Ayah 60:1ایمان والوں کو حکم کہ تم میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنائو
1 ؎ یہ خطاب عام ایمان والوں سے ہے اور آیت کا مضمون اس پر دال ہے کہ ایمان والوں میں سے وہی لوگ اس سے مراد ہیں جن سے اس طرح کی کوئی کمزوری سرزد ہوئی کہ ہجرت کے بعد مدینہ کی خبریں انہوں نے مکہ والوں کو پہنچائیں اور مکہ والوں سے جو حقیقت میں ان کے عزیز و اقارب ہیں انہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں محبت کا اظہار کیا اور وہ اظہار محبت ایسا تھا جو من حیث القوم کسی مسلمان کو کسی کافر سے کرنے کا حق نہیں ہے خواہ وہ کتنا عزیز و اقارب سے تعلق رکھتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے مفسرین نے ایک صحابی کی نشاندہی کی ہے اور ان کا نام اور تعارف بھی واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کرایا ہے لیکن ہم اس سے قبل ایک بار سے زیادہ بار یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ صحیح ہے کہ صحابہ کرام ؓ میں سے کوئی شخص بھی کسی انسانی کمزوری کا مرتکب ہوا ہو یہ بات ممکن ہے اور صحابہ کرام ؓ میں سے کوئی شخص بھی معصوم عن الخطا نہیں تھا لیکن اس کے باوجود ان کا مقام بہت ارفع و اعلیٰ ہے اور گزرے ہوئے واقعات میں اگر کسی کمزور پہلو میں کسی کا نام آیا ہے تو ہم کو اس کے اظہار کی کوئی ضرورت نہیں جب کہ یہ بات بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ اس بیان سے مراد محض موجود دو کے لوگوں کی تفہیم ہے کہ انسان خواہ کتنا ہی بڑا ، اچھا اور نیک کیوں نہ ہو اس سے غلطی کا امکان ہو سکتا ہے اور جب کوئی شخص اپنی غلطی کا اعتراف خود کرلیتا ہے تو اس کا وہ گناہ اس لیے ہلکا ہوجاتا ہے کہ اس کی اس نے معافی طلب کرلی ہے اور پھر جب ان کی غلطیوں کی اصلاح کا سرٹیفکیٹ بھی قرآن کریم نے پیش کردیا تو اب بطور تذکرہ سبق حاصل کرنے کے لیے ہے اگر اس کا ذکر ضروی ہو تو بھی ان ناموں کا استعمال کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ عام مسلمانوں کو مخاطب کر کے بات کرنے میں ایک سے زیادہ مصلحتیں پنہاں ہوتی ہیں اور مصلحت سے کام لینا جب کہ وہ جھوٹ یا گناہ کی بات بھی نہ ہو تو بعض اوقات ضروری اور لازم ہے اور مصلحت سے کام نہ لیتا بیوقوفی اور غلطی تصور ہوتی ہے ۔ زیر نظر آیت میں ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ ” اے ایمان والو ! میرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنائو ‘ ‘ اس وقت اگر ان مملکتوں کا تجزیہ کیا جائے جو اسلامی مملکتوں کے نام سے معروف ہیں تو آپ کسی ایک مملکت اسلامی کے متعلق بھی یہ نہیں کہہ سکتے کہ فلاں مملکت اسلامی میں قرآن کریم کی اس آیت کے مطابق عمل ہو رہا ہے اور ہم نے من حیث القوم قرآن کریم کے اس حکم کی پابندی کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔ ہمارے نئے مفسرین ہوں یا پرانے کسی نے اپنے دور کے مسلمانوں کا تجزیہ کر کے پیش نہیں کیا اور نہ ہی اس کی طرف اشارہ کیا ہے وہی ایک بات دہرائی گئی ہے کہ فلاں صاحب نے مدینہ سے خط لکھا جو مشرکین مکہ کے فلاں صاحب کے نام تھا ، نبی کریم ﷺ نے جو بات صیغہ راز میں رکھی تھی اس کو ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہ خط راستے میں پکڑ لیا گیا اور فلاں فلاں صاحب نے اس طریقہ سے اس خط کو پکڑا ۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور اس آیت کو نمازوں اور حکومت کی مخصوص مجلسوں میں تلاوت کیا جاتا ہے جن مجلسوں میں وہ سارے لوگ جمع ہیں جو بدستور کفر سے پینگیں چڑھا رہے ہیں ، اور قرآن کریم کی آیت کو سن کر جھوم رہے ہیں اور ان میں سے کتنے ہیں جن کو اس بات کی خبر ہی نہیں کہ اس آیت میں ہمارے لیے کیا سبق ہے ؟ اور کتنے ہیں جو محض شان نزول والے آدمی ہی کے لیے اس کو مخصوص سمجھتے ہیں ، اپنے زمانہ کے مسلمانوں کی طرف یعنی اپنی طرف کبھی ان کا خیال بھی نہیں کیا گیا ہم تو خود اس جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمارے مسلمان حکمرانوں کو اس بات کی توفیق دے کہ وہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق اپنی اصلاح کریں اور اس جرم کے مرتکب نہ ہوں۔
” تم ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو اور وہ اس دین ( قانون) ہی سے منکر ہیں جو تمہارے پاس آیا ہے “ آج ہماری حالت کیا ہے ؟ ہم کافروں کو صرف دوستی کا پیغام ہی نہیں بھیجتے بلکہ ان کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں کہ صاحب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟ پھر جو حکم وہاں سے ملتا ہے اسی کے مطابق عمل پیرا ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہم نے مرنے والوں کے لیے مخصوص کردیا ہے کہ جو ہم میں سے مر جائے اس کو بخشوانے کے لیے اس کی تلاوت کر کے زیادہ سے زیادہ قرآن ختم کر کے اس کے لے ثواباکٹھا کر کے اسلامی پنڈت جی کے ذریعہ اس تک بھجوا رہے ہیں ۔ ملک کے اندر ہر طرف بدامنی اور انارکی پھیل رہی ہے اور اس بد امنی اور انارکی میں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور جہاں امن وامان ہے وہاں ہم بد امنی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اسلامی مملکتیں اسلام کا نام رکھ کر غیر مسلمانوں کے سہارے اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے سامان جنگ خرید رہے ہیں تاکہ اس سے ان کو تہس نہس کردیا جائے اور غیر اسلامی حکومتیں اپنے اسلحہ کو بیچنے کے لیے دونوں مملکتوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں اور دونوں پر یہ پابندی (CTBT) لگا رکھی ہے کہ خبردار ! اگر تم نے اپنے ہاں اسلحہ تالر کیا تو تم کو وہ مار دی جائے گی جو زمانہ میں کسی کو نہ دی گئی ہو۔
فرمایا ” وہ لوگ تو رسول اللہ ﷺ اور دوسرے مسلمانوں کو نکالتے ہی محض اس بات پر ہیں کہ تم اللہ پر جو تمہارا رب ہے ایمان لائے ہو “۔ اس وقت بلا شبہ یہ بات مکہ کے مشرکوں ہی کی تھی اور انہوں نے اپنی اعظم و آخر ﷺ کو اور دوسرے مسلمانوں کو نکالنے کی کوشش کی تھی لکن اس وقت جو کفر کی تحریکیں ہیں اور خصوصاً یہودیت و عیسائیت کا گٹھ جوڑ ہے وہ کیوں ہے ؟ محض مسلمانوں کی خاطر لیکن کیا مسلمانوں نے اس بات پر کبھی من حیث القوم بھی غور و فکر کرنے کی سعی و کوشش کی ہے کہ ان دونوں گروہوں یعنی یہود اور نصاریٰ کی تو کوئی بات بھی آپس میں نہیں ملتی لیکن اس کے باوجود دونوں آپس میں ایک کیسے ہیں ؟ تو یقین سے یہی کہنا پڑے گا کہ مسلمانوں کی مخالفت میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ محبت کر رہے ہیں کہ اسلام کو دونوں دشمن سمجھتے ہیں لیکن مسلمانوں نے ان کو اپنا دوست سمجھ رکھا ہے اور ان کے پائوں پڑے ہوئے ہیں ۔ گویا قرآن کریم نے جس بات سے مسلمانوں کو روکا ہے آج مسلمان وہی کچھ کر رہے ہیں اور ہم اس لعنت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں جو مغربی ممالک ان پر مسلط کردیں ۔ آپ اپنے ملک کے حالات پر غور کر کے سب کچھ سمجھ سکتے ہیں کہ ہماری زندگی کا وہ کونسا شعبہ ہے جو ان کی ہدایات کے مطابق نہیں چل رہا ۔ حکومت کے ایوانوں سے لے کر مجسٹریٹوں کی عدالتوں کے چپڑاسیوں تک سب انہیں کے قانون کے پابند ہیں اور رشوت کا کاروبار اس پر اضافہ ہے۔ ہاں ! اب رشوت کو رشوت نہیں کہا جاتا بلکہ اس کو حق سمجھا جاتا ہے۔
فرمایا ” اگر تم میری راہ میں لڑنے کے لیے اور میری رضا کی تلاش میں نکلے ہو تو پھر ان کی طرف چپکے چپکے دوستی کے پیغام بھیجتے ہو “ مطلب یہ ہے کہ تمہارا دعویٰ کیا ہے اور تم کر کیا رہے ہو ؟ دعویٰ ایمان کا اور کام سارے کفر کے ۔ کیا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے اور اللہ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے کافروں پر انحصار رکھنا بھی کبھی ضروری ہو سکتا ہے ؟ تعجب ہے تم پر کہ تم کہتے کیا ہو اور کرتے کیا ہو ۔ وہاں تو صرف ایک خط کی بات تھی اور یہاں تو پورے نظام کا معاملہ ہے۔ وہاں تو خط بھیجنے یا لکھنے والوں کے درمیان حسب و نسب میں قریبی رشتہ داری بھی موجود تھی اور یہاں تو اس طرح کی کوئی بات بھی موجود نہیں ہے۔ وہاں تو انہوں نے یعنی مشرکین مکہ نے اپنی اکثریت کے بل پر اپنے ملک سے اقلیت کو نکالا تھا اور یہاں تو اقلیت اکثریت کو ان کے گھروں سے نکالنے کے درپے ہے۔ وہاں دونوں فریقین میں حالت جنگ تھی اور یہاں تو جنگ کا کوئی شائبہ بھی موجود نہیں صرف یہود و نصاریٰ اسلام کے نام سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ اس کو بدل دینا چاہتے ہیں حالانکہ انہوں نے مسلمانوں کے پورے کردار کو تو پہلے ہی بدل کر رکھ دیا ہے اور سوائے نام کے مسلمانوں کی اکثریت میں ایک بات بھی اسلام کی نہیں رہ گئی بلکہ اس وقت آج سے پندرہ سو سال پہلے جو یہود و نصاریٰ کی حالت تھی وہی آج کل ہمارے مسلمانوں کی حالت زارہو کر رہ گئی ہے ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کی بعثت سے قبل اہل کتاب کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لو ، اس کی ورق گردانی کرتے جائو اور اپنی حالت کا جائزہ لیتے جائو اگر وہ حرف حرف (Fit) نہ ہوتی گئی تو پھر بات کرنا ، ہم نے پیچھے سورة الحدید کی آیت 27 میں اہل کتاب کے فرقوں اور ان کے رسم و رواج اور مذہبی حالت کا مختصر ذکر کیا ہے اس کو دیکھ لو اور تقابل کرلو کہ آج ہماری کیا حالت ہے۔
فرمایا ” مجھے خوب معلوم ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو “۔ یہ اس وقت ان کی حالت کا بیان تھا اور آج ہماری حالت کیا ہے اور آنے والے دور میں آنے والے مسلمانوں کا اسی سے جائزہ لیا جائے گا کیونکہ یہ ابدی تعلیم ہے ، ان کے لیے بھی تھی ، ہمارے لیے بھی ہے اور آنے والوں کے لیے بھی اسی طرح رہے گی ۔ اللہ تعالیٰ ان مسلمانوں کی حالت کو بھی جانتا ہے جو صدر اول میں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھے اور آج ہماری حالت سے بھی وہ پوری طرح با خبر ہے اور آنے والوں کی حالت کو بھی وہ خوب جانتا ہے اور کسی شخص کی کوئی بھی بات اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ ان کو بھی ایک وقت تک ڈھیل دی گئی اور ہم کو بھی ڈھیل دی جا رہی ہے ۔ وقت آنے پر ان کا ہمارا اور دوسرے آنے والوں سب کا فیصلہ ہوجائے گا اور سب کو اپنی اپنی حالت سے آگاہی ہوگی اگرچہ وقت گزرنے کے بعد اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔
فرمایا ” تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا “ یہ ان کی بات بھی تھی ، ہماری بھی ہے اور آنے والوں کی بھی ہوگی۔ جس شخص نے بھی ایسا کیا لاریب وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا ۔ ان کی حالت جو تھی وہ بحمد اللہ سنبھل گئے اور ہماری حالت جو ہے اس کے متعلق ہم نے کبھی سوچا تک بھی نہیں کہ ہم اس جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ ہم پہلوں کی بات ہی کرتے آئے ہیں اور انہیں کی کرتے رہیں گے ، ہم نے کبھی بھول کر بھی اس بات کا خیال نہیں کیا کہ اس آیت کے ہم بھی مخاطب ہیں اور پھر کبھی ہمارے بعد آنے والے بھی ہوں گے ۔ ہماری قارئین سے درخواست ہے کہ ایک بار پھر پوری آیت کا خلاصہ اپنی موجودہ حالت کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے خود تیار کریں۔ یہ بات آپ کے حق میں ان شاء اللہ العزیز بہت مفید ہوگی ۔ اگر آپ ملک میں کسی اہم عہدہ پر فائز ہیں تو آپ کی ذمہ داری اتنی ہی زیادہ ہے جتنا آپ کا عہدہ اور منصب بڑا ہے اور آپ اپنی ذمہ داری سے تغافل کریں گے تو یہ بات آپ کے حق میں نہایت مہلک ثابت ہوگی۔
Ayah 60:2کفار اگر تم پر قابو پا لیں گے تو تمہاری طرف ہاتھ اور زبانیں کھول دیں گے
2 ؎ ( یثقفوکم ) وہ تم پر قابو پا لیں ۔ وہ تم پر کامیاب ہوجائیں ، اس کا مادہ ث قہے اور ثقف کے معنی کسی چیز کے پانے ۔ اس پر کامیاب ہونے کے ہیں ، ماضی کا صیغہ جمع مذکرغائب اور کم جمع مذکر حاضر یعنی وہ تم پر قابو پا لیں اور تمہارے مقابلہ میں کامیاب ہوجائیں ۔ تو تم کو دشمنی کا مزہ چکھائیں گے اور ایسی بربریت کا مظاہرہ کریں گے کہ تمہارے ہوش و حواس اڑا کر رکھ دیں گے اور اس طرح کا پروپیگنڈا کریں گے کہ تمہارے خلاف ماحول کو مکدر کرلیں گے کہ تم حیران و ششدر ہو کر رہ جائو گے ۔ وہ تم پر وہ الزام لگائیں گے اور اس طرح بہتان تراشیں گے کہ تمہارے خلاف آگ بھڑکا دیں گے اور تم کو مجبور کریں گے کہ تم بھی کفر کرنے لگو جیسا کہ وہ خود کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ اس کی وضاحت دراصل پیچھے ہم عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم سورة التوبہ کی آیت 8 میں بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں لیکن افسوس کہ اس وقت ہمارے مکاتب فکر کے ہاں جو دشمنی روا رکھی گئی ہے وہ ان کی دشمنی سے بھی زیادہ خوفناک صورت اختیار کرچکی ہے حالانکہ سارے مکاتب فکر ایک ہی دین و ملت سے وابستگی کا دعویٰ کرتے ہیں ۔
Ayah 60:3اولاد اور رشتہ داریاں قیامت کے روز کسی کو عذاب الٰہی سے نہیں بچائیں گے
3 ؎ اولاد اور رشتہ داریوں کی محبت میں جو کچھ کہا جاتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے لیکن قرآن کریم نے اس کی بار بار اور مختلف پیرایوں میں وضاحت کی ہے کہ اولاد کی محبت ہو یا عزیز و اقارب کی اس کی دین اسلام کے مقابلہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے اور اگر کسی نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے مقابلہ میں ان کو زیادہ اہمیت دے دی تو وہ سراسر خسارے میں رہا اور یہ خسارہ وہ خسارہ ہے جس کو پورا ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے ۔ اس کی وضاحت عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم میں سورة التوبہ کی آیت 23 ، 24 میں کردی گئی ہے اور آگے اسی زیر نظر جلد میں مزید تفصیل آئے گی جیسا کہ سورة المعارج اور سورة عبس میں غور کرو کہ ایمان کی دولت کتنی بڑی دولت ہے اگر کوئی اس کی اہمیت دے لیکن شاید اس وقت یہ باتیں صرف کہنے تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہیں ۔ بلا شبہ اپنے بچوں بیوی اور قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق آسان کام نہیں ہے لیکن ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اگر کوئی شخص سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے تو جب ایمان کا اولاد اور دوسرے عزیز و اقارب سے مقابلہ ہوجائے تو ایمان کو بچا لے اور باقی سب کو چھوڑ دے تو اسی کا نام ایمان ہے لیکن ایمان کا پھر تقاضا ہے کہ انسان اپنے عزیز و اقارب اور بیوی بچوں کے حقوق کو پورا کرے اس لیے یہ صورت حال اس وقت ہوگی جب کہ ان کے درمیان مقابلہ ہوجائے اگر مقابلہ نہ ہو تو محض ان کے مشرک ہونے یا کسی دوسرے دین و ملت سے تعلق رکھنے کے باعث ان کے حقوق کو ادا کرنا نہایت ضروری ہے اور اسلام نے اس سے قطعاً منع نہیں کیا بلکہ صلہ رحمی کا درس دیا ہے ۔ اگر اس کی مزید وضاحت چاہتے ہوں تو تقابل کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 8 ، سورة لقمان کی آیت 15 بھی ملاحظہ کریں ۔ اس کے متعلق جو اسوہ حسنہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے قائم کیا ہے وہ ایک بہترین مثال ہے اور اس کا ماحصل یہ ہے کہ جس شخص کے والدین پکے مشرک ہوں وہ بھی والدین کے لیے ان کی زندگی میں مغفرت طلب کرتا رہے اور اس مغفرت طلب کرنے کا مفہوم واضح ہے کہ وہ ان کے ایمان لانے کی دعا محمول ہوگا جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ سے واضح ہو رہا ہے۔ وضاحت کے لیے دیکھیں عروۃ الوثقیٰ جلد چہارم سورة ابراہیم آیت 40 ، 41 جلد پنجم سورة مریم کی آیت 47 ، 48۔
Ayah 60:4سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کا تفصیلی ذکر
4 ؎ ( اسوۃ) کی اصل اس و ہے جس کے معنی چال ، ڈھنگ ، نمونہ اور عمل کے ہیں ۔ یہ اسم ہے غیر کی اتباع اور پیروی میں انسان جس چال پر ہوتا ہے اس کا نام اسوۃ ہے خواہ وہ اچھی ہو یا بری ، منفعت پہنچانے والی ہو یا ضروررساں ( اسوۃ) کا لفظ قرآن کریم میں تین بار استعمال ہوا ہے اور ہر بار ( اسوۃ) کے ساتھ ( حسنۃ) کا لفظ آیا ہے ۔ زیر نظر آیت میں بھی ( اسوۃ حسنۃ) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں اسوۃ حسنہ ہے اور ان لوگوں کی زندگی میں بھی جو آپ کے ساتھ تھے ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم کی ہدایت کے لیے کس درجہ مضطرب تھے اور کتنے بےچین تھے اس کا تذکرہ پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے ۔ دلائل وبراہین کی وہ کون سی صورت ہو سکتی ہے جو انہوں نے حق کے آشکار کرنے میں صرف نہ کردی ہو ؟ سب سے پہلے اپنے آپ آزر کو سمجھایا پھر جمہور کے سامنے حق کی روشنی میں پیش کیا اور آخر میں نمرود کے ساتھ مناظرہ کر کے اس کے سامنے بھی احقاق حق کو بہتر سے بہتر اسلوب کے ساتھ ادا کیا اور ہر لمحہ سب کو یہی تلقین کی کہ خدائے واحد کے علاوہ کسی کی پرستش جائز نہیں اور اصنام پرستی اور کو اکب پرستی کا نتیجہ خسران اور ذلت کے سوا دوسرا نہیں ہے اس لیے شرک سے باز آنا چاہئے اور ملت حنفیہ ہی کر صراط مستقیم سمجھنا چاہئے جس کی اساس و بنیاد صرف ’ ’ توحید الٰہی “ پر قائم ہے۔ مگر بد بخت قوم نے کچھ نہ سنا اور کسی طرح رشد و ہدایت کو قبول نہ کیا اور ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی بیوی سارہ ؓ اور آپ کے برادر زادہ سیدنا لوط (علیہ السلام) کے علاوہ شاید کوئی دوسرا ایمان نہ لایا اور اگر کوئی ایمان لانے والا ان کے علاوہ بھی تھا تو بہر حال بہت ہی کم لوگ تھے اور باقی تمام قوم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے خلاف عام علاقے میں آگ لگا دی لیکن اللہ تعالیٰ نے اس آگ سے ابراہیم (علیہ السلام) کو امن وامان میں رکھا بلکہ اس آگ کو آگ ہی نہ رہنے دیا اور آپ کے دشمنوں کے ارادوں کو ذلیل و رسوا کردیا اور ابراہیم (علیہ السلام) کا بال بھی بیکا نہ ہونے دیا ۔ اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) نے ان چند ایمان لانے والوں کو ساتھ لے کر وہاں سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ چلے جانے کا پہتس ارادہ کرلیا۔
اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد بزرگوار آزر اور قوم کے دوسرے لوگوں سے جدا جدا ہو کر اپنے ساتھیوں سمیت فرات کے غربی کنارہ کے قریب ایک بستی میں چلے گئے جو کلدانیوں کے نام سے معروف تھی یہاں کچھ عرصہ قیام کیا اور اس کے بعد اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کر خراسان یا حران کی طرف روانہ ہوگئے ۔ اس میں مزید اسوہ حسنہ یہ ہے کہ جس والد نے آپ کو اپنے یہاں سے نکل جانے کی دھمکی دی کہ خیریت چاہتے ہو تو یہاں سے نکل جائو ورنہ آپ کو پتھر مار مار کر ہلاک کردیا جائے گا ۔ آپ نے وہاں سے نکل جانا پسند کیا اور وہاں سے نکل گئے لیکن ایک عرصہ تک برابر اپنے والد ماجد کے لیے بارگاہ الٰہی سے ہدایت کے لیے دعا کرتے رہے اور دعا کا سلسلہ اس وقت تک جاری رکھا جب تک وہ زندہ رہا اور اس کے مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے دعا سے روک دیا کیونکہ دعا کا ماحصل ان کی ہدایت تھی اور مرنے کے بعد کسی کو ہدایت نہیں دی جاسکتی اور نہ ہی کوئی شخص ہدایت حاصل کرسکتا ہے ۔ آپ کا شاندار اسوہ حسنہ یہی ہے کہ آ زر کی جانب سے ہر قسم کی عداوت کے مظاہروں کے باوجود انہوں نے نکلتے وقت آزر سے وعدہ کیا تھا کہ اب میں تجھ سے جدا ہو رہا ہوں اور افسوس کہ تو نے اللہ تعالیٰ کی رشد و ہدایت کی طرف توجہ نہ دی تا ہم میں تیرے لیے دعا کرتا رہوں گا اس لیے آپ نے دعا کا سلسلہ جاری رکھا یہاں تک کہ وحی الٰہی نے مطلع کیا کہ آزر ایمان لانے والا نہیں ہے اور یہ انہی اشخاص میں سے ہے جنہوں نے اپنی نیک استعداد کو فنا کر کے خود کو اس کا مصداق بنا لیا ۔ ” اللہ نے مہر لگا دی ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے “۔ ( البقرہ)
زیر نظر آیت میں بھی ارشاد فرمایا کہ ” جب انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور ان سے جن کو تم اللہ کے سوا معبود سمجھتے ہو بیزار ہیں اور ہم تم سے منحرف ہیں اور ہمارے اور تمہارے درمیان اس وقت تک ایک کھلی دشمنی اور بغض پیدا ہوگیا ہے جب تک تم ایک اللہ پر ایمان نہ لے آئو “ اس طرح گویا ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے صاف صاف اعلان کردیا کہ اے ہماری قوم کے کافرو ! خونی رشتے ، قریبی تعلقات ، سابقہ دوستیاں اور بھائی چارے ہم ان سب کو یک قلم منسوخ کرتے ہیں جب تک تم کفر سے باز نہیں آئو گے ہم تمہارے دشمن رہیں گے اور تمہیں نیچا دکھانے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے ۔ ہم سے اب پیار اور محبت کی توقع عبث ہے ۔ ہاں ! اگر تم راہ راست پر آ جائو اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرلو تو گویا ہم تمہارے اور تم ہمارے ہوگئے علاوہ ازیں اب کوئی گنجائش نہیں ہے۔ (الا) اس جگہ استثنایہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے اسوہ حسنہ کی پیروی تم کرو لیکن ایک بات اس میں سے مستثنیٰ ہے وہ یہ کہ والدین ہوں یا عزیز و اقارب جب وہ وفات پا جائیں تو ان کے لیے اب دعائے مغفرت نہ کرو اور سمجھ لو کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے والد کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہے تھے ۔ اس کے متعلق جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع دے دی کہ اس کی بخشش نہیں ہوگی تو انہوں نے دعا کرنا چھوڑ دیا تھا اور جب وعدہ کیا تھا اس وقت یہ بات کہہ دی تھی کہ میں دعا تو آپ کے لیے کرتا رہوں گا لیکن میں اللہ تعالیٰ سے اس بات کا اختیار نہیں رکھتا کہ ضرور تیری مغفرت کرا لوں گا ۔ تا ہم زندگی میں ہدایت قبول کرنے کی دعا کی جاسکتی ہے اگر اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمادے اور وہ ہدایت پا جائیں تو زہے قسمت ورنہ دعا کرنا ترک کردیا جائے ۔ آخر میں آپ نے ارشاد فرمایا کہ ” اے ہمارے رب ! ہم نے تمہیں پر بھروسہ کیا اور ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف لوٹنا ہے “ یہ اس وقت کی دعا ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے اپنی قوم سے قطع تعلق کرنے کے بعد رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں دست دعا پھیلائے کہ الٰہی ! ہم نے تو اب سارے سہارے ختم کردیئے ہیں اور اب ہمارا بھروسہ صرف تیری ذات پر ہے ۔ ہم نے دنیا بھر سے منہ موڑ کر اپنا رخ صرف اور صرف تیری طرف کرلیا ہے اور ہم کو یقین ہے کہ ہم نے ایک روز تیرے پاس لوٹ کر آنا ہے۔
Ayah 60:5اے ہمارے رب ! ہمیں کافروں کے لیے فتنہ مت بنا دے
5 ؎ زیر نظر آیت میں ایک خاص دعا کا تذکرہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) بارگاہ الٰہی میں دست طلب دراز کیے ہوئے عجز و نیاز کے ساتھ یہ عرض کر رہے ہیں کہ ” اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ان لوگوں کے لیے (فتنۃ) مت بنا جو کافر ہیں “ (فتنۃ) فتن سے مآخوذ ہے۔ جب سونے کو اس لیے آگ میں تپاتے ہیں کہ کھوٹ اور میل جل کر خالص سونا باقی رہ جائے تو اس کے لیے ” فتن الذھب “ بولتے ہیں ۔ اب اصلاح میں امتحان اور آزمائش اور پرکھ کو کہتے ہیں اور اسی لیے حضرت انسان پر جو شدائد و مصائب آتے ہیں وہ اسی مناسبت سے ( فتنۃ) کہلاتے ہیں ۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ مال ، اولاد اور منصب و جاہ کو بھی اسی معنی کے پیش نظر ( فتنہ) کہا ہے اور صاف صاف اعلان کیا ہے کہ صادق و کاذب کی جانچ کے لیے ” مومن “ کو اس کسوٹی پر ضرور پرکھا جائے ۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ : (احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون) ( العنکبوت) ” کیا تم لوگوں نے یہ گمان کرلیا ہے کہ جو لوگ دعویٰ ایمان کرتے ہیں وہ یوں ہی چھوڑ دیئے جائں) گے اور آزمائے نہ جائیں گے “ ۔ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا ہے کہ : (وقاتلو ھم حتیٰ لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ) ( الانفال) ” اور ان مشرکوں سے جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ مٹ جائے اور دین سب کا خالص اللہ کے لیے رہ جائے “ ۔ اب قابل توجہ بات یہ ہے کہ اس دعائے ابراہیمی سے اصل مراد کیا ہے ؟ اور وہ کافروں کے لیے فتنہ نہ بننے سے متعلق کیا خواہش رکھتے ہیں ؟ اس سوال کے تین طرح جواب دیئے گئے ہیں قارئین ان تینوں پر غائر نظر ڈالنے کے بعد فیصلہ خود کرلیں کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ دعا اپنی وسعت اور دقیق تعبیر کے لحاظ سے بیک وقت تینوں باتوں پر حاوی نظر آتی ہے یا کسی ایک پر ؟ پھر جو فیصلہ وہ خود فرما لیں ۔
(1) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) درگاہ رب ذوالجلال والاکرام میں یہ دعا کر رہے ہیں کہ اے پروردگار عالم ! مجھ کو وہ زندگی عطا فرمادے کہ میرا قول و عمل اور میری رفتار و گفتار ” اسوہ حسنہ “ کی تعبیر میں ہو اگر ہادی بنوں تو پھر اسوہ حسنہ کا اور مجھ کو قیادت نصیب ہو تو رشد و ہدایت کی اور پھر اس پر استقامت عطا فرما ایسا نہ ہو کہ میں اسوہ حسنہ کا رہنما اور قائد بن جائوں اور فردائے قیامت میں امت کے گمراہ اور کافر تیرے حضور مجھ کو یہ کہہ کر شرمندہ کریں ( ربنا انا اطعنا سادتنا و کبراء نا فاضلونا السبیلا) (الاحزاب) ” اے ہمارے پروردگار ! اس میں ذرا شک نہیں ہے کہ ہم نے اپنے قائدین اور اپنے بڑوں کی پیروی اختیار کرلی تھی پس انہوں نے ہم کو راہ سے بےراہ کیا “۔ گویا وہ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اگر رہنمائی اور قیادت ان کا نصیب ہے تو پھر وہ اسوہ اور قدوہ چھوڑ کر جائیں کہ کل کے دن ’ ’ اولیاء الرحمن “ کے زمرہ میں جگہ ملے اور ان کی زندگی کا راز ” اولیاء الشیاطین “ کے ساتھ عداوت بن جائے ۔ زیر نظر آیت پر غور کریں کہ اس کا سیاق وسباق اس معنی کی پوری پوری تائید کرتا ہے اور پھر آپ کو اسوہ حسنہ کے ساتھ آپ کے ساتھیوں کے اسوہ ٔ حسنہ کا تذکرہ بطور تقویت ذکر کیا گیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ بھی آپ کے سچے پیروکار تھے۔
(2) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اپنے ان جامع کلمات میں بارگاہ رب ذوالجلال والاکرام سے اس کے طالب ہیں کہ اے اللہ ! تو ہم کو کافروں کے ہاتھوں آزمائش کے لیے مت چھوڑ دینا کہ وہ ہم کو ایمان سے برگشتہ اور کفر کے قبول کرنے کے لیے طرح طرح کے مصائب و آلام کا شکار بنائیں اور جبر و ظلم کے ذریعہ راہ سے بےراہ بنانے پر آمادہ دلیر ہوجائیں ۔ اس معنی کا قرینہ یہ ہے کہ آیت زیر عنوان سے قبل یہ ذکر آچکا ہے کہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی امت اجابت نے ذی اقتدار اور با اختیار کافرو مشرک جماعت کے سامنے جرأت حق کے ساتھ یہ اعلان کردیا کہ ہم تمہارے معتقدات کے قطعا ً منکر ہیں جیسا کہ ( کفرنا بکم) کے الفاظ سے گزر چکا ہے اور یہ ہمارے اور تمہارے درمیان اسلام کے اقرار و انکار اور قبول و عدم قبول کے لیے کھلا چیلنج ہے تو اس صورت حال میں از بس ضروری تھا کہ ایک با خدا انسان ، جلیل القدر پیغمبر ، عظمد المرتبہ ، ہادی اپنی انسانی کمزوریوں پر نظر رکھتے ہوئے بارگاہ خداوندی میں دست بدعا ہو کہ اے لازوال قدرت کے مالک ! تو کسی طرح اور کسی حالت میں بھی کافروں کو ہم پر غلبہ نہ عطا فرما اور کافر کسی شکل میں بھی ہم پر ایسے قابو یا فتنہ نہ ہو سکیں کہ ایمان و کفر سے متعلق ہمارے یہ اعلان جنگ ہمارے لیے باعث امتحان و فتنہ اور آزمائش بن جائے اور مشرک ہم کو کفر کی جانب واپس لے جانے کی جرأت بےجاکر سکیں۔
(3) سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اس جگہ فتنہ کہہ کر ” عذاب “ مراد لیتے ہیں اس لیے کہ فتنہ کی مختلف شکلوں میں سے ایک بھیانک شکل یہ بھی ہے ۔ اسی لیے فرماتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم کو ایسی حالت پر کبھی نہ پہنچانا کہ ہم کافروں اور مشرکوں کے ہاتھوں طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوجائیں اور نتیجہ یہ نکلے کہ اپنی پستی ، نکبت ، ذلت و غلامی اور دشمنوں کی دنیوی عزت و جاہ ، عروج و ترقی اور رماکانہ اقتدار کو دیکھ دیکھ کر یہ کہ انہیں کہ اگر ہم حق پر ہوتے تو اس ذلت و خسران میں نہ ہوتے اور اگر شرک و کفر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مبغوض ہوتا تو ان کافر اور مشرک جماعتوں کو یہ عزت و جاہ اور یہ فروغ حاصل نہ ہوتا یعنی ہم سے حق و باطل کا امتیاز ہی اٹھ جائے پس ہم کو ایسے فتنہ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھ ۔ اگر آپ غور کریں گے تو آخری فتنہ میں مبتلا ہونے والوں کی اس وقت کمی نہیں ہے ۔ بدقسمتی سے سیاسی کمزوری جو اس وقت مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے اسی کے باعث اس فتنہ میں مبتلا بھی بڑے سے بڑے سمجھدار لوگ نظر آئیں گے ۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ اس طرح کے خیالات نے اس اللہ تعالیٰ کے مقدس رسول کو لرزہ بر اندام کردیا ہو اور انہوں نے عجز وزاری کے ساتھ اس ناپاک زندگی سے محفوظ رہنے کے لیے رب کریم کے سامنے دست طلب دراز کیا ہو کہ ہم پر وہ وقت کبھی نہ آئے کہ کفر کی شوکت و طاقت اس طرح کچل ڈالے کہ پرستار ان توحید اس سخت اور کڑی آزمائش میں مبتلا ہو کر حق و باطل کے درمیان امتیاز ہی کھو بیٹھیں (ربنا علیک توکلنا والیک انبنا والیک المصیر ربنا لا تجعلنا فتنۃ للذین کفروا واغفرلنا ربنا انک انت العزیز الحکیم )
Ayah 60:6مسلمانوں کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی ” اسوہ حسنہ “ ہے
6 ؎ سچے دل سے ایمان لانے والوں کے لیے جب وہ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کی زندگی پر غور و فکر کریں گے تو ان گنت اسباق حاصل کریں گے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایسے نیک لوگوں کی زندگیوں کو بیان کیا گیا ہے کہ ان سے ایمان والے مستفید ہو سکیں اور اپنی زندگیوں کو سنوار سکیں ۔ بلا شبہ ان کے تذکار سے وہی لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جن کے دلوں میں قیامت کی زندگی کا سچا اور صحیح تصور موجود ہوتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں آخرت کا یقین نہیں ہوتا وہ ایسے واقعات کو پڑھ کر ہنس دیتے ہیں اور ان کو فرضی اور بناوٹی کہانیاں قرار دے کر استہزاء اور مذاق کا نشانہ بناتے ہیں ۔ زیر نظر آیت میں ارشاد فرما دیا کہ جو لوگ پھرجاتے تو اللہ تعالیٰ کی ذات تو پہلے ہی بےنیاز ہے ایسا کر کے اس کا کیا نقصان کرتے ہیں ، نقصان تو جو کچھ ہے سراسر ان کا اپنا ہے اور جو نامراد اپنا نقصان آپ کرکے خوش ہے اس کو ایسا کرنے سے کون روک سکتا ہے۔
Ayah 60:7مسلمانوں کو تنبیہ کہ اگر تم نے کفار سے بےنیازی اختیار کی تو شاید وہ خود متوجہ ہو جائیں
7 ؎ اہل ایمان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم نے کفار سے تعلقات اور رشتے منقطع رکھے اور ان کی کوئی پرواہ نہ کی تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہوگا کہ ان کی رغبت تمہاری طرف ہوجائے ۔ ذرا اس وقت کے حالات کو ذہن میں لائو کہ حالت کیا تھی اور اس نسخہ نے حالت کیا کردی ۔ صدر اول کے مسلمانوں کو جب یہ نصیحت کی گئی تو اسلام کی خاطر ان کو کسی عزیز سے عزیز رشتہ دار کا میدان جنگ میں بھی سر قلم کرنا پڑا تو مسلمانوں نے کبھی دریغ نہ کیا اور ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ جو زیر نظر آیت میں خوش خبری دی گئی وہ من و عن پوری ہوگئی مشرکین مکہ میں سے کتنے لوگ تھے جو مسلمان ہوگئے اور دوسرے خاندنا اور قبائل میں اسلام کی طرف لوٹنے لگے اور تین چار سال کی مختصر سی مدت میں حالات مکمل طور پر بدل گئے اور مکہ فتح ہوگیا اور کفر و شرک کی جو خلیج درمیان میں حائل تھی وہ مکمل طور پر اٹھ گئی پھر وہی رشتہ داریاں اور وہی عزیز و اقارب آپس میں گلے مل گئے جن کے درمیان دشمنیاں تھیں وہ سب کے سب آپس میں شیر و شکر ہو کر رہ گئے اور سابقہ محبت اور پیار ایک نئے روپ میں ظاہر ہوگئے جو پہلے روپ سے زیادہ دلکشی اپنے اندر رکھتے تھے ۔ یہ نسخہ آج بھی اگر آزما کر دیکھا جائے تو ان شاء اللہ العزیز کامیاب رہے گا۔ آج اسلامی حکومتیں جس طرح کفار کی چاپلوسی کر رہی ہیں اور جس طرح ان کو اپنے سر چڑھا رکھا ہے کسی سے بھی مخفی نہیں ہے اگر اسلام ایک بلاک (Islamic Block) بن جائے اور اپنی اندرونی بغض وعناد کی بیماریاں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ختم کردی جائیں تو کفر کی طاقتوں کو جھکتے ہوئے زیادہ دیر نہ لگے اور جس طرح کافروں نے اپنے اندرونی اتحاد کے باعث مسلمانوں کو پریشان کر رکھا ہے اور اس پریشانی کو ختم ہونے میں زیادہ دیر نہ لگے لیکن افسوس کہ کفر کی طاقتوں نے مل کر اپنی ریشہ دوانیوں سے مسلمانوں کو اکٹھا ہونے اور ایک پلیٹ فارم پر مل بیٹھنے سے روک رکھا ہے ۔ بہر حال زیر نظر آیت کا تقاضا ہے اور صدر اول کے مسلمانوں کا کردار بھی تاریخ میں بطور شہادت موجود ہے ۔ مسلمانوں کو ایک نہ ایک دن اسی نہج پر سوچناہو گا اور ان کیوڑوں اور لومڑیوں کو جو شیر کی کھالیں پہن رکھی ہیں ان کا سارا بھرم کھول کر رکھنا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ رب کریم ! وہ وقت جلد آئے اور عالم اسلام میں وہ یکجہتی پیدا ہوجائے جس سے کفر کا یہ سارا کچھ ہوا ہوجائے۔ ( آمین)
Ayah 60:8کفر کا مقابلہ کرنے کے لیے جو پالیسی اسلام نے تیار کی ہے اس کا اعلان عام
8 ؎ ( تبروا) کی اصل ب ر ر ہے اور بڑا احسان کرنے والا ۔ نیک سلوک کرنے والا ۔ بر سے صفت مشبہ کا صیغہ بر کے معنی جنگل اور زمین کے ہیں اس لیے چونکہ وسعت کا تصور موجود ہے اس لیے اس سے برکا اشتقاق ہوا جس کے معنی خوب نیکی کرنے کے ہیں چونکہ بر کی نسبت کبھی تو اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے جیسے ( انہ ھو البر الرحیم) ” بلا شبہ وہی ہے احسان کرنے والا مہربان “ اور کبھی بندہ کی طرف جیسے ( وبرا بوالدیہ) ” اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والا “ چناچہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے اس کا استعمال ہوگا تو اس کے معنی ثواب عطا کرنے کے ہوں گے اور جب بندہ کے لیے استعمال ہوگا تو اس کے معنی اطاعت کرنے کے ہوں گے ۔ بروالدین سے مراد ماں باپ کے ساتھ اچھا برتائو کرنے کے ہیں جس کی ضد عقوق ہے ۔ بر نیکی کرنا ، نیکو کاری ۔ مصدر ہے اعتقادی اور عملی دونوں قسم کی نیکیاں بر میں داخل ہیں ۔ مزید وضاحت کے لیے عروۃ الوثقیٰ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 44 ، 177 ، 189 جلد دوم سورة آل عمران آیت 92 ، سورة المائدہ آیت 2 کی تفسیر کو ملاحظہ کریں ۔ گزشتہ آیت میں کفار اور مشرکین کے ساتھ سختی کا ذکر تھا۔ زیر نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت کردی ہے کہ سختی کرنے کا جو حکم تم کو دیا گیا ہے اور عداوت و دشمنی رکھنے کا جو درس دیا گیا ، اس کے متعلق اچھی طرح سمجھ لیا جائے کہ وہ محض کفر کے مقابہل کے لیے نہیں بلکہ کفر پر مجبور کرنے والوں کے مقابلہ کے لیے ہے جو دن رات اس طرح کی اسکیمیں تیار کرتے ہیں کہ اسلام لانے والوں کا حلقہ تنگ کیا جائے اور ان کو اسلام سے باز رکھا جائے ۔ کافروں میں سے اگر ایسے لوگ ہیں جو کافر تو کافر ہیں لیکن مسلمانوں کو کفر کرنے پر آمادہ نہیں کرتے اور اسلام کے راستے میں روڑے نہیں اٹکاتے ، اسلام کے خلاف اسکیمیں نہ بناتے ہیں اور نہ اس طرح کی اسکیمیں بنانے والوں کا ساتھ دیتے ہیں تو تم کو بھی ایسے لوگوں کو برداشت کرنا چاہئے اور ان سے خواہ مخواہ لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں جب نہ انہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نکالنے کی کوئی کوشش کی اور نہ ہی تم کو نکالنے والوں کا انہوں نے ساتھ دیا تو تمہارا بھی حق ہے کہ ایسے لوگوں کو خواہ مخواہ مت چھیڑوبل کہ انکے ساتھ احسان کی ضرورت ہو تو کرو اور انصاف کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دو ۔ اسلام کی سیاست یہی ہے کہ جو تنگ کرنے میں خود پہل نہ کرے اس کو خواہ مخواہ تنگ نہ کیا جائے ۔ اگر تم محارب کافروں کی طرح ان مصالح کافروں کے ساتھ بھی جبر و تشدد کرو گے تو یہ عدل و انصاف کے خلاف ہوگا اسلام کی سیاست یہ ہے کہ صلح و آتشی سے رہنے والوں کو خواہ مخواہ تنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہے اگر کوئی کافر و مشرک ہے تو وہ خود اپنے کفر اور شرک کا اللہ کے ہاں جوابدہ ہے جب وہ تم کو نہیں چھیڑتا تو تمہارا حق نہیں کہ تم خواہ مخواہ ان کو تنگ کرنا شروع کر دو ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ تم ان کے ساتھ احسان و نیکی کرو اور اپنے اخلاق و کردار سے ان کو متاثر کرو اور ان پر ثابت کر دو کہ اسلام ایک عدل و انصاف کی تحریک ہے نہ کہ ظلم وتعدی کی ۔
Ayah 60:9زیادتی پر زیادتی کرنے والوں کے ساتھ محبت کی پینگیں چڑھانے سے تم کو منع کیا گیا ہے
9 ؎ اسلام صلح و آتشی کا دین ہے جو اس کو نہ چھیڑے وہ اس کی مخالفت کبھی نہیں کرتا کفرو اسلام کا مطالعہ اللہ رب کریم سے ہے اور وہ آخرت کی خرابی کا باعث ہے ، دنیا میں اگر کوئی امن وامان سے رہنا پسند کرتا ہے تو اسلام ان کی مزاحمت کرنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہے۔ ززیر نظر آیت میں آٹھویں آیت کی مزید وضاحت کی جا رہی ہے کہ اسلام نے جو مسلمانوں کو ہدایت دی تھی کفر کے مقابلہ میں سختی کرنے کی تو وہ محض ان کافروں کے مقابلہ میں تھی جنہوں نے اسلام کے خلاف اور مسلمانوں کے خلاف آگ بھڑکا رکھی تھی اور نبی کریم ﷺ کے قتل کرنے اور ایمان لانے والوں کے حق میں ظلم کی تحریکیں چلانے کا فیصلہ کررکھا تھا اور وہ اسلام کے خلاف اپنی طاقت کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان کی مزاحمت کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ ان کے خلاف تم بھی سخت اقدام کرو اور ان کو اس طرح کی چھیڑ خانی کا مزہ چکھائو اور میدان مبارزت میں ان کے چکھے چھڑادو اور جہاں سے انہوں نے تم کو نکالا تھا وہاں سے تم بھی ان کو نکال باہر کرو ۔ وہ تم کو دبانے اور دھمکانے پر لگے ہوئے ہوں اور تم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے رہو گے تو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ؟ یہی کہ وہ تم کو مزید دبائیں گے اس لیے تمہارے لیے لازم و ضروری ہے کہ ان کے لیے اپنے دل سے نرم گوشہ نکال دو اور ان کی سختی کے مقابلے میں محبت کی پینگیں مت چڑھائو اور نہ ان کو دوست بنانا شروع کر دو ۔ جو لوگ ایسے لوگوں کو جو دشمنان جان و ایمان ہیں ان سے دوستی کی پہل کریں گے وہ ظالم و فاسق ہیں اور ان کی یہ حرکت ان کی قوم اور خود ان کے حق میں تباہ کن ثابت ہوگی ۔ بدقسمتی سے آج مسلمانوں نے اس حکم کو بالکل بھلا دیا ہے اور تعجب یہ ہے کہ اپنے مسلمان کہلانے والے بھائیوں کے خلاف کفر کے ان شیدائیوں سے مدد کے طلب گار ہوچکے ہیں اور مسلمان ملک دوسرے مسلمان ملک کے خلاف کفر سے ہی مدد طلب نہیں کر رہا بلکہ کفر کے سامنے نہ زانو ہو کر ان کا مرہون منت ہو کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے در پے ہے اور پھر کفر بھی وہ کفر جو اسلام کے خلاف ہر طرح کے حربے استعمال کر رہا ہے تاکہ وہ اسلام کو مٹا دیں اور اسلام کا نام لینے والے امن وامان کی زندگی نہ بسر کرسکیں ۔ ایسے ممالک کو جو اسلام کے نام سے موسوم ہوتے ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ قرآن کریم کے اس حکم کے پیش نظر اپنی اصلاح آپ کریں اور اس طرح کی سیاست جس کا تعلق اسلام سے نہیں بلکہ کفر کی سیاست سے ہے اس کو ترک کردیں ورنہ ان کا انجام اس جگہ بھی خواری ہے اور آخرت بھی ان لوگوں کی برباد ہوجائے گی خواہ وہ کون ہیں ، کہاں ہیں اور کیسے ہیں ؟
Ayah 60:10ایمان والوں کو مہاجرات کا امتحان کرنے اور آزمائش کے بعد روکنے کی ہدایت
10 ؎ صلح حدیبیہ کی شرطوں میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ قریش کا جو آدمی اپنے سرپرست کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس جائے گا محمد رسول اللہ ﷺ اس کو واپس کردیں گے ۔ صلح پر دستخط ہوچکے تھے کہ ابو جندل مکہ سے بھاگ کر حدیبیہ کے مقام پر پہنچ گیا لیکن رسول اللہ ﷺ نے ایک معاہدہ طے پا جانے کے بعد مجبوری کے باعث پرنم آنکھوں سے ابو جندل کو واپس کردیا لیکن اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا دی اور اس طرح ابو بصیر کے ساتھ بھی ہوا جس شرط کا اوپر ذکر کیا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ تھے کہ : علی ان لا یاتیک منارجل وان کان علی دینک الا رددتہ علینا بعد ازیں کچھ عورتیں ہجرت کر کے مدینہ پہنچ گئیں ان میں ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ، سبیعہ بنت الحارث اور امیمہ بنت بشر ؓ کے نام واضح طور پر آتے ہیں ۔ وہ اپنے ازدواجی بندھنوں کو توڑ کر مدینہ پہنچ گئیں اور اس طرح عورتوں کی ہجرت کا سلسلہ چل پڑا۔ پھر ان کو واپس لانے کے لیے کسی کا بھائی ، کسی کا خاوند اور کسی کا ولی مدینہ طیبہ پہنچنے شروع ہوگئے ، اس طرح گویا یہ ایک پیچیدہ مسئلہ بن گیا ۔ لوگوں کو اس معاملہ میں بہت الجھن محسوس ہونے لگی اور ان عورتوں کے واپس کرنے نہ کرنے کے علاوہ بہت سی مزید وضاحتیں شروع ہوگئیں ، بعض کے نزدیک عورتوں کو روکنا معاہدہ کی خلاف ورزی کرنا تھا اور بعض کے نزدیک عورتوں کو واپس کرنا صحیح نہیں تھا ، حالات خواہ کوئی رخ بھی اختیار کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں سے ارشاد فرمایا کہ اس معاہدہ کی شرائط کو ایک بار سامنے رکھو کہ وہ معاہدہ کیا تھا ؟ معاہدہ میں یہ ہے : علی ان لا یاتیک منارجل وان کان علی دینک الا رددانہ علینا یعنی اگر ہم میں سے کوئی مرد آپ کے پاس آئے خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو آپ اسے ہماری طرف لوٹا دیں گے۔ “ ظاہر ہے کہ اس معاہدہ میں رجل کا لفظ صراحت کے ساتھ موجود ہے ۔ رجل کے معنی مرد کے ہیں اور اس کے بعد جو بھی مرد تمہاری طرف سے آیا ہے وہ ہم نے تمہاری طرف واپس کردیا ۔ رہا عورتوں کا مسئلہ تو اس کے متعلق ہم پابند نہیں ہیں اور ظاہر ہے کہ یہ شرط بھی تمہارے ہی آدمی کی طرف سے طے کردہ ہے اور یہ الفاظ بھی آپ ہی کے نمائندہ کے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اب ان کے پاس اس کا جواب موجود نہیں تھا اور نہ ہی وہ کوئی جواب دے سکے بلکہ اپنا سا منہ لے کر واپس چلے گئے ۔
زیر نظر آیت میں بطور نصیحت مسلمانوں کو کہا جا رہا ہے کہ ” جب مکہ والوں کی طرف سے عورتیں ہجرت کر کے تمہارے پاس آئیں تو ان کی خوب جانچ کرلیا کرو اگر فی الواقع وہ اسلام کو قبول کرچکی ہیں اور اسلام ہی کی خاطر انہوں نے ہجرت کی ہے تو ان کو روک لو ۔ اس لیے عورتوں کو اگر بےسہارا چھوڑ دیا جائے گا تو ان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے اور مومن عورتوں کو نقصان پہنچے تو مومن مردوں کے لیے باعث ذلت ہے ۔ اس لیے جانچ کرلینے کے بعد اگر وہ صحیح ثابت ہوں تو ان کو روک لو کیونکہ انہوں نے محض دین کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑا ہے لہٰذا اب ان کو کافروں کے حوالے نہ کرو ۔ آپ ان عورتوں کا امتحان کرتے اور جو عورت کہتی کہ باللہ ماخر جت الا حبا للہ ورسلہ بخدا میں صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کے باعث اپنا وطن چھوڑ کر آئی ہوں باللہ الذی لا الہ الا ھو ماخر جت من بغض زوجی اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی دوسرا معبود نہیں ہے اپنے خاوند کے بغض و عداوت کی وجہ سے نہیں نکلی ، آپ ﷺ اس کو روک لیتے اور واپس نہ کرتے ۔ زیر نظر آیت میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ” اس کے بعدیہ عورتیں کافر مردوں کے لیے حلال نہیں ہیں اور نہ ہی کافر مرد ان عورتوں کے لیے حلال رہے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دین و ملت بدلنے سے نکاح خود بخود فسخ ہوجاتا ہے ۔ ہاں ! اگر کوئی جوڑا مسلمان ہوجائے تو ان کا کفر کے وقت کا نکاح جائز اور درست ہے اور یہ بھی کہ اگر میاں بیوی میں سے ایک مسلمان ہوجائے تو دونوں کا نکاح ختم ہوگیا ۔ ہاں ! اگر کسی عورت نے اسلام قبول کیا اور اس نے کسی دوسری جگہ نکاح نہیں کیا اور اس سے قبل ہی میاں نے بھی دین اسلام قبول کرلیا اور وہ دونوں اسلام پر اکٹھے ہوگئے تو ان دونوں کے دوبارہ نکاح کی ضرورت نہ رہی۔ (واتوھم ما نفقوا) ” اور ان کے کافر خاوندوں کو وہ مال ادا کر دو جو انہوں نے ان عورتوں کے ساتھ نکاح کرتے وقت ان کو دیا تھا “ یہ حکم کس کو دیا جا رہا ہے ؟ اس میں بہت لمبا کلام ہے اور یہ بھی کہ اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو اس پر سوال اٹھیں گے اور پھر ان سوالوں کا جواب در جواب ، اس لیے اس کا اختصار یہ ہے کہ یہ اسلامی حکومت کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ وہ اس کی تحقیق کفر کی حکومت سے کرے اور حکومت اسلامی اس ذمہ داری کو بیت المال سے پورا کرے لیکن یہ مال نہ تو عورت پر فرض ہوگا اور نہ جہاں دوسری جگہ وہ نکاح کرے اس مرد کے لیے اس کی ادائیگی لازم آئے گی کہ وہ رقم بیت المال میں جمع کرائے ۔ ہاں ! اس معاملہ میں حکومت اسلامی جو قانون بنائے گی اس کی پابندی ضروری ہے اور یہ وقتی تشریح حکومت اسلامی کی ذمہ داری ہے ۔ یہ مسئلہ افراد کا نہیں کہ خواہ مخواہ اس کو موضوع بحث بنایا جائے۔
” اور تم کو ان عورتوں سے نکاح کرنے میں بھی کو ئق مضائقہ نہیں ہے ، جب کہ تم ان کے حق مہر ان کو ادا کردو “ ان عورتوں میں اگر ایسی عورتیں بھی شامل ہوں جو ابھی کسی کے حبالہ عقد میں نہیں آئی ہیں اور ایسی بھی جن کے پیچھے دارالکفر میں نکاح موجود ہیں ، اس کی وضاحت فرما دی کہ ہجرت کے بعد وہ خود مختار ہیں ان کے نکاح کے لیے نہ تو کسی ولی کی کوئی ضرورت ہے اور نہ نکاح والیوں کو طلاح حاصل کرنے کی کوئی ضرورت ہے ۔ اسلامی حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان کے نکاح کا بندوست کرے لیکن ان کی مرضی کے مطابق جہاں وہ خود نکاح کرنا چاہیں ، نکاح کرلیں اور نکاح کرنے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کو حق مہر ادا کریں نہ یہ کہ صرف نکاح کی رضا مندی کو حق مہرتصور کرلیں ۔ پھر اس میں طول کلامی ہے کہ آیا ایک عورت کے اسلام میں داخل ہوتے ہی جب پچھلا نکاح ہوگیا تو نکاح ثانی کرلینا درست ہے یا اس بات کا انتظار کرنا ہے کہ ان کی عدت کے دن پورے ہوجائیں تاکہ وہ مقصد حاصل ہوجائے جو عدت گزارنے کی اصل لم اور وجہ ہے ۔ پھر اس میں بھی طول کلامی ہے اور یہ بھی کہ اگر وہ عورتیں حامل پائی جاتیں تو مدت حمل گزارنا ضروری ہے یا حمل کے اندر ہی نکاح کیا جاسکتا ہے ؟ ہمارے نزدیک وہی بات ہے کہ یہ اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شرعی قاعدہ کے مطابق ان عورتوں کا جائز بندوست کرے اور ان کی عدت اور مدت حمل ہی کو پورا ہونے دے ۔ تا ہم جس طرح طلاق ضروری نہ رہی ان باتوں سے ضرورت کے مطابق صرف نظر کیا جائے تو مضائقہ نہیں تاہم حالات کے مطابق اسلامی حکومت اس کی وضاحت قانون میں کرے اور یہ باتیں وقتی ضروریات کے لیے ضروری ہے کہ وسعت ان میں باقی رہے تاکہ اسلامی حکومت وقتی مصلحت کے مطابق جو قانون چاہے حقیقی قانون کی روشنی میں اس کی وضاحت کر دے تاکہ اس قضیہ کا فیصلہ ہو سکے ۔ (ولا تمسکوا بعصم الکوافر) ” اور جو کافر عورتیں ہیں تم بھی ان کو مت روکے رکھو “ یہ مسلمان مردوں کے لیے حکم ہے کہ اگر تم مسلمان ہوچکے ہو اور تمہاری عورتوں نے اسلام قبول نہیں کیا تو تم بھی ان کو مت روکو بلکہ ان کو اجازت دے دو کہ اگر وہ دارالکفر کی طرف جانا چاہیں تو بلا روک ٹوک وہ جاسکتی ہیں ۔ یہ بات جو ہم نے کہی ہے یہ ہمارے مفسرین نے اس طرح نہیں کہی بلکہ ذرا پہلو بچا کر تحریر کی ہے کہ : ” مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی ہے کہ تم میں سے جن کی بیویاں دارالکفر میں ہیں اور وہ اپنے کفر پر قائم ہیں ان کی عصمتوں کے مالک نہ بنے رہو بلکہ ان کو اپنے نکاح کی قید سے آزاد کر دو وہ جس سے چاہیں نکاح کرلیں “ اور جس ضرورت کے تحت انہوں نے ایسا کہا ہے وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ۔ ہم نے اس کا ذکر محض اس لیے کیا ہے کہ جو کچھ ہم نے تحریر کیا ہے کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ محض ہماری ناسمجھی سے ہے ۔ نہیں ! ہم نے سمجھ کر اس کو تحریر کیا ہے اور جو بات اور حکم اس سے نکلتا ہے اس کی وضاحت کی ہے جو ہم صحیح سمجھتے ہیں ۔ لیکن ایک بات مزید ہے وہ یہ ہے کہ اگر کوئی کسی کافر عورت کو مسلمان کے گھر میں رہنے یا مسلمان کو کسی کافر عورت کے گھر میں رکھنے کی کوئی صورت ہوتی تو اس طرح کا واضح اور صاف حکم کیسے دیا جاتا ۔ کیا اسلام نے کسی جگہ تضاد کو پسند کیا ہے یا اس کے ہاں تضاد پایا جاتا ہے ؟ کیا اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کی عورتیں کافر نہیں ہیں ؟ پھر کیا وجہ ہے کہ کافر عورتیں تو نکاح میں آ چکی ہوں اور پھر کوئی شخص ایمان لے آئے تو اس کے لیے ضروری قرار دیا جائے کہ وہ کافر عورت کو اپنے گھر میں نہ رکھے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہاں تک کہہ دے کہ ایک کے ایمان لانے سے دوسرے کے تعلقات زنا شوئی حرام ہیں جب کہ یہ دونوں نہ معلوم کتنی مدت تک شیر و شکر رہ چکے ہیں اور ابھی تک کوئی ایسی بات موجود نہیں ہے وہ اتنی فیاضی اور جہاں تعلقات رہ چکے ہیں وہاں اتنی تنگ دلی آخر اس کے معنی کیا ہوئے ؟ اس لیے ہم صرف اشارہ کردینا چاہتے ہیں کہ جو بات ہم نے اہل کتاب کے متعلق عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة المائدہ کی آیت 5 میں بیان کی وہ بالکل صحیح اور درست ہے اور زیر نظر آیت نے اس کی مزید وضاحت کردی ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس کی وضاحت سورة المائدہ کی محولہ آیت میں کردی گئی ہے۔
فریقین کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھنے کے لیے حکم دیا گیا ہے کہ ” جو تم نے ان عورتوں پر مال خرچ کیا ہے یعنی جو مہر تم نے ان کو دیا ہے وہ ان کے اسلام نہ لانے کے باعث ان سے واپس لے سکتے ہو ۔ لیکن اگر ایسا کرو گے تو وہ عورتیں جو کفر کی طرف سے اسلام کی طرف لوٹ آئیں گی اور ان کے خاوند یا دوسرے ان کے کفیل مسلمان نہ ہوئے تو جو کفار نے ان کو بطور حق مہر مال دیا ہوگا وہ تم کو اسلامی خزانہ سے ادا کرنا پڑے گا ۔ گویا دونوں حکومتوں کے لیے وضاحت ہے کہ اگر وہ آپس میں اس طرح کا لین دین کریں تو دیانتداری کے ساتھ تم کو اس کی پابندی کرنا ہوگا اس لیے فرمایا کہ ” وہ بھی مانگ لے جو انہوں نے ان عورتوں پر خرچ کیا ہے ، جو مسلمان ہو کر دارالسلام کی طرف ہجرت کر آئی ہیں ۔ پھر یہی حکم ان لوگوں کے لیے بھی ہوگا جو کسی ایک ہی ملک کے باشندے ہیں خواہ وہ دارالکفر میں ہیں یا دارالسلام میں کیونکہ دین و ملت کے بدل جانے سے نکاح خود بخود فسخ ہوجاتا ہے اور ملت کا بدلنا کفر و اسلام کے باعث ہے نہ کہ اسلام کے اندر جو گروہ بندی لوگوں نے اختیار کرلی ہے اس کے لیے یہ حکم ہے ۔ ہاں ! نکاح کے وقت اس بات کا زیادہ خیال رکھنا کہ فریقین میں ہم آہنگی رہے اور کسی طرح کا فکری تضاد نہ پایا جائے یہ قبل از وقت نکاح تدبیر اختیار کی جاسکتی ہے بلکہ ایک حد تک ضروری ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے جو اس نے تمہارے درمیان فیصلہ کن بات کرتے ہوئے دے دیا ہے جس کی پابندی تم مسلمانوں کے لیے نہایت ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم ایسا نہیں ہے جو بغیر کسی حکمت اور علم کے بزور ٹھونسا گیا ہو ۔ زیر نظر آیت سے بہت سے سوالات زیر بحث آسکتے ہیں لکنہ ان سوالوں کا تعلق آپس میں قائم ہوتا جاتا ہے اور اس طرح بحث اتنی لمبی ہوجائے گی کہ اس کا سمیٹنا مشکل ہوگا اس لیے ہم ان سارے سوالوں سے یک قلم دستبردار ہو رہے ہیں کیونکہ عام حالات میں ان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اس کے لیے سادگی پر مبنی یہ قانون واضح ہے کہ دین و ملت کے بدلنے سے فریقین کا نکاح خود بخود فسخ ہوجاتا ہے اور عورت آزاد ہوجاتی ہے اور کسی مسلمان مرد کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مسلمان ہونے کے بعد کافرہ بیوی سے تعلقات زنا شوئی قائم کرے۔ باقی سب قانونی موشگافیاں ہیں جو معاشرتی ضرورت کے لیے روا رکھی گیر ہیں۔