبَايِعْنَكَ الایة، اس آیت میں مسلمان عورتوں سے ایک تفصیلی بیعت لینے کا ذکر ہے جس میں ایمان و عقائد کے ساتھ احکام شرعیہ کی پابندی کا بھی معاہدہ ہے، سابقہ آیات جن کے سیاق میں یہ آیت بیعت آئی ہے وہ اگرچہ ان مہاجرات کے ایمان کا امتحان کرنے کے سلسلے میں ہے اور یہ بیعت ان کے امتحان ایمان کی تکمیل ہے، لیکن الفاظ آیت عام ہیں، نو مسلم مہاجرات کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ سب مسلمان عورتوں کے لئے عام ہیں اور واقعہ بھی اسی طرح پیش آیا کہ بیعت مذکورہ میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کرنے والی صرف نو مسلم مہاجرات ہی نہیں دوسری قدیم عورتیں بھی شریک تھیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ام عطیہ سے اور بسند بغوی امیمہ بنت رقیہ سے منقول ہے ؒ ، حضرت امیمہ سے روایت ہے کہ میں نے چند دوسری عورتوں کی معیت میں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تو آپ نے جن احکام شرعیہ کی پابندی کا معاہدہ اس بیعت میں لیا اس کے ساتھ یہ کلمات بھی تلقین فرمائے کہ فیما استطعتن واقتن، یعنی ہم ان چیزوں کی پابندی کا عہد اسی حد تک کرتے ہیں جہاں تک ہماری استطاعت و طاقت میں ہے، امیمہ نے اس کو نقل کر کے فرمایا کہ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ کی رحمت و شفقت ہم پر خود ہماری ذات سے بھی زائد تھی کہ ہم نے تو بلا کسی قید و شرط کے عہد کرنا چاہا تھا آپ نے اس شرط کی تلقین فرما دی، تاکہ کسی اضطراری حالت میں خلاف ورزی ہوجائے تو عہد شکنی میں داخل نہ ہو (مظہری)
اور صحیح بخاری میں حضرت عائشہ صدیقہ نے اس بیعت نساء کے متعلق فرمایا کہ عورتوں کی یہ بیعت صرف گفتگو اور کلام کے ذریعہ ہوئی، مردوں کی بیعت میں جو ہاتھ پر ہاتھ رکھنے کا دستور ہے، عورتوں کی بیعت میں ایسا نہیں کیا گیا اور رسول اللہ ﷺ کے دست مبارک نے کبھی کسی غیر محرم کے ہاتھ کو نہیں چھوا (مظہری)
اور روایات حدیث سے ثابت ہے کہ یہ بیعت نساء صرف اس واقعہ حدیبیہ کے بعد ہی نہیں بلکہ بار بار ہوتی رہی، یہاں تک کہ فتح مکہ کے روز بھی رسول اللہ ﷺ نے مردوں کی بیعت سے فارغ ہونے کے بعد کوہ صفا پر عورتوں سے بیعت لی اور پہاڑ کے دامن میں حضرت عمر بن خطاب رسول اللہ ﷺ کی طرف سے حضور ﷺ کے الفاظ کو دہرا کر نیچے جمع ہونے والی عورتوں کو پہنچا رہے تھے جو اس بیعت میں شریک تھیں۔
اس وقت بیعت ہونے والی عورتوں میں ابو سفیان کی بیوی ہند بھی داخل تھیں، جو شروع میں حیاء کے سبب اپنے آپ کو چھپانا چاہتی تھیں، پھر بیعت میں کچھ احکام کی تفصیل آئی تو بولنے اور دریافت کرنے پر مجبور ہوگئیں، کئی سوالات کئے، یہ واقعہ تفصیل سے تفسیر مظہری میں مذکور ہے۔
مردوں کی بیعت میں اجمال اور عورتوں کی بیعت میں تفصیل
مردوں سے جو بیعت لی گئی وہ عموماً اسلام اور جہاد پر لی گئی ہے، عمل احکام کی تفصیل اس میں نہیں ہے، بخلاف عورتوں کی بیعت کے کہ اس میں وہ تفصیل ہے جو آگے آ رہی ہے، وجہ فرق کی یہ ہے کہ مردوں سے ایمان و اطاعت کی بیعت لینے میں یہ سب احکام داخل تھے، اس لئے تفصیل کی ضرورت نہیں سمجھی گئی اور عورتیں عموماً عقل و فہم میں مردوں سے کم ہوتی ہیں اس لئے ان کی بیعت میں تفصیل مناسب سمجھی گئی، یہ اس بیعت کی ابتداء ہے جو عورتوں سے شروع ہوئی مگر آگے یہ عورتوں کے ساتھ مخصوص نہیں رہی، مردوں سے بھی انہی چیزوں کی بیعت لینا روایات حدیث میں ثابت ہے۔ (کماروی عن عبادة بن الصامت) (قرطبی) اس کے علاوہ جن احکام کی پابندی کا عہد عورتوں سے لیا گیا عموماً عورتیں ان میں بےراہی اختیار کرنے کی عادی ہوتی ہیں، اس لئے بھی خصوصیت سے ان کی بیعت میں مندرجہ ذیل تفصیل آتی، يُبَايِعْنَكَ عَلٰٓي اَنْ لَّا يُشْرِكْنَ باللّٰهِ شَـيْـــــًٔــا، الآیة اس میں پہلی بات تو وہی ایمان کی اور شرک سے بچنے کی ہے، جو عام مردانہ بیعتوں میں بھی آتی ہے، دوسری بات چوری نہ کرنا، بہت سی عورتیں اپنے شوہر کے مل میں چوری کرنے کی عادی ہوتی ہیں، اس لئے ذکر کیا گیا، تیسری بات زنا سے پرہیز کرنا ہے جس میں عورتیں پختہ ہوجاویں تو مردوں کو بھی نجات آسان ہوجاوے، چوتھی بات یہ ہے کہ اپنی بچوں کو قتل نہ کریں۔
زمانہ جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ دفن کر کے ہلاک کردینے کا رواج تھا، اس کو روکا گیا، پانچویں بات یہ ہے کہ افتراء اور بہتان نہ باندھیں، اس بہتان کی ممانعت کے ساتھ یہ الفاظ بھی ہیں (بَيْنَ اَيْدِيْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ) یعنی اپنے ہاتھ پاؤں کے درمیان بہتان نہ باندھیں، ان کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ قیامت کے روز انسان کے ہاتھ پاؤں ہی اس کے اعمال پر شہادت دیں گے، مطلب یہ ہوا کہ ایسے گناہ کے ارتکاب کے وقت یہ خیال رہنا چاہئے کہ میں چار گواہوں کے درمیان یہ کام کر رہا ہوں جو میرے خلاف گواہی دیں گے۔
یہاں لفظ بہتان عام ہے اپنے شوہر پر ہو یا کسی دوسرے، کیونکہ افتراء و بہتان ہر شخص پر یہاں تک کہ کافر پر بھی حرام ہے، خصوصاً اپنے شوہر پر بہتان اور بھی شدید گناہ ہے اور شوہر پر بہتان لگانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ عورت کسی اور شخص کا بچہ لے کر اس کو اپنے شوہر کا بچہ ظاہر کرلے اور اس کے نسب میں داخل کر دے اور یہ بھی کہ معاذ اللہ بدکاری کرے اور حمل رہ جائے جس کے نتیجہ میں یہ بچہ شوہر کے نسب میں داخل سمجھا جائے۔
چھٹی بات ایک عام ضابطہ ہے کہ وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِيْ مَعْرُوْفٍ ، یعنی وہ کسی نیک کام میں آپ کے حکم کی خلاف ورزی نہ کریں گی، یہاں ”معروف“ یعنی نیک کام کی قید لگانا جب کہ یہ یقینی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کوئی حکم معروف اور نیکی کے سوا ہو ہی نہیں سکتا، یا تو اس لئے ہے کہ عام مسلمان پوری طرح سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں، یہاں تک کہ رسول کی اطاعت بھی اس شرط کے ساتھ مشروط کردی گئی۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں معاملہ عورتوں کا ہے، ان سے عام اطاعت کہ ان کے کسی حکم کے خلاف نہ کریں گی، کسی کے دل میں اس سے شیطان گمراہی کے وسوسے پیدا کرسکتا ہے اس کا راستہ روکنے کے لئے یہ قید لگا دی، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔
تمت
سورة المتحنہ بعون اللہ تعالیٰ و حمدہ
لعثرین خلت من جمادی الاولیٰ سن 1391 ھ
یوم الثلثاء و تیلو ہا انشاء اللہ سورة الصف