60. Surah Al-Mumtahana

الممتحنةShe that is to be examined · 13 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 60:11

وَ اِنْ فَاتَكُمْ شَیْءٌ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ اِلَى الْكُفَّارِ فَعَاقَبْتُمْ فَاٰتُوا الَّذِیْنَ ذَهَبَتْ اَزْوَاجُهُمْ مِّثْلَ مَاۤ اَنْفَقُوْا١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 60:11 in the Quran reader

اور اگر تمہاری بیویوں کے مہروں میں سے کچھ تمہیں کفار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں ادھر رہ گئی ہیں ان کو اتنی رقم ادا کر دو جو ان کے دیئے ہوئے مہروں کے برابر ہو اور اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو

اگر کفار کی طرف سے حق مہر واپس نہ ملے جو تم نے ان بیویوں کو دیا تھا ، تو اس کا حکم 11 ؎ (عاقبتم) کا مادہ ع ق ب ہے ۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ تم نے بدلہ دیا ، تم نے سزا دی ، تمہاری باری آئی ( معاقبۃ) زیر نظر آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ” اگر جاتی رہیں تمہارے ہاتھ سے کوئی تمہاری عورتیں کافروں کی طرف پھر تمہاری نوبت آئے تو ان کو اتنا مال دے دو جن کی عورتیں کفار کی طرف چلی گئی ہیں ان لوگوں کو جتنا کہ انہوں نے ان عورتوں کو حق مہر دیا تھا لیکن کفار اس حق مہر کو لوٹانے پر راضی نہ ہوئے تھے اب جب تمہاری باری آگئی ہے تو اتنا مال روک کر تم خود ان لوگوں کو ادا کر دو تاکہ عدل اور برابری قائم رہ سکے ۔ یہ گویا قانون ہے کہ جتنی تکلیف تم کو پہنچائی گئی اتنی تم کو بھی تکلیف پہنچانے والوں کو پہنچا سکتے ہو اور اس قانون کی وضاحت پیچھے بہت سے مقامات سے گزر چکی ہے مثلاً عروۃ الوثقیٰ جلد پنجم میں سورة النحل کی آیت 127 کی تفسیر دیکھیں۔ گزشتہ آیت میں قانون عدل قائم کرنے کے لیے یہ اصول بتایا تھا کہ جو عورتیں کافروں کی طرف سے کفر کو ترک کر کے اسلام میں داخل ہوجائیں انہوں نے اگر کافر خاوندوں سے وصول شدہ حق مہر اپنے ساتھ لائے ہیں تو ان کے خاوندوں کو اتنے حق مہر واپس کر دو اور یہ بات لازم ٹھہرائی گئی تھی اسلامی حکومت پر ۔ پھر اس کے بعد بتایا گیا تھا کہ اگر تمہارے اسلام لانے کے ساتھ تمہاری عورتیں کفر کی حالت میں رہ گئی ہوں تو ان کے حق مہر تم بھی ان کافروں کی حکومت سے وصول کرلو لیکن اس کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ اگر تمہاری عورتیں کفر کی طرف لوٹ جائیں یا اسلام کی طرف ہی نہ آئیں ، کفر پر قائم رہیں تو دونوں صورتوں میں جن کی عورتیں کفر میں رہ گئیں یا چلی گئیں ان کو حق مہر واپس لینا چاہئے تھے اور یہ اس حکومت کی ذمہ داری تھی جس حکومت کی طرف وہ بحالت کفر رہ گئی ہیں لیکن اگر تم کو وہ حق مہر واپس نہ کریں اور پھر کبھی تمہارے ساتھ نوبت آجائے کہ ان کے حق مہر تمہاری طرف ادا کرنے کی صورت نکل آئے تو تم ان میں سے اتنا مال روک لو جتنا ان کے ذمہ دینا لازم تھا اور وہ ان لوگوں کو دے دو جن لوگوں کی عورتیں دارالکفر میں چلی گئیں یا دارالکفر میں رہ گئیں تھیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ تم کو کفار سے مال غنیمت حاصل ہوا ہے جو غازیوں میں تقسیم ہوگا ، اس تقسیم سے پہلے اس مال میں سے اتنا مال پہلے الگ کرلو جتنا کہ ان مسلمانوں کی بیویوں کا حق مہر ہوتا ہے جن کی عورتیں کفر کی طرف چلی گئیں یا کفر کی طرف رہ گئیں اور تیسری صورت یہ ہے کہ اسلامی بیت المال میں اتنی رقم ان لوگوں میں تقسیم کر دے جتنی کہ ان مسلمانوں نے اپنی بیویوں کے حق مہر پر خرچ کی ہے اور ان لوگوں میں تقسیم کر دو جن کی عورتیں چلی گئی ہیں یا کفر کی طرف رہ گئی ہیں تاکہ تمہارے مسلمان بھائیوں کا نقصان نہ ہو اور اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور جو اجازت تم کو دی گئی ہے اس سے ناجائز فائدہ مت اٹھائو۔ یہ ہدایت سب کے لیے یکساں ہے خواہ معاملہ حکومت کا ہو اور خواہ افراد کا ۔ زیر نظر آیت میں جو مفہوم مفسرین نے بیان کیا ہے وہ اتنا مبہم ہے کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ ہم نے جو مختصر سی وضاحت کی ہے اس میں بات کافی حد تک واضح ہوگئی ہے اگر آپ کو یہ وضاحت پسند ہے ؟ صاحب فکر خود غور کرلیں ۔
Ayah 60:12

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا جَآءَكَ الْمُؤْمِنٰتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰۤى اَنْ لَّا یُشْرِكْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْرِقْنَ وَ لَا یَزْنِیْنَ وَ لَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَ لَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَّفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَ اَرْجُلِهِنَّ وَ لَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوْفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 60:12 in the Quran reader

اے نبی ﷺ جب مسلمان عورتیں اس لیے آپ ﷺ کے پاس آئیں کہ ان باتوں پر [ بیعت کریں کہ وہ کسی کو اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو مار ڈالیں گی اور نہ اپنے ہاتھ پاؤں سے کسی پر کوئی بہتان باندھیں گی اور نہ ہی امور شریعت میں آپ ﷺ کی نافرمانی کریں گی تو آپ ﷺ ان سے بیعت لے لیجئے اور ان کے لیے بخشش طلب کیجئے ، بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا بہت ہی پیار کرنے والا ہے

نبی اعظم و آخر ﷺ کو مومن عورتوں سے بیعت لینے کا حکم 12 ؎ ( یبایعن) جمع مؤنث غائب مضارع مبایعۃ وہ عورتیں جو عہد و پیمان کریں ۔ وہ عورتیں جو بیعت کریں ۔ صلح حدیبیہ کے بعد اور خصوصاً مکہ فتح ہونے کے بعد لوگ عموماً مسلمان ہونے لگے ، افراد بھی اور بعض پورے کے پورے خاندان بھی اسلام میں داخل ہونے شروع ہوگئے اور اس طرح بہت سی عورتیں بھی اسلام میں داخل ہونا شروع ہوگئیں ۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے عورتوں سے بیعت لی اور یہ بیعت کیا تھی ؟ یہ ایک معاہدہ ہوتا تھا کہ جو مسلمان ہونے والی عورتوں اور مردوں کے لیے کیا جاتا تھا۔ زیر نظر آیت میں عورتوں کے معاہدہ کا مخصوص ذکر کیا ہے اور ان باتوں کا بھی جن باتوں پر بیعت لی گئی تھی ۔ بیعت کرتے وقت نہ تو آپ ﷺ نے اور نہ ہی آپ ﷺ کی طرف سے کسی آپ ﷺ کے صحابی نے بیعت لیتے وقت عورتوں کا ہاتھ اپنے ہاتھ پر رکھوایا اور نہ ہی کوئی اور طریقہ اختیار کیا جیسا کہ عام طور پر معروف ہے کہ آپ ﷺ نے پانی کا برتن منگایا اور اس میں پہلے اپنا ہاتھ ڈالا اور پھر ان عورتوں کا باری باری ہاتھ رکھوایا اور بعض نے کہا کہ بیعت کرتے وقت ہاتھ کے اوپر کپڑا رکھ کر آپ ﷺ بیعت لیتے رہے ۔ یہ سب اختراعی باتیں ہیں جو لوگوں نے بیان کی ہیں حالانکہ صحیح بخاری میں وضاحت ہے کہ واللہ ما مست یدایدہ امراۃ قط فی المبایعۃ ما ببایعھن الا بقولہ ” اللہ کی قسم اللہ کے رسول ﷺ کا ہاتھ بیعت کرتے وقت کسی عورت کے ہاتھ سے قطعاً نہیں چھوا تھا۔ جو بیعت آپ ﷺ نے کی وہ صرف اور صرف باتوں ہی باتوں میں تھی ، یعنی زبان سے آپ ﷺ نے اقرار لیا تھا۔ “ (عن عائشہ ؓ زیر نظر آیت میں جن باتوں کا ذکر ہے وہ کل چھ باتیں ہیں جن پر آپ ﷺ نے بیعت لی تھی۔ (1) یہ کہ ایمان لانے والی عورتیں اللہ رب ذوالجلال والاکرام کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی (2) اور یہ کہ ایمان لانے والی عورتیں کسی طرح کی کبھی چوری نہیں کریں گی (3) یہ کہ ایمان لانے والی عورتیں زنا کے قریب بھی نہیں جائیں گی۔ (4) ایمان لانے والی عورتیں کبھی اپیی اولاد کو قتل نہیں کریں گی۔ (5) ایمان لانے والی عورتیں کبھی بھی کسی پر بہتان تراشی نہیں کریں گی یہاں تک کہ ہاتھوں اور پائوں سے بھی کوئی حرکت ایسی نہیں کریں گی جس سے کسی ایسی بات کا اظہار ہوتا ہو ۔ (6) اور معروف کاموں میں آپ ﷺ کی نافرمانی کبھی نہیں کریں گی ۔ فرمایا جو عورتیں ان باتوں کا عہد کریں ان کے عہد کو قبول کرتے ہوئے اسلامی معاشرہ کے ساتھ ان کی وابستگی کردیں اور ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں اور اس بات کی توفیق طلب کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس معاہدہ کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور کسی معاملہ میں وہ آپ ﷺ کی نافرمانی کی مرتکب نہ ہوں اور یاد رکھو کہ عزم و ارادہ سے اگر کوئی کام نہ کیا جائے تو بھول چوک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے اور وہ اپنے بندوں سے بہت ہی پیار کرنے والا ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے رجوع کرنے کو قبولیت عطا فرما دیتا ہے اور ذکر کی گئی چھ باتوں میں سے ایک ایک بات پر غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کی کوئی بات ایسی نہیں جو باقی رہ جائے اور ان چھ باتوں میں وہ نہ آسکے گویا سارے اسلام کا خلاصہ ان چھ باتوں میں بند کردیا گیا ہے ۔ قول و فعل کی ساری باتیں اس میں آجاتی ہیں اور اگر ان کی تفصیل بیان کی جائے تو اس کے لیے بیسیوں صفحات درکار ہیں ۔ تا ہم قتل اولاد اور بہتان کی مختصر وضاحت کر دینابہتر سمجھتے ہیں ۔ سو خیال رہے کہ عرب کے سفاکانہ مراسم میں سب سے زیادہ بےرحمی اور سنگ دلی کا کام معصوم بچوں کو مار ڈالنا اور بچیوں کو زندہ گاڑ دینا تھا۔ یہ بےرحمی کا کام والدین خود اپنی خوشی اور مرضی سے انجام دیتے تھے ۔ اس رسم کے جاری کرنے کے کئی اسباب تھے ایک ان میں سے مذہبی سب تھا وہ یہ کہ والدین اپنے بچوں کو اپنے بزرگوں اور دیوتائوں کی خوشنودی کے لیے خود ذبح کر کے ان پر چڑھا دیتے تھے ۔ منت مانتے تھے کہ فلاں کام ہوگا تو اپنے بچہ کی قربانی کریں گے ۔ وضاحت کے لیے سیرۃ ابن ہشام ، طبقات ابن سعد ، تاریخ طبری وغیرہ کا مطالعہ کریں ۔ یہ قابل نفرت رسم جس طرح عربوں میں رواج پذیر تھی ہمارے اس علاقے میں ہندوئوں کے ہاں بھی جاری تھی اور اسی طرح رومۃ الکبریٰ کے عظیم الشان متمدن قانون میں اولاد کو مار ڈالنے کا باپ کو مکمل اختیار تھا اور اس قتل کی کوئی باز پرس نہ تھی اور اولاد کشی کا اعلانیہ خوشی سے رواج تھا۔ وضاحت کے لیے تاریخ اخلاق یورپ جلد اول ص 230 عربوں کی اس رسم کی قرآن کریم نے بہت مذمت کی ۔ اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة الانعام کی آیت 137 ، 151 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور ہمارے زمانہ میں جو خاندانی منصوبہ بندی کے نام سے اس جرم کا ارتکاب ہو رہا ہے یہ اس کی ایک بدلتی ہوئی تصویر ہے جس نے پوری انسانیت کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے اور عربوں اور ہندوئوں کے رواج سے بھی یہ بڑا رواج نہایت خوشی سے اپنایا جا رہا ہے اور بڑے بڑے سمجھدار لوگ اس لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ بہتان کیا ہے ؟ بہتان یہ ہے کہ جان بوجھ کر کسی بےگناہ کو مجرم ٹھہرا دیا جائے یا اس کی جانب کوئی ناکردہ گناہ یا برائی منسوب کی جائے اور یہ بھی ایک طرح کا جھوٹ ہے اور قرآن کریم نے اس کو خیانت سے بھی موسوم کیا ہے ۔ بغض بہتان ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا محض شرارت کی راہ سے کسی بےگناہ کے سر اس لیے تھوپا جاتا ہے کہ اس کی بدنامی ہو۔ اس بہتان کی ایک شاخ کا نام افک ہے اور یہ دونوں باتیں جھوٹ ہونے کے علاوہ حد درجہ شرافت کے خلاف ہیں ۔ اس لیے جو لوگ جان بوجھ کر یا بےجانے بوجھے اس بہتان باندھنے میں شریک ہوجاتے ہیں اور وہ بھی گناہ گار اور خیانت کار متصور ہوتے ہیں ۔ اس کی پوری وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد سوم سورة النساء کی آیت 106 سے 112 تک کرچکے ہیں اور جلد ہفتم سورة الاحزاب کی آیت 58 میں بھی اس کی وضاحت گزر چکی ہے ، وہاں سے ملاحظہ فرمالیں ۔ بہتان کی اس تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے سورة یوسف کی آیت 70 تا 72 کا ترجمہ دیکھیں اور تفسیر پڑھیں کہ ہمارے مترجمین اور مفسرین نے کس خوبصورتی کے ساتھ سیدنا یوسف (علیہ السلام) پر بہتان باندھا ہے اور پھر غور کریں کہ انہوں نے کس طرح بہتان کو قرآن کریم کو روشنی میں جائز اور درست قرار دے دیا ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ زیر نظر آیت کے تحت مفسرین نے بعض ان عورتوں کے نام اور ان کے کلام کا بھی ذکر کیا ہے جو بیعت کرنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھیں لیکن ہم ان باتوں کا ذکر نہیں کر رہے کہ ضرورت نہیں ہے ۔ اس وقت ضرورت تو اس بات کی ہے کہ یہی وہ آیت ہے جس سے لوگوں نے بلکہ مذہبی رہنمائوں نے پیری اور مریدی کا جواز اور بیعت کا لزوم ثابت کرنے کی کوشش کی ہے اور پھر ہر خاند ان کے لیے ایک پیر کے گھرانے کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے پیروں کی ایک نسل پیدا کردی ہے اور پیر اس بیعت کے پردہ میں جو جو بداعتدالیاں کرتے نظر آتے ہیں وہ آج کسی سے بھی پوشدہ نہیں۔ حالانکہ اس کا ہماری مروجہ پیروی مریدی سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔ اس سے اگر جواز ملتا ہے تو اس بات کا ملتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے ایک امیر کا ہونا نہایت ضرروی ہے پھر مذہب ہو یا سیاست ہر معاملہ میں امیر کی اطاعت لازم و ضروری ہے اور اس کے لیے شرط ہے تو صرف یہ کہ کوئی امیر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرنے کا حکم دے تو اس کے حکم کو تسلیم نہ کیا جائے ۔ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اسلام کے اندر مختلف گروہوں اور مختلف امیروں کا کوئی جواز موجود نہیں ۔ ہاں ! ضرورت ہو تو امیر اپنی بیعت کے لیے دوسروں کو منتخب کرسکتا ہے کہ وہ امیر کے نمائندے ہو کر اس امیر کے لیے لوگوں سے بیعت لیں اور امیر کا حکم ان کو سنائیں اور یہ کام بھی وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کو امیر اس کام کے لیے منتخب کرے۔ اس معاملہ میں اسلام نے اتنی سختی کی ہے کہ اسلام کے اندر ایک امیر کی بیعت ہونے کے بعد کوئی دوسرا امیر اپنی امارت کا اعلان کر دے تو اس کو واجب القتل قراردیا ہے لیکن افسوس کہ مذہبی رہنمائوں نے آج اس بات کو اس قدر چھپا دیا ہے کہ کسی ایک سٹیج سے بھی یہ بات سنی نہیں جاتی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام کے اندر امیروں کا ایسا سیلاب امڈ آیا ہے جو کسی کے روکے بھی نہیں روک سکتا ۔ حکومت اور مذہب کو الگ الگ کردیا گیا ہے ، سیاسی امیر الگ ہیں اور مذہبی امیر الگ اور اسی طرح حکومت اور مذہب دونوں کو ایک بکھیڑا بنا دیا گیا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچ چیر ہے کہ نام تو اسلام کا لیا جاتا ہے اور کام کفر کے کیے جاتے ہیں۔ حکومت اور مذہب دونوں کو اصل اساس اور بنیاد سرمایہ داری اور جاگیرداری ہے ، جو شخص بھی حلال و حرام اور جائز و ناجائز طریقوں سے دولت اکٹھی کرلے اور یہ اس دولت کے بل پوتے پر دس آدمی اکٹھے کر کے ان کے منہ میں ترلٹھ دے لے اور قانون میں اپنی ایک الگ جماعت بنا کر اس کے نام کی رجسٹریشن (Registration) کرا لے اور اس طرح اپنے ان مخصوص لوگوں کا وہ امیر ہے اور پھر اس کے لیے عام اجازت ہے کہ وہ دھونس ، دھاندلی سے جو چاہے منوا لے اور اس طرح جو کچھ وہ کرے گا سب اسلام میں ہوگا ؟ اس لیے کہ وہ مسلمان ہے اور ایک پارٹی کا لیڈر بھی ۔ پھر اس کا جو نتیجہ ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے کہ سیاسی لیڈر ہوں یا مذہبی رہنما سب لٹیرے ہیں جو غریب قو کو مختلف طریقوں سے لوٹ رہے ہیں ۔ سب چور ہیں اور چور چور کر رہے ہیں ۔ بہر حال ایک بار پھر سن لیں اور کان کھول کر سن لیں اور کان کھول کر سن لیں کہ اسلام کے اندر سیاسی امیروں اور مذہبی امیروں کے الگ الگ کرنے اور ایک امیر کی موجودگی میں دوسرے امیر کا کوئی جواز نہیں ہے اور جب تک یہ نظم قائم نہیں کیا جاسکتا اس وقت تک اسلام کے نظام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ کم از کم ایک اسلامی مملکت کے اندر رہتے ہوئے مسلمانوں کے لیے دوسرے امیر کا تصور غیر اسلامی ہے۔ اس طرح سیاست اور مذہب دونوں کو الگ الگ کر کے دونوں کے الگ الگ امیروں کا تصور بھی غیر اسلامی ہے پھر جب تک اس بنیاد کو درست نہیں کیا جائے گا اسلام کے نفاذ کا سوا ہی پیدا نہیں ہوتا اس لیے نفاذ اسلام کی جتنی تحریکیں اس ملک میں چل رہی ہیں ان میں سے ایک تحریک بھی اسلامی نہیں کہلا سکتی جب تک کہ وہ اپنے دستور اور منشور میں اول شق اس کو تسلیم نہ کرے ۔ افسوس کہ زیر نظر آیت اور اس جیسی دوسری تمام آیات کریمات جس چیز کا درس دے رہی ہیں نہ صرف یہ کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے بلکہ اس کے خلاف کو اسلام کا نام دے دیا گیا اور آج کتنے ہی عبد الماجد دریا بادی (رح) ہیں جن کو مرشد تھانوی (رح) یا اس کی جگہ کسی دوسرے مرشد کا نام لیتا ضروری ہوگیا تاکہ وہ بےبیعت کے ثابت نہ ہوں اور عام مسلمانوں کو کسی گھوڑے شاہ ، وچھیرے شاہ ، نانگے شاہ ، ڈولرے شاہ ، کا واں والی سرکار کے ہاتھ پر بیعت کرنا لازم و ضروری ہوگیا ۔ اگر آیت کا بھی یہ منشا ہے تو میں کسی حال میں بھی مسلمان نہیں ہو سکتا اور ایسے اسلام سے کفر کو سو بار پسند کروں گا ، مفتی چاہے مجھ پر جو فتویٰ صادر کرے ۔ موت سے آگے آخر سزا ہوگی تو وہ کیا ہوگی ؟ اور اس موت کو تو میں بخوشی قبول کر رہا ہوں کیونکہ اس زندگی پر اس کو ترجیح دیتا ہوں۔
Ayah 60:13

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ قَدْ یَئِسُوْا مِنَ الْاٰخِرَةِ كَمَا یَئِسَ الْكُفَّارُ مِنْ اَصْحٰبِ الْقُبُوْرِ۠ Open ayah 60:13 in the Quran reader

اے ایمان والو ! ان لوگوں سے دوستی مت کرو جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے ، وہ تو آخرت سے مایوس ہوچکے ہیں ویسے ہی جیسے کافر قبروں والوں سے ناامید ہیں

ایمان والوں سے خطاب کہ اللہ کے دشمنوں کو درست مت بنائو 13 ؎ اسی مضمون سے یہ سورت شروع ہوئی تھی اور اسی پر اس کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ وہ قوم جس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا وہ یہود ہیں اور ان کے بعد نبی اعظم و آخر ﷺ کی اپنی قوم قریش کے مشرکین ہیں ۔ دونوں ہی سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے کہ ان لوگوں کا جب دائوچلے گا تو وہ تم مسلمانوں کو پریشان کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ آخرت کے بارے میں ان دونوں گروہوں کا ایمان نہیں ہے اور اگر ہے تو وہ بھی برائے نام ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں گروہوں سے خصوصاً بچنے کی ہدایت فرمائی گئی کہ ان لوگوں نے اپنی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ رکھی ہے اور یہ لوگ اپنے تعصب کے باعث مسلمانوں کے کسی حال میں بھی اور کبھی بھی خیر خواہ نہیں ہو سکتے اور یہی وہ لوگ ہیں جو آخرت سے مکمل طور پر مایوس ہیں۔ وہ صرف اور صرف دنیا ہی کے ہو کر رہ گئے ہیں اور جو کچھ وہ کرتے ہیں محض دنیاداری کے لیے کرتے ہیں ، آخرت کے اجر ثواب کو ایک بکھیڑا سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی تعلیم پر ان کا دل نہیں جمتا اور باوجود بار بار سمجھانے کے وہ کسی حقیقت کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور جس طرح کفار اصحاب قبور کی دوبارہ زندگی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور جب بھی دوبارہ زندگی کا ذکر آتا ہے تو ان کے تیور بدل جاتے ہیں اور ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس سے مراد قبروں میں پہنچنے والے کفار ہی سے ہو اور اس طرح مفہوم یہ ہوگا کہ جس طرح قبروں میں دفن ہونے والے کافر ثواب آخرت سے مایوس ہیں اب اسی طرح یہودو مشرکین بھی فلاح آخرت سے مایوس و ناامید ہیں اور اسی طرح یہ بھی کہ جو لوگ قبروں میں چلے گئے ہیں لیکن کفار و مشرکین اس کے باوجود ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں اور ان سے نجات کی امید رکھتے ہیں وہ جس طرح قیامت کے روز ان سے مایوس ہوں گے اسی طرح یہود آخرت میں مایوس ہوں گے اور ان دونوں کا انجام ایک ہی جیسا ہوگا ۔ اسی مضمون پر ہم اس سورة کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں ۔ رب اغفروارحم وانت اعزواکرم