61. Surah As-Saff

الصفThe Ranks · 14 ayahsمعارف القرآن

Ayah 61:1

سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 61:1 in the Quran reader

اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ ہے آسمانوں اور جو کچھ ہے زمین میں اور وہی ہے زبردست حکمت والا

خلاصہ تفسیر سب چیزیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں (قالاً یا حالاً) جو کچھ آسمانوں میں ہیں اور جو کچھ زمین میں ہیں اور وہی زبردست حکمت والا ہے (پس جو ایسا باعظمت و شان ہو اس کی اطاعت ہر حکم میں ضروری ہے، جن میں سے ایک حکم جہاد کا ہے، جو اس سورت میں مذکور ہے، جس کے نزول کا سبب یہ ہے کہ ایک بار بعض مسلمانوں نے باہم تذکرہ کیا کہ اگر ہم کو کوئی ایسا عمل معلوم ہو جو حق تعالیٰ کے نزدیک نہایت محبوب ہے تو ہم اس کو عمل میں لاویں اور اس سے قبل جنگ احد میں بعضے جہاد سے بھاگ چکے تھے جس کا قصہ سورة آل عمران میں ہے اور نیز وقت نزول حکم جہاد کے بعض کو وہ حکم گراں گزرا تھا، جس کا قصہ سورة نساء میں ہے اس پر یہ ارشاد نازل ہوا) اے ایمان والو ! ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، خدا کے نزدیک یہ بات بہت ناراضی کی ہے کہ ایسی بات کہو جو کرو نہیں، اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں کو (خاص طور پر) پسند کرتا ہے جو اس کے راستہ میں اس طرح مل کر لڑتے ہیں کہ گویا وہ ایک عمارت ہے جس میں سیسہ پلایا گیا ہے (یعنی جس طرح یہ عمارت مستحکم ناقابل شکست ہوتی ہے، اسی طرح وہ مجاہدین دشمن کے مقابلہ سے ہٹتے نہیں، مطلب یہ ہوا کہ تم جو کہتے ہو کہ ہم کو وہ کام معلوم ہوتا .... جو اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے تو یہ عمل تو جہاد ہے پھر اس کے نزول کے وقت گرانی کیوں ہوئی تھی اور احد میں کیوں بھاگ گئے تھے، باوجود ان تمام امور کے پیش نظر ہونے کے نہایت نازیبا بات اور خدا کو ناپسند ہے، ایسے دعویٰ کی باتیں کرنا جس کا خلاف ہونا معلوم بھی ہوچکا ہے تو اس میں لاف زنی اور غلط دعویٰ پر زجر کیا گیا، وعظ بےعمل اس کے مفہوم سے خارج ہے) اور (آگے کفار کے مستحق قتل و قتال ہونے کی علت یعنی ایذاء رسانی، تکذیب، مخالفت رسول کا بیان فرمانا مقصود ہے اور اسی کی مناسبت سے موسیٰ ؑ و عیسیٰ ؑ کا قصہ ذکر فرماتے ہیں پس ارشاد ہے کہ وہ وقت قابل ذکر ہے) جبکہ موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم مجھ کو کیوں ایذا پہنچاتے ہو حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں (وہ ایذا میں مختلف طور پر تھیں جن میں سے بعض بعض قرآن مجید میں بھی خصوص سورة بقرہ میں مذکور ہیں اور حاصل ان سب کا سرکشی اور مخالفت ہے) پھر جب (اس فہمائش پر بھی) وہ لوگ ٹیڑھے ہی رہے (اور راہ پر نہ آئے) تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اور (زیادہ) ٹیڑھا کردیا (یعنی مادہ مخالفت اور عصیان کا اور زیادہ بڑھ گیا جیسا کہ قاعدہ ہے کہ گناہ پر مداومت کرنے سے اللہ تعالیٰ کی طرف قلب کا میلان اور اس کی اطاعت کا جذبہ کم ہوتا چلا جاتا ہے) اور اللہ تعالیٰ (کا معمول ہے کہ وہ) ایسے نافرمانوں کو ہدایت (کی توفیق) نہیں دیتا (اسی طرح یہ لوگ رسول اللہ کو انواع مخالفت سے ایذائیں پہنچاتے ہیں، اس لئے ان کا ٹیڑھا پن اور فسق زیادہ ہوتا جاتا ہے کہ امید اصلاح کی نہیں رہی، پس ان کا فساد مٹانے کے لئے قتال کا حکم دینا مصلحت ہوا) اور (اسی طرح وہ وقت بھی قابل تذکرہ ہے) جبکہ عیسیٰ بن مریم ؑ نے (ارشاد) فرمایا کہ اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ مجھ سے پہلے جو توراة (آ چکی) ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور میرے بعد جو ایک رسول آنے والے ہیں جن کا نام (مبارک) احمد ہوگا، میں ان کی بشارت دینے والا ہوں (اور اس بشارت کا عیسیٰ ؑ سے منقول ہونا خود اہل کتاب کے بیان سے حدیثوں میں ثابت ہے، چناچہ خازن میں بروایتہ ابو داؤد بخاشی بادشاہ حبشہ کا جو کہ نصاریٰ کے عالم بھی تھے، یہ قول آیا ہے کہ واقعی آپ ہی ہیں جن کی بشارت عیسیٰ ؑ نے دی تھی اور خازن ہی میں تزمذی سے عبداللہ بن سلام کا قول جو کہ علماء یہود میں سے تھے آیا ہے کہ تورات میں رسول اللہ ﷺ کی صف لکھی ہے اور یہ کہ عیسیٰ ؑ آپ کے ساتھ مدفون ہوں گے اور چونکہ عیسیٰ ؑ تورات کے مبلغ تھے، اس لئے توراة میں اس بشارت کا ہونا نیز عیسیٰ ؑ سے منقول کہا جاوے گا اور مولانا رحمت اللہ صاحب نے اظہار الحق میں خود توراة کے موجودہ نسخوں سے متعدد بشارتیں نقل کی ہیں جلد دوم صفحہ 164 مطبوعہ قسطنطنیہ اور ان مضامین کا نا جیل موجودہ میں نہ ہونا اس لئے مضر نہیں کہ حسب تحقیق علماء محققین انا جیل کے نسخے محفوظ نہیں رہے، مگر تاہم جو کچھ موجودہ ہیں ان میں بھی اس قسم کا مضمون موجود ہے، چناچہ یوحنا کی انجیل مترجمہ عربی مطبوعہ لندن سن 1831 ء و سن 1833 ء کے چودہویں باب میں ہے کہ ”تمہاری لئے میرا جانا ہی بہتر ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو فارقلیط تمہارے پاس نہ آوے، پس اگر میں جاؤں تو اس کو تمہارے پاس بھیج دوں گا“ فارقلیط ترجمہ احمد کا ہے، اہل کتاب کی عادت ہے کہ وہ ناموں کا بھی ترجمہ کردیتے ہیں، عیسیٰ ؑ نے عبرانی میں احمد فرمایا تھا، جب یونانی میں ترجمہ ہوا تو بیرکلوطوس لکھ دیا جس کے معنی ہیں احمد یعنی بہت سراہا گیا، بہت حمد کرنے والا، پھر جب یونانی سے عبرانی میں ترجمہ کیا تو اس کو فارقلیط کردیا اور بعض عبرانی نسخوں میں ایک تک نام مبارک احمد موجود ہے، دیکھو پادری پار کہرست کی یہ عبارت دباد حمدہ خل ہکوٹیم از حمایت الاسلام مطبوعہ بریلی سن 1873 ء ص 8481 ترجمہ اپالوجی گاؤ فری ہینگنس مطبوعہ لندن سن 1829 ء اور اس فارقلیط کی نسبت اس انجیل یوحنا میں یہ الفاظ ہیں ”وہ تمہیں سب چیزیں سکھا دے گا“ یہ ہیں وہ الفاظ جو نبی مستقل ہونے پر دال ہیں اور پوری بحث اس مقام کی تفسیر حقانی میں ہے اس کا ایک شمہ نقل کیا گیا ہے، غرض عیسیٰ ؑ نے یہ ارشاد فرمایا) پھر جب (یہ تمام مضامین ارشاد فرما کر اپنی نبوت کے اثبات کے لئے) وہ (عیسیٰ علیہ السلام) ان لوگوں کے پاس کھلی دلیلیں لائے تو وہ لوگ (ان دلائل یعنی معجزات کی نسبت) کہنے لگے کہ یہ صریح جادو ہے (اور جادو بتا کر نبوت کی تکذیب کی، کمافی الماتدة واذکففت بنی اسرآئیل عنک اذ جئتہم بالبینت الخ اسی طرح بعد عیسیٰ ؑ کے پھر رسول اللہ ﷺ کے دور رسالت میں کفار موجودین نے آپ کی تکذیب کی اور مخالفت کی اور یہ ظلم عظیم ہے، پس اس ظلم کا تعدیہ مٹانے کے لئے قتال کا حکم دینا مصلحت ہوا) اور (واقعی) اس شخص سے زیادہ کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھے، حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہو اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو ہدایت (کی توفیق) نہیں دیا کرتا (اللہ پر جھوٹ باندھنا یہ ہے کہ نبوت کی تکذیب کی، اثبات المنفی اور نفی المثبت یعنی جو چیز اللہ کی طرف سے نہ ہو اس کو اللہ کی طرف منسوب کرنا اور جو اللہ کی طرف سے واقع میں ہو اس کی نفی کرنا، دونوں افتراء علی اللہ ہیں اور وہو یدعی اس لئے بڑھایا کہ اس سے زیادہ تقبیح ہوگئی، یعنی خود تو متنبہ کرنے سے بھی متنبہ نہ ہوا اور واللہ لایہدی اس لئے بڑھایا کہ ان کی حالت موجودہ اصلاح سے بعید ہوگئی اس لئے سزائے قتال ہی تجویز کیا جانا مصلحت ہوا، چناچہ جس کو اب بھی اسلام کی خبر نہ پہنچی ہو اول اس کو دعوت اسلام کرنا چاہئے جس اس سے انکار کرے جو کہ ظاہراً علامت ناامیدی کی ہے تب جہاد مشروع ہے، آگے ترغیب جہاد کیلئے وعدہ نصرت و غلبہ حق اور مغلوبیت باطل ارشاد ہے کہ) یہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ اللہ کے تور (یعنی دین اسلام) کو اپنے منہ سے (پھونک مار کر) بجھا دیں (یعنی تدبیرعملی کے ساتھ منہ سے بھی رد و اعتراض کی باتیں اس غرض سے کرتے ہیں کہ دین حق کو فروغ نہ ہو اور بعض اوقات قولی شبہات موثر ہوجاتے ہیں، یا یہ تمثیل ہے کہ ان کی ایسی مثال ہے جیسے کوئی منہ سے نور الٰہی کو بجھانا چاہتا ہو یعنی ایسے طریقہ سے بجھاوے جس میں ناکام رہے) حالانکہ اللہ اپنے نور (مذکور) کو کمال تک پہنچا کر رہے گا گو کافر لوگ کیسے ہی ناخوش ہوں (چنانچہ) وہ اللہ ایسا ہے جس نے (اسی اتمام نور کے لئے) اپنے رسول ﷺ کو ہدایت (کا سامان یعنی قرآن) اور سچا دین (یعنی اسلام) دے کر (دنیا میں) بھیجا ہے تاکہ اس (دین) کو (کہ وہ نورمذکور ہے) تمام (بقیہ) دینوں پر غالب کر دے (کہ یہی اتمام ہے) گو مشرک کیسے ہی ناخوش ہوں (وقد مر تفسیر الاتمام و الظہور فی سورة البراة فی مثل ہذہ الآیة) معارف و مسائل شان نزول ترمذی نے حضرت عبداللہ بن سلام سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس کو روایت کر کے سند کو صحیح قرار دیا ہے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت نے آپس میں یہ مذاکرہ کیا کہ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب عمل کونسا ہے تو ہم اس پر عمل کریں، بغوی نے اس میں یہ بھی نقل کیا ہے کہ ان حضرات میں سے بعض نے کچھ ایسے الفاظ بھی کہے کہ اگر ہمیں احب الاعمال عنداللہ معلوم ہوجائے تو ہم اپنی جان و مال سب اس کے لئے قربان کردیں (مظہری) ابن کثیر نے بحوالہ مسند احمد روایت کیا ہے کہ ان چند حضرات نے آپس میں جمع ہو کر یہ مذاکرہ کیا اور چاہا کہ کوئی صاحب جا کر رسول اللہ ﷺ سے اس کا سوال کریں مگر کسی کی ہمت نہ ہوئی ابھی یہ لوگ اسی حالت پر تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سب لوگوں کو نام بنام اپنے پاس بلایا (جس سے معلوم ہوا کہ آپ کو بذریعہ وحی ان کا اجتماع اور ان کی گفتگو معلوم ہوگئی تھی) جب یہ سب لوگ حاضر خدمت ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے پوری سورة صف پڑھ کر سنائی جو اسی وقت آپ پر نازل ہوئی تھی۔
Ayahs 61:2–3

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:2 in the Quran reader

اے ایمان والو ! کیوں کہتے ہو منہ سے جو نہیں کرتے

كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 61:3 in the Quran reader

بڑی بیزاری کی بات ہے اللہ کے یہاں کہ کہو وہ چیز جو نہ کرو

اس سورة نے یہ بھی بتلا دیا کہ احب الاعمال جس کی تلاش میں یہ حضرات تھے وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے اور ساتھ ہی ان حضرات نے جو ایسے کلمات کہے تھے کہ اگر ہمیں معلوم ہوجائے تو ہم اس پر عمل کرنے میں ایسی ایسی جانبازی دکھائیں وغیرہ جن میں ایک قسم کا دعویٰ ہے کہ ہم ایسا کرسکتے ہیں، اس پر ان حضرات کو تنبیہ کی گئی کہ کسی مومن کے لئے ایسے دعوے کرنا درست نہیں، اسے کیا معلوم ہے کہ وقت پر وہ اپنے ارادے کو پورا کر بھی سکے گا یا نہیں، اس کے اسباب کا جمع ہونا اور موانع کا زائل ہونا اس کے اختیار میں نہیں، پھر خود اس کے دست وبازو اور اعضاء وجوارح بلکہ قلبی عزم و ارادہ ان میں سے کوئی چیز بھی بالکلیہ اس کے قبضہ میں نہیں اسی لئے خود رسول اللہ ﷺ کو بھی قرآن کریم میں یہ تلقین کی گئی ہے کہ جو کام آپ کو آئندہ کل میں کرنا ہو اگر اس کو بیان کرنا ہے تو انشاء اللہ کی قید کے ساتھ بیان کرو کہ اگر اللہ نے چاہا تو میں کل فلاں کام کروں گا (آیت) (لاتقولن لشای انی فاعل ذلک غدا الاان یشآء اللہ) صحابہ کرام کی نیت و قصد خواہ دعوے کا نہ ہو مگر صورت دعویٰ کی تھی وہ اللہ کے نزدیک پسند نہیں کہ کوئی شخص کسی کام کے کرنے کا دعویٰ کرے بجز اس کے کہ اس کو اللہ کی مشیت کے حوالہ کرے اور انشاء اللہ ساتھ کہے، اس تنبیہ کیلئے یہ آیات نازل ہوئیں۔ يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ ۝ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْن۔ مالا تفعلون کے ظاہری معنی تو یہ ہیں کہ جو کام تمہیں کرنا نہیں ہے اس کا دعویٰ کیوں کرتے ہو، جس سے ایسے کام کے دعوے کی ممانعت تو واضح ہو ہی گئی جس کو کرنے کا عزم و ارادہ ہی انسان کے دل میں نہ ہو کیونکہ یہ تو محض ایک جھوٹا دعویٰ ہے نام و نمود وغیرہ کے لئے ہوسکتا ہے مگر ظاہر ہے کہ شان نزول کے واقعہ میں جن صحابہ نے مذاکرہ کیا وہ ایسے نہ تھے کہ دل میں کچھ کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو اور دعویٰ کریں، اس لئے اس کے مفہوم میں یہ بھی شامل ہے کہ اگرچہ دل میں عزم و ارادہ کام کرنے کا ہو پھر بھی اپنے نفس پر بھروسہ کر کے دعویٰ کرنا کہ ہم فلاں کام کریں گے شان عبدیت کے خلاف ہے، اول تو اس کے کہنے ہی کی کیا ضرورت ہے جب موقع ملے کر گزرنا چاہئے اور کسی مصلحت سے کہنا بھی پڑے تو اس کو انشاء اللہ کے ساتھ مقید کر دے تو پھر وہ دعویٰ نہیں رہے گا۔ مسئلہاس سے معلوم ہوا کہ ایسے کام کا دعویٰ کرنا جس کے کرنے کا ارادہ ہی نہ ہو اور اس کو کرنا ہی نہ ہو یہ تو گناہ کبیرہ اور اللہ کی سخت ناراضی کا سبب ہے، کبر مقتا عند اللہ کا مصداق یہی ہے اور جہاں یہ صورت نہ ہو بلکہ ارادہ کرنے کا ہو وہاں بھی اپنی قوت وقدرت پر بھروسہ کر کے دعویٰ کرنا ممنوع و مکروہ ہے۔ دعویٰ اور دعوت میں فرق مذکورہ تفسیر سے یہ معلوم ہوگیا کہ ان آیات کا تعلق دعوے سے ہے کہ جو کام آدمی کو کرنا نہیں ہے اس کا دعویٰ کرنا اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب ہے، رہا معاملہ دعوت و تبلیغ اور وعظ و نصیحت کا کہ جو کام آدمی خود نہیں کرتا اس کی نصیحت دوسروں کو کرے اور اس کی طرف دوسرے مسلمانوں کو دعوت دے، وہ اس آیت کے مفہوم میں تو شامل نہیں، اس کے احکام دوسری آیات اور احادیث میں مذکور ہیں، مثلاً قرآن کریم نے فرمایا (آیت) اتامرون الناس بالبر و تنسون انفسکم، یعنی تم لوگوں کو تو نیک کام کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھلا دیتے ہو کہ خود اس نیکی پر عمل نہیں کرتے۔ اس آیت نے امر بالمعروف اور وعظ و نصیحت کرنے والوں کو اس بات پر شرمندہ کیا ہے کہ لوگوں کو ایک نیک کام کی دعوت دو اور خود اس پر عمل نہ کرو اور مقصد یہ ہے کہ جب دوسروں کو نصیحت کرتے ہو تو خود اپنے آپ کو نصیحت کرنا اس سے مقدم ہے جس کام کی طرف لوگوں کو بلاتے ہو خود بھی اس پر عمل کرو۔ لیکن یہ نہیں فرمایا کہ جب خود نہیں کرتے تو دوسروں کو کہنا بھی چھوڑ دو ، اس سے معلوم ہوا کہ جس نیک کام کے خود کرنے کی ہمت و توفیق نہیں ہے اس کی طرف دوسروں کو بلانے اور نصیحت کرنے کا سلسلہ نہ چھوڑے، امید ہے کہ اس وعظ و نصیحت کی برکت سے کسی وقت اس کو بھی عمل کی توفیق ہوجاوے، جیسا کہ بکثرت تجربہ و مشاہدہ میں آیا ہے، البتہ اگر وہ عمل واجب یا سنت مؤ کدہ کے درجہ میں ہو تو آیات مذکورہ پر نظر کر کے اپنے نفس میں نادم و شرمندہ ہونے کا سلسلہ جاری رکھنا بھی واجب ہے اور اگر مستحبات کے متعلق ہے تو یہ سلسلہ ندامت بھی مستحب ہے۔
Ayahs 61:4–9

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ Open ayah 61:4 in the Quran reader

اللہ چاہتا ہے ان لوگوں کو جو لڑتے ہیں اس کی راہ میں قطار باندھ کر گویا وہ دیوار ہیں سیسہ پلائی ہوئی

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَ قَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ١ؕ فَلَمَّا زَاغُوْۤا اَزَاغَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 61:5 in the Quran reader

اور جب کہا موسیٰ نے اپنی قوم کو اے قوم میری کیوں ستاتے ہو مجھ کو اور تم کو معلوم کہ میں اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں تمہارے پاس پھر جب وہ پھرگئے تو پھیر دیئے اللہ نے ان کے دل اور اللہ راہ نہیں دیتا نافرمان لوگوں کو

وَ اِذْ قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ یَّاْتِیْ مِنْۢ بَعْدِی اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ١ؕ فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 61:6 in the Quran reader

اور جب کہا عیسیٰ مریم کے بیٹے نے اے بنی اسرائیل میں بھیجا ہوا آیا ہوں اللہ کا تمہارے پاس یقین کرنے والا اس پر جو مجھ سے آگے ہے توریت اور خوشخبری سنانے والا ایک رسول کی جو آئے گا میرے بعد اس کا نام ہے احمد پھر جب آیا ان کے پاس کھلی نشانیاں لیکر کہنے لگے یہ جادو ہے صریح

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ یُدْعٰۤى اِلَى الْاِسْلَامِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 61:7 in the Quran reader

اور اس سے زیادہ بےانصاف کون جو باندھے اللہ پر جھوٹ اور اس کو بلاتے ہیں مسلمان ہونے کو اور اللہ راہ نہیں دیتا بےانصاف لوگوں کو

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ اللّٰهُ مُتِمُّ نُوْرِهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 61:8 in the Quran reader

چاہتے ہیں کہ بجھا دیں اللہ کی روشنی اپنے منہ سے اور اللہ کو پوری کرنی ہے اپنی روشنی اور پڑے برامانیں منکر

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 61:9 in the Quran reader

وہی ہے جس نے بھیجا اپنا رسول راہ کی سوجھ دے کر اور سچا دین کہ اس کو اوپر کرے سب دینوں سے اور پڑے برا مانیں شرک کرنے والے۔

اگلی آیات میں اس اصل معاملہ کا ذکر ہے جو اس سورت کے نزول کا سبب بنا یعنی اس کا بیان کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کونسا عمل زیادہ محبوب ہے، اس کے متعلق ارشاد فرمایا (آیت) اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِهٖ صَفًّا كَاَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ، یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب وہ صف قتال ہے جو اللہ کے دشمنوں کے مقابلہ میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لئے قائم ہو اور مجاہدین کے عزم و ہمت کی وجہ سے ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہو کہ ان کے قدموں میں کوئی تزلزل نہ آنے پائے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے جہاد فی سبیل اللہ اور اللہ کی راہ میں دشمنوں کی ایذا میں سہنے کا ذکر ہے اور اس کے بعد پھر مسلمانوں کو جہاد کی تلقین کی گئی، حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہما السلام) کے واقعات جن کا ذکر اس جگہ آیا ہے اس میں بھی بہت سے علمی و عملی فوائد اور ہدایات ہیں، حضرت عیسیٰ ؑ کے قصہ میں ہے کہ انہوں نے جب بنی اسرائیل کو اپنی نبوت کے ماننے اور اطاعت کرنے کی دعوت دی تو دو چیزوں کو خصوصیت سے ذکر فرمایا ایک یہ کہ وہ کوئی انوکھے رسول نہیں، انوکھی باتیں لے کر نہیں آئے بلکہ وہ باتیں ہیں جو پہلے انبیاء (علیہم السلام) کہتے آئے ہیں اور پہلی آسمانی کتابوں میں مذکور ہیں اور بعد میں بھی جو آخری پیغمبر آنے والے ہیں وہ بھی اسی قسم کی ہدایات لے کر آئیں گے۔ یہاں پہلی کتابوں میں سے تورات کا خصوصیت سے ذکر غالباً اس لئے کیا کہ بنی اسرائیل پر نازل ہونے والی قریبی کتاب وہی تھی ورنہ تصدیق انبیاء تو سب پچھلی کتابوں کو شامل اور عام ہے، نیز اس میں اشارہ اس طرف بھی ہے کہ شریعت عیسوی اگرچہ مستقل شریعت ہے مگر اس کے اکثر احکام شریعت موسوی اور تورات کے احکام ہی کے مطابق ہیں، صرف چنداحکام ہیں جو بدلے گئے ہیں، یہ تو پچھلے انبیاء اور کتابوں کی تصدیق کا مضمون تھا، دوسری چیز یہ کہ بعد میں آنے والے رسول کی خوشخبری سنائی، اس میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ان کی ہدایات بھی اسی کے مطابق ہوں گی، اس لئے اس پر ایمان لانا عین تقاضائے عقل و دیانت ہے۔ ساتھ ہی جس آنے والے رسول کی خوشخبری عیسیٰ ؑ نے بنی اسرائیل کو سنائی، اس کا نام پتہ بھی انجیل میں بتلا دیا گیا، اس میں بنی اسرائیل کو اس کی ہدایت ہے کہ جب وہ رسول تشریف لائیں تو تمہارا فرض ہوگا کہ ان پر ایمان لاؤ اور ان کی اطاعت کرو وَمُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗٓ اَحْمَد میں اسی کا بیان ہے، اس میں آنے والے رسول کا نام احمد بتلایا گیا ہے، ہمارے نبی خاتم الانبیاء ﷺ کا نام محمد بھی تھا اور احمد بھی اور بھی متعدد نام تھے، مگر انجیل میں آپ کا نام احمد بتلانے میں شاید یہ مصلحت ہو کہ محمد نام رکھنے کا عرب میں قدیم سے دستور تھا، اس لئے اس نام کے دوسرے آدمی بھی عرب میں تھے، بخلاف احمد کے، یہ نام عرب میں معروف نہیں تھا، وہ آپ کی ذات ہی کے ساتھ مخصوص تھا۔ انجیل میں رسول اللہ ﷺ کی بشارت یہ سب کو معلوم ہے اور خود یہود و نصاریٰ کو بھی اس کا اقرار کرنا پڑا ہے کہ تورات و انجیل میں تحریف ہوئی ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان دونوں کتابوں میں تحریف اتنی ہوئی ہے کہ اصل کلام کا پہچاننا بھی آسان نہیں رہا، موجودہ تحریف شدہ انجیل کی بنا پر آج کل کے عیسائی قرآن کی اس خبر کو تسلیم نہیں کرتے کہ انجیل میں کہیں رسول اللہ ﷺ کا نام احمد لے کر خوشخبری دی گئی ہو، اس کا مختصر جواب وہ کافی ہے جو اوپر خلاصہ تفسیر میں آ چکا ہے۔ اور مفصل جواب کے لئے حضرت مولانا رحمتہ اللہ کیرانوی ؒ کی کتاب اظہار الحق کا مطالعہ کیا جائے جو مذہب عیسائیت کی حقیقت اور انجیل میں تحریفات اور باوجود تحریفات کے اس میں رسول اللہ ﷺ کی بشارتیں موجود ہونے کے متعلق بینظیر کتاب ہے، خود بڑے عیسائیوں کے مقولے چھپے ہوئے ہیں کہ اگر ”دنیا میں یہ کتاب شائع ہوتی رہی تو عیسائیت کا کبھی فروغ نہیں ہو سکتا“۔ یہ کتاب عربی زبان میں لکھی گئی تھی پھر ترکی، انگریزی میں اس کے ترجمے چھپے، مگر اس کے شواہد موجود ہیں کہ عیسائی مشن نے اس کتاب کو گم کردینے میں اپنی پوری کوشش صرف کی ہے، اس کا اردو ترجمہ اب تک نہیں ہوا تھا، حال میں اس کا اردو ترجمہ دارالعلوم کراچی کے مدرس مولانا اکبر علی صاحب نے اور تحقیقات جدیدہ مفید موجودہ زمانے کی مطبوعہ انجیلوں سے مولانا محمد تقی صاحب استاذ دارالعلوم نے لکھی ہیں جو تین جلدوں میں شائع ہوچکی ہے، اس کی تیسری جلد میں صفحہ 182 سے صفحہ 362 تک انہی بشارتوں کی تفصیل موجودہ انجیلوں کے حوالے سے اور شبہات کے جوابات مذکور ہیں۔
Ayah 61:10

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى تِجَارَةٍ تُنْجِیْكُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 61:10 in the Quran reader

اے ایمان والو ! میں بتلاؤں تم کو ایسی سوداگری جو بچائے تم کو ایک عذاب درد ناک سے

خلاصہ تفسیر (آگے اول جہاد کا ثمرہ آخرت پھر ثمرہ دنیویہ کا وعدہ کر کے ترغیب دیتے ہیں کہ) اے ایمان والو ! کیا میں تم کو ایسی سوداگری بتلاؤں جو تم کو ایک درد ناک عذاب سے بچا لے (وہ یہ ہے کہ) تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اللہ کی راہ میں اپنے مال و جان سے جہاد کرو، یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر ہے اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو (جب ایسا کرو گے تو) اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ معاف کرے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا کہ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور عمدہ مکانوں میں (داخل کرے گا) جو ہمیشہ رہنے کے باغوں میں (بنے) ہوں گے یہ بڑی کامیابی ہے اور (اس ثمرہ حقیقیہ اخرویہ کے علاوہ) ایک اور ثمرہ (دنیویہ) بھی ہے کہ تم اس کو (بھی خاص طور پر) پسند کرتے ہو (یعنی) اللہ کی طرف سے مدد اور جلدی فتح یابی ہے (اس کا خاص طور پر محبوب ہونا اس لئے ہے کہ انسان طبعاً ثمرہ عاجلہ بھی چاہتا ہے) اور (اے پیغمبر ﷺ آپ (ان تمام امور کی) مومنین کو بشارت دے دیجئے (چنانچہ فتح و نصرت کی پیشین گوئی کا ظہور اسلامی فتوحات سے ظاہر ہے آگے اصحاب عیسیٰ ؑ کا قصہ یاد دلا کر نصرت دین کی ترغیب دیتے ہیں کہ) اے ایمان والو ! تم اللہ کے (دین کے) مددگار ہوجاؤ (اس طریقہ سے جو تمہارے لئے مشروع ہے یعنی جہاد) جیسا کہ (حواربین اپنی شریعت کے طریقے کے موافق ناصر دین ہوئے تھے جبکہ لوگ کثرت سے عیسیٰ ؑ کے دشمن اور مخالفت تھے اور جبکہ) عیسیٰ بن مریم ؑ نے (ان) حواریین سے فرمایا کہ اللہ کے واسطے میرا کون مددگار ہوتا ہے، وہ حواری بولے ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں (چنانچہ ان حواریین نے دین کی یہ مدد کی کہ اس کی اشاعت میں کوشش کی) سو (اس کوشش کے بعد) بنی اسرائیل میں سے کچھ لوگ ایمان لائے اور کچھ لوگ منکر رہے (پھر ان میں باہم اختلاف مذہبی سے عداوت اور خانہ جنگیاں ہوئیں یا مذہبی گفتگو ہوئی) سو ہم نے ایمان والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلہ میں تائید کی سو وہ غالب ہوگئے (اسی طرح تم دین محمدی کے لئے کوشش اور جہاد کرو اور اگر ابتداء ان خانہ جنگیوں کی کفار کی طرف سے ہو تو اس سے دین عیسوی میں جہاد کا ہونا لازم نہیں آتا)
Ayahs 61:11–12

تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُجَاهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 61:11 in the Quran reader

ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور لڑو اللہ کی راہ میں اپنے مال سے اور اپنی جان سے یہ بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم سمجھ رکھتے ہو

یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ وَ یُدْخِلْكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُۙ Open ayah 61:12 in the Quran reader

بخشے گا وہ تمہارے گناہ اور داخل کرے گا تم کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں اور ستھرے گھروں میں بسنے کے باغوں کے اندر یہ ہے بڑی مراد ملنی

معارف و مسائل تُؤْمِنُوْنَ باللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَتُجَاهِدُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِكُمْ وَاَنْفُسِكُمْ ، اس آیت میں ایمان اور مجاہدہ بالمال والنفس کو تجارت فرمایا ہے، کیونکہ جس طرح تجارت میں کچھ مال خرچ کرنے اور محنت کرنے کے صلہ میں منافع حاصل ہوتے ہیں ایمان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جان و مال خرچ کرنے کے بدلے میں اللہ کی رضا اور آخرت کی دائمی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں، جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے کہ جس نے یہ تجارت اختیار کی اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا اور جنت میں اس کو پاکیزہ و بہترین مساکن و مکانات عطا فرما دے گا، جن میں ہر طرح کے آرام و عیش کے سامان ہوں گے جیسا کہ حدیث میں مساکن طیبہ کی تفسیر میں اس کا بیان آیا ہے، آگے آخرت کی نعمتوں کے ساتھ کچھ دنیا کی نعمتوں کا بھی وعدہ فرماتے ہیں۔
Ayah 61:13

وَ اُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا١ؕ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 61:13 in the Quran reader

اور ایک اور چیز دے جس کو تم چاہتے ہو مدد اللہ کی طرف سے اور فتح جلدی اور خوشی سنا دے ایمان والوں کو

(آیت) وَّاُخْرٰى تُحِبُّوْنَهَا ۭ نَصْرٌ مِّنَ اللّٰهِ وَفَتْحٌ قَرِيْبٌ، لفظ اخرٰی نعمت کی صفت ہے معنی یہ ہیں کہ آخرت کی نعمتیں اور جنت کے مکانات تو ملیں گے ہی جیسا کہ وعدہ کیا گیا ہے، ایک نعمت نقد دنیا میں بھی ملنے والی ہے وہ ہے اللہ کی مدد اور اس کے ذریعہ فتح قریب یعنی دشمنوں کے مالک کا فتح ہونا، یہاں قریب اگر بمقابلہ آخرت کے لیا جائے تو بعد میں آنے والی اسلامی فتوحات عرب و عجم کی سب اس میں داخل ہیں اور قریب عرفی مراد لیا جائے تو اس کا پہلا مصداق فتح خیبر ہے اور اس کے بعد فتح مکہ مکرمہ ہے اور اس فتح قریب کے متعلق تحبو نہا فرمایا یعنی یہ نقد نعمت تمہاری پسندیدہ اور محبوب ہے کیونکہ انسان فطری طور پر عجلت پسند واقع ہوا ہے، قرآن کریم میں ہے (آیت) وکان الانسان عجولا، یعنی ”ہے انسان جلد باز“ اس کا یہ مفہوم نہیں کہ آخرت کی نعمتیں ان کو محبوب نہ تھیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ آخرت کی نعمتوں کی طلب و محبت تو ظاہری ہے، مگر طبعی طور پر کچھ نقد نعمت دنیا میں بھی تمہیں مطلوب و محبوب ہے، وہ بھی عطا کی جائے گی۔
Ayah 61:14

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْۤا اَنْصَارَ اللّٰهِ كَمَا قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ لِلْحَوَارِیّٖنَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ فَاٰمَنَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ كَفَرَتْ طَّآئِفَةٌ١ۚ فَاَیَّدْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلٰى عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِیْنَ۠ Open ayah 61:14 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم ہوجاؤ مددگار اللہ کے جیسے کہا عیسیٰ مریم کے بیٹے نے اپنے یاروں کو کون ہے کہ مدد کرے میری اللہ کی راہ میں بولے یار ہم ہیں مددگار اللہ کے پھر ایمان لایا ایک فرقہ بنی اسرائیل سے اور منکر ہوا ایک فرقہ پھر قوت دی ہم نے ان کو جو ایمان لائے تھے ان کے دشمنوں پر پھر ہو رہے غالب۔

كَمَا قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِيّٖنَ مَنْ اَنْصَارِيْٓ اِلَى اللّٰهِ ، حواریین، حواری کی جمع ہے جس کے معنی مخلص دوست کے ہیں جو ہر عیب سے پاک و صاف ہو (روح ازازہری) اسی لئے جو لوگ عیسیٰ ؑ پر ایمان لائے ان کو حواری کہا جاتا ہے اور وہ بارہ آدمی تھے جیسا کہ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ اس آیت میں زمانہ عیسیٰ ؑ کے ایک واقعہ کا ذکر کر کے مسلمانوں کو اس کی ترغیب دی گئی ہے کہا اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کے لئے تیار ہوجائیں، جیسا کہ عیسیٰ ؑ جب دشمنوں سے تنگ آئے تو لوگوں سے کہا من انصاری الی اللہ، یعنی اللہ کے دین کی اشاعت میں کون میرا مددگار ہوتا ہے جس پر بارہ آدمیوں نے وفا داری کا عہد کیا اور پھر دین عیسوی کی اشاعت میں خدمات انجام دیں، تو مسلمانوں کو بھی چاہئے کہ اللہ کے دین کے انصار و مددگار بنیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس حکم کی تعمیل ایسی کی کہ پچھلی امتوں میں اس کی نظیر نہیں ملتی، رسول اللہ ﷺ کی مدد اور دین کی خاطر سب عرب و عجم سے دشمنی خریدی، ان کی ایذائیں سہیں، اپنی جان و مال اور اولاد کو اس پر قربان کیا اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے اپنی فتح و نصرت سے نوازا اور سب دشمنوں پر ان کو غالب فرمایا ان کے ممالک ان کے ہاتھ آئے اور دنیا کی فرمانروائی بھی ان کو نصیب ہوئی۔ فَاٰمَنَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ مِّنْۢ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ وَكَفَرَتْ طَّاۗىِٕفَةٌ ۚ فَاَيَّدْنَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا عَلٰي عَدُوِّهِمْ فَاَصْبَحُوْا ظٰهِرِيْنَ عیسائیوں کے تین فرقے بغوی نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ کو آسمان میں اٹھا لیا تو عیسائیوں میں تین فرقے ہوگئے، ایک فرقہ نے کہا کہ وہ خود خدا ہی تھے آسمان میں چلے گئے، دوسرے فرقہ نے کہا کہ وہ خدا تو نہیں بلکہ خدا کے بیٹے تھے اللہ نے ان کو اٹھا لیا اور دشمنوں پر فوقیت دیدی، تیسرے فرقہ نے وہ بات کہی جو صحیح اور حق ہے کہ وہ نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو دشمنوں سے حفاظت اور رفعت درجہ کے لئے اٹھا لیا، یہ لوگ صحیح مومن تھے، تینوں فرقوں کے ساتھ کچھ عوام لگ گئے اور باہمی نزاع بڑھتے بڑھتے باہم قتال کی نوبت آگئی، اتفاق سے دونوں کا فرفرقے مومنین پر غالب آگئے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول خاتم الانبیاء ﷺ کو مبعوث فرمایا جنہوں نے اس مومن فرقہ کی تائید کی اس طرح انجام کار وہ مومن فرقہ بحیثیت حجت و دلیل کے غالب آ گیا (مظہری) اس تفسیر کے مطابق الذین آمنوا سے .... مومنین امت عیسیٰ ؑ ہی مراد ہوں گے جو حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی تائید و حمایت سے مظفر و منصور ہوں گے (مظہری) اور بعض حضرات نے فرمایا کہ رفع عیسیٰ ؑ کے بعد عیسائیوں میں دو فرقے ہوگئے، ایک عیسیٰ ؑ کو خدا یا خدا کا بیٹا قرار دے کر مشرک ہوگیا، دوسرا صحیح دین پر قائم رہا جو ان کو اللہ کا بندہ اور رسول کہنے کا قائل تھا، پھر ان مشرکین و مومنین میں باہم جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مومنین امت عیسیٰ ؑ کو اس امت کے کافروں پر غالب کردیا، مگر مشہور یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے مذہب میں جہاد دو قتال کا حکم نہیں تھا، اس لئے مومنین کا قتال کرنا بعید معلوم ہوتا ہے (روح المعانی) مگر اوپر خلاصہ تفسیر میں اس کے جواب میں اشارہ کردیا گیا ہے کہ اس کا امکان ہے کہ جنگ کی ابتداء کفار نصاریٰ کی طرف سے ہوئی ہو اور مومنین مدافعت پر مجبور ہوگئے ہوں، تو یہ جہاد دوقتال کے حکم میں نہیں آتا، واللہ اعلم تمت سورة الصف بحمد اللہ وعونہ للحادی والعشرین من جمادی الاولے ٰ س 1391 ھ یوم الخمیس و یتلوھا انشآء اللہ